(1) دلالی:جہانیاں سے مولانا عبدالسلام او رمولانا حافظ عبدالقادر صاحب لکھتے ہیں کہ:

1۔ ہرملک میں دلالی کا جونظام رائج ہے بااجرت یا بلا اجرت وہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

2۔ کیا آڑھتی بھی اس ضمن میں آئے ہیں یا نہیں؟ (مختصراً)

الجواب:

دلالی: احناف کا خیال ہے کہ لوگ اس کے ضرورت مند ہیں لہٰذا جائز ہے، اجرت پر ہو تو وہ متعین ہونی چاہیے۔

سئل عن محمد بن سلمة عن أجرة السمسار فقال أرجوأنه لابأس به وإن کان في الأصل فاسد الکثرة التعامل و کثیر من ھذا غیر جائز فجوزوہ حاجة الناس إلیه کدخول الحمام (رد المختار: ج5 ص53)

اگر فقہاء کا یہ اصول تسلیم کرلیا جائے تو پھر دور حاضر میں شاید ہی کوئی بات ممنوع رہ جائے، کیونکہ اکثر منہیات عام بھی ہیں او رلوگ ان کے ضرورت مندبھی جیسے سودی کاروبار۔

امام نووی نے حضرت امام ابوحنیفہ کا جوقول نقل کیا ہے اس سےمعلوم ہوتا ہ ےکہ ان کے سامنے لوگوں کی ''ضرورت'' نہیں بلکہ اصل جذبہ ''الدین النصیحة'' ہے ،اجرت پر ہو یا بلا اجرت۔

وقال عطاء و مجاہد و أبوحنیفة یجوز بیع الحاضر للبادي مطلقا لحدیث ''الدین النصیحة'' (شرح مسلم :2؍4۔کتاب البیوع)

وبھذا تمسك في جوازہ أبو حنیفة (بدایۃ المجتہد:2؍166)

اگر دلالی بلامعاوضہ ہوتو امام بخاری کے نزدیک بھی جائز ہے ۔ کیونکہ یہ بات ''الدین النصیحة'' کے تحت آجاتی ہے۔

قال ابن المنیر وغیرہ حمل المصنف النھیي(أن یبیع حاضر لباد عن بیع الحاضر للبادي علی معنی خاص وھو البیع بالأجرأ خذا من تفسیرابن عباس و قوي ذلك بعموم أحادیث ''الدین النصیحة'' (فتح الباری:8؍374)

امام بخاری کی بتویب سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

باب ھل یبیع حاضر لباد بعیرأجروھي یعینه أو ینصحه وقال النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إذا استنصح أحدکم أخاہ فلینصح له ورخص فیه عطاء (صحیح بخاری کتاب البیوع:1؍289)

لیکن کتاب الإجارة، باب أجر السمسرة :1؍303 میں دلالی کی اجرت کو جائز قرار دیا ہے۔ قال: ولم یرا بن سیرین و عطاء و إبراهیم والحسن بأجر السمسار بأسا الخ۔

معلوم ہوتا ہےکہ امام بخاری کے نزدیک یہ معروف ''جعلی'' ہے ۔ وہ دلالی نہیں جو لا بیبع حاضر لباد میں ہے۔ اصل میں یہ ایک تکلف ہے ، جوعموم حدیث کے خلاف ہے۔

شوافع کا نظریہ ہے کہ عام ضرورت کی شے کوئی اجنبی دیہاتی لےکرآتا ہے ، شہری اسےکہتا ہے کہ اسے میرے پاس چھوڑ جائیں، بتدریج اسے گراں قیمت پر بیچ کر دوں گا۔

قال أصحابنا والمراد به (أي یتحریم بیع الحاضر للبادي) أن یقدم غریب من البادیة بمتاع تعم الحاجة إلیه یبیعه بسعریومه فیقول له البلدی اترکه عندي لأ بیعه علی التدریج بأغلی(نووی شرح مسلم :2؍4)

صحیح یہ ہے کہ : بطور پیشہ جیسا کچھ یہ نظام دلالی رائج ہوگیا ہے، جائز نہیں ہے ۔ حضور کا ارشاد ہے:

لا یبیع حاضر لباد (مسلم و بخاری وغیرہ)

کوئی شہری دیہاتی کے لیے دلالی نہ کرے۔

حضرت ابن عباسؓ سے کہا گیا کہ ''حاضر لباد'' کا کیا مطلب ہے؟

فرمایا: اس کی دلالی نہ کرے۔

فقلت لابن عباس ما قوله حاضر لباد؟ قال لا یکن له سمسارا (مسلم:2؍4و بخاری ج1 ص303)

امام بخاری اور دوسرے جن ائمہ کے نزدیک اس سےمراد بہ اجرت دلالی ہے۔ ان کی دلیل وہ روایت ہے ، جس کے آخر میں آیا ہے کہ : الا یہ کہ کوئی خیر خواہی کے جذبہ سےکرے۔

فإذا استنصح الرجل فلینصح له (رواه أحمد من طریق عطاء ابن السائب والبیهقي من طریق أبي الزبیر لکن العطاء مختلط و أبا الزبیر مدلس) گو علی الانفرادیہ روایات متکلم فیہ ہیں تاہم بالکلیہ بیکار بھی نہیں ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اس سے دلالی مراد لینا محل نظر ہے، صرف یہ کہ وہ اسے مناسب معلومات مہیاکرنا چاہے، تو کرسکتا ہے۔ اس کا قرینہ وہ روایت ہے جس میں آیا ہے کہ: گو وہ باپ یا بھائی کیوں نہ ہو۔

وإن کان أباہ أوأخاہ (رواہ أبوداود والنسائي) وإن کان أخاہ لأبیه وأمه (بخاری و مسلم عن انس)

ظاہر ہے کہ اگرباپ یا بھائی یا ماں باپ کی طرف سے سگا بھائی ہو تو وہاں معاوضہ کی بات تو نہیں ہوتی لیکن اس کے باوجود فرمایا: اس کی دلالی نہ کی جائے۔

محرک: اسکی اصلی وجہ خود حدیث میں مذکور ہے کہ اجارہ داری کا خاتمہ ہو اور آزادانہ خرید و فروخت ہو تا کہ خلق خدا کو آسانی سے روزی میسر ہو۔

لا یبیع حاضر لباد دعوا الناس یرزق اللہ بعضھم من بعض (مسلم :2؍4)

اگر صاحب مال اپنا مال لے کر خود گاہک سے معاملہ کرے تو بھاؤ اور نرخ میں جو گرامی راہ پاجاتی ہے اس کا یقیناً سدباب ہوجائے۔ قال السندھی۔

وذلك یتضمن الضرر في حق الحاضرین فإنه لوترك البادي لکان عادة باعه رخيصا (حاشیہ نسائی:2؍215)

جب ہر دیہاتی اپنے اپنے گھروں میں گندم، باغ اور دوسرا مال خود بیچ سکتا ہے تو شہر میں جاکر ان کو کیا ہوجاتا ہے،زیادہ سے زیادہ چند دن کی ناتجربہ کاری ہے اور وہ خود گھروں میں بھی برداشت کرلی جاتی ہے۔

دوسرا اسکا سبب '' نجش'' (ایک دوسرے سے بڑھ کر بولی دینا) ہے وہ سچ مچ مسابقت کا نتیجہ ہو یا صرف فریب کا۔ بہرحال یہ دونوں ''دلالی'' کی زمین سے ابھرتے ہیں، اس لیے حضورﷺ نے اس سے بھی روکا ہے، فرمایا:

ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نھی عن النجش (مسلم:2؍3 و بخاری:1؍287)

نجش کے معنی بد نیتی پر مبنی بولی دینا بھی مراد لی جائے توبھی دوسری حدیث سے اس مسابقت او ربڑھ چڑھ کر بولی دینے سے منع آگئی ہے گو وہ صرف لینے کے ارادہ سے بھی ہو۔ فرمایا:

لا یبیع بعضکم علی بیع أخیه(بخاری :1؍287 و مسلم :1؍3 واللفظ للبخاری)

ہاں وہ چھوڑ دے تو اور بات ہے۔

لا یبیع أحدکم علی بیع أخیه حتی یتباع أو یذر (نسائی:2؍215)

ہمارانقطہ نظر یہ ہے کہ اگر ''دلالی'' کی درد سری درمیان سے نکل جائے تو یقیناً اشیاء اس قدر گراں نہ ہوں۔

ہاں بعض استثنائی صورتوں میں، جب کہ اس سے غرض خصوصی اعانت ہو تو اس کے لیے کوئی شخص بولی پر بولی بھی دے سکتا ہے او رکوئی اس کی دلالی بھی کرسکتا ہے، کیونکہ یہاں مقصد کاروبار نہیں اعانت ہے و ایں چیزے دیگرے۔

عن جابر بن عبداللہ بن رجلا أعتق غلاماً له عن وبرفا حتاج فأخذہ النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فقال من یشتریه مني فاشتراہ نعیم بن عبداللہ بکذا وکذا فدفعه إلیه (بخاری:1؍287)

ہم بہرحال اس سسٹم کے قعطاً خلاف ہیں، او رمندرجہ بالا احادیث سے ہمیں یہی بات قرین حکمت نظر آتی ہے کہ: خرید و فروخت کےسلسلے میں جو دلالی راہ پاگئی ہے، وہ ''اثمھما اکبر من نفعھما'' کے قبیل کی چیز ہے۔ خود صحابہ کا یہ تاثر ہے کہ حضورؐ نے ''سمسار '' (دلالی) کے نام کو بدل دیا تھا کیونکہ اسے نیک شہرت حاصل نہیں ہے۔

آڑھتی: آڑھتی اگر اجناس خود خریدتا اور آگے بیچتا ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں، ہاں اگر ''دلالی'' کا ''پیشہ'' بھی اختیارکرتا ہے تو یہ صورت صرف اسی حد تک ناجائز ہے۔ خواہ وہ کمیشن کے نام پر لیں یا چونگی کے نام پر سب دلالی ہے۔

دونوں صورتوں میں ہمارے بعض اہل حدیث علماء کے نزدیک یہ دلالی جائز ہے(فتاویٰ ثنائیہ)

مولانا شرف الدین نے بعض صورتوں میں ان سے اختلاف کیا ہے۔ بانی جماعت اسلامی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے نزدیک بھی ''دلالی'' کی کسی حد تک گنجائش ہے (ملاحظہ ہو رسائل و مسائل) مگر تسامح سے خالی نیں ہے۔ حضرت امام شوکانی کے نزدیک دلالی شرعاً ممنوع ہے۔ خواہ اس کی کوئی صورت ہو۔ وقال۔

وأحادیث الباب تدل علی أنه لا یجوز للحاضرات یبیع للبادي من غیرفرق بین أن یکون البادي قریباً له أواجنبیاً و سواء کان فی زمن الغلاء أولا وسواء کان یحتاج إلیه أھل البلاد امرلاء سواء باعه له علی التدریج أم دفعة واحدة(نیل الاوطار:5؍140)

پھر اسی سلسلے کی تخصیصات کا رد کرتے ہوئے اما م ابن دقیق العبد کا قول نقل کرکے تفصیل سے جواب دیا ے۔

وَلَكِنَّهُ لَا يَطْمَئِنُّ الْخَاطِرُ إلَى التَّخْصِيصِ بِهِ مُطْلَقًا، فَالْبَقَاءُ عَلَى ظَوَاهِرِ النُّصُوصِ هُوَ الْأَوْلَى، فَيَكُونُ بَيْعُ الْحَاضِرِ لِلْبَادِي مُحَرَّمًا عَلَى الْعُمُومِ، وَسَوَاءٌ كَانَ بِأُجْرَةٍ أَمْ لَا؟ وَرُوِيَ عَنْ الْبُخَارِيِّ أَنَّهُ حَمَلَ النَّهْيَ عَلَى الْبَيْعِ بِأُجْرَةٍ لَا بِغَيْرِ أُجْرَةٍ فَإِنَّهُ مِنْ بَابِ النَّصِيحَةِ.... وَيُجَابُ عَنْ تَمَسُّكِهِمْ بِأَحَادِيثِ النَّصِيحَةِ بِأَنَّهَا عَامَّةٌ مُخَصَّصَةٌ بِأَحَادِيثِ الْبَابِ..... ووَعَنْ الْقِيَاسِ بِأَنَّهُ فَاسِدُ الِاعْتِبَارِ لِمُصَادَمَتِهِ النَّصّ، عَلَى أَنَّ أَحَادِيثَ الْبَابِ أَخَصُّ مِنْ الْأَدِلَّةِ الْقَاضِيَةِ بِجَوَازِ التَّوْكِيلِ مُطْلَقًا، فَيُبْنَى الْعَامُّ عَلَى الْخَاصِّ وَاعْلَمْ أَنَّهُ كَمَا لَا يَجُوزُ أَنْ يَبِيعَ الْحَاضِرُ لِلْبَادِي، كَذَلِكَ لَا يَجُوزُ أَنْ يَشْتَرِيَ لَهُ (نیل الاوطار:5؍140) ھذا ماعندي واللہ أعلم و علمه أتم۔

2۔ بھینس کی بھینس یا اس کی قیمت :مولانا حکیم محمد علی سلفی خطیب جامع مسجد اہلحدیث مہمونوالی، پوچھتے ہیں کہ:

مختلف لوگوں کی کچھ بھینسیں چرتے ہوئے باہم لڑپڑیں،مالک چرواہا یہ تماشا دیکھتا رہا۔

آخر ان میں سے ایک بھینس مرگئی ہے۔جس کی بھینس مری ہے، وہ دوسرے سے تاوان مانگتا ہے۔ کیا یہ جائز ہے۔(مختصراً)

الجواب:

مختلف اقوال ملتے ہیں، لیکن راقم الحروف کے نزدیک مختار بات یہ ہے کہ:

اگرمالک چرواہے کی عدم موجودگی یا بے بسی کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا ہے تو معاف ہے۔ مالک اس کا ضامن نہیں ہے، کیونکہ یہ جانور کا فعل ہے مالک کا نہیں ہے۔

عن أبي هریرة رضی اللہ تعالیٰ عنه أن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم قال: العجمآء جبار والبئر جبار والمعدن جبار (بخاري باب المعدن جبار والبئرجبان و في روایة العجمآء عقلھا جبار (بخاري باب العجماء جبار)

یعنی حضور کا ارشادہے کہ:

''بے زبان جانور کا کوئی تاوان نہیں، کان میں کوئی مرجائے تو معاف ہے او رکنوئیں میں گر کر مرجائے توتاوان نہیں۔ ''(بخاری)

ایک اور روایت میں ہے کہ: بے زبان جانور کا خونبہا معاف ہے۔ (بخاری)

اگر مالک نے دانستہ غفلت کی ہے جیسا کہ سوالنامہ میں ہے تو اس صورت میں جانور کامالک او رچرواہاضامن ہے ، تاوان دینا پڑے گا الایہ کہ اسے معاف کردیا جائے! تاوان بھینس کی بھینس یا اس کی قیمت یا جس پر دونوں مفاہمت کرلیں۔

حضرت امام محمد بن سیرین فرماتے ہیں اگر (حادثہ) سوار کے باگ موڑنےکا نتیجہ ہوتا تو صحبہ اس کو ضامن قرا ردیتے تھے۔

ویضمنون عن رد العنان (بخاری باب العجمآء جبار)

حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اگر یہ حادثہ جانور کو چھیڑنے او رانگیخت کرنے کی وجہ سے پیش آیا ہے تو پھر تاوان دینا چاہیے۔

قال حماد:لاتضمن النفحة إلا أن ینخس انسان الدابة (بخاری باب العجمآء جبار)

کیونکہ اب یہ فعل جانور کے بجائے انسان کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ شوافع کا بھی یہی نظریہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ : اگرمالک یا نگران ہمراہ موجود ہے تو اب وہ جانور کے ہرفعل کا ذمہ دار ہے۔

وَقَالَ الشَّافِعِيَّةُ إِذَا كَانَ مَعَ الْبَهِيمَةِ إِنْسَانٌ فَإِنَّهُ يَضْمَنُ مَا أَتْلَفَتْهُ مِنْ نَفْسٍ أَوْ عُضْوٍ أَوْ مَالٍ سَوَاءٌ كَانَ سَائِقًا أَوْ رَاكِبًا أَوْ قَائِدًا سَوَاءٌ كَانَ مَالِكًا أَوْ أَجِيرًا أَوْ مُسْتَأْجِرًا أَوْ مُسْتَعِيرًا أَوْ غَاصِبًا وَسَوَاءٌ أَتْلَفَتْ بِيَدِهَا أَوْ رِجْلِهَا أَوْ ذَنَبِهَا أَوْ رَأْسِهَا وَسَوَاءٌ كَانَ ذَلِكَ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا وَالْحُجَّةُ فِي ذَلِكَ أَنَّ الْإِتْلَافَ لَا فَرْقَ فِيهِ بَيْنَ الْعَمْدِ وَغَيْرِهِ وَمَنْ هُوَ مَعَ الْبَهِيمَةِ حَاكِمٌ عَلَيْهَا فَهِيَ كَالْآلَةِ بِيَدِهِ فَفِعْلُهَا مَنْسُوبٌ إِلَيْهِ سَوَاءٌ حَمَلَهَا عَلَيْهِ أَمْ لَا (فتح الباری:28؍421)

3۔ ٹھیکے پر دینے کا رواج۔ ثلث کذبات۔ جناب پرویز اور مولانا مودودی میں فرق:

(1) بعض دفاتر اور اداروں میں ٹھیکے پرکھوکھے یا دکان کھولنے کا رواج ہے،ٹھیکے کا فیصلہ ہوجانے کے بعد دوسرے کسی شخص کو وہاں دکان کھولنے، کھوکھا یا چھابڑا لگانے کی اجازت نہیں ہوتی شرعاً اس کا کیا حکم ہے۔

(2) صحیح بخاری او رمسلم وغیرہ میں آیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عمر بھر صرف تین جھوٹ بولے تھے، کیا اس سے نبوت پر حرف نہیں آسکتا۔

(3) پرویز صاحب تین جھوٹ والی روایت کر لے کر بخاری اور دوسری حدیثوں کا بڑا مذاق اڑاتے ہیں۔ مولانا مودودی بھی اس حدیث کا انکار کرتے ہیں۔ دونوں میں کیافرق رہا۔

الجواب:

یہ استفتاء رمضان مبارک کے شروع میں آیا تھا مگر لفافہ نگاہ سے اوجھل ہوگیاتھا اسلیےجواب میں جو تاخیر ہوئی اس کے لیےمعذرت خواہ ہوں۔

ٹھیکے کا مروجہ سسٹم: دور جاہلیت میں بھی اس کی ایک ادھوری او ربالکل ابتدائی سی شکل کا ثبوت ملتا ہے، دومۃ الجندل کے دو قبیلوں کلب اور جدیلہ، میں سے جس کا رئیس غالب آجاتا ، وہ اس بازار کا حاکم بھی ہوتا اور خود تاجر بھی او رجب تک اس کا اپنا مال نہ فروخت ہوجاتا دوسرے کسی تاجر کو دوکان لگانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ کتاب الأمکنة والأزمنة)

اسلام چاہتا ہے کہ:کاروبار کے دروازے سب پر یکساں کھلے ہوں اور رزق کے کسی شعبہ پر کسی فرد یاگروپ کی اجارہ داری نہ ہو تاکہ خلق خدا کو بافراغت اور ارزاں روزی میسر ہو، اس لیے احتکار جیسی صورتوں کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں، بازار میں داخل ہونےسے پہلے راستہ میںکسی کاروبار سے مال خرید کر بازار میں من مانے دام کھرے کرنے کی کوشش کرنے کی بھی مذمت کی گئی ہے۔ کیونکہ عوام کی قوت خرید پراس کے غلط اثرات پڑنےکا بھی امکان ہوتا ہے۔

اسلام نے درآمدی اور برآمدی مال پرٹیکس کو پسند نہیں کیا، تاکہ عوام کو ارزاں اور وافر ضروریات زندگی حاصل ہوں۔ گو حضرت عمرؓ نے بعد میں یہ ٹیکس جاری کردیا تھا مگر جوابی کارروائی کے طور پر، کیونکہ غیر مسلم ریاستیں مسلمانوں سے ایسا معاملہ کرتی تھیں۔

بہرحال سوال میں ٹھیکے کی جو شکل بتائی گئی ہے وہ جائز نہیں ہے: حضر ت امام ابن القیم نے اسے ظلم اور رحمت الہٰی کی وسعتوں کے خلاف ایک سازش قرار دیا ہے۔

ومن اتبع الظلم إیجار الحانوت علی الطریق أوفي القریة بأجرة معینة علی أن لا یبیع أحد غیرہ فھذا ظلم حرام .... وھو نوع من أخذ أموال الناس قھرا وأکلھا بالباطل وفاعله قد تحجر واسعا فیخاف علیه أن یحجر اللہ عنه رحمة کما حجر علی الناس فضله و رزقه (الطرق الحکمیۃ ص224)

امام ابن القیم مخصوص اشیا کی رجسٹریشن کو بھی ظلم قرار دیتے ہیں ، کیونکہ اس اجارہ داری سے وہ عام کی جیبوں پر ڈاکے ڈالے گا۔

ومن ذلك أن یلزم الناس أن لا یبیع الطعام أو غیرہ من الأصناف إلاإناس معروفون فلا تباع تلك السلع الالھم ثم یبعیونھا ھم بما یریدون فلا باع غیرھم ذلك منع و عوقب فھذا من البغي في الأرض والفساد والظلم الذي یجس به قطر السماء۔

کذبات ابراہیم علیہ السلام : بظاہر ایسا محوس ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ تھے لیکن حقیقت میں ایسی کوئی بات نہیں تھی۔

(الف) کیونکہ بل فعلہ کبیرھم کہہ کر جھوٹ نہیں بول رہے تھے، بلکہ پجاریوں کو شرمندہ کررہے تھے۔ چنانچہ اس کے بعد آتا ہے:

ثُمَّ نُكِسُوا عَلَى رُؤُوسِهِمْ .. الایۃ (الانبیاء ع5)

(ب) إني سقيم (صفٰت ۔ع3) ''میں بیمار ہوں یا ہونے والا ہوں۔''

یہ بھی جھوٹ نہیں، کیونکہ انہوں نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا بلکہ یہ سن کر الٹے پاؤں مڑ گئے تھے ، ورنہ وہ کہتے کہ آپ تو اچھے بھلے ہیں۔

فتوتوا عنه مدبرين (الصفٰت۔ ع3)

ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ : وہ ایسے بیمار نہ ہوں کہ ان کے ساتھ جابھی نہ سکتے ہوں، تاہم معذرت محض تصنع او رتکلف والی بات نہیں تھی۔

(ج) قال: أختي(بخاری و مسلم) ظالم بادشاہ نے پوچھا کہ عورت جو آ پ کے ہمراہ ہے، کون ہے؟ اس پر وہ بولے : یہ میری بہن ہے۔

اعتراض کا سب سےبڑا زور اسی بات پر ہے،معترض کہتے ہیں کہ: جب فرعون کی نیت خراب تھی تو بہن یا بیوی کہنا اس کے لیے یکساں بات تھی اس سےمعلوم ہوا کہ حدیث ناقابل اعتبار ہے۔

جن حضرات نے اس روایت کی صحت کا انکار کیا ہے ان سب نے اسی ''أختي'' کو اپنا ہدف بنایا ہے، علامہ رازی ہوں یا ابوالکلام، مولانامودودی ہوں یادوسرے لوگ۔

واقعہ یہ ہے کہ: انہوں نے لفظوں کے ہیر پھیر میں وقت ضائع کیا ہے۔ ''أختي'' (میری بہن ہے) کہنے کا پس منظر وہ نہیں ہے جو ان بزرگوں نے تصور کیا ہے۔یہ تو ٹھیک ہے کہ دنیا میں کسی بھی زمانہ میں او رکسی بھی ملک کے دستور میں ایسی کوئی شق نہیں ہے کہ : بہن کے بھائی کی تو جان بخشی ہوجائے لیکن بیوی کے شوہر کی گردن اتار دی جائے۔ ہم بھی اس حد تک ان کے ساتھ ہیں،اصل میں یہ بات ''آئینی او راخلاقی '' نہیں ہے بلکہ یہ پہلو نفسیاتی اور بدوں کی بدحکمت عملی کا ہے۔ بھائی سے بہن چھین لیناگو مشکل ہے تاہم اگر چھین کر لڑکی کو راضی کرلیاجائے تو بات بن جاتی ہے لیکن شوہر کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔شوہر والی بیوی کو بطور داشتہ رکھ لینا تو ممکن ہے لیکن اسے اپنے ''حرم'' میں داخل کرنا بالکل انہونی بات ہے۔ اس لیے عموماً ہوتا یہ ہےکہ :شوہر کو قتل کرکے بیوی کو فارغ کرلیاجاتاہے، پھر اسے اپنے حرم میں داخل کرلیا جاتا ہے ، کیونکہ اب اور کوئی ہیچ باقی نہیں رہتی اور یہ وہ حقائق ہیں جو عموماً شب و روز دیکھنے میں آتے رہتے ہیں کہ مطلوبہ عورت کو حاصل کرنےکے لیے راستہ کے اس گراں پتھر کو ہٹایاجاتا ہے لیکن بہن کے بھائی کے ساتھ یہ معاملہ بہت شاذو نادر ہی پیش اتا ہے۔ بس حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سامنے بھی اس قماش کے آدمیوں کی یہی بدحکمت عملی اور نفسیات تھیں کہ: ان کو قتل کرکے سارہ پرقبضہ نہ کرلے۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس موقع پر سارہ سے یہ الفاظ کہے کہ:

إن یعلم أنك امرأتي یغلبني علیك (فتح الباری :13؍233)

اس لیے فرمایا کہ : یہ تو میری بہن ہے۔ بیوی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ دینی بہن بھی ہوتی ہے: انما المؤمنون اخوۃ (قرآن) جو بہن بھائی پر حرام ہوتی ہے وہ دینی بہن نہیں ہوتی رشتہ کی بہن ہوتی ہے اس لیے جھوٹ یہ بھی نہ رہا۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی اس جبار کا ارادہ اس کو اپنے حرم میں داخل کرنے کا تھا یا صرف وقت پاس کرنے کا؟ سو روایات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اسے اپنا کر اپنے حرم میں لابسانے کا تھا۔کیونکہ جن صلاح کاروں نے اس کو اس طرف توجہ دلائی تھی، انہوں نےان سے کہا تھا کہ: وہ صرف آپ کےلائق ہے۔

فقال لقدم قدم أرضك امرأة لا ینبغي أن تکون إلالك (فتح الباری من روایۃ ہشام بن حسان :13؍233)

یہ اور بات تھی کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کچھ اور تھی ، تاہم وہ حضرت سارہ کے پاکیزہ حسن و جمال سے اس قدر متاثر ہوگیا تھا کہ : اس نے یہ کہہ کر حضرت ہاجرہ ؓ کو ان کی خدمت کے لیے بطور ہدیہ پیش کیا تھاکہ : یہ اپنا آپ کرے سجتا نہیں۔

قال إن ھذہ لا تصلح أن تخدم نفسھا (فتح الباری:13؍233)

پرویز اور مولانا مودودی : دونوں میں بڑا فرق ہے:

پرویز صاحب : جناب پرویز کو ان کے اشتہاروں کے آئینہ میں دیکھنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، ان کو ان کے لٹریچر ،تالیفات اور ان کے سرکاری آرگن طلوع اسلام کے اوراق میں تلاش کیجئے!

یقین کیجئے! ان کا لٹریچر صرف ''سنت رسول اللہﷺ کی شرعی حیثیت کامنکر نہیں بلکہ وہ الحاد و زندقہ کے دنگل میں بھولو پہلوان کی حیثیت رکھتا ہے۔ یعنی پرویز صاحب کے ہاں انکار حدیث سے اصل مقصود اسلام میں قرآن کے نام پر نئے دین کی ترویج ہے جس کے لیے رسول اکرمﷺ سے لے کر زمانہ حال تک کےمعمول بہ اسلام او رمسلمان رہنماؤں کے افکار سے نفرت دلاکر مرکز ملت کی نئی بنیاد پر حکومتی مذہب کی دعوت ان کا پہلا تمہیدی مرحلہ ہے۔

ان کا ''مرکز ملت'' دراصل شاہی پاپائیت او رہرہمنیت کی قسم کی ایک شے ہے جس میں قرآن کےمفہوم کی حتمی تعبیر کاحق صرف اسلامی جمہوریہ کے سربراہ کو دینے کی کوشش کی جارہی ہے، چونکہ موصوف سرکاری ملازمت کے اونچے منصب پر فائز رہے ہیں او رسربراہوں سے ان کا خصوصی تعلق بھی رہا ہے، اس لیے اگر موصوف ایسی باتیں کرتے ہیں تو غیر متوقع بات نہیں ہے، لیکن افسوس اس امر کا ہے کہ: علمائے حق کے جائز مقام اور منصب کو پاپائیت او ربرہمنیت سے تعبیر کرکے ان کو بدنام کرنے کے لیے خون پسینہ ایک کررہے ہیں مگراپنی حالت یہ ہے کہ : ''مرکز ملت کے نام پر'' پر ''دینی تعبیر'' کی اجارہ داری کے لیے خود ایک پوپ او ربرہم کا صنم تراشنے میں مصروف ہیں۔ اس لیے وہ علم کے بجائے عموماً داؤ پیچ سے لیس ہوکر آگے بڑھتے ہیں۔ باب حدیث میں تشکیک ، تضحیک او رجارحیت کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں مگر بایں ہمہ قرآنی فکر اور قرآن دانی کے واحد اجارہ داربھی بنتے ہیں او ربلا استثناء تمام احادیث او رحاملین سنت کے ایک بے خبر مگر بے درد محاسب اور نقاد بھی ہیں۔اس سلسلے میں ان کی لن ترانیاں تعلیاں اور پھبتیاں نخروں کی حد تک بڑھ گئی ہیں، اور جتنا سوچتے ہیں اس میں تعمیر سے زیادہ تخریب کا پہلو غالب رہتا ہے۔ جدلی رنگ کے مغالطات اور وساوس کی دھاک بٹھاتے چلے جاتے ہیں۔ امید ہے کہ آپ نے طلوع اسلام او ران کا دوسرا لٹریچر پڑھ کر یہ محسوس کیا ہوگا کہ جب وہ ملت اسلامیہ کی تاریخ او رماضی کی طرف بڑھتے ہیں تو جارحانہ شان سے بڑھتے ہیں او رپورے سرمایہ حدیث کو اضحوکہ روزگار بنا کر دم لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جناب پرویز علی الانفراد احادیث کے جزوی کمزور نمونے دکھا کر ساری احادیث کوٹھکراتے ہیں۔

ان کی تکنیک یہ ہے کہ:ایک حدیث لے کر اس کامذاق اڑاتے ہیں او رپھر کہتے ہیں کہ:

اب کوئی کیسے احادیث پر اعتماد کرے۔

یعنی چونکہ یہ حدیث ضعیف ہے لہٰذا ساری حدیثیں ضعیف او رناقابل ہیں۔ چہ خوب!

مولانا مودودی: اس کے برعکس مولانا مودودی سنت کو شریعت کا دوسرا مآخذ تصور کرتے ہیں اور جن احادیث پر انہوں نے نقد و جرح کی ہے ان روایات کے ذریعے سارے ذخیرہ احادیث کورد نہیں کرتے۔ اصل میں مولانا پر جواعتراض کیاجاتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ احادیث کےسلسلے میں روایت اسنادی کے ساتھ درایت معنوی سےبھی کام لیتے ہیں، بعض احادیث کا رد محض اس لیےکرتے ہیں کہ وہ ماہر عالم دین کے ذوق سلیم کے خلاف ہوتی ہے اور بعض صرف اس لیے قبول کرلیتے ہیں کہ ان کے نزدیک وہ فقہی درایت کے موافق ہوتی ہے لیکن ہمارے نزدیک ع ایں چیزے دیگرے!......

مگر اس کے باوجود ہم اس سلسلے میں مولانا سے علی الاطلاق اتفاق نہیں کرسکتے لیکن ان کو جناب پرویز کی صف میں کھڑا کرنے کو بھی بڑی زیادتی تصور کرتے ہیں۔

جزوی طور پر بعض احادیث کا رد، خود بعض فقہاء کا معمول چلا آرہا ہے ، لیکن اتنی سی بات کی وجہ سے ان کو منکرین حدیث کے زمرہ میں کسی نے شمار نہیں کیا، یہاں بعض احادیث کا انکار اس لیےنہیں کیا جاتا کہ وہ ''حجیت حدیث'' کے منکر ہیں بلکہ اس کو حجت ماننے کے باوجود اپنی تحقیق کی حد تک جزوری طور پر بعض اندرونی یا بیرونی قرائن کی بنا پر بعض روایات کی صحت سے انکار کرتے ہیں۔

مولاناگو آزاد حنفی ہیں مگر حنفی مسلک کی بعض باتیں ان میں راسخ بھی ہیں، درایت کا یہ پہلو بھی انہی سے ماخوذ ہے۔ ہمارےنزدیک اس کاسب سے بڑا مآخذ طحاوی کی شرح معانی الآثار ہے کہ مختلف احادیث بیان کرکے دونوں کے مابین محاکمہ عموماً فقہی درایت سے کرتے ہیں یا ان حنفی بزرگوں کےطرز عمل سے غیر شعوری طور پر متاثر ہیں جو اعتزال کی طرف مائل ہیں یا اپنے دور کے فلسفہ کے صید زبوں ہوتے ہیں جیسے امام رازی کا حال ہے۔

مولانا حدیث کے معاملے میں اس حد تک دلچسپی رکھتے ہیں او راس کے مقام رفیع سے اس قدر متاثر ہیں کہ :ایک دفعہ راقم الحروف نے ان سے کہا تھا کہ: تفہیم القرآن کی طرح اگر تفہیم حدیث کے لیے تفہیم الحدیث بھی لکھ دیں تو کیا ہی اچھا ہو۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا تھا۔

بھئی! اس کے لیے مجھے دس گنا طاقت اور وسائل درکار ہیں جن کی اب مجھ میں ہمت نہیں رہی بلکہ ایک دفعہ انہوں نے اپنے کتب خانہ سے اپنی ذاتی ابوداؤد نکال کردکھائی تھی جس پر انہوں نے کچھ نوٹ لکھے تھے۔ مجھ سے فرمایا تھا کہ اگر حدیث پرکام کرنا ہے تو ان لائنوں پرکریں یا اس کو آگے بڑھائیں۔ ایسی باتیں وہ شخص نہیں کہ سکتا جس کو احادیث پر اعتماد نہ ہو۔ ہاں ایسے شخص کی جزوی تحقیق سے تو ا|ختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن اس کو عدم حجیت حدیث کا قائل گرداننا یا جناب پرویز کے پلڑے میں ان کوڈالنے کی کوشش کرنا ہمارے نزدیک علم اور انصاف کی بات نہیں ۔ اس سلسلے میں ان کی جو خدمات ہیں یہ ان سے اغماض کرنے والی بات ہے۔