(احناف او راہل حدیث کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ)

قارئین محترم! کسی گذشتہ شمارے میں ہم آپ کے سامنے پریوی کونسل لندن کا ایک تاریخی فیصلہ پیش کرچکے ہیں۔ آپ کو اندازہ ہوچکا ہوگا کہ آج کے بریلوی احباب کا واویلا بعد از مرگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ تقلید و عدم تقلید ، رفع الیدین، آمین بالجہر یاقرأت فاتحہ خلف الامام ایسے امور نہیں ہیں کہ ان کاقائل و عامل اہل سنت سے خارج کردیا جائے یا ایسے شخص کی اقتداء میں نماز ناجائز یا مکرہ ہو۔جن لوگوں کا آج اس قسم کا مؤقف ہے وہ میدان بحث و نظر میں پورا نہیں اترتا۔ اگر واقعۃً ایسا ہوتا تو عدالت سے یہ لوگ راہ فرار اختیارنہ کرتے۔ وہ فیصلہ اپنے دور کی سب سے بڑی دنیاوی عدالت کا فیصلہ تھا جس نے فریقین کے دلائل کی چھان پھٹک کرکے غیر جانبدارانہ فیصلہ دیا تھا۔ جو آج کے واویلا کنندگان کے لیے سرمہ چشم بصیرت کی حیثیت رکھتا ہے۔

لیکن اسی خیال سے کہ شاید یہ لوگ اپنے معتقدین کو اس بناء پر ورغلائیں کہ وہ فیصلہ تو ایک دنیاوی عدالت کا تھا جو مذہبی معاملات میں حرف آخر نہیں ہے۔اگرچہ یہ خیال باطل ہے کیونکہ عدالت میں ہائی کورٹ کی سطح تک دونوں فریقوں نے اپنے وکلاء کی معرفت پوری دنیا سے اپنا مفید مطلب مواد اکٹھا کرکے پیش کیا تھا او ریہ سلسلہ ایک دو روز نہیں بلکہ مسلسل سات سال تک جاری رہا او رپھر یریوی کونسل میں اگرچہ حضرات مقلدین تشریف نہیں لے گئے او رکونسل کو یکطرفہ فیصلہ کرنا پڑا لیکن اس عدالت نےجانبین کے دلائل کو ازسر نو پرکھا۔ صورت حال کو پوری طرح جانچا او رپھر اپنا فیصلہ اہل حدیث کے حق میں دیا تھا۔ تاہم آج کی نشست میں ہم آپ کے سامنے دو ایسی دستاویزات پیش کرتے ہیں جواپنے دور کے نامور علمائے احناف کے دستخطوں سے مزین ہیں۔ ان میں سے ایک تو معاہدہ ہے جو اہل حدیث او راحناف کے درمیان کمشنر دہلی کی عدالت میں طے پایا او ردوسرا ایک فتویٰ ہے جو صرف علمائے احناف کا ہے جس میں انہوں نے آمین بالجہر کہنے کی سنیت و حجیت پر زور دیا ہے اور احناف کو یہ عمل برداشت کرنے کا مشورہ دیا ہے۔دونوں دستاویزیں اس حد تک جامع ہیں کہ ہم ان کا مزید تعارف کروانے کی بجائے آپ کے سامنے پیش کیے دیتے ہیں او ربرادران احناف سے درخواست کرتے ہیں کہ اہل حدیث پر زبان طعن دراز کرنےکی بجائے اپنے ان علما کو کوسیں جنہوں نے آج سے 90 سال قبل آج اٹھنے والے فتنوں کا راستہ روک دیا تھا۔ یہ لوگ ہمیں بُرا بھلا کہنے کی بجائے ان دلائل کا رد کریں جو انہیں کے علماء نے فتوے میں درج کیے ہیں۔

''نقل معاہدہ علمائے اہل حدیث و فقہ مدخولہ عدالت کمشنری دہلی''

الحمد للہ رب العلٰمین والصلوٰة والسلام علی رسوله محمد و آله و صحبه أجمعین أما بعد !

چونکہ دہلی و دیگر امصار میں اکثر نافہم لوگوں نےمسائل فروعیہ میں تنازعات بے معنی برپا کرکے طرح طرح کے اشتہارات و رسائل مشتہر کیے ہیں۔ بارہا وہ اشتہارات و رسائل ہماری نظر سے گزرے۔ہرچند بطور خود اس کا انتظام و امتناع چاہا مگر نادان لوگ باز نہ آئے او رخفیف امور امو رپر نوبت بعدادت پہنچائی۔ ہرایک فریق اپنے مخالف فریق کو گمراہ اور خارج از اہل سنت والجماعت تقریراً و تحریراً کہنے لگا او رباہم فساد و عناد بڑھتا گیا اور یہاں کے فساد دے او ربلادو قصبات میں بھی نزاع بین المسلمین واقع ہوئی او رنوبت بفوجداری پہنچی۔ حالانکہ یہ ا|ختلاف سلف صالح سے چلاآیا ہے اور صحابہ کرام او رمجتہدین عظام میں فروعی مسائل میں اختلاف رہا ہے۔ لیکن باوجود اختلاف کے ان حضرات میں بغض و فسادنہ تھا۔ ایک دوسرے کو خارج از اہل السنت والجماعت نہ سمجھتا تھا اور آپس میں محبت و اتحاد تھا اور آج کل لوگ انہیں فروعی مسائل کے اختلاف کے سبب سے اتفاق حرمتوں میں مبتلا ہورہے ہیں کیونکہ ضد اور کینہ ، غیبت او رعداوت اور فساد بالاتفاق حرام ہے جن مسائل مختلف فیہ میں اختلاف ہے وہ یہ ہیں۔ نجاست آب، آمین بالجہر فی الصلوٰۃ رفیع الیدین فی الصلوٰۃ، رفع سبابہ و دیگر مسائل اختلافیہ۔ بعض نے ان کو حرام سمجھا او ربعض نے مثل مؤکدہ۔ غرض کہ جادہ اعتدال سے گزر گئے۔ ایک فریق دوسرے فریق کے افعال نماز میں طعن و توہین سے پیش نہ آوے اور نماز ایک فریق کی دوسرے کے پیچھے بشرط رعایت عدم مفسدات جائز ہے۔ پس جو شخص کرے اس کو منع نہ کیا جاوے او ر اس کے پیچھے بلا شبہ نماز پڑھنی چاہیے اور جو نہ کرے اس پراعتراض نہ ہو اور فاعل افعال مذکورہ اس کے پیچھے نماز پڑھے اور آپس میں محبت و اتحاد رکھیں اور کوئی کسی کو بُرا اور بد مذہب نہ جانے۔مساجد میں کسی فریق کا کوئی فرد فریقین سے مانع و مزاحم نہ ہو جیسا کہ طریقہ سلف کا تھا اور عمل درآمد متقدمین کا رہا ہے۔ عامل بالحدیث اپنے طور پر عمل کرے اور عامل بالفقہ اپنے طور پر۔ ہرایک مسجد میں ہرایک اپنے عمل بجا لانے کا مجاز اور مختار ہے۔ پس ہم سب اس بات کواشتہاردیتے ہیں کہ واعظ اپنےوعظ میں دلائل تکراری و مسائل اجتہادی وغیرہ بیان نہ فرمائیں۔ البتہ وقت تدریس حدیث شریف کے اس دلائل اور کتب فقہ کی تدریس کے وقت اس کے دلائل بیان کیے جائیں اور طعن و تشنیع نہ کیا جائے ۔ علی ہذا القیاس۔ ہر موقع تحریر پرسوائے دلائل کتب کوئی بات خلاف تہذیب نہ لکھی جائے ۔ اب جوشخص کوئی اشتہار یاکتاب ایسے مضمون کا شائع کرے جس میں مذاہب ائمہ اربعہ یامحدثین علیہم الرضوان کی توہین شرعی ہو۔ اس کے تدارک کی حکام والا شان سے استدعا کی جائے۔ غرض کہ جو آفات و افساد و اشتہارات و رسائل اور گکرار امامت و اقتدار سے ہورہے ہیں ان کا انسداد بخوبی ہونا چاہیے کہ آئندہ ایسے تنازعات پیدا نہ ہوں او رمسلمانوں کے قلب سے کینہ و عداوت بالکل جاتا رہے اور جس شخص کو کسی مسئلہ کا دریافت کرنا منظور ہو اس کو اختیار ہے کہ خلاف وقت وعظ جس مولوی صاحب سے اس کو عقیدت ہو دریافت کرلے اور یہ بھی اختیار ہے کہ کسی دوسرے مولوی سے بھی دریافت کرے لیکن منازعت و تکرار نہ کرے۔ فقط

تحریر بتاریخ بست و شتم ذی قعدہ روز جمعہ 1298ء

مہریں اور دستخط: محمدغلام اکبر خان محمدی السنی ۔مولانا سی دمحمد ابوالمنصور صاحب امام فن مناظرہ ابو محمد زین العابدین۔محمد حمایت اللہ جلیسری محمدی السنی، ابوالخیرات محمد حبیب اللہ، محمد یعقوب، خادم شرع رسول اللہ قاضی القضاۃ محمد ابراہیم خان۔ مولوی محمد عبدالحق مدرس مدرسہ فتح پوری، سی دمحمدنذیر حسین ، خادم شریعت رسول الثقلین محمد تلطف حسین،زشرف سید کونین شاہ ، شریف حسین، حفیظ اللہ، ابوالخیر محمد یونس، محمد عاشق علی، حسن علی، محمد اسحاق، محمد جمیل ، محمد یوسف ، محمد عبداللہ، ابومحمد، سید لطف حسین، محمد علاؤ الدین، منیرالدولہ فیض رقم حافظ محم دامیر الدین، مولوی رحیم بخش، محمد مسعود امام مسجد فتح پوری، محمد عبدالرؤف، محمد زین العابدین احمد، نواب قطب الدین خان، مولوی عبدالرب، محمد عبدالقادر، محمد یعقوب ولد مولوی کریم اللہ، محمد عبدالرشید ولد مولوی عبدالحکیم، محمد عبدالحلیم لکھنوی، محمد سلیم اللہ بدایونی، سید محمد اسماعیل عظیم آبادی بہاری، قارر بخش ، محمد عبدالمجید ، سید محمد امام جامع مسجد دہلی، عبدالجبار،محمد شاہ۔

دستخط : جی ۔ جی یتنگ کمشنر دہلی 16 جنوری 1882ء

درمطبع مجتبائی دہلی طبع گردید 1299ھ

(ماخوذ از'' إقامة البرهان علی بطلان التبیان''۔مولانا عبدالاحد خانپوری۔مطبوعہ شریف پریس راولپنڈی شوال 1337ھ۔ صفحات 256 تا 359)

قارئین کرام! یہ تو ہے جانبین کے علماء کامتفقہ فیصلہ اور عدالتی معاہدہ جس میں نواب مولانا محمد قطب الدین دہلوی جیسے جید عالم احناف کے دستخط بھی موجود ہیں۔ اب ہم آپ کے سامنے علمائے احناف کا ایک فتویٰ دربارہ آمین بالجہر پیش کرکے بتاتے ہیں کہ آج کے بریلوی حضرات تاریخ سے کس قدر ناواقف ہیں کہ جن مسائل پر ان کے اکابر کی رائے یہ ہو اس پر خواہ مخواہ شور مچاتے رہنا ان کی ارواح کو اذیت دینا ہے سنیئے:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارہ میں کہ ہم حنفی المذہب کے ہمراہ شامل صف نماز ہوکر کسی شخص کا پکار کے آمین کہنا ہمارے لیے موجب فساد نماز ہے یا نہیں؟ اگر اس کا آمین کہنا ہمارے واسطے موجب فساد نماز یا باعث کراہت ہے تو یہ حنفی مذہب کی کون سی معتبر کتاب میں لکھا ہے۔ بینواو تؤجروا۔

الجواب: آمین جہر سے کہنا غیر مذہب کا مذہب حنفی والے کو مفسد نمازنہیں ہے اور نہ موجب کراہت۔ کیونکہ فعل ایک مصلّی کا دوسرے مصلّی کی طرف مفضی نہیں۔ واللہ أعلم بالصواب۔

حررہ وأجابه خاکسار محمد مسعود نقشبندی دہلوی 28 جمادی الاوّل 1294ھ بلکہ اگر آمین کے جہر کرنے سے امام قرأت بھول جائے تو کراہت اس کی مجاہر پر نہ ہوگی صحیح الجواب بلاارتیاب حررہ محمد عبدالحق۔ الجواب الصحیح کتبہ محمد یعقوب دہلوی، صحیح الجواب محمد یوف۔ الجواب صحیح سید حسن شاہ۔ الجواب صحیح خداباد ہاشم بنام محمد۔ محمد کرامت اللہ۔ امام فن مناظرہ سید ناصر الدین محمد ابوالمنصور محمد عبدالحق۔ محمد عبدالقادر۔ محمد اسماعیل فلانہ الجلیل الدلیل۔ اکبر علی خان ولد محمد رحیم علی خاں بلا شبہ جواب ثانی صحیح ہے محمد عبدالرب۔محمد یعقوب ۔ اسمہ احمد۔لاریب فی ہذا الجواب محمد فضل احمد من اجاب فقد اصاب محمد عبداللطیف میرٹھ۔ الجواب صحیح محمد نور اللہ۔ الجواب صحیح بندہ عزیز الرحمٰن مفتی مدرسہ دیوبند۔ الجواب صحیح نظام الدین۔ الجواب صحیح رشید احمد گنگوہی۔ ہذا الجواب ریب المرتاب محمد۔ الجواب صحیح محمود عفی عنہ دیوبندی۔ ابویحییٰ محمد۔ والجواب مذکور صحیح إذاکان المقصود اتباع السنة محمد اسماعیل انصاری مدرس مدرسہ حسین بخش۔میرےنزدیک تو اگر خود حنفی بھی آمین بالجہر کہے تو اس کی نماز فاسد نہیں ہوتی نہ کہ دوسرا شخص کہے او رحنفی کی نماز فاسد ہوجائے۔ حق یہ ہے کہ جہر و اخفا دونوں فعل مسنون ہیں۔ ائمہ حنفیہ کو جواز جہر میں خلاف نہیں ہے صرف اولویت میں اختلاف ہے۔ چنانچہ حنفیہ اخفاء کو اولیٰ سمجھتے ہیں او رائمہ جہر کو ۔ پس سائل کو اپنی نماز کے فساد کا کیامعنی۔ کراہت کا بھی شبہ نہ کرنا چاہیے۔ واللہ أعلم بالصواب۔ حررہ محمد اسماعیل ساکن کول۔ الجواب الصحیح خلیل احمد انبٹھوی۔ محمود حسن۔ جواب المجیب حقو الحق احق ان یتبع عبداللہ انصاری۔ جملہ جوابات مجیبین کے صحیح ہیں لیکن مولوی محمد اسماعیل صاحب انصاری مدرس مدرسہ حسین بخش مرحوم کا تحریر فرماناخلاف شان علماء کے ہے۔ کیونکہ جب ایک امر حدیث سے سنت ثابت ہوچکا پھر اس کے عامل پر الزام نقض نیت کس طرح ہوسکتا ہے۔ نماز میں کسی قسم کی خرابی جب واقع ہوتی ہے کہ خلاف امر مشروع نما زمیں کیاجائے او رآمین بالجہر کے تو علماء حنفیہ بھی قائل ہیں۔چنانچہ شیخ عبدالحق دہلوی لکھتے ہیں:

والظاهر الحمل علی کلا العلمین ۔یعنی جہر و سر دونوں جائز ہیں او ر مولوی عبدالحئ صاحب لکھنوی لکھتے ہیں: والإنصاف أن الجهر قوي من حیث الدلیل۔ یعنی جہر قوی ہے باعتبار دلیل کے۔ او رابن ہمام نے لکھا ہے: لوکان إلی في ھذا شيء لوفقت بینھما أن یراد بروایة الخفص عدم القوع العنیف؟ و بروایة الجهر بمعنی زیر الصوف و ذیلھا۔ یعنی اس بارہمیں اگر مجھ سے پوچھا جائے تو میں دونوں قسم کی روایتوں میں مطابقت دے سکتا ہوں کہ آہستہ کی روایت سے یہ مراد ہے کہ بہت زور کی آواز نہ ہو او رجہرکی روایت سے یہ مرادہے کہ گونجتی ہوئی آواز ہو۔یعنی بہر دو صورت آواز سے ہی کہنا رہا۔ او رنیز دیگر علماء بھی قائل ہیں مانندان کے۔بحر العلوم لکھنوی حنفی اپنی کتاب ارکان اربعہ مطبوعہ علوی کے صفحہ 76 میں فرماتے ہیں کہ درباب آہستہ گفتن آمین ہیچ واردنہ شد مگر حدیث ضعیف یعنی آمین آہستہ کے واسطے کوئی حدیث قوی نہیں وارد ہے مگر ایک حدیث ضعیف۔ اور مولانا سلامت اللہ صاحب حنفی بھی قائل ہیں جیسا کہ اپنی کتاب شرح المؤطا میں لکھا ہے کہ بروایت حضرت ابوہریرہ کے۔ حررہ عبدالصمد حنفی متوطن گوٹھا ولی ضلع بلند شہر مورخہ 12 شعبان 1313ھ۔ ہو المصیب کسی دوسرے کا زور سے آمین کہنا احناف کے واسطے نہ موجب فساد نماز ہے نہ کراہت۔ احناف اور غیر احناف میں جو کچھ اختلاف اس بارے میں ہے وہ محض اولویت و عدم اولویت کا ہے۔ اس سے فساد نماز کسی کا مذہب نہیں۔ زمانہ صحابہ سے لے کر آج تک یہ تعامل چلا آیا ہے کہ دونوں فریق ایک جگہ نماز پڑھتے رہے۔ البتہ سب و شتم اور لعن طعن باہم نہ ہونا چاہیے۔واللہ اعلم کتبہ عبداللطیف از دفتر ندوۃ العلماء کانپور 26 جمادی الثانی 1314ھ مع مہر دفتر۔ الجواب صواب عبدالمومن دیوبندی۔ احمد علی مدرس مدرسہ اسلامیہ میرٹھ۔ محمد ریاض الدین احمد مدرس مدرسہ عالیہ میرٹھ۔ عبداللہ خان مدرسہ اسلامیہ میرٹھ۔ آمین بالجہر کہنے سے آمین بالاخفاء کہنے والوں کی نماز میں کسی طرح کا فساد نہیں ہے۔ حررہ محمد رمضان جامع مسجد آگرہ۔ (ماخوذ از اقامۃ البرہان صفحہ 359تا 362 مصنفہ مولانا عبدالاحد خانپوری)