ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • جنوری
1978
ادارہ
بنی اسرائیل میں ایک شخص قتل ہوگیا۔ قاتل کی تلاش شروع ہوگئی تو بات یہاں آکر رُکی کہ ایک ''گائے'' کوذبح کرکے اس کا ایک عضو مقتول کو لگایا جائے، قاتل کاسراغ مل جائے گا، بات سیدھی اور صاف تھی، چاہتےتو کوئی سی گائے ذبح کرکے اپنامقصد حاصل کرسکتے تھے، لیکن اصل بات ذہنیت اور نیت کےفتور کی تھی، اس لیے ''چونکہ چنانچہ'' کے ہیرپھیر میں رہے۔ اس سلسلے کااگر آخری موقع کھو دیتے تو پھر اس کا فیصلہ قیامت کو ہی ہوتا۔
  • جنوری
1978
ادارہ
اُولئک لھم عذاب الیم

ولا تکونوا کالذین تفرقوا واختلفوا من بعد ماجآء ھم البینت اولئک لھم عذاب عظیم (پ4۔آل عمران ع11)

'' ان لوگوں کی طرح مت ہوجانا جنہوں نے باہم تفریق کرلی اور واضح حقائق کے بعد باہم اختلاف کرلیا۔ ان کے لیے آزردہ عذاب ہے۔''
  • جنوری
1978
ادارہ
1۔ عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال : وایاکم وسوء ذات البین فانھا الحالقۃ (رواہ الترمذی) ''حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے: لوگوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے اور بداعتمادی پیدا کرنے سے پرہیز کرو! کیونکہ یہ (بات دین ایمان کو) مونڈ کر صفا چٹ کردیتی ہے۔''
  • جنوری
1978
ادارہ
(1) ایک فاضل دوست نے پوچھا ہے کہ:

امریکہ میں نو مسلم میاں بیوی میں اتفاقاً ناچاقی ہوگئی، شوہر نے غصے میں آکر ایک ہی مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دےڈالیں، جب غصہ فرو ہوا تو پچھتایا، علماء کی طرف رجوع کیاتو انہوں نے جواب دیا کہ : اب تمہارے لیے رجوع کرنا جائز نہیں ہے۔
  • جنوری
1978
بدیع الدین راشدی
میں نے ایک مضمون میں تجویز پیش کی تھی کہ صرف اس قدر قانون بنا دیا جائے کہ عدالتیں قرآن و سنت کی پابند ہوں گی اور کوئی ایسا قانون نافذ نہ ہوگا جو کتاب وسنت کے منافی ہو تواس طرح کتاب و سنت مکمل طور پر نافذ ہوجائیں گے، اسلامی قانون وضع کرنے کی نہ ضرورت ہے نہ وضع کرنے کا کسی کو اختیار حاصل ہے۔ عدالتیں خود کتاب و سنت کی بنا پر فیصلہ کریں گے اورمقدمات کے فیصلے کتابوں میں موجود ہیں جوعدالتوں کی امداد کریں گے۔