4۔ ''قریش کے لوگو، ایسانہ ہو کہ خدا کےحضور تم اس طرح آؤ کہ تمہاری گردنوں پرتو دنیاکا بوجھ لدا ہو، اور دوسرے لوگ آخرت کا سامان لے کر آئے ہوں، میں خدا کے سامنےتمہارے کچھ کام نہ آسکوں گا۔''

دنیا کی زیب و زینت کوآخرت کی دائمی زندگی پر ترجیح دینے والوں کی مذمت کرتے ہوئے ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿ٱلَّذِينَ يَسْتَحِبُّونَ ٱلْحَيَو‌ٰةَ ٱلدُّنْيَا عَلَى ٱلْءَاخِرَ‌ةِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا ۚ أُولَـٰٓئِكَ فِى ضَلَـٰلٍۭ بَعِيدٍ ﴿٣...سورۃ ابراھیم

امام رازی فرماتے ہیں:
''أي یستحبون الحیاة الدنیا و یؤثرونها علی الآخرة، فجمع تعالیٰ بین ھٰذین الوصفین لیتبین بذٰلك أن الا ستحباب للدنیا وحدہ لا یکون مذموما إلابعد أن یضاف إليه إیثار ھا علی الآخرة'' 1
''یعنی ایسے لوگ گمراہ ہیں جو دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں، اور دنیا سے محبت اس وقت مذموم ہے جبکہ اسے آخرت پر مقدم اور راجح بنا لیاجائے۔ ''

اور کوئی شخص بھی ایسے دنیا دار گمراہ لوگوں کے اس دن کچھ کام نہ آسکے گا، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَلَا تَزِرُ‌ وَازِرَ‌ةٌ وِزْرَ‌ أُخْرَ‌ىٰ ۚ وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَىْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْ‌بَىٰٓ...﴿١٨﴾...سورۃ الفاطر
''کوئی بوجھ اٹھانے والاکسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا، اگر کوئی شخص اپنے عمال کے بوجھ تلے بری طرح دب رہا ہوگا اور کسی او رکوبلائے کہ وہ اس کاکچھ باربٹالے تو کوئی شخص ایسا نہیں کرسکے گا، خواہ وہ اس کا کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو۔'' 2

5۔ ''نماز ادا کرو، مہینے بھر کے روزے رکھو، اپنےمالوں کی زکوٰة خوشدلی سے دیتے رہو، اپنے خدا کے گھر کا حج کرو، اپنے اہل امر کی اطاعت کرو، تو اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤگے۔''

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاإِذَا قُمْتُمْ إِلَى ٱلصَّلَو‌ٰةِ فَٱغْسِلُواوُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى ٱلْمَرَ‌افِقِ...﴿٦﴾...سورۃ المائدہ

اس آیت کے علاوہ ''(43؍4، 58؍5، 102؍4)'' آیات درج کرنےکے بعد لغات القرآن (از پرویز) میں ہے:
''تصریحات بالا سے واضح ہے کہ قرآن کریم میں ''صلوٰة ''کا لفظ ان اجتماعات کے لیے آیا ہے، جنہیں عام طور پر نماز کے اجتماعات کہا جاتا ہے۔'' 3

اور مہینے بھر کے روزے رکھنے کےمتعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ ٱلشَّهْرَ‌ فَلْيَصُمْهُ...﴿١٨٥﴾...سورۃ البقرۃ
''سو جو شخص اس مہینہ میں اپنے گھر پر موجود ہو تو اسے چاہیے کہ اس مہینے کے روزے رکھے۔'' 4

نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ ٱلصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ﴿١٨٣...سورۃ البقرۃ
''اس مقصد کے لیے تم پر روزے فرض کیے گئ ہیں، جس طرح تم سے پہلی اقوام پر فرض کیے گئے تھے۔'' 5

نابالغ عربی دان:
مذکورہ قرآنی آیت ''كُتِبَ عَلَيْكُمُ ٱلصِّيَامُ'' میں ''صیام'' کا کلمہ ''صوم'' کا جمع نہیں، بلکہ مصدر ہے۔ صام یصوم صوما و صیاما ۔اور اگر یہ ''صوم'' کی جمع ہو تو اس کے فوراً بعد ''کما کتب'' کی بجائے عربی گرائمر کے مطابق ''کما کتبت'' ہونا چاہیے تھا ، لیکن ''الصیام'' کی طرف ''کتب'' کی مفرد مذکر ضمیر لوٹانا، عربی قاعدے کے مطابق اس بات کی دلیل ہےکہ مذکورہ قرآنی آیت میں''الصیام'' جمع نہیں، بلکہ مصدر ہے۔ اب آپ غلام پرویز کے بیان کردہ قرآنی آیت کے مفہوم پردوبارہ نظر ڈالیے، وہ اس آیت میں ''الصیام'' کو ''صوم''کی جمع بنا رہے ہیں، جبکہ وہ اپنی ''مطالب الفرقان'' ج3، ص184 پراس کے جمع ہونے کو صراحت کےساتھ ذکر کرگئے ہیں، او ریہ سب ان کے عربی زبان سے نابلد ہونے نیز اس کی گرائمر سے اجنبیت کا نتیجہ، اور ایسے فن میں کو دپڑنے کا ثمرہ ہے جس کے وہ اہل نہیں تھے۔ کم از کم اگر وہ مفسرین میں سے کسی ایک کی کتاب کو ہی دیکھ لیتے توشاید ایسا ''علمی شاہکار'' پیش کرکے جگ ہنسائی کا نشانہ نہ بنتے۔ چنانچہ امام رازی اسی آیت کریمہ کے تحت فرماتے ہیں:
''اعلم أن الصیام مصدر صام کالقیام وأصله في اللغة الإمساك عن الشيء والترك له'' 6
''یعنی خوب جان لو کہ ''صیام'' ''صام '' کا مصدر ہے، جیسے''قیام '' ''قام'' کا مصدر ہے، او راس کا لغوی معنیٰ ''کسی چیز سے رُک جانا او راسےترک کردینا'' ہے۔''

مگر چونکہ مسٹر پرویز نے مستشرقین کی طرح ہر قسم کا رطب و یابس لٹریچر جمع کرنےکی ٹھان رکھی تھی، تحقیق اور حق گوئی سے انہیں کوئی لگاؤ نہ تھا، مزید بریں وہ اپنی ذہنی صلاحیت کے محدود ہونے کے باوجود ، علم میں، خضر زمانہ ہونےکی خوش فہمی میں بھی مبتلا تھے، لہٰذا انہوں نےمسلمان اہل علم کی کتابوں سے استفادہ کی ضرورت ہی محسوس نہ کی، جو کچھ اپنے ذہن میں آیا، اسےاگلتے چلے گئے اور اس پرمضر نتائج کی ذمہ داری اپنے وارثوں پر ڈال گئے۔

ذرا غور فرمائیے! کہ جو شخص قرآن کےایک لفظ کے جمع یا مصدر ہونے میں ہی امتیاز نہ کرسکتا ہو، اسے ''مفکر قرآن'' کا لقب دے دینا، اس پر تہمت لگا دینا اور بہتان باندھنانہیں تو اور کیا ہے؟ وارثین پرویز کو چاہیے کہ پرویزی لٹریچر کے اس کاٹھ کباڑ کو دریا بُرد کرکے حدیث رسولؐ پر ایمان لے آئیں کہ اسی میں ان کی دنیا و آخرت کی بھلائی پوشیدہ ہے۔ آمدم برسر مطلب:
رہا اپنے مال سے زکوٰة ادا کرنے کا حکم، تو اس کی ادائیگی کے متعلق قرآن کریم کی متعدد آیات میں سے ایک یہ ہے:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَأَقِيمُواٱلصَّلَو‌ٰةَ وَءَاتُوا ٱلزَّكَو‌ٰةَ وَٱرْ‌كَعُوامَعَ ٱلرَّ‌ٰ‌كِعِينَ ﴿٤٣...سورۃ البقرۃ

جبکہ منکرین حدیث کے ہاں حشوو زوائد سے پاک و صاف تفسیر ''قرطبی'' میں ہے:
''سمي الإخراج من المال زکوة وھو نقص منه من حیث ینمو بالبرکة رو بالأجر الذي یثاب به المزکي'' 7
''یعنی مال میں سے کچھ حصہ بطور زکوٰة نکالنے سے اگرچہ بظاہر وہ مال کم ہوجاتا ہے لیکن اس میں برکت کی وجہ سے یااس اجر وثواب کی وجہ سے، جو زکوٰة دینے والے کو حاصل ہوتا ہے، درحقیقت وہ مال بڑھتا ہےاور نشوونما پاتا ہے۔''

اور کعبة اللہ کے حج کرنےکے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَلِلَّهِ عَلَى ٱلنَّاسِ حِجُّ ٱلْبَيْتِ مَنِ ٱسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا...﴿٩٧﴾...سورۃ آل عمران

نیز ارشاد ہے:
﴿وَأَتِمُّواٱلْحَجَّ وَٱلْعُمْرَ‌ةَ لِلَّهِ...﴿١٩٦﴾...سورۃ البقرۃ

امام رازی فرماتے ہیں:
''الحج في الشرع فھو اسم لاأفعال مخصوصة منھا أرکان....... والأرکان عندنا خمسة الإحرام و الوقوف بعرفة، والطواف بالبیت والسعي بین الصفا والمروة في حلق الرأس او تقصیرہ قولان........'' 8
یعنی ''شریعت اسلامیہ میں حج چند مخصوص افعال کانام ہے، جس کے ارکان ہم مسلمانوں کے ہاں پانچ ہیں۔یعنی احرام باندھنا، میدان عرفات میں وقوف کرنا، بیت اللہ کاطواف کرنا اور صفا و مروہ کی سعی کرنا، جبکہ اس کے بعد سرمنڈانا یابال کترانے میں علماء کے دو قول ہیں.......!''

لہٰذا مذکورہ آیات میں اسی حج کی ادائیگی کا حکم دیا گیاہے، جسےمسلمان ہرسال ادا کرتے ہیں۔

اہل امر کی اطاعت کا حکم دیتے ہوئے ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا أَطِيعُواٱللَّهَ وَأَطِيعُواٱلرَّ‌سُولَ وَأُولِى ٱلْأَمْرِ‌ مِنكُمْ...﴿٥٩﴾...سورۃ النساء
''ضروری ہےکہ تم اس نظام کی پوری پوری اطاعت کرو جسے قوانین خداوندی کونافذ کرنے کے لیے رسول نے قائم کیا ہے او راس نظام کےمرکز کے مقرر کردہ نمائندگان حکومت کی بھی اطاعت کرو۔'' 9

اور نماز، روزہ، حج، زکوٰة چونکہ اعمال صالحہ ہیں، ایسے صلاحیت بخش امور کی تعمیل کرنے والوں کی جزا کے متعلق ارشادباری تعالیٰ ہے:
﴿وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواوَعَمِلُوا ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَآ أُولَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ ﴿٤٢...سورۃ الاعراف
''جو قوم ہمارے قوانین کی صداقت کو تسلیم کرے گی او رہمارے مقرر کردہ صلاحیت بخش پروگرام پرعمل پیرا ہوگا، تو ان کا معاشرہ جنتی معاشرہ ہوگا۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ، وہ اسی میں رہیں گے۔'' 10

6۔ ''اب محرم خود ہی اپنے جرم کا ذمہ دار ہوگا، نہ باپ بیٹےکے بدلے او رنہ بیٹا باپ کے بدلے پکڑا جائے گا۔''
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿لَا تَزِرُ‌ وَازِرَ‌ةٌ وِزْرَ‌ أُخْرَ‌ىٰ...﴿١٨﴾...سورۃ الفاطر
''جرم کی سزا مجرم خود بھگتےگا کوئی دوسرا نہیں۔ نہ کوئی بے گناہ کسی دوسرےکے جرم کی پاداش میں پکڑا جائے گا، ہر بوجھ اٹھانے والا اپنا بوجھ خود اٹھائے گا۔'' 11

نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَّا عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ‌ وَازِرَ‌ةٌ وِزْرَ‌ أُخْرَ‌ىٰ...﴿١٦٤﴾...سورۃ الانعام
''جو کرے گا وہی بھرے گا، اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔'' 12

قارئین کرام! یہ تھیں خطبہ حجة الوداع کی وہ روایات، جنہیں''طلوع اسلام'' نے تاریخ کی کتابوں سے یہ ثابت کرنےکےلیےنقل کیاتھاکہ یہ ساری روایات قرآنی تعلیمات کے خلاف ہونے کی وجہ سے مستشرق غلام احمد پرویز اس کی ذریّت کے ہاں ناقابل قبول ہیں، بلکہ بقول انہی کے یہ روایات اس بات کی دلیل ہیں کہ اب تک حدیث رسولؐ میں لوگوں کی خواہشات کے مطابق اضافے ہوتے چلے آئے ہیں، جس کا اظہار انہوں نےیوں کیاہے:
''یہ اضافےنیک نیتی پرمبنی تھے، یا کسی سازش کا نتیجہ، ان اضافوں کا انکارنہیں کیاجاسکتا۔جیسا کہ حجة الوداع کے خطبےکے بارے میں امام بخاری کی روایت کردہ حدیث میں اضافے ہوتے چلے آئے ہیں یہاں تک کہ اس کا حجم اس سے پچاس ، ساٹھ گنا زیادہ ہوگیا۔'' 13

لیکن ہماری رائے میں اگر اس حدیث کا حجم اصل روایت سے پچاس، ساٹھ گنا کی بجائے اسی، نوّے گنا بھی زیادہ ہوجاتا، تو آپ کے ہاں حدیث کی صحت کو پرکھنے کے قاعدے سے سب کا قرآنی تعلیمات کے مطابق ہونا ثابت کیاجاسکتا ہے۔لہٰذا ایسے بے لگام قاعدے کے ہوتے ہوئے آپ کو حدیث نبویؐ کے معاملہ میں زیادہ پیچ و تاب کھانے کی ضرورت نہیں۔ وآخر د عوانا أن الحمد للہ رب العٰلمین۔

حوالہ جات
1. تفسیر کبیر 19؍78
2. مفہوم القرآن 3؍1008
3. 3؍1041
4. مفہوم القرآن 1؍68
5. مفہوم القرآن 1؍67
6. تفسیرکبیر 5؍68
7. الجامع لاحکام القرآن 1؍292
8. تفسیر کبیر 5؍139
9. مفہوم القرآن 1؍197
10. مفہوم القرآن 1؍348
11. قرآنی قوانین صفحہ 30
12. قرآنی قوانین از پرویز صفحہ 30
13. طلوع اسلام، جون 1986ء