یہ خُدا نافہمی کی دلیل ہے

(1) وَيَقُولُونَ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالرَّسُولِ وَأَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِنْهُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَمَا أُولَئِكَ بِالْمُؤْمِنِينَ (47) وَإِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ مُعْرِضُونَ (48) وَإِنْ يَكُنْ لَهُمُ الْحَقُّ يَأْتُوا إِلَيْهِ مُذْعِنِينَ (49) أَفِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ أَمِ ارْتَابُوا أَمْ يَخَافُونَ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَرَسُولُهُ بَلْ أُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ(پ18۔نور ع6)

''اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور (اس کے )رسول پر ایمان لے آئے او ر(ان کے) وفادار ہوگئے (لیکن) پھر اس کے بعد انہی میں سے ایک طبقہ (اپنے قول و قرار سے)پھر جاتا ہے اور (غور کیجئے! کیا ایسے لوگ مسلمان رہ سکتے ہیں؟ نہیں1)وہ (سرے سے)مسلمان ہی نہیں (رہ سکتے)اور دیکھیئے!) جب ان کوخدا او راس کے رسول کی طرف دعوت دی جاتی ہے ، تاکہ (رسول خدا) ان کے مابین (معاملات کامناسب) فیصلہ کریں تو بس انہی میں سے ایک گروہ (اس سے) گریز کرتا ہے اور (ہاں!) اگر (اس میں) ان کا حق بنتا ہو تو (آنکھ بند کیے) کان دبائے اس کی طرف (دوڑے)چلے آتے ہیں (اب یہی کہاجاسکتا ہے کہ) ان کے دلوں میں(خود غرضی کا) کوئی کوڑھ ہے یا وہ بے یقینی (کے پھیر) میں پڑے ہیں یا (یہ کہ) ان کو یہ اندیشہ ہے کہ کہیں اللہ (میاں) او را س کےرسول (ان سے) بے انصافی نہ کریں (نہیں ، نہیں، بالکل نہیں) بلکہ یہ آپ ہی (سب سے بڑھ کر) بے انصاف ہیں۔''

کڑوا کڑوا تھو، میٹھامیٹھا ہپ : دین کے سلسلے میں بات اندھیرے کی نہیں ہے کہ لوگ اسے سمجھتے نہ ہوں یاوہ اس کی صداقت او رحقانیت سے بے خبر ہوں۔ اصل میں سارا فساد خود غرضی کا ہے، وہ چاہتے ہیں کوئی ٹوٹے نہیں، سیاہ کریں ، سفید کریں، کوئی بولے نہیں! ان کے نفس و طاغوت کی بادشاہی پر حرف نہ آئے، ان کے مست الست لمحات میں خلل نہ پڑے، ان کمے قلب و نگاہ کے میخانوں پر آنچ نہ آنے پائے، ان کے کیف و مستی کے پیمانوں کی خیررہے، ان کی مچلتی ہوئی آرزوئیں او رپربہار اٹھکیلیاں سلامت رہیں، وہ ڈرتے ہیں کہ حق آگیا تو ا ن کی بے لگام زندگی، عیاش گھڑیوں، رنگین خوابوں اور شرمناک حسرتوں کے درواسے او رباب کہیں بند نہ ہوجائیں؟

یقین کیجئے! اگر آج ان کو اس کی ضمانت مل جائے کہ ان کی روایات ، ان کی حیا سوز خلوتوں ان کے شرمناک شب و روز، ان کے غلط ماضی، ان کی مسرفانہ حسرتوں کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں پڑے گی، حسب معمول وہ سب کچھ جاری رکھ سکتے ہیں ، جس سے ان کا رانجھا راضی رہ سکتا ہے تو وہ ایسے اسلام کے سب سے بڑے قدر دان نکلیں گے ۔ اسلام کی حقانیت پر جتنے لیکچر چاہو دلوا سکتے ہو، کتاب و سنت کی قصیدہ گوئی جتنی کہو اس میں بھی وہ بالکل انتھک ثابت ہوں گے۔ بشرطیکہ یہ سب کچھ زبانی کلامی رہے، اگر ان سے یہ کہا جائے کہ یہ سب کچھ بجا اور درست ہے تو پھر تم خود اس پر کیوں نہیں چلتے تو ان کی ماںمرجائے گی، ہاں اگر آپ اور آپ کااسلام یہ چاہے کہ اسلامی تحقیقاتی اداروں، اسلامی مشاورتی کونسلوں، اسلامی مذاکرات ، اسلام کے لیے بین الاقوامی کانفرنسوں اور ان کی صدارتوں کے لیے وہ دلچسپی لیں، تو اس حد تک وہ توقعات سے بھی بڑھ کر مجاہد نکلیں گے۔ کیونکہ اس کام کے لیے انہیں اپنی زندگی کے خاکوں میں خاص کر نہاں خانوں میں کسی قسم کی تبدیلی کرنا نہیں پڑتی، تبھی تو شعیب علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قوم نے ان پر یہ اعتراض کردیا تھا کہ:آپ کی نماز یہی آپ سے کہتی ہے کہ ہم اپنے آباء و اجداد کے معبودوں کو چھوڑ دیں اور اپنی کمائیوں میں اپنی مرضی نہ کریں۔

قَالُوا يَا شُعَيْبُ أَصَلَاتُكَ تَأْمُرُكَ أَنْ نَتْرُكَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا أَوْ أَنْ نَفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشَاءُ (پ12۔ ہود ع8)

''وہ کہنے لگے کہ : اے شعیب! کیاتمہاری نماز تم سے متقاضی ہے کہ جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہم ان کو چھوڑ بیٹھیں یا اپنے مال میں جس طرح کا(تصرف کرنا) چاہیں نہ کریں۔''

ان کے دین و ایمان اور عقل و ہوش کے کسی گوشہ میں بھی یہ تحریک نہیں پائی جاتی کہ جو بات مان لی جائے ، جس کو حق تسلیم کرلیا جائے او رجس کا کلمہ پڑھ لیا جائے، اس کا حق بھی ادا کیا جائے۔ بس وہ صرف اتنی سی بات پر راضی ہیں کہ : خدا کو خدا کی قدرتوں اور خدائی کی محیرالعقول وسعتوں کی ......؟؟؟؟ دی جائے اسے سلام عرض کردیا جائے، اس کے حضور کبھی سجدہ اور کبھی صرف زبان سے''جل جلالہ'' کہہ کر اسے خراج عقیدت کانذرانہ پیش کردیا جائے ، کبھی اس کے نام پر چند ٹکوں کی سبیلیں لگا دی جائیں او رکبھی اس کے پاک رسول کی یاد مناکر ''صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم'' کے میٹھے بول بول لیے جائیں ۔ ان کاخیال ہے کہ بس خدا کو اس پرراضی ہوجانا چاہیے، جیسے خدا اپنی مرضی چاہتا ہے، ہم بھی اپنی ایک تمنا رکھتے ہیں، ہمیں بھی وہ اپنی مرضی کرنے دے۔

ان بوالعجبیوں کے پیچھے غیر شعوری طور پر جو شے کام کررہی ہے، وہ دین اسلام کے پاکیزہ نظام ہدایات اور احکام کے سلسلے میں ان لوگوں کی بے اطمینانی ہے وہ یوں خیال کرتے ہیں کہ اگر اپنے آپ کو ان کے حوالے کردیا تو مرجائیں گے،کاروبار ٹھپ ہوجائیں گے، چلنا پھرنادو بھر ہوجاوے گا۔ آزاد روی کا خاتمہ ہوجائے گا، چہل پہل اور رونقیں ماند پڑ جائیں گی، گھر جناز گاہ بن جائیں گے، دفاتر جامع مسجد کہلائیں گے، بازار قبرستان کا روپ دھار لیں گے، شادی بیاہ اور محرم الحرام کی رسومات میں کچھ زیادہ فرق نہیں رہے گا، ہنسی کھیل کے چراغ بُجھ جائیں گے،ہرگلی کی نکر پر ایک جلاد کھڑا ہوگا جو ہمارے تہ بند چیک کرے گا ، ٹخنے سے نیچے جو نظر آیا اسے وہاں موقعہ پرکوڑے مارے گا۔ عورت کے لیے باہر نکلنا یوں متصور ہوگا جیسے جیل خانہ سے کوئی قیدی بھاگ کھڑا ہو، منہ بسورنا،گھور کر دیکھنا کفر کے فتوے لگانا، ڈنڈے کے زور سے تسبیحیں پڑھانا، روح پرور مناظر پر بوجھ بننا،بات بات پر أعوذ باللہ او رلاحول ولا قوة پڑھنا او رقدم قدم پر ٹوکنا اسلام اور دین کہلائے گا۔

(2)۔ وَطَائِفَةٌ قَدْ أَهَمَّتْهُمْ أَنْفُسُهُمْ يَظُنُّونَ بِاللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ هَلْ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ مِنْ شَيْءٍ قُلْ إِنَّ الْأَمْرَ كُلَّهُ لِلَّهِ يُخْفُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ مَا لَا يُبْدُونَ لَكَ يَقُولُونَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ مَا قُتِلْنَا هَاهُنَا قُلْ لَوْ كُنْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ إِلَى مَضَاجِعِهِمْ وَلِيَبْتَلِيَ اللَّهُ مَا فِي صُدُورِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ(پ4۔ آل عمران ع16)

''ایک اور گروہ وہ تھا کہ اپنی جانوں ہی کی ان کو پڑی تھی وہ اللہ کے بارے میں خلاف واقعہ خیالات کررہے تھے جو صرف جاہلانہ خیال تھے وہ کہہ رہے تھے کہ کیا ہمارا کچھ بس چلتا ہے؟ ان سے کہہ دیجئے! سب کچھ اللہ کے بس میںہے، یہ لوگ اپنے دلوں میں ایسی بات چھپائے ہوئے ہیں جوآپ پر ظاہر نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں کچھ بھی ہمیں اختیار ہوتا تو ہم یہاں نہ مارے جاتے،ان سے فرما دیں کہ اگر تم گھروں میں ہوتے (تب بھی )قتل جن لوگوں کا مقدر ہوچکا ہے وہ اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل ہی پڑتے اور یہ جو کچھ ہوا، اس لیے ہوا کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے اللہ اسے چیک کرلے،اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے نکھار دے اور اللہ باطن کی باتوں کو خوب جانتا ہے۔''

بات یہ ہوئی کہ راہ حق میں جان و مال کا امتحان پیش آگیا مگرغزوہ اُحدمیں کچھ افراد کی فروگذاشت کی وجہ سے سب کوزک اٹھانا پڑ گئی، ان میں کچھ ''چُوری کے مجنوں'' بھی تھے اور کچھ سیدھے سادھے بھولے بھالے لوگ بھی تھے تو جو شاطر لوگ تھے، وہ چلا اُٹھے کہ : کاش! یہ حضرات ہماری مان لیتے تو ان کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ ان کا خیال تھا کہ خدا کے زبانی کلامی وعدے پر گھر سے نکل کھڑے ہوئے اور مار کھا گئے، اللہ نے فرمایا کہ: یہ نسخہ تم بھی آزما کو دیکھ لو! جب موت کا وقت آئے تو اس کے ہاتھ میں نہ آؤ۔

قُلْ لَنْ يَنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ إِنْ فَرَرْتُمْ مِنَ الْمَوْتِ أَوِ الْقَتْلِ(پ21۔الاحزاب ع3)

''اگر تم موت اور قتل سے بھاگو بھی تو بھی بھاگنے سے تمہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا (موت بہرحال آکر رہے گی، آج نہیں تو کل)''

فرمایا: موت ووت کا کوئی فلسفہ ان کے سامنے نہیں ہے۔ دراصل بھگوڑے ہیں بہانے بنا رہے ہیں۔

إِنْ يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارًا(الاحزاب ع2)

باقی رہی بس کی بات؟ سو دریں چہ شک ، یہ تو سب کچھ اللہ کے ہی اختیار میں ہے، جسے تم نہیں سمجھ رہے۔ اصل بات یہ ہے کہ خدا کے وعدوں کو مسٹر بھٹو کے وعدوں کی طرح دھوکے کی ٹٹی سمجھتے ہیں جو بہت بڑی بے شرمی کی بات ہے۔

وَإِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا(الاحزاب ع2)

دراصل یہ لوگ ''بے یقینی'' میں مبتلا تھے، خدا کی راہ میں، خدا کی رضا کے لیے اور خدا پرکامل یقین کےساتھ دوڑ پڑنا سچی مسلمانی ہے،مگر خدا سے کامیابی اور فتح و نصرت کی پہلے ضمانت مانگنا، ضمانت مل بھی جائے تو بھی قرار نہ آنا،عہد جاہلیت کی بات ہے! خدا کے سلسلے میں یہ ایک گونہ بدگمانی ہے۔اس کے یہ معنی نہیں کہ مناسب وسائل یا اقدامات کی پروانہ کی جائے بلکہ یہ ہے کہ جتنے او رجیسے کچھ اقدامات اور وسائل بروئے کار لائے جائیں انہیں خدا نہ تصور کرلیاجائے او رنہ ہی ان کے بعد تذبذب اور بے یقینی کو راہ دی جائے۔ لیکن عہد جاہلیت کے انداز اس سے بالکل مختلف رہے ہیں۔

جاہلیت سے مراد وہ دور ہے جس میں انسان خدا سے بے نیاز ہوکر اپنی تدبیروں ، اوہام کی زنجیروں او رطاقت کے آہنی حصاروں پر قناعت کرتا رہا ہے ، درمیان سے وہ خدا کو اٹھا دیتا ہے ، اس سے تعلق رکھتا بھی ہے تو اوہام و ظنون کے خول میں اتار کر رکھتا ہے۔ان کا تخلیق کردہ خدا ان کے قبضہ میں ہوتا ہے، اس لیے لوگ چاہتے ہیں کہ خدا بھی ان کی خواہشات کا احترام کرے اور جو چیز وہ طے کریں، اس کی وہ منظوری دے دے، بالکل یوں جیسے جمہوری ملکوں میں صدر مملکت کا حال ہوتا ہے گویا کہ اقوام جاہلیت کی روحانیت بھی جمہوری ڈھب کی ہوتی ہے اس لیے ان کاخدا بھی جمہوری طرز اور اختیارات کا خدا لگتا ہے۔ ما قد روا اللہ حق قدرہ۔

مصائب و آلام جہاں نادانیوں کے قدرتی سائے نظر آتے ہیں وہاں ان کی حیثیت ایک تلمیح کی بھی ہوتی ہے کہ: ایمان سے غرض لینا نہیں بلکہ دنیا ہے، مال بھی، جان بھی، آرام بھی ،چین بھی! ان الله اشترى من المؤمنين أنفسهم و أموالهم ہاں اس کے صلے میں جو ملنا ہے، وہ بطور قدرتی نتیجے کے ملنا ہے بطور سودا کے نہیں ملنا، کیونکہ آپ جو کچھ بھی دیتے ہیں وہ بھی اسی کی ہی دین ہے اپنا کیا ہے جو دے کر لیں گے۔

جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی

حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

تاہم آپ کو حکم ہوتا ہے کہ آپ بڑھیں تو خدا جوئی کے لیے اس کی طرف بڑھیں، دوسری چیزوں کی نیت سے نہ بڑھیں۔اس لیے اگر اس کی راہ میں کچھ گزند پہنچا ہے؟ تو غیر متوقع نہیں کیونکہ جس دن کلمہ پڑھا تھا اس دن یہ طے ہوگیا تھا کہ دینا پڑا تو دینا ہوگا۔ اب اگرکچھ چلا گیا ہے تو رونا کاہے کا؟ باقی رہی یہ بدگمانی کہ جب ہم اس کے لیے نکلے ہیں تو ہماری مدد بھی کرنی چاہیے تھی، وہ کیوں نہ ہوئی؟ یہ سوال اس لیے پیدا ہوا کہ آپ ابھی تک ''ایمان'' کا مفہوم نہیں سمجھے! اور نہ آپ اپنے سوال کے محرک کو سمجھے ہیں، کیونکہ ابھی تک آپ کے ذہن میں ''لینے'' کا تصور ہے حالانکہ یہاں دینے کی بات ہے دوسرا یہ کہ آپ کی نگاہ مدد کی تلمیح پر نہیں پڑی، یعنی مدد اس وقت ہوتی ہے جب تک کوئی اس کا رہتا ہے، جب یہ کانٹا بدل جاتا ہے تو وہ بھی مسدود ہوجاتی ہے، جیسا کہ یہاں پر ہوا ، جب تک خدا تصور غالب رہا مدد جاری رہی۔

وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ (پ14۔ آل عمران ع16)

''یہ ایک واقعہ ہے کہ اللہ نے اپنا وعدہ (نصرت)سچ کر دکھایا جب کہ تم انہیں اس کے حکم سے قتل کررہے تھے۔''

جب ایک طبقہ نے خدا سے منہ موڑ کردنیا اور اپنی ذات کی طرف رُک کرلیا تو پھر شامت آگئی اور فتح و نصرت ، راستہ بند پاکر ساحل پرکھڑی مسکراتی رہی۔

حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ وَعَصَيْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا أَرَاكُمْ مَا تُحِبُّونَ مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الْآخِرَةَ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ (پ4۔ آل عمران ع16)

''یہاں تک کہ جب تم (خود ہی )کمزور پڑ گئے او رحکم (رسول) کے سلسلے میں تم باہم جھگڑنے لگے او ربعد اس کے کہ تم کو تمہاری دل پسند بات (جیت)دکھا دی۔ تم نےرسول کی نافرمانی کر ڈالی (قصہ یہ ہے کہ) تم میں سے بعض لوگ دنیا کوچاہتے تھے او رکچھ تم میں سے وہ تھے جو آخرت کے طلب گار تھے، پھرتم کو ان سے موڑ دیا تاکہ تمہارے اخلاص کو آزمالے۔''

یعنی جہاں صورت حال یہ تھی کہ وہاں صرف خدا کا وعدہ تو یاد رہا کہ ایفاء نہ ہوا لیکن یہ بھول گئے کہ فتح و نصرت سے وہ خود ہی بھاگ کھڑے ہوئے او ریہ بھی نہ سوچا کہ وہ تو مائل بہ کرم رہا، لینے والے ہی نہ رہے تو وہ کسے دے؟ اور کیوں دے؟ فرمایئے! اس بے انصافی او ربدگمانی سے بڑھ کر خدا کے بارے میں اور بدگمانی کیا ہوکتی ہے؟

ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب حق کی داعی جماعت میں خدا کانافرمان ایک مؤثر گروہ موجود رہتا ہے وہ پوری جماعت خدا کی نصرت سے محروم رہتی ہے۔ ایک طرف دس افراد بُنتے رہیں اور دوسری طرف صر ف ایک فرد اسے ادھیڑتا رہے تو غور کیجئے! کیا وہ دس افراد اپنا مقصد حاصل کرلیں گے ۔کیا یہ بیل منڈھے چڑھ جائے گی یا کیا کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ آج نہیں تو کل آخر وہ ردائے عظمت اور فتح و نصرت کو زیب تن کرہی لے گا؟ نہیں! ہرگز نہیں، اور بالکل نہیں، لیکن افسوس! یار دوستوں نے اپنے داعی معاشرہ او رجماعت میں اتنا بڑا گھپلا رکھ کر خدا سے یہ امیدیں باندھ رکھی ہیں کہ آخر فتح ہماری ہی ہوگی؟ وہ کیسے؟ آپ ان سے پوچھئے! وہ کہیں گے جیسا خود اسی قصہ میں ذکر آیا ہے کہ اللہ نے بالاخر ان کو معاف کرہی دیا۔

وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ(پ4۔ آل عمران ع16)

''اور (پھر بھی خدا نے) تم سے درگزر کی او رمسلمانوں پر خدا کرم ہی (کی نگاہ)رکھتا ہے۔''

یہ ٹھیک ہے کہ : اللہ نے ان کو معاف کر ہی دیا لیکن اس وقت جب انہوں نے بھی خدا اور اس کے رسولﷺ کی طرف رخ کرہی لیا۔

وَأَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ (171) الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ (آل عمران ع18)

''اللہ ان ایمان والوں کا اجر ضائع نہیں ہونے دیتا جو (لڑائی میں) زخم کھائے، پیچھے خدا اور اس کے رسولﷺ کے بلانے پر آموجود ہوئے۔''

بہرحال اگر آپ نے بھی اسی طرح اپنے تعامل حیات پر نظر ثانی کی توفیق پالی اور اپنے معاشرے کی اصلاح بھی کرلی تو پھر انشاء اللہ بالآخر فتح و نصرت اور سرفرازی آپ کے بھی قدم چومے گی۔ باقی رہے زبانی کلامی سودے اور دعوے؟ سو وہ بہت ہوچکے دفتر عمل میں اگر کچھ باقی ہے تو وہ پیش کیجئے! ورنہ ع ایں شور وفغاں چیزے نیست !

(3)  مَنْ كَانَ يَظُنُّ أَنْ لَنْ يَنْصُرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَلْيَمْدُدْ بِسَبَبٍ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ لْيَقْطَعْ فَلْيَنْظُرْ هَلْ يُذْهِبَنَّ كَيْدُهُ مَا يَغِيظُ (پ17۔ الحج ع2)

''جو شخص (یہ بدگمانی ) رکھتا ہو کہ خدا اس (رسول) کی ہرگز مدد نہیں کرے گا، دنیا میں نہ آخرت میں تو اس کوچاہیے کہ اوپر کی طرف (چڑھنے)کو ایک رسی تانے پھر اسے توڑ ڈالے۔ پھر اس کو سوچنا چاہیے کہ کیا اس کی تدبیر سے وہ شکایت دو رہوئی جس کی وجہ سے وہ ناخوش تھا۔''

یعنی ایسا تو ممکن نہیں کہ خدا اپنے رسول کی مدد نہ کرے لیکن اپنے دل کی جلن دور کرنا چاہتا ہے تو وہ کہیں او رجابسے ، دیکھے نہ غم لگے۔ اس لیے اگر اس کے لیے ممکن ہو تو پھر یوں کرے کہ رسی تان کر آسمان پر چڑھ جائے او رپھر زمین سے اپنا ناطہ توڑ دے، وہاں رہ رہے اور وہاں سو رہے! یعنی آپ کے لیے یہ بھی ممکن نہیں،اس وقت سدا کڑھتے رہو او رجلتے رہو۔

نیکوکار جب حق و راستی کے اتمام کے لیے اٹھتے ہیں تو اس پرباطل کے چوبداروں کی طرف سے رکاوٹوں او رمشکلات کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں،دیکھنے والا یہ سماں دیکھ کر یقین کرلیتا ہے کہ بس اب وہ گئے! خداتو ان کی مدد کو پہنچنے سے رہا، دوسری کوئی صورت ہی نہیں! بس انہیں گھڑی پل کا مہمان سمجھئے!

ایک اور مقام پر فرمایا کہ دوغلے اور مشرک مرد ہوں یا عورتیں، خدا کے بارے میں بدگمانیوں کے گھوڑے ہی دوڑاتے رہتے ہیں کہ خدا مسلمانوں کو ضائع کردے گا او ریہ جنگ میں کھیت ہورہیں گے فرمایا: یہ خود کھیت ہوں گے۔

وَيُعَذِّبَ الْمُنَافِقِينَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْمُشْرِكِينَ وَالْمُشْرِكَاتِ الظَّانِّينَ بِاللَّهِ ظَنَّ السَّوْءِ عَلَيْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ (پ26۔ الفتح ع1)

نیز فرمایا کہ : یہ سمجھتے ہیں کہ : رسول اور آپ کے ساتھی بچ کرنہیں آسکیں گے ، حالانکہ تباہی ان کا مقدر ہے۔

بَلْ ظَنَنْتُمْ أَنْ لَنْ يَنْقَلِبَ الرَّسُولُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ أَبَدًا وَزُيِّنَ ذَلِكَ فِي قُلُوبِكُمْ وَظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ وَكُنْتُمْ قَوْمًا بُورًا (الفتح ع2)

اس خیالی پلاؤ کےنیچے جو ذہن کامکررہا ہے وہ یہ ہے کہ : ضروری نہیں کہ خدا اپنے وفاداروں کی مدد ہی کرے۔ گویا وہ خدا کو اتنا بھی نہیں سمجھتے جتنا وہ خود اپنے وفاداروں کے لیے حمیت کا جذبہ رکھتے ہیں۔ اللہ فرماتے ہیں: یہ سرتا پا بدگمانی اور خدا نافہمی کی باتیں ہیں۔ خدا اپنے رسول کی ضرور مدد کرے گا ، یہاں بھی وہاں بھی۔ اسی طرح جو لوگ ان کی راہوں پر گامزن ہوں گے، ان کوبھی وہ کبھی نظر انداز نہیں کرے گا۔بشرطیکہ خدا کی نصرت کے لیے ان کے اندر بھی وہ اقدار موجود ہوں جو نصرت الہٰی کے لیے وجہ کشش بن سکتی ہیں۔ باقی رہی فی سبیل کی نصرت؟ تو وہ عالم اسباب کے بعد تو ممکن ہے کہ اس کی کوئی شکل ہو، لیکن اس عالم رنگ و بُو میں، جواسباب و علل کی دنیا کا نام ہے محال ہے، ہاں مساعی اور اقدار کے تناسب سے بڑھ کر فضل و نصرت کا معاملہ الگ ہے۔ وہ ہوسکتا ہے بلکہ ہوتا رہتا ہے۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ آپ کا رخ مشرق کو ہو اور اسی طرف کو ہی دوڑ رہے ہوں اور خدا اپنے فضل و کرم سے اور محض فی سبیل اللہ آپ کو اٹھا کر مغرب میں پہنچا دے۔ ہاں آپ رُخ بھی مغرب کو کریں اور قدم بھی ادھر کو ہی اُٹھیں تو ممکن ہے سست کام پر رحم کردے او راسے ''رفتار'' کی بہ نسبت جلدی منزل سے ہمکنار کردے۔

بہرحال دنیا خدا کی ذات کے سلسلے میں دو انتہاؤں کی طرف بڑھ رہی ہے: اس سے توقعات ہیں تو بے کنار اور بلا سبب ؟ بدگمانیاں ہیں تو بلا جواز اور بے کراں۔ بس یوں تصور کیجئے کہ کھیت ہے توبیح نہیں ہے، بیج ہے تو کھیت غائب، ایسوں کا باغ لہلائے تو کیسے؟ اُجڑے کچھ تو کیا اجڑے؟

(4)  وَذَلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ أَرْدَاكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِينَ(پ24۔ حم السجدہ ع3)

''بلکہ تم کو تو یہ خیال تھاکہ تمہارے بہت سے عملوں سے خدا(بھی) واقف نہیں اور (یہ) بدگمانی جو تم نے اپنے پروردگار کے حق میں کی تمہاری اسی بدگمانی نے تو (اج)تم کو تباہ کیا اور تم گھاٹے میں آگئے۔''

خُدا سے بھی چھپ سکتے ہیں: چور جب کوئی چوری کرتا ہے یا جب کوئی بد، بد کام کرنے لگتا ہے تو ان کی کوشش ہوتی ہے کہ انہیں کوئی شخص دیکھنے نہ پائے، اگر انہیں اس امر کا احساس ہوجائے کہ انہیں کوئی صاحب کھڑا دیکھ رہا ہے تو وہ کبھی بھی کرنے کی جرأت نہیں کریں گے۔ لیکن افسوس! خدائے بینا،دانائے راز،علیم اور قدیر ذات کے سلسلے میں بندوں کامعاملہ بالکل اس کے برعکس ہے اس کے حکموں کی نافرمانی یوں کرتے ہیں جیسے وہ ذات پاک اسے دیکھ ہی نہیں رہی، یا یہ کہ اگر وہ دیکھ بھی تو ان کا وہ کچھ بگاڑ بھی نہیں سکے گی۔مندرجہ بالا آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی اسی ذہنیت اور کردار کا شکوہ کیا ہے اور فرمایا کہ دانستہ اس تغافل اور تجاہل کا نقصان بھی خود تمہیں اٹھانا ہوگا، خدا کا اس سے کچھ بھی نہیں بگڑے گا۔ آنے والی بلا سے آنکھیں بند کرلینے سے بلا ٹل نہیں جایا کرتی بلکہ آکر رہتی ہے او رپھر ایسے حال میں آتی ہے کہ انسان اس کے دفاع کے بھی قابل نہیں رہتا۔ دیکھ سکنے کے باوجود نہ دیکھنا،معلوم کرسکنے کی ہمت رکھتے ہوں جان کر بے خبری کی چادر اپنے اوپر تان لینا اور رُک سکنے کے باوجود مہلک گڑھے کے رخ چلتے رہنا، بجائے خود اس امر کے غماز ہیں کہ انسان سب سے بڑا اپنادشمن آپ ہے، حالات کو فریب دینے والا خود فریب نفس میں مبتلا ہے او رجان بوجھ کر خود کشی کے سامان کررہا ہے،ایسے عالم میں دوسرا کون اس پر ترس کرے گا او رکیوں اس پر کسی کوترس آئے گا؟

واقعہ یہ ہے کہ اگر انسان غور کرے تو اسے یہ یقین ہوجائے کہ وہ ایک عظیم او رمحیط نرغے میں ہے کہ وہ اپنے کو مخفی رکھنے کے لیےکتنے ہی جال بُنے بہرحال وہ چھپ نہیں سکے گا۔

آخر اسے کہیں رہنا ہے، یہاں نہ سہی وہاں سہی، آخر وہ زمین و آسمان سے باہر تو نہیں جاسکے گا، زمین کے جس ٹکڑے پربھی رہے گا وہ زمین ایک کیمرے کی طرح اس کی ہرنقل و حرکت کو ریکارڈ کرتی رہتی ہے او رپھر قیامت میں وہ سارا دفتر کھول کر اس کے سامنے رکھ دے گی۔ وہ ٹیپ کی طرح بولے گی۔

يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا(پ30۔ الزلزال)

بلکہ اس بدنصیب انسان کے جسم کا ایک ایک رونگٹا زبان بن جائے گا ، ٹیپ کی طرح سب کچھ کہہ سنائے گا او رپھر سن کر انسان بدحواس ہوہوجائے گا۔

حَتَّى إِذَا مَا جَاءُوهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَأَبْصَارُهُمْ وَجُلُودُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ وَقَالُوا لِجُلُودِهِمْ لِمَ شَهِدْتُمْ عَلَيْنَا قَالُوا أَنْطَقَنَا اللَّهُ الَّذِي أَنْطَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ خَلَقَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ(پ24۔ حم السجدہ ع3)

''یہاں تک کہ (جب سب )دوزخ پر آجمع ہوں گے تو جیسے جیسے عمل یہ لوگ کرتے رہے ہیں، ان کے کان او رآنکھیں او رانکے (گوشت) پوست ان کی (کھل کر)گواہی دے ڈالیں گے اور وہ لوگ اپنے گوشت پوست سے پوچھیں گے کہ (بھلا) تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟ وہ بولیں گے کہ جس (خدا) نے ہر چیزکو گویا کیا ہے اسی نے ہم کوبھی گویا کیا او راسی نے تم کو اوّل بار پیدا کیا اور اب تم اسی کی طرف لوٹا کر لائے جارہے ہو۔''

اس کے بعد نہایت معنی خیز طریقے سے بتایاکہ:حقیقت یہ ہے کہ اس سے تو تم بے خبر نہیں تھے کہ تم اپنےکانوں، آنکھوں اور گوشت پوست سے نہیں چھپ سکتے، اصل میں جوبیماری تم کو لگی تھی وہ یہ بدگمانی تھی کہ : ہمارے عملوں کا خدا کو بھی پتہ نہیں چلتا۔

وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ وَلَكِنْ ظَنَنْتُمْ أَنَّ اللَّهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيرًا مِمَّا تَعْمَلُونَ (ایضاً)

''اور تم (دنیا میں) اس بات سے تو اپنے کو چھپا ہی نہ سکتے تھےکہ تمہارے کان اور آنکھیں اور گوشت پوست تمہارے خلاف گواہی دیں لیکنتم اس خیال میں رہے کہ تمہارے بہت سے اعمال کی اللہ تعالیٰ کو خبر بھی نہیں۔''

بہرحال خدا کےسلسلے کی یہ بدگمانیاں خود انسان کے مستقبل کے لیے بُری ہیں او رانہی بدگمانیوں کی وجہ سے تباہی کی طرف یوں بڑھ رہا ہے کہ ان کو اس کا ہوش ہی نہیں رہتا کہ کل اس کا انجام کیانکلے گا؟

(5) ۔ مَا ظَنَنْتُمْ أَنْ يَخْرُجُوا وَظَنُّوا أَنَّهُمْ مَانِعَتُهُمْ حُصُونُهُمْ مِنَ اللَّهِ فَأَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُمْ بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ (پ28۔ الحشر ع1)

''(مسلمانو!) تم کو (تو وہم و )گمان نہ تھا کہ (یہ اپنے گھروں سے) نکلیں گے او روہ اس خیال میں (مست ) تھے کہ ان کے قلعے ان کو خدا (کی پکڑ)سے بچا لیں گے تو جدھر سے ان کو گمان بھی نہ تھا خدا نے ان کو آلیا اور ان کے دلوں میں (مسلمانوں کی) دھاک ڈال دی کہ لگے اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں او رمسلمانوں کے ہاتھوں اجاڑنے ، اے آنکھوں والو! عبرت پکڑو!''

اپنے وسائل کو خُدا سمجھنا : وسائل اور ذرائع بنے ہی اس لیے ہیں کہ ان سے کام لیاجائے بلکہ ان سے کام نہ لینا ان کی ''بے قدری اور خدا کی ناشکری ہوتی ہے۔ لیکن ان پر بھروسہ کرنا جیسے وہ خدا ہوں کہ ان کو خدا کی مرضی کے خلاف استعمال کرکے یوں مطمئن ہو رہنا کہ بس اب خدا بھی ان کے سامنے بے بس ہے یا ہمیں جو لینا ہے، انہی سے لینا ہے او رجو سنوارنا ہے وہی سنواریں گے خدا نافہمی کی دلیل ہے او راس کا اس وقت پتہ چلتا ہے جب اللہ تعالیٰ انسان کو خود ان کے وسائل او ربل بوتے کے حوالے کردیتا ہے او رجب ع

جن پرتکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

کا سماں طاری ہوجاتا ہے اسوقت ان کی آنکھیں کھلتی ہیں۔ دراصل انسان کی یہ سب سے بڑی بھول ہے کہ وہ کبھی اپنی کرسی پر غرّہ ہوجاتا ہے اور کبھی اپنے سرمایہ اور جاگیر پر ،کبھی اپنے جتھے او ر،کبھی اپنی آل اولاد پر، کبھی اپنے علم او رکبھی اپنے ہنر پر ، یہ سب چیزیں آپ کے لیے ہیں، آپ ان کے لیے نہیں ہیں کہ ان کی پوجا او رعشق میں خدا کو بھی بھول جائیں۔ ان وسائل اور ذرائع کے ذریعے اگر اللہ سے آپ کا کنکشن قائم نہیں ہوپاتا تو سمجھ لیجئے! کہ کسی بھی وقت یہ آپ کے لیے فتنہ بن سکتے ہیں۔ حضورﷺ کے عہد کے کفار نے اپنے قلعوں پر بھروسہ کیا اور انہی کے بل بوتے پر فرستادہ خدا کے سامنے اکڑ گئے، تن گئے،مقابلہ کیا اور ڈٹ کرمقابلہ کیا، لیکن بالآخر دنیانے دیکھ لیا کہ وہی قلعے ان کے لیے عذاب بن گئے۔ ادھر اُدھر بھاگ سکے نہ جاسکے بلکہ عسکر اسلام کو بھیڑوں کی طرح وہ سب یکجا مل گئے،قتل ہوئے، جوبچے انہوں نے ہتھیار ڈالے او رحضرت عمرؓ کے عہد میں جب ان کو خیبر سے بھی نکلنا پڑا تو ان کو اس کی اجازت دی گئی کہ وہ جتنا کچھ اپنے ساتھ لے جاسکتے ہیں لے جائیں، چنانچہ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے مکان او رقلعے برباد کیے او ران کے تختے، شہتیر، بالے او رالماریاں وغیرہ اکھیڑ کر ادھیڑ کر لے گئے۔ فاعتبروا یا أولي الأبصار۔

خدا کے سلسلے میں لوگوں کی بدگمانیوں کے یہ وہ نتائج ہیں جو پہلے کی طرح آج بھی برآمد ہورہے ہیں او رہوتے رہیں گے۔ الا یہ کہ خدا کی طرف رجوع کریں ، معافی مانگیں او راصلاح حال کا خدا سے پھر عہد کریں۔