لفظ ''ولیمہ'' ''ولم'' سے مشتق ہے۔ ''ولم'' یا ''أولم'' کامعنی عربی لغت میں ''مأدبة'' ہوتا ہے۔ جسے اردو زبان میں ''دعوت طعام'' انگریری میں "Feast" یا "Banquet" کہتے ہیں۔1 ولیمہ کی تعریف بیان کرنےمیں علماء مختلف الآراء ہیں، بعض کہتے ہیں کہ ہر خوشی کی تقریب (خواہ شادی بیاہ ہو یا ختنہ و عقیقہ وغیرہ) پر دعوت طعام ولیمہ کہلاتی ہے، بعض کہتے ہیں کہ ولیمہ صرف طعام العرس کے لیے خاص ہے اور بعض کہتے ہیں ، طعام عندالاملاک ولیمہ ہوتا ہے۔مشہور ائمہ لغت میں سے ازہری کا قول ہے کہ ''ولیمہ'' ''ولم'' سے ماخوذ ہے، یہ جمع ہے کیونکہ اس میں زوجین جمع ہوتے ہیں۔''2 ابن الاعرابی کا قول ہے کہ ''کسی چیز کی تتمیم او راجتماع ولیمہ کی اصل ہے، ہر طعام جو باعث سرور ہو اس پر ولیمہ واقع ہوتا ہے۔ اس کا استعمال ویتمه الاعراس میں بلا تقیید ہوتا ہے لیکن دوسرے مواقع سرور کےلیے تقیید کے ساتھ، مثلاً ولیمة الاغدار یا مادبة وغیرہ۔''3 قاموس میں ہے کہ: ''ولیمہ طعام العرس یا ہر وہ طعام ہے جو دعوت کے لیے بنایا جائے اور اس سے ضیافت کی جائے۔''4 قاموس کی شرح تاج العروس میں ہے: ''ابوعبید نے بیان کیا کہ میں نے ابوزیدکو کہتے ہوئے سنا کہ وہ طعام جوعندالعرس بنایا جائے وہ ولیمہ ہے اور وہ طعام بھی جو عندالاملاک5 یعنی عقد النقیعہ کے وقت ہو۔6 حسن بن عبداللہ العسکری فرماتے ہیں کہ ''ولیمہ وہ دعوت طعام ہے جو عندالاملاک کھلائی جائے، یہ جمع ہے کیونکہ اس میں زوجین کا اجتماع ہوتا ہے۔''7 ابن عبدالبر بیان کرتے ہیں کہ ''اہل لغت میں سے خلیل بن احمد اور ثعلب وغیرہ کا قول ہے کہ ولیمہ وہ طعام ہے جوعرس یعنی شادی بیاہ کے موقع کے لیے خاص ہو۔''8 جوہری او رابن اثیر وغیرہ نے اس قول پر جزم کاموقف اپنایا ہے۔9 ابن رسلان فرماتے ہیں کہ ''اہل لغت کاقول زیادہ قوی ہے کیونکہ وہ اہل زبان ہیں، لغت کے موضوع او راہل عرب کی زبان، ان کے محاورے او ران کے استعمال سےبخوبی واقف ہیں۔''10 صاحب المحکم کا قول ہے کہ ''ولیمة طعام العرس والاملاك ہے۔''11 قاضی عیاضکا قول ہے کہ ''ولیمة طعام النکاح۔''12 امام شافعی او ران کے اصحاب فرماتے ہیں کہ ''ولیمہ ہر اس دعوت کے لیے بولا جاتا ہے جو سرور حادث کے لیے ہو مثلاً نکاح یا ختان وغیرہ، لیکن اس کا مشہور استعمال علی الاطلاق نکاح کے موقع پر ہوتا ہے۔ دوسرے مواقع پر اس کی قید ضروری ہے مثلاً یہ کہا جائے: ولیمہ الختان وغیرہ۔''13 ماوردی اور قرطبی نے اس معاملہ میں کافی شدت اختیار کی ہے۔ان کاقول ہے کہ ''ولیمہ کا اطلاق طعام العرس کے علاوہ کسی دوسرے طعام پرنہیں ہوتا۔ دعوت کا لفظ ولیمہ کےمقابلہ میں بہت زیادہ عام ہے۔''14 لیکن امام نووی فرماتے ہیں کہ ''اس معاملہ میں ان لوگوں نے غلطی کی ہے۔''15 علامہ ابوالطیب شمس الحق عظیم آبادی فرماتے ہیں کہ ''یہ وہ طعام ہے جو عندالعرس تیار کیا جاتا ہے۔''16 علامہ ابن قدامہ مقدسی بیان کرتے ہیں کہ ''ولیمہ خاص طور پر اس طعام کا نام ہے جو شادی بیاہ کے مواقع پر ہوتا ہے۔ یہ نام دوسرے مواقع و تقاریب کے طعام پر واقع نہیں ہوتا، جیسا کہ ابن عبدالبر نے اہل لغت میں سے ثعلب وغیرہ سے نقل کیا ہے۔ ہمارے اصحاب میں سےبعض فقہاء کا قول ہے کہ ولیمہ نام کا اطلاق ہراس طعام پر ہوتا ہے جو سرور حادث کے لیے ہو لیکن اس کا بکثرت استعمالطعام العرس کے لیے ہی ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں اہل لغت کا قول زیادہ قوی ہے کیونکہ وہ اہل زبان ہیں، لغت کے موضوع کو پہچاننےوالے اور اہل عرب کی زبان سے بخوبی واقف ہیں.............. الخ''17

علامہ شوکانی نے ''نیل الاوطار'' میں او رحافظ ابن حجر عسقلانی نے ''فتح الباری''18 میں معروف اصحاب لغت اور مشہور فقہاء کے بہت سے اقوال اس سلسلہ میں نقل کئے ہیں۔ جن حاصل یہ ہے کہ اگرچہ بعض علماء کے نزدیک لفظ ''ولیمہ'' دوسری تمام سرور حادث دعوتوں کے لیے بھی مستعمل ہے، لیکن خاص طور پر اس شرعی اصطلاحی کا استعمال اس طعام کے لیے ہوتا ہے جو عندالعرس ہو، جس کے مختلف مراحل عقد نکاح، املاک، زفاف اور دخول کے نام سے مشہور ہیں او راس کی شرعی حیثیت یہ ہے کہ بلاشبہ یہ دعوت ولائم مشروعہ میں سے ہے۔

اب اس دعوت کے جواز کی علتیں پیش کی جاتی ہیں:
(1) ائمہ لغت و فقہاء کے جتنے بھی اقوال اوپر نقل کیے گئے ہیں، ان میں سے کوئی قول بھی، اس امر کی وضاحت اور تخصیص نہیں کرتا کہ ولیمہ فقط زوج (یعنی شوہر) کی جانب سے ہی ہونا چاہیے ولہن یا اس کے والیان کی طرف سے نہیں۔

(2) چونکہ یہ دعوت نکاح کے موقع پر ہوتی ہے او رنکاح دونوں جانب سے ہوتا ہے، یعنی مرد اور عورت دونوں جوانب سے، پس یہ طعام بھی نکاح کی طرح عموم کے حکم میں داخل تصور کیاجائے گا۔

(3) چونکہ عرس کا عمومی اطلاق عقد اور دخول دونوں پر ہوتا ہے، لہٰذا جو طعام عندالعقد زوجہ یا اس کے گھر والوں کی طرف سےکیاجائے وہ بھی لغة و شرعاً ولیمہ یاطعام العرس کے عموم میں داخل سمجھا جائے گا، کیونکہ عرس فی الواقع عقد ہی ہے او ریہ دعوت طعام ولیمہ کی تمام لغوی و غیر لغوی شرائط پوری بھی کرتی ہے۔ مثلاً یہ ''ولم'' سے مشتق ہے ، اس میں اجتماع بھی ہوتا ہے، نیز یہ حادث سرور و نکاح بھی ہے نہ کہ برمحل شرور و مصائب، جیسا کہ مذکور ہے: ''لأنه شرع في السرور لا في الشرور''19

(4) اس دعوت کے جواز کی ایک علت شریعت کا وہ کلیہ بھی ہے، جسے علامہ حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس طرح بیان فرمایا ہے:
'' اگر کسی خاص چیز کے متعلق کوئی مخصوص نص موجود نہ ہو تو وہ چیز بطریق عموم دوسری عام دلیل کے حکم میں داخل سمجھی جائے گی۔''20

پس اس دعوت کو ولیمة العرس ، ولیمة النکاح، طعام العرس یا کچھ او رکہا جائے، اس پر دلائم مشروعہ کے عمومی حکم کا اطلاق ہوگا نہ کہ ولائم مخالف للشرع کا۔
(5) دلہن کے گھر بوقت نکاح جانبین کے جو احباب و رشتہ دار او رباراتی جمع ہوتے ہیں، اکثر ان میں سے کچھ لوگ ایسےبھی ہوتے ہیں جو مسافت بعید طےکرکے آئے ہوتے ہیں، جو شرعاً ''زُور'' کے حکم میں داخل ہیں۔ان کے علاوہ جو لوگ قریبی علاقوں یا اسی شہر کے ہوں وہ تمام بھی مہمان (ضیوف) میں داخل ہیں۔ ''زُور'' ''و ضیف'' کی مہمانی کے لے رسول اللہ ﷺ کا حکم ہے:
''إن لزورك علیك حقا'' 21
''تمہارے پاس دور سے آنے والے شخص کا (مہمان و مدارت او راکل و شرب میں) تم پر حق ہے۔''

اسی طرح فرمایا:
''من کان یؤمن باللہ والیوم الآخر فلیکرم ضیفه''22
''جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے مہمان کی تکریم کرے۔''

''ضیف'' کامہمان داری کا اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہےکہ یہ ایک اہم سنت ابراہیمی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل حدیث سےپتہ چلتا ہے:
''کان إبراھیم أوّل الناس ضیف الضیف''23
''حضرت ابراہیم وہ پہلےشخص تھے، جنہوں نےمہمان کی مہمان داری کی تھی۔''

اور سنت ابراہیمؑ کی اتباع کےمتعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَ‌اهِيمَ حَنِيفًا'' 24
''پھر ہم نے وحی نازل کی آپ پر (اےنبیﷺ)ک ہاتباع کیجئے ملت ابراہیمؑ حنیف کی۔''

محدثین کرام نے مہمان کی ضیافت کے متعلق اپنی تصانیف میں مستقل ابواب قائم کیے ہیں۔مثلاً ''باب إکرام الضیف''25 ، ''باب حق الضیف''26 ، اور ''باب صنع الطعام و التکلف للضیف''27 وغیرہ، ان ابواب کی موجودگی بھی اس چیز کی اہمیت پر روشنی ڈالنے کے لیےکافی ہے۔

لہٰذا جب مہمانوں کی خاطر و مدارت تقریب شادی کے بغیر بھی سنت و مستحب قرار دی گئی ہے،تو بروقت شادی،جو کہ حادث سرور ہے، مہمانوں کی ضیافت بدرجہ اولیٰ سنت اور اجر و ثواب کا باعث ہوگی۔إن شاء اللہ تعالیٰ!

(6) یہ دعوت طعام اس لحاظ سے بھی مشروع او رباعث خیر و برکت ہے کہ اس میں اپنےمسلم بھائیوں اور دوسرت و احباب کی ضیافت اجتماعی طورپر کی جاتی ہے، جس کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایاہے:
''أحب الطعام إلی اللہ ما کثرت عليه الأیدي''28
''اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ طعام وہ ہے جس کو کھانے والے بکثرت (جمع) ہوں۔''

حضرت جابرؓ کی اس مرفوع حدیث کے متعلق علامہ ہیثمی فرماتے ہیں کہ ''اس کی اسناد میں راوی عبدالمجید ابن رواد موجود ہے جو ثقہ تو ہے لیکن اس میں تھوڑا ضعف پایاجاتا ہے۔''29

بعض دوسری احادیث میں بھی بوقت اطعام طعام، اجتماع کی تاکید ان الفاظ میں فرمائی گئی ہے: ''واجتمعوا إلیٰ طعامکم''30 اور ''کلو جمیعا''31 وغیرہ ، لہٰذا بعض محدثین نے ''باب في الاجتماع علی الطعام''32 کے عنوان سےمستقل ابواب بھی قائم کیے ہیں۔

(7) اس دعوت کی مشروعیت کے لیےمندرجہ ذیل احادیث پر غور کرنابھی مفید ہوگا کیونکہ ان میں اطعام طعام کو جنت میں جگہ حاصل کرنےکا ایک ذریعہ قرار دیا گیا ہے:
(الف) ''عن جابر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یمکنکم من الجنة إطعام الطعام یابني عبدالمصلب أطعموا الطعام وأطیبوا الکلام''33
کہ '' اےبنی عبدالمطلب، کھانا کھلانا تمہیں جنت میں جگہ دے گا۔لہٰذا کھانا کھلاؤ او رپاک کلام کیا کرو۔''

(ب) ''عن محمد بن زیاد قال کان عبداللہ بن الحارث یمر بنا فیقول إن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال أطعمو الطعام و أفشو االسلام تو رثوا الجنان''34
یعنی '' کھانا کھلاؤ او رسلام کو پھیلاؤ تو تم جنتوں کے وارث بن جاؤ گے۔''

(ج) ''عن المقدام بن شریح عن أبيه عن جدہ قال قلت یا رسول اللہ حدثني بشىء یوجب لي الجنة قال یوجب الجنة إطعام الطعام وإفشاء السلام و في روایة ''حسن الکلام''35
یعنی ''کھانا کھلانا، سلام کو پھیلانا او رحسن کلام جنت کو واجب کردیتاہے۔''

ان تینوں روایات کے متعلق علامہ ہیثمی فرماتے ہیں کہ ''اوّل الذکر حدیث میں ایک راوی عبداللہ بن محمد العبادی ہے، جسے میں نہیں جانتا کہ کون ہے، اس کے علاوہ روایت کے باقی تمام رجال رجال الصحیح ہیں۔ ثان الذکر حدیث کے تمام رجال رجال الصحیح ہیں اور ثالث الذکر روایت ، دو اسناد کے ساتھ وارد ہوئی ہے، جس میں سے ایک اسناد کے رجال ثقات ہیں۔''36

(8) اگر کوئی شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کو دعوت میں مدعو کرے اور وہ بلا کسی عذر شرعی کے اس میں شریک نہ ہو، تو ایسے شخص کےمتعلق رسول اللہ ﷺ نے جو وعید بیان فرمائی ہے، اس کا ذکر خود ڈاکٹر صاحب موصوف نے اس طرح فرمایا ہے:
''فمن لم یأت الدعوة فقد عصی اللہ و رسوله''37
یعنی ''جو دعوت میں (بلا عذر) شریک نہ ہوگا اس نے گویا اللہ او راس کے رسولؐ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ الخ''

اس موضوع کی بعض اور تاکیدی روایات اس طرح ہیں:
''قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم من دعي فلم یجب فقد عصی اللہ و رسوله''38
''رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کو دعوت دی گئی ہواور وہ قبول نہ کرے تو اس نے اللہ او راس کے رسولؐ کی نافرمانی کی........!''

''وعن جابر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إذا دعي أحدکم إلیٰ طعام فلیجب فإن شآء طعم و إن شآء ترك''39
''حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے تو وہ اسے قبول کرے، خواہ کھائے یا نہ کھائے۔''

''وعن أبي ھریرة قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إذا دعي أحدکم فلیجب فإن کان صائما فلیصل وإن کان مفطرا فلیطعم''40
''حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کسی کو دعوت دی جائے تو وہ اسے قبول کرے، پھر اگر روز دار ہے تو دعاء کرے اور اگر روزے دارنہ ہو تو کھانا کھائے۔''

''وفي لفظ: إذا دعا أحدکم أخاہ فلیجب''41
''ایک لفظ یہ ہے کہ جب کوئی اپنے بھائی کو دعوت دے تو وہ اس کو قبول کرے۔''

ان تمام احادیث کے الفاظ واضح طور پر بتلارہے ہیں کہ ان میں لفظ ''دعوت'' اپنے عموم کےلحاظ سے ہر قسم کی مشروع دعوت کے لیے عام ہے، ولیمہ کے لیے خاص نہیں ہے۔ اگرچہ ولیمہ کی دعوت کے لیے بھی اجابت کا یہی حکم بعض دوسری احادیث میں اس طرح مذکور ہے:
''عن أبي ھریرة أنه کان یقول شر الطعام طعام الولیمة یدعیٰ لھا الأغنیآء و یترك المساکین و من لم یأت الدعوة فقد عصی اللہ و رسوله''42
''حضرت بوہریرہؓ سے مروی ہے، وہ فرمایا کرتے تھے کہ بدترین کھانا وہ ولیمہ ہے جس میں مالدار بلائے جاتے ہیں او رمسکین لوگ چھوڑ دیئے جاتے ہیں، او رجس نے اس دعوت میں شرکت نہ کی، اس نے اللہ او راس کے رسولؐ کی نافرمانی کی۔''

''وفي روایة قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شرالطعام طعام الولیمة یمنعھا من یأتيھا و یدعی إليھا من یأ باھا ومن لم یجب الدعوة فقد عصی اللہ و رسوله'' 43
''ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بدترین کھانا وہ ولیمہ ہے کہ اس میں آنے والے کو روک دیا جاتا ہے او رنہ آنے والے کوبلایا جاتا ہے ۔ جس نے دعوت قبول نہ کی اس نے اللہ کی او راس کے رسولؐ کی نافرمانی ہے۔''

''وعن ابن عمر أن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال أجیبوا ھٰذہ الدعوة إذا دعیتم لھا۔وکان ابن عمر یأتي الدعوة في العرس و غیرالعرس و یأتیھا وھو صائم''44
''حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نےفرمایا، اگر کوئی ولیمہ کی دعوت دے تو اسے قبول کرلو، حضرت ابن عمرؓ وليمے وغیرہ کی دعوت میں تشریف لے جاتے تھے، حالانکہ رو زہ دار ہوتے تھے۔''

''وفي روایة إذا دعي أحدکم إلی الولیمة فلیأتھا''45
''جب کسی کو ولیمہ میں بلایا جائے تو اسے اس میں جانا چاہیے۔''

''وفي لفظ : إذا دعي أحدکم إلی ولیمة عرس فلیجب''46
''ایک لفظ یہ ہے کہ اگر تم میں سے کسی کو شادی کے ولیمہ کی دعوت ہو تو اسے قبول کرلے۔''

''وفي لفظ: من دعي إلیٰ عرس أو نحوہ فلیجب''47
''ایک لفظ یہ ہے کہ جس کسی کو ولیمہ وغیرہ کی دعوت دی جائے تو اسے قبول کرلے۔''

''وفي لفظ: إذا دعا أحدکم أخاہ فلیجب عرسا کان أونحوہ''48
''ایک لفظ یہ ہے کہ جب کوئی اپنے بھائی کو دعوت دے تو وہ اس کو قبول کرے خواہ وہ شادی کی دعوت ہو یا شادی جیسی کوئی اور دعوت''

کبار محدثین نےاپنی تصانیف میں اس موضوع پر مستقل ابواب باندھے ہیں، جس سے اس امر کی اہمیت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔چند مشہور ابواب اس طرح ہیں: ''باب حق إجابة الولیمة والدعوة''49 ، ''باب من ترك الدعوة فقد عصی اللہ و رسوله''50 ، ''باب إجابة الداعي في العرس وغیرہ''51 ، ''باب ماجاء في إجابة الدعوة''52 اور ''باب إجابة الداعي''53 وغیرہ۔
(جاری ہے)

حوالہ جات
1. القاموس العصری از الیاس انطون الیاس ص 815
2. فتح الباری لابن حجر ج9 ص241 و نیل الاوطار للشوکانی
3. ایضاً
4. قاموس
5.عند الاملاک یعنی بوقت تزویج و عقد نکاح و زقاف ،چنانچہ مذکور ہے: ''إملاك والإملاك الزویج و عند النکاح'' (کذا فی المجمع البحار) املاک لڑکی دینے کوبھی کہتے ہیں(کذا فی الصراح) عموماً یہ وقت تزویج اور وقت رخصتی دونوں مواقع کے لیے بولا جاتا ہے۔ زفاف بمعنی ''عروس بخاد شوی فرستادن'' یعنی لڑکی کو اس کی سسرال رخصت کرنا ہے (کذا فی الصراح) اس کے متعلق حکم یوں مذکور ہے: ''إذا اتخذ ولیمة لزفاف ابنته و أهدی الناس هدایا فهو علیٰ ماذکرنا'' (وکذا في الظهیریة والفتاویٰ العالمغیریة والطحاویة)
6.تاج العروس
7.کتاب الاسماء واللغات
8.فتح الباری ج9 ص241 و نیل الاوطار
9.ایضاً
10.نیل الاوطار
11.فتح الباری ج9 ص241
12.المشارق للقاضي عیاضو فتح الباری ج9 ص241
13.کتاب الأم للشافعی و بدرالتمام شرح بلوغ المرام الملاحسین المغربی و مجمع البحار و نیل الأوطار و فتح الباری ج9 ص241
14.فتح الباری ج9 ص241
15.ایضاً
16.عون المعبود شرح سنن ابی داؤد ج3 ص394
17.المغنی لابن قدامہ ج7 ص1
18.فتح الباری ج9 ص241
19.کذا فی فتح القدیر
20.فتح الباری لابن حجر
21.صحیح بخاری مع فتح الباری ج4 ص217
22. صحیح بخاری مع فتح الباری کتاب الادب ج10 ص445 و کتاب الرقاق ج11 ص308 و صحیح مسلم کتاب اللقط باب 4 و کتاب الإیمان ابواب نمبر 74، 75، 77 و سنن أبی داؤدمع عون المعبود کتاب الأطعمة ج3 ص397 و جامع الترمذی مع تحفة الأحوذي کتاب البرباب نمبر42 و کتاب القیامة باب نمبر 50 و سنن ابن ماجہ کتاب الأدب باب نمبر 5 و سنن دارمی کتاب الأطعمة باب نمبر11 و مؤطا امام مالک کتاب صفة النبي باب نمبر22 و مسند احمد بن حنبل ج2 ص174، 267 و تنقیح الرواةج3 ص214 و کذا في الجامع الصغیر والمشکوٰة المصابیح و نیل والسراج المنیر وغیرها۔
23.مؤطا امام مالک کتاب صفة النبیؐ باب 4
24.سورہ النحل آیت نمبر 123
25.صحیح بخاری مع فتح الباري کتاب الأدب ج10 ص531
26.ایضاً ج4 ص217 و ج10 ص531 و سنن ابن ماجہ کتاب الادب باب نمبر5
27.صحیح بخاری مع فتح الباري کتاب الأدب ج10 ص534
28.رواہ أبویعلی في مسندہ و ابن حبان والبیهقی والصیاء المقدسي و الطبرانی في الأوسط۔
29.مجموع الزوائد للهیثمی ج5 ص21
30.سنن ابوداود مع عون المعبود ج3 ص406 والمنذری و ابن ماجہ
31.رواہ الطبراني في الکبیر والأوسط ولکن أبوالربیع السمان في الإسناد الکبیر ضعیف والبحر السقاء في الإسناد الأوسط ضعیف أیضاً کما قال الهیثمي في مجمع الزوائد ج5 ص21
32.سنن ابو داود مع عون المعبود ج3 ص4001 وغیرہ
33.مجمع الزوائد للهیثمي ج5 ص16۔17
34.رواہ الطبراني
35.ایضاً بإسنادین۔
36.مجمع الزوائد للہیثمی ج5 ص16۔17
37.شادی بیاہ کی تقریبات کے ضمن میں۔الخ ص9
38.سنن ابی داؤد مع عون المعبود ج3 ص395
39.رواہ احمد و مسلم و ابوداؤد و ابن ماجہ
40.رواہ احمد و مسلم و ابوداؤد
41.رواہ احمد و مسلم و ابوؤد
42.سنن ابی داؤد مع عون المعبود ج3 ص396 و اخرجہ البخاری و مسلم والنسائی ایضاً
43.رواہ مسلم
44.متفق علیہ
45.متفق علیہ و سنن ابی داؤد مع عون المعبود ج3 ص394
46.رواہ مسلم
47.ایضاً
48.سنن ابی داؤد مع عون المعبود ج3 ص395
49.صحیح بخاری مع فتح الباری ج9 ص240
50.ایضاً ج9 ص244
51.ایضاً ج9 ص246
52.سنن ابی واؤد مع عون المعبود ج3 ص394
53.منتقی الاخبار لابن تیمہ مترجم ج2 ص303