علوم القرآن اور اصول تفسیر : مولانا محمد تقی عثمانی

صفحات : 510

قیمت : 27 روپے

پتہ : مکتبہ دارالعلوم۔ کراچی نمبر 14

مولانا عثمانی معروف اہل قلم اور عالم دین ہیں، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع مرحوم کے صاحبزادے ہیں۔ الولد سولابیہ، باپ کی طرح علم و قلم میں جہاں گہرائی اور گیرائی رکھتے ہیں وہاں کافی حد تک محتاط بھی لکھتے ہیں۔

زیر تبصرہ کتاب ''علوم القرآن اور اصول تفسیر'' مولانا موصوف کی تازہ تصنیف ہے، اس میں انہوں نےقرآن حمید اور اس سلسلے کے دوسرے اہم موضوعات سے تفصیل او رمحققانہ بحث کی ہے۔

اس کے دو حصے ہیں، پہلے حصے میں آٹھ ابواب ہیں، باب اوّل تعارف، دوم تاریخ نزول قرآن ، سوم قرآن کے سات حروف، چہارم ناسخ و منسوخ، پنجم تاریخ حفاظت قرآن، ششم حفاظت قرآن سے متعلق شبہات اور ان کاجواب،ہفتم حقانیت قرآن، ہشتم مضامین قرآن۔

حصہ دوم میں کل چار باب ہیں، باب اوّل علم تفسیر اور اس کے مآخذ، دوم تفسیر کے ناقابل اعتبار مآخذ، سوم تفسیر کے چند ضروری اصول ، چہارم قرون اولیٰ کے بعض مفسرین۔

دونوں حصوں میں ہر باب کے نیچے متعدد عنوان ہیں جن کے تحت نہایت عالمانہ اور بصیرت افروز مباحث ملتے ہیں۔

قرآن حمید اور قرآن پاک کے ماہر علمائے کرام کے سلسلے کےبعض اعتراضات کےجو جوابات دیئےگئے ہیں وہ شافی اور خاصے فاضلانہ ہیں۔ خاص کر تفسیر قرآن کے بعض ناقابل اعتبار مآخذ کی جو تفصیل پیش کی گئی ہے اس کا مطالعہ بھی نہایت بصیرت افروز ہے۔

''تفسیر کے چند ضروری اصول'' کےعنوان کے تحت تفہیم قرآن کے لیے بعض بنیادی اصولوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جوعموماً جمہور کے نقطہ نظر کے مطابق ہیں۔ گو بعض مباحث سے اختلاف ہی گنجائش موجود ہے تاہم مجموعی لحاظ سے کتاب کا مواد نہایت احتیاط سےمرتب کیا گیاہے اور خاصا محققانہ ہے۔ حقیقت اور مجاز کے سلسلے میں ترجمان القرآن حضرت امام ابن تیمیہ (ف 728ھ) کا بھی ایک نظریہ ہےجو اس قابل ہے کہ اس کا ضرور مطالعہ کیا جائے۔ اگر فاضل مؤلف اس پر بھی تفصیلی روشنی ڈالتے تو یہ مضمون اور جامع ہوجاتا۔ یہ تنہا ابن تیمیہ کی بات نہیں، علمائے ظاہر، شوافع میں سے ابن القاص مالکیوں میں سے خویز منداد جمہور کی تعبیر سے مطمئن نہیں ہیں (الاتقان)

حافظ ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ یہ کہنا کہ حقیقت وہ لفظ ہے جو اپنے موضوع لہ میں مستعمل ہو ورنہ وہ مجاز ہوگا ، آخر اس وضع سابق کا پتہ کیسے چلایا جائے گا؟ اور اس کا کیاثبوت ہے۔

إنھم قالوا الحقیقة اللفظ المستعمل فیما وضع له والمجاز ھو المستعمل في غیرما وضع له احتاجوا إلی إثبات الوضع السابق علی الاستعمال وھذا یتعذر (کتاب الایمان ص38)

بعض مقامت میں تبصرہ اور جواب کا انداز خاصا تیز ہے اور بعض جگہ تو اسلوب بیان بھی کسی حد تک ثقاہت کے شایان شان نہیں رہا۔ گو اس کی حیثیت دو عملی کی ہے تاہم علم و ثقاہت کامقام مزید احتیاط کا متقاضی ہے۔

مؤلف موصوف کو اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے انہوں نے علوم القرآن تالیف فرما کر ایک بہت بڑی عملی ضرورت کو پورا کیا ہے۔ اور ''درر منشورہ'' کو یکجا کرکے فکر و نظر کے لیے ایک جاذب نظر ہار مہیاکرلیا ہے۔

(2)

مکمل تعلیم الاسلام ۔ چار حصے مجلد : حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ شاہجہانپوری

صفحات۔ کاغذ : 304۔ چائنہ نیوز

قیمت : 6 روپے

ناشر وملنے کا پتہ : کتب خانہ شان اسلام، راحت مارکیٹ اُردو بازار لاہور

حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ  اپنے دور کے عظیم فقیہ اور فقہ حنفی میں ان کوممتاز مقام حاصل تھا ۔ ان کے دور میں ان کے فتاوؤں کو قبول عام حاصل تھا۔ 1940ء میں راقم الحروف کو ان کا درس بخاری سننے کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل کرے۔

تعلیم الاسلام انہی کی ایک عام فہم کتاب ہے، جو خاص طور پر بچوں کے لیے لکھی گئی تھی، سوال و جواب کے ذریعے دین اور دینی مسائل سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ فقہی مسائل حنفی نقطہ نظر سے لکھےگئے ہیں۔

پہلے حصے میں کلمہ شریف، قرآن حکیم، قبلہ اور نماز کے مسائل بتائے گئے ہیں۔ دوسرے میںکچھ بنیادی عقائد اور نماز کی شرائط کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ تیسرے میں عقاود کے سلسلے کےمزید کچھ مسائل اور نماز کے باقی ماندہ مسائل کی تفصیل پیش کی گئی ہے اور چوتھے میں، مزید عقائد کےساتھ ایمان و عمل صالح، گناہ، کفر و شرک، بدعت اور توبہ کاذکر کیا گیا ہے۔

یہ کتاب اسی لحاظ سے کافی تسلی بخش ہے کہ لکھنے والے بڑے ذمہ دار بزرگ اور عالم دین ہیں، جو حنفی نقطہ نظر کی صحیح ترجمانی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عقائد کے سلسلے کےبعض مسائل پر تو نہایت دلنشین تفصیل پیش کی گئی ہے۔

(3)

حضور ﷺ کی دعائیں : حافظ فضل الرحیم ، خطیب مدینہ مسجد و مدرس جامعہ اشرفیہ لاہور

صفحات : 113

قیمت : 3 روپے

ناشر و ملنے کا پتہ : مذکور

مضمون رسالے ک ےنام سے ظاہر ہے۔ مؤلف موصوف مدینہ مسجد ۔ چوک پرانی انارکلی میں درس قرآن دیا کرتے ہیں، مسنون دعاؤں کا جب ذکر آیا تو سامعین نے خواہش کی کہ ان کویک جامدون کردیا جائے چنانچہ یہ رسالہ ان کی فرمائش کی تعمیل کے لیے لکھا گیا ہے۔

رسالے کے شروع میں دعاؤں کی فہرست دی گئی ہے جس سے دعا کی تلاش میں بڑی آسانی رہتی ہے۔ ہر دعا کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ کس موقع پر پڑھی جائے۔ پھر ہر دعا کے ساتھ ترجمہ بھی دیا گیا ہے جو عام فہم اور خاصا دلنشین ہے۔پڑھنے والے کو اس سے پتہ چل سکتا ہے کہ وہ خدا سے کیا مانگ رہے ہیں۔

دوسری بدعات کے ساتھ خانہ ساز دواؤں کا بڑا رواج ہوگیا ہے، جو مقفیٰ او رمسجع تو ضرور ہوتی ہیں مگر افسوس ! مسنون بہت کم ہوتی ہیں۔بہرحال زیرتبصرہ رسالہ کی یہ خوبی ہے کہ ہر دعا رسول کریمﷺ کی زبان مبارک سےنکلی ہوئی دعا ہے۔ جس سے زیادہ پر تاثیر اور کوئی دعا نہیں ہوسکتی۔ اس میں اگر کتاب کے حوالے کا بھی التزام کرلیا جاتا تو سونے پر سہاگہ ہوتا۔

(4)

مسنون دعائیں : مولانا محمد عاشق صاحب ۔ بلند شہری

صفحات مع خوبصورت ٹائٹل: 160

قیمت : 75؍1 روپے

ناشر و پتہ : مکتبہ شان اسلام، راحت مارکیٹ۔اُردو بازار لاہور

یہ کتاب پہلی سے بھی زیادہ جامع ہے، مزید یہ کہ اس میں کتاب کے حوالے کا التزام بھی کیا گیا ہے کہ یہ دعا حدیث کی کون سی کتاب میں ہے۔ بات اپنی او رزبان پیارے رسولؐ کی؟؟ سوچیئے! پھر کمی کیا رہ جائے گی؟ ہر دعا کے ساتھ اس کا ترجمہ بھی دیا گیا ہے۔جو خاصا دلنشین اور عام فہم ہے۔کس وقت کون سی دعا پڑھی جائے اور کون سے حالات میں کیا دعا ہونی چاہیے؟ اس میں اس کی ساری تفصیل آگئی ہے۔ہمارے نزدیک ایسی کتابوں کو رواج دینا چاہیے تاکہ اہل بدعت نے ''پیارے رسول کی پاک زبان'' کے بالمقابل ادھر ادھر کی زبانوں کو رواج دے ڈالا ہے۔ ان کامداوا ہوجائے! خدا کی شان ہے کہ: ان مدعیوں کو پیارے رسول کی پیاری زبان میں دعا مانگنا بھی دو بھر ہوگیا ہے۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون۔

(5)

مسئلہ آئین و حکومت : محترم جناب ریاض الحسن نوری۔ ایم اے

صفحات : 68

قیمت : 2 روپے

پتہ : مکتبہ علمیہ۔ 15 لیک روڈ لاہور

فاضل مؤلف ان خوش نصیب افاضل میں سے ہیں جنہوں نےزمیندار خاندان اور جدید تعلیم گاہوں میں آنکھیں کھولیں او رقلب و نگاہ کومسلمان رکھا۔ پنجاب یونیورسٹی کے فاضل ہونے کےساتھ موصوف علوم عربیہ، بالخصوص کتاب و سنت سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کی ذاتی لائبریری میں علوم دینیہ اور تاریخ و سیر پر مشتمل عربی کتابوں کا ایک گراں قدر سرمایہ ہے۔ جس میں موصوف شب و روز گم رہتے ہیں، کتاب الخروج لیحیی بن آدم پر حال ہی ایک تعلیفات لکھ کر اہل علم طبقہ سے خراج تحسین حاصل کرچکے ہیں۔ ان کے علمی مضامین ملک کے علمی اور ادبی جرائد (مثلاً ترجمان القرآن) میں بڑی آب و تاب کے ساتھ شائع ہوتے رہتے ہیں۔

زیرتبصرہ کتاب بھی موصوف کاایک علمی مضمون ہے،جس میں انہوں نے ''اسلامی آئین کی اہمیت اور ضرورت'' پر روشنی ڈالی ہے اور اس سے جو حکمران گریز کرتے ہیں ان کی کچھ نشانیاں بھی ذکر فرمائی ہیں، علماء سو اور گمراہ حکمرانوں کاکھل کرذکر کیا ہے۔

منافق او رکمیونسٹ کیا چاہتے ہیں او رایک ریاست کے بارے میں ان کے کیانظریات ہیں، پاکستانی حکمران ، صدر مملکت ، وزراء اور ممبران اسمبلی قرآن و سنت کے کس حد تک پابند ہیں مگر وہ کر کیا رہے ہیں۔

اس کے علاوہ اس سلسلےمیں قرآن و سنت خلفاء راشدین ، دوسرے صحابہ نے کیا رہنمائی فرمائی ہے۔ بانی پاکستان محمدعلی جناح ، علامہ اقبال، لیاقت علی خان مرحوم، مختلف اقوام و ملل کے ججوں نےآئین و قانون کے بارے میں کن خیالات کا اظہار کیا ہے اور اسلام میں انتخاب کا طریقہ کیا ہے؟ ان سب کی تفصیل اس میں آپ کو ملے گی۔ اس میں علمی کے ساتھ موصوف نےناصحابہ انداز اختیار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مؤلف کو جزائے خیر دے۔

قارئین کے لیے اس رسالے کا مطالعہ کافی مفید اور بصیرت افروز رہے گا۔ ان شاء اللہ

(6)

فضل الودود فی تحقیق رفع الیدین للسجود (عربی : مولانا ابوحفص عثمانی داجلی

صفحات : 68

قیمت : 3 روپے

پتہ : 1۔ مجلس اخوان اہل حدیث۔ بلاک نمبر 15۔ ڈیرہ غازی خاں

: 2۔ فاروقی کتب خانہ۔ بیرون بوہڑ گیٹ ۔ملتان مولانا ابوحفص عثمانی ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں، محقق نامور عالم دین اور متعدد کتب کے مشہور مؤلف ہیں۔ کتاب و سنت کے سوا اور کسی بھی شخصیت کی زلف گرہ گیر کے اسیر بھی نہیں ہیں بلکہ آزادانہ مطالعہ کرتے ہیں اس لیے بعض امور میں آپ کو معروف ڈگر سے مختلف راہ بھی اختیار کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ان سے اختلاف رائے کے باوجود ، ان کی علمی تخلیقات اور نیک جذبات کا ہم احترام کرتے ہیں اور ان کو اس کا ہم حق دیتے ہیں۔ کیونکہ ان کا محرک سنت کا ثبوت ہوتا ہے۔

زیرتبصرہ کتاب بھی کچھ اسی قسم کی کتاب ہے جس میں فاضل مؤلف نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ :

رفع یدین صرف چار بار نہیں، سجدہ کو جاتے اور سجدہ سے اٹھتے وقت بھی مسنون ہے۔ پھر اس کےلیےموصوف نے نو عد مرفوع اور موقوف روایات اور متعدد تابعین ، تبع تابعین اور ائمہ کا تعامل او رنظریہ پیش کیا ہے او رہرروایت کےسلسلے میں قابل ذکر جرح و تعدیل اور صحت و ضعف سےبھی کھل کربحث کی ہے۔جن سےبعض اعتبارسے اختلاف تو کیاجاسکتا ہے لیکن بالکلیہ ان کورد کرناآسان بات نہیں ہے۔

اس میں جومرفوع روایات بیان کی گئی ہیں، ان سے روایاتی حیثیت سے تفصیلی بحث تو بہت مشکل ہے، بہرحال ہمیں ان میں بعض مقامات سے اختلاف بھی ہے، مثلاً یہ دعویٰ کہ یہاں تقابل صرف نافی اور مثبت کا ہے۔ صحیح نہیں ہے بلکہ معارض روایات میں صحت و ضعف کے اعتبارسے دونوں میں ''مساوات'' کا ہونا بھی ضروری ہے۔جو روایات ''بین السجدتین رفع یدین'' کرنے کی نفی کرتی ہیں وہ صحت کے اعتبار سے ، مثبت روایات سے کہیں بلند اور ارفع ہیں۔اس لیے دونوں کے مابین دنگل گرم کرانا صحیح نہیں ہے کیونکہ نفی کرنے والی روایت صحیحین کی ہے۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری (دارقطنی) اور حضرت علی مرتضیٰ (ترمذی و ابوداؤد )کی روایات بھی الگ اس کی مؤید ہیں۔

دوسرا یہ کہ: روایت بالمعنی کی وجہ سے غلط ترجمانی ہوگئی ہے کیونکہ بعض روایات میں ''حین یسجد'' ''إذا رفع رأسه للسجود'' '' وإذا رفع للسجود'' وغیرہ الفاظ سے بعض راویوں کو مغالطٰہ لگا ہے کہ شاید اس کے معنی ''رفع الیدین بین السجدتین'' ہیں، حالانکہ اس سے مراد رکوع سے سجدہ کے لیے اٹھتے ہوئے رفع یدین کرتا ہے ۔ چونکہ رکوع سے سر کو اٹھانا سجدہ کےلیے ہوتا ہے اس لیے اسے سجدہ وغیرہ سے بھی تعبیر کرلیا گیا۔

تیسرا یہ کہ: سجدہ کو جاتے یا اٹھتے وقت دونوں ہاتھوں کو ایک ساتھ لپکانے کی جوشکل ہوتی ہے اسے ہی کسی راوی نے ''رفع الیدین بین السجدتین'' تصور کرلیا ہے۔ حالانکہ وہ کھلے ہاتھوں کا قدرتی لپکنا ہے رفع ارادی نہیں ہے۔چونکہ یہ صرف احتمالات ہیں اس لیے راقم الحروف کی ذاتی رائے یہ ہے کہ : کسی وقت احتیاطاً اس پر بھی عمل ہوجانا چاہیے تاکہ اگر یہ بھی مسنون ہوتو ہم اس سے بھی محروم نہ رہ جائیں۔ روایات کےاسلوب سے پتہ چلتا ہے کہ: یہ ''احیانا'' (کبھی کبھار) والی بات تھی، اس لیے اس حد تک ہم بھی کرلیں تو اس کا بھی حق واقعۃً ادا ہوجائے۔بہرحال اس حد تک طبیعت مطمئن ہے کہ: حضور ،صحابہ اور تابعین کا تعامل اسی معروف رفع الیدین پررہا ہے۔ تعامل بین السجدتین پرنہیں ہے۔بشرطیکہ موصوف کی پیش کردہ روایات کے بارے میں ''معنی و سنداً '' مطلوبہ اطمینان حاصل ہوجائے۔ واللہ اعلم