دکھا دے خواب میں یارب کبھی صورت محمدؐ کی ..... بہت مدت ہوئی سہتے ہوئے فرفت محمدؑ کی
کوئی انسان کیا جانے ہے کیا عظمت محمدؐ کی ..... محمدؐ کا خدا کرتا ہے خود مدحت محمدؐ کی
نہیں ثانی کوئی دونوں جہاں میں جس کی رفعت کا ..... خدا کے بعد وہ ہستی ہےبس حضرت محمدؐ کی
خدائے پاک و برتر بھی نہیں پھر چاہتا اس کو ..... کہ جس بدبخت انسان کو نہیں چاہت محمدؐ کی
حقیقت میں وہی سرگشتہ جام محبت ہے ..... ہو ظاہر جس کے قول و فعل سے طاعت محمدؐ کی
محمدؐ کے اشارے پر یہ سرقربان ہوجائے ..... یہ ہےطاعت محمدؐ کی یہ ہے اُلفت محمدؐ کی
رضائے حق محمدؐ کی اطاعت سے عبارت ہے ..... سمجھ لے اس حقیقت کو تُو اے اُمت محمدؐ کی
وہی خوش بخت انسان ہے وہی صادق ہے الفت میں..... کہ جس کی مشعل رہ بن گئی سیرت محمدؐ کی
زباں ساکت، قلم معذور، اندازِ بیان عاجز
بہت ہے ماورا ادراک سے شوکت محمدؐ کی