ایک صاحب لکھتے ہیں: نور والی حدیث پر آپ کا تبصرہ پڑھا، اگر وہ ضعیف ہے تو کیا ہوا، قرآن جو کہتا ہے:

قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُبِينٌ

''یعنی اللہ کی طرف سے تمہارے پاس نور او رکتاب مبین آئی''

کیا آپ کے لیے یہ کافی نہیں ہے؟ (ضلع سیالکوٹ)

الجواب :

آیت میں جس نور کاذکر ہے اس سےبھی ''کتاب مبین'' (قرآن پاک) ہی مراد ہے، خدا اور سولﷺ نے قرآن کو ہی نور کہا ہے۔ ملاحظہ ہو:

قرآن حکیم:

1فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَهُ(پ9۔ الاعراف ع19)

''تو جو اس پر ایمان لائیں او راس کی تعظیم کریں اوراسے مدد دیں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ اترا۔'' (ترجمہ: احمد رضا خاں)

یعنی نبی پاک کے ساتھ جو نور یعنی قرآن اترا اس میں قرآن کو ''نور'' کہا گیا ہے۔

2۔ یَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمْ بُرْهَانٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُبِينًا(پ6 ۔النساء ع24)

'''اے لوگو! بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے واضح دلیل آئی اور ہم نے تمہاری طرف روشن نور اتارا۔'' (ترجمہ :احمد رضا خان)

''نور اتارا'' پرحاشیہ نمبر 6 دے کرلکھا ہے ''یعنی قرآن پاک'' (ترجمہ :احمد رضا خان)

فآمنوا بالله ورسوله والنور الذي أنزلنا (پ28۔ تغابن ع1)

''تو ایمان لا اللہ اور اس کے رسولؐ اور اس نور پر جو ہم نے اتارا ۔'' (ترجمہ: احمد رضا خان)

آیت کا ترجمہ بھی ہم نے نہیں کیا بلکہ جناب احمد رضا خان بریلوی کاترجمہ نقل کیا ہے تاکہ شک و شبہ نہ رہے۔ کیا آپ کو ان آیات کے ماننے میں تامل ہے۔

رسول کریمﷺ

عن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إن ھذا القرآن ھو حبل اللہ المتین وھو النور المبین۔

وھو الشفاء النافع عصمة لمن تمسك به و نجاة لمن تبعه (ابن کثیر:ج1ص391)

حضرت عبداللہ ؓ فرماتےہیں، رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ:

یہ قرآن ،وہی اللہ کی مضبوط رسی ہے او روہی ''نور مبین'' ہے۔ وہ نفع دینے والی شفا (کی پڑیہ) ہے، جس نے اس کادامن تھام لیا وہ محفوظ رہا اور جس نےاس کا اتباع کیا، وہ چھٹکارا پاگیا۔

رسول پاک ﷺ نے بھی قرآن پاک کا ہی نام''نورمبین'' بتایا ہے۔ اب آپ کے لیے اس میں شک کرنا مناسب نہیں ہے۔

نور کےمعنی:

اصل میں آپ نور کامفہوم بھی نہیں سمجھے،نور سے مراد وہ روشنی نہیں ہے جو آپ دیکھتے ہیں، مثلاً سورج کی روشنی ، چاند ستاروں ، آگ اور چراغ کی روشنی وغیرہ۔ اس سے مراد '''علم و ہدایت'' کی روشنی ہے ۔ کیونکہ جہالت اور ضلالت کو اندھیرے سے تعبیر کیاگیا ہے۔

اگر اس سے وہی معروف روشنی مراد ہے تو پھر قرآن کریم کے الفاظ تو ویسے روشن نہیں ہیں، نہ سننے میں نہ دیکھنے میں، جیسےسورج کی دھوپ وغیرہ۔ یہی کیفیت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہے کہ خود آپؐ کو بھی چراغ کی بتی کی ضرورت پڑتی تھی۔ ورنہ آپ سب جانتے ہیں کہ سورج کبھی بھی دوسرے چراغ کا ضرورت مند نہیں رہا۔ لیکن آپ دیکھتے ہیں کہ حضورؐ کو اللہ نے سراج منیر (چمکا دینے والا چراغ یا آفتاب) سے یاد بھی فرمایا ہے لیکن اس کی ظاہری شکل سے اس کی تائید نہیں ہوتی۔ظاہر ہے دوسروں کوچمکا دینے والے سے مراد ''ہدایت'' دینا ہی ہے۔ علم و ہدایت معنوی نور ہیں، مشہور معنوں میں نور نہیں ہیں، اگر آپؐ انہی معنوں میں نور تھے جن معنوں میں سورج وغیرہ ہیں تو آپؐ کو جسد خاکی میں چھپانے کا تکلف نہیں کرنا تھا، کیونکہ یہ بناوٹ ہے اور حضورؐ بناوٹ جیسے تکلف سے پاک ہیں ،فرمایا:

وما أنا من المتكلفين (پ23۔ سورۃ ص ع5)

اگر نبی اور خدا بھی تکلف اور تصنع میں پڑ گئے تو پھر خدا کی مخلوق اور رسول ؐ کی اُمت کا تو خدا ہی حافظ..... خاص کر جب کفار آپؐ کی بشریت پر باتیں بنائیں، اس وقت بھی حقیقت حال سے پردہ نہ اٹھانا بلکہ اصرار سے یہی کہے جانا کہ : میں انسان ہوں اور صرف انسان، خاکم بدہن خدائی جعل سازی کی ایک عجیب شکل ہے جس سے ذات پاک اور رسول پاکؐ دونوں پاک اور منزہ ہیں۔ بلکہ بعض اوقات یہ معذرت بھی کردینا کہ بھئی! میرے پاس جھوٹے مقدمے نہ لے آنا، میں ایک انسان ہوں، چرب زبانی کے بدلے میں آکر فیصلہ کربیٹھوں تو ..... الخ، عجیب قسم کا العیاذ باللہ فراڈ ہے جس سے ہمارے رسول کریمﷺ بالکل پاک تھے۔ وہ جو تھے وہی دنیا کو بتاتے اور دکھاتے بھی تھے۔ اگر آپؐ انسان نہ رہیں تو ہماری طرف آپؐ کی بعثت ثابت نہیں ہوگی، کیونکہ خدا نے کہا ہے کہ وہ اپنی ہم جنس کی طرف مبعوث ہوئے ہیں۔ گو یا کہ رسول پاکؐ کے یہ نادان دوست آپؐ کی نبوت کو بھی مشکوک بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔

ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسمان کیوں ہو!

دراصل یہ ظاہر بین لوگ ہیں، ان کو اندازہ نہیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام ایک ایسا معنوی نور ہدایت ہوتے ہیں، جن کے سامنے اللہ کے ماسوا اور جتنے انوار او رتجلیات ہیں، سب ہیچ ہیں۔ظاہری روشنی اس باطنی او رمعنوی روشنی کے سامنے بالکل بےحقیقت ہے جس کے حامل انبیاء علیہم الصلوٰۃ السلام ہوتے ہیں۔ ان نادان دوستوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اللہ کا ''نور'' ہونا بھی ان معنوں میں نور نہیں ہے جو ہم جانتے ، پہچانتے او ردیکھتے ہیں۔ کیونکہ یہ تمام ونار اور تجلیات مخلوق ہیں۔ خدا ازلی اور ابدی ہے۔ قدیم ہے۔ جو لوگ خدا کو بھی انہی انوار اور تجلیات کا خدا تصور کرتے ہیں وہ خدا کومعروف معنوں میں نور کہہ کر، خدا کی قدامت کو غارت کر ڈالیں گے۔

اصل میں یہ بے بنیاد باتیں ہیں جو صرف اَن پڑھ لوگوں کو ورطہء حیرت میں ڈالنے کے لیے یا ان کا استحصال کرنے کے لیے کی گئی ہیں۔ حالانکہ اب دور اِن مسئلوں کا نہیں ہے۔ اب تو ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا کو اس نور ہدایت کے پیچھے چلنے کے لیےکہا جائے ۔ جو وہ لے کرآئے تھے مگر اس کا ان دوستوں کو ہوش کہاں۔ إنا للہ!