میں نے ''شاہنامہ بالاکوٹ'' شروع سے آخر سے آخر تک پڑھ ڈالا ہے۔ مجھے سب سے زیادہ جس چیز نے متاثر کیا، وہ اس کا عنوان ہے۔مصنف نےایسے لوگوں کو یاد کیا ہے جس کا حق بہت زیادہ فائق تھا اور جن کی طرف سے ہمارے تمام شعراء دانستہ یا نادانستہ مجرمانہ چشم پوشی کررہےتھے۔بالاکوٹ کے یہ باعزیمت جانباز مجاہد اگر یاد آوری اور فخر کے قابل نہیں تو پھر کون لوگ ہوسکتے ہیں؟ یہ تحریک بھی اپے عوامل و عواقب کے لحاظ سے صرف ہندوستان تک ہی محدود نہیں تھی، بلکہ اس کے اثرات عالمگیر اصلاحی حیثیت کے حامل ہیں۔وہ پاکیزہ لہو، جو بالاکوٹ کی سرزمین پر بہایا گیا، اور آج بھی باعزیمت، اہل ایمان کی رگوں میں حرارت پیدا کررہا ہے، رائیگاں نہیں گیا۔ سید علی میاں ندوی نے مقدمہ میں بجا ارشاد فرمایا ہے کہ''اپنی ہمہ گیری، مقاصد کی کثرت، وسعت اور ان کی صحت، سلامت فکرونظر، حمایت دینی اور حمیت ملی، جذبہ جہاد و اجتہاد، شریعت کے نفاذ اور اتباع و احیائے سنت کے ناقابل تسخیر جذبے نیز اسلامی نظام کے قیام کے مسلسل اقدام او رمسلمانوں کی عظمت رفتہ کی بحالی کے لحاظ سے یہ تحریک اس قابل ہے کہ بے اختیار یہ مصرعہ زبان پر آجاتا ہے ۔ع


''ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاکستر میں تھی''


سید صاحب نے ایک روحانی، اخلاقی، اسلامی نظام قائم کرنے کے لیے اپنے پاکیزہ خون کا ایک ایک قطرہ بہا دیا۔ غالب نے غالباً انہی کیلیے کہا تھا۔


ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب
خون جگر ودیعت مژگان یار تھا



دوسری طرف سید صاحب کی تنظیمی صلاحیتوں پر نظر ڈالیں تو حیرت ہوتی ہے کہ انہوں نے اتنی قلیل مدت میں ایک ایسی جماعت قائم کردی جوکہ اپنے ایمان اور اعمال صالحہ کے لحاظ سے اسلاف کا نمونہ بن کر ابھری تھی۔ یکرنگ و ہمرنگ، شریعت کی شیدائی، سنت کی فدائی، شرک و بدعت کی جانی دشمن، جذبہ جہاد کی متوالی، عابد و زاہد ، تنظیم کے مقاصد سے سرموانحراف نہ کرنے والی، ایسی پاکیزہ او رہمہ صفت موصوف جماعت بلا شبہ اس قابل ہے کہ اسے خراج تحسین پیش کیا جائے۔

دوسری بڑی خصو صیت اس شاہنامے کی یہ محسوس ہوئی کہ اس کو خوبصورت شعری پیراہن میں سجا کر پیش کیا گیا ہے۔ شعر کی تاثیر سے آج تک کسی نے انکار نہیں کیا اورنہ انکار ممکن ہی ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے جسے سب تسلیم کرتے ہیں۔ اُردو میں رزمیہ شاعری مرثیہ نگاری تک محدود رہی، اسے میر انیس او رمرز دبیر نے کمال کو پہنچایا۔ اس میں شک نہیں کہ مرثیے میں قصیدہ، رثا اور تاریخ کا حصہ بھی شامل رہا، لیکن رثائی رنگ اوررجز بہت حاوی رہا۔ وصف نگاری زیادہ تر بالواسطہ رہی۔ تاریخی پہلو تو بہت کمزور رہا، بلکہ اسے ڈانڈے دیومالائی کوائف سے ملا دیئے گئے۔مرثئے کے علاوہ رزم نگاری میں حفیظ جالندھری مرحوم کا ''شاہنامہ اسلام'' یقیناً ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، بقول سید علی میاں کے:
''اپنی تاریخیت، موضوع کی اہمیت، دائرہ کار کی وسعت ، جذبات کی فراوانی، تخیل کی جولانی، زبان و بیان پر قدرت او رشاعرانہ محاسن کے سبب نصف صدی تک اس نے لوگوں کو برابر متاثر کیا او راب بھی اس کی تاثیر مسلم اور عظمت مستحکم ہے۔''

جناب علیم ناصری نے بھی فردوسی او رحفیظ جالندھیر کے متبع میں''شاہنامہ بالاکوٹ'' لکھ کر شعر کے ذریعے سے ملت و عقیدت کی ایک بڑی خدمت سرانجام دی ہے۔ ہمیں اس شاہنامے پر اظہار خیال کے سلسلہ میں اس با ت کا خیال رکھنا ہوگا کہ حفیظ صاحب کا موضوع بہت وسیع اور مقدس ہے۔ انہیں بڑا زبردست اعتقادی او رجذباتی پس منظر شعر میں استعمال کرنے کے لیے ملا ہے۔ اس لیے اس میں خیال آرائی کے لیے اور جذبات انگیزی کے لیے بھی اس کے پاس بڑا وسیع میدان ہے۔ لیکن ناصری صاحب کو نسبتاً محدود و موضوع پر لکھنا پڑا ہے۔ اسی نسبت سے اظہار جذبات میں بھی بڑی احتیاط کی ضرورت پڑی ہے او راس احتیاط نے تخیل کی بلند پروازی کے پروں کو کافی حد تک کمزور کردیاہے، لیکن زبان و بیان کی دلکشی، فنی آداب کے حسن، شاعرانہ بلند آہنگی کے تیور میں آپ نے کہیں کمی نہیں آنے دی۔

قصیدہ :
مطالعہ کی سہولت کے لیے''شاہنامہ بالاکوٹ'' کو کئی جہتوں سے دیکھا جاسکتا ہے مثلاَ قصیدہ ، رزم، تاریخ، پند و موعظت، طرز ادا یا ابلاغ وغیرہ۔ چنانچہ ان عنوانات کے لحاظ سے ہم اس کا الگ الگ مختصراً جائزہ لیں گے۔ اگر ہم قصیدے کےزاویہ نظر سے دیکھیں تو ہم محسوس کریں گے کہ اس میں قصیدے کی شان پوری آب و تاب سے جلوہ فگن ہے۔ قصیدے کے عام اجزاء میں وصف نگاری، عظمت ابلاغ، پرشکوہ الفاظ و تراکیب، قدر افزائی میں شاعرانہ مبالغہ ، ممدوح کا دوسرے بڑے لوگوں سے تقابل وغیرہ شامل ہیں۔شاہنامہ بالا کوٹ میں یہ تمام اجزاء توازن او راعتدال کے ساتھ موجود ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس نظم میں مبالغے کو غلو اور اغراق تک لے جانے کا تو موقع تھا نہیں، اس لیے شاعر نے کسی جگہ اعتدال و توازن کو ہاتھ سے نہیں جانے دیاہے۔ میں ان اجزاء میں سے ہر ایک کا علیحدہ علیحدہ تو جائزہ لے نہیں سکتا کہ یہ تو ایک مفصل اور طویل تبصرہ ہوجائے گا، جس کی یہاں نہ ضرورت ہے نہ موقع، صرف وصف نگاری کے چند اشعار نمونےکے طور پر پیش کردیتا ہوں: ؎

ہواہے نور سے معمور ایسے گنبد خضر
کہ حیرت جس سے طاری ہے فرشتوں کی نگاہوں پر

بیاں کیونکر کروں میں قافلہ سالار کی خوبی
قلم کیسے لکھے اس صاحب کردار کے ......... جوہر

وہ عالی طبع، عاقل بھی ہے، فاضل بھی ہے، راحم بھی
وہ زاہد، متقی، صابر، شباہت میں بھی خوش منظر

نہیں ہے اس کا ثانی ترک و تجرید و توکل میں
نہیں ہے حلم اور خلق و دیانت میں کوئی ہمسر

حیاء و لطف کا معدن، سخاو جود کا مجمع
وہ مخزن عفت و الفت کا ظاہر وضع میں احقر


رزم :
اگر رزم کی حیثیت سے دیکھیں تو رزم کے تمام لوازم اس میں نہایت خوبی سے برتے گئے ہیں۔ مثلاً مجاہدین کی صف آرائی، دشمنوں کی طرف پیش قدمی، اسلحہ کی نوعیت او ران کا استعمال، شب خون مارنے کی تفاصیل، سرفروشی و جاں سپاری کے جذبات، ان کا عملی مظاہرہ او رمصائب کے ہجوم میں صبر و ثبات وغیرہ۔مثلاً ''معرکہ اکوڑہ خٹک'' میں طریق جنگ کا فیصلہ: ؎


خبر پہنچی کہ دشمن دس ہزار افراد رکھتا ہے
وہ توپیں او ربندوقیں بھی لاتعداد رکھتا ہے

ادھر اسلام کے جانباز مٹھی بھر سپاہی تھے
نفو س پاک تھے سرشار تائیدالٰہی تھے

یہ پہلا معرکہ تھا امتحاں جوش و شہامت کا
ترازو تھا یہی ان کے ثبات و استقامت کا

شہ والا نے اپنی مجلس شوریٰ کو بلوایا
طریق جنگ کے سب پہلوؤں پرغور فرمایا

یہ طے پایاکہ اک ٹولیکو دریا پار اتاریں گے
عدو پر رات کے پچھلے پہر شبخون ماریں گے

اب آپ شبخون کے بیان میں جزئی تفاصیل، جنگ کی نفسیات او رہنگامہ خیزی کوملاحظہ فرمائیں اور ساتھ ہی ساتھ شاعر کی قدرت زبان و بیان کابھی اندازہ کرتے چلے جائیں: ؎


سنی گھڑیال کی ٹن ٹن سکون افزا فضاؤں نے
بجائیں سہ پہر پر تین گھڑیال خالصاؤں نے

اچانک نعرہ تکبیر سے ساری فضا گونجی
مجاہد غازیوں کی کوہساروں میں صدا گونجی

یکایک پھاند کر سنگھروہ لشکر گاہ میں کودے
یہ سب جانباز میدان سبیل اللہ میں کودے

وہ شیروں کی طرح جھپٹے مسلح پاسبانوں پر
لیا لمحوں میں ان کی اپنی سنگینوں سنانوں پر

تڑا تڑ گولیں چلنے لگیں شب کے اندھیروں میں
سرآسیمہ تھے دشمن گئے تھے سخت گھیرے میں

طنابیں کٹ رہی تھیں او رخیمے گرتے جاتے تھے
مجاہد رزم گہ میں برق بن کر پھرتے جاتے تھے

تاریخ:
تاریخ کے لحاظ سے اگرہم ''شاہنامہ بالا کوٹ'' پرنظر ڈالیں تو ہمیں یہ ایک مستند منظوم تاریخ جہاد معلوم ہوتی ہے۔باوجود شاعرانہ انداز بیان کے کوئی واقعہ تاریخ کے خلاف نہیں لکھا گیا۔ اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ شاعر نے ان کتابوں کا حوالہ دے دیا ہے جہاں سے یہ واقعات اخذ کئے گئے ہیں اور وہ تمام کتابیں موضوع زیر نظر پرمستند خیال کی جاتی ہیں۔مثلاًشیخ محمد اکرام کی کتاب ''موج کوثر'' اس موضوع پرایک سند کادرجہ رکھتی ہے۔ اس کے بعد مرزا حیرت دہلوی کی کتاب ''حیات طیبہ'' کا ذکر مصنف نے اپنے ایک ماخذ کے طور پر کیا ہے او ریہ کتاب آج بھی اس موضوع پرسند کا درجہ رکھتی ہے۔ تیسری اہم کتاب ''سید احمد شہید'' تصنیف مولانا غلام رسول مہر کی ہے۔ مولانا اپنے دور کے بڑے مستند تاریخ دان شمار کیے جاتے تھے اور انہوں نے کئی تصانیف یادگار چھوڑی ہیں۔ ان کی یہ تصنیف بھی نہایت معتبر خیال کی جاتی ہے۔ اس کے بعد مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کی کتاب''سیرت سید احمد شہید'' ہے جوغالباً اس موضوع پر واقعات کے لحاظ سے مستند اور طرز بیان کے لحاظ سے نہایت بلند پایہ ہے۔ ان تمام مآخذ سے بآسانی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ تاریخی واقعات کے نقل کرنے میں مصنف نے کس قدر حزم و احتیاط او رکاوش سے کام لیا ہے، نری شاعری کے زور پرکتاب تصنیف نہیں کر ڈالی۔

پند وموعظت :
''شاہنامہ بالا کوٹ'' میں صرف وصف نگاری یا تاریخ نویسی ہی نہیں بلکہ پندو موعظت او راخلاق آموزی کے اجزاء بھی ہرجگہ موجود ہیں۔ ان میں عزیمت کا درجہ سب سے زیادہ بلن دہے اس کے بعد ایمان و ایقان ، جرات و بیباکی، شوق شہادت و جاں سپاری، صبر و توکل، توحید و رسالت سے شغف، بلکہ حب الٰہی و حب رسولؐ کا مظاہرہ ، ایثار و قربانی کا جذبہ، حوصلی مندی او رقوت برداشت کی صفات ہیں۔مضمون کا تقاضا تو یہ تھا کہ ان میں سے ہر ایک کے بارے میں علیحدہ علیحدہ مثالی اشعار پیش کرکے اپنے دعوے کی دلیل مہیا کرتا، لیکن اتنی طوالت اس مضمون کے کینوس سے باہر ہے۔ یہ کوئی تفصیلی تبصرہ یا تنقید جائزہ نہی\ں ہے۔ اس لیے صرف اخلاقی اور ایمان افروز چند اشعار دعوے کی دلیل کے طور پرپیش کردیتا ہوں اور عرض کرتا ہو ں کہ:
''قیاس کن زگلستان من بہارمرا''

''مقام عزیمت'' کے چند اشعار پیش کرتا ہوں، ان سے کچھ مجاہدین کے عزم و ارادے کی صلابت کا اندازہ ہوگا: ؎


کئی نادان کہتے تھے کہ یہ ناکام کوشش ہے
یہ قبل از وقت ہنگامہ ہے بالکل خام کوشش ہے

وسائل کی کمی ہے فوج کی تعداد بھی کم ہے
امامت کے لیے سید میں استعداد بھی کم ہے

نہیں ہے اسلحہ کافی رسد ہے او رنہ دولت ہے
حکومت کے مقابل جاہ و شوکت ہے نہ صولت ہے

یہ عقل مصلحت اندیش کی تھی فتنہ سامانی
کہ فطرت میں ودیعت اس کو ہوتی ہے تن آسانی

جنہیں راہ خدا میں جان دینا بار ہوتا ہے
زباں سے ان کی ان الفاظ کا اظہار ہوتا ہے

غلط اندیشیاں انسان کو بزدل بناتی ہیں
عمل سے دور تر رہنے کو تاویلیں سکھاتی ہیں

خطر کو عشق خاطر میں مگر لایا نہیں کرتا
فروفال شہنشاہی سے گھبرایا نہیں کرتا

''ناکامی یا کامرانی'' کے چند اشعار پیش کرتا ہوں۔ شاعر کی حق پسندی، سچائی کی بلند آہنگی، للّٰہیت کے تیکھے تیور، ایثار پسندی، خلوص کی تابناکی لائق توجہ ہے۔ پھر زبان و بیان پر قدرت، تشبیہ و محاورات کی دلکشی، سوز و ساز کی ہم آہنگی، رجز و تغزل کا امتزاج ہر شعر میں دامن کشی کررہا ہے۔ ان اشعار میں سب سے بڑی خوبی آپ کو رجزیہ آہنگ میں تغزل کی لطافت کی آمیزش نظر آئے گی۔ یہ دھنگ رنگ کی کیفیت اکثر عنوانات کے تحت دیکھنے میں آتی ہے۔ اس سے تاثیر کلام میں بڑا اضافہ ہوگیا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ تغزل تاثیر کی جان ہے۔ یہ خمار چشم ساقی کی آمیزش ہے، جو ایک سرمدی کیفیت پیداکردیتی ہے۔ ایسے خشک موضوع میں یہ سرمدی کیف پیدا کردینا شاعر کا سب سے بڑا کمال ہے۔ تغزل آفرینی کے لحاظ سے ہی آپ ملاحظہ فرمائیں گے کہ عبارت میں سادگی و پرکاری، تراکیب میں نرم و نازک شاخوں کی لچک، پھولوں کی سی بھینی بھینی خوشبو موجود ہے، قاری محسوس کرتا ہے کہ رجزیہ نظم نہیں، ایک لطیف سوز و ساز سے پرغزل کا مطالعہ کررہا ہے۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں: ؎


یہ تحریک جہاد حق اگر ناکام ہوجاتی
تو ارض ہند میں رسوائی اسلام ہوجاتی

ہماراگلشن ملت اجڑ کر رہ گیاہوگا
اثاثہ دین کا سیل بلا میں بہ گیا ہوتا

شہیدوں نے لہو دے دے کے سینچا باغ ملت کا
مبارک خون سے وہ دھوگئے ہر داغ ملت کا

خدا والوں نے دے دیااپنے مال و جاں کی قربانی
او راپنے جانشینوں کو عطا کی روح ایمانی

مدار اعمال کا ہوتا ہے مبنی حسن نیت پر
عمل اخلاص والوں کا تھا اخلاص حمیت پر

انہوں نے سنت محبوبؐ کا کھولا تھا دروازہ
جہاد و سرفروشی کا کیاتھا ولولہ تازہ

چراغ حریت جلتا رہا تاریخ راہوں میں
معین ہوگئی منزل مسلماں کی نگاہوں میں

شہیدوں کا لہو جو ارض بالاکوٹ میں ٹپکا
کئے اس نے زمین ہند میں لعل و گہر پیدا

طرز ِادایا ابلاغ :
آخر میں چند الفاظ علیم ناصری صاحب کے طرز ادا کے بارے میں بھی عرض کردینا ضروری خیال کرتا ہوں۔طرز ہر صاحب ریاض شاعر اور ادیب کا اپنا علیحدہ ہوتا ہے۔ ایسے ہی ادیب و شاعر کو صاحب طرز کا لقب دیا جاتا ہے۔ صرف پیروی کرنے والا اور دوسروں کے نقش قدم پر چلنے والا شاعر کم از کم صاحب طرز نہیں کہلا سکتا۔طرز شاعر کاتشخص ہوتاہے۔ اس کی پہچان ہوتاہے۔ اسکی انفرادیت کا مظہر ہوتا ہے۔علیم صاحب نے بھی اپنے طرز ابلاغ میں اپنا ایک خاصرنگ و آہنگ پیدا کرنے کی کوشش کیہے۔ یہ رنگ ڈاکٹر سیدعبداللہ صاحب کے الفاظ میں کچھ اس طرح سے ابھرتا ہے:
''مبالغے سے پاک محض واقعہ نگاری ہے جس کا ہر ہر لفظ ایمان و ایقان میں لپٹا ہوا ہے او رجذبہ جہاد میں ملفوف ہے۔کئی موقعے ایسےبھی تھے کہ جن میں شاعر، بیان آرائی سے کام لے سکتا تھا لیکن اس نے سادہ نگاری ہی کو اپنا شعار بنایا۔ زبان پر غیرمعمولی قدرت کی وجہ سے کوئی لفظ بے جا او ربے معنی استعمال نہیں ہوا۔''

اس محاکمے سے یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ علیم صاحب کے طرز میں سادگی، سچائی، خلوص اور واقعیت نگاری طرہ امتیاز کی حیثیت سے نمایاں ہیں۔مولانا سیدابوالحسن ندوی صاحب نے علیم صاحب کےطرز ادا کے یہ اجزائے ترکیبی نمایاں کئے ہیں:

''فن آداب کی رعایت اور شاعرانہ محاسن کے لحاظ سے وہ حفیظ کے جانشین کہلانے کے مستحق ہیں۔ علیم صاحب کے یہاں زبان و بیان میں بڑی سادگی، شگفتگی، طرز ادا میں دلکشی و لکشائی، جزئیات کا احاطہ ، موضوع کے ساتھ خلوص بلکہ جذباتی لگاؤ اور فن کے ظاہری و باطنی محاسن نے ان کے ''شاہنامہ بالا کوٹ میں عصر حاضر کے ایک اچھے رزمیہ کی شان پیدا کردی ہے، جس کو پڑھتے ہوئے آنکھیں بھی نم ہوتی ہیں اور دل میں حرکت و حرارت بھی محسوس ہوتی ہے، او ریہ کسی ادبی شاہکار کی کامیابی کی ایک بڑی دلیل اورکھلا ثبوت ہے۔''

اب میرے خیال سے ڈاکٹر صاحب اور علی میاں کے ان پُرمغز تبصروں کے بعد میرا کام صرف یہ رہ جاتا ہے کہ چند اشعار زبان و بیان کی خوبی کے آپ کے سامنے پیش کردوں، تاکہ دعویٰ بغیر دلیل کے نہ رہے او رقارئین کی دل شگفتگی کا بھی کچھ سامان مہیا ہوجائے۔

حمد کے چند اشعار :

خدائے لم یزل مختار و مالک ہے جہانوں کا
وہی ہے صانع مطلق زمینوں آسمانوں کا

پرے ہے سرحد ادراک انسانی سے ذات اس کی
عیاں ہیں ذرے ذرے پتے پتے سے صفات اس کی

گھٹا بن کر اگر ابر بہاری گھر کے آتا ہے
تو اس کی رحمتوں کا ایک نیک پیغام لاتا ہے

چمک اٹھتی ہیں شب کی وادیاں مہتاب کی ضو سے
شبستانوں میں ہوتا ہے اجالا اس کے پرتو سے



نعت کے چند اشعار :

لب عاصی پہ میرے سرور عالمؐ کا نام آیا
سنبھل جا اے دل ناداں بہت نازک مقام آیا

محمد مصطفیٰؐ، نورالہٰدی، محبوب سبحانی
سراپا حلم و شفقت، باعث افضال ربانی

وہ جس کی عظمتوں کے غلغلے ہیں آسمانوں میں
وہ جس کے ذکر کی رفعت کے چرچے ہیں جہانو\ں میں

وہ جس کے چشمے زمانے بھر میں جاری ہیں
ہدایت کی مصفیٰ ندیاں گھر گھر میں جاری ہیں



میرے خیال میں علیم صاحب کی شاعری کے محاسن کا سرسری اندازہ کرنے کے لیے میری مندرجہ بالا گزارشات کافی ہیں، کوئی صاحب صل اور باذوق دوست تبصرے کا پورا حق بھی ادا کردیں گے۔