وہ رونق خیال بھی غم کی دوا بھی ہیں
یادوں کے نغمہ زار میں دل کی صدا بھی ہیں

وہ دل کا مدعا بھی غم جانفزا بھی ہیں
مہر سکوت بھی ہیں میرے ہمنوا بھی ہیں

دل داریوں میں ان کا مقابل نہیں کوئی
وہ روکش بہار دل ماسوا بھی ہیں

عالم پہ ہیں محیط انہی کی نوازشیں
ہر ابتداوے درد کی وہ انتہائی بھی ہیں

پوشیدہ ہیں دلوں میں غم جاں کے بھیس میں
او رکاروان زیست کی بانگ درا بھی ہیں

غمہائے روز گار کے ہیں فاصلے بہت
تاہم وہ دلُربا ہی نہیں غم رُبا بھی ہیں

آرائش جمال ہیں ان کی صباحتیں
میرے خمار شوق کی وہ انتہا بھی ہیں

ہیں استوار وعدہ روز ازل پہ ہم
لیکن ستم کش نظر ماسوا بھی ہیں

اسرار رائگاں نہیں اس در کی برکتیں
وہ عفو کوش بھی میرے دل کی دعاء بھی ہیں