جب اہلحدیث کی امامت زیربحث آئی

ان دنوں بدقسمتی سے ہمارے ملک میں یہ ناخوشگوار بحث چل نکلی ہے کہ وہابی (نجدی) یا اہلحدیث کی اقتداء میں حنفی خصوصاً بریلوی نماز پرھ سکتے ہیں یا نہیں۔ اگر کوئی پڑھ لے تو اس کی نماز ہوجاتی ہے یا نہیں۔ حرمین شریفین کے عالی قدر اماموں کی پاکستان میں آمد اور عوام کی طرف سے ان کی بے پناہ پذیراوی سے بوکھلا کر ہمارے کرم فرماؤں نے یہ بحث شروع کررکھی ہے اور فتویٰ بازی کا بازار گرم ہے۔

برصغیرکے اہل حدیث حضرات کے لیے یہ بحث کوئی نئی نہیں ہے۔ جب بھی حضرات مقلدین دلائل کی جنگ ہار جاتے ہیں تو پھؤر اس قسم کی صورت حال پیدا کرکے اپنے مکتب فکر کی بقا کا سامان کیا جاتا ہے۔ پہلے بھی ایسا ہوتا آیا ہے۔ اہل حدیث پرمساجد کے درواسے بند کرنے ، ان کے مسجد میں آجانے پرمساجد دھلوانے، رفع الیدین و امین بالجہر کہنے پر زدوکوب۔ ان کی لا مذہبیت کے فتوے، ان کے معاشرتی بائیکاٹ کی تحریکیں۔ ان کے قتل کے سامان اور عدالتوں میں ان کے خلاف مقدمات کاکھیل بہت پرانا ہے۔ سمجھا یہ جاتا ہے کہ ہم (مقلدین)سواد اعظم ہیں (جو سراسر غلط دعویٰ ہے)اس لیے ان قلیل التعداد اہل حدیثوں کو دبا لینا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ لیکن ہوتا ہمیشہ ان کے برعکس رہا۔ كم من فئة قليلة اس نام نہاد سواد اعظم پرکتنی ہی بار فتح یاب ہوا ہہے ۔خواہ و تقریر و تحریرکا میدان ہو یا عدالتی کارروائیوں کاسلسلہ ہو۔

برصغیر پاک و ہند میں جب مولانا محمد حسین بٹالوی مرحوم نے وہ مشہور اشتہار شائع کیا جس میں مقلدین سے 10 سوال کیے گئے تھے تو ان کے جواب سے عاجز آکر حضرات مقلدین نے ہلڑ بازی شروع کردی (یہ 1877ء کے گردوپیش کی بات ہے) مساجدمیں عاملین سنت کا داخلہ بن کیا گیا ان کی اقتداء میں نماز پرھنے کو ناجائز کہا۔ جن مساجد میں اہل حدیث امام و خطیب تھے انہیں نکالنے کی کوشش کی گئی۔غرض ملک ایک عجیب ہنگامے کی نذر ہوگیا۔ کہیں مساجد دھلوائی جارہی ہیں۔ ا س لیے کہ عاملین سنت کے قدم اس میں پڑ گئے ہیں۔ کہیں مارپیٹ ہورہیہے۔ اس لیے کہ آمین اور رفع الیدین کی سنت کیوں ادا کی جارہی ہے۔ کہیں عدالتوں میں مقدمات دائر ہیں کہ امام طریق سنت کے مطابق نماز کیوں پڑھتا ہے۔ اسے برطرف کیا جائے۔

ایسا ہے ایک مقدمہ جو پریوی کونسل تک پہنچا۔ ہمارے پیش نظر ہے۔ یہ مقدمہ منصف ،سب جج،ہائی کورٹ او رپھر پریوی کونسل لندن میں سماعت ہوا۔مقدمے کی بنا یہ تھی کہ امام مسجد اہل حدیث ہوگیا ہے۔ اب وہ آمین اور رفع الیدین کا عامل ہے۔مسجد احناف کی چلی آرہی ہے۔ امام کے اس فعل سے نمازیوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ اس لیے امام کو امامت سے برطرف کیا جائے۔ ہمارے اس کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔

مقدمہ پہلے منصف کے پاس پہنچا۔ پھر سب حج کے ہاں منتقل ہوگیا۔ جج نے اہل حدیث کے حق میں فیصلہ دیا۔ مقلدین نے بنگال ہائی کورٹ میں اپیل دائر کردی ۔ جس نے سب جج کا فیصلہ کالعدم قرار دےکر مقلدین کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف پریوی کونسل لندن میں اپیل دائر ہوئی۔ جس نے ہائی کورٹ کا فیصلہ منسوخ کرکے اہل حدیث کے حق میں ڈگری دے دی او ریہ قرار دیا کہ آمین یارفع الیدین کرنے والا اہل سنت میں سے ہے۔ نہ کرنے والوں کی نماز میں آمین کی آواز سے کوئی خلل از روئے شرع محمدی نہیں پڑتا اور کوئی دلیل اس بات کی نہیں ہے کہ اہلحدیث کی اقتداء میں مقلدین کی نماز ناجائز تصور کی جائے۔

یہ مقدمہ سات سال تک مختلف عدالتوں میں جاری رہا۔ او رہنگاموں سے ہٹ کر دونوں فریقوں کی طرف سے اپنے دعاوی کے حق میں بہترین دلائل پیش کی گئے۔ عدالتوں نے دلائل کی چھان پھٹک کر اور آخری فیصلہ اہل حدیث کے حق میں ہوا۔ ہم قارئین کے سامنے پریوی کونسل لندن کامفصل فیصلہ پیش کرتے ہیں او ر اپنے کرم فرماؤں سے درخواست کرتے ہیں کہ اس عدالتی فیصلے کو کسی جگہ چیلنج کرکے اسے منسوخ کرانے کی کوشش کریں کیونکہ یہ 1891ء سے آپ کا مہ چڑا رہا ہے او ربحث و نظر کے میدان میں آپ کی تہی دستی کا مذاق اُڑا رہا ہے۔

فیصلہ پریوی کونسل لندن، مورخہ 21 فروری 1891ء

بمقدمہ اپیل فضل کریم وغیرہ اپیلانٹ بنام حاجی مولا بخش وغیرہ رسپانڈنٹ

بنا راضی فیصلہ مصدرہ ہائی کورٹ بنگال۔ اجلاس ۔ لارڈورٹس۔ لارڈ ہاب ہاؤس۔لارڈ مارس سررچرڈ کارچ۔

بوقت فیصلہ ادخال عرضی دعویٰ ہذا مدعیان مقدمہ تین شخص تھے ۔ یعنی دو شخص جو اس وقت اپیلانٹ ہیں اورعلاوہ اس کے ایک شخص حافظ مولا بخش مدعی تھا۔

حافظ مولا بخش امام و مؤذن ایک مسجد واقع تاج پور کا تھا اور دوسرےمدعیان متولی اس مسجد کے تھے۔ مدعا علیہم بارہ اشخاص تھے جو مسجد مذکور میں نماز پڑھتے تھے۔عرض دعویٰ میں یہ بیان تھاکہ بعض رواسم جو امام نے جدید قائم کیے تھے ان رواسم کومدعا علیہم ناپسند کرکے امام کے ساتھ جماعت مسجد کو نماز پڑھانے میں مزاحمت کرتے ہیں۔ وہ لوگ خود عبادت کراتے ہیں یعنی امام بنتے ہیں اور بہت سے دوسرے افعال قبیحہ کرتے ہیں۔

مدعیان نے حسب صراحت ذیل استدعا کی۔

''(الف) عدالت تجویز کرکے کہ مدعی(1) امام و مؤذن مسجد تاج پور کا ہے او رمدعیان نمبر (2، 3) متولیان مسجد مذکور کے ہیں اور بحیثیت امام و متولی کے مدعیان کو حق ہے کہ حسب دستور نماز و خطبہ جمعہ و نماز یومیہ و منبر و مصلیٰ پر مصلیان مسجد کو پڑھا ویں۔

(ب) عدالت یہ تجویز کرے کہ مدعا علیہم کو حق نہیں ہے کہ مدعیان کے حقوق مذکورہ میں دست انداسی کریں یا کہ افعال مندرجہ دفعہ5 عرض دعوے کی مرتکب ہوں۔

(ج) عدالت یہ تجویز کرے کہ مدعا علیہم کو بحیثیت مسلمان ہونے کے صرف اسی قدر حق ہے کہ صرف بوقت نماز مسجدمیں جاکر پیچھے مدعی نمبر (1) کے نماز پڑھیں اور یہ کہ ان لوگوں کوبغرض دیگر مسجد میں جانےکا حق نہیں۔

(د) عدالت یہ تجویز کرے کہ اگر مدعا علیہم مدعیان کے حقوق امامت و تولیت میں مزاحمت کریں یا افعال مندرجہ دفعہ 5 عرضی دعویٰ عمل میں لاویں تب مدعیان کو حق ہے کہ مدعا علیہم کو یا کسی دوسرے شخص کو جو ویسا فعل کرے مسجد سے نکال دیں۔''

الغرض اولاً عرضی دعویٰ میں استدعا صرف استقراری ڈگری کی تھی۔ اس واسطے عرضی دعویٰ میں ایک استدعا بذریعہ مرمت کے زیادہ کی گئی اور وہ درج ذیل ہے:

استدعا جدید: مدعا علیہم باز رکھے جائیں کہ حقوق امامت و موذنی میں مدعی نمبر (1) کے حقوق اور تولیت میں مدعیان نمبر2،3 کے حقوق میں مزاحمت نہ کریں اور مدعا علیہم پر حکم امتناعی اس ....؟؟؟؟ کا اجرا پائے کہ وہ لوگ افعال مندرجہ دفعہ 4(،5) عرضی دعویٰ مسجد میں مدعیان کے نہ کریں اورنہ اس غرض سے مدعیان کی مسجد میں جاویں۔

بیان تحریری میں مدعا علیہم نے ا س امر سے کہ حافظ مولا بخش 25 برس سے امام و مؤذن چلا آیا ہے اور دوسرے مدعیان متولی تھے انکار نہیں کیا۔ لیکن یہ بیان کیاکہ مدعیان کے حقوق بوجہ لامذہب ہونے کے زائل ہوگئے۔ اصل عذر مدعا علیہم کے دو ہیں۔

(1) قبل میں مدعی نمبر2 مؤذن تھا اورنماز پڑھاتا تھا لیکن اس نے اپنا مذہبی حنفی ترک کرکے وہابی مذہب اختیار کیا ہے۔ پس جب ایسی بات ہے تو مدعی نمبر 1 اور روئے شرع محمدی کسی طرح امامت و مؤذنی کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ اس لیے نالش ہذا کا اس کو حق نہیں۔

(2) مدعیان نمبر2،3 حسب بیان خود ہا متولی نہیں ہیں البتہ وہ لوگ پسران قاضی رمیض الدین متوفی متولی سابق کے ہیں۔ لیکن بوجہ ہونے پسر متولی سابق کے ان لوگوں کو کوئی حق متولی ہونے کا نہیں ہے۔ علاوہ اس کے مدعیان نمبر 2،3 نے اپنا آبائی مذہب سابق ترک کے طریقہ وہابی اختیار کیاہے۔ اس واسطے ان کو مسجد متنازعہ کےمنتطم رہنے کا حق نہیں رہا۔

مدعیان کے ایک تردیدی تحریری بیانات مدعا علیہم کی داخل کی۔ یہ تردید مسل میں نہیں ہے اورغالباً وہ تردید کوئی ضروری چیز نہیں ہے۔ اس کا خلاصہ اسی قدر ہے کہ بیانات مدعا علیہم سے انکار ہے۔بماہ اگست ستمبر و نومبر 1884ء مدعا علیہم نے 3 قطعات درخواست داخل کیے او رانلوگوں نے جو مدعیان کے ساتھ مخالفت کی تھی اس سے افسوس ظاہر کرکے استدعا کے صدور ڈگری بحق مدعیان کی۔

کوئی حکم مسل میں واسطے التوائے کارروائی بمقابلہ ان مدعا علیہم کے جنہوں نے دعویٰ کو قبول کیا نہیں پایاجاتا۔ لیکن جب مقدمہ ہائی کورٹ میں پہنچا تب ان مدعا علیہم کا نام کارروائی میں باقی نہ رہا۔

بوقت لیے جانے ثبوت کے جس امر کا تکرار فی الاصل فیما بین فریقین تھا وہ ظاہر ہوگیا۔ یعنی لفظ وہابی سے مدعا علیہم نے کچھ ہی مطلب لیا ہو مگر فی الاصل صرف دو الزام کامدعیان پر منجانب مدعا علیہم لگایا جانا پایا گیا۔یعنی یہ کہ مدعیان نے دو رسمیں اختیار کی ہیں جن کومدعا علیہم بُرا جانتے ہیں۔ اولاً آمین بالجہر ثانیا ًرفع یدین۔

فریقین اپنے کوسنی المذہب بیان کرتے ہیں او رحافظ مولا بخش یہ بیان کرتا ہے کہ ہم ہر چہار امام کو برابر جانتے ہیں۔ امیدعلی یہ بیان کرتا ہے کہ اگر مولا بخش آمین بآواز بلند اور رفع الیدین چھوڑ دے تو اب بھی ہم اس کے پیچھے نماز پڑھیں گے (ہم اس کووہابی اس واسطے کہتے ہیں کہ وہ آمین اور رفع یدین کرتاہے۔ دونوں پاؤں علیحدہ علیحدہکرکے نماز میں کھڑا ہوتا ہے او رسینہ پرہاتھ باندھتا ہے) پس اس سے صاف ظاہر ہے کہ مدعا علیہم کوئی الزام کفر کا مدعیان پرنہیں لگاتے۔ صرف وہی دو الزام لگاتے ہیں اور اس کا جو کچھ نتیجہ ہو او ربہ نسبت انہی دو الزامون کے بالکل ثبوت اور بحث داخل و پیش کیا گیا ہے۔ پس تصفیہ طلب امر یہ ہے کہ آمین بالجہر ورفع یدین مانع قیام حافظ مولا بخش بعہدہ کود ہے یا نہیں۔ یہ امر کہ امین بالجہر و رفع یدین خلاف سنی مذہب نہیں ہے۔ صاف ظاہر ہے کیونکہ یہ ہر دو فعل کوئی نہ کوئی امام من جملہ چار امام کے جن کے پیروسنی لوگ ہیں کرتے ہیں لیکن مدعا علیہم یہ بیان کرتے ہیں کہ مسجد متنازعہ کوسنی حنفی المذہب نے تعمیر کیا تھا او رامام ابوحنیفہ کے نزدیک آمین بالخفاء جائز ہے اور رفع یدین بالکل جائز نہیں۔ اس بات سےمدعا علیہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ کوئی شخص غیر مذہب حنفی والا مسجد متنازعہ کا امام و مؤذن و متولی نہیں ہوسکتا اور ثانیاً آمین بالجہر و رفع یدین خلاف طریقہ حنفیہ کے ہے او رمدعیان بیان کرتے ہیں کہ یہ دونوں نتیجہ غلط ہیں۔ ہم حکام ولایت نے بمضمون بالا غور و تامل کے ساتھ اصل امر تکراری کو بیان کیا ہے کیونکہ ہم لوگوں کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس مقدمہ کی کارروائی میں اکثر اوقات اصل امر تکراری حاضر فی الذہن نہیں رکھا گیا اور بعد اس کے ہم حکام یہ لکھتے ہیں کہ نسبت اس اصل امر تکریری کے اس مقدمہ میں کس کس طور تصفیہ و حکم دیا گیا ہے۔

اولاً منصف نے تجویز کیا کہ مقدمہ قابل سماعت نہیں ہے۔ منصف کا وہ فیصلہ برطبق اپیل مسترد ہوکر باجلاس دیگر بماہ دسمبر 1884ء پیش ہوا۔ اس منصف نے بہ نسبت عہدہ و امامت و مؤذنی کے اس نتیجہ کو قبول کیا جو نتیجہ مدعا علیہم نکالتے تھے لیکن بہ نسبت متولی یہ تجویز کیا کہ متولی ناقابل نہیں ہوا۔منصف کی ڈگری کا مضمون یہ ہے۔

مدعیان نمبر 2،3 متولی مسجد کے رہیں اور مدعی نمبر 1 بمقابلہ مدعا علیہم معترض کے امام اور مؤذن متصور نہیں ہوسکتا او رنہ مدعا علیہم پابند ہیں کہ پچھلے مدعی نمبر 1 کے نماز پڑھیں۔مدعا علیہم کو بہرصورت حق ہے کہ مسجد میں اپنے طریقہ پربانتخاب امام حسب پسند خود نماز پڑھیں۔

برطبق اپیل منجانب مدعیان کے ایڈیشنل سب جج نے بماہ ماچ 1886ء مقدمہ کی سماعت کی جو امور ایڈیشن سب جج نے تجویز کیے ان پرلحاظ کرنا ضروری ہے کیونکہ امور واقعات پر ہائی کورٹ میں اپیل نہیں ہوسکتی تھی۔ خلاصہ امور تجویز کردہ سب جج یہ ہیں۔

1۔ مدعیان فرقہ عامل بالحدیث موسومہ اہل حدیث میں داخل ہیں(2) عامل بالحدیث مسلمان سنی المذہب ہیں او رسنت والجماعت میں داخل ہیں (3) اس امر میں کوئی دلیل نہیں کہ عامل بالحدیث اشخاص حنفی مذہب کو نماز نہیں پڑھا سکتے (4) فرق صرف اسی قدر ہے کہ عامل بالحدیث آمین بالجہر اور رفع یدین کرتے ہیں (5) یہ فرق کوئی ایسا فرق نہیں جس سے اشخاص حنفی المذہب کو باقتداء عامل بالحدیث نماز اداکرنے میں عذر ہو(6) عامل بالحدیث قیاس و اجماع کی اسی وقت پیروی کرتے ہیں جب کہ وہ قیاس و اجماع قرآن و حدیث کے خلاف نہ ہویہ اس قسم کا طریقہ ہے جو ہرمسلمان کوکرنا چاہیے۔ (7) یہ امر کہ مسجد متنازعہ تعمیر کردہ حنفی المذہب ہے مشتبہ ہے (8) بالفرض اگر حنفی المذہب نے اس مسجد کوتعمیر کیا ہوتب بھی اس بات کا ثبوت نہیں کہ بانی مسجد نے بہ نسبت نماز پڑھنے عامل بالحدیث کے امتناع کیا ہو (9) مدعا علیہم کو یہ حق نہیں کہ حسب پسند خود امام منتخب کرکے نماز پڑھیں۔

ان امور واقعاتی کی تجویز کا صر ف یہی نتیجہ ہوسکتا تھاکہ حافظ مولا بخش عہدہ امامت کے لیےناقابل نہ تھا او ریہ کہ وہ مستحق حفاظت بمقابلہ مدعا علیہم کے تھا اور یہ کہ فیصلہ منصف قابل استرداد تھا۔چنانچہ سب جج نے ایسا ہی کیا اور ڈگری بحق مدعی حسب استدعا عرضی دعویٰ معہ خرچہ صادر کی۔

تب مدعا علیہم نے ہائی کورٹ میں اپیل کی او رہائی کورٹ میں باجلاس دو حاکم کے مقدمہ بماہدسمبر 1887ء پیش ہوا۔ ہائیکورٹ نے فیصلہ سب جج مسترد کردیا کہ فیصلہ منصب بحال کیا۔ حکام ہائی کورٹ نے یہ تصور کیاکہ سب جج نے ان امور کوتجویز کیا ہے جوبالکل غیرمتعلق مقدمہ ہین یعنی یہ امر کہ حنفی المذہب کے واسطے باقتداء عامل بالحدیث نماز پڑھنا جائز ہے یانہیں او ریہ کہ عامل بالحدیث اچھےمسلمان ہیں یانہیں او رامام ہوسکتے ہیں یا نہیں۔ ی کل امور غیرمتعلق مقدمہ ہیں

وجوہات فیصلہ ہائی کورٹ یہ ہیں:

امر تصفیہ طلب صرف اس قدر ہے کہ مدعیان جن کواشخاص حنفی المذہب نےمقرر کیا تھا اور جو بطریقہ حنفی بیس برس تک اپنے عہدے پر کام کرتے آئے ہیں اب مختار اس امر کے ہیں یانہیں کہ اپنے عہدے کا کام دوسرے طریقہ کے ساتھ انجام دیں کوئی دلیل اس بارے میں پیش نہیں کی۔ کونسل من جانب مدعیان نے اس بارے میں بحث کرنے سے انکار کیا او رکہا کہ یہ مسئلہ بہت مشکل ہے بطور سرسری ہم لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امام و متولی کو حسب دستور و شدآمد کے کام کرنا چاہیے مدعیان پر یہ ثابت کرنا لازم تھاکہ وہ مستحق تغیرو تبدل کرنے کے ہیں۔مگر ان لوگوں نے ثابت نہیں کیا۔

بنا راضی ڈگری ہائی کورٹ کے یہ اپیل دائر ہوئی ہے ۔حافظ مولا بخش قبل فیصلہ ہائی کورٹ کے وفات پاگیا لیکن دیگر د ومدعیان کو مقدمہ چلانے کی اجازت دے گیا۔ اگرچہ ان دو مدعیان کی حقیقت تولیت ہر عدالت سے قائم رکھی گئی تھی۔اس میںشک نہیں کہ مدعیان نمبر 2،3 کو یہ دعویٰ کرنے کا حق ہے کہ ہم مسجد میں اپنے طریقہ پرعمل درامد رکھیں گے۔ کیونکہ ثبوت سے طاہر ہے کہ متولیان کو تقرر امام کا حق ہے۔پس اس معاملے میں فیصلہ بے شک ویسا ہی ہونا چاہیے کہ گویا حافظ مولابخش اپیلانٹ ہے۔مدعا علیہم معترض جو تین اشخاص ہیں حاصر نہیں ہوئے۔ یہ ایک افسوس کی بات ہے کہ ایسےمقدمے کا فیصلہ صرف من جانب ایک فریق کی بحث پر ہو۔

ہائی کورٹ کے فیصلہ سے یہ ظاہر نہیں ہوتاکہ کن وجوہ کی بنا پراپیل کو قابل سماعت تصور کیا۔ یعنی کس امر قانون کو سب جج نے غلط فیصل کیا تھا یا متروک کیاتھا۔ ہائی کورٹ کے فیصلہ کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے مسجد تاج پور کو ایک خاص قسم کی جائیداد موقوفہ تصور کیا لیکن یہ ایک واقعاتی بات ہے او راس کاکوئی ثبوت تحریری موجود نہیں۔ سب جج کی تجویز امور واقعاتی پرناطق تھی اورناطق ہے۔ اس بارہ میں سب جج نے جو تجویز بہ نسبت نمبر 7 مذکورہ کی ہے وہ بالکل مخالف اور مضر مدعا علیہم کے ہے۔ لیکن ہائیکورٹ نے اس بات پر لحاظ نہیں کیااگرچہ ہم حکام پریوی کونسل کو یہ ضرور نہ تھا کہ امور واقعاتی پر ماسوائے ملاحظہ فیصلہ سب جج زیادہ غور و تامل کرتے لیکن بلحاظ اس امر کے کہ اس مقدمہ کو ہر پہلو و جانب سے جانچنا بہتر ہے۔ ہم حکام نے کل ثبوت کو پڑھنا اور غو ر کرنا ضروری سمجھا او ربعد اس کے سب جج کی رائے کے ساتھ ہم حکام بالکل مطابقت کرتےہیں کہ کوئی ثبوت اس بات کانہیں کہ یہ مسجد صرف واسطے اشخاص حنفی المذاہب کے تعمیر ہوئی تھی او ریہ کہ کسی مقصود و وقف کی وجہ سے عامل بالحدیث کو امام رہنے کا حق باقی نہیں رہا۔

بہرکیف فیصلہ ہائی کورٹ کا یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ یہ ایک قانونی امر ہے کہ جب کسی عام جگہ میں عرصہ بیس سال عبادت بیک وضع ہوتی آئے تو اس وضع میں تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا کیونکہ امام یا افسر جو کہ ایسا تغیر و تبدل کرے وہ اپنے عہدہ کے قابل نہیں ہے۔ اگر یہ مطلب ہائی کورٹ کا ہے تو ہم حکام پریوی کونسل تجویز کرتے ہیں کہ ہائی کورٹ کی ایسی رائے قانوناً صحیح نہیں اور واقعات کے لحاظ سے بھی ہائی کورٹ کا ایسا تصور کرنا صحیح نہیں۔ کیونکہ بیان یا ثبوت من جانب مدعا علیہم ایسا صحیح نہیں کہ عرصہ بیس برس تک ایک خاص وضع بلاتغیر و تبدل عبادت ہوتی رہی البتہ صرف دو رسم جن کےبارے میں اعتراض ہے کس قدر زمانہ حال سے ہے۔علاوہ اس کے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ امام پابند ہے کہ جس طریقہ پر خود وہ امام یا اس کے قبل کا امام عبادت کرتا آیاہے اسی طریقے پرعبادت کرے اور اس کو کچھ بھی اختیار ردوبدل کامعمولی امور میں نہیں۔جو قانون رواسم مذہبی کا ہوتا ہے ممکن نہیں کہ وہ بھی اس قسم کا سخت حکم رکھتا ہو کہ ذرا سا فرق کرنا بھی ممنوع ہو۔ او ربہ نسبت امور تکراری مقدمہ ہذا کوئی خاص قانون رواسم مذہبی تکراری کے بارے میں نہیں اگر وہ اصول مان لیاجاوے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اگر حافظ مولا بخش کوئی معمولی امر عبادت میں ایسا زیادہ کرے جوکسی طرح بُرا نہ ہو بلکہ بہتر ہو اور کل مصلیان بھی اس پرراضی ہوں تو بھی ایک مصلی یہ ضد کرسکتا ہے کہ چونکہ مولا بخش بیس برس تک امام رہا اور ویسا فعل نہیں کیا اس واسطے وہ باوجود بہتر ہونے اس فعل کے اور رضا مندی مصلیان کے نہیں ہوسکتا۔ الغرض ہر مقدمہ میں اصل امر غور طلب یہ ہوگا کہ جو فعل کہ نیاکیا جاتا ہے وہ فعل کس قسم کا ہے یعنی ایک ضروری امر ہے یاغیر ضروری۔ اس بارے میں سب جج نے نہایت عمدہ طور سے فیصلہ لکھا تھا لیکن ہائی کورٹ نے ان ضروری باتوں کوغیر متعلق مقدمہ کہہ کر لحاظ نہیں کیا او رامور تکراری و بیانات فریقین وثبوت پر لحاظ نہیں کیا۔

ہم حکام پریوی کونسل طریقہ ہائی کورٹ کی پیروی نہیں کرسکتے کیونکہ اگر فیصلہ بحق مدعا علیہم کسی دوسری عمدہوجہ کی بنیاد پر ہوتا تب بھی ایک بات تھی او راس بنیاد پرغور کیا جاتا ۔بربنیاد دستور جو فیصلہ ہوا وہ کسی طرح قابل پسند نہیں ہوسکتا۔اس مقام پر تاوقتیکہ الہٰ آباد ہائی کورٹ مندرجہ جلد 13 صفحہ 494 عطاء اللہ بنام عظیم اللہ کا ذکر مناسب معلوم ہوتاہے۔

الہٰ آباد ہائیکورٹ نے یہ تجویز کیا ہے کہ مسجد ملک خدا ہے اور کل مسلمان اس کو استعمال کرسکتے ہیں او رکوئیخاص فرقہ یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ صرف ہم استعمال کریں گے اگریہ اصول قائم کردہ الہ آباد ہائیکورٹ قبول کیاجائے تواس مقدمہ میں جو فیصلہ ہائیکورٹ کا ہو وہ بالکل غیر درست معلوم ہوگا۔

اس فیصلہ الہ آبادہائی کورٹ پ رمسٹرڈائن صاحب نے تکیہ نہیں کیا اور نہ وہ مسئلہ اس مقدمہ میں امر تکراری ہے کیونکہ یہ بھی ظاہر نہیں ہوتا کہ اس مسجد کو صرف کسی فرقہ کے مسلمان استعمال کرتے تھے اس لیے بہ نسبت مسئلہ قائم کردہ حکام الہ |آباد کے ہم حکام اس وقت کوئی رائے ظاہر نہیں کرتے۔

جس امر پر ہر دوعدالت ضلع میں زیادہ مباحثہ و تقریر ہوا وہ یہ ہے کہ آیا رفع یدین (کیونکہ صرف بہ نسبت آمین و رفع یدین کے حافظ مولا بخش پر الزام لگایا گیا ہے اور اس وجہ سے وہ اپنے کو عامل بالحدیث بیانکرتا ہے او راس کے مخالفین اس کووہابی بیان کرتے ہیں ) اس قسم کا نیا فعل ہے یا نہیں جس کے سبب سے کوئی شخص مستحق امامت کا ایسی مسجد میں نہ رہے جس میں آمین و رفع یدین ہوتا آیا ہو۔ اگر اس سوال کے جواب میں یہ کہا جائے کہ ہاں آمین و رفع یدین اسی قسم کا فعل ہے تو یہ جواب خواہ مبنی برحکم صریح شرع محمدی کے ہوگا یامبنی اوپر دستور کسی فرقہ مذہبی کے اور اس قسم کے دستور پر ہوگا جس کی وجہ سے وہ فرقہ کسی دوسرے فرقہ مخالف کے ساتھ نماز پڑھنے کا مجاز نہ ہوگا۔دربار حکم صریح قانونی کے ہم حکام پریوی کونسل کہتے ہیں کہ ایسا کوئی معتبر قانون صریحہ شرع محمدی کا دکھلایا نہیں گیا۔ ہدایہ میں باب الصلوٰۃ بہت طوالت کے ساتھ ہے او راس میں رائے ابوحنیفہ او ران کے شاگرد ابویوسف و عبداللہ محمد کی جیسا کہ ششم صدی ہجری میں سمجھاگیا درج ہے لیکن مسٹر ہملٹن جنہوں نے بحکم گورنر جنرل وارن ہیسٹنگز کے کتاب ہدایہ کاترجمہ کیا۔باب الصلوٰۃ کا ترجمہ نہیں کیا کیونکہ انہوں نےسمجھا کہ اس باب سے فیصلہ جات متعلقہ جائیداد کاکوئی تعلق نہیں او رجہاں تک ہم حکام جانتے ہیں اس باب کا ترجمہ انگریز میں اصل کتاب عربی سے نہیں ہوااو رنہ کوئی کتاب منجانب مدعا علیہم ایسی پیش کی گئی کہ جو شخص مقلد امام ابوحنیفہ کا ہے وہ اگر کوئی فعل دیگر امام کاکرے تو وہ بُرا ہے یا اس سب سے وہ حنفی باقی نہیں رہے گا۔ بہ نسبت لفظ آمین کے الہ آباد ہائی کورٹ میں دو فیصلے ہوئے ایک وہ فیصلہ جس کا تذکرہ اوپر ہوچکا ، دوسرا فیصلہ جلد7 صفحہ 461 میں درج ہے۔ یہ مقدمہ یعنی ملکہ معظمہ بنام رمضان ایک فوجداری کا مقدمہ تھا۔ اس مقدمہ میں تکرار یہ تھا کہ آیا لفظ آمین ایسا بُرا لفظ ہے یا نہیں جس سے دوسرے لوگوں کو صدمہ پہنچے۔ ہر دو مقدمہ میں جسٹس محمود نےبہت صراحت کےساتھ لکھا تھاکہ لفظ آمین کس طور سے استعمال کرنا چاہیے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ اگرچہ مطابق مذہب ابوحنیفہ کے آمین آہستہ کہنا چاہیے مگر ہرسہ امام دیگر کے مطابق بآواز بلند کہنا چاہیے اور اپنی رائے یہ لکھی ہے کہ آمین کہنا ضروری ہے مگر کس قدر زور سے کہنا چاہیے اس کی نسبت کوئی دلیل یا حکم نہیں۔ ہر دو مقدمات میں یہ تجویز ہوا کہ سنی المذہب آمین و رفع یدین کرسکتا ہے ۔ پس ہم حکام پریوی کونسل یہ تجویز کرتے ہیں کہ اس بارے میں کوئی قانون مذہبی موافق مدعا علیہم کے نہیں ہے۔

تب ہم حکام دربارہ دستور و رواج کے غور کرتے ہیں۔ دستور رواج بالکل ایک امر واقعاتی ہے۔ پس اس بارے میں تجویز سب جج ناطق ہے جیساکہ اوپر صراحت ہوچکی ۔ لیکن چونکہ مقدمہ یکطرفہ سماعت ہوا ہے اس واسطے ہم حکام نے دربارہ اس کےبھی غور کیا اور ثبوت پر لحاظ و تامل کیا اور آخرش بعد لحاظ و تامل کے سب جج کی رائے سے مطابقت کرتےہیں۔

اہل سنت چار امام کی پیروی کرتے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ چار امام کے مطابق قانون مذہب اسلام بایں ترتیب ہے اولاً قرآن، دوم حدیث نبوی، سوم رسوم اجماع ، چہارم قیاس¬۔یعنی خانگی رائے ، مگر ہرچہار امام بہت سے امور فروعی میں مختلف ہیں کہ من جملہ ان اختلافات کے آمین و رفع یدین ہے کوئی شخص چاروں اماموں کی پیروی ہرامر میں نہیں کرسکتا لیکن ہر امام کا پیرو مساوی درجہ کا عمدہ سنی شمار کیا جاتا ہے۔ بیان متذکرہ بالا مطابق کتاب کے ہے او راس بیان کی تائید مولوی نور الحسن کے اظہار سے ہوتی ہے او ربھی بھاری تائید اس کی علمائے دہلی جن کا اظہار ہوا ہے کرتے ہیں۔تیس علمائے دہلی نے 1880ء میں ایک فتویٰ تیار کیا جس میں انہوں نے اپنے ہم مذہب کو یہ فتویٰ دیا کہ امر فروعی میں جس میں آمین و رفع یدین شامل ہے آپس میں جھگڑا نہ کریں۔ ان میں سے پانچ علماء کا اظہار ہوا ایک عالم نے یہ اظہار دیاکہ ہم کسی خاص امام کی پیروی نہیں کرتے۔جس کا مطلب یہ معلوم ہوا کہ وہ گواہ اپنے کو اس ام رکا مجاز سمجھتا ہے کہ حسب پسند اپن جس کی پیروی چاہے کرے۔ دوسرا عالم کہتا ہے کہ ہم چاروں اماموں کی پیروی کرتے ہیں کیونکہ ہر امر فروعی میں ہ رچہار امام کی پیروی غیر ممکن ہے ۔ تیسرے امام نے یہ اظہار دیا کہ ہم چاروں امام و حدیث کی پیروی کرتے ہیں۔ چوتھے نے یہ اظہار دیا کہ ہم امام ابوحنیفہ کی پیروی کرتے ہیں۔ اس چوتھے عالم نے باوجود حنفی ہونے کےفتویٰ پر دستخط کیے۔ معلوم ہوتا کہ نسبت آمین و رفع یدین کے ان کی رائے ہے کہ جس طور سے چاہے اس بارے میں عمل کرے۔

نورالحسن گواہ منصف تھے جن کے یہاں اولاً مقدمہ دائر ہو اور وہی مولوی نور الحسن اس مقدمہ کو فیصل کرتے اور مدعیان گواہ قرار دے کرمقدمہ کوٹرانسفر نہ کراتے۔ یہ شخص عالم ہے اور عربی جانتا ہے۔ حنفی ہے اور آمین آہستہ کہتا ہے۔ رفع یدین نہیںکرتا۔ مولوی نور الحسن نے فتوے کے ساتھ اپنی مطابقت ظاہر کی اور بہ نسبت بعض علماوے کرام کے جن کے دستخط ہیں بری وقعت ظاہر کی ۔ اس نے مندرجہ ذیل اظہار دیا۔ جو لوگ آمین و رفع یدین نہیں کرتے وہ آمین رفع یدین کرنے والوں کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں اور اس رائے کی تائید میں انہوں نے بہت کتب پیش کی ہیں۔ شیخ احمد یکے از چندہ دہندگان مسجد میں سے ہیں۔ یہ گواہ نمبر 1 مدعا علیہم کے ہیں اور بیان کرتے ہیں کہ ہم عامل بالحدیث او راحناف دونوں کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں اور چونکہ انہوں نے مکہ کی زیارت کی ہے۔ اس واسطے وہاں کا حال یہ بیان کیا ہے کہ پیروان ہر چہار امام پیچھے عامل بالحدیث کے نماز پڑھتے ہیں اور عامل بالحدیث پیچھے پیروان ہر چہار امام کے اور تاجپور او راس کے قرب و جوار میں بھی احناف پیچھے عامل بالحدیث کے نماز پڑھتے ہیں۔

جو حال مکہ کا گواہ ہذا نے بیان کیاہے وہ مطابق رائے جسٹس محمود کے ہے جو بمقدمہ ملکہ معظمہ بنام رمضان درج ہے۔ گواہ ہذا نہ یہ بھی بیان کیا ہے کہ کعبہ میں ہر چہار فرقے کے لوگ ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں اور اس سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ کسی فرقہ کی نماز ناجائز نہیں ہوتی۔اس گواہ کے بیان سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مسجد تاجپور میں اگرچہ زیادہ لوگ جانے والے حنفی فرقہ کے ہیں مگر سوائے مدعا علیہم کے کسی مصلّی کو بہ نسبت طریقہ عبادت حافظ مولا بخش کے اعتراض نہیں۔برخلاف اس قدر ثبوت و رائے علمائے مذہب اسلام اور نیز خلاف طریقہ مجاریہ مصلیان اسلام کے کیا ثبوت من جانب مدعا علیہم گزرا ہے۔ من جانب مدعا علیہم سادہ کاغذ کے کوئی ثبوت نہیں ہے۔ نہ کتاب نہ رائے علماء۔ نہ طریقہ مجاریہ کسی فرقہ کا دکھلایا۔ سب جج کی رائے ہے اختلاف کرنے کی کوئی وجہ نہیں نہیں۔البتہ سب جج نے جو استدعا کی منظوری کرنے میں ایک مقام پر پیروی الفاظ مندرجہ استدعا کی ضرورت سے زیادہ کی ہے۔ دفعہ حرف و استدعا واسطے استقراری ڈگری کے ہے کہ مدعیان کو اختیار دیاجائےکہ مدعا علیہم کو بصورت کرنے مزاحمت کے نکال دیں۔ عدالت کو یہ مناسب نہیں ہے کہ اس قسم کی استقراری ڈگری صادر کرے۔ مدعیان کو چاہیے کہ حکم امتناعی سے کام لیں اور فائدہ اٹھائیں۔ ہائیکورٹ الہ اباد کو مناسب تھا کہ فیصلہ سب جج بنا منظوری استدعا مندرجہ دفعہ حرف د ترمیم کرتا اورماسوائے اس استدعا کے اپیل کو مدعا علیہم کی معہ خرچہ ڈسمس کرتا۔ الغرض ہم لوگ ملکہ معظمہ کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ فیصلہ ہائی کورٹ مسترد کرکے مطابق صراحت بالا ڈگری صادر کریں اور رسپانڈنٹ کرچہ اپیل ہذا کا اپیلانٹ کو ادا کرے۔

ترجمہ ڈگری پریوی کونسل

مورخہ 23 فروری 1891ء اجلاس ملکہ معظمہ قیصر ہند۔ حاضرین اجلاس آرچ بشپ لارڈ پریسیڈنٹ وغیرہم۔ آج رپورٹ مندرجہ ذیل 21 فروری مرسلہ پریوی کونسل روبرو ملکہ معظمہ پڑھی گئی۔

مضمون رپورٹ پریوی کونسل

حسب الحکم ملکہ معظمہ مورخہ17نومبر 1888ء مقدمہ اپیل بنا راضی فیصلہ ہائی کورٹ بنگال فضل کریم و فضل الرحیم اپیلانٹ بنام حاجی مولا بخش پریوی کونسل میں پیش ہوا۔ اس مقدمہ میں استدعا مدعیان مندرجہ ذیل ہے(الف نمبر 1) یہ قرار دیا جائے کہ مدعی نمبر 1 امام مؤذن مسجد واقع تاج پور پرگنہ سربشا کا ہے اور مدعیان نمبر 2،3 متولی مسجد مذکور کے ہیں او ریہ کہ بحیثیت امامت و تولیت کے مدعیان کو حق ہے کہ حسب شدآمد قدیم مسجد مذکور میں خطبہ و نماز جمعہ نیز نماز یومیہ مسجد کے منبر اور مصلے پر مصلیوں کو پڑھائیں (ب نمبر 2) مدعا علیہم کو حق نہیں کہ مدعیان کے حقوق امامت و تولیت میں مزاحمت کریں یا کہ افعال مندرجہ دفعہ 5 عرضی دعویٰ کے مرتکب ہوں (ج نمبر 3) عدالت یہ قرار دے کہ مدعا علیہم کو بحیثیت مسلمان ہونے کے صرف اسی قدر حق ہے کہ بوقت نماز مسجد میں جاکر باقتداء مدعی نمبر 1 نماز پڑھیں۔ ان کو کوئی حق مسجد میں جانے کا بغرض دیگر نہیں ہے (د نمبر4) عدالت یہ قرار دے کہ اگرمدعا علیہم بحقوق مدعیان بحیثیت امامت و تولیت کے دست اندازی کریں یا افعال مندرجہ دفعہ 5 عرضی دعویٰ کے مرتکب ہوں تو مدعیان کو حق ہے کہ مدعا علیہم کو یا کسی دوسرے شخص کو جو ایسا کرے مسجد سے نکال دیں۔ (س نمبر 5) خرچہ دلایا جائے۔....... بعد اس ک ےکل مدعا علیہم نے ماسوائے نور احمدمدعا علیہ کے بیان تحریری داخل کیا فریقین نے ثبوت داخل کیا اور باجلاس منصف مظفر پور بتاریخ 23 فروری پیش ہوا۔ جس میں یہ حکم ہوا کہ دعویٰ مدعی مع خرچہ ڈسمس ہو اور مدعا علیہم نصف خرچہ مع سود بشرح 6 روپیہ سینکڑہ سالانہ مدعیان سے پاویں لیکن اس حکم سے حقوق عہدہ میں مدعیان کے کوئی ضرر نہ ہوگا او رمبلغ 27 روپیہ |خرچہ مدعا علیہم کودیویں۔بنا راضی اس حکم کے 43 مدعیان نے سب جج کے یہاں اپیل کی اور سب جج نے بتاریخ 15 جولائی 1883ء فیصلہ صادر کیا کہ مقدمہ واسطے تجویز ثانی کے منصف کے یہاں واپس جائے اور فیصلہ منصف مسترد ہو۔ تب مدعا علیہم نے ماسوائے نور احمدمدعا علیہ کے ہائی کورٹ کو بتاریخ 22 فروری 1884ء اپیل مع خرچہ کیا۔ تب ثبوت دوبارہ منجانب فریقین گزرا اور منصف دوم مقام مظفر پور نے بتاریخ 27 دسمبر 1884ء یہ فیصلہ صادر کیا کہ مدعیان نمبر 2،3 متولی مسجد کے رہیں لیکن مدعی نمبر 1 امام و مؤذن مسجد تاج پور کا بمقابلہ مدعا علیہم معترض کے قرار نہیں پاسکتا او رنہ مدعا علیہم پابند ہیں کہ مدعی نمبر 1 کےپیچھے نماز پڑھیں بلکہ مدعا علیہم کو حق حاصل ہے کہ بانتخاب امام حسب پسند خود نماز پڑھیں۔ اور استدعا حکم امتناعی نامنظور ہوتی ہے اور فریقین خرچہ اپنا اپنا ذمے اپنے اپنے جانیں۔ تب مدعیان نے سب جج کے روبرو اپیل کیا او رسب جج نے بتاریخ 15 مارچ 1886ء یہ فیصلہ صادر کیا کہ اپیل ڈگری ہو اور کل استدعا مدعیان منظور کی گئی اور مدعیان خرچہ کل عدالت کا مدعا علیہم معترض سے مع شرح سود 6 روپیہ سینکڑہ سالانہ پاویں۔ تب امیدعلی و مولا بخش و رحیم و فضلو نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کیا۔

اور بتاریخ چھ دسمبر 1887ء ہائی کورٹ نے فیصلہ صادر کیا اور فیصلہ سب جج مسترد کیا اور فیصلہ منصف بحال کیا اور بہ نسبت خرچہ کے یہی حکم صادر کیا۔ تب اپیلانٹاں نے اجازت اپیل پریوی کونسل کے لیے استدعا کی او رہائیکورٹ نے بتاریخ 13 جولائی 1888ء استدعا اپیل پریوی کونسل منظور کی۔ پریوی کونسل نے حسب الحکم ملکہ معظمہ کے اپیل سماعت کی۔مگر منجانب رسپانڈنٹ کوئی حاضر نہ تھا ۔ اب پریوی کونسل رپورٹ ہذا حضور ملکہ معظمہ میں ارسال کرکے یہ مشورہ دیتی ہے کہ فیصلہ ڈگری ہائی کورٹ مورخہ 6 دسمبر 1887ء مسترد ہونا چاہیے اور اگر ملکہ معظمہ رپورٹ ہذا کو پسند کرے تو پریوی کونسل حکم کرتی ہے کہ رسپانڈنٹ خرچہ اپیل ہذا کا جو ہائی کورٹ میں ہواہو اورعلاوہ 236 پونڈ 2 شلنگ اور 4 پنس خرچہ ملک انگلستان کا اپیلانٹاں کو اداکرے۔

ملکہ معظمہ بعد ملاحظہ رپورٹ و حسب مشورہ پریوی کونسل کے پریوی کونسل کی رپورٹ کو پسند کرتی ہے اور ڈگری صادر کرتی ہے کہ فیصلہ و ڈگری ہائی کورٹ مورخہ 6 دسمبر 1888ء مستر ہو اور فیصلہ و ڈگری ایڈیشنل سب جج مظفر پور باستثناء استدعا دفعہ 4 عرضی دعویٰ بحال ہوا ور اپیل جو بنا راضی فیصلہ سب جج بعدالت ہائی کورٹ ہوا تھامع خرچہ ڈسمس ہوا اور اپیلانٹاں خرچہ اپیل ہذا جو ہائی کورٹ میں ہوا ہو اور بھی 236 پونڈ 2 شلنگ اور 4 پنس جو انگلستان میں خرچ ہوا وہ رسپانڈنٹاں سے پاویں۔ حکام ہائی کورٹ و دیگر اشخاص متعلقہ واقف و آگاہ ہوں۔ تمام شدہ

(ماخوذ از اقامتہ برہان علی بطلان التبلیان از مولانا عبدالاحد خانپوری ۔ صفحہ 368 تا 380)

مطبوعہ ۔ شریف پریس راولپنڈی ۔ شوال 1337ھ

قارئین کرام! یہ طویل فیصلہ جو برٹش ایمپائر کی سب سے بڑی عدالت ہے بنگال ہائی کورٹ کے انگریز ججوں کے فیصلے کے خلاف صادر ہوا۔بغور ملاحظہ فرمائیے اور دیکھیے کہ اہل حدیث کو اہل سنت قرار دیا گیا ہے۔اہل حدیث کی اقتداء میں مقلدین کے دلائل سننے کے بعد مقلدین کی نماز کو درست قرار دیا گیا ہے ۔ ہم اپنے ان کرم فرماؤں سے پوچھتے ہیں کہ اگر یہ لوگ اپنے تازہ مؤقف میں سچے ہیں تو پریوی کونسل میں پیش ہوکر یہ مؤقف کیوں نہ پیش کیا۔ وہاں سے بھاگ کیوں گئے تھے۔ آخر وہ نئے دلائل کون سے ہیں جو اس فیصلہ کے بعد ان لوگوں کے ہاتھ آئے ہیں۔ وہ دلائل لے کر یہ کسی عدالت میں کیوں نہیں جاتے اور پریوی کونسل کا یہ فیصلہ کالعدم کیوں نہیں کرواتے۔ عوام کا لانعام کو ایسی باتوں سے بے خبر رکھ کر کیوں غلط راستے کی طرف ہانک رہے ہیں۔ حقائق کوپس پشت ڈال کر تعصب اور ہٹ دھرمی سے کیوں اپنی عاقبت خراب کی جارہی ہے۔ حرمین کے ائمہ اور عاملین سنت کو کیوں مورد طعن بنایا جارہا ہے۔ ہم آئندہ نشست میں علمائے احناف کے دو فتوے آپ کے سامنے پیش کریں گے اور بتائیں گے کہ جن امور کے باعث آج کے مقلدین حضرات اہل حدیث کو مطعون کرتے ہیں جب اج سے 90 سال قبل انہی امور پر بحث و نظر کا سلسلہ شروع ہوا تھا تو علمائے احناف نے کس طرح اہلحدیث کے مسلک حق کےسامنے گھٹنے ٹیک دیئے تھے۔

امت ایک غیر منقسم وحدت ہے جسے فرقہ بندی او رانتشار سےمحفوظ رکھنا ہم سب کا اوّلین فریضہ ہے۔