معاشرہ کی خفیہ بیماریاں ..... شوہروں کے لیے درس ِعبرت


عن عائشة رضی اللہ عنا قالت جلس (وفي بعض النسخ جلسن۔نووي وفي روایة أبي عوانةجلست وفي روایة أبي علي الطبري، جلسن وفي روایة للنسائي: اجتمع وفي روایة أبي عبید: اجتمعت وفي روایة أبي یعلی: اجتمعن ۔ فتح ) جَلَسَ إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً، فَتَعَاهَدْنَ وَتَعَاقَدْنَ أَنْ لاَ يَكْتُمْنَ (وفي روایة أبي أویس و عقبه: أن یتصاد قن بینھن ولا یکتمن ۔ فتح )مِنْ أَخْبَارِ أَزْوَاجِهِنَّ شَيْئًا۔

1۔قَالَتِ الأُولَى: زَوْجِي لَحْمُ جَمَلٍ غَثٍّ، عَلَى رَأْسِ جَبَلٍ: لاَ سَهْلٍ فَيُرْتَقَى وَلاَ سَمِينٍ فَيُنْتَقَلُ۔

2۔قَالَتِ الثَّانِيَةُ: زَوْجِي لاَ أَبُثُّ خَبَرَهُ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ لاَ أَذَرَهُ، إِنْ أَذْكُرْهُ أَذْكُرْ عُجَرَهُ وَبُجَرَهُ،(وفي روایة عباد بن منصو رعند النسائي: أخشیٰ أن لا أذرہ من سوء فتح)

3۔قَالَتِ الثَّالِثَةُ: زَوْجِيَ العَشَنَّقُ، إِنْ أَنْطِقْ أُطَلَّقْ وَإِنْ أَسْكُتْ أُعَلَّقْ۔

4۔قَالَتِ الرَّابِعَةُ: زَوْجِي كَلَيْلِ تِهَامَةَ، لاَ حَرٌّ وَلاَ قُرٌّ (وفي روایة ولا برد بدل لا قر) وَلاَ مَخَافَةَ وَلاَ سَآمَةَ،(زاد في روایة الھیثم: ولا خامة وفي روایة الزبیر ابن بکار: والغیث غیث غمامة ۔فتح)

5۔ قَالَتِ الخَامِسَةُ: زَوْجِي إِنْ دَخَلَ فَهِدَ، وَإِنْ خَرَجَ أَسِدَ، وَلاَ يَسْأَلُ عَمَّا عَهِدَ۔

6۔ قَالَتِ السَّادِسَةُ: زَوْجِي إِنْ أَكَلَ لَفَّ، وَإِنْ شَرِبَ اشْتَفَّ، وَإِنِ اضْطَجَعَ التَفَّ، وَلاَ يُولِجُ الكَفَّ لِيَعْلَمَ البَثَّ(وزاد في روایة: وإذا ذبح اغتث ۔فتح)

7۔قَالَتِ السَّابِعَةُ: زَوْجِي غَيَايَاءُ - أَوْ عَيَايَاءُ - طَبَاقَاءُ، كُلُّ دَاءٍ لَهُ دَاءٌ، شَجَّكِ أَوْ فَلَّكِ أَوْ جَمَعَ كُلًّا لَكِ۔

8۔ قَالَتِ الثَّامِنَةُ: زَوْجِي المَسُّ مَسُّ أَرْنَبٍ، وَالرِّيحُ رِيحُ زَرْنَبٍ (زاد الزبیر في روایة: وأنا أغلبه والناس یغلب۔ فتح)

9۔ قَالَتِ التَّاسِعَةُ: زَوْجِي رَفِيعُ العِمَادِ، طَوِيلُ النِّجَادِ، عَظِيمُ الرَّمَادِ، قَرِيبُ البَيْتِ مِنَ النَّادِ۔

10۔ ققَالَتِ العَاشِرَةُ: زَوْجِي مَالِكٌ وَمَا مَالِكٌ، مَالِكٌ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكِ، لَهُ إِبِلٌ كَثِيرَاتُ المَبَارِكِ، قَلِيلاَتُ المَسَارِحِ، وَإِذَا سَمِعْنَ صَوْتَ المِزْهَرِ، أَيْقَنَّ أَنَّهُنَّ هَوَالِكُ۔

11۔ ققَالَتِ الحَادِيَةَ عَشْرَةَ: زَوْجِي أَبُو زَرْعٍ، وَمَا أَبُو زَرْعٍ، أَنَاسَ مِنْ حُلِيٍّ أُذُنَيَّ، وَمَلَأَ مِنْ شَحْمٍ عَضُدَيَّ، وَبَجَّحَنِي فَبَجِحَتْ إِلَيَّ نَفْسِي، وَجَدَنِي فِي أَهْلِ غُنَيْمَةٍ بِشِقٍّ، فَجَعَلَنِي فِي أَهْلِ صَهِيلٍ وَأَطِيطٍ، وَدَائِسٍ وَمُنَقٍّ، فَعِنْدَهُ أَقُولُ فَلاَ أُقَبَّحُ، وَأَرْقُدُ فَأَتَصَبَّحُ، وَأَشْرَبُ فَأَتَقَنَّحُ۔

أُمُّ أَبِي زَرْعٍ، فَمَا أُمُّ أَبِي زَرْعٍ، عُكُومُهَا رَدَاحٌ، وَبَيْتُهَا فَسَاحٌ۔

ابْنُ أَبِي زَرْعٍ، فَمَا ابْنُ أَبِي زَرْعٍ، مَضْجَعُهُ كَمَسَلِّ شَطْبَةٍ، وَيُشْبِعُهُ ذِرَاعُ الجَفْرَةِ۔

جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ، فَمَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ، لاَ تَبُثُّ حَدِيثَنَا تَبْثِيثًا، وَلاَ تُنَقِّثُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا، وَلاَ تَمْلَأُ بَيْتَنَا تَعْشِيشًا۔

ققَالَتْ: خَرَجَ أَبُو زَرْعٍ وَالأَوْطَابُ تُمْخَضُ، فَلَقِيَ امْرَأَةً مَعَهَا وَلَدَانِ لَهَا كَالفَهْدَيْنِ ، يَلْعَبَانِ مِنْ تَحْتِ خَصْرِهَا بِرُمَّانَتَيْنِ، فَطَلَّقَنِي وَنَكَحَهَا، فَنَكَحْتُ بَعْدَهُ رَجُلًا سَرِيًّا، رَكِبَ شَرِيًّا، وَأَخَذَ خَطِّيًّا، وَأَرَاحَ عَلَيَّ نَعَمًا ثَرِيًّا، وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ رَائِحَةٍ زَوْجًا، وَقَالَ: كُلِي أُمَّ زَرْعٍ وَمِيرِي أَهْلَكِ، قَالَتْ: فَلَوْ جَمَعْتُ كُلَّ شَيْءٍ أَعْطَانِيهِ، مَا بَلَغَ أَصْغَرَ آنِيَةِ أَبِي زَرْعٍ۔

قَالَتْ عَائِشَةُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُنْتُ لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لِأُمِّ زَرْعٍ»۔ ( زاد في روایة الھیثم بن عدي: في الألفة والوفاء لافی الفرقة والجلاء وزاد ابن الزبیر في آخرہ:إلاأنه طلقھا وإني لا أطلقك وللطبراني: قالت عائشة: یارسول اللہ بل أنت خیرمن أبي زرع ۔فتح)

رواہ البخاري، باب حسن المعاشرة مع الأھل 2؍779 و مسلم باب فضائل عائشة :2؍287)

ترجمہ: ایک دفعہ گیارہ سہیلیاں (مل کر) بیٹھی تھیں تو انہوں نے باہم (یہ) عہد و اقرار کیاکہ وہ آج اپنے اپنے شوہر کی کوئی بات (بھی)نہیں چھپائیں گی (اور بالکل سچ بتائیں گی)

1۔ میرا شوہر بیہودہ او ربے فیض ہے۔ پہلی بولی:

میرے شوہر دبلے اونٹ کا گوشت ہے جوکسی پہاڑ پررکھا ہو، نہ ہموارجگہ ہے کہ وہاں تک کوئی پہنچ جائے اورنہ گوشت ہی فربہ ہے کہ کوئی اسے اٹھا لائے۔

خلاصہ: وہ کہنا چاہتی ہے کہ میرا شوہر بے فیض بھی ہے اوربے ہنر بھی، اس پر طرہّ یہ کہ وہ تندخو اور بداخلاق بھی ہے۔ اس میں کوئی خوبی ہوتو تو لوگ اس سے کسب فیض کےلیے اس کی بدمزاجی کی تلخی بھی سہہ لیتے، اگر اس کے اخلاق اچھے ہوتے تو دنیا تب بھی اس کا قرب ڈھونڈتی۔مگر افسوس! یہاں دونوں باتیں غائب ہیں۔

2۔ بس کچھ نہ پوچھئیے! دوسری بولی:

میں اس کے حالات نشر نہیں کرسکتی، میں ڈرتی ہوں کہ اسے (ادھورا)نہ چھوڑ دوں، اگر اسےبیان کروں تو پھر ظاہر باطن سب کھول کررکھوں۔

خلاصہ: یعنی اس کم بخت کی داستان درد کافی طویل ہے، جواس فرصت میں شاید ہی پوری ہو، بیان کرنا ہو توپر تکلف کیسا؟ اس کی ایک بھی بات ادھوری نہ چھوڑوں۔سب کہہ سناؤں۔ گویاکہ وہ جو کہنا چاہتی ہے کہہ بھی گئی ہے کہ : بس گزارہ ہے، ورنہ بندہ کسی کام کا نہیں ہے۔

3۔ اونٹ رہ اونٹ تیری کون سی کل سیدھی : تیسری بولی:

میرا شوہر، لمبا تڑنگا، احمق او ربدخلق ہے، اگر زبان کھولوں تو طلاق پاؤں، اگر چپ رہوں توبس سمجھو کہ بیاہی ہوں نہ بن بیاہی۔

خلاصہ: وہ ہر طرح سے عذاب جان ہے، اس کی شکل اچھی نہ عقل، صورت اچھی نہ سیرت،فریاد کروں تو مجھے چلتا ہی کرے۔ چپ رہوں تو مر مر کے جینے کے جتن کروں۔کسی بھی طرح چین نصیب نہیں۔

4۔ میرے خاوند کے کیا ہی کہنے: چوتھی بولی۔

میرا شوہر جیسے''تہامہ'' کی رات، گرمی نہ سردی ، خود نہ اداسی۔

خلاصہ: یعنی میرا شوہر معتدل مزاج ہے۔ خلیق او رحلیم ہے۔ سب اس سے راضی رہتے ہیں اور وہ سب کو فیض پہنچاتا ہے۔

مکہ معظمہ جس خطے میں آباد ہے، اسے تہامہ کہتے ہیں۔

5۔ عالی ظرف او ربہادر ہے: پانچویں بولی:

میرا شوہر گھر میں داخل ہو تو چیتا بن جاتاہے ، باہر کو نکلے تو شیر ثابت ہوتا ہے او رجس سلسلے میں عہد لیتا ہے ، اس کی بابت سوال نہیں کرتا۔

اس کے دو مطلب لیے گئے ہیں۔ایک مدح کا پہلو دوسرا ذم کا۔مدح تویوں بنتی ہے کہ: اہل خانہ کے لیے نرم مزاج، بُرد بار او رباحیا ہے، مگر خارجی حلقہ میں دبدبہ کے ساتھ رہتا ہے۔ اگر کوئی عہد شکنی کرے تو اس کی پرواہ نہیں کرتا۔

ذم کا پہلو یوں نکلتا ہے کہ:

بڑا بدتمیز او رعیاش ہے، اپنا مطلب نکالتا ہے۔ لطف و پیارکا نام نہیں لیتا، گھر سے باہر کا حال یہ ہے کہ اس سے سارے لوگ تنگ ہیں، سب کو ستاتا ہے،گھر والوں کی تو مطلق خبر نہیں لیتا۔

6۔ پورا جانور ہے‎: چھٹی بولی:

میرا شوہر کھانے کو آئے تو سب چٹ کرجائے،پینے پر آئے تو سارا پی جائے، لیٹنے لگے توسارا کچھ لپیٹ لے (مگر ہمارا حال نہیں پوچھتا)حال معلوم کرنے کے لیے اندر ہاتھ نہیں لگاتا۔

خلاصہ: یعنی وہ آدمی کی صورت میں پورا جانور ہے، اسے اپنے تن و توش کی پرواہ ہے ہم سے کوئی دلچسپی نہیں۔

7۔ اکھڑا، اُجڈ ، مغلوب الغضب ہے: ساتویں بی بی بولی:

میرا خاوند بے وقوف یاکہا کہ وہ درماندہ ہے جس کو بولنے کا سلیقہ نہیں۔ جہاں بھر کے عیب اس میں ہیں (او رایسا اکھڑا کہ) تیرا سر پھوڑ دے یا ہاتھ توڑ دے (جی میں آئے تو) دونوں توڑ ڈالے۔

خلاصہ: اس کے دماغ میں ایک تو عقل کا خانہ نہیں ہے۔ دوں ہمت ایسا کہ کسی بھی کام کے قابل نہیں، بولنے کا سلیقہ اسے نہیں، او راکھڑا ایسا کہ، خیر سلا کے نام کوتو جانتا نہیں۔ توڑ پھوڑ اور واہی تباہی بکنا اس کا مشغلہ ہے۔ حد درجہ کا مغلوب الغضب ہے۔

8۔ نرم و نازک اور خوش وضع :آٹھویں سہیلی بولی:

میرے شوہر (کے کیاکہنے) اس کو چھوؤں تو خرگوش (کی طرح ملائم) اور اس کی خوشبو (سونگھو تو )زعفران کی طرح معطر۔

خلاصہ: اس نے اپنے شوہر کی تعریف کی ہے۔ اور دو لفظوں میں حد کردی ہے۔ کہتی ہے کہ وہ نہایت بُردبار ، نازک بدن، خوش وضع، فیض رساں اور خوش خلق ہے، اس سے ملو تو مل کر دل خوش ہوجائے ، اس کا ذکر آجائے تو واہ وا ہونے لگے۔

9۔ بہت عظیم اور فیاض شخصیت ہے: نویں خاتون بولی:

میرا شوہر اونچے محل لمبے پرتلے اور بڑی راکھ والا ہے۔ اس کاگھر مسافر خانے اور مجلس سے قریب ہے۔

خلاصہ: اس کا کہنا ہے کہ میرا شوہر قوم کارئیس ہے،وجیہہ اور دراز قد ہے، لنگر خانہ او راجتماع گاہ سے اس کا گھر بالکل قریب ہے ، تاکہ حاجتمندان کی طرف آسانی سے رجوع کرسکیں، مشورہ لینے والے ان سے بہ سہولت رہنمائی حاصل کرسکیں۔

10۔ بڑا فیاض ہے: دسویں بی بی بولی:

میرا شوہر مالک ہے، اور وہ مالک کیا خوب مالک ہے، میری مدح و تعریف سے بھی افضل ہے، اس کے اونٹوں کے شتر خانے اور بیٹھکیں کثرت سے ہیں (مگر) ان کی چراگاہیں (بہت) کم ہیں، جب وہ جانور باجے کی آواز سن لیتے ہیں تو وہ اپنے ذبح ہونےکا یقین کرلیتے ہیں۔

خلاصہ: وہ بہت بڑا فیاض ہے مہمانوں اور ضرورت مندوں کے لیے اونٹ پر اونٹ ذبح کیے چلا جاتا ہے۔ الغرض میں اس کی جتنی بھی تعریف کروں کم ہے۔

11۔ ابوزرع کے کیا کہنے۔ گیارہویں بولی:

میرے شوہر ابوزرع کے کیا کہنے، اس نے زیوروں سے میرے دونوں کان بھر دیئے او ر(ناز و نعمت سے یوں پالا کہ)کہ گوشت او رچربی سے میرے دونوں بازو بھر دیئے۔ اس نےمجھے بہت (ہی) خوش رکھا، سو میں بہت ہی چین میں رہی، اس نے مجھے بھیڑ بکری والوں میں پایا جو پہاڑ کے کنارے رہتے تھے(پھر) اس نے مجھے، گھوڑے، اونٹ، کھیت اور خرمن کا مالک بنا دیا، میں اس کےسامنے بولتی ہوں تو بُرا نہیں مناتا او رسوتی ہوں تو صبح کردیتی ہوں او رپیتی ہوں تو سیر ہوجاتی ہوں۔

(باقی رہی اُم زرع؟) تو اس کے کیا کہنے، اس کی ذخیرہ گاہیں اور گٹھڑیاں بھاری ہیں (ان میں مال و اسباب کا بڑا سٹاک ہے) اور اس کا گھر کشادہ ہے۔

ابوزرع کابیٹا؟ اس کے کیا ہی کہنے، اس کی خواب گاہ جیسے تلوار کی میان او ر(کم خوراتنا کہ)اسے بکری کے بچے کی ایک ران سیر کردیتی ہے۔

ابوزرع کی بیٹی کے (بھی) کیا کہنے،ماں باپ کی فرمانبردار، اپنی چادر کو بھرنے والی او راپنی ہمسایہ عورتوں کے لیے رشک کی موجب۔

ابوزرع کی لونڈی کے (بھی) کیا کہنے، وہ ہمارے راز فاش نہیں کیا کرتی اورنہ ہمارا کھانا اٹھا کر لے جاتی ہے، نہ ہی ہمارے گھر کو کوڑا کرکٹ سے آلودہ ہونے دیتی ہے۔

(پھر) اس نے کہا (ہائے میری کم بختی! ایکدن) ابوزرع گھر سے نکلا،جب کہ مشکوں میں دودھ بلوایا جارہا تھا، تو وہ ایک عورت سے ملا جس کے ہمراہ چیتے جیسے دو بچے تھے جو اس کی گود میں دو اناروں سے کھیلتے تھے، (بس پھر کیا تھا)مجھے طلاق دے کر اس سے نکاح کرلیا۔

چنانچہ میں نے اس کے بعد ایک چودھری آدمی سے نکاح کرلیا، جو شاہسوار، نیز باز تھا۔ اس نے مجھے بہت سے مویشی دیئے اور جوڑا جوڑا دیئے۔ اس نے مجھ سے کہا کہ : اے اُم زرع خود بھی کھا او راپنے گھر والوں کوبھی کھلائیے! پھر وہ بولی: اگر وہ سب کچھ جمع کروں جو اس نے مجھے عطا کیا ہے تو وہابوزرع کے چھوٹے سے برتن کے برابر بھی نہ پہنچے۔

خلاصہ: میرے دونوں خاوند اچھے ہیں، تاہم دوسرا ابوزرع کے برابر کا نہیں ہے، ابوزرع صرف خود نہیں اس کا سارا کنبہ ہی قابل ذکر ہے۔

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ (یہ قصہ سن کر) رسو ل کریمﷺ نے فرمایا کہ:

میں آپ کے حق میں ایساہوں،جیسے ابوزرع، اُم زرع کے لیے (یعنی الفت او روفا میں، جدائی اور علیحدگی میں نہیں، اس نے اس کو طلاق دے دی تھی۔ میں آپ کو طلاق نہیں دوں گا۔ اس پر حضرت عائشہؓ نے کہا کہ:

حضورﷺ! آپ (میرے حق میں) ابوزرع سے (بھی) بہتر ہیں۔ فتح) (بخاری ، مسلم)

واقعہ: بخاری کی شروح سے معلوم ہوتا ہے کہ ان خواتین کا تعلق یمن کے علاقہ سے تھا۔ وہ ایک ہی گاؤں کی رہنے والی تھیں جو اتفاق سے کسی خاص تقریب میں جمع ہوگئی تھیں او رباتوں باتوں میں یہاں پہنچ گئیں کہ : ہرایک اپنے گھر اور شوہر کی داستان سنائے اوربلا کم و کاست سنائے او رسچ سچ بولے۔

پہلی، دوسری، تیسری ، چھٹی اور ساتویں نے تو یوں کھل کر اپنے شوہروں کا پوسٹ مارٹم کیا کہ ان کے پلے میں کچھ بھی نہ رہنے دیا۔

چوتھی، آٹھویں،نویں اور دسویں نےاپنے اپنے شوہروں کا قابل ذکر تعارف پیش کیااو رپھر ان کا حق ادا کردیا۔

پانچویں عورت کچھ زیادہ سیاسی ڈھب کی تھی اس لیے اس نے بات کو گول مول ہی رکھا کوئی چاہیے تو تعریف سمجھ لے،اگر کوئی چاہے تو اسے مذمت بنا لے۔

یہاں قصہ حضرت عائشہؓ کی زبانی بیان ہوا ہے مگر بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ واقعہ حضورﷺ نے حضرت عائشہؓ سے ذکر کیا تھا۔ ( فتح الباری)

فقہ الحدیث: عورت گو چپ رہتی ہے ، تاہم اپنے شوہر کے بارے میں وہ اپنی ایک رائے رکھتی ہے۔

اس لیےشوہروں کو محتاط رہنا چاہیے، کہیں ان کی تاریخ سیاہ نہ مرتب ہوجائے۔

بیوی جہاں مال و منال اور زیوروں کی ریل پیل چاہتی ہے ، وہاں شوہروں کی انسانیت کی بھی دل سے متمنی ہوتی ہیں۔

شوہرکے لیے ضروری ہے کہ :بیوی کے صرف سکھ چین کا خیال نہ رکھے، اس کے جائز احترام کو بھی ملحوظ رکھے۔

شوہر اپنے کو کتنا چھپائے،بیوی سے بہرحال نہیں چھپ سکتا۔

اپنی بیوی کو مطمئن رکھنے کے لیےمحل و موقع کے مطابق ان پر واضح کردینا چاہیے کہ میں آپ کا قدردان ہوں اور رہوں گا۔

عائلی زندگی میں، جو کمزوریاں راہ پا جاتی ہیں، زیادہ تر ا ن کی ذمہ داری شوہروں پرعاود ہوتی ہے۔