خدا کوسمجھانے کی نئی تدبیریں

بنی اسرائیل میں ایک شخص قتل ہوگیا۔ قاتل کی تلاش شروع ہوگئی تو بات یہاں آکر رُکی کہ ایک ''گائے'' کوذبح کرکے اس کا ایک عضو مقتول کو لگایا جائے، قاتل کاسراغ مل جائے گا، بات سیدھی اور صاف تھی، چاہتےتو کوئی سی گائے ذبح کرکے اپنامقصد حاصل کرسکتے تھے، لیکن اصل بات ذہنیت اور نیت کےفتور کی تھی، اس لیے ''چونکہ چنانچہ'' کے ہیرپھیر میں رہے۔ اس سلسلے کااگر آخری موقع کھو دیتے تو پھر اس کا فیصلہ قیامت کو ہی ہوتا۔

آج ہم بھی بعینہ اسی سٹیج پرکھڑے ہیں، جی چاہتا نہیں کہ اسلام آئے لیکن حالات اور وقت کے تقاضے بھی پیچھا نہیں چھوڑتے۔

ہوئے ہیں پاؤں پہلے ہی نبرد عشق میں زخمی

نہ بھاگا جائے ہے مجھ سے نہ ٹھہرا جائے ہے مجھ سے

نیت کے فتور کے علاوہ مناسب اہلیت اور مطلوبہ صلاحیت سے بھی ان کی جیبیں خالی ہیں، اس لیے ان کو رونا پڑ گیا ہے کہ : اب کیابنے؟

بوجھ وہ سر پر گراں ہے کہ اٹھائے نہ بنے

کام وہ آن پڑا ہے کہ بنائے نہ بنے

قوم چاہتی ہے وعدوں کا تقاضا ہے اور تخلیق پاکستان کااقتضاء ہے کہ اب یہاں اسلامی نظام حیات کانفاذ ہو، مگر رہنما یان قوم کسی اور موڈ میں ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کے دلوں میں دھکے سے یہ روشنی اتاری نہیں جاسکتی،توڑ مروڑ کر اگر ان کو مجبور کردیں گے تو وہ بھی ''توڑ مروڑ'' کر ہی آپ کو کچھ پیش کریں گے۔ اس لیے اب کوشش کی جارہی ہے کہ کسی طرح قوم کو بہلایا جاسکے، لیکن سوال پیدا ہوا کہ : یہ کیسے ہو؟

جو بے دین گروہ ہے اس نے تو یہ نعرہ ایجاد کیا ہے کہ : پاکستان اس لیے نہیں بنایا گیا تھا کہ قوم کو کوڑے مارے جائیں۔ انہوں نے یہ بات کہہ کر دو شکار کیے ہیں۔

ایک یہ کہ یہ بات سن کر عوم بدکیں گے او ریہ مطالبہ عوامی حمایت سے محروم ہوجائے گا۔

دوم یہ کہ لوگوں کےذہنوں میں یہ بات بھی پیوست ہوجائے گی کہ : اسلام کوئی جان آفرین نظام نہیں ہے بلکہ حیات کش ایک دہشت انگیزی کا نام ہے۔ ظاہر ہے کہ اس تاثر کے بعد اسلامی اقدار کو خوش آمدید کہنا مشکل ہی نہیں، مشکل تر گھپلا بن جائے گا۔

دوسرا وہ گروہ ہے جو اسلام کامنکر تو نہیں ہے لیکن اس کا عاشق بھی نہیں ہے۔ وہ دوغلہ ہورہا ہے۔ اسلام ، اسلام کی رٹ لگا کر اگر ان کو کرسی مل سکتی ہے تو وہ اسی کی رٹ لگانے میں کوئی دقت محسوس نہیں کرتا۔ اگر اس سلسلے میں ان کے سامنے ''بین بین'' کوئی راہ آتی ہے تو وہ اس کو بھی قبول کرسکتا ہے۔ غرض یہ چڑھتے سورج کے یار ہیں، ہمارے یار نہیں ہیں۔

رسن زلف پئے حیلہ در آویختہ اند

جز دل تشنہ ازاں چاہ زنخداں مطلب

''یعنی (معشوق نے)زلف کی رسی تو صرف فریب دینے کے لیےلٹکا رکھی ہے اس لیے بس چاہ زنخداں سے پیاسے دل کے سوا اور کسی چیز کی توقع نہ رکھیے۔''

ان میں ایک طبقہ وہ ہے جودل سے اسلام کے نفاذ کا متمنی تو ہے لیکن اپنے فقہی اور کلامی رجحان کی وجہ سے دو حصوں میں منقسم ہوگیا ہے اس لیے وہ اپنے مخصوص مکتبی سیلانات کے نفاذ کو بھی اسلام ہی سمجھ رہے ہیں۔

ایک طبقہ مقلدین کا ہےجو یہ چاہتا ہے کہ اس کے مسلک کی بنیاد کتاب کو مملکت اپنے قوانین اور آئین کا مآخذ بنالے۔چنانچہ سننے میں آیا ہے کہ وہ اس کے لیے فتاوے عالمگیری کا نام لے رہے ہیں۔ حالانکہ یہ ذہن ائمہ دین کے تعامل کے خلاف ہے کہ ایک مخصوص طبقہ کے فقہی فکروعمل کو سارے ملک پرمسلط کردیا جائے۔ حضرت امام مالک (ف179ھ) سےمنصور نے درخواست کی تھی کہ وہ مؤطا مالک کی نقلیں اپنی مملکت کے مختلف صوبوں کو بھیج دیں تاکہ وہ اس کو اپنی مملکت کے لیے دستور العمل بنائیں، لیکن آپ نے اس پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھاکہ ان کے سامنے احادیث وغیرہ کا جوذخیرہ ہے وہ ان کے لحاظ سے آزاد رہیں۔

قال مالك بن أنس لما حج المنصور قال قد عزمت علی أن آمر بکتابك ھذہ التي وضعتھا فتنسخ ثم أبعث إلی مصر من أمصار المسلمین منھا نسخة وأمرھم أن یعملو ا بما فیھا ولا یتعدوہ إلی غیرہ،فقلت یا أمیرالمؤمنین لا تفعل ھذا، فإن الناس قد سبقت إلیهم أقاویل و سمعوا أحادیث ورووا روایات و أخذ کل قوم بما سبق إلیهم ودا نوابه فدع الناس وما اختار أھل کل بلد منھم لأنفسھم (طبقات ابن سعد)

حضرت امام مالک کے اس ارشاد اور تعامل سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اسلامی مملکت کے لیے آئین اور قوانین کی تدوین مناسب نہیں ہے کیونکہ اس کی حیثیت وہی رہے گی جو مؤطا مالک کے سلسلے میں امام موصوف نے محسوس کی یعنی قرآن و سنت سے ماخوذ سہی تاہم وہ ایک یاچند بندوں کی آراء اور اخذ کردہ نتائج کا ہی ایک مجموعہ ہوگا جس کاپورا قوم کو پابند بنانا کتاب و سنت کے پابند بنانے کے مترادف نہیں سمجھا جاسکتا۔ حالانکہ دعویٰ یہ ہے کہ ملک کا آئین او رضابطہ قرآن و سنت ہوں۔

جیسا کہ امام مالک کا ارشاد ہے او رجس پر قرون مشہودلہم بالخیر کا تعامل رہا ہے۔ صحیح یہ ہے کہ قرآن و حدیث کی کھلی کتاب ملکی عدلیہ کے ہاتھ میں پکڑا دی جائے اور ان کو اس امر کا پابند کردیا جائے کہ سب سے پہلے کتاب اللہ کو سامنے رکھیں، اس کے بعد ان کتب احادیث سے استفادہ کریں جو مرفوع احادیث کا خزینہ ہیں۔ اجماع امت پرنگاہ رکھیں۔ اگر یہاں سے کام نہ چلے تو خلفائے راشدینؓ اور دوسرے فقہاء صحابہؓ کے آثار کوملحوظ رکھیں۔

اس کافائدہ یہ ہوگا کہ فاضل جج جو بھی فیصلہ کریں گے تقلیداً نہیں کریں گے۔ علی وجہ البصیرۃ کریں گے،او ربراہ راست کتاب و سنت کے مطالعہ کا ان کو جو موقع ملے گا وہ ہمیں''صاحب بصیرت عدلیہ'' بھی مہیا کرے گا۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ بہ حالات موجودہ کیا کیا جائے، عموماَ جج صاحبان قرآن و حدیث کا مطالعہ نہیں کرسکتے؟ تو ہم کہتے ہیں کہ عبوری دور کے لیے ذمہ دار علماء کو ان کے ساتھ کردیا جائے یہ کہ احادیث اور آثار صحابہ کے وہ ابواب بہ ترجمہ یکجا جمع کرکے ان کے حوالے کردیئے جائیں جو عدلیہ کے لیے ضروری ہیں۔ ترجمے انگریزی اور اُردو دونوں ان کومہیا کیے جاسکتے ہیں اور وہ ان سے استفادہ کرسکتے ہیں۔

باقی رہا اختلاف کا ڈر؟ تو وہ صرف غیر مدو نہ شکل کا لازمہ نہیں ہے، تدوین کے باوجود اختلاف کی صورتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ ان سے گھبرانا مناسب نہیں ہے۔ جاہل کے لیے اختلاف شایدمشکل ہو لیکن جو اہل علم ہوتا ہے، ان کے فکر و نظر میں اختلاف اور تنوع ایک قدرتی امر ہے، اس سےمفر محال ہے۔ تاہم چالو کیس میں نچلی سطح کےفیصلوں میں جو اختلاف رونما ہوجاتا ہے سپریم کورٹ کے فیصلوں کو اس کا حل تصور کیا جاسکتا ہے، لیکن یہ یاد رہے کہ آنے والی سپریم کورٹ حالیہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی پابند نہیں رہے گی اور نہ اسے اس کا پابند رہنا چاہیے، کیونکہ وہ قرآن و سنت کی پابند او رجوابدہ ہے۔ وہ شرعاً پچھلی سپریم کورٹ کے فیصلوں کی پابند نہیں ہے۔

آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ یہ استثناء صرف بعد میں آنے والی سپریم کورٹ کے لیے نہیں ہے بلکہ حالیہ سپریم کورٹ کے جج کے لیے بھی اس سے اختلاف ممکن ہے۔ اسی طرح اس سے ذیلی سطح کے ادارے بھی آزاد رہ سکیں گے کہ قرآن و سنت کے مطابق وہ جو صحیح سمجھتے ہیں اسی کے مطابق فیصلے کریں، اگر صاحب مقدمہ اس سے مطمئن نہیں ہے تو وہ خود اگلی عدالتوں کا رخ کرسکتا ہے لیکن وہ خود اوپر کی عدالت کے فیصلے کے پابند نہیں ہونے چاہیئیں۔ ہاں علم و تقویٰ کی کمی کی بنا پر اگر کچھ عرصہ کے لیے ان کو سپریم کورٹ کے فیصلوں کا پابند کردیا جائے تو اس کی گنجائش نکل سکتی ہے۔ اس لیے قانون اور آئین کی تعبیر کے لیے جن حضرات کا انتخاب کیاجائے وہ صرف سندات کی بنیاد پرنہ کیا جائے کرے بلکہ تجربہ، تقویٰ او رطہارت نفس کی قدروں کو بھی ان میں ٹٹولنے کی کوشش کی جایا کرے۔ ورنہ مطلوبہ فوائد حاصل نہیں ہوسکیں گے۔ بدنام افراد پر بھی اس کے سارے دروازے بند کردیئے جائیں تاکہ اہل نظر اور صاحب دل پیدا ہوں۔

بعد میں مقلدین نے امام دارالہجرۃ کے مندرجہ بالا اصول کی پروا نہیں کی خاص کر حنفی بزرگ اس سلسلے میں وہ مناسب احتیاط ملحوظ نہیں رکھ سکے جس کامظاہرہ امام موصوف نے کیا تھا۔

وکان أشھر أصحابه ذکرا أبو یوسف رحمه اللہ تعالیٰ فولي قضاء القضاة أیام هارون الرشید فکان سببا لظھور مذھبه والقضاء به في أقطار العراق و خراسان و ماوراء النھر (حجۃ اللہ)

مقلدین کے بعد دوسرا طبقہ جو خصوصی رجحان کے زیر سایہ نفاذ شریعت کا قائل ہے وہ منکرین حدیث کا گروہ ہے، اس کے نزدیک ، قرآن کے بعد حدیث کی ضرورت نہیں رہی، لہٰذا ملک کا دستور صرف قرآن کو ہونا چاہیے ، ان کا خیال ہے کہ نظائر کی حد تک احادیث سے استفادہ کیا جاسکتا ہے، ماخذ شریعت کی حیثیت سے نہیں۔ ان کےنزدیک اس کا حتمی فیصلہ ''مرکز ملت'' کے ہاتھ میں ہوتا ہے کہ وہ قرآنی آیات کا مفہوم متعین کرے، جب تک ''مرکز ملت'' مشہود نہ ہو تو پھر؟ غالباً وہ فرمائیں گے، اس وقت تک ان کی اپنی ذات گرامی جو مضمون تشخیص کرے، اسے حق تصور کیا جائے یا یہ کہ جسے جوسمجھ میں آئے، اختیار کرے، گویا کہ وہ کہنا چاہتے ہیں کہ رسول پاک ﷺ اپنے ملکہ نبوت کے تحت جو سمجھے ہیں وہ تو اب محل نظر ہے، جوبعد میں آنے والا ایک قاری سمجھ پاتا ہے، اسے اس پر ہی قناعت کرنا چاہیے۔ بہرحال ''مرکز ملت'' ان دوستوں کا ''امام مہدی'' ہے جس کے وہ منتظر ہیں۔

ان دوستوں نے ''رسول کریمﷺ کی حیات طیبہ کو قرآن حکیم سے جدا کرکے قرآن مجید کو ''خلق خدا'' کی صوابدید پرچھوڑ دیا ہے، جسے جو سمجھ میں آئے اختیار کرے۔ قرآن پاک کے سلسلے میں ''یہ انارکی'' قرآن کو چیستاں ہی بنالے گی۔ ان کا مطلوب مرکزملت مدتوں سے غائب ہے اور ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کب مشہود ہو۔ یعنی شیعوں کی طرح کسی ''امام غائب'' کے انتظار میں وقت پاس کررہے ہیں۔ جب تک وہ تشریف نہیں لاتے، آپ جو چاہیں قرآن سے معاملہ کریں، آپ آزاد ہیں، اس حیثیت سے قرآن فی الحال ''متروک سرمایہ'' تصور کیا جائے گا۔ یا ملت اسلامیہ کا ہر فرد ''مرکز ملت'' کا فریضہ انجام دینے کا مجاز ہوگا؟ کیونکہ غالباً ان کے نزدیک دنیا میں ابھی تک ایسی کوئی مملکت نہیں ہے جو مطلوب ''مرکز ملت'' کے حامل ہو اور اسے بدلے ہوئے حالات کے مطابق قرآن حکیم کی زبان تصور کیا جاسکے۔

جو دیانتداری کے ساتھ چاہتے ہیں کہ یہاں شریعت اسلامیہ نافذ ہو، بدقسمتی سے ان کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ یہاں ''تعبیرنو'' کی ضرورت ہے۔

تعبیر نو سے مراد اگر ''عصری قانونی زبان'' میں بیان کرنا ہے تو ''چشم ما روشن دل ماشاد''

اگر اس کا یہ مطلب ہے کہ کتاب و سنت میں جواحکام آئے ہیں ان میں سے بعض کا ''روئے سخن اور خطاب'' اس صورت حال سے نہیں ہے جو درپیش ہے تو بھی ''بسم اللہ!'' مکرر غور فرما لیجئے! اگر واقعی یہی بات ہے تو پھر یہی سہی لیکن یہ یاد رہے کہ اس مرحلے پر پھر بھی آپ کو''تشریع'' کی اجازت نہیں ہوگی، اس کے لیےبھی آپ کوقرآن و حدیث کے دوسرے متعلقہ نظائر کی طرف ہی رجوع کرنا ہوگا۔ اب یہ بتانا ہوگا کہ اس پیش آمدہ صورت کا حل فلاں حکم میں پیاجاتا ہے اور دونوں میں پورا پورا تطابق پایا جاتا ہے۔

اگر ''تعبیر نو'' سے ان کی غرض یہ ہے کہ دنیاکافی آگے نکل گئی ہے، حالات بہت بدل گئے ہیں، وقت او رزمانے کے نئے تقاضے پیدا ہوگئے ہیں، لہٰذا ان میں حک و اضافہ اور ترمیم ہوجانی چاہیے تو پھر بسم اللہ نہیں، أعوذ باللہ۔

اس کاحق ہما شما کو تو کیا، محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی اس کا اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ ذات گرامی ان میں سے کوئی شوشہ بدل ڈالے یا ان میں کوئی ترمیم فرمائے۔ کیونکہ پیغمبرخدا ﷺ کو بھی ''تشریع'' کا حق تفویض نہیں ہوا بلکہ ان کی تبیین اور تشریح کا فریضہ آپؐ کو تفویض ہوا ہے۔

وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ (پ14۔ نحل ع6)

''اور ہم نے آپ پر یہ قرآن اتارا ہے تاکہ جو احکام لوگوں (کی ہدایت) کے لیےناسل کیےگئے ہیں آپ وہ ان کو سمجھا دیں۔''

جن امور میں اختلاف رائے پایاجاتا ہے وہ بھی آپ ان کوکھول کر بتا دیں۔

وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ(پ14۔ النحل ع8)

''(اے پیغمبرؐ!) ہم نے آپ پر کتاب اس غرض سے اتاری ہے کہ جن امور میں وہ اختلاف رکھتے ہیں آپ ان کو وہ بھی سمجھا دیں۔''

یہ ایک اصولی بات ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ،تشریع کے بجائے ''تشریح اور تبیین'' پر مامور ہیں، جہاں تک امت کامعاملہ ہے وہ صرف آپؐ کا اتباع ہے، اس بکھیڑے میں پڑنے کی ان کو ضرورت نہیں ہے کہ ان میں سے کون سا حکم ''تشریحی ہے او رکون سا تشریعی'' کیونکہ آپ کےباب عالی سے جوبھی شے ملتی ہے ، ہمارے لیے وہ سب شریعت ہے۔ کیونکہ پیغمبر خداؐحق تعالیٰ کی پسند اور منظوری کے بغیر کوئی بات نہیں کرتے۔

وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى (3) إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى (النجم ع1)

''آپ اپنی خواہش نفس کی بات نہیں کرتے، یہ سب وحی (الہٰی)ہے جوان کو وحی کی جاتی ہے۔''

جب بعض اوقات وحی کے آنے میں دیر ہوجاتی تو آپؐ سے کہا جاتا کہ خود ہی کچھ انتخاب کرکے کیوں نہیںلاتے؟ تو آپ فرماتے: یہ میرا کام نہیں ہے۔

وَإِذَا لَمْ تَأْتِهِمْ بِآيَةٍ قَالُوا لَوْلَا اجْتَبَيْتَهَا قُلْ إِنَّمَا أَتَّبِعُ مَا يُوحَى إِلَيَّ مِنْ رَبِّي(پ9۔ الاعراف ع24)

''او رجب آپ ان کےپاس کوئی آیت نہیں لاتے تو کافر آپ سے کہتے ہیں کہ آپ اپنی طرف سے خود کچھ انتخاب کرکے کیوں نہیں لائے؟ آپ ان سے کہہ دیں کہ میں تو اس حکم پر چلتا ہوں جو مجھے میرے رب سےملے۔''

جدید تعبیر نو کا مطالبہ جب آپؐ سے کیا گیا تو آپؐ نے فرمایا: یہ بات میرے اختیار سے باہر ہے۔

وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَذَا أَوْ بَدِّلْهُ قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِي إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ(پ11۔ یونس ع2)

''اور جب ہمارے کھلےکھلے احکام ان لوگوں کو پڑھ کر سنائے جاتے ہیں تو جن لوگوں کو (مرے پیچھے) ہمارے پاس آنے کا (ذرا سا بھی)کھٹکا نہیں وہ آپ سے فرمائش کرتے ہیں کہ اس کے بجائے اور قرآن لے آؤ یا اسی میں (کچھ) ردوبدل کردو، آپ (ان سے) فرمائیں کہ میرا تو ایسا مقدور نہیں کہ اپنی طرف سے اس میں (کسی قسم کا بھی ) ردوبدل کردوں، میری طرف جو وحی آتی ہے تو بس اسی پرچلتا ہوں،اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب سے ڈر لگتا ہے۔''

غور فرمائیے! رسو ل خداﷺ اسلام کے جن مقررہ احکام اور مضامین کے سلسلے میں کسی بھی تعبیر نو سے برأت فرماتے ہیں او رپھر خوف خدا سے لرز اٹھتے ہیں، اس بات کو ہم نےکس بے دردی کے ساتھ اپنا ایک عام معمول بنا لیا ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ ، وہ اس فرق کو نہیں سمجھے، مصنوعی حالات کو قدرتی حالات پر لاکر اسلام کے تابع بنانا مناسب ہے یا قرآن و حدیث کو بدل کر غیر قدرتی اور مصنوعی حالات کے تابع بنا دینا؟ جہاں تک قدرتی تغیرات کی بات ہے ، اسلام ان کا احترام کرتا ہے، اور ان انقلابات کے لیے متبادل احکام بھی خود ہی مہیا فرماتا ہے،بہرحال حالات کو اللہ تعالیٰ بندوں کے رحم و کرم پرنہیں چھوڑتا کیونکہ جب کسی کو یہ اختیار مل جاتا ہےتو عوامی مفاد سے بے نیاز ہوکر جس طرح وہ سارے حالات کو اپنےمفاد اور کرسی کے تابع کرنے کے لیے ''ترمیموں'' کے انبار لگا دیتا ہے، وہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہیں۔ اب یہ فارمولا طے کرکے یہ شاطر اسلام کے یہ نادان دوست پھر حالات پر سوار ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔بہتر ہے کہ مسلم اس فتنےکےمضمرات کاوقت پر احساس کریں۔ اس سے بھی پہلے کہ تیر ہاتھ سے نکل جائے۔

ملک میں اس وقت ایک مختصر سی جماعت ہے جو اس امر پرمصر ہے کہ اسلام من و عن اور پورے کاپورا اور پورا سلفی تعبیر کے ساتھ نافذ ہونا چاہیے۔ وہ اس امر سےبھی سخت مضطرب ہے کہ دنیا تعبیرنو کا نعرہ ایجاد کرکے ، خدا کوسمجھانے او رلقمے دینے کی نئی طرح ڈال کر اسلام کےساتھ وہی معاملہ کرنا چاہیتی ہےجو اہل کتاب نے صحف سماوی یا اپنے انبیاء کی زندگیوں سے کیا تھا یا جس طرح طبع زاد ٹانکے لگا کر اس کو نوشتہ خدا بنانے کی انہوں نے راہ ہموار کی ، نادان دوست چاہتے ہیں کہ ملت اسلامیہ بھی انہی راہوں پرپڑکر ہمیشہ کے لیے اپنی منسل کھودے۔ یہود و نصاریٰ کی تعبیر نو کے کئی ایک نمونے قرآن نے بیان کیے ہیں، ایک یہ کہ اپنے ہاتھ سےس ترمیمیں مرتب کرتے پھر اسے ''نوشہ خدا'' بتاتے۔

فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ (پ1 بقرہ ع9)

اس تعبیر نو سے ان کی غرض یہ تھی کہ دنیا کا کوئی دھندا پورا ہو1

لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا(ایضاً)

فرمایا یہ ''تعبیر نو اور جعلی نوشتہ خدا'' ان کوخاصامہنگا پڑے گا۔

فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ(ایضاً)

دوسرا یہ کہ : عبارت میں بھی ترمیمیں کیا کرتے تھے او رعمداً کرتے تھے تاکہ بدلے ہوئے حالات کے مطابق آیات تورات کی تعبیر نو کا اتمام ہوسکے۔

وَقَدْ كَانَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَسْمَعُونَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُ مِنْ بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ (بقرہ ع8) ..... يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ مِنْ بَعْدِ مَوَاضِعِهِ (پ6۔مائدہ ع)

ان کو ایک یہ روگ بھی لگ گیا تھا کہ دوسری اقوام کی باتوں سے مرعوب ہوجاتے تھے اور ان کی سن کر اپنے ہاں بھی ترمیموں پر اتر آتے تھے۔

وَمِنَ الَّذِينَ هَادُوا سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ سَمَّاعُونَ لِقَوْمٍ آخَرِينَ لَمْ يَأْتُوكَ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ مِنْ بَعْدِ مَوَاضِعِهِ (پ6۔مائدہ ع6)

''اور کچھ یہودی جھوٹ خوب سنتے ہیں (اور)لوگوں کی خوب سنتے ہیں جو (ابھی) آپ کے پاس نہیں آئے (احکام تورات کے) الفاظ کو ان کےٹھکانے سے بےجگہ کرتے ہیں۔''

اگر ان محرف اور ترمیم شدہ آیات اور احکام کے خلاف حکم ملتاتو اُر جاتے ورنہ قبول کرلیتے، کیونکہ وہ بہت ہی روشن خیال بنتے تھے۔

يَقُولُونَ إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا فَخُذُوهُ وَإِنْ لَمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوا(پ6۔ مائدہ ع6)

''اور کہتے ہیں، تمہیں یہ حکم ملے تو مانو او ریہ نہ ملے تو بچو!''

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: آپ ان متجددین کی پرواہ نہ کریں، آپ کو جو حکم ملا ہے بعینہ نافذ کردیں، اور ہشیار رہیں کہ وہ آپ کو تھوڑا بہت ابتلا میں نہ ڈال دیں۔

وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَنْ يَفْتِنُوكَ عَنْ بَعْضِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكَ (پ6۔مائدہ ع7)

''جو (کتاب) خدا نے (آپ پر) اتارا ہے اسی کے مطابق ان لوگوں میں فیصلہ کریں او ران کی خواہشوں کی پیروی نہ کریں اور ان (کے داؤ گھات) سے ڈرتے رہیں کہ جو (کتاب ) خدا نے (آپ پر) اتاری ( مبادا) اس کے کسی حکم سے یہ لوگ آپ کو بھٹکا دیں۔''

فرمایا: اگر آپ سے یہ لوگ فیصلہ چاہتے ہیں تو آپ کسی مداہنت یا جدت کے بغیر ٹھیک ٹھیک فیصلہ سنائیں۔ اگر وہ بگڑتے ہیں تو بگڑنے دیں وہ آپ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکیں گے۔

فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ وَإِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَضُرُّوكَ شَيْئًا وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ (پ6۔ مائدہ ع6)

تو اگر وہ آپ کے حضور حاضر ہوں تو ان میں فیصلہ فرمائیں یا ان سے اعراض کریں (آپ کو اختیار ہے) اگر آپ ان سے اعراض فرمائیں گے تو بھی وہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے اور اگر ان میں فیصلہ فرمائیں تو انصاف سے فیصلہ فرمائیں۔

الغرض تعبیر نو بایں معنی کہ قرآن و دحدیث کی سلفی تعبیر اور تشریح سے مختلف کوئی بات ہے تو ہمارے نزدیک وہ دین نبی اور قرآن کے خلاف ایک سازش ہے او ربالکل ویسی حماقت ہے ، جیسی اہل کتاب نے اپنی اپنی کتابوں اور نبیوں کےسلسلہ میں اختیار کی تھی، اگر ایک دفعہ اس تعبیرنو نے اس میں راہ پالی (تو پھر یقین کیجئے! کتاب و سنت کے مسخ کرنے کے لیےکسی خارجی دشمن کی ضرورت نہیں رہے گی۔