23 مارچ کی رات ظلمتوں کا پیغام لےکر آئی تو 24 مارچ کا سورج خون میں نہاکر نکلا۔ صبح صبح خبر ملی کہ رات اہل حدیث کے جلسہ میں بم کا دھماکہ ہوا، 6۔افراد موقع پر شہید ہوگئے، 100 کے قریب زخمی ہوئے جنہیں میوہسپتال کے ایمر جینسی وارڈ میں داخل کردیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ مولانا حبیب الرحمٰن یزدانی اورعلامہ احسان الٰہی ظہیر کی حالت نازک ہے۔ یہ روح فرسا اور ہولناک خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیلی او رہرطرف کہرام مچ گیا۔

ہسپتال پہنچ کر یوں معلوم ہوا ، گویا قیامت صغریٰ بپا ہے، ایمر جینسی وارڈ اور اس کے قرب و جوار آہوں، سسکیوں اور اشکوں سے معمور تھے۔مجروحین کو دیکھا تو ہرطرف خون ہی خون، زخمی چہرے، کٹے پھٹے لہولہان جسم، کچھ ابدی نیند سوئے ہوئے، کچھ طویل بیہوشیوں کی نذر، کچھ موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا، یہ کوئی معمولی واقعہ تو نہ تھا، جماعت اہلحدیث کی تاریخ کا ہولناک ترین، اندوہناک حادثہ تھا، چنانچہ ہسپتال میں ہرطرف لواحقین، اعزہ و اقرباء اور غمزدگان کے ہجوم نظر آتے تھے۔ہرآنکھ اشک بار ، ہردل بےقرار، ہر سینہ سینہ فگار، ہرلب لب دعاگو ، ہر نقش فریادی اور ہرچہرہ سوالیہ نشان، کہ یہ کس نے آگ لگائی میرے خرمن کو؟ نہ دعائیں کرنے والوں نے کوئی کسر اٹھا رکھی او رنہ دوا کرنے والوں نے، ہسپتال کے عملہ نے بلا شبہ ہمدردیوں کی انتہاء کردی، لیکن رہروان عالم بقاء کو آج تک بھلا کون روک سکا ہے؟ جان ےوالے چلے ہی گئے۔ادھر سہ پہر کومولانا عبدالخالق قدوسی، محمد خان نجیب اور شیخ احسان الحق کے جنازے اٹھے ، ادھر مغرب کے قریب اعلان ہوا، مولانا حبیب الرحمٰن یزدانی بھی چل بسے۔ دوسرے دن کامونکی میں اس مرد آہن کا جنازہ کیا اٹھا، کتاب حیات میں حق گوئی و بے باکی اور صبر و استقامت کا ایک زریں باب ہی ختم ہوگیا۔ ان کی رحلت کے بعد باقی مجروحین کی صحت او رعلامہ احسان الٰہی ظہیر کی جان بچ جانے کی کچھ امید پیدا ہوچلی تھی ، لیکن میدان خطابت کا یہ شہسوار شاید حرم نبویؐ پہنچ جانے ہی کے انتظار میں تھا، یہ پاکستان سے رُخصت کیا ہوا، اس دنیاہی سے رخصت ہوگیا۔یوں جرأت و عزیمت، جوانمردی و دلیری، او رجاں سپاری و سرفروشی کی یہ داستان بھی تمام ہوئی۔ آہ، مولانا عبدالخالق قدوسی، محمد خان نجیب، مولانا حبیب الرحمٰن یزدانی، علامہ احسان الٰہی ظہیر اور دیگر شہداء ، ان کو مرحوم لکھتے وقت کلیجہ منہ کو آتا ہے، دل میں اک ہوک سے اٹھتی ہے، یقین ہی نہیں آتا کہ یہ ہم سے بچھڑ گئے او رجب کبھی اس تلخ حقیقت ک اادراک ہوتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے، گویا زندگی میں کوئی دلچسپی ہی باقی نہ رہ گئی ہو۔ آہ، موت کے بے رحم ہاتھوں نے گلشن حیات سے یہ چند پھول اس بے دردیسے توڑے ہیں کہ پورا گلشن ہی بے رونق ہوکر رہ گیا ہے۔ إنا للہ وإنا إلیه راجعون۔


خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را


.................

 

جماعت اہل حدیث پر قیامتیں بیت گئیں اور رنج و الم کے کوہ گراں ٹوٹ پڑے ہیں۔ یارو، اس سے بڑھ کر ظلم و ستم اور کیا ہوگا کہ جمعیت اہل حدیث کی تقریباً پوری قیادت ہی کو بم سے اڑا دیا گیا ہے۔ لیکن جان و مال کی حفاظت کے ذمہ داران کی ڈھٹائی کی انتہائ دیکھئے۔ اعلان ہوتا ہے، ''ملک میں امن و امان کی مجموعی صورت حال اطمینان بخش ہے۔'' اسے کہتے ہیں، زخموں پر نمک پاشی کرنا۔ رعایا اجڑ جائے، لٹ جائے، برباد ہوجائے، لیکن ان کی کرسی سلامت رہے تو راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ ہاں اگر اس کرسی کو کوئی خطرہ لاحق ہوجائے تو مجرم پاتال سے بھی برآمد کئے جاسکتے ہیں۔ مجرموں کی گرفتاری کے سلسلہ میں پہلے انتہائی متضاد قسم کے غیر ذمہ دارانہ اور مضحکہ خیز بیانات سامنے آتے رہے، یوں جیسے مذاق کیاجارہا ہو۔ تمسخر اڑایا جارہا ہو۔ او راب، ویسے ہی چپ سادھ لی گئی ہے۔ بس دوسرے تیسرے روز زخموں کو ہرا کر نے کے لیے تھوڑی سی نشتر زنی کرلی جاتی ہے۔ اسی کو کہتے ہیں کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹھہری .......! او ریہاں تو کئی جانیں چلی گئیں ، کہ ان میں ایک سے ایک بڑھ کر یگانہ تھا ۔ ایک سے ایک بڑھ کر فرازانہ، ایک سے ایک بڑھ کر در نایاب، اپنی اپنی ذات میں پوری ایک انجمن.......، شاید حکومت کو ابھی تک یہ احساس نہیں ہوسکا کہ جماعت اہل حدیث کا یہ کس قدر عظیم نقصان ہے، بلکہ پوری ملت اسلامیہ کا کتنا بڑا المیہ .......!ایسی منتخب روز گارہستیاں بھلا کہیں روز روز پیدا ہوتی ہیں؟ ہاں ایسے نایاب اور قیمتی لعل و گُہر کسی قوم کو صدیوں بعد میسر آتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ سب علمائے دین تھے، اور ''موت العالم موت العالم'' کےمصداق اچھے کام میں یہ چند شخصیات کا قتل نہیں،پوری دنیائے اسلام کا قتل ہے۔ پھراہل حدیث اس واقعہ کو سردخانے میں ڈالنے کی اجازت کیوں دیں گے؟ چنانچہ پیمانہ، صبر لبریز ہوکر چھلک بھی سکتا ہے، انتقام کا آتش فشاں پھٹ بھی سکتا ہے، لاوا جو پک رہا ہے ، بہہ بھی سکتا ہے۔ لہٰذا مذاق چھوڑ، حکومت کو سنجیدگی سے یہ سوچنا ہوگا اور خود جماعت کا بھی یہ احساس شدید سے شدید تر ہوتا چلا جارہے کہ آخر جماعت اہل حدیث پر ہی یہ ''کرم فرمائیاں '' کیوں ہہیں؟ یہ وہی جماعت ہے کہ اس کے اسلاف نے اس ملک کے لیے بے شمار قربانیاں دیں ہیں، یہ ملک آن واحد میں وجود میں نہیں آگیا تھا اس کی تعمیر و تشکیل، جدوجہد آزادی کی تمام تر اور طویل داستان سے عبارت ہے، جسے تاریخ کے صفحات سے محو نہیں کیا جاسکتا۔یہی تاریخ ہمیں بتلاتی ہے کہ آزادی کی خاطر اس جماعت نے جہاں دارو رسن کی سختیاں جھیلیں اور عبور دریائے شور کی کٹھنائیاں برداشت کی ہیں، وہاں کالے پانیوں تک کے ذائقے بھی اس نے چکھے ہیں۔ پھر اس ملک کی تشکیل کے بعد بھی جماعت کی اس سے وفاداری اور محبت شک و شبہ سے بالاتر رہی ہے۔تحریر تحفظ ختم نبوت ہو یا تحریک نظام مصطفیٰؐ، ہر دور میںاس کے جیالوں نے ہراول دستے کے طور پرکام کیا ہے۔ خود جنرل ضیاء کی حمایت میں بھی اہل حدیث محض اس لیے پیش پیش رہے کہ انہوں نےاپنی آمد آمد کے اعلان کے ساتھ ہی یہاں کتاب و سنت کی حکمرانی کی نوید سنائی تھی۔ پھر آخر کیا وجہ ہے کہ اس ملک پاکستان کا ہر تاریخی حیثیت کا حامل دن، اسی دور حکومت میں، جماعت اہل حدیث کے لیے نت نئے حوادث کا پیغام لے کر آتا ہے، او راس کا کوئی نوٹس بھی نہیں لیا جاتا؟ سب سے پہلے 6 ستمبر (یوم دفاع) کومولانا فیض عالم صدیقی پر قاتلانہ حملہ ہوا، وہ جانبر نہ ہوسکے، لیکن قاتلوں کا آج تک کوئی نام و نشان نہ ملا۔ اس کے بعد 14۔ اگست (یوم آزادی)کومولانا حبیب الرحمٰن یزدانی کو خنجروں سے گھائل کیا گیا، زندگی کے کچھ روز ابھی باقی تھے کہ بچ گئے، ورنہ ظالموں نے جن سے مار دینے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی۔ یہ قاتلانہ حملہ آور آج بھی دندنا رہے ہیں اور اب 23 مارچ کو، جو یوم پاکستان ہے۔ شہر لاہور میں، جو قرار داد پاکستان کا امین ہے۔ مینار پاکستان کے دامنوں میں، جو اس ملک کی آزادی کا نشان ہے، او رجس کے بالکل سامنے اس ملک کی نظریاتی بنیاد کلمہ توحید و رسالت ''لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ'' تحریر ہے، اس کلمہ ہی کا پرچار کرنے والے داعیان توحید و رسالت کو بم سے اڑا دیا گیا اور چشم فلک نے اسی مینار پاکستان کے قرب و جوار میں ان حاملین کتاب و سنت کے جنازے اٹھتے دیکھے ہیں، تو ان مناسبتوں پر غور کرلو، یہ چند افراد کا بہیمانہ قتل ہی نہیں، قرار داد پاکستان سے بھی انحراف ہے۔اس شہر کی آبرو پر بھی حملہ ہے، مینار پاکستان سے بھی تمسخر ہے، اس ملک کی نظریاتی بنیادوں پر بھی تیشہ زنی ہے اور یوں یہ اُس عہد سے بھی عملاً روگردانی ہے کہ جو قیام پاکستان کے وقت ہربچے ، بوڑھے، جوان، مرد وزن نے اپنے خالق و مالک اللہ رب العزت سے کیا تھا کہ:
پاکستان کا مطلب کیا؟
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

اور اس عہد کی پاسداری ہی اس جماعت کا مشن ہے، لہٰذا یہ حرکت جس شقی القلب نے کی ہے، یہ ستم جو درندہ صفت نے ڈھایاہے، یہ خون جس انسانی بھیڑیئے نے بہایا ہے، نہ صر ف یہ کہ شہداء کے قتل اور مجروحین پر ظلم کا وبال اس کی گردن پر ہے بلکہ وہ پوری جماعت اہل حدیث او راس کے مشن کا بھی قاتل ہے او رمذکورہ بالا تمام جرائم بھی اس پر لاگو ہوتے ہیں۔ اس لیے حکومت کو جہاں جماعت اہل حدیث پراس ظلم و ستم کے ازالہ کے لیے مجرموں کو گرفتار کرکے، اسی مینار پاکستان کے نیچے، جہاں سے یہ جنازے اٹھے ہیں، جلد از جلد تختہ دار پر لٹکانا ہوگا، وہاں اس ملک کی نظریاتی بنیادوں پر حملہ آور ہونے کے جرم او راس کے قیام کے وقت اللہ رب العزت سے کئے گئے عہد وپیمان کی توہین کے ازالہ کے لیے اس ملک میں کتاب وسنت کی حکمرانی بھی قائم کرنا ہوگی، نہ صرف اسی صورت میں وہ اپنی ذمہ داریوں سےعہد برآ ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر اس نے اپنے فرائض سے کوتاہی برتی، مجرم کیفر کردار کو نہ پہنچے او ربدستور یہاں ظلم و بربریت اور فساد و الحاد کی حکمرانی رہی تو وہ خود بھی ان جرائم میں برابر کی شریک ہوگی۔ چنانچہ قیامت جو بیت گئی سو بیت گئی، اب اسے یا تو اس قیامت کا انتظار کرنا ہوگا کہ جو اللہ رب العزت سے کئے گئے عہد و پیمان سے انحراف کرنے والی قوموں کا اس دنیا میں مقدر بن جایاکرتی ہے، اور یا پھر اس قیامت کا کہ جو بہر حال آنے والی ہے۔ جس میں ہر شخص کو احکم الحاکمین کی عدالت میں کھڑے ہوکر اپنے اپنے اعمال کی جواب دہی کرنا ہوگی او رمجرموں سے پورا پورا بدلہ لیا جائے گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنَّا مِنَ ٱلْمُجْرِ‌مِينَ مُنتَقِمُونَ ﴿٢٢...سورۃ السجدہ
''(عنقریب) ہم مجرموں سے (بھرپور) انتقام لینے والے ہیں۔''

آج حالات کی ستم ظریفی سے جماعت اہلحدیث سے بڑھکر کون واقف ہوگا؟ ملت کا قافلہ جس ڈگر پہ چل نکلا ہے، اس کی ہولناکیوں کا اندازہ اس سے بڑھ کر او رکون کرسکتا ہے؟ کتاب وسنت سے اعراض کے ساتھ ساتھ حاملین کتاب و سنت سے یہ سلوک؟ ذرا سوچئے کہ کس بات کی طرف واضح اشارہ او رکن عزائم کی نشاندہی کرتا ہے؟ اعدائے اسلام نے کیا اپنے طرز عمل سے خود یہ ثابت نہیں کردیا کہ کتاب وسنت اور توحید و رسالت کی واحد پاسبان یہی جماعت اہل حدیث ہے او رجب تک یہ موجود ہے وہ اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہ ہوسکیں گے؟ تو پھر ہمارے یہ ہیرے جو خاک و خون میں تڑپے ہیں، راہ حق میں اپنی جانیں نچھاور کرکے سرخرو ہوئے ہیں، ان کی شہادت کے بعد ہمارا کام ختم نہیں ہوگیا، بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ ذمہ داریاں ہم پر آن پڑی ہیں او رہمیں پہلے سے کہیں زیادہ جدوجہد کرنا ہوگی۔ گویا:


آگ ہے، اولاد ابراہیمؑ ہے، نمرود ہے
کیا پھر کسی کو، پھر کسی کا امتحان مقصود ہے

اعلائے کلمة اللہ، کتاب و سنت کی عمل داری، شرک و بدعت کا قلع قمع او رالحاد و بے راہ روی کی بیخ کنی ، ہمارا وہ مقدس مشن ہے کہ جس کی تکمیل کے لیے ہمیں نہ صر ف اپنے حصے کا کام نپٹانا ہے، بلکہ ان کے حصے کا بھی کہ جو اس راہ میں اپنی جانوں کانذرانہ پیش کرچکے او رانہیں مزید وقت نہ مل سکا۔ پھر اس ظلم و بربریت او ربہیمیت و درنگی کا بدلہ بھی ہمیں چکانا ہے، لیکن یہ سب کچھ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم اپنی صفوں میں مکمل اتحاد پیدا کریں، کوئی رخنہ باقی نہ رہنے دیں اور دھڑے بندیوں کے چنگل سے آزاد ہوکر ایک منظم قوت کی حیثیت اختیار کرلیں۔ اس کسان کی کہانی بڑی سادہ مگر بڑی سبق آموز ہے جس نےمرتے وقت اپنے ہر دم لڑنے جھگڑنے والے بیٹوں کو لکڑی کی چند تیلیاں توڑنے کے لیے دی تھیں او رایک ایک کرکے یہ ساری تیلیاں انہوں نے توڑ ڈالی تھیں۔ لیکن جب ایسی ہی تیلیوں کا ایک مٹھا اس نے انہیں توڑنے کے لیے دیا، تو جہاں کسان کا مقصد پورا ہوگیا، وہاں یہ بیٹے بھی انہیں توڑنے میں ناکام رہ کر اتحاد و اتفاق کی برکت کے قائل ہوگئے تھے۔ یاد رکھئے، یہ تیلیاں اگر یونہی منتشر رہیں تو خدانخواستہ ایک ایک کرکے ایکے بعد دیگرے، ٹوٹتی ہی چلی جائیں گی۔ہاں اگران کی سلامتی آپ کو عزیز ہے او ریقیناً عزیز ہونی بھی چاہیے، تو ''اعتصام بحبل اللہ'' کے ذریعے انہیں ''عروة وثقیٰ'' کی شکل دے دینا ہی وقت کا شدید ترین تقاضا ہے۔ مومن کی تو مثال ہی جسد واحد کی سی ہے، کہ اگر اس کے کسی ایک حصہ کو تکلیف ہو تو پورا جسم بےقرار رہتا ہے۔پھر کس قدر احمق ہے وہ انسان، کہ جس کےجسم کے ایک حصہ کو گزند پہنچے، تو وہ اسے کاٹ کر ہی پھینک دے؟ پس اگر کتاب و سنت پر ہمارا ایمانہے، اگر ہم صحیح معنوں میں مومن ہیں، تو اتحاد و اتفاق کے سلسلے میں اللہ او راس کے رسول ﷺ کی تعلیمات ہمیں بس کرتی ہیں۔ تو پھر کیا یہ ممکن نہیں کہ جماعت اہلحدیث کے زُعما، علمائے کرام اور درمند اصحاب دل مل بیٹھیں اور آئندہ کے لیے باہم شیر و شکر ہونےکا فیصلہ کرڈالیں؟ اگرایسا ہوگیا تو زہے نصیب، چنانچہ یہی وہ واحد صوت ہے کہ جس سے نہ صرف جماعت اہل حدیث کو پہنچنے والے اس تازہ زخم اور پرانے زخموں کو بھی کس حد تک مندمل کیا جاسکتا ہے، بلکہ یہی اس کے مشن کی تکمیل کی ضمانت بھی ہے۔ لہٰذا من حیث الجماعت او رمن حیث العقائد بھی، اس کی سلامتی کی واحد راہ اتفاق و اتحاد ہے۔ لیکن خدانخواستہ اگر ایسا نہ ہوسکا او راہل حدیثو! یہ اتنا بڑا حادثہ بھی تمہیں متفق و متحد نہ کرسکا تو یقین کرلینا کہ یہ حادثہ اس حادثہ سے کہیں بڑا ہوگا کہ جماعت حال ہی میں جس کا شکار ہوئی ہے، او رشاید یہ اس دور کا بھی سب سے بڑا المیہ ہوگا۔

العیاذ باللہ........ اللہم وفقنا لما تحب و ترضیٰ..........وما علینا الا البلاغ۔