(قسط اوّل)


آں حضرتﷺ نئے ماہ کا چاند دیکھ کر درج ذیل دعائیں پڑھا کرتے تھے۔

اللهم أھله علینا بالأمن والإیمان والسلامة والإسلام ربي و ربك اللہ (ترمذی)

(ترجمہ) '' اے اللہ تعالیٰ تو ہم کو امن، ایمان، سلامتی اور اسلام کے ساتھ چاند دکھا۔ اے چاند! تیرا اور میرا رب اللہ ہی ہے۔''

ھلال خیر و رشد ، ھلال خیر و رشد، ھلال خیر رشد۔ امنت بالذي خلقك۔ الحمدللہ الذي ذھب بشھر کذا وجاء بشھر کذا (ابوداؤد)

(ترجمہ)''یا اللہ ! اسے نیکی اور بھلائی کا چاند بنا (تین بار) میں اس اللہ پر ایمان لایا۔ جس نے تجھے پیدا کیا او رہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے جو اس مہینے کو لے گیا وار اس مہینے کو لایا۔''

(نوٹ) اس دعا میں ذھب بشھر کذا میں کذا کی جگہ اس ماہ کا نام لیاجائے جو گزر چکا ہے او رجاء بشھر کذا میں کذا کی جگہ اس مہینے کا نام لیا جائے جس کا چاند نظر آیا ہے مثلاً ذوالقعدہ کا مہینہ ختم ہوکر ذوالحجہ کا چاند نظر آیا ہو تو دعا کےآخری الفاظ یوں ادا کیے جائیں۔

الحمد للہ الذي ذھب بشھر ذي العقدة و جاء بشھر ذي الحجة۔

اللہ أکبر، الحمد للہ، لا حول ولا قوة إلا باللہ۔ اللھم إنی أسئلك خیر ھذا الشھر و أعوذبك من سوء المحشر (طبرانی)

(ترجمہ)''اللہ سب سےبڑا ہے۔ تمام تعریفین اللہ کے لیے۔نہیں ہے طاقت گناہ سے پھرنے کی اور نہیں ہے قوت نیکی کی مگر مدد اللہ کی کے۔ اے اللہ میں اس ماہ کی بھلائی مانگتا ہوں او رمحشر کی برائیوں سے پناہ چاہتا ہوں۔''

فضائل و مسائل عشرہ ذوالحجہ

ذوالحجہ کا پہلا عشرہ بڑی برکت اور فضیلت کا حامل ہے۔ ان دنوں میں جو بھی نیک عمل کیا جائے دوسرے دنوں کا کوئی بھی نیک عم ثواب میں ان دنوں کا برابر نہیں۔ یہاں تک کہ ان دنوں کی نیکی کا درجہ دوسرے دنوں کے جہاد فی سبیل اللہ سے بھی بڑھ کر ہے۔حدیث میں ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

ما من أیام العمل الصالح فیھن أحب إلی اللہ من ھذہ الأیام العشرة قالوا یارسول اللہ ولا الجهاد في سبیل اللہ قال ولا الجهاد في سبیل اللہ إلارجل خرج بنفسه و ماله فلم یرجع من ذلك بشيء (بخاری شریف ج1 ص132)

(ترجمہ) ''اللہ پاک کو نیک عمل جس قدر عشرہ ذوالحجہ میں محبوب ہوتا ہے اتنا اور دنوں میں ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی! اے اللہ کے رسولؐ! کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی اتنا محبو ب نہیں ہوتافرمایا ہاں! جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں۔مگر وہ مجاہد جو اپنی جان او رمال کے ساتھ جہاد کو گیا نہ خود واپس آیا اور نہ مال تو اس کاجہاد البتہ سب سے افضل ہے۔''

اس لیے ان دنوں میں زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر، توبہ، استغفار ، تسبیح اور تہلیل کرنی چاہیے او ران دنوں میں خصوصاً روزے رکھنے چاہیں اور رات کو قیام کرنا چاہیے۔ حدیث شریف میں ہے کہ ان دنوں کا روزہ سال کے روزوں کے برابر او رایک رات کا قیام ، قیام لیلۃ القدر کے برابر ہے ۔ حدیث پاک کے الفاظ ملاحظہ ہوں۔

مامن أیام أحب اللہ أن یتعبد له فیھا من عشر ذي الحجة یعدل كصیام کل یوم منھا بصیام سنة و قیام کل لیلة منھا بقیام لیلة القدر (مشکوٰۃ ص128۔ ترمذی ۔ ابن ماجہ حدیث نمبر 1728۔ باب صیام العشر)

(ترجمہ) ''تمام دنوں میں سے اللہ کو عبادت عشرہ ذوالحجہ میں زیادہ محبوب ہوتی ہے ان دنوں کاروزہ سال کے روزوں کے برابر او رہررات کا قیام لیلۃ القدر کے قیام کے برابر ہے۔''

یوم عرفہ کی فضیلت

عرفہ 9 ذوالجہ کو کہتے ہیں اس دن حج کیا جاتا ہے۔ اس لیے یہ دن بڑی فضیلت رکھتا ہے۔حدیث شریف میں ہے:

" إِذَا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ إِنَّ اللَّهَ يَنْزِلُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ فَيَقُولُ: انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي أَتَوْنِي شُعْثًا غُبْرًا ضَاجِّينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ فَيَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: يَا رَبِّ فُلَانٌ كَانَ يُرَهَّقُ وَفُلَانٌ وَفُلَانَةُ قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ ". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ عَتِيقًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ»(مشکوٰۃ ص229)

(ترجمہ) ''عرصہ کے دن اللہ عزوجل سماء دنیا کی طرف نزول فرما ہوتے ہیں اور فرشتوں کے ساتھ فخر کرتے ہوئے انہیں کہتے ہیں دیکھو! میرے بندے پراگندہ سرغبار آلودہ حالت میں زاری کرتے ہوئے میرے پاس آئے ہیں۔ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان تمام کوبخش دیا۔فرشتے عرض کرتے ہیں یا اللہ! ان میں فلاں فلاں گناہگار او رمجرم بھی تو ہیں (کیا انہیں بھی بخش دیا؟) اللہ کریم جواب دیتے ہیں کہ میں نے ان کو بھی بخش دیا۔ نیز آپؐ نے فرمایا۔ اس روز اللہ تعالیٰ بہت سے لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتے ہیں۔''

عرفہ کا روزہ

مندرجہ بالا فضیلت ، رحمت اور مغفرت ذنوب کا وعدہ حجاج کرام کو ہے جو 9 ذوالحجہ کو عرفات میں بغرض حج موجود ہوں لیکن اللہ کی رحمت بڑی وسیع ہے جو ساری زمین پر پھیل جاتی ہے۔ اس لیے جو لوگ عذر شرعی کی بنا پر حج پرنہ جاسکے ہوں وہ اس دن روزہ رکھ کر اللہ کی رحمت او رفیضان حاصل کرسکتے ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ:

صیام یوم عرفة إني أحتسب علی اللہ أن یکفرالسنة التي قبله والتي بعدہ (مسلم۔ ابن ماجہ حدیث نمبر 1730)

(ترجمہ) '' یعنی عرفہ کا روزہ رکھنے سے سال گذشتہ اور سال آئندہ (دو سال )کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔''

(ف) حجاج کرام کو عرفات میں عرفہ کا روزہ رکھنامنع ہے۔ (ابن ماجہ حدیث نمبر 1732۔ ابوداؤد حدیث نمبر2440)

عیدالاضحیٰ کے روزہ کی ممانعت

دس ذوالحجہ کو عید الاضحیٰ کے روز روزہ رکھنے سے پیغمبر خداﷺ نے منع فرمایا ہے۔

عن أبي سعید رضی اللہ عنه عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أنه نھیٰ عن صوم یوم الفطر و یوم الأضحیٰ (ابن ماجہ حدیث نمبر 172)

(ترجمہ) '' رسول اللہ ﷺ نے عید الفطر اور عیدالاضحیٰ کے روزہ سےمنع فرما دیا ہے۔''

ایام تشریق کے روزہ کی ممانعت

ذوالحجہ کی 11،12،13 تاریخوں کو ایام تشریق کہاجاتا ہے۔ ان ایام میں بھی روزہ نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کافرمان ہے:

عن نبیشة الھذلي رضی اللہ تعالیٰ عنه قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أیام التشریق أیام أکل و شرب و ذکر اللہ۔

(ترجمہ) حضرت نبیشہ ہذلی ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایام تشریق کھانے پینے او راللہ کے ذکر کے دن ہیں۔ (مسلم۔مشکوٰۃ ص179)

چونکہ یہ دن اللہ کے ذکر کے بھی دن ہیں اس لیے کھانے پینے کے ساتھ ساتھ اللہ کاذکر بھی کرنا چاہیے او رزیادہ سے زیادہ وقت اللہ کی یادمیں گزارناچاہیے۔

تکبیرات

ان دنوں میں خصوصاً اللہ کی بزرگی اور بڑائی بیان کرنے کامسنون طریقہ تکبیرات پڑھنا ہے۔ فرمان نبویؐ ہے۔

زینوا أعیادکم بالتکبیر ''اپنی عیدوں کو تکبیروں سے مزین کرو۔''

الفاط تکبیر: روایات میں تکبیر کے مختلف الفاظ ملتے ہیں:

اللہ أکبر، اللہ أکبر لا إله إلا اللہ واللہ أکبر،اللہ أکبر وللہ الحمد۔

اللہ أکبر کبیرا والحمدللہ کثیرا۔ سبحان اللہ بکرة و أصیلا۔

سبحان اللہ والحمدللہ ولا إله إلااللہ واللہ أکبر (طبرانی)

جو شخص قربانی کرنا چاہے

وہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے سے پہلے پہلے حجامت بنوالے او رناخن اتروالے ۔چاند نظر آنے کے بعدناخن اتارنا، حجامت بنوانا او رجسم کے کسی بھی حصہ کے بال لینا او رچمڑا کاٹنا ناجائز او رممنوع ہے ۔ حدیث شریف میں ہے:

من رأی ھلال ذي الحجة وأرادأن یضحي فلا یأخذ من شعرہ ولامن أظفارہ۔ (مشکوٰۃ بحوالہ مسلم۔نسائی۔ ترمذی۔ ابن ماجہ حدیث نمبر 3150۔ابوداؤد حدیث نمبر 2791)

(ترجمہ) '' جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے وہ ذوالحجہ کا چاند دیکھ لینےکے بعد بال او رناخن نہ اتارے۔''

جسے قربانی میسر نہیں

اور اگر کوئی شخص غریب ہے اور اس وجہ سے اگر وہ قربانی نہیں دے سکا تو وہ بھی چاند نظر آنے کے بعد ناخن او ربال نہ اتارے ۔ دس ذوالحجہ کو نماز عید ادا کرکے حجامت بنوائے او رناخن اتارے ۔ اللہ پاک اسےبھی قربانی کاثواب عطا فرمائیں گے۔ ان شاء اللہ (نساوی۔ابن ماجہ حدیث نمبر 2789)

ذبح عظیم

آں حضرت ﷺ جب مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو آپ نے دیکھاکہ اہل مدینہ نے سال میں دو دن خوشی کے مقرر کر رکھے ہیں۔ آپؐ نے پوچھا: ماھذ ان الیومان؟ یہ کیسے دن ہیں؟ صحابہؓ نے عرض کی کہ ہم زمانہ جاہلیت میں ان دنوں میں کھیلا کرتے تھے۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے ان دنوں کے بدلے دو دن بہترین مقرر کردیئے ہیں۔ یوم الفطر اور یوم الأضحیٰ (مشکوٰۃ ص126۔ ابوداؤد)

آج سے تقریباً پانچ ہزار برس قبل اللہ کے برگزیدہ پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے ایک اشارے پراپنے لخت جگر کو قربان کرنےپر تیار ہوگئے او راپنے عزیز بیٹے کے گلے پر چھری رکھ دی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کوبچا لیا او رجنت سے ایک مینڈھا بھیج دیا کہ اس کی قربانی کردیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس عمل کوذبح عظیم قرار دیا۔ قرآن کریم نے اس واقعہ کانقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے۔

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَابُنَيَّ إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَى قَالَ يَاأَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ * وَنَادَيْنَاهُ أَنْ يَاإِبْرَاهِيمُ  قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ  إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ * وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ (الصافات، پ23)

(ترجمہ) ''جب وہ (اسماعیل) ان (ابراہیم) ساتھ دوڑنے کی عمر کو پہنچا تو ابراہیم نے کہا کہ بیٹا میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں ذبح کررہا ہوں تو تمہارا کیا خیال ہے۔ حضرت اسماعیل نے جواب دیا۔ ابا جی! اللہ کی طرف سے آپ کو جو حکم ہوا ہے کرگزریئے۔ انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ جب دونوں نے حکم مان لیا اور حضرت ابراہیم نےاپنے فرمانبردار لخت جگر کو پیشانی کے بل لٹا دیا تو ہم نے ان کو پکارا کہ اے ابراہیم! تو نے خواب سچا کردکھایا ہم نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔بےشک یہ صریح آزمائش تھی اور ہم نے ان کو عظیم قربانی کافدیہ دیا۔''

باپ بیٹے کی اس قربانی کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اتنی قبولیت حاصل ہوئی کہ اس نے قیامت تک آنے والی نسلوں پرلازم کردیا کہ ہر سال دس ذوالحجہ کو ابراہیمی و اسماعیلی قربانی کی یاد تازہ کرنے کے لیے اللہ کی راہ میں ہر صاحب استطاعت جانور ذبح کرے۔

سنت ابراہیمی

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بارگاہ رسالت میں رسالت میں سوال کیا: ماھذہ الأضاحي؟ یارسول اللہ! اے اللہ کے رسولؐ یہ قربانیاں کیا ہیں؟ (ان کی اہمیت کیا ہے)جواب ملا سنة أبیکم إبراهیم یہ تمہارے ابا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ ابن ماجہ حدیث نمبر 3127)

قربانی سنت مؤکدہ ہے

آنحضرت ﷺ دس برس مدینہ منورہ میں تشریف فرما رہے او رہرسال باقاعدگی سے قربانی کرتے رہے۔ حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں:

أقام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالمدینة عشرسنین یضحي(مشکوٰۃ ص129 بحوالہ ترمذی)

(ف) بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ فلاں کام واجب ہے یاسنت؟ فرض ہے یا مستحب یانفل؟

اس ذہن کے لوگ دین کو مختلف شعبوں میں تقسیم کرکے سنت نبوی کی اہمیت کو ختم کرنا چاہیے ہیں او ردین کے حصے بخرے کرناچاہتے ہیں۔ایک مسلمان کو بحیثیت مسلمان کے یہ دیکھنا چاہیے کہ یہ کام آنحضرتﷺ نےکیا ہے یا نہیں۔ اگر کیا ہےتو ہمیں اس پرعمل کرنے میں ذرا بھی پس و پیش نہیں کرنی چاہیے اور اگر نہیں کیا تو اس عمل سے باز رہناچاہیے کیونکہ وہ کام جسے ہم نیکی سمجھ رہے ہیں نیکی نہیں الٹا گناہ ،وبال اور بدعت ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَمَا آَتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(القرآن)

محب السنۃ و صاحبہا حضرت ابن عمرؓ سے محمد بن سیرین نے دریافت کیا حضرت! فرمائیے کیا قربانی واجب ہے؟

آپؐ نے جوجواب دیا آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ فرمایا: ضحیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والمسلمون من بعدہ و جرت به السنة کہ میں فرض واجب کی تقسیم نہیں جانتا مجھے تو اتنا معلوم ہے کہ آنحضرت نے اور آپ کے بعد صحابہ نے قربانی کی۔ (ابن ماجہ حدیث نمبر 3124)

مندرجہ بالا بیان سے قربانی کی اہمیت واضح ہوگئی ہے اس لیے ہرصاحب استطاعت مسلمان کوقربانی ضرور کرنی چاہیے۔

آنحضرتﷺ کاایک اور فرمان ہے۔ آپؐ نے فرمایا: یأیھا الناس إن علی کل أھل بیت في کل عام أضحیة (ترمذی۔ابن ماجہ حدیث نمبر 3125۔ ابوداؤد 2788)

(ترجمہ) ''لوگو! ہر خاندان پر ہر سال قربانی کرنا لازم ہے۔''

صاحب توفیق ہونے کے باوجود قربانی نہ دینے والے کو آنحضرتﷺ نے سخت وعیدفرمائی ہے۔

قربانی نہ کرنےوالوں کے لیے وعید

عن أبي هریرة رضي اللہ عنه أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال من کان له سعة و لم یضح فلایقربن مصلانا (ابن ماجہ حدیث نمبر3123، الترغیب والترہیب ص278، دارقطنی ص445)

(ترجمہ) ''حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جوشخص استطاعت کے ہوتے ہوئے قربانی نہ دے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ پھٹکے۔''

قربانی کی فضیلت

لفظ قربانی مشتق ہے قربان سے جس کی معنی ہیں ما یقصد بہ القرب وہ چیز جس کے ذریعہ کسی کا قرب تلاش کیاجائے۔ قربانی سےچونکہ اللہ کاقرب حاصل ہوتا ہے اس لیےاسے قربانی کہا جاتا ہے ۔خداوند کریم اس عمل پر راضی ہو کر بہت سا ثواب عطا کرتے ہیں اس پر راضی ہوجاتے ہیں اور سارےگناہ معاف فرما دیتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:

ماعمل ابن آدم من عمل یوم النحرأحب إلی اللہ من إھراق الدم وإنه لیأتي یوم القیمة بقرونھاو أشعارھا و أظلافھا وإن الدم لیقع من اللہ بمکان قبل أن یقع بالأرض فطیبوا بھا نفسا (مشکوٰۃ ص128۔ ترمذی۔ ابن ماجہ۔حدیث نمبر 3126)

(ترجمہ) ''قربان کے دن اللہ تعالیٰ کو قربانی سے زیادہ کوئی عمل محبوب نہیں ۔ قربانی کا جانور قیامت کو پنے سینگوں ، بالوں اور کھروں سمیت آئے گا نیز قربانی کاخون زمین پرگرنے سے پہلے ہی اللہ کےنزدیک درجہ قبول کر پہنچ جاتا ہے پس قربانی خوشی سے کرو۔''

قربانی کاثواب

اس عمل سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور اللہ کریم اپنے بندے سے راضی ہوجاتے ہیں احادیث میں قربانی کا بہت ثواب ذکر کیاگیا ہے۔ ایک روایت میں ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے سوال کیا: فمالنا فیھا یارسول اللہ؟ اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے قربانی میں کتنا ثواب ہے؟ فرمایا بکل شعرة حسنة ہربال کے بدلے ایک نیکی۔ صحابہ کرامؓ نے دوبارہ دریافت کیااو راُون؟ (کا کیا حکم ہے) فرمایا اُون کے بھی ہر بال کے بدلے ایک نیکی۔ (مشکوٰۃ ص219۔ ابن ماجہ حدیث نمبر 2137)

آنحضرتﷺ کی قربانی

عن أبي سعید الخدري رضی اللہ عنہ قال ضحیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بکبش أقرن فحیل یأ کل في سوادویمشي في سواد و ینظر في سواد ۔(اخرجہ السنۃ)

(ترجمہ) ''صحابہ رسول حضرت ابوسعیدخدریؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے سینگوں والانر مینڈھا قربانی کیا جس کا منہ، ٹانگیں اور آنکھیں سیاہ تھیں۔''

قربانی کاجانور خوب پالا جائے

قربانی کاجانور تندرست ، طاقتور اور موٹا تازہ ہونا چاہیے۔

قال أبو أمامة بن سھل کنا نسمن الأضحیة بالمدنیة وکان المسلمون یسمنون (بخاری شریف)

(ترجمہ) ''حضرت ابوامامہ فرماتے ہیں کہ مدینہ میں ہم اور دوسرےمسلمان قربانی کے جانوروں کے پال پال کر خوب موٹا کیا کرتے تھے۔''

قربانی کاجانور بے عیب ہونا چاہیے

معیوب جانور کی قربانی صحیح نہیں۔ اس لیے جانور خریدتے وقت اچھی طرح دیکھ لینا چاہیے کہ اس کی آنکھوں میں، کانوں میں، سینگوں میں یا کسی اور عضو میں کوئی عیب تو نہیں؟

عن علي رضی اللہ عنہ قال أمرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم أن نستشرف العین و الأذن وأن لانصحي بمقابلة ولا مدابرة ولا شرقاء ولاخرقاء (رواہ الترمذی و ابوداؤد والنساوی والدارمی ۔مشکوٰۃ ص128)

(ترجمہ) ''حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ کا حکم ہے کہ جانور کی آنکھوں اور کانوں کوخوب غور سے دیکھ لیں (کہ ان میں کوئی عیب تو نہیں او رہمیں اس جانور کی قربانی سے منع فرمایا تھا جس کے کان کا اگلا حصہ ، پچھلا حصہ کٹا ہوا ہویا کان پھٹا ہو یا کان میں سوراخ ہو۔''

حضرت براء بن عازبؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا۔ آپؐ بیان فرمائیں کہ کون کون سے جانور کی قربانی نہ کی جائے تو آپ نے ہاتھ مبارک کے اشارہ سے چار کااشارہ کیا یعنی چار قسم کےجانور کی قربانی نہ کی جائے۔

(1)لنگڑا جس کا لنگڑا پن ظاہر (2) کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو (3) بیمار جس کی بیماری ظاہر (4) کمزور اور بوڑھا جس کی ہڈیوں اور جوڑوں میں گودا اور مغز باقی نہ رہا ہو۔ (ترمذی۔ابوداؤد حدیث نمبر 2802۔ابن ماجہ حدیث نمبر 3144)ابن ماجہ کی ایک روایت میں ناک کٹے جانور کی قربانی سےبھی نہی آئی ہے۔(حدیث نمبر3142)

مقصد یہ کہ کاٹ کٹے، کان پھٹے، کان میں سوراخ والے، دانت کا کچھ حصہ ٹوٹے ہوئے، ناک کٹے، مکمل یاکچھ حصہ دم کٹے یا سینگ کٹے یا سینک ٹوٹے ہوئے جانور کی قربانی صحیح نہیں۔

بعض الناس کہتے ہیں کہ جانور کا سینگ،کان، ناک یادم وغیرہ تہاوی سے کم ٹوٹا ہو تو اس کی قربانی جائز اور صحیح ہے لیکن یاد رہے کہ ان کا یہ مسئلہ من گھڑت غلط اور احادیث صحیحہ کے بالکل خلاف ہے۔حدیث پاک ماحظہ ہو۔

أنه سمع علیا یحدث أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نھی أن یضحي بأعضب القرن والأذن (ابن ماجہ حدیث 3145)

(ترجمہ) ''کہ آنحضرتﷺ نے سینگ ٹوٹے اورکان کٹے جانور کی قربانی سےمنع فرما دیا ہے۔''

(ف) اب اس روایت میں تہائی سے کم وغیرہ کاذکر تک نہیں اورنہ ہی حدیث کی کسی دوسری کتاب میں اس قسم کامسئلہ ہے۔مطلب یہ کہ اگر کان کٹا ہوا ہوخواہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو یا کان میں سوراخ بالکل معمولی بھی ہو تب بھی اس کی قربانی صحیح نہیں۔ اسی طرح سینگ کامعاملہ ہے۔

شعار

شعار علامت کو کہتے ہیں جو جانور حرم میں بھیجے جائیں ان کے لیے آنحضرتﷺ نے علامت مقرر کی تھی کہ ان کی تقلید کی جائے یعنی اس کے گلے میں جوتیوں کا ہار بنا کر ڈالا جائے او راونٹ کی علامت تقلید کےساتھ ساتھ اشعار بھی ہے۔ اشعار کامطلب یہ ہے کہ اس کے پہلو پرچیرادے کر خون پہلو پر مل دیا جائے۔ یہ علامتیں اس لیے مقرر کی گئی ہیں کہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ یہ جانور حرام کے ہیں اور لوگ انہیں کچھ نہ کہیں او رحرم کی طرف ہانک دیں۔ ا ن دونوں باتوں اشعار اور تقلیدکاثبوت احادیث مبارکہ میں ملتا ہے۔

عن عائشة قالت فتلت قلائد ھدي النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثم أشعرھا وقلدھا ثم بعث بھا إلی البیت (بخاری ج1 ص230)

عن عائشة قالت کنت أفتل القلائد للنبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فیقلد الغنم (بخاری)

بعض لوگ اشعار کومثلہ قرار دے کر اس حدیث پرعمل سے فرار کی راہ تلاش کرتے ہیں۔ ان کا اس عمل کو مثلہ قرار دینا صحیح نہیں کیونکہ یہ کام آنحضرتﷺ نےکیاہے۔

خصی جانور کا حکم

جانور کاخصی ہونا کوئی عیب نہیں خود آنحضرتﷺ نے خصی جانور کی قربانی دی ہے۔

عن أبي سلمة عن عائشة و عن أبي هریرةرضی اللہ تعالیٰ عنهما أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کان إذا أراد أن یضحي اشتری کبشین عظیمین سمیتین أقرنین أملحین موجوئین۔ (ابن ماجہ حدیث نمبر 3122۔ ابوداؤد حدیث نمبر 2795)

(ترجمہ) ''اُم المؤمنین حضرت عائشہؓ اور فقیہ اُمت حضرت ابوہریرہؓ سے حضرت ابوسلمہ روایت کرتے ہیں کہ ان دونوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ جب قربانی کاارادہ فرماتے تو دومینڈھے خرید کرتے جو موٹے سینگوں والے، رنگ سیاہی مائل اور خصی ہوتے۔''

(ف) اس روایت میں خصی جانور کی قربانی کا ثبوت ہے اس لیے خصی جانور کی قربانی بلاشک و شبہ صحیح اور درست ہے۔

جانور خریدنے کے بعد اگر عیب پیدا ہوجائے

اگر شریعت مطہرہ کی عائد کردہ شروط کے مطابق بے عیب اور صحیح جانور خریدا گیا او ربعد میں اس کو کسی قسم کا کوئی عیب عارض ہوگیا تو کوئی حرج کی بات نہیں وہی جانور قربانی میں دیاجاسکتا ہے۔

عن أبي سعید الخدری رضی اللہ عنہ قال ابتعنا کبشا نضحي به فأصاب الذئب من إلیته و أذنه النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فأمرنا أن نضحي به (ابن ماجہ حدیث نمبر 3146 باب من اشتری أضحیة صحیحة فأصابھا عندہ شيء و أیضا رواہ النسائي عن زید بن ثابت ج2 ص206)

(ترجمہ) ''حضرت ابوسعیدؓ خدری فرماتے ہیں کہ ہم نے ایک دفعہ قربانی کے لیے جانور خریدا کہ ایک بھیڑیے نے اس کے کان یا سرین کو کاٹ کھایا۔ ہم نے اس کے متعلق آنحضرتﷺ سے دریافت کیا تو اپ نے ہمیں حکم دیا کہ اسے ہی قربان کریں۔''

قربانی کے جانور کی عمر

قربانی کے جانور کی عمر متعین ہےمگر سالوں کے حساب سے نہیں دانتوں کے لحاظ سے۔ فرمان نبویؐ ہے: لاتذبحوا إلامسنة ملاأن یعسر علیکم فتذبحوا جذعة الضان (مسلم۔نسائی ۔ ابن ماجہ حدیث نمبر 3141۔ابوداؤد حدیث نمبر2797)

(ترجمہ ) '' نہ ذبح کرو سوائے مسنّہ کے اگر نہ مل سکے تو پھر بھیڑ کا جذعہ۔''


حوالہ و حاشیہ

۔ رواہ الطبراني في الصغیر والأوسط ولکن فیه فکارۃ 12۔ زبیدی

۔ یادتازہ کرنےکے لیے نہیں بلکہ رب کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے یادتازہ کرنےکا تصور متجددین کا ہے ۔ 12 ۔ زبیدی

۔ بسند ضعیف فیه المجا شعي و نفیع کلاھما ساقط ۔ 12۔زبیدی

۔ بعض بزرگوں کا خیال ہے کہ :یہ تب جائز ہے جب ''ایام قربانی'' میں خریدا جائے، پہلے کے خریدے ہوئے کی بات او رہے۔ ان بزرگوں کے نزدیک قربانی سے پہلے اُون لینے کو صحیح نہیں سمجھا جاتا۔ اگر لے لی جائے تو صدقہ کردینی چاہیے۔تو معلوم ہواکہ یہ چیز فی سبیل اللہ کے کھاتے میں چلی گئی ہے۔

حضورﷺ نے ایک شخص کو ایک دینار دے کر قربانی لینے کو بھیجا۔ اس نے ایک مینڈھا لے کر اسے پھر دو دینار کے عوض فروخت کردیا، پھر ایک دینار کا مینڈھا لیا اور دوسرا دینار حضورﷺ کو واپس کردیا۔ حضورﷺ نے وہ بھی صدقہ کردیا۔

فاشتری أضحیة بدینار فجاء بھا و بالدینار الذي استفضل من الأخری فتصدق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالدینار (رواہ البخاری ، ابوداود والترمذي اللفظ لھما)

[ یہ حدیث صحیح بخاری کی ایک روایت کے ضمن میں موجود ہے لیکن بخاری نے اس کی روایت نہ کی ہے۔ 12 مدیر۔‎]