سورہ القصص کی درج ذیل آیات ملاحظہ ہوں :
طسم ﴿١﴾ تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ ﴿٢﴾ نَتْلُو عَلَيْكَ مِن نَّبَإِ مُوسَىٰ وَفِرْ‌عَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ﴿٣﴾ إِنَّ فِرْ‌عَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْ‌ضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءَهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ ﴿٤﴾ وَنُرِ‌يدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْ‌ضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِ‌ثِينَ ﴿٥﴾وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الْأَرْ‌ضِ وَنُرِ‌يَ فِرْ‌عَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا يَحْذَرُ‌ونَ ﴿٦﴾ وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ أُمِّ مُوسَىٰ أَنْ أَرْ‌ضِعِيهِ ۖ فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِي وَلَا تَحْزَنِي ۖ إِنَّا رَ‌ادُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْ‌سَلِينَ ﴿٧...سورۃ القصص
''طٰ۔ س۔م ، یہ کتاب مین کی آیات ہیں ، ہم موسیٰؑ اور فرعون کا حال ٹھیک ٹھیک آپ کوسناتے ہیں ، ایسے لوگوں کے فائدے کے لیے جو ایمان لائیں ۔واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی او راس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کردیا۔ ان میں سے ایک گروہ کو وہ دباتا تھا اس کے بیٹوں کو وہ قتل کرتا تھا او راس کی لڑکیوں کووہ جیتا رہنے دیتا تھا ۔ فی الواقعہ وہ مفسد لوگوں میں سے تھا، او رہم یہ ارادہ رکھتے تھے کہ ان لوگوں پرمہربانی کریں جو زمین میں دبا کر رکھے گئے تھے او رانہیں پیشوا بنا دیں او رانہی کو وارث بنائیں اور زمین میں ان کواقتدار بخشیں اور ان سے فرعون و ہامان او راس کے لشکروں کو وہی کچھ سکھا دیں جس کا انہیں ڈر تھا۔ ہم نے موسیٰؑ کی ماں کو وحی کی، اس کو دودھ پلا او رپھر جب تمہیں اس کی جان کا خطرہ ہوتو اسے دریا میں ڈال دے او رکچھ خوف اور غم نہ کر، ہم اسے تیرے ہی پاس واپس لے آئیں گے او راس کو پیغمبروں میں شامل کریں گے۔''

ان آیات میں ولادت موسیٰؑ سے قبل فرعون کی اسی انسانیت کش پالیسی کا ذکر کیا گیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ قتل ابناء بنی اسرائیل کا پہلا حکم اس وقت نافذ ہوا تھا جب ابھی حضرت موسیٰ ؑ کی پیدائش نہیں ہوئی تھی۔اسی خوف کے باعث ام موسیٰؑ پریشان تھیں او راسی خوف اور پریشانی میں خدائے بزرگ و برتر نے انہیں یہ وحی کی کہ ............... ''بچے کی جان کا اگر تجھے خوف ہو تو اسے دریا میں ڈال دینا....!'' سورہ اعراف کی جس آیت (127) کومسٹر پرویز پیش فرما رہے ہیں ، وہ قتل ابنائے بنی اسرائیل کےسلسلہ میں دوسرا فرعونی حکم ہے۔ فرعون کے اس ظالمانہ حکم کےدو مرتبہ نفاذ سے متعلق، خود مسٹر پرویز کے یہ اقتباسات ہم تکرار کی کوفت کے باوجود دوبارہ پیش کرنے پر مجبور ہیں :
''فرعون نےاگرچہ مصری دائیوں کو حکم دے رکھاتھا کہ وہ بنی اسرائیل کے بچوں کو پیدا ہوتے ہی ہلاک کردیا کریں ، لیکن اس حکم پر شدت سے پابندی نہیں ہورہی تھی۔''
''پر دانائی جنائیاں خدا سے ڈریں او رجیسا کہ مصر کے بادشاہ نے انہیں حکم کیا تھا، نہ کیا، او رلڑکوں کو جیتا رہنے دیا۔ '' 1

''اس کے بالواسطہ تائید قرآن کریم سے بھی ہوتی ہے ۔کیونکہ ایک تو حصرت موسیٰؑ پیدا ہونے کے بعد زندہ رہتے ہیں اور دوسرے یہ کہ جب حضرت موسیٰ ؑ فرعون کے مقابلے میں آتے ہیں اور فرعون کوبنی اسرائیل کی قوت سے زیادہ خطرہ محسوس ہوتا ہے تو اس وقت فرعون اس حکم کو پھر دہراتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے پر سختی سے عملدرامد نہیں ہورہا تھا اس لیے اسے دوبارہ شدت و تاکید سے تنفیذ احکام کی ضرورت محسوس ہوئی۔ بہرحال ، قرآن کریم میں ہے کہ جب حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ کو تردّد لاحق ہوا کہ بچے کو کس طرح بچایا جائے تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر (ام موسیٰ) پر القاء کیا کہ بچے کو دریا میں بہا دیں ۔'' 2

پھر آگے چل کر آیت (الاعراف:127)کے تحت لکھتے ہیں :
''اس سے مترشح ہوتا ہےکہ جیسا کہ پہلے لکھا جاچکا ہے کہ حضرت موسیٰؑ کی پیدائش کے وقت قتل ابناء کا جو قانون نافذ تھا، وہ یا تو بعد میں معطل کردیا تھا یا اس کی تنفیذ میں کچھ زیادہ سختی نہیں برتی جاتی تھی۔ فرعون نے کہا کہ زیادہ خطرہ بنی اسرائیل کی کثرت سے ہے۔ سو اس کاعلاج ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہے، یعنی وہی قتل ابناء والاقانون۔'' 3

ہماری اس بحث اور خود مسٹر پرویز کے اقتباسات سے واضح ہے کہ مسٹر پرویز نے جس بنیاد پر ولادت موسوسی کے وقت قتل ابناء کے اس فرعونی قانونی کے نفاذ کا انکار کیا ہے، وہ حقائق کی دنیا میں معدوم ہے۔لہٰذا اس بنیادپر یہ کہنا کہ یہ حکم صرف ایک مرتبہ ہی نافذ ہوا ہے، اور وہ دعوت موسوی کے دوران کاواقعہ ہے، قرآن کےنام پر غیرقرآنی بات کا اعلان کرنا ہے۔

فاذا خفت علیہ:
ہم یہ پہلےبیان کرچکے ہیں کہ حضرت موسیٰ کی والدہ نے انہیں اُن کی جان کے خوف سےدریا میں ڈالا۔ کیونکہ بذریعہ وحی انہیں یہی ہدایت تھی۔اگر حضرت موسیٰ کی جان کو کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا تو ان کی والدہ کو ایسا کرنے کی ضرورت نہ تھی۔یہ خوف، بہرحال فرعون کے اسی حکم کی پیداوار تھاجو ابنائے بنی اسرائیل کے قتل کےسلسلہ میں وہ جاری کرچکاتھا، مسٹر پرویز اس پر یوں لب کشائی فرماتے ہیں :
''سورة القصص میں البتہ یہ مذکور ہے کہ حضرت موسیٰ کی ماں سے کہا گیا کہ ﴿أَرْ‌ضِعِيهِ ۖ فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِي الْيَمِّ...﴿٧﴾...سورۃ القصص 4 ''تو اس بچہ کو دودھ پلاتی رہ، او رجب تجھے اس کے متعلق خوف ہو اسے دریا میں ڈال دینا۔'' اس سے یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ یہ خوف اس بات کا تھا کہ فرعون کے لو گ بچے کوقتل کردیں گے۔ لیکن جب قرآنی شواہد سے یہ ظاہر ہے کہ قتل ابناء کا حکم حضرت موسیٰ کی دعوت کے زمانے کا ہے تو اس سے یہ اندازہ صحیح نہیں ہوسکتا۔اس خوف کا باعث کچھ اور سمجھنا ہوگا۔'' 5


یہاں پھر اس بنائے فاسد پر استدلال کی بنیاد رکھی گئی ہے کہ ''قرآنی شواہد سے یہ ظاہر ہےکہ قتل ابناء کا حکم، حضرت موسیٰؑ کی دعوت کے زمانےکا ہے۔'' حالانکہ یہ دوسری مرتبہ کا حکم ہے۔ جبکہ پہلی مرتبہ کا حکم اس وقت صادر ہوا جب ہنوز حضرت موسیٰؑ پیدانہیں ہوئے تھے۔ ہم قبل ازیں سورة القصص کے حوالے سے یہ ثابت کرچکے ہیں کہ ولادت موسوی سے قبل قتل ابناء کا یہ فرعونی حکم نافذ ہوچکا تھا۔ اس سلسلہ میں مسٹر پرویز کے اقتباسات بھی پیش کیے جاچکے ہیں ۔اس کے بعد یہ رًٹ لگائے رکھنا کہ ۔ ''مردم کشی کا فرعونی حکم، دعوت موسوی کے زمانے کاحکم ہے۔ '' ایک بے جا ہٹ دھرمی اور خواہ مخواہ کی سینہ زور ہے۔

پھر مسٹر پرویز کا یہ فرمان بھی بڑا عجیب ہے کہ ۔''اُم موسیٰؑ کے خوف کا باعث کچھ اور سمجھنا ہوگا۔'' اس کے بعد وہ خود بھی اس خوف کا باعث تلاش نہیں کرسکے۔بس یہ کہہ کر کہ ''اس کا باعث کچھ اور سمجھنا ہوگا'' آگے سرک گئے ہیں ۔

ایک ایسے ''مفسر قرآن'' کا، جسے اپنی فرآن فہمی کا بڑا زعم ہو، او رساری عمر ''قرآن ، قرآن'' کی دہائی دیتا رہا ہو، تفسیر قرآن کے سلسلہ میں یوں ظن و تخمین کے گھوڑے دوڑانا اور پھر اس پر ہٹ دھرمی سےبھی کام لینا شاید اس دور کا سب سے بڑا لطیفہ ہے۔

دوسری دلیل''لاتقتلوہ'' :
اس سلسلہ میں ہماری دوسری دلیل ''امرأة فرعون '' کا یہ قول ہے، جسے قرآن کریم نے بایں الفاظ پیش کیا ہے:
﴿وَقَالَتِ امْرَ‌أَتُ فِرْ‌عَوْنَ قُرَّ‌تُ عَيْنٍ لِّي وَلَكَ ۖ لَا تَقْتُلُوهُ عَسَىٰ أَن يَنفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا...﴿٩﴾...سورۃ القصص
''فرعون کی بیوی نے کہا: یہ میرے لیے اور تیرے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ اسے قتل نہ کرو، کیا عجب کہ یہ ہمارے لیےمفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔''

اس آیت میں ''تقتلوہ'' کے الفاظ اس امر پرشاید ہیں کہ اس وقت بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کیا جاتا تھا اور ''امرأة فرعون'' اس بچے کو قتل سے بچا کر اپنا متبنیّٰ بنانے کی سوچ رہی تھی۔ جبکہ مسٹر پرویز فرماتے ہیں :
''(قرآن) نےفرعون کی بیوی کےمتعلق کہا ہے کہ جب فرعون کے لوگوں نے صندوق پکڑ لیا تو اس نے اپنے خاوند سے کہاکہ ''لَا تَقْتُلُوهُ''6''اسے قتل نہ کرو، اسے ہم متبنیّٰ بنا لیتے ہیں ۔'' اس سے بھی یہی نتیجہ اخذ کیا جاتا ہےکہ اس زمانے میں بنی اسرائیل کےبچوں کو قتل کیا جاتا تھا لیکن یہ قیاس اس لیےصحیح نہیں کہ اس بچے کےمتعلق (جسے دریا کی لہروں سےاٹھایا گیا تھا)یہ کس طرح معلوم ہوگیا کہ وہ بنی اسرائیل کی قوم کابچہ ہے قوم فرعون میں سے کسی کا بچہ نہیں ؟'' 7

مسٹر پرویز نے یہاں جوکچھ فرمایا، اس سے بڑھ کر حماقت شاید ممکن بھی نہ تھی۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ عام حالات میں کوئی بچہ کسی کویوں ملتا ہے تو وہ اسے سب سے پہلے قتل کرنے کی کیوں سوچے گا؟ ظاہر ہے یہ سوچ اسی ظالمانہ پروگرام ''قتل ابنائے بنی اسرائیل'' سے عبارت تھی، پھر یہ جاننے کے لیےبھی ، کہ بچہ فی الواقعہ بنی اسرائیل ہی کا ہے عقل کی کسی بہت بڑی مقدار کی ضرورت نہیں کیونکہ:
(1) یہ ان گھروں کی طرف سے آرہا تھا جن میں اسرائیلی حکومت پذیرتھے۔
(2) دریا کی لہروں سے بچے کو اس زمانے میں نکالا گیا ہے جبکہ اسرائیلی بچے ہلاک کئے جارہےتھے۔لہٰذا انہی کے متعلق یہب اور کیا جاسکتاتھا کہ انہوں نے بچے کو اس وقت دریا میں ڈال دیا، جب اسے مزید چھپائے رکھنا مشکل ہوگیا کہ شاید اسی طرح اس کی جان بچ جائے۔
(3) بالیقین یہ بچہ قوم فرعون میں سے نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ وہ حاکم تھے، انہیں اپنے بچوں کی جان کےمتعلق ایسا کوئی خوف دامنگیر نہیں تھاکہ وہ اس کی حفاظت حیات کی خاطر دریا میں اسے ڈال دینے پر مجبور ہوتے۔

لہٰذا تسلیم کرنا ہوگا کہ قتل ابنائے بنی اسرائیل کا یہ ظالمانہ فعل ، اس وقت جاری تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ فرعون نے بچے کو قتل کرنا چاہا۔مگر اس کی بیوی آڑے آگئی۔

یہاں مسٹر پرویز کا ایک اور اقتباس نقل کرنادلچسپی سے خالی نہ ہوگا:
''بچہ صندوق میں بہے جارہا تھا کہ ایک موج نے صندوق کو جانب ساحل پہنچا دیا۔ جہاں وہ مصری لوگوں کی نظر پڑ گیا جومعلوم ہوتا ہے کہ شاہی محلات سے متعلق تھے، انہوں نے بچے کوباہر نکالا او رچونکہ بنی اسرائیل کے بچوں کے تذکرے ان دنوں عام ہورہے تھے اس لیے پہلا خیال یہی گزرا کہ یہ بھی ان ہی کابچہ ہوگا۔لیکن مشیّت ہنس رہی تھی۔'' 8

رہامسٹر پرویز کا یہ فرمان کہ:
''یہاں لَا تَقْتُلُوهُ کے معنیٰ قتل کرنا نہیں ہوں گے بلکہ حقیر سمجھ کرپھینک دینے کے ہوں گے۔'' 9

تو یہ بوجہ غلط ہے او ریہاں قتل بمعنی سب حیات کے سوا اور کوئی معنیٰ مراد لیا ہی نہیں جاسکتا۔ قتل کے مختلف معانی کےمتعلق مسٹر پرویز یوں رقم طراز ہیں :
''قرآن کریم میں جہاں قتل کا لفظ آئے گا ہرجگہ اس کےمعنیٰ ''مارڈالنے'' کےنہیں ہوں گے۔سیاق و سباق کے اعتبار سے اس کےمعنی متعین کیے جائیں گے، کہیں مار ڈالنا، کہیں ذلیل و حقیر کرنا، غیر مؤثر بنا دینا، تباہ و برباد کردینا، کہیں علم و تربیت سےبے بہرہ رکھنا اور کہیں پورا پورا علم حاصل کرنا وغیرہ۔ حتیٰ کہ انتہائی کوشش کرنا بھی ۔ چنانچہ اس تقتل في الأمر کےمعنیٰ ہیں اس نے اس معاملہ میں جان کی بازی لگا کر کوشش کی۔'' 10

لفظ ''قتل'' کے یہ معانی جو مسٹر پرویز نے بیان کئے ہیں ، اگر انہیں درست بھی مان لیا جائے، تب بھی قابل غور امر یہ ہے کہ آخر یہاں کون او رکس صورت میں اس نوزائیدہ اور معصوم بچے کی تذلیل و تحقیر کررہا ہے کہ ''امرأت فرعون'' کو اس سے منع کرنےکی ضرورت لاحق ہوئی؟ پھر بچہ عمر کی اس حد میں ہےکہ اس کی شعور و فکر کی قوتیں ، اپنے ساتھ ہونے والی تحقیر و تذلیل کے ادراک ہی سے قاصر ہیں ۔لہٰذا ''تحقیر و تذلیل'' کے یہ معنیٰ یہاں لیے ہی نہیں جاسکتے۔ اسی طرح''غیر مؤثر بنا دینے'' کا معنیٰ بھی یہاں مراد نہیں ہوسکتا، اس لیے کہ یہ نوزائیدہ بچہ کسی پر کوئی اثر و رسوخ ڈالنے کی پوزیشن ہی میں نہیں ہے کہاسے ''غیر مؤثر بنانے'' کی تجویز کیجاتی۔''علم و تربیت دینے یا نہ دینے کا کوئی مسئلہ زیر غور ہو۔لہٰذا یہاں قتل کے معنیٰ صرف اور صرف ''جان سے مار کر ہلاک کردینے'' ہی کے ہوسکتے ہیں ۔ کیونکہ قرائن سے یہ واضح ہورہا تھا کہ بچہ بنی اسرائیل ہی کا ہے ، جن کے قتل کا حکم فرعون نے جاری کررکھا تھا، چنانچہ سو بات کی ایک بات ، خود مسٹر پرویز نے بھی ایک مقام پر''لَا تَقْتُلُوهُ'' کا یہی معنیٰ بیان کیا ہے:
''اور فرعون کی بیوی نے کہا کہ (یہ بچہ) میرے لیے اور تیرے لیے آنکھ کی راحت (ہوسکتا ) ہے، اسے قتل نہ کرو۔شاید وہ ہمارے لیےنفع کاموجب ہو یا اسے ہم بیٹاہی بنا لیں ۔'' 11

لہٰذا ''لَا تَقْتُلُوهُ'' کے قائل کا اولاد سے محروم ہونا اور پھر اس بچےکو متبنیّٰ بنا لینے کا قصد و ارادہ، اس کو ''جان سے مار ڈالنے'' سے منع کرنےکے علاوہ، ہ ردوسرے معنیٰ قتل کی نفی کر ڈالتا ہے۔ ان وجوہ کی بناء پر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ نہ صرف یہاں بلکہ اس مقام پر جہاں بنی اسرائیل کے قتل ابناء کا ذکر آیا ہے، وہاں انہیں سچ مچ ''جان سے مار ڈالنے'' ہی کے معنیٰ مراد ہیں چنانچہ اور بھی متعدد مقامات پر مسٹر پرویز نے یہی معنیٰ مراد لیے ہیں ۔ چند اقتباسات ملاحظہ ہوں :
(1) ''(اور اپنی تاریخ کا) وہ وقت یاد کرو جب ہم نے تمہیں خاندان فرعون کی غلامی سے، جنہوں نے تمہیں نہایت سخت عذاب میں ڈال رکھا تھا، نجات دی تھی، وہ تمہارے لڑکوں کوبےدریغ ذبح کرڈالتے، (تاکہ تمہاری نسل و جمیعت نابود ہوجائے)اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتے (تاکہ حکمران قوم کی لونڈیاں بن کرزندگی بسر کریں )او رفی الحقیقت اس صورت حال میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی ہی آزمائش تھی۔ (94؍2)''12

(2) ''اور (خدا فرماتا ہے ، اے بنی اسرائیل) وہ وقت یادکرو، جب ہم نے تمہیں فرعون کی قوم سے نجات دلائی۔ وہ تمہیں سخت عذابوں میں مبتلا کرتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کوقتل کر ڈالتے اور تمہاری عورتوں کو (اپنی چاکری کے لیے) زندہ چھوڑ دیتے۔ اس صورت حال میں ، تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری بڑی ہی آزمائش تھی۔ 141؍7)'' 13

(3) ''سو اب موسیٰ ہماری طرف سے حق لے کر ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہاکہ ان لوگوں کوزندہ چھوڑ دو (انہوں نے یہ تدبیر کی لیکن یاد رکھو کہ ان ) نہ ماننے والوں کی تدبیر بےنتیجہ رہنے والی تھی۔ 25؍40)''

ان اقتباسات میں خط کشید الفاظ ہمارے اس دعویٰ کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ قتل ابنائے بنی اسرائیل کے معنی ''جان سےمار ڈالنے'' ہی کے ہیں ۔

اس آیت 25؍40) پر خامہ فرسائی کرتےہوئے مسٹر پرویز مزید فرماتے ہیں :
'' یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ ایمان تو لائیں یہ لوگ، او رحکم یہ دیاجائے کہ ان کے پیدا ہونے والے بچوں کوقتل کردیاجائے، حالانکہ دوسرے طرف ، جب دربار فرعون کے ساحرین ایمان لائے ہیں تو اس نے ان ہی کے متعلق حکم دیا تھا کہ انںیو سولی پر لٹکا دیاجائے نہ کہ ان کے بچوں کو قتل کردیاجائے۔'' 14

یہاں بھی مسٹر پرویز نےقتل کا معنی جان سےمار دینا ہی تسلیم کرلیاہے۔ تاہم ان کا المیہ یہ تھاکہ قرآن کے کچھ سمجھنے کی بجائے الٹا کتاب اللہ کو کچھ سمجھاتے رہتے تھے، اس کا نتیجہ صرف یہی نہیں تھا کہ بات ان کی سمجھ میں نہ آتی تھی، بلکہ یہ بھی تھا کہ بات ان کی سمجھ میں آکر پھر نکل جاتی تھی اور وہ حیران و سرگردان کھڑے رہ جاتے تھے۔ یہاں جوبات ان کی سمجھ نہ آسکی، اس سےقبل ان کی سمجھ میں آچکا تھی، لیکن پھر نکل گئی۔ حالانکہ قبل ازیں انہوں نے خود لکھا ہے:
''یہ نکتہ بھی قابل غور ہے یعنی بنی اسرائیل میں سے ان لوگوں کی نسل کو آگے نہ بڑھنے دو جو حق و صداقت کو قبول کرچکے ہیں ، خطرہ ان ہی کی اولاد سے ہے، جواس دعوت انقلاب کاساتھ نہیں دے رہے ہیں ان کی اولاد سے زیادہ خطرہ نہیں ۔ اس لیے اگرچہ حکم عام تھا لیکن اس کی شدت بالخصوص ان کےلیے تھی جو دل سے ایمان لے آئے تھے۔'' 15

الغرض مسٹر پرویز، جب تک قرآن سے ہدایت لینے کے متمنی رہے، اس وقت تک وہ ان آیات کا وہی ترجمہ پیش کرتے رہے، جو سلف سے لے کر خلف تک تمام علمائے امت کرتے رہے ہیں ۔ لیکن جب وہ خود قرآن کو ہدایت دینے پر اتر آئے تو ہر آیت کے ترجمہ میں راہ انحراف کو اختیارکرلیا۔ چنانچہ بعد میں انہی آیات کا مفہوم (جن میں قتل ابناء بنی اسرائیل کا ذکر ہے) انہوں نے یوں بیان کیا (قارئین سےگزارش ہے کہ درج ذیل مفہوم آیات کو پڑھتے ہوئے سابقہ صفحات میں انہی آیات کا وہ ترجمہ بھی ایک نظر دیکھ لیں جومعارف القرآن جلد سوم کے حوالے سے ہم پہلے پیش کرچکے ہیں ) :
(1) ''اور اس طرح کرتا یہ تھا کہ تمہاری قوم کے معزز افراد کو ، جن میں اسے جو ہر مردانگی کی جھلک دکھائی دیتی تھی او رجن سے اسے خطرہ کاامکان نظر آتا تھا۔ذلیل و خوار کرکے غیر مؤثر بناتارہتاتھا۔ (بالخصوص انہیں ، جوموسیٰ پر ایمان لائے تھے 25؍40 )اور جو طبقہ ان جوہروں سے عاری ہوتا اسے اپنا معزز اور مؤقر بنا کر آگے بڑھاتا رہتا۔'' 16

(2) ہم اس قوم کے معزز افراد کو ، جن میں جوہر مردانگی کی جھلک دکھائی دیتی ہے او رجس سے خطرہ کا امکان ہے،ذلیل وخوار کرکے غیرمؤثر بنا دیں گے او رجو طبقہ ان جوہروں سے عاری ہے، اسے معزز اور مقرب بنا کر آگےبڑھائیں گے۔ 17

(3) ''وہ قوم کے ان افراد کو جن میں اسے جوہر مردانگی نظر آتے، ذلیل خوار کرکے غیرمؤثر بنا دیتا اور جو ان جوہروں سے عاری ہوتے، انںیر ابھارتا اور آگےبڑھاتا رہتا۔'' 18

چنانچہ مسٹر پرویز ہی کی ہمت ہےکہ پہلے قتل کامعنی ''جان سے مار ڈالنا''، ذبح کرنا'' مراد لیا۔ پھر اس کا معنی ''تحقیر و تذلیل اور جوہر مردانگی سے عاری کردینا وغیرہ وغیرہ'' کیا ۔ لیکن اپنی خود ساختہ لغت سے اسے مقوی کردالنے کے بعد خود بھی اس سے غیر مطمئن ہی رہے۔ لہٰذا مذکورہ لاطائل بحث کے بعد یہ بھی لکھا کہ:
''قتل یا ذبح ابناء سے یہی مراد ہے لیکن بہرحال یہ ایک اندازہ ہے جس پر مزید غور کیا جاسکتا ہے۔'' 19

آگے چل کر لکھتے ہیں :
''قرآنی شواہد سے قیاس کا رخ اس طرف جاتا ہے کہ ذبح ابناء اور استحیاء نساء کے الفاظ استعارة استعمال ہوئے ہیں ۔ سچ مچ قتل کردینے کے معنوں میں نہیں ہوئے، لیکن جیسا کہ ہم نے کہا ہے یہ ہمارا قیاس ہے جس کے دلائل اوپر دیئے گئے ہیں ۔ اگر ان دلائل کو قوی نہ سمجھا جائے تو ذبح ابناء کو حقیقی معنوں میں لیا جائے گا یعنی فرعون بنی اسرائیل کے لڑکوں کو سچ مچ قتل کردیا کرتا تھا ،اس وقت تک مصر کی قدیم تاریخ سے جس قدر پردے اٹھے ہیں ان میں سے بنی اسرائیل کے بچوں کے قتل کردینے کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا ہے۔ ممکن ہے کہ جب تاریخ کے مزید اوراق سامنے آئیں تو ان میں سے اس کے متعلق کوئی ذکر ہو۔ اس وقت تک صرف تورات میں یہ ملتا ہے کہ فرعون نے بنی اسرائیل کے بچوں کو مار ڈالنے کا حکم دے رکھا تھا۔ (کتاب خروج) لیکن تاریخی نقطہ نگاہ سے موجودہ تورات کی جو حیثیت ہے وہ ارباب علم سے پوشیدہ نہیں ہے۔'' 20

مسٹر پرویز کا یہ اقتباس، ان کی اس نفسیاتی کیفیت کو بے نقاب کردیتا ہے کہ وہ ''قتل ابناء'' کے ''جان سے مار ڈالنے'' کے عام فہم معانی صرف اس لیے مراد نہیں لے رہے تھے کہ ابھی تک اثری اور حجری انکشافات نے ان معانی کی تصدیق نہ کی تھی۔ یہ اس شخص کا حال ہے جو ہر وقت ''قرآ ن، قرآن'' کی رٹ لگائے رکھتا تھا۔ گویا جب اثری تحقیقات کے دوران کوئی ایسا کتبہ مل جاتا (یا آئندہ مل جائے گا) جو ولادت موسوی کے وقت ، بنی اسرائیل کے بچوں کو مار ڈالنے کا انکشاف کردیتا تو پھر ''مفکر قرآن'' صاحب ایک اور پلٹا کھاتے اور ''مفہوم قرآن'' بدل کر کچھ سے کچھ ہوجاتا۔ ورنہ اس وقت تک ان کے بتائے ہوئے معانی پر گزارہ کرلیا جائے۔

اور یہ بھی کیا خوب کہا ہے کہ اسرائیلی بچوں کو سچ مچ مار ڈالنے کا فرعون حکم صرف تورات میں پایا جاتا ہے مگر موجودہ تورات ساقط الاعتبار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ''مفسر قرآن'' کا یہ وطیرہ تھا، جب جی چاہا تورات کی ساقط الاعتبار حیثیت کی دہائی دے کر اس میں مذکور واقعات کو رد کردیا خواہ یہ واقعات مطابق قرآن ہی کیوں نہ ہوں ۔ او رجب جی چاہا اسی ساقط الاعتبار کتاب سے تمسک کرکے اس کی خوشہ چینی پر اتر آئے۔ مثلاً یہ سوال کہ حضرت یوسف نے ملکی نظم و نسق سنبھالتے ہوئے مصر میں دوران قحط انتظام معیشت کیسے کیا؟ اس سلسلہ میں مسٹر پرویز کا جواب یہ ہے کہ آپ نے ''اشتراکیت'' نافذ کردی تھی ،چنانچہ اس کے ثبوت کے لیے اسی کتاب تورات سے تمسک کرتے ہیں ، جسے وہ پایہ اعتبار سے ساقط گردانتے ہیں ۔ ملاحظہ ہو ''قرآنی فیصلے'' کا متعلقہ عنوان۔

ہم اس بحث کو ختم کرنے سے پہلے یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ قتل ابنائے بنی اسرائیل کے مفہوم کے تعین کے سلسلے میں ایک دو ٹوک بات کردی جائے۔

مسٹر پرویز کے نزدیک ''قتل'' کے درج ذیل معانی ہیں :
1۔ جان سے مارڈالنا۔
2۔ ذلیل و حقیر کردینا۔
3۔ غیر مؤثر بنادینا۔
4۔ تباہ و برباد کردینا۔
5۔ علم و تربیت سے بے بہرہ رکھنا۔
6۔ پورا پورا علم حاصل کرنا۔21

ان چھ معانی میں سے ''قتل ابناء بنی اسرائیل'' میں کون سا معنی مراد ہے؟ تو اس کی تعیین خود قرآن کریم نے کردی ہے۔ سورة البقرہآیت 49 میں اس کے لیے ''یذبحون ابنآءکم'' کے الفاظ انتہائی واضح ہیں کہ ''وہ تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے۔'' اور ذبح کا لغت میں ایک ہی مفہوم ہے جوخود مسٹر پرویز کے قلم سے درج ذیل ہے:
''ذبح یذبح اندر کی طرف سے سر اور گردن کے جوڑ سے حلق کاٹ دینا، چیر دینا، پھاڑ د ینا ، شق کردینا۔ ابن فارس نے کہا ہے کہ یہی اس کے بنیادی معنی ہیں ۔'' 22

اب جب کہ قرآن ''قتل ابناء'' کی وضاحت ''ذبح ابناء '' سے کرتا ہے تو قتل کا وہی مفہوم از روئے قرآن اولیٰ و انسب ہوگا جو ''قتل'' اور ''ذبح'' کے دونوں لفظوں میں مشترک ہے اور وہ ''جان سے مار ڈالنے'' ہی کا مفہوم ہے۔ مسٹر پرویز کے فکر کی بنیادی خامی یہ ہے کہ یہاں بجائے اس کے کہ ''ذبح'' کے واحد مفہوم کی رو شنی میں ''قتل'' کے مختلف مفاہیم میں سے ایک مفہوم کو متعین کریں وہ الٹا ''ذبح'' کے منفرد اور قطعی مفہوم کو ''قتل'' کے مختلف مفاہیم کی روشنی میں ان چھ معانی تک وسیع کر ڈالتے ہیں جو اوپر بیان ہوئے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ ''ذبح'' کی اساس پر ''ذبح'' کے واحد، قطعی او رمنفرد مفہوم کو ان چھ معانی تک وسیع کردینے کی کیا دلیل ہے؟ ............... اقبال کی زبان میں :


احکام ترے حق ہیں مگر اپنے مفسر
تاویل سے قرآں کو بنا سکتے ہیں پاژند


حوالہ جات
1. خروج 17؍1
2. معارف القرآن ج3 ص190
3. معارف القرآن ج3 ص248
4. 7؍28
5. لغات القرآن ص692
6. 9؍28
7. لغات القرآن ص 692
8. معارف القرآن ج3 ص190
9. لغات القرآن ص692
10. لغات القرآن ص1319
11. مطالب الفرقان ، ص191
12. معارف القرآن ج3 ص189
13. معارف القرآن ج3 ص276
14. لغات القرآن ص69
15. معارف القرآن ج3 ص248
16. 49؍2۔مفہوم القرآن
17. 127؍7۔ مفہوم القرآن
18. 4؍28۔ مفہوم القرآن
19. لغات القرآن ص693
20. لغات القرآن ص694
21. لغات القرآن ص1319
22. لغات القرآن ص688
(1)