صاحبزادیوں میں سب سے بڑی صاحبزادی ہونے کا شرف کس کو حاصل ہے او ران میں سے سب سے کم سن کون ہیں؟ اس میں سخت اختلاف ہے۔چنانچہ علامہ جلی نے چند قول نقل کیے ہیں جو ترتیب وار درج ذیل ہیں:

1۔ زینب، رقیہ، فاطمہ، اُم کلثوم

2۔ رقیہ ، فاطمہ، اُم کلثوم

3۔ رقیہ، زینب ، اُم کلثوم، فاطمہ

3۔ زینب، رقیہ،اُم کلثوم، فاطمہ

4۔ زینب،رقیہ، اُم کلثوم، فاطمہ

5۔ فاطمہ ، رقیہ ........ رضی اللہ تعالیٰ عنهن (سیر جلی صفحہ 3؍345)

حافظ ابن حجر عسقلانی  کے صینع سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک صحیح نمبر چار ہے، جنہوں نے ''اُم کلثوم'' کو حضرت فاطمہ سے بھی کم سن کہا ہے، اس کو انہوں نے ''قیل'' (صیغہ تمریض) سے بیان کیاہے۔ ملاحظہ ہو (فتح الباری :15؍423)

یہ اسلوب امام ابن قیم نے اختیار کیا ہے۔ (زاد المعاد :1؍35)

اس اختلاف کے حل کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس سلسلے کی روایات کاتنقیدی جائزہ لیا جائے۔ ان کی ردایاتی حیثیت کے تعین سے یہ فیصلہ کرنا آسان ہوگا کہ : حضرت اُم کلثوم، حضرت فاطمہ سے کم سن ہیں یا بڑی؟ ہمارے نزدیے صحیح بات وہی ہے جو جمہور نے کہی ہے۔ باقی رہا یہ استباد کہ: اگر بڑی تھیں تو حضرت فاطمہ سے پہلے ان کا نکاح کیوں نہ ہوا؟ تو صرف اتنی سی بات سے ''عمر یا سن و سال کا تعین کچھ علمی سی بات نہین ہے۔ طبقات کی روایت اگر واقدی سے ہے تو جھگڑا ختم، کیونکہ وہ قابل اعتبار نہیں ہے۔

بہرحال یہ علمی او ر تاریخی مضمون ہے، اگر کوئی صاحب اس کےسلسلے میں اپنا جائزہ پیش کرنا چاہے تو محدث کے اوراق اس کے لیے حاضر ہیں بشرطیکہ نقد و نظر کا انداز محدثانہ او رمحققانہ ہو۔ (ادارہ)

حضور سرور کائناتﷺ کو بارگاہ الہٰی سے چار صاحبزادیاں عطا ہوئیں۔ جن کے اسمائے گرامی سیدہ زینب، سیدہ رقیہ، سیدہ فاطمہ اور سیدہ اُم کلثوم ہیں۔ عام تصور کے مطابق سیدہ فاطمہ رسول اللہﷺ کے سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں او ران کی ولادت دوسروں کے برعکس بعد بعثت ہوئی۔ سیدہ زینب کی شادی ابوالعاص بن ربیع اموی سے ہوئی۔سیدہ رقیہ کی شادی آنحضرتﷺ کے چچا زاد بھائی ابولہب کے بیٹے عتبہ سے ہوئی۔ سیدہ اُم کلثوم کی شادی عتبہ کے بھائی عتیبہ سے ہوئی۔ بعثت نبوی کے بعد ان بدبختوں نے کائنات کی شہزادیوں کو طلاق دے دی جس پرآنحضرتﷺ نے سیدہ رقیہ کی شادی حضرت عثمان بن عفان اموی سے کردی او رجب سیدہ رقیہ سیدنا عثمان کی زوجیت میں فوت ہوگئیں تو رسول اللہ ﷺ نے سیدہ اُم کلثوم کا نکاح بھی انہی کے ساتھ کردیا۔ حضرت فاطمہ کی شادی حضرت علیؓ سے ہجرت مدینہ سے فوراً بعد ہوئی اور بناء جنگ بدر کے بعد حارثہ بن نعمان کے مکان میں عمل میں آئی۔

اس عمومی تصور کو من وعن تسلیم کرلینے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جناب رسالت مآب نے سیدہ رقیہ کا نکاح ثانی تو طلاق کے فوراً بعد کردیا۔ لیکن سیدہ اُم کلثوم کے نکاح ثانی میں 13 سال کی تاخیر کیوں کی۔ جب کہ اس دوران آپ نے اُم کلثوم سے چھوٹی صاحبزادی سیدہ فاطمہ کی شادی حضرت علیؓ سے کردی۔ بڑی اور مطلقہ صاحبزادی کو نظر انداز کرکے چھوٹی کا نکاح کیوں کیا۔ اور کیوں اسے عین حالت جوانی میں اتنا طویل عرصہ اپنے گھر بٹھائے رکھا جب کہ عرب معاشرے میں مطلقہ یا بیوہ سے شادی کوئی معیوب بات نہیں سمجھی جاتی ہے او رہر آن اچھے سے اچھا خاوند مل سکتا تھا۔

ہمارا یہ مختصر سا مقالہ اسی سوال کا جواب ہے۔ ہم اپنے نظریات کے حتمی اور قطعی ہونے پر مصر نہیں ہیں بلکہ اہل علم قارئین کی جانب سے تنقید و تبصرہ کے خواہاں ہیں۔

ہم سب سے پہلے وہ روایات آپ کے سامنے رکھتے ہیں جن کے باعث وہ تصور ابھرتا ہے جس کا ذکر ہم کرچکے ہیں۔

محمد بن حبیب کی کتاب المجر میں آنحضرتﷺ کی اولاد امجاد کا بایں الفاظ ذکر ہے۔

فولدت (خدیجة) للنبي القاسم و زینب و أُم کلثوم و فاطمة و عبداللہ وھو الطاهر والطیب اسم واحد (صفحہ 79)

''کہ خدیجہ سے رسول اللہ ﷺؐ کےہاں قاسم، زینب، اُم کلثوم، فاطمہ اور عبداللہ پیدا ہوئے''

اس روایت مین حضرت فاطمہ کو رسول اللہ ﷺ کی سب صاحبزادیوں میں سے چھوٹی ظاہر کیا گیاہے۔

شیعہ حضرات کی مستند ترین کتاب اصول کافی ہیں۔ رسول اللہ کی از بطن خدیجہ اولاد کا تذکر یوں ہے۔

و تزوج خدیجة وھو ابن بضع و عشرین سنة فولدت له منھا قبل بعثه القاسم و رقیة و زینب و أم کلثوم وولدله بعد المبعث الطیب و الطاهر والفاطمة علیھا السلام (ص278)

''کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت خدیجہؓ سے 25 سال کی عمر کے لگ بھگ شادی کی او ران کے بطن سے رسول اللہ ﷺ کے ہاں قاسم، رقیہ، زینب، اُم کلثوم قبل بعثت او رطیب، طاہر ، فاطمہ بعد بعثت پیدا ہوئے۔''

اس روایت    میں جو شیعی اصح الکتب سے نقل کی گئی ہے۔ جہاں آنحضرتﷺ کی چار صاحبزادیوں کا ثبوت ملتا ہے وہیں فاطمہ کوچاروں میں چھوٹی بھی ظاہر کیاگیاہے اور ان کی ولادت کا زمانہ بعد بعثت نبوی بتایا گیا ہے۔

یہی بات ذرا وضاحت کےساتھ محمد بن علی ابن شہر آشوب کی کتاب آل ابی طالب میں مذکور ہے:

ولدت فاطمة بمکة  بعد النبوة بخمس سنین ..... و أقامت مع أبیھا بمکة ثماني سنین ھاجرت معه إلی المدینة فزوجھا من علي بعد مقدمھا المدینبة بسنتین۔

''کہ حضرت فاطمہ بعثت کے پانچ برس بعد مکہ میں پیدا ہوئیں۔ آٹھ سال اپنے والد گرامی کے گھر مکہ میں مقیم رہیں۔ پھر انہیں کے ساتھ مدینہ کی جانب ہجرت کی او رہجرت کے دو سال بعد حضرت علیؓ سے ان کی شادی (دس سال کی عمر میں) ہوئی۔''

اس روایت میں بھی سیدہ کی ولادت بعد بعثت بتائی گئی ہے۔ دوسری باتوں سے قطع نظر اس میں یہ بات تو سراسر غلط ہے کہ سیدہ فاطمہ نے آنحضرتﷺ کےساتھ ہجرت کی کیونکہ یہ شرف اس کائنات میں سوائے سیدنا صدیق اکبر کے کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہے۔

علامہ طبری کی کتاب إعلام الوریٰ بأعلام الهدیٰ میں حضرت علی اور سیدہ فاطمہ کی شادی کے وقت سیدہ کی عمر نو برس لکھی گئی ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سیدہ کی ولادت 5 یا 6 سن نبوت ہوئی۔ علامہ طبری فرماتے ہیں: وکان الفاطمة یوم بني بھا أمیرالمؤمنین تسع سنین (ص81) ''کہ جس روز سیدہ اور امیرالمومنین شادی کے بعد یکجا ہوئے سیدہ نو برس کی تھیں۔''

اور دیگر بنات رسول کے متعلق طبقات ابن سعد سے چند روایات نقل کرتے ہیں۔ سیدہ زینب کے متعلق لکھا ہے :

کانت أکبر بنات رسول اللہ تزوج ابن خالتھا أبوالعاص بن ربیع قبل النبوت ،وکانت أول بنات رسول اللہ تزوج ولدت لأبي العاص علیا و أمامة (طبقات جلد8 ص30)

''کہ سیدہ زینب رسو ل اللہ ﷺ کی سب سے بڑی صاحبزادی تھیں او رسب سے پہلے آپ ہی کی شادی ہوئی۔ خاوند کا نام ابوالعاص بن ربیع ہے اور امامہ اور علی نامی بچے پیدا ہوئے۔''

سیدہ رقیہ کے متعلق لکھا ہے :

کان تزوجھا عتبةبن أبي لهب بن عبدالمطلب قبل النبوة فلما بعث رسول اللہ وأنزل اللہ تبت ید اأبي لهب قال له أبوہ رأسی من رأسك حرام إن لم تطلق ابنته، ففارقھا رسو ل اللہ ولم یکن یدخل بھا وأسلمت حین أسلمت أمھا خدیجة بنت خویلد....... وتزوجت عثمان بن عفان وھاجرت معه إلی أرض الحبشة..... فتوفیت ورسول الله ببدر (طبقات جلد 8 ص36)

''کہ سیدہ رقیہ کی شادی قبل نبوت عتبہ بن ابی لہب سے ہوئی جب سورۃ تبت نازل ہوئی تو ابولہب نے بیٹے کو طلاق پر مجبور کیا۔ آنحضرتﷺ نے خاوند بیوی میں مفارقت کروا دی۔ پھر آپ کی شادی حضرت عثمان سے ہوئی۔ ان کے ساتھ حبشہ گئیں او رمدینہ میں بدر کے موقع پر فوت ہوئیں''

اور سیدہ اُم کلثوم کا ذکر یوں ہے:

تزوجھا عتیبة بن أبي لهب بن عبدالمطلب قبل النبوة..... ففارقھا ولم یکن یدخل بھا فلم تزل بمکة مع رسول اللہ وأسلمت حین أسلمت أمھا ..... فلما توفیت رقیة بنت رسول اللہ خلف عثمان بن عفان علی أم کلثوم بنت رسول اللہ و کانت بکراو ذلك في شھر ربیع الأول سنة ثلاث من الھجرة وماتت في شعبان سنة تسع من الھجرة (طبقات جلد8 ص37۔38)

''کہ سید اُم کلثوم کی شادی عتیبہ بن ابی لہب سے ہوئی۔ پھر قبل دخول طلاق ہوگئی۔ ہجرت تک آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مقیم رہیں۔ ہجرت کے بعد ربیع الاوّل 3 ہجری میں آپ کی شادی عثمان بن عفان سے کردی گئی (بعد وفات رقیہ) آپ کا وصال شعبان 9 ہجری میں ہوا۔''

ہمارے لیے آنحضرتﷺ کے تمام صاحبزادے اور صاحبزادیاں یکساں قابل احترام ہیں۔ ان کے پاؤں کی خاک ہمارے لیے سُرمہ چشم ہے۔رسول اللہ ﷺ بھی اپنی تمام اولاد سے یکساں محبت کرتے تھے۔اس معاملے میں باہم تفریق کرنا یا کسی ایک کو دوسرے سے بڑھانا آنحضرتؐ کی شفقت پدری پر حرف گیری کرنا ہے۔ ایک مخصوص انداز فکر کے حامل نے اُمت کے سامنے کچھ اس طرح کی صورت حال پیش کررکھی ہے کہ آنحضرتؐ اپنی اولاد میں سب سے زیادہ حضرت فاطمہ ؓ کو چاہتے تھے اور صاحبزادیوں کی اولاد میں حضرات حسنینؓ کو۔ لیکن یہ لوگ اس غم و حزن سے صرف نظر کرلیتے ہیں جو آنحضرتؐ کو اپنے صاحبزادے ابراہیم کی وفات پر ہوا تھا۔ حضرت زینب کی صاحبزادی حضرت امامہ سے رسول اللہ ﷺ کی محبت فراموش کردی جاتی ہے جسے آپؐ دوران نماز کندھوں پراٹھائے رکھتے تھے۔ انہیں یہ بات یاد نہیں ہے کہ رسول اللہ رحمۃ للعالمین ہونے اور لاتثریب علیکم الیوم کا اعلان عام کرنے کے باوجود اس بدبخت انسان کو واجب القتل قرار دے دیا تھا جس نے سیدہ زینب کے سفر مدینہ کے دوران انہیں اذیت دی تھی۔ ان مخصوص نظریات کے حامل افراد کو آنحضرتؐ کی زندگی کا وہ واقعہ بھی یاد نہیں رہتا جب رسول اللہ ﷺ نے اپنے گھر میں کوئی مرغوب شے پکوا کرایک پلیٹ حضرت اسامہ بن زید کے ہاتھ اپنی صاحبزادی سیدہ رقیہ کے گھربھجوائی ۔ اسامہ جب واپس آئے تو آپؐ نے اشتیاق سے پوچھا کہ گھر والے (حضرت عثمان اور رقیہ) کیاکررہے تھے ۔ جواب ملنے پر پوچھا۔ اسامہ کیا تو نے اس جوڑے سےزیادہ خوبصورت جوڑا کبھی دیکھا ہے؟ ہمارا مقصد کو کو بڑھانا یا گھٹانا نہیں ہے بلکہ صرف یہ بتانا ہے کہ رسول اللہﷺ کی ساری اولاد ان کے پارہ ہائے جگر تھے اور آپ ان سب پر انتہائی شفیق و مہربان تھے۔ حضرت فاطمہ کے متعلق جو عام روایات اس قسم کی ملتی ہیں کہ فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے یا میں اس سے محبت کرتا ہوں اور ان سے یہ نتیجہ اخذکیا جاتا ہے کہ فاطمہ آپ کو سب سے زیادہ محبوب تھیں۔ ان اقوال کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کی تمام اولاد یکے بعد دیگرے آپؐ کی حیات مبارکہ میں ہی فوت ہوگئی تھی۔ حضرت فاطمہ ہی صرف ایک صاحبزادی ہیں جو بعد وصال نبوی فوت ہوئیں۔ جوں جوں آپ کی اولاد اس دنیا سے اٹھتی جاتی تھی رسول اللہ ﷺ کی محبت پدری باقی رہ جانے والی اولاد کی طرف زیادہ مرتکز ہوتی جاتی تھی۔ جب ایک ہی صاحب زادی رہ گئی تو پھر آپؐ کے جذبات وہی ہونے چاہیئں جس قسم کے اقوال ملتے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ اس قسم کی صورت حال سے دوسری اولاد کی عظمت کو کم نہیں کیا جاسکتا۔

یہ ایک ضمنی گفتگو چل نکلی تھی بات دراصل سیدہ اُم کلثوم بنت محمد کی ولادت ، عمر اور شادی کے بارے میں ہونا ہے۔ مشہور شیعہ کتاب اعلام الوریٰ باعلام الہدیٰ میں آنحضرتؐ کی صاحبزادیوں کے نکاحوں کا ذکربایں الفاظ ملتا ہے:

فأما زینب بنت رسول اللہ فتزوجھا أبوالعاص بن ربیع فولدت لأبي العاص جاریةاسمھا أمامة فتزوجھا علي ابن أبي طالب بعد وفات فاطمة وماتت زينب بالمدينة لسبع سنين من الهجرة.
وأما رقية بنت رسول الله صلى البه عليه وآله وسلم فتزوجها عتبة بن أبي لهب، فطلقها قبل أن يدخل بها، ولحقها منه أذى، فقال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: (اللهم سلط على عتبة كلبا من كلابك) فتناولهالأسد من بين أصحابه. وتزوجها بعده بالمدينة عثمان بن عفان، فولدت له عبد الله ومات صغيرا، نقره ديك على عينيه فمرض ومات. وتوفيت بالمدينة زمن بدر، فتخلف عثمان على دفنها، ومنعه ذلك أن يشهد بدرا،وقد كان عثمان هاجر إلى الحبشة ومعه رقية. وأما أم كلثوم فتزوجهاأيضا عثمان بعد أختها رقية وتوفيت عنده. وأما فاطمة عليها السلام فسنفرد لها بابا (ص 14)

یعنی زینب بنت رسول اللہ ﷺ کی شادی ابوالعاص بن ربیع اموی سے ہوئی او رامامہ نامی صاحبزادی پیدا ہوئی۔ حضرت فاطمہ کی وفات کی بعد امامہ سے حضرت علی نے شادی کرلی۔ رقیہ بنت رسول اللہﷺ کی شادی عتبہ بن ابی لہب سے ہوئی جس نے قبل دخول طلاق دے دی۔ آنحضرتؐ نے اس کے لیے بددعا فرمائی اور اسے شیر نے اچک لیا۔ پھر مدینہ میں جاکر رقیہ کی شادی حضرت عثمان سے ہوئی اور عبداللہ پیدا ہوئے جو بچپن میں فوت ہوگئے۔ جنگ بدر کے موقعہ پر سیدہ رقیہ کا وصال ہوا ۔ حضرت عثمان ان کی تیمارداری کے باعث غزوہ بدر میں شریک نہ ہوسکے۔ اس سے قبل ہجرت حبشہ میں بھی سیدہ رقیہ جناب عثمان کے ساتھ تھیں۔ سیدہ رقیہ کی وفات کے بعد اُم کلثوم کی شادی حضرت عثمان سے کردی گئی اور آپ بھی انہی کے گھر فوت ہوئیں۔ حضرت فاطمہ کا ذکر ایک الگ باب میں کیا جائے گا۔''

اس روایت میں حضرت رقیہ کی شادی عتبہ بن ابی لہب سے بیان کی گئی ہے ۔ جس نے قبل دخول طلاق دے دی تھی۔ آپ کی دوسری شادی ہجرت مدینہ کے بعد حضرت عثمان سے بیان کی گئی ہے۔ طلاق او رنکاح ثانی کے درمیان ایک طویل وقفہ ہے۔ لیکن ساتھ ہی بتایا گیا ہے کہ ہجرت حبشہ کے دوران بھی سیدنا عثمان اور سیدہ رقیہ یکجا تھے۔ جو ہجرت مدینہ سے برسوں قبل ہوئی تھی۔ علامہ طبرسی یا تو بھول گئے ہیں کہ ایک ہی روایت میں شادی قبل ہجرت حبشہ بھی بناتے ہیں اور بعد ہجرت مدینہ بھی۔ یا دانستہ طور پر سیدہ رقیہ اور سیدنا عثمان کی ازدواجی زندگی کا عرصہ کم سے کم کرکے دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس روایت میں دوسری اہم بات یہ بیان ہوئی ہے کہ جناب سیدہ اُم کلثوم کا ایک ہی نکاح ہوا جو حضرت عثمان سے بعد وفات رقیہ تھا۔ یہاں عتیبہ سے شادی کاذکر نہیں ہے تو گویا اس شیعہ مؤلف کے نزدیک آپ کی ایک ہی شادی ہوئی تھی او ریہ شادی جنگ بدر کے وقوع پذیر ہوئی جب کہ دیگر تمام صاحبزادیوں کی شادی ہوچکی تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ اُم کلثوم عمر میں اپنی بہنوں سے چھوٹی تھیں جبھی ان کی شادی سب سے آخر میں ہوئی۔

اب اور روایت ملاحظہ فرمائیے جو اسی مضمون پر ملا باقر مجلس نے حیاۃ القلوب حصہ دوم صفحہ 718 پر نقل کی ہے۔

''حضرت جعفر روایت کردہ است کہ برائے رسول خدا از خدیجہ متولد شدند، طاہر، قاسم و فاطمہ و کلثوم و رقیہ و زینب ۔و فاطمہ را بحضرت امیر المومنین تزویج نمود، و تزویج کرد بابو العاص بن ربیعہ کہ از بنی امیہ بود زینب را۔ و بعثمان بن عفان اُم کلثوم را و پیش آز انکہ بخانہ آں رفت برحمت الہٰی واصل شدد بعد از و حضرت رقیہ راباد تزویج نمود۔''

یعنی امام جعفر روایت کرتے ہیں کہ حضرت خدیجہ سے رسول اللہ ﷺ کے ہاں طاہر، قاسم، کلثوم ، رقیہ، فاطمہ او رزینب پیدا ہوئے فاطمہ کی شادی حضرت علی سے ہوئی۔ زینب کی شادی ابوالعاص بن ربیع اموی سے ہوئی۔ اُم کلثوم کی شادی حضرت عثمان سے ہوئی لیکن رخصتی سے قبل وہ فوت ہوگئیں۔ اس پر سیدہ رقیہ کی شادی ان سے کردی گئی۔

گویا علامہ طبرسی کے نزدیک سیدہ رقیہ کی شادی پہلے ہوئی او ران کی وفات کے بعد اُم کلثوم کا بیاہ حضرت عثمان سے ہوا۔ جب کہ ملا باقر کے مطابق معاملہ اس سے الٹ ہے یہ تمام گڑ بڑا اس وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ شیعہ حضرات جناب سیدہ فاطمہ کی ولادت عہد اسلام میں ثابت کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کی خاطر انہیں باقی تمام بہنوں سے چھوٹی ظاہرکرتے ہیں۔ لیکن شادیوں کے معاملہ میں یہ دعویٰ ختم ہوکے رہ جاتا ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے شیعہ کے نزدیک بڑی یعنی اُم کلثوم کی موجودگی میں چھوٹی یعنی سیدہ فاطمہ کی شادی کردی ہے اور بڑی بہن کی شادی چھوٹی کے ایک سال بعد وقوع پذیرہوئی۔ لیکن اگر اہل بیت کے ایک اہم رکن۔ ایک سربرآوردہ ہاشمی ،عباسیوں کے سربراہ ےس رسول اللہﷺ کے چچا زاد بھائی، حیرالامت اور ترجمان القرآن جناب عبداللہ بن عباس کا یہ بیان پیش نظر رکھا جائے تو معاملہ صاف ہوجاتا ہے۔ فرماتے ہیں:

قال کان أوّل من ولد لرسول اللہ بمکة قبل النبوة لقاسم و به کان یکنی ثم ولدله ، زینب ثم رقیة ثم فاطمة ثم أم کلثوم ثم ولد له في الإسلام عبداللہ فسمی الطیب والطاھر أمھم جمیعاً خدیجة بنت خویلد ( طبقات جلد 1 ص133)

یعنی ابن عباس کے مطابق قبل بعثت رسول اللہ ﷺ کے ہاں خدیجہ سے قاسم پھر زینب ،پھر رقیہ پھر فاطمہ پھراُم کلثوم او ربعد بعثت عبداللہ پیدا ہوئے۔''

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ اُم کلثوم سب سے چھوٹی صاحبسادی ہیں اور فاطمہ ان سے بڑی ہیں او رسب صاحبزادیاں قبل بعثت پیدا ہوئی ہیں۔ طبقات جلد 8 صفحہ 19 کہ یہ روایت بھی مذکورہ بالا مضمون کی تائید کرتی ہے۔

فاطمة بنت رسول اللہ و أمھا خدیجة بنت خویلد بن أسد بن عبدالعزیٰ بن قصی ولدتھا و قریش تبني البیت و ذلك قبل النبوة بخمس سنین

''یعنی سیدہ فاطمہ جناب خدیجہ کے بطن سے اس وقت پیدا ہوئیں جب قریش آنحضرتؐ کی بعثت سے 5 برس قبل تعمیر کعبہ میں مصروف تھے۔''

اس بات پر تمام شیعہ سنی مؤرخین متفق ہیں کہ علی و فاطمہ کی شادی جنگ بدر سے قبل ہوگئی تھی او رباہم یکجائی جنگ بدر کے فوراً بعد عمل میں آئی۔ سیدہ رقیہ کا انتقال بدر کے روز ہوا اور حضرت عثمان سے سیدہ اُم کلثوم کی شادی بدر کے بعد 3 ہجری میں ہوئی۔ شادیوں کی اس ترتیب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ اُم کلثوم باقی بہنوں سے چھوٹی تھیں۔ تاہم اگر انہیں اس سے قبل عتیبہ بن ابی لہب کی بیوی تسلیم کیا جائے توپھر انہیں سیدہ رقیہ کے ساتھ ہی طلاق ہوگئی تھی اور رسول اللہ ﷺ نے رقیہ کی شادی تو فوراً حضرت عثمان سے کردی لیکن اُم کلثوم کی دوسری شادی میں 13 سال کا عرصہ دراز حائل ہے۔ اس عرصہ میں رسول اللہﷺ نے حضرت فاطمہ کی شادی کردی لیکن اُم کلثوم کا نکاح مؤخر کردیا۔ یہ ساری الجھن اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اُم کلثومؓ کو بڑی اور سیدہ فاطمہ کو چھوٹی تسلیم کیا جائے لیکن اگرمعاملہ اُلٹ تسلیم کرلیا جائے تو کوئی ابہام باقی نہیں رہتا۔ صرف عتیبہ سے شادی کا معاملہ تشریح طلب رہ جاتا ہے۔ اس نکاح سے بعض شیعہ روایات تو ویسے ہی انکاری ہیں او رجن شیعہ سنی روایات میں اس کا ذکر ملتا ہے وہاں طلاق قبل دخول کا بھی ذکر ہے۔ گویا اس وقت تک سیدہ اُم کلثوم اس قد رکم سن تھیں کہ ان کی رخصتی عمل میں نہ آئی تھی۔ یہ اس قسم کی صورت ہے جس قسم کی ہمارے ہندی معاشرے میں بھی موجود ہے کہ بچپن میں منگنی یا شادی کردی جاتی ہے او رپھر کئی سال بعد بلوغت کے موقع پر رخصتی عمل میں آتی ہے۔ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی یہ صاحبزادی بچپن میں ہی اپنے چچا زاد بھائی عتیبہ سے منسوب کردی ہو۔ بعثت کے بعد یہ نسبت برقرار نہ رہ سکی۔ اور چونکہ ابھی تک سیدہ کم عمر تھیں اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے خاموشی اختیار کی اور جب آپ سن بلوغ کو پہنچیں اس وقت ان کی بڑی بہن فوت ہوچکی تھیں۔ رسول اللہﷺ اپنے اس داماد سے راضی تھے اسی لیے آ پ کی شادی بھی انہیں کے ساتھ کردی گئی جو تمام بہنوں سے بعد میں وقوع پذیر ہوئی او ریہ بات کی عمدہ ترین دلیل ہے کہ آپ سب سے چھوٹی تھیں۔