2

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

حضرت مولانا سید ابومحمد بدیع الدین راشدی کی پریس کانفرنس
حضرت مولانا سید ابومحمد بدیع الدین راشدی صاحب، صدر جمعیت اہل حدیث (صوبہ سندھ)نے مورخہ 4۔ اپریل 1987ءکو پریس کلب حیدر اباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا، جس کا متن درج ذیل ہے۔.......................... (ادارہ)



جماعت اہل حدیث ایک ایسی جماعت ہے، جو رسول اکرم ﷺ کے دور سے چلی آرہی ہے۔ اس جماعت کا دستور صرف اور صرف کتاب و سنت ہے۔ ہر دور میں اس جماعت نے انہی دو چیزوں کا پرچار کیا ہے او رہر قسم کی فرقہ بندی سےاپنا دامن بچا کر ہمیشہ یہی آواز بلند کی ہے کہ شریعت صرف قرآن و حدیث کا نام ہے یہی اسلام ہے او ریہی قیامت تک باقی رہنے والا ہے۔ جماعت اہل حدیث اپنے تمام معاملات، خواہ وہ دینی ہوں یا دنیاوی، کا حل انہی دو چیزوں میں تلاش کرتی ہے۔ جماعت اہل حدیث کےعقائد اور اعمال کامدار دو چیزوں پر ہے۔ایک توحید، یعنی اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے، اور اس کی ذات و صفات میں کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ دوسری چیز اتباع سنت یعنی ہر معاملہ میں رسول اللہ ﷺ کی بات حرف آخر اور حجت ہے اور آپؐ کے فرمان کے بغیر کسی اور کی بات کو اپنانا او راسے شریعت یا دین سمجھنا گمراہی ہے۔ ہر دور میں ہماری کاوشیں کتاب و سنت کی اشاعت کے لیے وقف رہی ہیں۔اہل حدیث جہاں بھی ہوں، اپنی استطاعت اور حالات کے مطابق اس کام کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سند ھ میں اہل حدیث افراد خاصی تعداد میں موجود ہیں او روہ پوری سرگرمی سے دین کی اشاعت میں مصروف ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی سعید آباد میں ہونے والی تین روزہ سالانہ سیرت کانفرنس ہے، جو گزشتہ پانچ سال سے تنظیم نوجوانان اہل حدیث سعید آباد کے زیر اہتمام منعقد کی جاتی رہی ہے۔ امسال بھی یہ کانفرنس 10 ، 11، 12 ۔ اپریل (بروز جمعہ، ہفتہ، اتوار) منعقد ہورہی ہے جس سے پورے سندھ سے علماء و خطباء حضرات شرکت فرمائیں گے۔ ان شاء اللہ۔ اس کانفرنس کا مقصد سندھ کے علاقے میں توحید کی ترویج اور دینی خطوط پر عوام کے عقائد و اعمال کی اصلاح و تربیت ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں جب بھی اہل حق نے توحید و سنت کی دعوت دی تو ان کی مخالفت ضرور کی گئی۔اس سلسلے میں انبیاء کرام علیہم السلام او ران کے متبعین نے جو تکالیف اٹھائیں، قرآن مجید ان مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔ جماعت اہل حدیث کی تاریخ بھی اسی قسم کے واقعات سے مزین ہے کہ کس طرح دین حق کی اشاعت میں اس جماعت پر تکالیف آئیں او رکیسے کیسے ظلم اس پر ڈھائے گئے۔ ہم نےنہ صرف راہ حق میں پیش آنے والی تکالیف کو ہمیشہ خندہ پیشانی سے قبول کیا ہے، بلککہ ہم تو تمنا ہی یہی رکھتے ہیں کہ یہ جان دین حق کےکام آئے۔ ہماری تاریخ ایسے جیالوں سے بھری پڑی ہے جو حق کی راہ میں جان دیتے ہوئے بھی اس بات کو پیش نظر رکھتے ہیں کہ: ؎

جان دی ، دی ہوئی اس کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

موجودہ دور میں بھی جماعت اہل حدیث کا ہر فرد دین حق کی اشاعت اور کتاب و سنت کے نفاذ کے لیے مصائب و تکالیف برداشت کرنےکے لیے تیار ہے۔ حالیہ واقعہ لاہور میں بھی ہمارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش ہے او رہم نے بڑے صبر و تحمل سے اس میں پورا اترنے کی کوشش کی ہے۔جماعت اہل حدیث کے پرامن مذہبی جلسے میں بم کا دھماکہ جہاں ہماری جماعت کے لیے آزمائش ہے، وہاں پاکستان کے تمام مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ بھی ہے او رہمارے ملک کی تاریخ پرایک بدنما داغ بھی۔ اسلامی ملک میں تو ذمّی کافروں کی جانیں او رمال بھی محفوظ ہوتا ہے۔ اگر وہاں مسلمانوں کی جانیں محفوظ نہ ہوں تو یقیناً یہ باعث شرم او رایک بڑے خطرے کا پیش خیمہ ہے۔ یہ بات صرف جماعت اہل حدیث ہی نہیں بلکہ پاکستان کے تمام مسلمانوں اور پوری دنیائے اسلام کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔ یہ واقعہ ہم سب کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ اگر ہم اب بھی کتاب و سنت پر جمع نہیں ہوتے اور اسے ملک میں نافذ نہیں کرتے تو ایسے واقعات آئے دن ہوتے رہیں گے۔ یہاں اس بات کی وضاحت بھی کردوں کہ اس قسم کی حرکتوں سے تحریک اہل حدیث کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔بلکہ اس قربانی سے ہمارے ایمان میں مزید پختگی آئی ہے اور ہم نے ہرجگہ اپنی جماعت کو یہ تلقین کی ہے کہ صبر اور تحمل سے اس آزمائش میں پورے اتریں۔ اللہ کی طرف رجوع کریں اور کسی بھی قسم کے فساد اور بدامنی سے گریز کریں۔ لاہو رمیں علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کی نماز جنازہ پرجو بدامنی پھیلی، جماعت اہل حدیث اس سے بری الذمہ ہے۔ اسلام ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچایا جائے۔بلکہ یہ حرکت شرپسندوں کی ہے۔

واقعہ لاہو رکی تحقیقات کے سلسلے میں اب تک حکومت نے کوئی قابل ذکر کارکردگی نہیں دکھائی اور جو کچھ حکومت کہتی رہی ہے، وہ ہمارے لیے قابل اطمینان نہیں۔ ہم حکومت سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ مجرموں کا فوری طورپر پر سراغ لگایا جاوے، ان کی پردہ پوشی نہ کی جائے بلکہ انہیں سرعام عبرتناک سزا دی جائے۔

ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اس سانحہ میں شہید ہونے والوں کی مغفرت فرمائے، انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور زخمیوں کو صحت کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے۔ آمین۔