بدلوگوں کی خوشحالی: عن أبي هریرة رضي اللہ تعالیٰ عنه قال: قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم : لا تغبطن فاجرا بنعمة فإنك لاتدري ما ھولاق بعد موته إن له عنداللہ قاتلا لا یموت یعني النار (مشکوٰۃ بحوالہ شرح السنۃ)

''فرمایا: کسی فاسق فاجر کی خوشحالی پر رشک نہ کیجئے! کیونکہ آپ نہیں جانتے مرنے کے بعد اس کا کیا حشر ہونے والا ہے،یقین کیجئے: اس کےلیے اللہ کے پاس ایک غیر فانی عذاب ہے یعنی دوزخ۔''

ایسی خوشحالی جو تعلق باللہ پربوجھ نہ بنے اور حقوق العباد کے سلسلے میں ''بے رحم'' نہ ہونے دے۔ ہمارےنزدیک ''سلیمانی'' ہے اگر ایسی خوشحالی انسان کو ایسا سرگراں کردے کہ نفس و طاغوت کے آستاں پر جبہ سائی سے اس کو انبساط اور نشاط محسوس ہو لیکن خدا کے حضور سرجھکانے کے قابل نہ رہنے دے۔ تو وہ بولہبی یا قارونی ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے یہ خوشحالی بسا اوقات بہت بڑے ابتلاء کا موجب بن جاتی ہے، قرآن و حدیث کی زبان میں اسے ''استدراج'' کہتے ہیں۔ چنانچہ بالآخر دنیا یا آخرت میں اس سے ایسے لوگوں کی نکبت اور ذلت کا اتمام ہوکر رہتا ہے۔ اعاذ نا اللہ منہ۔ بس مندرجہ بالا حدیث میں انہی بدنصیبوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد ہر خوشحال انسان کے لیے یہ سوچنا آسان ہوگیا ہے کہ وہ اب کہاں کھڑا ہے؟

روزی خود بندے کی تلاش میں ہے: عن ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنه قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم..... إن روح القدس نفس في روعي: إن نفسا لن تموت حتیٰ تستکمل رزقھا ألافاتقوا اللہ و أجملوا في الطلب ولا یحملنکم استیطاء الرزق أن تطلبوہ بمعاصي اللہ فإنه لا یدرك ما عنداللہ إلا بطاعته (مشکوٰۃ بحوالہ شرح السنۃ و شعب الایمان)

رسول کریمﷺ کا ارشاد ہے کہ : جبرائیل امین علیہ السلام نے میرے دل میں یہ القاء کیا ہے کہ: اپنی روزی پوری کیےبغیر کوئی بھی شخص نہیں مرے گا! خبردار! اللہ سے ڈرتے ہوئے ! (تلاش رزق میں) احسن طلب کو ملحوظ رکھیے! رزق کے پہنچنے میں تاخیر ، تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ ناجائز ذرائع سے اس کےحصول میں پڑ جائیں، کیونکہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ صرف اس کی اطاعت سے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔

ایک اور روایت میں یوں آیا ہے:

إن الرزق لیطلب العبد کما یطلبه أجله (مشکوٰۃ بحوالہ ابونعیم فی الحلیہ۔ عن ابی الدرداء)

''روزی بندے کی تلاش میں یوں رہتی ہے جیسے موت اس کا پیچھا کرتی ہے۔''

جتنی روزی کسی کو چاہیے، وہ بہرحال اسے مل کر رہے گی اس لیے اسے مطمئن رہنا چاہیے اور غلط راہوں سے حاصل کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے،جو لوگ خدا کی ناراضگی کی پروا کئے بغیر ''جلب زر'' کےلیے خبط کی حد تک بدحواس ہورہتے ہیں، وہ دراصل زبان حال سے اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ: ان کو خدا نہیں چاہیے، چند لقمے بہرحال انہیں ملنے چاہیئیں!

سچی روزی وہ ہوتی ہے جس کے بارے میں باز پرس کا اندیشہ نہ ہو، جس سے انسان کی آخرت بوجھل نہ ہو اور چند روزہ زندگی کے یہ چند پیریڈ خیر وعافیت سے پاس ہوجائیں ''لایدرك ما عنداللہ إلا بطاعته'' کے جملے میں بس اسی روزی کا ذکر ہے، باقی رہی وہ روزی جس سے چند گھڑیاں تو پر نشاط رہیں اور اس سے ''کام و دہن'' کا چسکا بھی پورا ہو لیکن اس کے بعد جب جوتے پڑیں تو ''کھا کرپچھتانے'' والی بات بن جائے تو وہ بہرحال نافرمانوں ی ''جست'' سے کچھ دور نہیں ہے۔ کیونکہ ناپاک کنویں میں ناپاک ڈول ڈالا جائے تو پاک پانی نہیں نکلے گا، ناپاک ہی دستیاب ہوگا۔

بہرحال حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نہایت حکیمانہ انداز میں یہ بات ذہن نشین کرائی ہے کہ حالات ناسازگار ہوجائیں تو بدحواس نہ ہوں، ہوش میں رہ کر گتھی کو سلجھانے کی کوشش کریں، ایسا نہ ہو کہ زندگی کےان چند ناساز گار لمحات سے خلاصی پانے کے لیے اپنی اپنی زندگی اور صالح سرشت کو ناسازگار بنانے پر تل جائیں۔ کیونکہ بالآخر یہ سودا بہت ہی مہنگا پڑے گا۔ ہمارے نزدیک یہ ناساز گار گھڑیاں انتہائی کربناک ابتلاء اور آزمائش کی حیثیت رکھتی ہیں روزی کی تلاش میں ''بد'' بننےسے دریغ نہ کرنا، کریکٹر کی انتہائی پستی کی نشانی ہے۔

اطاعت سے خوشحالی کے سامان ہوتے ہیں: عن أبي ہریرةرضی اللہ عنه أن النبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم قال: قال ربکم عزوجل : لو أن عبیدي أطاعوني لأ سقینھم المطر باللیل واطلعت علیهم الشمس بالنھار ولم أسمعھم صوت الرعد (احمد)

''فرمایا: بڑی شان والے تمہارے رب کا ارشاد ہے کہ: میرے بندے اگر میری اطاعت کریں (تو) میں رات کو ان پرمینہ برساؤں اور دن کو دھوپ کروں اور ''گرجنے کی آواز'' تک ان کو نہ سناؤں''

غرض یہ کہ:صحیح اور بابرکت روزی صرف رب کی نافرمانی کے ذریعے حاصل ہوتی اور بڑھتی ہے، ہتھکنڈوں سے جو روزی ملتی ہے،وہ روزی نہیں ہوتی، انگارے ہوتے ہیں، جن کی وجہ سےانسان کی اخلاقی دنیا او رروحانی کائنات جل کر خاکستر ہوجاتی ہے، جو خوف خدا ملحوظ رکھتے ہیں، وہ کیسی بھی بلا کے منہ میں ہوں، اللہ تعالیٰ خیر و عافیت سے چھٹکارا دے کر ، ان پر خیروبرکت کے دروازے کھول دیتا ہے کہ انسان دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے۔

إن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم قال إني لالأ علم ایة لو أخذ الناس بھا لکفتھم :و من یتق اللہ یجعل له مخرجا و یرزقه من حیث لا یحتسب (ابن ماجہ ابی ذر)

''فرمایا : مجھے ایسے آیت معلوم ہے ،اگر لوگ اس کا دامن تھام لیں تو وہ ان کو کافی ہوجائے (وہ آیت یہ ہے کہ) اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے خلاص کی خود صورت پیدا کردیتا ہے اور روزی یوں ان کو دیتا ہے کہ ان کے سان گمان میں بھی نہیں ہوتی۔''

ان کو حقارت سے نہ دیکھیں: عن أنس رضی اللہ تعالیٰ عنه قال کان أخوان علی عهدالنبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم فکان أحدھما یأتي النبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم والا خریحترف فشکا المحترف أخاہ النبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم فقال لعلك ترزق به (ترمذی)

''حضرت انس فرماتے ہیں، رسو ل کریمﷺ کے عہد میں دو بھائی تھے، ایک تو حضورؐکی خدمت میں حاضری دیا کرتا تھا، دوسرا دستکاری کرکے کماتا تھا، اس حرفہ والے نے اپنے بھائی کی حضورؐ کی خدمت میں شکایت کی، آپ نے جواب دیا کہ: کیا پتہ تمہیں روزی اسی کے صدقے سے ملتی ہو۔''

کچھ لوگ روزی کما کر کھاتے ہیں او ربعض اس قابل بھی ہوجاتے ہیں کہ دوسروں کی دیکھ بھال کریں۔ یہ توفیق ، خدا کی دین ہے، جوخرچ کرکے دل بھاری بھی کرلیتے ہیں او ران کو حقارت سے دیکھنے لگ جاتے ہیں، وہ دراصل ''ناشکری'' کا ثبوت دیتے ہیں۔ اگر ہوش سے کام لیتےتو ان پر وجد طاری ہوجاتا کہ ، خدا نے ان کو اس کےقابل بنایا ہے ۔ایسا نہیں ہوا کہ ان کو غیروں کا دست نگر بنا کر، دوسروں کا محتاج کیا۔

اس کے علاوہ ان کی کمایوں او رمالوں میں غربا اور مساکین کا بھی حق ہے۔

فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَعْلُومٌ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ(الذرایت ۔پ27)

وہ دراصل ان سے اپنا حق وصول کرتے ہیں، ان سے ان کا کچھ نہیں لیتے۔ اس لیے ناک بھوں چڑھانا کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے۔ علماء حق ، ان کی درسگاہیں اور تبلیغی ادارے، اس امر کے سزا وار ہیں کہ آپ ان کی خدمت کریں تاکہ وہ دلجمعی سے خدمت دین کا فریضہ انجام دے سکیں۔ مگر افسوس ! کچھ لوگ ان پر خرچ بھی کرتے ہیں او ران پر ''مفت خوروں'' کی پھبتی بھی کستے ہیں۔ اگر وہ غور کرتے تو کیا عجب کہ: ان کی خدمت کے صدقے میں اللہ تعالیٰ ان کو بھی دیتا ہو۔

حرص کا کوئی علاج نہیں: عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم لو کان لابن ادم و ادیان من مال لا بتغیٰ ثالثا ولا یملأجوف ابن ادم إلا التراب و یتوب اللہ علی من تاب (بخاری و مسلم)

''فرمایا: انسان کے پاس اگر (مال و دولت کی) دو وادیاں ہوں تووہ تیسری بھی ڈھونڈھے۔ (اصل بات یہ ہے) ابن آدم کے پیٹ کو (قبر کی) مٹی ہی بھرتی ہے او راللہ ان پر توجہ دیتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔''

دولت کمانا بُرا نہیں ، لیکن اس کےپیچھے بدحواس ہونا بُرا ہے، کیونکہ ایسے لوگ عموماً خدا کے حضور حاضری دینے کے قابل کم رہتے ہیں،جتنا وقت ملتا ہے وہ ''حصول دنیا'' کے لیے صرف کر ڈالتے ہیں۔ اور اگر خدا کے لیے کچھ وقت نکالتے ہیں تو اس ڈر سے نکالتے ہیں کہ اللہ میاں ناراض ہوکر ان کو غارت نہ کرے۔ ...الا ماشاء اللہ وان ھم الاقلیل ....بہتر یہی ہے ک ہ:پیٹ کے دھندے کے لیے اتنی جوجہد کرے جس سے ''تعلق باللہ'' پربُرا اثر نہ پڑے۔ اس کے باوجود اگر دنیاکے ڈھیر لگ جاتے ہیں تو مبارک ہے، کیونکہ اس سے ملک و ملت کی خدمت اور دین برحق کی اشاعت کے لیے کام لیا جاسکتا ہے ۔ اگر یہ بات نہ ہو تو دنیا ایک دلچسپ آزمائش بن جاتی ہے جو بالآخر لے ڈوبتی ہے۔ یہاں یا وہاں۔

سب کا حساب دینا ہوگا: عن زید ابن أسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال استسقیٰ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یوما فجئ بماء قد شیب بعسل فقال إنه لطیب لکني أسمع اللہ عزوجل نعیٰ علی قوم شھواتھم فقال اذھبتم طیبتکم في حیوتکم الدنیا واستمتعتم بھا فأخاف أن تکون حسنا تناعجلت لنا فلم یشربه (مشکوٰۃ)

''فرمایا: ایک دن حضرت عمرؓ نے پینے کو مانگا تو انہیں شہد ملا ہوا پانی پیش کیا گیا۔ آپ نے فرمایا: یہ بہت اچھا ہے، لیکن میرے کانوں میں آواز آرہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کے نفسیاتی چسکوں کا ماتم کیا ہے، چنانچہ فرمایا: تم نے اپنی دنیوی زندگی میں اپنے چسکے پورےکرلیے او رخوب مزے لوٹے، اس لیے مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں ہماری نیکیوں کا بدلہ یہاں نہ چکا دیا جائے (یہ کہہ کر) انہوں نے نہ پیا (اور واپس کردیا)''

اس سےمعلوم ہوا کہ دنیا میں مزے لوٹے جاتے ہیں، ہماری نیکیاں اس میں وضع ہوتی رہتی ہیں جتنے مزے ہوں، اتنی نیکیاں یہاں لٹ جاتی ہیں، الا یہ کہ نیکیوں کا پلہ اس قدر بھاری ہو کہ قیامت میں کمی کا احساس ہی نہ ہونے پائے۔ مگر ایسے خوش نصیب کتنے ہوں گے؟ ان کا اندازہ سبھی لوگ آسان سے کرسکتے ہیں۔

دنیا کی فراوانی او راس کےنعمتوں سےبے حساب لطف اندوز ہونا، خطرہ سے خالی نہیں ہے۔ ایک تو اس سے ''حیوانیت'' پھلتی پھولتی ہے اور آدمیت کی قدریں گھٹتی ہیں، دوسرا آخرت کا حساب طویل ہوجاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ غرباء پانچ سو سال پہلے اغنیاء سے بہشت میں داخل ہوں گے کیونکہ ان کا حساب مختصر ہوگا او ران کا لمبا،اس لیے مالداروں کو کافی دیر لگ جائے گی۔ جیسا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام او رحضرت عبدالرحمن بن عوف کے بارے میں حضورؐ کا ارشاد ہے کہ حضرت سلیمان سب نبیوں کے بعد اور حضرت ابن عوف سب صحابہ کے بعد بہشت میں جائیں گے کیونکہ انہوں نے دوسروں کی بہ نسبت دنیا کی بہاریں زیادہ دیکھی تھیں۔

ہر پیغمبر کی ذات معلوم ہوتی ہے اور تعلق باللہ میں اتنی راسخ ہوتی ہے کہ دنیا اپنی ہزار نازو ادا کے باوجود اس کو متاثر نہیں کرسکتی، تاہم اتنا اثر انداز ضرور ہی ہوجاتی ہے کہ: ان کا سفر بوجھل ہوجاتا ہے حساب طویل او رچیکنگ شدید کی وجہ سے منزل تک پہنچتے پہنچتے وہ شرابور ہوہوجائیں گے، پھر کہیں جا کر منزل آئے گی۔ جہاں دنیا کی اس ارزانی کی وجہ سے انبیاء علیہم السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا یہ حشر ہوسکتا ہے، اندازہ فرما لیں کہ وہاں ہماوشما کا کیا حال ہوگا؟ بہرحال یہ دنیا اور اس کی نعمتیں میسر ہیں، تب بھی انسان ایک بہت بڑی آزمائش میں پڑ جاتا ہے، اگر ننگ و افلاس ہے تو بھی ایک عجیب ابتلاء کا سامنا درپیش ہوتا ہے۔ بس دنیا کے باوجود بخدا رہے تو یہ سلیمان ورنہ قارونی ۔ اور غربت و افلاس کے باوجود ایمان عمل صالح کا دامن ہاتھ میں رہا تو یہ سلمانی او ربلالی ہے ورنہ حرمان او ر بدنصیبی ہی بدنصیبی ہے کہ:

ع ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے