عن شداد بن أوس رضی اللہ تعالیٰ عنه قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم الکیس من دان نفسه و عمل لما بعد الموت والعاجز من اتبع نفسه ھواھا وتمنیٰ علی اللہ (ترمذی)

کام بھونڈے امیدیں نیک : رسول پاک ﷺ کا ارشاد ہے کہ:

دانا وہ ہے جس نےاپنے نفس کو (خدا کا )غلام بنایا اور آخرت کے لیے عمل کیے او راحمق وہ ہے جس نے اپنے نفس کو اپنے نفس کی (بےلگام) خواہش کے پیچھے ڈال دیا اورغلام بنادیا اور خدا تعالیٰ سےنیک امیدیں رکھیں۔

غور فرماویے! یہ کس قدر گھٹیاذہن ہے کہ : خدا کی نافرمانیوں کے باوجود، خدا سے یہ توقع کرنا کہ وہ وہاں بھی مجھ سے میری حسب خواہش معاملہ کرے گا،حالانکہ حضور کا ارشاد ہے کہ حق تعالیٰ سب سے زیادہ غیور ہے بدعملی اور پھر یہ بے خوفی؟ بہت بڑی نادانی ہے۔ حضور کا ارشاد ہے کہ :نیک کام کرو بھی اور ڈرو بھی۔

ألافاعملوا وأنتم من اللہ علی حذر (رواہ الشافعی)

حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ:

میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کا مطلب پوچھا۔

الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ(سورہ مومنون ع4)

''اور جو لوگ دیتے ہیں، جو دیتے ہیں او ران کے دل کانپتے ہیں۔''

کہ کہا یہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے اور چوریاں کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: اے صدیق کی بیٹی! یہ بات نہیں بلکہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو نماسیں پڑھتے، روزے رکھتے اور صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور اس بات سے ڈرتے بھی ہیں کہ کہیں وہ رد نہ ہوجائیں۔

قالت سألت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم عن ھذہ الایة:الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ(مومنون ع4) أھم الذین یشربون الخمر و یسرقون؟ قال قال یا ابنة الصدیق ولکنھم الذین یصومون ویصلون و یتصدقون وھم یخافون أن لا یقبل منھم أولئك الذین یسارعون في الخیرات (ترمذی)

الغرض! نیک عملی کے باوجود خدا سے ڈرتے رہنا چاہیے کہ خدا جانے وہاں قبول ہو یا نہ؟ چہ جائیکہ کام بد کیے جائیں او ربے خوف ہوکر الٹا خدا سےنیک توقعات بھی قائم کی جائیں۔

2۔ عن أبي هریرة رضي اللہ تعالیٰ عنه قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لا تقوم الساعة حتی یحسر الفرات عن جبل من ذھب یقتتل الناس علیه فیقتل من کل مائة تسعُ و تسعون و یقول کل رجل لعلي أکون أنا الذي أنجو (مسلم)

وہ میں ہی ہوں گا جو بچ جائے گا: فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی مگر جب سونےچاندی کےپہاڑ فرات سے نمودار ہوں گے، جس پر لوگوں میں باہم لڑائی ہوگی تو ان میں سے ننانوے فیصد قتل ہوجائے گی اور ہرایک یہی دل میں فرض کرے گا کہ وہ میں ہی ہوں گا جوبچ جائے گا۔

یہ وہ خوش فہمی ہے جس کی بنا پر جھگڑا او رلالچ طول پکڑتا اور ہولناک نتائج پرمنتج ہوتا ہے۔ جو بھی شخص آستین چڑھا کر لڑنے کو میدان میں اتر پڑتے ہیں ان میں سے ہرایک یہی تصور کرتا ہے کہ اس کا مخالف ہی تباہ ہوگامگر حال سب کا بالآخر ایک سا ہوتا ہے۔

عن ابن عباس قال لما قدم أھل نجران من النصاریٰ علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أتتھم أحبار یهود فتنازعوا عند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فقال رافع بن حرملة ما أنتم علی شيء فکفر بعیسی وبالإنجیل وقال رجل من أھل نجران من النصاریٰ للیهود : ما أنتم علی شيء وجحد نبوة موسیٰ و کفر بالتوارة فأنزل اللہ في ذلك من قولھما (وقالت اليهود ليست النصارى على شيء الایة (رواہ محمد بن اسحاق ۔ابن کثیر)

تم کچھ نہیں: حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نجران کے عیسائی حضور ﷺ کی خدمت میں آئے (یہ دیکھ کر) یہودی علماء (بھی) ان کے پاس آگئے اور آکر حضورﷺ کی موجودگی میں باہم جھگڑے، چنانچہ رافع بن حرملہ (یہود ی سے) کہاکہ: تم کچھ بھی نہیں، پھر اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام او رانجیل کا انکار کیا (پھر) نجران کے ایک عیسائی نے (جواباً) یہود سے کہا کہ : تم (بھی) کچھ نہیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت اور تورات کا انکار کیا، اس پراللہ نے یہ آیت نازل کی وقالت الیهود ....الایۃ۔

بنیادی حیثیت اس دین کی ہوتی ہے جس پرلوگ ایمان لاتے ہیں، بعد میں جو ذیلی حلقے بن جاتے ہیں وہ دین نہیں ہوتے صر ف ایک اسلوب مطالعہ اور امور دین کے سلسلہ میں ایک مخلصانہ زاویہ نگاہ کی بات ہوتی ہے، لیکن جب ذیلی حلقوں کے مدعی اپنے اپنے زاویہ نگاہ پر اصرار شروع کردیتے ہیں تو اس وقت ان کی عصبیت اتنی شدید ہوجاتی ہے کہ اختلاف رائے کابرداشت کرنا ان کے لیےمشکل ہوجاتا ہے۔ مگر خود اس دین کے بارے میں جن پران کا ایمان ہوتا ہے ان کےاحساسات میں وہ حرارت باقی نہیں ہوتی، جو ایک ذیلی او رنجی حلقے کی حیثیت سے اپنے پرائیویٹ حلقے کے بارے میں وہ رکھت ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے عموماً دیکھا ہوگا کہ جو لوگ اسلامی احکام کی دھجیاں بکھیرتے ہیں قرآن و سنت کے احکام کی خلاف ورزی کرنےمیں حد درجہ کے بیدرد واقع ہوتے ہیں، اسلامی اعمال اور اخلاق کا عملاً یا قولاً مذاق اُڑاتے ہیں ۔ فرقہ وارانہ ذہنیت رکھنے والے لوگ ان کو کچھ بھی نہیں کہتے، نہ ان سے علیک سلیک میں کوئی فرق آتا ہے، رشتے ناطے ہوں یا ایک دوسرے کی تقریبات میں شمولیت کا معالہ ہو، سب کچھ گوارا کرلیتے ہیں، کوئی سُود خوار ہو تو کوئی پرواہ نہیں۔ کوئی بلانوش ہو تو کوئی بات نہیں، کوئی ظالم ہے تو کچھ حرج نہیں، کوئی بدزبان ہے تو سب خیر ہے۔ ڈاڑھی منڈواتا ہے تو کچھ نیں بگڑتا۔مغرب تہذیب پرجان چھڑکتا ہے تو سب خیر ہے۔ یہ باتیں صرف اس لیے پیدا ہوگئی ہیں کہ انہوں نے نجی زاویہ نگاہ او رحلقوں کو دین تصور کرلیا ہے اور جو دین تھااس کو ایک''پرائیویٹ '' ضرورت تصور کرلیا ہے۔ إنا للہ وإنا إلیه راجعون۔

بہرحال ہمارا سرکاری او ربنیادی دین، دین اسلام ہے، اس کے تحت جو مختلف مکاتیب پیداہوگئے ہیں ان کی حیثیت نجی او رپرائیویٹ کی ہے۔ پہلے پر اصرار اور تعصب عین دین ہے دوسرے کامعاملہ یہ نہیں ہے، اپنی پرائیویٹ فکر، نجی زاویہ نگاہ اور اس کی تخلیقات ، دوسرے کے سامنے آپ پیش تو کرسکتے ہیں کہ یہ بات مجھے یوں صحیح معلوم ہوتا ہے.... اگر کوئی طبقہ اس پراصرار کرتا ہے تو ہمارے نزدیک وہ یہودی مکتب فکر کی صدائے باز گشت ہے یا عیسائیوں کی لن ترانیاں مسلمانی نہیں ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سچ فرمایا تھاکہ:

تم (آخر) پہلی امتوں کی راہ پر ہو لو گے، اگر وہ کسی تنگ سوراخ میں جا گھسیں گے تو تم بھی اس میں اس کے پیچھے ہولو گے۔ فرمایا:

لتتبعن سنن من قبلکم شبرا بشبر ذراعا بذراع حتی لو دخلوا حجر ضب بتعتموھم قیل یارسول اللہ الیهود والنصاریٰ؟ قال فمن؟ (بخاری مسلم۔ عن ابی سعید)

فرقہ بندی کے سلسلے کی خوش فہمیوں نے بڑا گھپلا ڈالا ہے، ان کی وجہ سے اسلام جیسی حقیقت کبریٰ پرائیویٹ شے بن کر رہ گئی ہے او رجو پرائیویٹ حلقے ہیں وہ سرکاری او ربنیادی دین بن گئے ہیں، اس لیے اسلام او راسلامی اعمال کے سلسلے میں احساسات خاصے سرد او رپرائیویٹ مدرسہ فکر کے بارے میں خاصے گرم پائے جاتے ہیں او ریہ وہ فتنہ ہے جو فرقہ بندی کی سنگینی کے لیے بہت بڑاگواہ اور عادل شاہد ہے۔