(درجہ تکمیل و تخصص)

لاہور

مرکزی نظامت تعلیم جمعیت اہل حدیث۔ پاکستان

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

جمعیت اہل حدیث پاکستان کی مرکزی درس گاہ ''جامعہ سلفیہ'' کے تعارف کے سلسلے میں حضرت مولانا محمد اسماعیل  بحیثیت ''ناظم تعلیمات'' لکھتے ہیں:

''جس میں طلباء کی اس نہج سے علمی تربیت کی جائے کہ وہ مستقبل میں جماعت کے لائق مصنف، بہترین خطیب، سلجھے ہوئے مقرر، صاحب تحقیق مفتی، زمانہ کے نشیب و فراز سے آشنا مُبلغ او ربلند کردار مُدرس ثابت ہوں نیز وہ اس خصوصیت کے حامل ہوں کہ اہل حدیث کے علاوہ دوسرے لوگ بھی ان کے علم و فضل اور تحقیق و کاوش سے متاثر و مستفید ہوسکیں۔''

''اس کے متعلق جماعت کا نظریہ یہ ہے کہ اسے خالص علمی بنیادوں پرچلایا جائے اور اس سے جو طالب علم فارغ التحصیل ہوکر نکلیں وہ دنیا کے بدلے ہوئے حالات کے مطابق دین اسلام اور ملک کی بہترین خدمت انجام دےسکیں۔ وہ تفسیر، حدیث، فقہ، منطق، فلسفہ، معانی وغیرہ علوم کے ساتھ ساتھ عربی ادب ، اُردو، انگریزی، سائنس اور فارسی وغیرہ تمام علوم سے بھی آراستہ ہوں اور ہر شخص سے اس کی طبیعت کے مطابق گفتگو کرسکیں۔اسلام پر آج جو اعتراضات ہورہے ہیں ان کے بعض حصے پہلے تمام اعتراضات سے مختلف اور زُود اثر ہیں۔جامعہ سلفیہ میں اس قسم کے اہل قلم تیار کیے جائیں جو ان سب کا علمی محاسبہ کرسکیں۔ اپنی قابلیت کی بنا پر ان کا مُسکت جواب دینے کی اہلیت رکھتے ہوں او ران تمام خوبیوں سے مزین ہوں جن کا آج کے علمی طبقہ میں پایا جانا ضروری ہے۔''

مندرجہ بالا مقاصد کے حصول کے لیے لائل پور میں جامعہ سلفیہ نے جو قابل قدر خدمات سرانجام دی ہیں وہ اس کے سینکڑوں فیض یافتگان کی صورت میں جماعت کے سامنے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ جامعہ کے ذریعے جماعت کا تعارف و رابطہ نہ صرف اندرون ملک وسیع ہوا ہے بلکہ بیرون پاکستان بھی اسلامی دنیا کے وسیع حلقے میں ہماری نیک شہرت میں اضافہ ہوا ہے ۔ خصوصی طور پر گزشتہ چند سالوں میں''حرمین شریفین'' کی خادم سعودی حکومت او رعالمی سطح ک ےعلمی ادارے ''مدینہ یونیورسٹی'' سے روابط مستحکم ہونے سے ہماری دینی اور علمی کام کی اہمیت کا احساس حکومت پاکستان کوبھی ہوا ہے۔

مرکزی نظامت تعلیم جمعیت اہل حدیث، پاکستان کو عرصہ سے اس بات کا شدید احساس ہے کہ جامعہ سلفیہ کے اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لیے اس کےمجوزہ ''ابتدائی خاکے'' کی تکمیل کا فریضہ سرانجام دیاجائے یعنی جامعہ کے شعبہ ''درجہ تکمیل و تخصص'' کا اجراء کیا جائے جس میں جہاں کتاب و سنت کی گہری بصیرت کے ساتھ ضروری جدید علوم و معارف کا مطالعہ کرا کر علماء میں جامعیت پیدا کی جائے وہاں تدریس، تصنیف اور دعوت و خطابت کے ہرسہ شعبوں میں فنی تخصص کا خاطر خواہ انتظام کیا جائے تاکہ بدلے ہوئے احوال و ظروف میں علمائے کرام اسلامی معاشرہ کی تعمیر و ترقی میں اپنی ان ذمہ داریوں سے بخوبی عہدہ برآ ہوسکیں جو ہر دورمیں دینی قیادت کا ہی حصہ ہوتی ہیں جیسا کہ ہمارے اکابر اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق سرانجام دیتے آئے ہیں۔ دینی قیادت کے خلا کا آوازہ جو روز بروز اہم شخصیتوں کے اُٹھنے کے ساتھ بلند ہوتا جارہا ہے اس کا بھی تقاضا ہے کہ نوجوان علماف کی ایسی علمی تربیت کا فی الفور انتظام کیا جائے۔ لیکن اس اہم کام کے لیے جن وسائل کی ضرورت ہے ان کا حصول دین و دنیا کی تقسیم کے غلط تصور اور قدیم و جدید کے دو متخالف بلکہ متحارب نظامہائے تعلیم کی موجودگی میں بڑا کٹھن ہے کیونکہ اس کے لیے مناسب علمی ماحول، ماہرین قدیم و جدید کا اجتماع اور وسیع علمی کتاب خانے پہلی ضرورت ہے۔

چنانچہ مرکزی کابینہ جمعیت اہل حدیث، پاکستان نے اپنے اجلاس مورخہ 13 رجب المرجب 1396ھ مطابق 12 جولائی 1976ف میں متذکرہ بالا ضرورت کے پیش نظر فیصلہ کیا کہ جامعہ سلفیہ کے درجہ تکمیل و تخصص کا قیام لاہو رجیسے علمی مرکز میں ہوگا۔ ..... ان شاء اللہ !

اس فیصلہ کے مطابق مرکزی نظامت تعلیم نے اس سلسلے میں تشکیل شدہ سب کمیٹی کی تجاویز کی روشنی میں درجہ تکمیل و تخص کا جو خاکہ بنایا ہے اس کا ضروری مختصر تعارف پیش کیا جارہا ہے۔

مجلس مشاورت:

اسماء گرامی اراکین مجلس مشاورت حسب ذیل ہیں:

1۔ مولانا معین الدین صاحب لکھوی اوکاڑہ

2۔ میاں فضل حس صاحب حافظ آباد

3۔ حافظ محمد یحییٰ صاحب عزیز میر محمد (قصور)

4۔ حافظ محمد ابراہیم صاحب کمیرپوری پتوکی

5۔ قاری عبدالخالق صاحب رحمانی کراچی

6۔ مولانا محمد صدیق صاحب لائل پور

7۔ مولانا محمد حسین صاحب شیخوپورہ

8۔ میاں عبدالمجید صاحب لاہور

9۔ مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی لاہور

10۔ حافظ محمد صاحب گوندلوی گوجرانوالہ

11۔ مولانا محمد حنیف صاحب ندوی لاہور

12۔ صوفی احمد دین صاحب لائل پور

13۔ چودھری محمد یعقوب صاحب راولپنڈی

14۔ مولانا حبیب الرحمٰن شاہ صاحب راولپنڈی

15۔ مولانا عبدالعزیز صاحب اسلام آباد

16۔ مولانا عبدالعظیم خاں صاحب پشاور

17۔ شیخ عبدالرشید صاحب صدیقی ملتان

18۔ مولانا محمد یونس صاحب اثری آزاد کشمیر

19۔ ڈاکٹر عبدالرؤف صاحب لاہور

20۔ مولانا فضل الرحمٰن صاحب لاہور

21۔ پروفیسر عبدالقیوم صاحب لاہور

22۔ حافظ عبدالرحمٰن صاحب مدنی لاہور

23۔ مولانا سلطان محمود صاحب جالپور پیروالہ

24۔ پروفیسر محمد یحییٰ صاحب جالپور پیروالہ

25۔ میاں عبدالستار صاحب سرگودھا

26۔ پروفیسر حافظ عبداللہ صاحب بہاولپور

27۔ سید محب اللہ شاہ صاحب حیدر آباد

28۔ مولانا عبدالخالق صاحب سہریانی جیکب آباد

29۔ مولانا محمد اسحاق صاحب چیمہ لائل پور

30۔ مولانا محمد یحییٰ صاحب شرقپور

31۔ چودھری عبدالعزیز صاحب لاہور

32۔ حکیم محمود صاحب گوجرانوالہ

33۔مولانا عبداللہ صاحب گوجرانوالہ

34۔ مولانا محمد صادق صاحب سیالکوٹ

35۔ مولانا محمد ادریس صاحب سوہدروی کوئٹہ

36۔ حافظ محمد ادریس صاحب حیدر آباد

37۔ چودھری خلیل الرحمٰن صاحب لاہور

38۔ چودھری محمد صادق صاحب لاہور

39۔ ملک محمد سلیمان صاحب نوشہروی لاہور

40۔ ڈاکٹر محمد سلیم صاحب فارانی لاہور

41۔ شیخ محمد اشرف صاحب لاہور

مختصر خاکہ تعلیم :

(دو سال کا نصاب ہوگا جس میں پہلا سال تکمیلی اور دوسری سال فنی تخصص کے لیے ہوگا۔)

سال اوّل:

مندرجہ ذیل مضامین میں تجرباتی طریق کے مطابق تعلیم کی تکمیل کرائی جائے گی۔

کتاب و سنت (علم القرآن والحدیث و متعلقا تهما)

تقابل ادیان تحاریک و فرق (علوم العقیدہ والفقہ والتاریخ)

لسانیات (عربی، انگریزی ، فارسی، اُردو)

معلومات عامہ (جدید عمرانی اور سائنسی علوم کا ابتدائی تعارف اور واقفیت عامہ)

سال دوم:

ماہر اساتذہ کی نگرانی میں ہر طالب علم کے طبعی رجحان کے مطابق مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک میں تخصص کرایا جائے گا۔

(1) تحقیق و تصنیف (2) درس و تدریس (3) دعوت و خطابت

نوٹ: سطور بالا میں خاکہ تعلیم کے صرف بنیادی نکات دیئے گئے ہیں۔ سال اوّل اور دوم کے ہرسہ شعبہ جات کا تفصیلی نصاب علیحدہ شائع کیا جائے گا۔

مُربّی حضرات :

حسب ذیل علمائے کرام اور پروفیسر حضرات کُل وقتی یا جزوقتی تعلیم و تربیت کے اساتذہ ہوں گے۔

مولانا سلطان محمود صاحب حافظ عبدالرحمٰن مدنی

ڈاکٹر محمد سلیم فارانی صاحب پروفیسر محمدیحییٰ صاحب

مولانا محمود احمد صاحب میر پوری حافظ محمدیحییٰ عزیز

مولانا معین الدین صاحب لکھوی ڈاکٹر عبدالرؤف صاحب

مولانا محمد حنیف صاحب ندوی پروفیسر علام احمد صاحب حریری

مولانا محمد عطاء اللہ صاحب حنیف پروفیسر حافظ عبداللہ صاحب بہاولپوری

مولانا حافظ محمد اسحاق صاحب چودھری مظفر حسین صاحب

حافظ محمد ابراہیم صاحب کمیرپوری پروفیسر خالد بزمی صاحب

مولانا عبدالعزیز صاحب عزیز زبیدی پروفیسر عبدالقیوم صاحب

مولانامحمد صدیق صاحب لائلپوری پروفیسر منور بن صادق صاحب

مولانا حافظ عبدالسّلام صاحب بھٹوی پروفیسر چودھری عبدالحفیظ صاحب

مولانا حافظ عبدالمنّان صاحب پروفیسر حافظ ثناء اللہ صاحب

مولانا محمدیحییٰ صاحب شرقپوری پروفیسر حافظ محمد بن اسماعیل گوجرانوالوی

(نوٹ) مستقل اساتذہ کے سلسلہ میں بعض بیرون ملک یونیورسٹیوں کے افاضل سے بھی بات چیت ہورہی ہے۔ اس کے علاوہ مقامی یونیورسٹیوں او رکالجوں کے ماہرین علوم جدیدہ بھی اپنے خصوصی مضامین کے جز وقتی استاد ہوں گے۔

افتتاح:

اوائل ماہ شوال المکّرم 1396ھ میں ہوگا ۔..... ان شاء اللہ !

مقام تعلیم:

جامعہ کے درجہ تکمیل و تخصص میں تعلیم و تربیت کا آغاز لاہور میں جامعہ مسجد مزّمل اہل حدیث بندر وڈ سے متصل عمارت میں کیا جارہا ہے جہاںمزید چند کمروں کی تعمیر سے ابتدائی ضروریات پوری ہوسکیں گی۔ ادارہ کے لیے موزوں جگہ کی تلاش ہے جہاں حسب حال وسیع انتظامات کیے جائیں گے۔

داخلہ :

درجہ تکمیل و تخصص میں امسال داخلہ محدود ہوگا۔ صرف پندرہ طلبہ کا انتخاب ذہانت، قابلیت اور تقویٰ کی بنیاد پر ہوگا۔ داخلے کا آخری فیصلہ ''مقررہ بورڈ'' کے انٹرویو کے بعد کیا جائے گا۔ دلچسپی رکھنے والے طلباء اپنی درخواستیں سادہ کاغذ پر پمفلٹ کے آخر میں دیے ہوئے پتہ پر 20 رمضان المبارک 1396ھ تک بھجوا دیں۔ درخواستوں میں یہ معلومات ضرور درج کریں:

(الف)نام (ب)تعلیمی قابلیت (ج) کس مدرسہ سے فراغت حاصل کی (د) موجودہ پتہ

نوٹ: طلبہ اپنی اصل اسناد اور اپنی آخری تعلیمی درسگاہ کے مہتمم سے حسن اخلاق کا سرٹیفیکیٹ انٹرویو کے دوران ملاحظہ کے لیے ہمراہ لائیں۔

کفالت:

تعلیم و تربیت کا انتظام مفت ہوگا۔ نیز دوران تعلیم کفالت کے لیے معقول وظیفہ دیا جائے گا جو صرف ان طلباء کے لیے ہوگا جو دو سالہ مدت تعلیم پوری کرنے کی ضمانت مہیا کریں گے۔

دفتر:

متصل جامع مسجد مّزمل اہل حدیث بند روڈ (نزد اڈا بس ۔ملتان روڈ) لاہور۔

حافظ محمد یحییٰ عزیز ۔ میرمحمدی

ناظم تعلیمات مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان

جاری کردہ:

حضرت مولانا معین الدین صاحب لکھوی

امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان