ظہورِ اسلام سے پہلے زندگی کا تصّور محدود تھا۔اسلام کی آمد سے ایک نئے دَور کا آغاز ہوا۔ خیالات و افکار میں انقلاب آیا۔قرآن کے آفاقی تصّور نے زندگی کے افق کووسیع کردیا۔ اس انقلاب سے ہر شعبہ حیات متاثر ہوا۔ قرآن کے زیر اثر علم و فن کے بہت سےنئے زاویے بنے۔شعر و ادب اور زبان پر بھی قرآن کے خوشگوار اثرات پڑے۔ قرآن مجید نے ادب میں حریت فکر، وسعت نظر، پاکیزگی تخیل او ربلندئ معنی کے اوصاف پید کیے۔ ادب عربی قرآن مجید سے قبل لفظی حسن و شوکت کا مرقع تھا اور اس کا مقصد محض جذبات سافلہ کی ترجمانی تھی۔ قرآن مجید نے آکر ادب عربی کو صوری و معنوی حسن کے ساتھ جذبات عالیہ کی ترجمانی کے آداب سکھائے۔ یہ قرآن مجید کی تعلیم ہی کا فیضان ہے کہ آج عربی زبان تمام دنیا کے علوم و افکار سے معمور ہے۔ عربی زبان و ادب کا محور قرآن مجید ہے۔

ادب ِ جاہلی کا جو سرمایہ آج محفوظ شکل میں مل رہا ہے وہ سب قرآن مجید کی زبان کو محفوظ کرنے او راسے سمجھنے کے لیے جمع کیا گیا تھا۔ مثلاً لسانی خامیوں کے سدِ باب کے لیے علم صرف و نحو و اشتعاق ، قرآن اعجاز کو ثابت کرنے کے لیے معانی او ربیان و بدیع۔ غریب الفاظ کی شرح و توضیح کے لیے لغت و ادب، احکام شرعیہ کے استنباط کے لیے حدیث ۔ تفسیر، اصول اور فقہ وغیرہ علوم معرض وجود میں آئے۔ پھر قرآن مجید نے ان تمام علوم کو باقی رکھا او راکناف عالم تک پہنچایا۔

تاریخ ادب عربی کا مطالعہ کرنے والا دیکھے گا کہ یہ زبان جن نازک مرحلوں سے معجزانہ طور پر جان بچا کرنکل آئی یہ محض قرآن مجید کی قوت کانتیجہ تھا۔ ورنہ دنیا کی بے شمار زبانیں اس سے بھی کمتر صدمات کی تاب نہ لاکر زندگی کھو بیٹھیں اور صفحہ کائنات سے مٹ گئیں۔

قرآن مجید نے الفاظ و معانی کے ضمن میں عربی زبان کی امکانی وسعتوں کو آشکارا کیا۔ اثر آفرینی کے سلسلہ میں حقائق سندی، نفع بخشی اور افادی ہمہ گیری کو ملحوظ رکھنے کا درس دیا۔ حقیقت پسند ادب کا عقلی نمونہ پیش کرتے ہوئے اس قدیم مقولہ کی تردید کردی کہ ''إن أعذب شعرا کذبه'' (شعر جس قدر کژب پر مبنی ہو اتنا ہی شیریں ہوتا ہے) قرآن مجید نے ادب کا رُخ عدل و انصاف ، خدمت انسان، تائید حق و صداقت ، نفاست پسندی، عفت و حیا اور خدا پرستی کی طرف پھیر دیا۔ اس نےہر موضوع کو بیان کرنے کے لیے مناسب و پروقار اسالیب بخشے، غوروفکر اوردلائل و براہین سے کام لینے کی دعوت دی۔

قرآن مجید نے بتایا کہ ادب کا فریضہ یہ ہے کہ وہ طیبات کو معاشرہ میں مقبول بناوے اور خبائث کےلیے معاشرہ کی فضا ناسازگار بنا دے۔ قرآن مجید نے ادب کو یاس و قنوط کے مہلک جراثیم سے نجات دلا کر اسے جہاد مسلسل اور حیات آفرین رجائیت کا داعی بنایا۔ تنقید کے لیے بلند اصول دیئے اور ''احسن'' کواختیار کرنے میں کسی قسم کا تعصب نہ کرنے کی تلقین کی۔ اس نے مدح و ہجو کےلیے نئے پیمانے مقرر کیے۔ اور ''ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم'' کا بلند ترین معیار عطا فرمایا۔

قرآن مجید نے عربی ادب میں حقائق کا اس طرح خمیراٹھایا کہک اس کے بعد جس زبان میں بھی کسی شکل سے عربی ادب پہنچا۔ اس خمیر کی تائید نے اس زبان کو بھی فکری و معنوی بلندیوں سے ہمکنار کردیا۔ آج دنیا کے ادب میں وحدت عالم، وحدت انسانیت، حریت فکر او راخلاق کی جو حوصلہ افزائی ہورہی ہے وہ اسی قرآنی ادب کی تاثیر کا نتیجہ ہے۔ اگر آج انسانیت اپنی انکھوں سے تعصبات کی عینک اتارنے کی کوشش کررہی ہے تو یہ قرآنی ادب کے فیض کا ثمرہ ہے۔ عربی زبان پر قرآن کریم کا اثریہ ہوا کہ اس نے عربوں کے سخت او ربے رحم دلوں میں جاگزیں ہو کر انہیں نرم کردیا او ران کی سطحی عقلوں میں داخل ہوکر انہیں وزنی اور ٹھوس بنا دیا۔ چنانچہ قرآن مجید کے اس اصول نے ان کی زبان میں حسین الفاظ، خوبی تراکیب، نزاکت اسلوب، قوت گویائی،زور بیان، نیرنگی معانی، کثرت مضامین و مطالب کی صفات کو جنم دیا۔ زبان کے دائرہ کو نئے دینی الفاظ تراش کر مثلاً ''الصلوٰۃ''، الزکوٰۃ، القیام، الرکوع، السجود، القنوت، الوضوء، المومن، الکافر و دیگر الفاظ تک وسعت دی۔

قرآن مجید سے عربی نثر جس درجہ فیض یاب ہوئی شاعری اس حد تک متاثر نہ ہوسکی۔ خلفائے راشدین کے عہد میں جب فتوحات بڑھیں، اسلامی مملکت کی حدود میں وست آئی اور سیاسی و عمرانی مسائل میں اضافہ ہوا تو نثر کو زیادہ فروغ حاصل ہوا۔ قرآن کے فیض و اثر نے اس دور کے طرز نثر نگاری کو پرکیف سادگی عطا کی۔ خلفائے اسلام کے یہاں خط و کتابت کے جونمونے ملتے ہیں ان میں سہل تمنع کی سی کیفیت پائی جاتی ہے ۔ جو قرآن کے زیر اثر ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن کریم کی بدولت عربی نثر کا پایہ عربی شاعری کی بہ نسبت بہت بلند ہوگیا۔

تاہم اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ شعر و شاعری بھی قرآن سے متاثر ہوئے بعیر نہ رہی۔ اسلام کی مد سے شعراء کے فکر وفن کا مقصد بدل گیا اور ان کی شاعری اسلام کی ہمہ گیر تحریک سے وابستہ ہوگئی۔ حضرت حسانؓ ، کعب بن مالکؓ او رعبداللہؓ بن رواحہ کے کلام میں اسلامی شعور نمایاں ہے۔ لبید بن ربیعہ جیسے عظیم جاہلی شاعر کا یہ حال تھا کہ آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر مشرف باسلام ہونے کے بعد شاعری ترک کردی۔ حضرت عمرؓ نے جب اس سے اشعار سننے کی فرمائش کی تو یوں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے شعروں کے عوض مجھے سورۃ البقرہ دے دی ہے۔ (تاریخ الادب العربی احمد حسن زیات ذکر لبید بن ربیعہ و دیگر کتب تاریخ ادب عربی)

حضرت حسان اپنے دور کے عظیم شاعر تھے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کو اسلام کی خدمت کے لیے وقف کردیا۔ یہ صحیح ہے کہ عرب شاعری اسلام کے ہمہ گیر نظام حیات کو مکمل طور پر اپنے اندر سمو نہ سکی۔ حیرت ہے کہ اسلام کے آفاقی تصور کو رومی اور اقبال نے اپنے کلام میں جس طرح جذب کیا اس کی مثال صدرِ اسلام سے لے دور عباسی بلکہ دور جدید تک کے عربی شعراء میں کہیں نہیں ملتی۔ تاہم عہد اسلام کے شعراء کے کلام کاناقدانہ جائزہ لیا جائے تویہ اندازہ ہوتا ہے کہ فن کا وہ منبع یا اسلوب نہیں رہا جو دور جاہلیت کا خاصہ ہے۔ دور اسلام میں قرآن کریم کے زیراثر جو شاعری پروان چڑھی کلام جاہلیت کے مقابلہ میں اس کا انداز نرم او رلطیف ہے۔ زبان شستہ، پاکیزہ اور نکھری ہوئی ہے۔ طرز اداستھری اور دلنشین ہے۔ سوقیّت و ابتذال کم یاب ہے۔ بقول ابن خلدون ،مسلم فن کاروں کا فن نظم و نثر کلام جاہلیت سے کہیں زیادہ بلند ہے۔

قرآن مجید کو عربوں کی زندگی میں مختلف پہلوؤں سے بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اسلام کے بعد محض تشریعی حیثیت ہی سے نہیں بلکہ ان کی زبان ، ادب اور ذہنی رجحانات کا بھی محور بن گیا۔ عربی زبان و لغت کی تدوین، اشعار کی تلاش و تحقیق، اسالیب بیان کے ارتقاء اور مختلف فنون ادب کے پروان چڑھنے میں قرآن مجید ہی سب سے بڑا محرک تھا۔ عربوں نے قرآن کا مطالعہ مختلف طریقوں سے کیاہے۔ یہاں اس مطالعہ کا صرف ایک پہلو یعنی جو کچھ قرآن مجید کی زبان او راسلوب بیان پر لکھا گیا ہے۔ اسے پیش کرنا چاہتا ہوں۔ قرآن مجید کے محاسن زبان پر بے شمار کتابیں لکھی گئی تھیں اور علماء نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ قرآن مجید کے اعجاز کا اصل مظہر اس کی زبان او ربلاغت ہے۔ اس سے عربی تنقید کو بہت فائدہ پہنچا۔ علماء نے نہ صرف قرآن مجید ہی کی زبان سے وقیع اور فنی بحثیں کی ہیں بلکہ وہ عربوں کی عام زبان اسالیب بیان، جاہلی و اسلامی شعراء کے اشعار عربوں کی روایات نحو علم بدیع، علم بیان، علم معانی او رلغت وغیر ہ کے وقیق مسائل کو بھی زیر بحث لائے ہیں۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ قرآن فہمی کے لیے عربی علوم و فنون کا عمیق مطالعہ درکار ہے۔ مولانا حمید الدین فراہی کا خیال ہے کہ جب تک عرب قبل اسلام کی شاعری کا تحقیقی مطالعہ نہ ہو اور عربی بلاغت پر نظر نہ ہو اس وقت تک کماحقہ قرآن مجید پر نظر نہیں ہوسکتی۔

قرآن مجید اور عربی تنقید دونوں میں ایک بہت قریبی تعلق ہے او رجن لوگوں نے قرآن مجید کو زبان و اسلوب بیان پر کتابیں تصنیف کی ہیں وہ سب کے سب ناقد ادب تھے او ران میں سے اکثر ایسے بھی ہیں جنہوں نے عرب تنقید پر الگ کتابیں بھی تصنیف کی ہیں۔

تیسری صدی ہجری میں عربی تنقید کے متعلق بہت سی کتابیں تصنیف کی گئیں۔ اس سے قبل کی کوئی کتاب موجود نہیں۔ اسی دور سے ناقدین عرب نے قرآن کی جانب بھی توجہ کی۔ مشہور نحوی فرّا نے ایک کتاب ''معانی القرآن'' کے نام سے لکھی۔یہ تینوں کتابیں ابھی شائع نہیں ہوئی ہیں۔ ابن قتیبہ مشکل القرآن میں کہتے ہیں کہ قرآن کی عظمت کا عرفان اسی کو ہوسکتا ہے جس کی نظر میں وسعت ہو۔جس کا علم عمیق ہو اور وہ عربوں کے مختلف اسالیب بیان و مکتب ہائے فکر سے واقف ہو۔

تمام ناقدین عرب نے بلا کسی استثناء کے قرآن مجید سے مثالیں پیش کی ہیں۔ قدامہ بن جعفر نے بہت کم ایات بطو رمثال کے اپنی کتاب ''نقدالشعرا'' میں پیش کیں۔ مگر چوتھی ہی صدی ہجری کے ایک دوسرے ناقد ابوالحسن اسحاق بن وہب الکاتب نے اپنی مشہو رکتاب ''البرہان في وجوہ البیان'' میں بے شمار قرآن آیات سے استشہاد کیا ہے اورعجیب بات یہ ہے کہ اس نے نظریات تو اخذ کیے ارسطو سےمگر مثالیں دیں قرآن سے۔ارسطو کی کتاب الجدل او رکتاب الخطابۃ کے اثرات مذکورہ بالا کتاب پر بالکل واضح ہیں۔ یہ عجیب طرز تھا کہ عرب ناقد ارسطو اور دوسرے یونانی مفکرین سے نظریات و اصطلاحات اخذ کرکے ان کے لیے مثالیں قرآن مجید او راحادیث سے تلاش کرتے تھے۔چنانچہ ابن معتز نے تیسری صدی ہجری میں، ابن وہب الکاتب نے، چوتھی صدی ہجری میں عبدالقاہر الجرجانی نے، پانچویں صدی ہجری میں بالکل یکساں طریقہ اختیار کیا۔

چوتھی صدی ہجری کے اواخر سے پانچویںصدی او راس کے بعد کے اکثر ناقدوں نےاپنی کتاب کے دو مقاصد قرا ردیئے۔ ایک دینی مقصد اور دوسرا ادبی۔ انہوں نے قرآن مجید میں تنقید کی بنیادیں تلاش کیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح انہوں نے جاہلی شاعری وغیرہ کو مرکز توجہ بنایا۔چنانچہ ابوالہلال عسکری نے اپنی کتاب ''الصناعتیں'' کے مقدمہ میں صاف الفاظ میں لکھا ہے کہ میری کتاب کے دو اہم مقاصد ہیں۔ ایک ادبی خدمت اور دوسری دینی خدمت، بالکل یہی انداز ابن سنان خفاجی نے سرالفصاحۃ میں اختیار کیاہے۔ عبدالقاہر جرجانی نے تو مستقل دو کتابیں ہی ان دونوں مقاصد پر لکھیں۔ بلاغت پر ان کی کتاب ''اسرار البلاغۃ'' بہت مقبول و مشہور ہے۔ اسی طرح قرآن مجید کی زبان اور اس کے محاسن پر ان کی دوسری کتاب ''دلائل الاعجاز'' غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ ان دونوں کتابوں میں انہوں نے جہاں مثالیں اشعار ادب سے دی ہیں وہاں قرآن مجید سے بھی پیش کی ہیں۔

اس سلسلہ میں انہوں نے ایک نیا نظریہ پیش کیا ہے۔ جاحظ نے تیسری صدی ہجری میں ایک بحث یہ اٹھائی کہ کلام میں تین کا مرجع الفاظ ہیں یا معانی؟ انہوں نے الفاظ کو معانی پر ترجیح دی تھی اور بتایا تھا کہ معانی تو دیہاتی، شہری او رجاہلی سب ہی جانتے ہیں اصل حسن تو الفاظ کے قالب میں ہے۔ عبدالقاہر جرجانی نے اس نظریہ کی تردید کی او رکہا کہ حُسن الفاظ میں نہیں معانی میں پوشیدہ ہے۔ ''دلائل الاعجاز'' میں انہوں نے اس نظریہ کو اس طرح پیش کیا کہ قرآن میں بھی حسن کلام کامرجع الفاظ میں نہیں معانی میں ہے او رمعانی میں بھی براہ راست نہیں بلکہ نظم معانی میں کیفیت حسن پوشیدہ ہے۔ ابوتمام کی شاعری عربوں کے مالوف طرز شاعری سے مختلف تھی۔ اس میں استعارے، تشبیہات نئے مضامین او رنئی تراکیب کثرت سے استعمال کی گئیں تھیں اور ساتھ ہی فلسفیانہ خیالات بھی کسی حد تک پیش کیے گئے تھے۔ یہ ایسی چیزیں تھیں جن سے عربوں نے اجنبیت محسوس کی اور عرب ناقد دو طبقوں میں منقسم ہوگئے۔ بالکل یہی صورت حال متنبی کے ساتھ بھی پیش آئی اس لیے کہ اس نے بھی ابوتمام کا طرز اختیار کیا او راس سے بہت آگے بڑھ گیا اور اس کے بارے میں نقاد عرب دو گروہوں میں بٹ گئے۔صاحب بن عباد او رحاتمی وغیرہ نے بہت کچھ اس کے خلاف لکھا ۔ مگر قاضی جرجانی اور ثعالبی وغیرہ نے اس کی موافقت میں بہت اچھے انداز سے تنقیدی خیالات کا اظہار کیا۔

ابوتمام کی شاعری کے اختلاف سے دراصل ''علم بدیع'' کا آغاز ہوا۔ اس لیے کہ اس کی بے شمار اقسام کا استعمال اس کی شاعری میں ہواتھا۔ اس وقت یہ عام خیال تھا کہ یہ بالکل ایک نیا علم ہے جو عربوں میں یونانیوں سے آیا ہے۔ ابن معتز (متوفی 296ھ) نے کتاب البدیع تصنیف کی او راس میں یہ نظریہ پیش کیا کہ ''علم بدیع'' عربوں کے یہاں ایام جاہلیت سے موجود ہے اور تمام عرب جدید و قدیم شعراء کے یہاں پایا جاتا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث میں بھی موجود ہے۔ابن معتز نے کثرت سے قرآنی آیات سے استشہاد کیا ہے۔

''مذہب بدیع'' کے حاملین نے قرآن مجید سے خاص طور پر کیوں مثالیں پیش کیں؟ اس کاجواب زغلول سلام نے یہ دیا ہے کہ اس طرح انہوں نے یہ کوشش کی کہ جوکچھ ابوتمام او ران کے مقلد شعراء نے کیا تھا اس کو صحیح ثابت کریں۔

علم بدیع کے علاوہ علم بیان اور معانی پربھی قرآن مجید کے اثرات پوری طرح نمایاں ہیں اور بے شمار ایات ناقدین عرب نے قرآن مجید سے پیش کی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلوب کا اصل معیار ہمیشہ قرآن مجید رہا ہے او رناقدوں نے اس کا خاص خیال رکھا ہے کہ قرآن مجید نے کس انداز سے او رکن الفاظ و تشبیہات کے ذریعہ مفہوم کو ادا کیا ہے او راس کو معیار حسن و بلاغت سمجھا ہے۔

''اعجاز القرآن'' پر رُمّانی (متوفی 384ھ )اور خطابی (متوفی 388ھ) کی کتابیں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ رمانی کی دس اقسام بدیع مشہور ہیں۔ ان کو ابوبکر باقلانی نے بھی اپنی کتاب ''اعجاز القرآن'' میں نقل کیا ہے۔ یہ اقسام دراصل چوتھی صدی میں معروف ہوچکی تھیں۔ ہاں بعض اختلافات البتہ قابل ذکر ہیں:

1۔ رمانی نے اطناب اور تطویل کا فرق اعجاز القرآن میں واضح کیاہے۔

2۔ تلاؤم او راس کی مختلف قسموں اور تنافر کے درمیان فرق کو بھی انہوں نے بیان کیا ہے۔

3۔ تو اصل کی تشریح کرکے اس کا اور ''اسجاع'' کا فرق بھی نمایاں کیا ہے۔

4۔ ''مناسبت'' کا بھی بیان اعجاز القرآن میں موجود ہے۔

5۔ تصریف کی تشریح بھی رمانی نے کی ہے۔

اعجاز القرآن پر سب سے بہتر کتاب ابوبکر باقلانی کی ہے۔ انہوں نے اس بحث میں بے شمار مسائل تنقید کو اپنا مرجع قرار دیا ہے، ان کا طرز استدلال یہ ہے کہ پہلے کسی مسئلہ کو لے کر اس کی دقتوں کو بیان کرتے ہیں پھر شعراء عرب کو دکھاتے ہیں کہ کس طرح انہوں نے اس بارے میں ٹھوکر کھائی ہے۔ اس کے بعد وہ بتاتے ہیں کہ قرآن مجید نے اس سلسلہ میں وہ نمونہ پیش کیا ہے جس سے تمام شعراء و اہل زبان عاجز ہیں۔

باقلانی کہتے ہیں کہ کلام مختلف حیثیت کا ہوتا ہے کچھ بلند اور کچھ پست۔ایک معنی سے دوسرے معنی کی طرف انتقال فنکار کی عظمت کا ثبوت فراہم کرتا ہے اور اکثر لوگ اس مشکل میں کامیاب نہیں ہوپاتے۔مگر قرآن مجید کی عظمت کے لیے یہی کافی ہے کہ اس مین ایک معنی سے دوسرے معنی کی طرف اس طرح انتقال ہوجاتا ہے کہ کوئی بھّدا پن اور غیر مناسب عبارت ظاہر نہیں ہوتی اور ایک عجیب حسن و کشش اس حیثیت سے قرآن مجید میں نظر آتی ہے۔ وہ کہتے ہیںکہ اکثر شعراء عرب نے اس میدان میں ٹھوکر کھائی ہے۔ چنانچہ بحتری جیسا عظیم شاعر جب ''نسیب'' سے مدح کی طرف منتقل ہوتا ہے تو اکثر بہت بھّدا انداز اختیار کر لیتا ہے او ربہت پیچھے رہ جاتی ہے۔ فنی نقطہ نظر سے ۔(اعجاز القرآن ابوبکر باقلانی ص56۔57)

باقلانی کا خیال ہےکہ ایک شاعری ایک صنف میں تو غیر معمولی اہمیت اور عطمت کا حامل ہوتا ہے مگر جب وہی کسی دوسری صنف سخن پرطبع آزمائی کرتا ہے تو بہت ہی گر جاتا ہے او رکم ایسا ہوتا ہے کہ شاعر تمام اصناف میں یکساں حیثیت رکھتا ہےہو۔ اس طرح بعض فن کار نثر میں بلند مرتبہ رکھتے ہیں مگر جب وہ شاعری میں قدم رکھتے ہیں تو بہت نیچے گر جاتے ہیں او رکبھی اس کے برعکس ہوتا ہے۔

اپنے اس نظریہ کے پیش نظر وہ شعراء کی مندرجہ ذیل اقسام بیان کرتے ہیں۔

1۔ کچھ شاعر ایسے ہیں جو ''مدح'' کے بادشاہ ہیں مگر ہجو میں بالکل صفر ہیں۔

2۔ کچھ ایسے ہیں جو ہجو بہترین کرتے ہیں مگر مدح میں ان کاکوئی مقام نہیں۔

3۔ بعض شعراء کو تقریظ ۔(مدح) میں یدطولیٰ حاصل ہوتا ہے مگر وہ تابین (مرثیہ) میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔

4۔ کچھ شعراء تابین (مرثیہ) میں سبقت رکھتے ہیں مگر تقریظ (مدح) نہیں کرپاتے۔

5۔ اس طرح بعض شعراء وصف میں بہت ممتاز ہوتے ہیں،اونٹ،گھوڑے،رات کے چلنے، شراب پینے، جنگ کی تصویر کشی اور غزل کے رقیق موضوعات کے بیان کرنے میں بہت ممتاز ہوتے ہیں۔ اس موقع پرباقلانی تنقید کی مشہور مثل کو پیش کرتے ہیں او رکہتے ہیں کہ عربوں نے یہ تبصرہ اس صلاحیت کی بنیاد پر کیاتھاکہ ''امرؤالقیس'' سب سےبڑا شاعر ہے جبکہ وہ اونٹ پر سوار ہو۔ نابغہ زبیانی سب سےبڑا شاعر ہے جب کہ وہ خوف زدہ ہوجائے اور زہیر اس موقع پر سب سے بڑا شاعر ہے جب کہ وہ لالچ او رطمع محسوس کرے۔اعشیٰ اس وقت سب سے بڑا شاعر ہے جب کہ اس نے پی لی ہو اور خوش ہو۔ (اعجاز القرآن باقلانی ص54)

عربی تنقید کے مشہور مسئلہ سے وہ تعرض کرتے ہیں او رالفاظ و معانی کی بحث پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں کہ بہترین کلام وہ ہے جس میں معانی الفاظ کے موافق ہوں او رکلام لفظ و معنی کے لحاظ سے باہم مطابقت رکھتا ہو، ان دونوں عناصر میں سے کسی کی زیادتی نہ ہو، جب یہ کیفیت ہوگی تو فن و فصاحت کو زیادہ بہتر انداز سے نمایاں ہونے کا موقع ملے گا۔ اس موقع پرباقلانی بڑی دلچسپ بحث کا آغاز کرتے اور کہتے ہیں کہ ''جن'' بھی اشعار کہتے ہیں۔ انہوں نے جنوں کے سترہ اشعار نقل کرکے لکھا ہے کہ وہ بھی قرآن کے مثل کلام کہنے سے عاجز ہیں۔ باقلانی نے پہلے یہ بتایا ہے کہ عمدہ کلام کی مندرجہ ذیل خصوصیات ہیں۔ کلام میں حسب موقع طوالت و اختصار ہو۔ استعارہ تصریح اور تحقیق ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ اوصاف قرآن کریم میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ (اعجاز القرآن ص62)

باقلانی نے ایک باب میں قرآن میں ''سجع'' کے وجود کی نفی کی ہے وہ کہتے ہیں کہ ''سجع'' میں معنی لفظ کے تابع ہوجاتے ہیں جب کہ قرآن میں الفاظ معانی کے تابع ہیں۔

احمد صقر نے اس نظریہ کی مخالفت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ''سجع'' کی مذکورہ تعریف صحیح نہیں ہے۔اس طرز کا استعمال تو کمزور فن کاروں کے یہاں پایا جاتاہے۔ سجع کی اعلیٰ قسم وہ ہے جس میں الفاظ کو ان کی موزوں و مناسب جگہ بھی ملتی ہے اور وہ معانی کے تابع بھی ہوتے ہیں۔ یہی وہ ''سجع'' کی قسم ہے جو اپنی مکمل شکل میں احادیث میں وارد ہوتی ہے اور اس کو وہ لوگ جو ''سجع'' کے قائل ہیں قرآن مجید میں ثابت کرتے ہیں او ران کا خیال ہے کہ جو مسجع کلام قرآن مجید میں استعمال ہوا ہے وہ کلام کی اعلیٰ ترین قسم ہے اور بلاغت کا سب سے اعلیٰ نمونہ ہے۔ (اعجاز القرآن للباقلانی مع مقدمہ از سید احمد صقر ص85)

باقلانی ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ بلاغت کا انحصار بدیع کی عمدہ شکلوں کے استعمال ، لطیف معانی، عمدہ حکمتوں او رمناسبت او ریکسانیت کلام پر ہے جو قرآن مجید میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ آگے چل کر وہ مزید کہتے ہیں کہ بہترین کلام وہ ہے جس کو کان اپنا سرمایہ سمجھیں او رنفس انسانی اس کی جانب پوری طرح متوجہ ہوجائے اور جس کی رونق دُور سے اس طرح نظر آجائے جیسے موتیوں کے ہار کی چمک ۔ حُسن کلام کی یہ صفت پہلے ہی جملہ سے ظاہر ہوجاتی ہے۔باقلانی نے آسان اور سلیب کلام ہی کو معیار قرار دیا۔ غریب، وحشی اور مستکرہ کلام کوناپسند کرکے اچھے کلام کی تعریف اس طرح کہ کہ ''جب تم اس کوسنو تو وہ تمہارے دل میں بیٹھ جائے او رتم کوایسی حلاوت و خوشگواری محسوس ہو جیسی کہ تم آب زلال پیتے وقت محسوس کرتے ہو لیکن اس کے باوجود وہ کلام تمہارے اختیار سےاتنا ہی دور ہو جیسے ستارہ کو ڈھونڈھنے والے سے ستارہ دور ہوجاتا ہے۔

ایسا کلام نفس سےقریب تر اور ذہن سے مانوس ہوتاہے مگر اس کا کہنا آسان نہیں ہوتا۔پھر باقلانی پر تبصرہ کرتے ہیں کہ تمام ادباء و شعراء نے غلطیوں کاارتکاب کیا ہے۔ صرف قرآن مجید کی زبان غلطیوں سے مبرّ ا ہے۔

باقلانی نے قرآن سے شعر کی نفی کی ہے، ان کا خیال ہےکہ شعر وہی ہے جو موزون ، مقفٰی ہو اور اجزاء میں تناسب ہو اور وہ متساوی ہوں۔ اس کا مطلب یہ بھی نکلتا ہے کہ وہ ''شعر منثور'' کے بھی منکر تھے۔

شاعری کے متعلق ان کا نظریہ تھاکہ بلا قصد کے وہ وجود میں آئی۔ جب لوگوں نے اس کو دیکھا تو بہت پسند کیا او راس انداز پر کلام کہنے کا رواج عام ہوا۔ ان کی نظر میں منظور کلام منثور کلام سے بہتر اور فصیح ہوتا ہے۔ (اعجاز القرآن ص236)

باقلانی ایک موقع پر رقم طراز ہیں کہ حُسن کلام کا اصل مرجع انسانی طبیعت ہے۔جو بات عمداً کہی جائے اس میں وہ لطف نہیں ہوتا جو کیفیت حسن بلا قصد کے محاسن کلام کے استعمال ہوجانے میں ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں باقلانی ایک اور حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہیں او رکہتے ہیں کہ موجودہ دور (یعنی پانچویں صدی ہجری) میں لوگ آورد کے ذریعہ محاسن کلام کے شائق ہوگئے ہیں حالانکہ متقدمین کے یہاں ان محاسن کا ذریعہ آمد تھی او ران کا استعمال اتفاق سے ہوجاتا تھا۔

تعجب تو یہ ہے کہ باقلانی نے نہ صرف یہ کہ زبان، شاعری، خطبات اور نثر وغیرہ کے تنقیدی مسائل سے بحث کی ہے بلکہ ناقد کے فرائض اور فن تنقید کے بارے میں بھی بہت سی قیمتی آراء کااظہار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صراف کی نظر جس طرح سونے پر ہوتی ہے اور بزاز کی نگاہ جس طرح کپڑے کو پہچانتی ہے بالکل اسی طرح ناقد کی نظر کلام پر بہت گہری ہوتی ہے۔ اسی انداز سے باقلانی ناقدوں کے اختلاف کا ذکر کرتے ہیں اور مختلف مسائل پر بحث لاتے ہیں۔ یہ ایک مفصل نمونہ تھا ان کتابوں میں سے ایک اہم کتاب کا جو اعجاز القرآن پر لکھی گئیں۔اس سے بخوبی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ اس قسم کے دقیق تنقیدی مباحث کا اثر عربی تنقید پر پڑنا ایک ناگزیر حقیقت ہے۔

باقلانی کہتے ہیں کہ تمام عربی شاعری میں غلطیاں موجود ہیں او راس سلسلہ میں امرؤ القیس کے قصیدہ کے ایک ایک شعر کو لے کر اس کی غلطیاں واضح کرنے کی کوشش کی ہے، وہ تنقید اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس کےبعد انہوں نے قرآن مجید کی زبان اوراس کے بیان کے محاسن کا تفصیل سے ذکر کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ قرآن کی زبان سب سے اہم اور اعجاز کا نمونہ ہے جس سے انسان عاجز ہیں۔ (اعجاز القرآن صفحہ 249)

قرآن مجید پر جن لوگوں نے لکھا او راس کی زبان اور اس کے اسلوب پر مختلف حیثیتوں سےبحث کی ان سب ناقدون یا علماء نے کوئی ایک نہج اپنی بحثوں میں اختیار نہیں کیا بلکہ اپنے ذہن خیال او راپنے زمانہ کے تنقیدی رجحانات کے پس منظر میں انہوں نے قرآن مجید کے محاسن زبان کو سامنے لانے کی کوشش کی۔ اس بنا پر میرا خیال یہ ہے کہ ڈاکٹر زغلول سلام کا یہ نظریہ صحیح نہیں کہ عربوں کے دو مکتب فکر تھے وہ علم تنقید میں ''مذہب بدیع'' اور ''مذہب عربی'' کو دو اہم تنقیدی رجحانات سمجھتے ہیں۔ یہ تقسیم تو ہم بھی تسلیم کرتے ہیں مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے ذہن میں دونوں مکتب ہائے فکر کا صحیح نقشہ موجود نہ تھا ۔ وہ یہ بھی نہیں کہہ پاتے کہ ''مذہب بدیع'' قرآن سے دور رہا اور ''مذہب عربی'' کا مرکز قرآن مجیدرہا۔ بلکہ طرفہ تماشا یہ ہے کہ وہ ایک جگہ کہتے ہیں کہ قرآن اصحاب بدیع کا محور بن گیا او رانہوں نے جتنے بھی تنقیدی پیمانے بنائے ان کا معیار قرآن اوراعجاز قرآن کو قرار دیا اور اس راہ سے ہٹ گئے۔ جس کی جانب علماء اعجاز قرآن نے ان کو توجہ دلائی او ربتایا کہ قرآن مجید کے اسلوب میں محض فنون بدیع ہی اس کی عظمت کے حامل نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں معانی او رروح بیان وغیرہ ہیں جو ایک توازن اور کشش کی ضامن ہیں۔ (اثر القرآن فی تطور النقد الادبی ص337)

قرآن مجید کو علم بدیع کے حامیوں نے اپنے اوپر اعتراضات سے بچنے کے خیال سے مرجع بنایا او ریونانیوں سے نظریات اخذ کرکے انہیں قرآنی مثالوں کے ساتھ پیش کیا۔اس سے یہ ایک بڑا فائدہ ہوا کہ ایک جانب عربی تنقید میں نظریاتی پہلو کا اضافہ ہوا۔ اس لیے کہ اب تک جو تنقید عربوں کے یہاں موجود تھی وہ دراصل عملی تنقید تھی او رسطحی فکر و ذوق پر منحصر تھی۔ اس طرح عربوں میں ایک بلند اور نظریاتی و فکری تنقید کی بنیاد پڑی۔ دوری جانب عربی تنقید کو یہ فائدہ پہنچا کہ قرآن مجید کے استشہاد کی وجہ سے عربوں نے کچھ دن ضرور غیر عربی خیالات سے اجنبیت محسوس کی اور آمدی نے قدامہ کے نظریات کے خلاف کتاب لکھی او رمیرا خیال ہے کہ ان لوگوں نے جنہوں نے اعجاز قرآن پر کتابیں تصنیف کیں۔ انہوں نے عرب مکتب فکر او ریونانی مکتب فکر دونوں کے اختلافات سے قطع نظر کرکے قرآن مجید کے محاسن کو اجاگر کرنے کے لیے دونوں کے خیالات سے فائدہ اٹھایا جیساکہ باقلانی کی کتاب سے محسوس ہوتا ہے۔

اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ زغلول سلام نے قرآن پر اس حیثیت سے غور نہیں کیاکہ علماء اعجاز قرآن خود کسی مسلک کےحامل نہ تھے بلکہ اپنے دور کے مروجہ تمام مسالک سے وہ قرآن مجید کے محاسن کو واضح کرنے کی کوشش کرتے تھے ۔ اگر مذہب عربی کا مرکز صرف قرآن ہی ہوتا تو امدی ک ےیہاں ہم کو علم بدیع او راس کی اقسام نظر نہ آتیں، خود باقلانی نے بدیع او راس کی اقسام سے بحث کی ہے او راس کے ذریعہ قرآن مجید کی عظمت کو نمایاں کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

اس بحث سے میرا مطلب یہ ثابت کرنا ہے کہ علماء اعجاز قرآن کاکوئی الگ مکتب فکر عربی تنقید میں نہ تھا بلکہ وہ مذکورہ دونوں تنقید کے اسکولوں سے استفادہ کرتے تھے، اس طرح یہ حقیقت بھی سامنے آجاتی ہے کہ عربی تنقید کے دونوں مکتب ہائے فکر پر قرآن مجید کے اثرات نمایاں ہیں او ریہ نظریہ صحیح نہیں کہ کوئی بھی مکتب فکر قرآن مجید سے دور رہا۔

زغلول سلام نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ بدیع مکتب فکر کا مرجع چونکہ یونانی خیالات تھے لہٰذا وہ قرآن مجید کے اثرات سے دور رہا، اس کے برعکس عربی مکتب خیال کے ناقدوں نے اپنا مرجع فکر قرآن مجید کو بنایا اور قرآن مجید کے اسلوب بیان ہی کو مضبوطی سے پکڑے رہے،عربی تنقید میں یہ خالص قرآن طرزفکر ان کی نظر میں بدیع اسکول اور یونانی خیالات کا عملی طور پر ردّعمل تھا اور بدیع مکتب فکر کے مقابلہ میں عربی مکتب فکر وجود میں آیا ‎۔ (اثر القرآن فی تطور النقد الادبی ص333)

یہ تو ایک بدیہی امر ہے کہ عربی تنقید کے تمام مکاتب فکر نے قرآن مجید سے استشہاد کیا ہے او راس کو زبان و بیان کا نمونہ بنایا ہے ، مجھے تعجب ہوتا ہے کہ عربوں کے جس کالص مکتب فکر کی جانب زغلول سلام اشارہ کرتے ہیں۔ اس میں توذرا بھی کہیں قرآن کا اثر نمایاں نہیں ہے۔ مثلاً تیسری صدی ہجری میں ابن قتیبہ نے ''الشعر والشعرا'' میں جو تنقیدی بحثیں کی ہیں ان میں تمام استشہاد و قدماء و متاکرین کے اشعار سے کیا گیاہے۔ یہی حال ابوالعباس ثعلب کی ''قواعد الشعر'' کا ہے۔ آمدی اور قاضی جرجانی جن کو ڈاکٹر محمد مندور خالص عرب ناقد قرار دیتےہیں۔ وہ بھی ''موازنہ'' اور ''وساطہ'' میں قرآن سے استشہاد نہیں کرتے بلکہ واقعہ تو یہ ہے ''قرآن مجید کو نمونہ کے طور پر جن لوگوں نے پیش کیا ان میں اکثریت انہیں ناقدوں کی ہے جن کا تعلق ''مذہب بدیع'' سے ہے۔(النقد المنہی عند العرب ص68)

ثعلب اور ابن قتیبہ بھی قرآن ہی کو اپنا مرجع و مآخذ سمجھتے تھے لیکن شاعری پر بحث کے دوران انہوں نے قرآن مجید کو مثالاً نہیں پیش کیا جب ک بدیع اسکول کے ناقدوں نے اپنی کتابوں میں عربی شاعری او رقرآن مجید دونوں ہی سے مثالیں تلاش کیں۔ ابن قتیبہ نے مشکل القرآن میں قرآن مجید کی زبان کو دنیا کی تمام زبانوں پر ترجیح دی اور افضل بتایا ہے۔ (اثر القرآن ص119)

زغلول سلام کے نظریہ پر میں نے اس لیے بحث کی تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ ان کی فکر میں''بدیع یا یونانی اسکول تنقید'' سے وہ تعب موجود ہے جس کا ابوتمام کے زمانہ سے اکثر عرب ناقد شکار رہے ہیں ورنہ قرآن مجید کے اثرات تو عربی تنقید کے بنیادی عناصر میں ہیں او رجن سے پوری عربی تنقید نے قوت اور توانائی حاصل کی ہے۔