3۔ گناہ کا اعتراف :
انسان جب اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو تو آداب دعاء کا تقاضا ہےکہ اپنے گناہوں، خطاؤں اور تقصیروں کا اقرار بھی کرے۔اسی میں اللہ تعالیٰ کی عبودیت کا کمال اور اس کا انتہا ہے۔
''عن أبي هریرة رضی اللہ تعالیٰ عنه قال : إن أوفق الدعاء أن یقول الرجل: اللھم أنت ربي وأنا عبدك، ظلمت نفسي و اعترفت بذنبي یارب فاغفرلي ذنبي إنك أنت ربي ، إنه لا یغفر الذنوب إلا أنت'' 1
''حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں: بہترین دعاء یہ ہے کہ انسان کہے، ''یا اللہ تو میرا رب اورمیں تیرا بندہ ہوں۔ میں اپنی جان پر ظلم کربیٹھا ہوں، اپنے گناہ کا اقرار کرتا ہوں۔ یا رب میرا گناہ بخش دے، کیونکہ تو ہی میرا رب ہے او رتیرے سوا کوئی گناہ بخشنے والا نہیں۔''

''وعن علي بن أبي طالب رضی اللہ تعالیٰ عنه قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:إن اللہ لیعجب من العبد إذا قال:لا إلٰه إلا أنت إني قد ظلمت نفسي فاغفرلي ذنوبي إنه لا یغفر الذنوب إلا أنت، قال عبدي عرف أن له ربا یغفر و یعاقب'' 2

''حضرت علی بن ابی طالب ؓ بیان کرتے ہیں، آنحضرتﷺ نے فرمایا:انسان جب یہ دعا پڑھے:
''لا إلٰه إلا أنت إني قد ظلمت نفسي فاغفرلي ذنوبي إنه لایغفر الذنوب إلا أنت''
''یا اللہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں اپنے آپ پر ظلم اور زیادتی کر بیٹھا، میری خطائیں معاف فرما، تیرےسوا کوئی دوسرا خطاؤں کومعاف کرنے والا نہیں'' تو اللہ تعالیٰ خوش ہوکر فرماتے ہیں، ''میرےبندے کو اعتراف ہے کہ اس کا ایک رب ہے، جومعاف کرتا اور سزائیں دیتا ہے۔''

4۔ یقین اور پختگی سے دعاء کرنا:
حضرت انس بن مالکؓ ، آنحضرتﷺ کا ارشاد مبارک بیان فرماتے ہیں:
''إذا دعا أحدکم فلیعزم المسئلة ولا یقولن: اللھم إن شئت فأعطني فإنه لامستکرہ له'' 3
''تم میں سے کوئی جب دعاء کرے تو پختگی کے ساتھ مانگے او ریوں نہ کہے کہ ''یا اللہ، اگر تو چاہے تو مجھے (فلاں چیز)دے۔'' کیونکہ اللہ تعالیٰ کومجبور کرسکنےوالا کوئی نہیں۔''

مقصد یہ ہے کہ سوال اصرار اور پختگی کے ساتھ کرے۔اللہ تعالیٰ سے یوں درخواست کرنا کہ چاہے دے ، چاہے نہ دے، عزم اورپختگی کے خلاف ہے ، بلکہ اس سے تو یہ مفہوم نکلے گاکہ جو چیز رب سے طلب کررہاہے، اسے اس کی ضرورت نہیں۔لہٰذا اسے چاہیے کہ یوں کہے، ''یارب، تو میرا سوال پورا کردے تو تیرا شکر ہے۔ ورنہ میں تجھے مجبور نہیں کرسکتا۔''

5۔ دعاء میں شّدت :
دعاء کرتے وقت سختی اور شّدت کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہیے۔حضرت عائشہ ؓ کا بیان ہے، ان کی ایک چادر (کمبل وغیرہ) گم ہوگئی، تو انہوں نے چور کے حق میں بددعاء کی۔ آنحضرتﷺ نے ان سے فرمایا:
''وہ شخص چوری کے سبب جس سزا کا مستحق ہوچکا ہے، اب بددعاء کرکے اس کے گناہ کو کم نہ کرو۔'' 4

6۔ تین تین باردعاء کرنا:
بار بار دعاء کرنابھی مستحب ہے۔ یہ چیز دعاء کرنے والے کے حریص ہونے اور مقصود کے حصول پر شائق ہونےکی دلیل ہے۔

صحیح مسلم کی ایک طویل حدیث میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا بیان ہے کہ آنحضرتﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب دعاء کرتے تو تین تین بار کرتےاور جب مانگتے تو بھی تین تین بار۔ 5

اسی طرح ایک اور حدیث میں حضرت انس ؓ، آنحضرتﷺ سے بیان فرماتے ہیں:
''من سأل الجنة ثلاث مرات قالت الجنة: اللھم أدخله الجنة ومن استجار من النار ثلاث مرات قالت النار:اللھم أجرہ من النار'' 6
کہ ''آپؐ نے فرمایا، جو شخص تین بار جنت کا سوال کرے توجنت بھی کہتی ہے ، ''یااللہ، اسےجنت میں داخل کردے۔''
اور جو شخص تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگے تو وہی بھی کہتے ہیں، ''الٰہی، اسے جہنم سے بچا۔''

7۔ جامع دعائیں کرنا:
جامع دعائیں وہ ہیں کہ جن کے الفاظ مختصر او رمفہوم انتہائی وسیع ہو۔ الفاظ کی قلت کے باوجود وہ دعاء بڑے وسیع معانی پردلالت کرتی ہو اور مختصر راستہ کے ذریعہ انسان اپنے مقصود و مطلوب کو پالے۔ آنحضرتﷺ کی یہی عادت مبارکہ تھی ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپؐ کو جامع کلمات ودیعت ہوئے تھے۔ آپؐ کے دہن مبارک سے الفاظ یوں ادا ہوتے گویا انہیں خوب چن چن کر لایا گیاہے۔نیز یہ الفاظ اس قدر واضح ہوتے کہ سننے والا کسی دقت اور مشقت کے بغیرانہیں یاد رکھ سکتا تھا۔

آنحضرتﷺ کوزیادہ لمبی گفتگو ناپسند تھی، سنن ابوداؤد میں صحیح سند سے ثابت ہے، حضر ت عائشہؓ فرماتی ہیں:
''کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یستحب الجوامع من الدعآء و یدع ما سویٰ ذٰلك'' 7
کہ ''آنحضرتﷺ کو جامع دعائیں پسند تھیں۔ان کےعلاوہ باقی دعاؤں کو آپؐ ترک فرما دیتے۔''

کتب حدیث میں اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت فروہ بن نوفل کا بیان ہے کہ میں اُم المؤمنین حضرت عائشہؓ سے کہا: مجھے آنحضرتﷺ کی کوئی دعاء بتلائیں، تو آپؓ نے یہ دعاء بتلائی:
''اللھم إني أعوذ بك من شرما عملت و شر مالم أعمل'' 8
کہ ''اے اللہ، میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس عمل کے شر سے جسے میں نےکیا اور جسے میں نے نہ کیا۔''

یہ دعاء ہر قسم کے شر سے بچنے کے لیے ہے۔ آپؐ کی بعض دعائیں اس سے بھی زیادہ جامعیت پر مشتمل ہیں۔ جیساکہ حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ فرماتے ہیں، آنحضرت یہ دعاء کیاکرتے تھے:
''اللھم اغفرلي خطیئتي وحملي و إسرا في في أمري و ما أنت أعلم به مني اللھم اغفرلي جدي وھزلي و خطإي و عمدي و کل ذٰلك عندي اللھم اغفرلي ماقدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أنت أعلم به مني أنت المقدم وأنت المؤخر وأنت علی کل شيء قدیر'' 9
یعنی''یا اللہ، میری خطائیں، لغزشیں او رمیری زیادتیاں اور جو کچھ تو مجھ سے بہتر جانتا ہے، سب کو معاف فرما۔ یا اللہ، میری عمداً اور غیر عمداً کی ہوئی خطائیں سب معاف فرما، یہ تمام اعمال میرے نامہ میں ہیں۔ یا اللہ، میری سابقہ اور آئندہ، پوشیدہ اور اعلانیہ فروگزاشتیں اور میری ہر وہ غلطی جو تو مجھ سے بہتر جانتا ہے، سب کو معاف فرما! یا اللہ، تو ہی بندوں کو اچھائیوں میں آگے بڑھانے والا اور مؤخر کرنے والا ہے۔ہرچیز پر قادر ہے۔''

اسی طرح دنیاو آخرت کی بھلائیوں پر مشتمل آنحضرتﷺ کی یہ مبارک قرآنی دعاء بھی ہے:
﴿رَ‌بَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَ‌ةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ‌ ﴿٢٠١...سورۃ البقرۃ
''اےرب، ہمیں دنیااو رآخرت میں بھلائیاں عطافرما اور جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔''

چونکہ انسان اللہ تعالیٰ سےمناجات کرتا ہے اس لیے ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہنا چاہیے۔

افضل یہ ہے کہ دعاء کا ہرلفظ بلکہ ہر حرف کتاب و سنت سےماخوذ او رمنقول ہو۔اس طرح انسان غلطی سے محفوظ و مأمون ہوجاتا ہے۔

یاد رہے کہ بہت سے عام دعائیہ لمات، کہ انسان جن کی اہمیت سے واقف نہیں ہوتا، جب وہ دل کی گہرائیوں سے نکلتے ہیں تو ملائکہ رحمت انہیں لینے کے لیے شوق سے لپکتے اور تیزی سے آگے بڑھتے ہیں، ان کے لیے آسمان کےدروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور وہ میزان میں بھی اجر و ثواب کے لحاظ سے بہت زیادہ وزنی ہوتے ہیں۔ یہ مختصر کلمات بہت سی سطرون اور صفحوں پر مشتمل خود ساختہ ، فضول دعاؤں سے زیادہ اللہ کومحبوب ہوتے ہیں۔

خلاصہ یہ کہ اس مشہور ضرب المثل کے مطابق عمل کیا جائے کہ:
''خیر الکلام ماقل و دل''

یعنی افضل اور بہترین کلام وہ ہے جو مختصر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے مطلوب و مقصود کو خوب واضح بھی کرتی ہو۔

8۔ دعاء کرنے والا دعاء کی ابتداء اپنے آپ سے کرے:
مثلاً اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مؤمنین کی یہ دعاء نقل فرمائی ہے:
﴿رَ‌بَّنَا اغْفِرْ‌ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ...﴿١٠﴾...سورۃ الحشر
''اے رب، ہماری اور ہمارے ان مؤمن بھائیوں کی مغفرت فرما جو ہم سے پہلے گزر چکے...........!''

اسی طرح یہ دعاءبھی ہے:
﴿رَ‌بَّنَا اغْفِرْ‌ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ ﴿٤١﴾...سورۃ ابراھیم
''اے ہمارے رب، مجھے ، میرے والدین او رمؤمنین کو روز قیامت بخش دے...........!''

اسی طرح یہ دعاء بھی ہے:
﴿رَ‌بِّ اغْفِرْ‌ لِي وَلِأَخِي وَأَدْخِلْنَا فِي رَ‌حْمَتِكَ...﴿١٥١﴾...سورۃ الاعراف
''اےمیرے رب، مجھے اور میرےبھائی کو بخش اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما۔''

مؤمنین کی یہی عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنی دعاء میں دوسرے مسلمان بھائیوں کو بھی شرک کرلیتے ہیں تاکہ انہیں بھی نیکی اوربھلائی میں سے کچھ حصہ مل جائے۔

حضرت ابی بن کعب بیان فرماتے ہیں کہ آنحضرتﷺ جب کسی کو یاد کرکے اس کے حق میں دعاء فرماتے تواپنے آپ سے ابتداء کرتے۔10

لیکن یہ آپؐ کی حتمی عادت نہ تھی۔بہت سے مواقع پر آپؐ نے دوسروں کے لیےدعاء فرمائی مگر اپنے لیے نہیں کی۔ جیساکہ حضرت ابراہیم و ہاجرہ علیہما السلام کے واقعہ میں ہے:
''یرحم اللہ أم إسماعیل لو ترکت زمزم لکانت علینا معینا''
''اللہ تعالیٰ، اسماعیل علیہ السلام کی والدہ (ہاجرہؑ) پر رحم فرمائے، اگر وہ زمزم کو ایسے ہی رہنے دیتیں تو یہ ابلتا ، بہتا چشمہ ہوتا۔''

اسی طرح حضرت ابوہریرہؓ کی حدیث میں ہے،آنحضرتﷺ نے حضرت حسان بن ثابتؓ کے حق میں یہ دعاء فرمائی:
''اللھم أیدہ بروح القدس''
''الٰہی ، جبریل ؑ کے ذریعے اس کی تائید و نصرت فرما۔''

اسی طرح آپؐ نے حضرت ابن عباسؓ کو دعاء دی۔
''اللھم فقهه في الدین''
''یا اللہ، اسے دین میں فقاہت عطا فرما۔''

ان مثالوں سے معلوم ہوا کہ آپؐ جب دوسروں کےلیے دعاء فرماتے تو اپنے لیے بھی کبھی دعاء کرلیتے اور کبھی نہ کرتے۔

9۔ مستحب اوقات میں دعاء کرنا:
مسلمان کا، اللہ تعالیٰ کے حضور، کمال ادب کا تقاضا ہے کہ دعاء ایسے اوقات میں کرے جن میں دعاء بالخصوص قبول ہوتی ہے۔ ان اوقات کا ذکر ہم آئندہ ان شاء اللہ مستقلاً کریں گے۔ (جاری ہے)

حوالہ جات
1. مسنداحمد 2؍515۔ یہ حدیث حضرت ابوہریرہؓ سے موقوفاً صحیح ہے، مرفوعاً ضعیف ہے۔ملاحظہ ہو، ضعیف الجامع الصغیر تحقیق الشیخ الألباني
2. المستدرك للحاکم۔ صحیح الجامع الصغیرحدیث نمبر 1817
3. صحیح بخاری 11؍139، صحیح مسلم 17؍6، ترمذی 9؍470
4. ابوداؤد حدیث نمبر 1483
5. صحیح مسلم 12؍152
6. ابن ماجہ حدیث نمبر 4340 مسنداحمد 3؍117
7. ابوداؤد۔حدیث نمبر 1469، مسنداحمد6؍148
8. صحیح مسلم 17؍38، ابوداؤد، حدیث نمبر 1535
9. صحیح مسلم 17؍40
10. ترمذی 9؍327