355-may 2012

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

1۔ 21ستمبر2001ء:... وائس آف امریکہ VOA کی ریڈیو پشتو سروس کا نمائندہ بذریعہ سٹیلائیٹ فون ملا عمر سے پوچھتا ہے:
VOA: آپ اسامہ بن لادن کو نکال کیوں نہیں دیتے؟
ملّا عمر: اسامہ بن لادن کا مسئلہ نہیں ہے،مسئلہ' اسلام' کاہے۔ اسلام کی شان و شوکت کا سوال ہے اور افغانوں کی روایت کا۔
VOA: آپ کو پتہ ہے کہ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا ہے؟
ملّا عمر: میرے سامنے دو دعوے ہیں۔ایک دعویٰ اللہ کا جو فرماتا ہے کہ میری زمین بڑی وسیع ہے۔جو میرے راستے میں ہجرت کرے گا، اسے پناہ ملے گی۔دوسرا دعویٰ بش کا جس کا کہنا ہے کہ تم زمین پر کہیں بھی چھپ جاؤ،میں تمیں ڈھونڈ نکالوں گا۔ ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ دعویٰ کس کا سچا ہے۔
VOA: تو آپ اسامہ بن لادن کو حوالے نہیں کریں گے؟
ملّا عمر: ہم ایسا نہیں کر سکتے ۔ایسا کرنے کا مطلب ہو گا: ایمان کا خاتمہ؛ہم مسلمان نہ رہیں گے۔اگر ہم حملے سے خوفزدہ ہوتے تو اُس کو چند سال قبل اُسی وقت حوالے کر چکے ہوتے جب ہمیں پہلی بار حملے کی دھمکی دی گئی تھی۔امریکہ اگر چاہے تو ہم پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے اور اس بار ہمارا کوئی دوست بھی نہیں ہے۔
VOA: اگر آپ لوگ اپنی پوری قوت سے بھی لڑو تو کیا ایسا کرسکتے ہو؟ امریکہ کیا آپ کو مارے گا نہیں، اور آپ کے لوگ کیا نقصان نہ اٹھائیں گے؟
ملّا عمر: مجھے پورا یقین ہے، ایسا نہ ہو سکے گا۔اس کو یاد رکھنا، ہم اللہ پر بھروسے کے علاوہ اور کچھ نہیں کر سکتے اور جو بھی اس پر یقین رکھے گا،اللہ اس کی مدد فرمائے گا اور اسے کامیاب کرے گا۔
2۔ 15 نومبر 2001ء :.... BBC ریڈیو کی پشتو سروس کا نمائندہ:
BBC: آپ کا افغانستان کی موجودہ صورتحال کے بارے میں کیا خیال ہے؟
ملّا عمر: تم اور تمہارے غلام ذرائع ابلاغ نے یہ سوال پیدا کیا ہے،وگرنہ افغانستان کی موجودہ صورتحال کا تعلق ایک عظیم مقصد سے ہے اور وہ ہے:'امریکہ کی تباہی' اور دوسری طرف اس کا تعلق ''طالبان کی صفوں میں سے منافقین کی صفائی سے ہے۔''
BBC: 'امریکہ کی تباہی'آ پ کا اس سے کیا مطلب ہے؟ کیا آپ کے پاس ایسا کرنے کا کوئی مضبوط منصوبہ ہے؟
ملا عمر: یہ منصوبہ خود بخود آگے بڑھ رہا ہے اور ان شاء اللہ یہ ہو کر رہے گا۔اگرچہ یہ ایک بہت بڑا کام ہے جو کہ انسانی قوت و عقل سے ماورا ہے لیکن اگر اللہ کی مدد شامل حال رہی تو یہ بہت تھوڑے وقت میں ہو جاے گا،اس پیشین گوئی کو یاد رکھنا...!!
3۔ 7 اکتوبر 2001ء:... طاغوتِ اعظم امریکہ صلیبی جنگ کا نعرہ بلند کرتا ہوا سرزمین جہاد پر حملہ آور ہوتا ہے،افغانستان کی گلیوں میں موت کا رقص شروع،آوازیں بند اور لہجے گنگ،زمین کارپٹ بمباری سے ہلنے لگتی ہے۔ کروز اور ڈیزی کٹر ہواؤں کا سینہ یو ں چیرنے لگتے ہیں جیسے ہزاروں بگولے یک دم چلنے لگے ہوں ۔ہیل فائر رات کے اندھیرے میں روشنی کا خنجر گھونپ دیتی ہے۔سٹیلائٹ،جاسوسی کیمرے،نائٹ وژن، ائرسرویلنس ،سپیشل فورسز پہاڑوں اور وادیوں کی خاک یوں چھاننے لگتے ہیں جیسے قارون کا خزانہ تلاش کر رہے ہوں۔کیا حواری ،کیا مداری سب ہی خوف سے کانپ اٹھتے ہیں۔ڈیزی کٹر کی بارش تورا بورا کی پہاڑیوں پر ہوتی ہےلیکن گھن گرج کا اثر سینکڑوں میل دور بیٹھے حواریوں کے دل پر ہوتا ہے۔خون تو قلعہ جنگی کے کنٹینروں میں بہتا ہے اور لرزہ کسی اور قوم پر طاری ہوتا ہے۔اپاچی،چینوک،کوبرا کمال مہارت کا مظاہرہ تو کوہ ہندوکش کے پہاڑوں میں کرتے ہیں لیکن رعب 'زمینی حقائق'کے خوشہ چینوں پر طاری ہو جاتا ہے۔تجزیات ،اخبارات،کالمز، مذاکرات، تحقیقات،نظریات، فتاویٰ جات یہاں تک کہ'دینیات' کا بھی تبصرہ یہی ٹھہرتا ہے کہ ''ملک بچ گیا،وطن کی خیر...!'' فاقہ کش،جاہل،دورِ جدید سے نابلد،جدید علوم و فنون سے بے علم،عقل سے اندھے،استعجالی،ظالم،وحشی،آدم خور، ایجنٹ، ہرکارے، قاتل، ملک دشمن، رجعت پسند اِن سب لفظوں کو جمع کر کے لفظ'دہشت گرد' کا جامہ پہنا دیا جاتا ہے۔
بقول امام ابن تیمیہ:
''منافقت اور نفاق نے اپنی پیشانی کھول دی ہے۔کفر و ہوس نے جبڑے نکال لیے ہیں اورقریب ہے کہ کتاب اللہ کے ستون کو جڑ سے اُکھاڑ کر پھینک دیا جائے۔ ایمان کی رسّی کو ٹکرے ٹکرے کر دیا جائے اور مؤمنون کے گھروں میں دوزخ کی تباہیاں نازل ہوں۔اور یہ دین فاسق فاجر (امریکیوں1 ) کے غلبہ سے نیست و نابود ہو کر رہ جائے۔جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے ان کا گمان ہے کہ اللہ اور اس کے رسولﷺ نے ان کے ساتھ صرف دھوکے اور غرور کا وعدہ کیا ہے۔ان کا خیال ہے کہ اللہ اور اُس کے رسولﷺ کا لشکر کبھی لوٹ کر اپنے اہل و عیال کے پاس نہیں جائے گا۔''جب وہ تمہارے اوپر اور نیچے کی طرف سے تم پر چڑھ آئے۔اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل مارے دہشت کے حلقوم تک پہنچ گئے اور تم اللہ کے بارے میں طرع طرح کے گمان کرنے لگے۔وہاں مؤمن آزمائے گئے اور سخت طور پر ہلائے گئے۔''(احزاب: ۱۰)2
آج سے صرف گیارہ سال پہلے 'ایمان'ایک بندے کا قدوقامت کوہ ہمالہ سے بھی بلند وبالا کر دیتا ہےاور کئی' غلامان' زمینی حقائق کی پستیوں میں ہمیشہ کے لیے غرق ہو جاتے ہیں۔ذرا تصور تو کیجیے 2001ء سے لے کر 2012ء صرف گیارہ سال!! ایک بچے کی بلوغت تک پہنچنے کا عرصہ،سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کی تقریباً نصف مدت!! پاکستان کی انفرادی اوسط زندگی کا چوتھا حصہ!! گیارہ سال قوموں کی زندگی کا صرف ایک لمحہ!!
صرف گیارہ سالوں میں ایک قوم نے عزت و رفعت کا وہ مقام حاصل کر کیا کہ فرعونِ اعظم امریکہ بھی'قران' کی بے حرمتی پر'تحریری معافی' کا خواستگار ہوتا ہے جبکہ ہمارے گھر سے ہماری بیٹی اور بہن اُٹھا لی جاتی ہے،بگرام اور امریکی جیلوں میں اس کی آبروریزی کے بعد،اپنی عزت کے تحفظ میں گولی چلانے پر86 سال کے لیے جیل میں گلنے سڑنے کے لیے پھینک دی جاتی ہے اور ہمارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔آج ایک قوم برابری کی سطح پر قطر میں مذاکرات کرتی ہے اور ہمارے ایوانوں میں قصرسفید سے جاری ہونے والے حکم نامے کا انتظار کیا جا تا ہے۔قندھار کا ایک فاقہ کش اپنے ربّ کی سرزمیں پر عزت کے ساتھ کہیں رہتا ہے،مغرب تا مشرق اہل ایمان اس کے ساتھ عہدِ وفاداری استوار کرتے ہیں اور ہم مستقبل کی تاریخ میں میر جعفر و صادق کے ساتھ لکھے جانے والے'شریفوں اور زرداریوں' کے ساتھ اپنا سر پھوڑ رہے ہیں۔
گیارہ سال پہلے جس رعونت آمیز لہجے نے صلیبی جنگ کی دھمکی دی تھی،وہ آج کچھ فاقہ کشوں کے وجود سے لرزہ براندام ہے اور ہم ' ڈُومور' کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں۔'زمینی حقائق'کے ماہرین آج انصاف کے خوف سے خود زمین ہی بدل لیتے ہیں۔اہل نظر ایک توجہ ادھر بھی،سوال یہ نہیں کہ مدد کون کر رہا ہے،کہیں یہ تو نہیں ،کہیں وہ تو نہیں، سوال تو یہ ہے کہ کھڑا کون رہا!!... اپاچی ،چینوک،ہیل فائر کے سامنے کس نے صرف ربّ العالمین پر توکل کیا؟ کس کا جذبہ لہو بن کر بدنوں میں سرایت کر گیا؟ ذرا مادی اسباب سے نظر ہٹا کر الٰہی امداد پر بھی تو دھیان دیجیے...بدر، اُحد،احزاب کے معرکے تو تمہاری نظر میں تاریخ ٹھہرے لیکن شاہی کوٹ،مرجاہ،خوست،کنڑ،قندھار میں ہونے والے واقعات تو تمہارے سامنے رونما ہو رہے ہیں!! اگر عقل اور نظر مختلف سازشوں کو سمجھتے سمجھتے خود سازشی نہ ہو گئی ہو تو پھر غور کرو کہ تمہارے ارد گرد 'اللہ کی سنت' رونما ہو رہی ہے اور تم اللہ کی سنت میں ہر گز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گئے۔اگر ہو سکے تو خود انہی کی گواہیوں پر نظر ڈال لو:
4۔ 22دسمبر 2009ء: جنرل مائیکل ٹی فلنGeneral Michael T filin افغانستان میں امریکی خفیہ ایجنسی کا اعلیٰ آفیسر:
''2010ء میں طالبان کے حملوں میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔یہ حملے 2007ء سے ہی300 فیصدبڑھ چکے ہیں اور 2008ء میں ان میں 60 فیصد اضافہ ہوا ہے۔''
5۔ 2009ء:نیٹو کی خفیہ ایجنسی کی رپورٹ:
''طالبان کے پاس تقریباً 25000حوصلہ مند جنگجو موجود ہیں۔تقریباً اتنے ہی جتنے کہ9؍11کے حملوں سے پہلے تھے، اس سے بھی زیادہ جو کہ 2005ء میں تھے۔''
6۔ اگست 2009ء جنرل سٹینلے میک کرسٹل، افغانستان میں امریکی فوج کا سربراہ... وال سڑیٹ جرنل سے ایک انٹرویو:
''طالبان نے ہم پر فوقیت حا صل کر لی ہے۔اُنہوں نے بڑے جارحانہ انداز میں اپنا اثر و رسوخ شمال تا جنوب تک پھیلا دیا ہے۔آنے والے دنوں میں امریکی فوج کی حکمتِ عملی اپنی پیش قدمی کو روک کر افغانوں کی حفاظت تک محدود ہو گی،اور یہ بھی بڑا مشکل کام ہے۔''
7۔ 2009ء:جان مکینJohn McCainامریکی سینیٹر:
''ہم افغانستان میں جنگ ہار رہے ہیں۔''
8۔ 6جون2011ء:امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس اور جنرل ڈیوڈ پٹیریاس...ABC NEWS سے انٹرویو:
''امریکہ کے ۲ اعلیٰ ترین عہدے داروں نے یہ کہنے سے انکار کر دیا کہ وہ افغانستان میں جنگ جیت رہے ہیں۔''
9۔ 2011ء:شیراڈ کوپر کولز Sherad Coper Coles...2007ء تا2010ء افغانستان میں برطانوی سفیر:
''یہ کہنا خوش فہمی ہے کہ ہم افغانستان میں جنگ جیت رہے ہیں۔''
10۔ 2011ء: جولین گلور(Julian Glover): دی گارڈین کا لیڈر رائٹر...برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا تقریر نویس:
''افغان جنگ ہاری جا چکی ہے۔اب الزام کون لے گا؟''
11۔ 2012ء:کرنل ڈینئل ایل ڈیوسLt Col Daniel L Davis..آرمڈ فورس جرنل:
''اپنی سرکاری ذمہ داریوں کے برعکس،مجھے یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہم افغانستان میں جنگ ہار رہے ہیں۔''

صلیبی فوج کے جانی ومالی نقصانات
آئیں لگے ہاتھوں صلیبی فوج کے نقصانات پر بھی ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔ نیٹو اور مختلف مغربی ذرائع ابلاغ کے اعداد و شمار کے مطابق افغانستان میں ہونے والے نقصانات کی تفصیل:

2001ء سے لے کر جنوری 2012ء تک اموات و زخمی


٭ نیٹو اموات کی کل تعداد: 2930
٭ 6جون2011ء تک نام نہاد امن کے امریکی ٹھیکے داروں کی کل اموات: 763 (اس میں صرف وہ امریکی شہری شامل ہیں جو افغانستان میں مختلف خدمات سرانجام دے رہے تھے)
٭ اپریل2011ءتک افغان فوجیوں کی کل اموات: 8756
٭ زخمی:مئی 2011ء تک صرف امریکی زخمیوں کی کل تعداد 25196 (اس میں دیگر نیٹو ممالک کے فوجی شامل نہیں ہیں) جبکہ AntiWar.comکےمطابق تقریباً ایک لاکھ فوجی زخمی ہیں۔
٭ مئی2011ءتک امن کےامریکی ٹھیکے داروں کی کل تعداد10343(صرف امریکی شہری)
٭ مئی 2011ء تک افغان فوجیوں کی کل تعداد 26268
اس کے علاوہ جنگ سے واپس چلے جانے والوں کا پیچھا شاید مظلوموں کی بد دعائیں نہیں چھوڑتیں اور وہ مکافاتِ عمل کا شکار ہو کر رہتے ہیں۔تازہ ترین اعداد شمار کے مطابق ہر روز 18فوجی خودکشی کی کوشش کرتے ہیں۔2010ء تک تقریباً 15000 امریکی فوجی جو کہ جنگ سے واپس لوٹے ہیں،خودکشی اور مختلف حادثات میں اپنی جان گنوا چکے ہیں اور اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔یاد رہے کہ یہ تعداد میدانِ جنگ میں جان گنوانے والے فوجیوں سے دگنا ہے۔ اس میں 3000 وہ فوجی شامل نہیں ہیں جو کہ میدانِ جنگ میں اپنی جان خود اپنے ہاتھوں لے چکے ہیں۔
سابقہ فوجیوں سے متعلقہ وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق عراق اور افغانستان میں خدمات سرانجام دینے والے فوجیوں میں سے58 ہزارفوجی اپنی سماعت مکمل طور پر کھو چکے ہیں،اور 70 ہزار ایسے ہیں جن کے کان بجتے رہتے ہیں۔ جبکہ مختلف نفسیاتی اور دماغی اُلجھنوںPTSDکے شکار فوجیوں کی تعداد تین لاکھ تک جا پہنچی ہے جس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
اوپر والی تفصیل میں جنگی آلاتِ حرب کی تباہی کی لاگت شامل نہیں ہےجو ایک محتاط اندازے کے مطابق 238ملین ڈالر بنتی ہے۔

طالبان کے اعداد شمار کے مطابق اموات کی تعداد


اختصار کے پیش نظر صرف دو سال کی رپورٹس کے مطابق
٭ 2010ء میں صلیبی ہلاکتوں کی تعداد 13845
٭ 2011ء میں صلیبی ہلاکتوں کی تعداد 11656
یہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ جس طرح اتحادی فوج کے فراہم کردہ اعداد شمار ماننے میں نہیں آتے، وہا ں مجاہدین کے اعداد شمار بھی حقیقت کی پوری عکاسی نہیں کرتے۔شاید یہ اسی میڈیا وار کا حصہ ہے جودو برسرپیکار دشمنوں کے درمیان جاری رہتی ہےلیکن ایک بات یقینی ہے کہ صلیبی افواج کو اس جنگ میں نا قابل تلافی جانی، مالی اور ذہنی نقصان کا سامنا ہے۔
اس کی معیشت پر ہونے والے اثرات اس کے علاوہ ہیں جس میں صرف معاشی انڈیکٹیرز (indicators)کی بات کی جائے،تو 2011ء میں امریکہ کی کریڈٹ ریٹنگ تاریخ میں پہلی دفعہ AAAسے AA پر آ چکی ہےاورامریکہ کا اندرونی قرضہ14.3ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا ہےجو اس کی کل جی ڈی پی کے برابر ہے۔یوں رقم کے لحاظ سے یہ دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک بن گیا ہے۔واضح رہے کہ امریکہ کا کل قرضہ (اندرونی و بیرونی) 114.32کھرب ڈالر ہے۔امریکہ میں امیر اور غریب کا فرق بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے،2011ءمیں تقریباً دس لاکھ کاروبار اور کارخانے کام نہ ہونے کی وجہ سے بند ہو گئے ہیں۔سرکاری اعداد شمار کے مطابق ایک کروڑ اڑتیس لاکھ اور غیر سرکاری اعداد شما ر کے مطابق ڈھائی کروڑ امریکی بے روزگار ہیں۔
امریکی حکومت نے بیرونِ ممالک سے اربوں ڈالر قرضے لیے تھے تاکہ اپنے تجارتی اور کاروباری اداروں کو سبسڈی فراہم کر کے بند ہونے سے بچایا جا سکے۔اس پالیسی کے سب سے بڑے مخالف خود عوام ہیں کیونکہ اس سے فائدہ اُٹھانے والے کروڑ پتی اور ارب پتی ہیں۔اس کا مشاہدہ ہم Capture Wall Street کی تحریک میں کر چکے ہیں۔یہ غلط فہمی نہ رہے کہ یہ نقصانات جنگ کے علاوہ کسی اور وجہ سے معرضِ وجود میں آئے ہیں،یہ اثرات اسی جنگ کا نتیجہ ہیں جس کی گواہی خود امریکی ماہرین معاشیات دے چکے ہیں، اسی وجہ سے آنے والے سالوں میں اُن کی خواہش یہ ہے کہ میدانِ جنگ سے دور رہ کر اپنے حامیوں کو اِس جنگ میں دھکیل دیا جائے۔
مستقبل کی جنگ میں حکمت ِعملی کے تحت جن خطوں سے خطرہ ہے،ادھر لاکھوں کی زمینی فوج اُتارنے کے بجائے چند ہزار فوجیوں پر مشتمل اڈّوں کے قیام کو ترجیح دی جائے گی اورعام فوج کے بجائے کمانڈو دستوں کے حجم میں اضافہ کیا جائے گا جبکہ حواری ممالک کی فوج کو لڑنے کے لیے استعمال کیاجائے گا۔یاد رہے کہ امریکہ اپنی فوج میں11 فیصدکٹوتی کا اعلان کرچکا ہے جو کہ جنگ کے ناقابل برداشت اخراجات سے بچنے کی ہی کوشش ہے۔
آج سے گیارہ سال قبل 'زمینی حقائق' کے ماہرین نے جو اندازے لگائے تھے، وہ کتنے غلط اور ایک اللہ پر ایمان رکھنے والے کے الفاظ کتنے سچے نکلے۔''جو اللہ پر بھروسہ کرے گا اللہ اس کی مدد کرے گا۔''
اس حادثہ کےتمام اسرار منکشف ہو چکے۔دلوں کے راز باہر نکل آئے ہیں ،اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ ہماری اکثریت اپنے ربّ کی خیانت کر رہی ہے۔وہ آج بھی مال(ڈالروپاؤنڈ) کے پہلے سے زیادہ حریص ہیں۔ان کے برعکس اپنے ایمان میں صادق اور سنتِ نبوی کا پیروکار اپنے ربّ کی حمدوثنا میں لگا ہوا ہے۔اس نے رسول اکرمﷺ کی لائی ہوئی شریعت کو بھی سچ جانا ہے اور ان تمام حوادث و واقعات کو بھی جو اس کے مالک وپروردگار کی طرف سے ظہور پذیر ہوں گئے۔اس حادثہ میں ایک ایسی واضح،کامیاب وکامران جماعت دین پر قائم ہو گئی ہےجسے مخالفت کرنے والے کی مخالفت اور کوئی رسوائی یومِ قیامت تک ضرر نہ پہنچا سکے گی۔آج سے گیارہ سال قبل لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہو گئے تھے، بقول امام ابن تیمیہ:
''یہاں ہم انسانوں کو تین گروہوں میں تقسیم کرتے ہیں: ۱) ایک گروہ جو کہ دین کی نصرت و حمایت میں کوشاں ہے۔۲) دوسرا گروہ جو کہ دین کو رسوا کرنے پر تلا ہوا ہے۔۳) تیسرا گروہ جو دین اسلام سے خارج ہے۔'' (تاریخ دعوت و عزیمت)
صرف چند سال ہی گزرے ہیں ساری زندگی نہیں،فیصلہ ابھی بھی ہمارے ہاتھوں میں ہے کہ اپناوزن ان تین گروہوں میں سے کس کے پلڑے میں ڈالنا ہے!! [بشکریہ مجلّہ ایقاظ]

 


حوالہ جات
1. اصل لفظ 'تاتاريوں'ہے،جسے ہم نے معنويت پيدا کرنے کے ليے 'امريکیوں' لکھا ہے۔
2.'تاریخ دعوت و عزیمت' از امام ابن تیمیہ

 

Atif_Baig