1۔﴿ فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا﴾ (پ9۔ اعراف ع21)

یہ گناہ تو ہمارا معاف ہو ہی جائے گا: (ترجمہ) ''پھر ان کے بعدایسے ناخلف (ان کے) جانشین ہوئےکہ (وہ بڑوں کی جگہ)کتاب (تورات) کے وارث (تو) بنے (مگر آیات فروشی کے عوض ان کو) اس دنیائے دوں کی (کوئی) چیز (مل جائے تو)لے لیتے ہیں او رکہتے ہیں کہ یہ گناہ تو ہمارامعاف ہوہی جائے گا اور اگر اسی طرح کی کوئی چیز (پھر) ان کے سامنے آجائے تو اسے(بھی )لے کر رہیں۔''

نیک اوربھلے خانوادوں میں بالخصوص اور عوام میں بالعموم یہ مرض عام ہوتا ہے او ریہ بول بولتے نہیں تھکتے کہ خدا رحیم و کریم او رقدردان ہے، بخش ہی دے گا۔ انسان گناہوں کا پتلا ہے، غلطیاں ہوہی جاتی ہیں۔ رب کی ذات کی رحمت کاتو کوئی کنارہ نہیں، اس کی رحمت کےمقابلے میں ان گناہوں کی کیا حیثیت ہے۔

وان یاتھم عرض مثلہ اس لیے کہا ہے کہ انہوں نے ایک دفعہ جو کچھ لیا ہے وہ یونہی اتفاقات کی بات نہیں ہے بلکہ یہ ان کی طبیعت بن گئی ہے۔ اگر مکرر ان کومل جائے تو بھی ان کو اس کے لینے میں دریغ نہیں ہوگا۔

اصل میں جب ایک انسان کے دماغ میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ : جو کچھ اس سے نافرمانی ہوتی ہے، وہ ایک معمولی سی با ت ہے۔ خدا کوئی تھوڑے دل والی ذات نہیں ہے کہ بس اسے لے کر بیٹھ جائے گا تو اس وقت ایسے انسان پرگناہوں کے دروازے چوپٹ کھل جاتے ہیں، بڑے سے بڑے گناہ پر بھی دل میں اس کو احساس زیاں کی کسک محسوس نہیں ہوتی۔ جو لوگ اس مرحلہ پر صورت حال کی سنگینی کا احساس نہیں کرتے، ان کا اخروی مستقبل تو بالخصوص خطرے میں پڑ جاتا ہے۔

2۔ قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا (103) الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا (پ16۔ کہف ع12)

جن کی ساری دوڑ دنیا کے لیے رہی: (ترجمہ) '' آپ (ان سے)کہہ دیں کہ کہو تو ہم تمہیں وہ لوگ بتائیں جو اعمال کے اعتبار سے بڑے گھاٹے میں ہیں (ہاں تو یہ) وہ لوگ ہیں جن کی (ساری)کوشش دنیوی زندگی میں صرف ہوگئی اور وہ اس خوشی فہمی میں رہے کہ بڑے اچھے کام کررہے ہیں۔''

دنیا او ردنیا کمانا، کوئی بُرا کام نہیں،پر اس سارے دھندے کی غرض و غایت اگر یہ ہوکہ: کھائے تاکہ اس کا گائے تو پھر دنیا اور اس کا کمانا سب عبادت اگر اس کے بجائے اس کے سوچنے کا انداز یا انداز زیست کچھ ایسا ہو کہ :جیسے تاکہ کھائے، تو یہ صرف معصیت نہیں بلکہ انسانیت کو حیوان بنانے کی ایک مذموم کوشش بھی ہے۔

جن لوگوں کی ساری مساعی او رکاوشوں کامدعا اولاً، اور آخراً یہی دنیا، نام و نمود، اونچے اونچے منصب، عظیم صنائع، سیاسی معراج، معاشی ترقیاں او رمادی محظوظات اور لذائذ رہے، انکی اخروی محرومیوں ، دل دہلا دینے والی انجام او ربدنصیبوں کا اندازہ کرنا کچھ زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔

 وَقَالَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّهِ وَأَحِبَّاؤُهُ  (پ6 ۔ مائدہ ع3)

ہم خدا کے چہیتے ہیں: (ترجمہ) ''اور یہود اور نصاریٰ (اپنی اپنی جگہ) دعوے سے کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے او رچہیتے ہیں۔''

جب کسی قوم یا معاشرے میں یہ غلط فہمی جڑ پکڑ جاتی ہے وہ اپنے حال اور قال پرنظرثانی کرنے کی توفیق سے محروم ہی ہوجاتی ہے اس لیے وہاں جاکر دم لیتی ہے جہاں اس کوبچانے کے لیے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سرتوڑ کوشش کرتے آئے ہیں۔ غور فرمایے! ان کے کرتوت تو وہ جن کا رونا سب روتے ہیں مگر دعوے یہ کہ: ہم ہی خدائی شہزادے ہیں۔ انا للہ۔

وَقَالُوا لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَى(پ1۔ بقرہ ع14)

بہشت کی اجارہ داری: (ترجمہ) ''اور وہ کہتے ہیں کہ جنت میں یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا اور کوئی داخل نہیں ہوگا۔''

یہ فرقہ وارانہ ذہنیت کا کرشمہ ہے کہ : وہ ہزار ہا حماقتوں او رناکردنیوں کے باوجود محض اپنے فرقہ کا یہ خاصہ سمجھتے ہیں کہ : اس سے جو نسبت حاصل ہے، نجات اوربہشت کے لیے وہ کافی ہے او رجو اس سے باہر ہیں وہ راندہ درگاہ ہیں۔ یہ خوش فہمیاں صرف پہلے کی باتیں نہیں، آج بھی یہی ذہنیت کارفرما ہے۔ ایک انسان جب اپنے گرد اس قسم کی ذہنیت کا حصار اوردائرہ کھینچ کر بےفکری کی نیند سو جاتا ہے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی کو غیرمحفوظ بنا لیتا ہے، بلکہ وہ اس فرقہ اور مذہب کی بدنامی کاموجب بھی بن جاتا ہے۔معاف کیجئے! اگر ہم یہ کہیں کہ آج کل ہمارے کلامی اور فقہی اسلوب کے جو فرقے اپنے اپنے تشخص کے لیے اصرار کررہے ہیں وہ یہود و نصاریٰ سے کچھ زادہ مختلف نہیں رہے۔ إلاماشاء اللہ وإن ھم إلاقلیل تو اس میں مبالغہ نہیں ہوگا۔

اصل بات''نسبت'' کی نہیں، ایمان او رعمل صالح کی ہے اگر یہ نہیں ہیں تو پھر نسبت کچھ کام نہ آئے گی۔ اگر ان میں جان ہے تو نسبت بھی سونے پرسہاگہ ثابت ہوگی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔

5وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اللَّهِ (پ11۔ یونس ع2)

جھوٹے سہارے : (ترجمہ) ''اور وہ خدا کے سوا کئی ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ تو ان کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور نہ ان کو نفع ہی پہنچا سکتی ہے او ر وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔''

یہ ایک اور خوش فہمی ہے جس نے کم فہم لوگوں کو بے جاتوقعات کے نشہ میں مدہوش کردیا ہے، بلکہ ان جھوٹے سہاروں کی بنا پر کدا کو درمیان سے اٹھا ہی دیا ہے اور وہ اب ان مجازی معبودان باطل کی دلجوئی میں مستغرق ہیں۔ سمجھتے ہیں کہ اگریہ راضی ہوگئے تو پھر خدا کی کیا مجال کہ ہمیں معاف نہ کرے۔

شفاعت گنہگاروں کی ہے لیکن ان کی نہیں جو شفاعت کے سہارے گناہ کرتے اور فکری و عملی گمراہیوں کی راہیں ہموار کرتے رہتے ہیں۔ گناہ گار تو وہ ہے جس سے گناہ ہوجاتے ہیں، وہ تو خدا کا باغی او رگستاخ ہے جو سفارشیوں کےسہارے خدا کے حضور بے ادب ہوجاتا ہے، اس کےمعنی تو یہ ہوئے کہ زبان حال سے وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ میرے فلاں سفارشی کے ہوتے تو میرا کیا بگاڑلے گا۔ العیاذ باللہ۔

پرستش عام ہے روحانی ہو یا سیاسی اور معاشی ،مفاد کے لالچ کا نتیجہ ہو، بہرحال خدا کے مقابلے میں یہ سب بے حقیقت ہیں، ان کانفع و ضرر سطحی اور ناپائیدار ہے، اس لیے ان جھوٹے سہاروں کی بنا پر خدا کی نافرمانیاں خطرناک ہیں اور بہت سنگین۔

الغرض، حسن عمل کے ساتھ خدا سے حسین توقعات رکھنا مبارک ہے، لیکن بدعلمی اور بے ایمانی، کتاب و سنت سے انحراف اور سیئات میں استغراق کے باوجود یہ ''خوش فہمیاں'' فریب نفس سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں۔