﴿إِنَّا بَلَوْنَاهُمْ كَمَا بَلَوْنَا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ (17) وَلَا يَسْتَثْنُونَ (18) فَطَافَ عَلَيْهَا طَائِفٌ مِنْ رَبِّكَ وَهُمْ نَائِمُونَ (19) فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ (20) فَتَنَادَوْا مُصْبِحِينَ (21) أَنِ اغْدُوا عَلَى حَرْثِكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَارِمِينَ (22) فَانْطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخَافَتُونَ (23) أَنْ لَا يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِسْكِينٌ (24) وَغَدَوْا عَلَى حَرْدٍ قَادِرِينَ (25) فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوا إِنَّا لَضَالُّونَ (26) بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ (27) قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُونَ (28) قَالُوا سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ (29) فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَاوَمُونَ (30) قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا طَاغِينَ (31) عَسَى رَبُّنَا أَنْ يُبْدِلَنَا خَيْرًا مِنْهَا إِنَّا إِلَى رَبِّنَا رَاغِبُونَ (32) كَذَلِكَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ﴾ (پ29۔ القلم ع1)

ترجمہ: ''(اے پیغمبر!) جس طرح ہم نے (ایک) باغ والوں کو آزمایا تھا اسی طرح ہم نے (کفار مکہ) کوبھی آزمایا ہے، کہ ان باغ والوں نے قسمیں کھا کھا کر کہاکہ صبح ہوتے ہی ہم اس کےپھل ضرور توڑ لیں گے او ران شاء اللہ بھی نہ کہا، تو یہ سوتے کے سوتے ہی رہے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بلائے ناگہانی نازل ہوئی (اور اس سرے سے اُس سرے تک)باغ پر پھر گئی اور صبح ہوتے ہوتے وہ ایسا (خالی) رہ گیا جیسے کوئی سارے پھل توڑ کر لے گیا ہو اور (ادھر) ان لوگوں نے صبح ہوتے ہوئے ایک دوسرے کو آواز دی کہ اگر تم کو پھل توڑنے ہیں تو صبح سویرے اپنبے باغ میں جاپہنچو، چنانچہ وہ (سب لوگ) روانہ ہوئے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھےکہ (دیکھنا) آج کوئی محتاج تم تک باغ کے اندر نہ آنے پائے (ورنہ اس کو کچھ دینا پڑے گا۔ غرض اپنے تئیں) یہ سمجھ کر کہ بس اب جاتے ہی پھل تور لیں گے ، بڑے اہتمام کے ساتھ بہت سویرے جا پہنچے، چنانچہ جب انہوں نےباغ کو (جاکر) دیکھا تو ایسا اجڑا پڑا تھا کہ اسے پہچان نہ سکے (اور) لگے کہنے کہ ہو نہ ہو ہم (راستہ)بھول گئے (پھر سوچے تو بولے:نہیں! راستہ نہیں بھولے)بلکہ ہماری تقدیر پھوٹ گئی، ان میں سے جو بہتر آدمی تھا،لگا کہنے کہ : کیا میں تم سے نہیں کہا کرتا تھا کہ خدا (کا شکر اور اس کی ) تسبیح ( و تقدیس) کیوں نہیں کرتے؟ (سو وہ اب) بول اٹھے کہ ہمارا رب پاک ہے، بے شک ہم ہی قصور وار تھے، پھر ایک دوسرے کو کوستے ہوئے،ایک دوسرے سے مخاطب ہوئے ، (اور پھر سب)بول اٹھے کہ ہائے ہماری کم بختی! ہم ہی حد سے بڑھ گئے تھے ، عجب نہیں کہ ہمارا رب اس سے (بھی) بہتر باغ عنایت فرمائے۔ اب ہم اپنے رب کی طرف رجوع ہوئے (اے پیغمبر!جو ناشکری کرتے ہیں ان پر دنیا میں)ایسا ہی عذاب (نازل ہواکرتا ہے) او رآخرت کا عذاب تو اس سے (بھی) کہیں بڑھ کر ہے۔ ا ےکاش! وہ سمجھتے ہوتے۔''

ملک سبا (یمن) باغوں کا ملک تھا سدمآرب (قوم سبا کا منگلا ڈیم یا تربیلا ڈیم) کے ذریعے ان کی زرعی پیداوار اپنا جواب آپ تھی، جب لوگ گھروں سے نکلتے تو دو طرفہ باغات کی قطاروں میں گزرتے ، کھانے کو پھل ، سونگھنے کو عطر بیز فضائیں اور نظارہ کے لیے نظر نواز گل ولالہ کی ایک وسیع دنیا سامنے ہوتی۔کہتے ہیں یہ بند542ء کے لگ بھگ کہیں جاٹوٹا او راللہ تعالیٰ کے حکم سے اسی پانی کی لہروں نے ان کی قبریں بن کر ان ا قصہ تمام کیا۔إنا للہ وإنا إلیه راجعون۔

ابن کثیر کی ایک روایت سے پتہ چلتا ہے کہ : یہ بھی یمن کے ایک خاندان کا واقعہ ہے جو صنعاء سے تقریباً تین کوس کے فاصلے پر آباد تھا۔ موجودہ افراد خانہ کےوالد صالح انسان تھے۔ وہ باغ او رکھیتی سے متعلقہ حقوق شرعی، اپنے حالات کے مطابق ادا کیاکرتے تھے۔ جب وہ دنیا سے لد گئے تو اولاد وارث بنی، انہوں نے سوچا کہ باپ اتنی دولت لٹا کر آمدنی کا ایک بڑا حصہ ضائع کردیا کرتا تھا ۔ اب ہمیں چاہیے کہ اسے بچائیں۔ چنانچہ صبح کواندھیرے منہ گھر سے نکل کھڑے ہوئے تاکہ کسی محتاج نادار اور غریب کو پتہ نہ چلے،اس پر خدا کو غیرت آئی او ران کے پہنچنے سے پہلے باغ اور کھیتی کو ٹھکانے لگا دیا او راس سرے سے لےکر اس سرے تک ، ویرانی ہی ویرانی چھا گئی۔ آنکھیں مل کر غور سے دیکھنے لگے کہ شایدہم راستہ بھول گئے، پھر یکدم عقل ٹھکانے آگئی اور بولے! نہیں نہیں! باغ کا راستہ نہیں بھولے! راہ حق بھول گئے ، یہ ساری اس کی سزا ہے۔

ان میں سے جو صالح شخص تھا، اس نے اس بات پر ان کو ملامت کی ، کہ میں نے بارہا سمجھایا کہ یہ تمہاری ذات کا کوئی کرشمہ نہیں، یہ ذات برحق کی ساری کرشمہ سازیاں ہیں، اسی کے گیت گایا کرو! مگر تمہیں میری بات سمجھ نہ آئی! اس پر وہ ایک دوسرے کو کوسنے لگے! پھر سب یک زبان ہوکر بولے! دراصل ہم حدسے بڑھ گئے تھے۔اب ہم اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں، امید ہے کہ وہ پھر ہم پر مائل بہ کرم ہوگا اور اس باغ سے بھی بہتر عنایت کرے گا۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ : ناشکری کی سزا کے یہ دنیوی نمونے ہیں، باقی رہا عذاب آخرت؟ سو وہ تو اس سے بھی کہیں بڑا ہوگا۔ کیونکہ طغیان اور سرکشی کے مطابق پوری پوری سزا وہاں ہوگی یہاں نہیں۔

فقہ القرآن

آزمائش : دھن دولت اور خوشحالی جہاں اللہ کی دین اورعنایت ہوتی ہے وہاں وہ سراپا ابتلاء ، آزمائش اور امتحان بھی بن جاتی ہے، جوقومیں یا افراد اس سلسلے کے حقوق خالق او رحقوق مخلوق سے بے پروا رہتے ہیں،ان کامستقبل دنیوی یا اخروی یا دونوں بہرحال خطرے کی زد میں ہوتے ہیں۔

متعلقہ حقوق: ان آیات سے یہ بھی مترشح ہوتا ہے کہ: ہر ذاتی ملکیت سے حقوق اللہ او رحقوق العباد ضرور متعلق ہوتے ہیں۔ وہ حقوق جن کا تعلق سرکار سے ہے، اگر کوئی شخص وہ ادا نہ کرے تو ان کے خلاف قانونی طاقت استعمال کی جاسکتی ہے مگ ران کو حقوق ملکیت سےمحروم نہیں کیا جاسکتا، جیسا کہ باغ والوں کے واقعہ سے مترشح ہوتا ہے کہ سرکاری عشر ادا کرنے سے گریز کرنے کی پاداش میں ان کو دھر لیا گیا او رحکومت ان پرتاوان بھی عائد کرسکتی ہے۔

وہ حقوق العباد جن سے رضاکارانہ طور پر عہدہ برآ ہونا پسندیدہ ہوتا ہے، ان کی طرف لوگوں کو سرکار کا متوجہ کرنا اور توجہ دلانا اور ترغیب و تحریص کےسامان پیدا کرنا ہی کافی ہوتا ہے۔

اللہ سے بے خو ف نہ ہوجانا چاہیے: غلط طرزحیات اور اعمال کےسلسلے خدا کی گرفت سے بے پرواہ نہیں ہوجانا چاہیے؟ کچھ پتہ نہیں کہ کب وہ دھر لے، اس لیےجلدی توجہ کرنی چاہیے جب گرفت کے آثار نمایاں ہوجائیں تو پھر خدا کے حضور گڑگڑانے میں سستی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ بعض اوقات سزا کے باوجود ابھی مہلت باقی ہوتی ہے۔ خدا کو ابھی تنبیہ اور تادیب منظو رہوتی ہے لعلھم یرجعون شاید وہ سیدھی راہ کی طرف پلٹ آئیں۔

خدا کی تادیبی گرفت کوبسا اوقات لوگ ''اتفاقات'' تصور کرلیتے ہیں یا کسی ٹیکنیکل لغزش کا نتیجہ، اس لیے ایسے لوگ اصلاح حال کی توفیق سے محروم ہوجاتے ہیں، جس کے بعد وہ وقت بھی آجاتا ہے،جب مہلت کی میعاد ختم ہوجاتی ہے۔ یہ مرحلہ خاص خطرناک ہوتا ہے بہرحال اب صحیح دوا گڑگڑانا ہوتا ہے۔ (إنا إلى ربنا راغبون)

معصیت سے خوشحالی متاثر ہوتی ہے: ان آیات سےمعلوم ہوتا ہ کہ معاصی اور خدا سے غفلت کی وجہ سے انسان کی آسودگی،طمانیت اور روزی ضرور متاثر ہوتی ہے۔

تبلیغ: جب گناہوں کی پاداش میں انسان آفات کی زد میں آجاتا ہے، اس وقت ان کو ان کے مسرفانہ کرتوت کے نتائج سے آگاہ کرنا مناسب ہوتا ہے تاکہ وہ اب سنبھل کر خدا کی طرف رخ کریں۔ وقال أوسطهم ألم أقل لكم لولا تسبحون۔

اعتراف : جب انسان کے سر پر و بال آجاتا ہے تو وہ عموماً اس کی ذمہ داری اپنے بجائے دوسروں کے سر پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ گویا کہ ایک غلطی کے بعد ایک دوسرے غلطی کا اضافہ کردیتا ہے، اس لیے اسے چاہیے کہ وہ دوسروں کو کوسنے یا لے دے پر وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنی غلطی کا اعتراف کرے اور پھر خدا سے تجدید عہد کرتے ہوئے اس سےمعافی مانگ لے۔ (وقالوا يويلنا إنا كنا طغين)

عبرت پذیری: عبرت پذیری خدا کی طرف سے بہت بڑی ''توفیق'' ہے۔ جو اس سے محروم ہوجاتے ہیں وہ غالباً کسی شدید تر گرفت کو دعوت مبارزت دینے کا التزام کرتے ہیں(لوكانوا يعلمون)

حیلہ سازی : احکام الہٰی سے فرار کرنے کے لیے جو بھی چارہ سازی یا حیلہ سازی اختیار کی جاوے اس کی وجہ سے تعمیل حکم کی فرضیت ساقط نہیں ہوتی بلکہ لینے کے دینے بھی پڑ جاتے ہیں۔ جھونکے میں جوتے سوا پڑ جاتے ہیں(فانطلقوا وهم يتخافتون)

ہم آج کل جس دور سے گزر رہےہیں، بلا استثنا، عرب ہو یا عجم، مغرب ہویا مشرق، وہ آج ابتلاء کی اسی سان پر آکر کھڑا ہوگیا ہے جس کے بعد کسی قوم کے مستقبل کے لیے نئے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ زمین و آسمان بندوں سے سرگرداں ہورہ ہیں، شمس و قمر کی تابانیاں اور ضیا باریاں کچھ مہنگی ہوچلی ہیں، ہماری اپنی سوچیں، خود ہمیں ہولناک اورمہلک غاروں کی طرف دھکیلنے میں مصروف نظر آتی ہیں،ہمارے اپنے قدم تیزی سے ان کی طرف برھ رہے ہیں۔ ہمارے اپنے ہاتھ، خود ہمارے لیے قبریں کھودنے میں شب و روز مصروف کار ہیں، ہمارے رہنما ہماری راہ مارنے پر تلے ہوئے ہیں، ہمارے افراد خود کشی پرمائل ہیں۔ ہمارے اجتماعی ڈھانچے ، بھتنوں اور غولوں کے بگولے بنتے جارہے ہیں، ابن آدم، ڈارون کے بندروں کی یاد تازہ کررہے ہیں، بس کسر صرف دم کی رہ گئی ہے۔ کیوں؟ صرف اس لیے کہ :

حق تعالیٰ نے انسان کو آسمانوں اور ستاروں پر کمندیں ڈالنے کا یارا بخشا، ابرو باد اور برق و باراں کی تسخیر کا اس کو حوصلہ عطا کیا۔ پہاڑوں ن ان کی ہمتوں کے آگے اپنی سپر ڈال دی، زمین نے اپنے دفینے اُگل ڈالے۔ توانائیوں نے ابن آدم کے قدموں کو چوما، خوشحالی اور انواع و اقسام کی نعمتوں سے ان کی مہمانی کی گئی۔ مگر آہ! خدا کا شکرگزار بندہ بننے کے بجائے اس نےجانور اور درندہ بننے کوترجیح دی۔ اس لیے وہی وسائل جو ان کے اشارہ ابرو پرناچ کےلیے تھے اب وہ اپنی مٹھی میں لے کر ان کویوں بھینچے ہوئے ہیں کہ : اب فراوانی عیش کے باوجودموت کو آوازیں دے رہا ہے۔ یاد رکھیے! ابن آدم کو اگر اب بھی ہوش نہ آیا تو محسوس ہوتا ہے کہ خدا یہ دنیا بدلنے کو ہے۔