مسئلہ تقلید و اجتہاد اسی زمانے سے معرکة الآراء موضوع بنا ہوا ہے، جب سے اُمت مسلمہ نے بقول مقلدین''تقلید و جمود'' پر اجماع کرلیا ہے۔ کہنے کو تو یہ حضرات کہہ دیتے ہیں کہ ائمہ اربعہ کے عہد کے اختتام پر تمام اُمت نے ان ائمہ کی تقلید پر اتفاق کرلیاتھا، مگر تاریخ کے اوراق ان کے اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔ چوتھی صدی ہجری کے اوائل سے لے کر آج تک ہر زمانے میں مقلدین کے علاوہ اہل علم کی ایک معتدبہ جماعت موجود رہی ہے۔ جس نے اپنے اپنے زمان و مکان کے بدلتے ہوئے حالات میں اجتہاد کا فریضہ سرانجام دیا ہے او رآج اجتہاد ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ آپ تاریخ فقہ پڑھ کر دیکھئے، جن حضرات نے اپنے آپ کو تقلید جامد کے حصار میں محصور کرکے اجتہاد کا دروازہ بند کرلیا، وہ اپنے زمانے کی حدود سے باہر نہیں نکل سکے۔ اس کی بے شمار مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ اس کے برعکس ابن عبدالبر، ابن حزم، ابن عبدالسلام، ابن تیمیہ، ابن قیم، محمد بن اسماعیل صنعانی، شاہ ولی اللہ، شوکانی، نذیر حسین دہلوی، و دیگر مجتہدین نے مسئلہ اجتہاد کو منقح کرکے تقلید جامد کی مذمت کی ہے ، کہ ایک متعصب مقلد ہی تقلید جامد کے ساتھ چمٹا رہ سکتا ہے۔

اس مضمون میں ہمارا موضوع تقلید کی تردید میں دلائل فراہم کرنا نہیں، کیونکہ اب اس کی حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے، بلکہ ہمارے ایک دوست جناب پروفیسر ابوالکلام خواجہ کی تازہ تصنیف ''نماز کے چند مسائل'' میں بیان کردہ ''چند بنیادی باتوں'' کے ضمن میں ان مغالطوں کا ازالہ مقصود ہے، جن کے ذریعے انہوں نے واضح حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے یہ کتاب از راہ نوازش مجھے عنایت فرمائی، اس پر میں ان کا بے حد شکرگزار ہوں۔ اس کتاب میں انہوں نے ''چند بنیادی باتوں'' کے علاوہ اپنے مسلک کی تائید میں کمزور اور ضعیف روایات کے ''مستند مواد'' اور کچھ خود ساختہ اصولوں کے ذریعے اپنے ہم مسلک مقلدین کو ''استقامت'' دینے کی کوشش فرمائی ہے۔ کیا ہی اچھای ہوتا کہ وہ اپنے زور قلم کو صرف اپنے ہم مسلک حضرات کی نماز کو ''مطابق سنت'' بنانے کے لیے، دلائل فراہم کرنے تک محدود رکھتے۔ کیونکہ ذخیرہ حدیث میں تلاش کرنے سے ہر قسم کی چیز مل جاتی ہے۔ البتہ کندن کی پہچان کے لیے تعصب سے پاک جوہری کی نظر چاہیے۔ اور یہ پہچان صرف مطالعہ حدیث کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا لینے سے حاصل ہوتی ہے۔ ورنہ خواجہ صاحب اچھی طرح جانتے ہیں کہ بعض حضرات نے اپنی بدعات،شرک اور قبر پرستی کی تائید کے لیے یہیں سے ''مستند مواد'' حاصل کرکے انہیں عین سنت او رمسلک سلف قرار دے رکھا ہے۔

انہوں نے ''بنیادی باتوں'' کے ضمن میں ''اہل حدیث'' اور ''مسلک اہل حدیث'' پر طبع آزمائی فرمائی ہے۔ اس لیے ان کے ان مغالطوں کو دور کرنا ہم اپنی ذمہ داری خیال کرتے ہیں۔ خواجہ صاحب نے حقائق سے صرف نظر کرکےاپنے قارئین کو مندرجہ ذیل مغالطوں میں مبتلا کرنے کوشش کی ہے:
اوّل: تقلید کے اُس مفہوم کو انہوں نے عمداً یا سہواً نظر انداز کیا ہے، جو متفقہ طورپر اہل علم کے نزدیک مذموم ہے او رجس کی مذمت اہل حدیث کرتے ہیں۔ مزید بریں ان کے نزدیک :
ثانی: قرون اولیٰ سے لے کر آج تک ''اہل حدیث'' صرف حدیث پڑھنے او رپڑھانے والوں کو کہا جاتا رہا ہے۔ اہل حدیث اور ائمہ اربعہ کی تقلید نہ کرنے کا مستقل اور الگ فقہی مسلک موجود نہ تھا اور ''اہل حدیث'' کا اطلاق شوافع پر ہوتا تھا۔
ثالث: موجودہ اہل حدیث بھی درحقیقت مقلد ہیں او رعمل بالحدیث ، تقلید کے زمرے میں آتا ہے۔
رابع: ہند کے اہل حدیث انگریزوں کے پروردہ تھے او رانہوں نے انگریزوں کی سرپرستی میں غیر مقلدیت کی تحریک کو آگے بڑھایا۔

ہم ان تمام مغالطوں کا جواب باری باری دیں گے۔
1۔ پروفیسر ابوالکلام خواجہ صاحب نے خود اپنی طرف سے تقلید کی ایک تعریف دے کراپنے قارئین کو مغالطے میں ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ چنانچہ وہ ان الفاظ میں تقلید کی تعریف کرتے ہیں:
''کسی مسئلہ میں شریعت کے حکم پرعمل کرنے کے لیے اپنی ذاتی رائے یا تحقیق کی بجائے کسی مجتہد کی تحقیق پر اعتماد کرتے ہوئے اس کے مطابق عمل کرنا تقلید کہلاتا ہے۔''1

اہل اصول کے ہاں جناب ابوالکلام خواجہ کی مذکورہ بالا تعریف نہ تو جامع ہے اور نہ وہ تقلید کی اس مذموم حیثیت پر دلالت کرتی ہے، جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ آئیے ہم آپ کو بتلائیں کہ مشاہیر اہل اصول نے تقلید کی کیا تعریف کی ہے؟ اہل علم کے ہاں تقلید کی مندرجہ تعریفیں معروف ہیں:
(الف) ''التقلید العمل بقول الغیر من غیر حجة''2
''بغیر کسی دلیل کے دوسرے کے قول پر عمل کرنا تقلید کہلاتا ہے۔''

دلیل سے مراد قرآں و سنت کی نصوص ، اجماع اور قیاس صحیح ہے۔ مجتہد کا اجتہاد چونکہ صواب اور خطاء دونوں کا محتمل ہوتا ہے، بنا بریں وہ دلیل کے زمرے میں نہیں آتا۔

(ب) امام غزالی ان الفاظ میں تقلید کی تعریف کرتے ہیں:
''التقلید ھو قبول قولا بلا حجة'' 3
'' کسی قول کو بغیر دلیل کے قبول کرنا تقلید کہلاتا ہے۔''

اس کے ساتھ امام صاحب فرماتے ہیں کہ:
''ولیس ذٰلک طریقا الی العلم''
''یہ علم کی راہ نہیں۔''

(ج) علامہ ابوالحسن اللآمدی فرماتے ہیں:
''اما التقلید فعبارة عن العمل بقول الغیر من غیر حجة ملزمة''4
''رہی تقلید، تو وہ بغیر کسی ایسی دلیل کے، غیر کے قول پر عمل کرنے سے عبارت ہے، جو عمل کو لازم ٹھہراتی ہو۔''

(د) علامہ شوکانی ان الفاظ میں تقلید کی تعریف کرتے ہیں:
''ھو العمل بقول الغیر من غیر حجة''5
''کسی کے قول پر بغیر کسی دلیل کے عمل کرنے کو تقلید کہتے ہیں۔''

(ہ) علامہ ابن الہّمام کے نزدیک تقلیدکی تعریف یوں ہے:
''التقلید العمل بقول من لیس قولہ احدی الححج''6
''کسی ایسے شخص کے قول پر بلا دلیل عمل کرنا، جس کا قول دلائل شرعیہ میں شمار نہیں ہوتا، تقلید کہلاتا ہے۔''

یہ ہیں تقلید کی چند تعریفیں۔ اگر مفتی، مجتہد یا کسی محدث کی روایت پر اس اعتماد کے ساتھ عمل کیا جائے کہ اس کا فتویٰ دلیل پر مبنی ہے او رمحدث کی روایت صحیح سند کے ساتھ رسول اللہ ﷺ تک پہنچتی ہے ، تو یہ تقلید نہیں، بلکہ دلیل کا اتباع ہے۔ اگر مستففی (فتویٰ طلب کرنے والے) پر یہ واضح ہوجانے کے بعد بھی کہ مفتی اور مجتہد بغیر دلیل یا کسی کمزور دلیل کی بنیاد پر فتویٰ دے رہا ہے او رمحدث کی یہ روایت ضعیف یا موضوع ہے، وہ کسی اور مفتی یا مجتہد، جس کےپاس دلیل ہو، کسی دوسرے محدث کی روایت کی طرف، جس کی روایت صحیح ہو، رجوع نہیں کرتا۔ تو یہی درحقیقت وہ تقلید ہے جس کی اہل علم مذمت کرتے ہیں۔ تقلید مذموم کو، جس پر عمل کرنا حرام ہے، علامہ ابن قیم نے تین اقسام میں تقسیم کیا ہے:
اوّل: اپنے آباء و اجداد کے رسم و رواج کی تقلید کرتے ہوئے اس ہدایت سے گریز کرنا جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے۔
ثانی: کسی ایسی ہستی کی تقلید کرنا جس کے متعلق مقلد کے پاس کوئی علم نہیں کہ آیا اس کا قول تقلید کے قابل ہے یا نہیں؟
ثالث: اپنے مقتدیٰ کے قول کے خلاف دلیل و برہان قائم ہوجانے کے بعد بھی اس کی تقلید پر مُصر رہنا۔7

کسی ایسی شخصیت کو اپنی تقلید کے لیے معین کرلینا او راس کے خلاف دلیل ثابت ہوجانے کے بعد بھی اس کی تقلید کرتے چلے جانا، اس کے علاوہ کسی دوسرے صاحب علم کی طرف شرعی حکم معلوم کرنے کے لیے رجوع کرنے کو حرام سمجھنا دراصل اس شخصیت کو معصوم عن الخطاء سمجھنا ہے ۔ بے چون و چرا اطاعت صرف رسول اللہ ﷺ کی ہے۔ یہ لوگ مانیں یا نہ مانیں مگر اپنے معین امام کی تقلید عملاً اسی نہج پر کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ نے ہمیں اس بات کا پابند نہیں کیا کہ ہم صرف ایک معین شخص ہی سے فتویٰ پوچھیں ، خواہ اس کے پاس دلیل ہو یا نہ ہو۔

علامہ عزالدین بن عبدالسلام اپنی مشہور کتاب ''قواعد الاحکام فی مصالح الانام'' میں مقلدین کی اس قسم کا ذکر اس طرح کرتے ہیں:
''بہت ہی عجیب بات ہے کہ مقلد فقہاء اپنے امام کے کسی ماخذ کی کمزوری کو محسوس کرتے ہیں مگر اس کا دفاع نہیں کرسکتے۔ بایں ہمہ وہ اپنے امام کی جامد تقلیدپر مُصر ہوتے ہوئے کتاب و سنت او راس کے مذہب کے قیاسات صحیحہ کو چھوڑ دیتے ہیں، کتاب و سنت کی ظاہری نصوص کو رد کرنےکےلیے حیلے ایجاد کرتے ہیں، اپنے امام کی حمایت اور مدافعت میں قرآن اور سنت کی ایسی ایسی تاویلات کرتے ہیں جو باطل ہوتی ہیں او رمسلمہ اصولوں سے بہت بعید ہوتی ہیں۔''8

آگے چل کر فرماتے ہیں:
''میں نے آج تک کسی کو نہیں دیکھا کہ جب اس پر یہ ظاہر ہوجائےکہ حق دوسرے کے ساتھ ہے، تو اس نے اپنے امام کے مذہب سے رجوع کیا ہو۔بلکہ وہ اپنے امام اور مقتدیٰ کی دلیل کی کمزوری او رحق سے بُعد کے باوجود اسی مذہب پر جما رہتا ہے۔ ایسے لوگوں کے ساتھ بحث نہ کرنابہتر ہے، جن میں سے اگر کوئی شخص اپنے امام کی دلیل کی کمزوری دیکھتا ہے تو کہہ دیتا ہے کہ شاید میرے امام کے پاس کوئی ایسی دلیل ہو جس سے میں واقف نہیں ہوں اور اس دلیل تک میری رسائی نہیں ہوسکی۔''9

غالباً علامہ عزالدین بن عبدالسلام کا اشارہ علامہ کرخی کی اس عبارت کی طرف ہے:
''کل اٰیة تخالف قول اصحابنا فانھا تحمل علی النسخ او علی التگرجیح و اولیٰ ان تحمل علی التاویل من جھة التوفیق........... وکل خبر یجیئ بخلاف قول اصحابنا فانہ یحمل علی النسخ او علیٰ انہ معارض بمثلہ''10
''ہر وہ آیت قرآنی ، جو ہمارے اصحاب (احناف) کے مذہب کے خلاف ہو ، وہ یا تو منسوخ سمجھی جائے گی یا اسے ترجیح پر محمول کیا جائے گا۔ اور اگر اپنے مذہب کے مطابق بنانے کے لیے تاویل کرلی جائے تو بہتر ہے۔............ہر وہ حدیث، جو ہمارے اصحاب کے قول کے خلاف آتی ہے، اسے منسوخ سمجھا جائے گا یا یہ سمجھا جائے گاکہ کوئی اور اس جیسی حدیث اس کے معارض تھی۔''

اس قسم کے مقلدین کے متعلق ابن تیمیہ فرماتے ہیں:
''بہت سے فقہائے متأخرین یا ان کی اکثریت یہ کہتی ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی جہت سے شرعی احکام اخذ کرنے سے عاجز ہیں ، چنانچہ یہ لوگ اپنے ائمہ کی نصوص کو رسولؐ کی نص کی مانند قرار دیتے ہیں او ران کی تقلید کرتے ہیں۔''11

ایک ہی مذہب میں تقلید اور تحقیق کا تقابل ملاحظہ کرنا ہو تواحناف میں تراویح کی رکعات کے عدد کے بارے میں علامہ انور شاہ کشمیری او رعلامہ ابن الہمام کا موقف مطالعہ فرما لیں۔ شاہ صاحب ترمذی کے حواشی میں تسلیم کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں بھی تراویح کی آٹھ ہی رکعت ادا فرمائی تھیں۔ مگر مختلف تاویلوں سے بیس رکعت ہی کو سنت مؤکدہ قرار دیتے ہیں۔12 اس کے برعکس علامہ ابن الہمام واضح نص کے سامنے سرنگوں ہوتے ہوئے آٹھ تراویح کو، رسول اللہ ﷺ سے ثابت شدہ سنت ہونے کی بناء پر ، سنت مؤکدہ قرار دیتے ہیں اور اس سے زائد صحابہ کرامؓ کا عمل ہونےکی وجہ سے مستحب قرار دیتے ہیں۔13

2۔ امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی وغیرہم کے عصر کے بعد سے لے کر آج تک ان کے اصحاب کے ساتھ ساتھ اہل علم کا ایک ایسا گروہ موجود رہا ، جو الگ اور مستقل فقہی آراء اور کلامی نظریات رکھتا تھا۔وہ کسی اہل علم کی تقلید نہیں کرتا تھا، بلکہ قرآن و سنت کی واضح نصوص پر عمل کرتا تھا۔ وہ صحیح و مستفیض احادیث کو خلاف قیاس ، زائد از قرآن، مخالف اجماع اہل مدینہ او رمخالف تعامل اہل کوفہ کہہ کر رد نہیں کرتا تھا۔ وہ ہر اس حدیث کو قبول کرتا تھا، جو روایت و درایت کے مسلمہ اصول پر پوری اترتی ہو، خواہ وہ کوفہ سے ملی ہو یا وہ مدینہ سے آوی ہو۔ وہ روایت پر عمل کرتے وقت صحابہ کرامؓ کو فقیہہ وغیرفقیہہ میں تقسیم نہیں کرتا تھا، حتی الامکان احادیث میں تعارض پید انہیں ہونے دیتا تھا اور تعارض رفع نہ ہونے کی صورت میں کسی امام فقہ کے تعصب میں ضعیف روایت سے صحیح روایت کو منسوخ قرار دے کر ترک نہیں کرتا تھا۔ بلکہ روایت و درایت کے مسلمہ اصولوں کے مطابق جو صحیح ترین روایت ہوتی تھی اسے اختیار کرلیتا تھا۔ اسی گروہ نے اہل ایمان کی آسانی خاطر نہایت جانفشانی سے صحت کے کڑے اصولوں پر پرکھ کر صحیح احادیث کو جمع کرکے ان کو فقہی ابواب پر مرتب کردیا، تاکہ لوگ آسانی سے اُن پر عمل کرسکیں۔ اس زمانے سے لے کر آج تک اہل علم نے اس گروہ کو کبھی اہل الحدیث ، کبھی اصحاب الحدیث، کبھی فقہا ء الحدیث، کبھی فقہاء اہل الحدیث، کبھی فقہا المحدثین، کبھی فقہاء اہل الاثر ، کبھی فقہاء الاثر او رکبھی صرف محدثین کے ناموں سے موسوم کیا ہے۔ ان کی فقہی آراء کو ایک مستقل مذہب کے طور پر بیان کیاہے۔ علمائے دیو بند اور بعض ہندی وغیر ہندی فقہائے احناف نے ، جن پر تقلیدی اور خالص فقیہانہ طرز استنباط غالب تھا، فقہاء اہل حدیث کی آراء کو ایک علیحدہ مسلک کے طور پربیان نہیں کیا۔ ان کی فقہی موشگافیاں زیادہ تر حنفی اور شافعی اختلافات کے دائرے میں رہی ہیں۔ مگر احناف شارحین حدیث نے ان کی آراء کو بیان کیا ہے۔ بلکہ ہم تو کہتے ہیں کہ اگر علامہ انور شاہ کشمیری کو ہند کے اہل حدیث کے اختلاف سے واسطہ نہ پڑا ہوتا تو یقیناً وہ بھی اہل حدیث کی آراء کو مستقل حیثیت سے بیان کرتے، جیسے علامہ عینی او رملاّ علی القاری نے بیان کی ہین۔ اب بھی وہ ''عرف الشذی'' اور ''فیض الباری'' وغیرہ میں ابن تیمیہ وغیرہ کی آراء کو بیان کرتے ہیں مگر مقلد حنبلی کی صورت میں، فیاللعجب!

محدثین یا اصحاب الحدیث کسی امام کی تقلید نہ کرتے تھے اور بقول علامہ شہر ستانی اور شاہ ولی اللہ، ان کو اس بناء پر اصحاب الحدیث کہا جاتا تھا کہ ان کی تمام تر توجہ حصول حدیث پر ہوتی تھی۔ وہ احکام شریعت کی بنیاد نصوص پر رکھتے تھے اور حدیث یا اثر کے ہوتے ہوئے کسی جلی یا خفی قیاس پر عمل نہیں کرتے تھے۔14

امام ابن تیمیہ ، محدثین کا فقہی مسلک بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
''رہے امام بخاری او رابوداؤد، تو وہ دونوں فقہ میں امام ہیں او راہل اجتہاد میں شمار ہوتے ہیں، رہے امام مسلم، امام ترمذی، امام نسائی، امام ابن ماجہ، امام اب خزیمہ، امام ابویعلیٰ او رامام بزار وغیرہم، تو مذہب اہل حدیث پر گامزن ہیں۔ وہ علماء میں سے کسی ایک عالم کے مقلد نہیں اور نہ ان کا شمار ائمہ مجتہدین میں ہوتا ہے ۔ بلکہ ان کا میلان ائمہ حدیث مثلاً امام شافعی، امام احمد بن حنبل، امام اسحاق، او رامام ابوعبید قاسم بن سلام او ران جیسے دوسرے ائمہ کے اقوال کی طرف رہتا ہے۔'' 15

حافظ ابن حجر فتح الباری میں امام بخاری کے بارے میں صاف تصریح کرتے ہیں:
''ولم نجد عن احد ممن عرف حال البخاری وسعة علمہ وجودة تصرفہ علیٰ انہ کان یقلد فی التراجم ولو کان کذٰلک لم یکن لہ مزیة علیٰ غیرہ'' i
''جواہل علم امام بخاری کے احوال، ان کی وسعت علم اور ان کے حسن استنباط کی معرفت رکھتے ہیں، ہم نے ان میں سے کسی کو نہیں پایا کہ اس نے یہ بات کہی ہو کہ بخاری اپنے تراجم (فقہ البخاری) میں تقلید کرتے تھے۔ اگر یوں ہوتا تو اُن کو دوسروں پر کوئی فوقیت حاصل نہ ہوتی۔''

امام الہند شاہ ولی اللہ ، جو ہند میں تقلید کے جامد و ساکت پانی کی سطح پر پہلا بڑا پتھر پھینکنے والے ہیں، فقہائے اہل حدیث کے مسلک کی توضیح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
''پس محققین اہل حدیث فن روایت اور معرفت مراتب حدیث کو مکمل کرنے کے بعد فقہ کا طرف مائل ہوئے ۔ پس جبکہ بہت سی احادیث و آثار کو انہوں نے ان مذاہب میں سے ہرایک کے مذہب کے مخالف دیکھا، متقدمین میں سے کسی خاص امام کی تقلید کرنے پر اتفاق کرنےکو انہوں نےدرست نہ سمجھا۔ پس وہ خود احادیث نبوی کا ، صحابہؓ و تابعین او رمجتہدین کے آثار کا، ان قواعد کے موافق، جو انہوں نے اپنے نزدیک قرا ردے رکھے تھے، تتبع کرنے لگے ہیں ان قواعد کو تمہارے لیے چند کلمات میں بتلائے دیتا ہوں۔

ان کا مسلک یہ تھا کہ جب کسی مسئلہ پر قرآن ناطق ہوتا تو کسی شئ کی طرف توجہ کرنا جائز نہیں او رجب آیت قرآنی میں چند احتمالات ہوں تو اس کا فیصلہ حدیث سے کرنا چاہیے او راگر قرآن میں ان کو کوئی حکم نہ ملتا تھا تو رسول خداﷺ کی حدیث پر عمل کرتے تھے، خواہ وہ سنت مستفیض جس پر فقہاء کا عمل رہا ہو یا کسی خاص شہر کے علماء سے یا کسی خاص طریقہ سے مروی ہو، خواہ صحابہؓ و فقہاء نے اس پر عمل کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ اور جب کسی مسئلہ میں ان کو حدیث مل جاتی تو اس کے خلاف کسی اثر یا کسی اجتہاد کا اتباع نہیں کرتے تھے او رجب تتبع احادیث میں پوری کوشش کرچکتے تھے اور اس مسئلہ میں ان کو حدیث نہ ملتی ، تو جماعت صحابہؓ و تابعین کے اقوال پر عمل کرتے تھے او راس میں کسی قوم یا کسی شہر کے پابند نہ تھے، جیسا کہ ان سے پہلے لوگ کرتے تھے۔ پس اگر کسی مسئلہ میں جمہور خلفاء اور فقہاء کو متفق پاتے تھے تو اس پر قناعت کرتے تھے اور اگر وہ مسئلہ مختلف فیہ ہوتا تھا تو اُن میں سے جو بڑا عالم اورپرہیز گار یا زیادہ ضابطہ یا زیادہ مشہور ہوتا، اس کی حدیث کر لے لیتے تھے اور اگر وہ کوئی ایسا مسئلہ پاتے جس میں مساوی قوت کےد و قول ہوتے، وہ مسئلہ ذات القولین رہتا تھا۔ اور اگر اس سے بھی عاجز آجاتے تھے تو کتاب و سنت کی عام تعبیرات ، ان کے اشارات اور اقتضاءات میں غور کیا کرتے تھے او رنظیر مسولہ کو ان پر حمل کیا کرتے تھے۔ بشرطیکہ دونوں مسئلے بادی الرائے میں ایک سی حالت رکھتےہوں۔ اس امر میں قوانین اصول کی پابندی نہیں کرتے تھے بلکہ اس طریق پر اعتماد کرتے تھے جو صاف صاف سمجھ میں آئے اور دل کو اس سے اطمینان ہو، جیسے تواتر کے لیے راویوں کی تعداد میزان نہیں۔''16

شاہ ولی اللہ کی محولہ بالا عبارت ، گویا ''اعلام الموقعین'' میں علامہ ابن القیم الجوزیہ کی تفصیلات کا نچوڑ اور ماحصل ہے، جسے شاہ صاحب نے نہایت مہارت سے چند فقروں میں سمو دیا ہے۔ ہم اس کو ان الفاظ کے پیرائے میں بیان کرتے ہیں۔

فقہائے اہل حدیث کی منہاج فقہ استقرائے نصوص پر مبنی ہے۔ فقہائے احناف او رمالکیہ کی منہاج فقہ ان کے وضع کردہ اصولوں کی میزان پر استخراج احکام ہے کیونکہ یہ حضرات اپنے وضع کردہ اصولوں پر احکام کا استخراج کرتے ہیں۔ اگر کوئی صحیح حدیث ان کے ان اصولوں کی مقتضیات کے خلاف ہوتی ہے تو اسے خلاف اصول کہہ کر ترک کردیتے ہیں۔ اس کی مثالیں حنفی او رمالکی فقہ کی کتابوں میں بکھری پڑی ہیں ۔ اس کے برعکس فقہائے اہل حدیث تمام نصوص صحیحہ کا کامل استقراء کرتے ہیں، پھر تحقیق و تطبیق اور ترجیح و تاویل کے مسلمہ اصولوں کے مطابق ان سے احکام کا استنباط کرتے ہیں۔

اس گروہ کے سرخیل امام اہل سنت17 امام احمد بن حنبل، امام محمد بن جریر الطبری، امام محمد بن نصر المروزی،امام ابن المنذر، امام ابن خزیمہ، امام ابوحاتم، امام ابوزرعہ، امام بقی، بن مخلد ، محمد بن الوضاح جیسے ائمہ اہل حدیث ہیں۔ امام شافعی کی منہاج فقہ سے ہم آہنگی کی وجہ سے تقلیدی ذہن رکھنے والے کچھ حضرات مذکورہ بالا ائمہ میں سے بعض کو امام شافعی کے مقلدین میں شمار کرتے ہیں۔ حالانکہ انہیں علم ہےکہ تقلید سے مراد یہ ہے کہ ہر مسئلہ میں اپنے امام کی تقلید سے باہر نہ نکلا جائے اور اگر تحقیق کے بعد اپنے امام کے کسی مسلک کو چھوڑ دے تو معلوم ہوا کہ وہ اس امام کا مقلد نہیں۔ مقلد اپنے امام کی تقلید سے باہر نہیں جاسکتا، خواہ امام کی مخالف نص پر اس کا دل کتنا ہی مطمئن کیوں نہ ہو ۔ مذکورہ بالا ائمہ حدیث نے بہت سے مقامات پر امام شافعی کی مخالفت کی ہے۔ بلکہ ہماری نظر میں تو امام طحاوی بھی مقلد نہ تھے۔ بے شمار مسائل میں انہوں نے امام ابوحنیفہ کی مخالفت کی ہے۔ بس ان پر امام ابوحنیفہ کا طریق استنباط غالب تھا۔

پروفیسر صاحب کی نظروں سے یہ حقیقت شاید اوجھل نہ ہوگی کہ امام ابوالحسن اشعری او رامام ماتریدی کے بعد جب مالکی، شافعی او رحنفی حضرات ، اشعری ماتریدی اور معزلی18 عقائد کے گروہوں میں بٹ گئے، تو اہل حدیث عقائد سلف پر قائم رہے او راس راہ میں انہیں مصائب و محن سے بھی واسطہ پڑا۔ ان طرہ امتیاز یہ ٹھہرا کہ صفات الٰہی کے بارے میں قرآن اور سنت کی نصوص کو ان کے ظاہری اور حقیقی معنوں پر محمول کرتے تھے او ران کی تاویل یا تکییف سے گریز کرتے تھے۔وہ قرآن و سنت کی ظاہری نصوص سے سرمو انحراف نہیں کرتے تھے۔ علم کلام کے مؤرخین ان حضرات کو سلفی ، اہل حدیث او رمحدثین وغیرہ کے ناموں سےموسوم کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہند کے مقلدین شارحین حدیث نےبھی اس گروہ کا ذکر کیاہے۔ ائمہ اہل حدیث نے اس موضوع پر کتابیں بھی تصنیف کی ہیں،چنانچہ امام ابن خزیمہ کی ''کتاب التوحید'' حافظ ابن مندہ کی ''الرّد علی الجہمیہ'' امام احمد کی ''الّرد علی الجہمیہ'' اور ابوسعید الدارمی کی ''الرد علی الجہمیة'' بہت مشہور ہے۔ انہوں نے ہمیشہ رجال کی آراء اور ان کی تاویلات کی پیروی کرنے کی بجائے نصوص کے الفاظ کا التزام کیاہے اور اسی طریقے کو زیادہ محفوظ و مصئون اور قرین صواب سمجھا ہے۔

آیئے اب ہم دیکھتے ہیں کہ ہر دور کے اہل علم نے ائمہ اربعہ اور دیگر فقہاء کے علاوہ فقہاء کے ایک او رطبقے کا ذکر بھی کیاہے جن کو انہوں نے فقہائے حدیث کے نام سے موسوم کیاہے۔ اگر یہ فقہائے حدیث ائمہ اربعہ کے مقلد ہوتےتو ائمہ اربعہ کے مسلک کا ذکر آجانے کے بعد ان کی آراء کے ذکر کی کیاضرورت باقی رہ جاتی ہے؟نیز ان کی آراء کا ذکر اکثر مقامات پر اس لیے کیاگیا ہے وہ ائمہ اربعہ کی آراء سے مختلف ہیں۔ پروفیسر صاحب خوب جانتے ہیں کہ جب ہم فقہ وغیرہ اور دیگر علوم میں اہل علم کی آراء کا حوالہ دیتے ہیں، تو صرف ان علماء کا مسلک ذکر کیا جاتا ہے جو خود آزاد اور تحقیقی رائے رکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ کسی خاص مذہب کےاندر بھی یہی اصول کام کرتا ہے۔

امام ابوعیسیٰ ترمذی اپنی کتاب ''الجامع الصحیح'' میں خود بتاتے ہیں کہ وہ امام شافعی کےمقلد نہ تھے۔ چنانچہ وہ ایک مقام پر رقم طراز ہیں:
''وقد اختار قوم من اھل العلم تاخیر صلوٰة الظھر فی شدة الحر وھو قول ابن المبارک واحمد و اسحاق و قال الشافعی انما الابراد لصلوٰة الظھر اذا کان حرا ینتاب اھلہ من البعدفاما المصلی وحدہ والذی یصلی فی مسجد قومہ فالذی احب ان لا یؤخر الصلوٰة فی شدة الحر قال ابوعیسیٰ و معنیٰ من ذھب الیٰ تاخیر الظھر فی شدة الحر اولیٰ و اشبہ بالاتباع''19
''اہل علم کی ایک جماعت نے شدید گرمی میں ظہر کی نماز کوٹھنڈے وقت میں پڑھنے کو اختیار کیاہے۔ یہ عبداللہ بن مبارک ، احمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ شافعی فرماتے ہیں کہ ''نماز کوٹھنڈا کرنا صرف اس وقت (مستحب) ہے ، جب گرمی شدید ہو اور نمازیوں کو دور سے آنا ہو۔ رہا اکیلا نمازی او روہ شخص جس نے اپنے محلے کی مسجد میں نماز پڑھنی ہے تو میرے نزدیک مستحب یہ ہے کہ وہ گرمی کی شدت میں بھی نماز کومؤخر نہ کرے۔'' اوبعیسیٰ ترمذی کہتے ہیں ''جو لوگ شدید گرمی میں تاخیر ظہر کے قائل ہیں ان کی رائے افضل اور زیادہ قابل اتباع ہے۔''

مندرجہ بالا اقتباس سے صاف واضح ہوگیا کہ امام ترمذی، امام شافعی یا کسی اور امام کے مقلد نہ تھے۔ جہاں دلیل امام شافعی کا ساتھ نہ دیتی ان کے ساتھ نہ چلتے تھے۔ تمام محدثین کرام کا یہی طریق رہا ہے۔ جس شخص نے تعصب سے خالی ہوکر صحیح بخاری کے ابواب او راس کے متون کا تدبر و تفکر سے بالاستیعاب مطالعہ کیا ہے ، اس پر یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ وہ حدیث نبویؐ میں سب سے زیادہ صاحب اطلاع اور استنباط احکام میں ان کی نظر بہت گہری تھی۔ وہ فقہ میں کسی کے مقلد نہ تھے۔ بہت سے مقامات پر انہوں نے امام شافعی سے اختلاف کیاہے۔ جو اس امر کی واضح دلیل ہے کہ وہ امام شافعی کےمقلد نہ تھے۔ مقلدین کے دعوون کے برعکس امام بخاری کا مذہب مٹ نہیں گیا۔ بلکہ صحیح بخاری کے ابواب کی تصنیف ان کا بہت بڑا کارنامہ موجود ہے، یہی اُن کی فقہ ہے۔ صحیح بخاری شہرت کی وجہ سے امام بخاری کی فقیہہ کی حیثیت پس منظر میں چلی گئی۔ تاہم جب تک دنیا باقی ہے، صحیح بخاری کی صورت میں امام بخاری کی فقہ باقی رہے گی اور اس فقہ کے حامل (اہل حدیث) بھی موجود رہیں گے۔ ان شاء اللہ۔ (جاری ہے)


حوالہ جات
1. نماز کے چند مسائل ص17
2. فواتح الرحموت شرح مسلّم الثبوت لعبد العلی ص400
3. المستصفی للغزالی جلد 2 ص387۔ المنخول للغزالی
4. الاحکام فی اصول الاحکام للآمدی  جلد4 ص297
5. ارشاد الفحول للشوکانی  ص265
6. ارشاد الفحول ص265
7. اعلام الموقعین لابن قیم الجوزیہ جلد2 ص168
8. قواعد الاحکام فی مصالح الانام لابن عبدالسلام  ص159
9. قواعد الاحکام ص159
10. اصول الکرخی مع اصول البزدوی ص373
11. مجمو ع فتاویٰ ابن تیمیہ جلد19 ص272
12. عرف الشذی ص309
13. فتح القدیر
14. الملل والنحل للشہرستانی مع الفصل فی الملل لابن حزم جلد 2 ص45
15. مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ جل20 ص40
16. حجة اللہ البالغہ شاہ ولی اللہ جلد1 ص345
17. مسئلة الاحتجاج بالشافعی للخطیب البغدادی ص31
18. بعض معتزلی اہل علم امام ابوحنیفہ سے انتساب کرتے تھے مثلاً علامہ زمخشری وغیرہ
19. سنن الترمذی مع تحفة الاحوذی جلد 1 ص147

i. فتح الباری جلد1 ص148