ملّا علی قاری حنفی (م1014ھ)نے حدیث ''أَنَا مَدِینَةُ العِلمِ وَعَلي بَابُھَا'' کو اپنی''موضوعات کبیر''میں ذکر کیا ہے، آپ فرماتے ہیں:
''اسے ترمذی نے اپنی جامع میں نقل کرکے لکھا ہے ، یہ حدیث منکر ہے۔'' سخاوی کہتے ہیں: '' اس کی صحت کی کوئی وجہ موجود نہیں۔'' یحییٰ بن معین فرماتے ہیں، ''یہ بالکل جھوٹ ہے، اس کی کوئی اصل نہیں۔'' ابوحاتم اور یحییٰ بن سعید القطان کی بھی یہی رائے ہے۔ ابن الجوزی نے اسے موضوعات میں نقل کیا ہے۔ ذہبی وغیرہ نے اسے موقوف قرار دیاہے۔ ابن دقیق العید کہتے ہیں: ''یہ حدیث ثابت نہیں او ریہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ باطل ہے........ الخ''1

یہاں ملّا علی قاری حنفی کو تھوڑا سا سہو ہوا ہے۔ امام ترمذی کی جامع کے کتاب المناقب میں جوروایت موجود ہے، اس کے الفاظ ''أَنَا مَدِینَةُ العِلمِ وَعَلي بَابُھَا''نہیں، بلکہ ''أَنَا دارالحکمة وَعَلي بَابُھَا'' کو ہیں۔''2

شارح ترمذی علامہ ابن عربی فرماتے ہیں کہ :
''امام ترمذی نے اس روایت پر ''غریب منکر'' ہونے کا حکم لگایا ہے۔ اس کی اسناد میں ''صنابحی'' کےساتھ ''شریک'' بھی موجود ہے، لیکن جس حدیث کو ''صنابحی'' کے بغیر صرف ''شریک'' سے روایت کیا جاتا ہے، اس کی اسناد میں غیر ثقہ راوی موجود ہیں۔''3

علامہ عبدالرحمٰن بن علی بن محمدابن عمر الشیبانی (م944ھ) اس حدیث کےمتعلق فرماتے ہیں:
''امام ترمذی نے حکم لگایا ہےکہ یہ روایت ''منکر'' ہے، ایسا ہی امام بخاری سے بھی منقول ہے۔ آپ فرماتے ہیں: اس کی صحت کی کوئی وجہ موجود نہیں ہے۔ ابن معین کا قول ہے کہ یہ کذب ہے، اس کی کوئی اصل نہیں ہے، امام ابن الجوزی نے اسے ''کتاب الموضوعات' 'میں بیان کیا ہے۔امام ذہبی وغیرہ امام ابن الجوزی کی رائے سے اتفاق کیا او راسے موقوف قرار دیا ہے۔ ابن دقیق العید کا قول ہے: یہ حدیث ثابت نہیں ہے اور لوگ بیان کرتے ہیں کہ یہ باطل ہے۔''4

حافظ شمس الدین ابو خیر محمد بن عبدالرحمٰن السخاوی (م902ھ) فرماتے ہیں:
''دارقطنی نے ''العلل'' میں اس کی بعض روایات پر تعقب کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ حدیث مضطرب اور غیر ثابت ہے۔ ترمذی کا قول ہے کہ یہ منکر ہے او راسی طرح امام بخاری سے بھی منقول ہے، آپ فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی وجہ موجود نہیں ہے۔ ابن معین نے اس روایت کے متعلق ، جسے خطیب بغدادی نے تاریخ بغداد میں بیان کیا ہے، فرمایا کہ یہ کذب ہے اور اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ امام ابن الجوزی نے اس کو موضوعات میں ذکر کیاہے اور ذہبی وغیرہ نے اسے موقوف قرا ردیاہے۔ ابن دقیق العید کاقول ہے کہ یہ حدیث پایہ ثبوت تک نہیں پہنچتی یہ بھی کہا جاتاہے کہ یہ باطل ہے۔ الخ'' 5

استاذ عبدالرحمٰن بن یحییٰ المعلمی الیمانی فرماتے ہیں کہ:
''اس خبر کے تمام طرق بلا نزاع ساقط ہیں۔'' 6

اس روایت پر کی گئی مندرجہ بالا جرح و تنقید پر بعض علماء و محدثین کرام کی طرف سے جو اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، ان کا جائزہ ذیل میں پیش کیا جاتا ہے:

علامہ شوکانی فرماتے ہیں کہ:
''محمد بن جعفر البغدادی کو یحییٰ بن معین نے ثقہ بتایا ہے، 'أبا الصلت الهروي' کو ابن معین او رحاکم نے ثقہ قرار دیا ہے او رجب یحییٰ سے اس حدیث کے متعلق دریافت کیا تو فرمایاکہ صحیح ہے۔ امام ترمذی نے اس کی تخریج حضرت علیؓ سے مرفوعاً کی ہے۔ حاکم نے اسے اپنی مستدرک میں حضرت ابن عباسؓ سے مرفوعاً روایت کیا او رکہا کہ یہ روایت صحیح الاسناد ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:سچ بات تو ان تمام اقوال (یعنی ابن الجوزی او رحاکم کے اقوال) کے خلاف ہے، یعنی یہ حدیث ''حسن'' ہے ، ''صحت'' کے درجہ تک نہیں پہنچتی لیکن اسے ''کذب '' تک پہنچانا بھی درست نہیں ہے۔انتہیٰ۔ اور یہی بات سچ ہے کیونکہ یحییٰ بن معین او رحاکم نے 'أبي الصلت' او راس کے متبعین کی توثیق کی ہے۔ چنانچہ اس روایت کی مخالفت صحیح نہیں ہوسکتی۔ فی الواقع یہ ''حسن''۔اس کے بہت طرُق ہیں جن کو امام جلال الدین السیوطی نے ''اللآلي'' میں بیان کیا ہے۔'' 7

حافظ ابوالفیض نے اس روایت کے بہت سے طرُق کونہایت قومی بلکہ حد درجہ صحیح قرار دیا ہے۔8

علامہ سخاوی فرماتے ہیں کہ:
''حاکم کا قول ہے کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے.......... بعض لوگوں نے اس پر کذب کا حکم لگانے پر توقف ےکیاہے، بلکہ علائی نے اس پرکذب کا حکم لگانے پر توقف کی صراحت اس طرح بیان کی ہے: میرے نزدیک یہ روایت محل نظر ہے، پھر لوگوں کی شہادت کو بیان کیا ہے کہ ابن عباسؓ کی حدیث کے راوی 'ابومعاویہ' کامرتبہ ساقط بتایا جاتاہے کیونکہ وہ 'ابن عینیہ' وغیرہ جیسے اشخاص کا محتاج ہے، اگرچہ 'ابومعاویہ ثقہ اور حافظ حدیث ہے۔ پس جس نے اس حدیث پر کذب کا حکم لگایا اس نے خطا کی ہے۔ نیز اس حدیث کے الفاظ بھی منکرات بیان نہیں کرتے اور نہ ہی عقل کو حیران و ششدر کرنے والے ہیں بلکہ عام حدیث کے الفاظ کی طر ح ہی ہیں...... ابن عباسؓ کی حدیث کے الفاظ اچھے ہیں بلکہ یہ روایت بھی ''حسن''ہے....... الخ''9

علامہ سخاوی کا یہ قول کہ ''اس حدیث کے الفاظ بھی منکرات بیان نہیں کرتے او رنہ ہی عقل کو حیران و ششدر کرنے والے ہیں، بلکہ عام حدیث کے الفاظ کی طرح ہی ہیں'' اصولی اعتبار سے صحیح نہیں ہے کیونکہ کسی حدیث کو قوی یا ضعیف او رصحیح یا موضوع قرا ردینے کے لیے ایسا کوئی معیار بنانا انتہائی خطرناک اور غیر منصفانہ بات، بلکہ علم حدیث پر صریح ظلم ہے۔

ملا علی قاری حنفی کا اعتراض یہ ہے کہ : ''سیوطی کہتے ہیں: حافظ ابن حجر سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا یہ ''حسن'' ہے، نہ تو ''صحیح'' ہے جیسا کہ حاکم  کا خیال ہے، اورنہ یہ ''موضوع'' ہے، جیسا کہ ابن الجوزی کا خیال ہے۔ حافظ ابوسعید العلائی کہتے ہیں: ''یہ باعتبار طریق ''حسن'' ہے نہ ''صحیح'' ہے اور نہ ''ضعیف'' کجاکہ ''موضوع'' ہو، جیساکہ زرکشی  کا خیال ہے۔''10

اصلاً یہ تمام اعتراضات صرف چار امور سے متعلق ہیں:
1۔ مختلف طرق اسناد او راُن کے رواۃ، بالخصوص محمد بن جعفر البغدادی الفیدی، ابا الصلت الہروی او رابومعاویہ کی تصنیف و توثیق میں اختلاف۔
2۔ امام ترمذی و حاکم  کا اسے روایت کرنا، نیز حاکم کی تصحیح۔
3۔ حافظ ابن حجر عسقلانی کا اس حدیث کو ''کذب''و ''باطل'' یا ''موضوع'' کے مقابلہ میں ''حسن'' قرار دینا۔
4۔ علامہ جلال الدین سیوطی کے بیان کردہ کثیر طُرق اسناد۔

مندرجہ بالا تمام اعتراضات کو رفع کرنے کیلیےآئندہ سطور میں ہم یکے بعد دیگرے تمام امور کو وضاحت کے ساتھ پیش کریں گے۔ (جاری ہے)

حوالہ جات
1.موضوعات کبیر ملا علی قاری مترجم حبیب الرحمٰن صدیقی کاندھلوی حدیث نمبر 70 صفحہ 134۔135 طبع محمد سعید اینڈ سنز کراچی
2.جامع الترمذی مع تحفة الأحوذي للشیخ عبدالرحمٰن المباکپوری کتاب المناقب ج4 طبع دہلی 1353ھ
3.عارضة الأحوذي شرح جامع الترمذی  للشیخ ابن عربی ج13 صفحہ 171
4.تمیز الطیب من الخبیث فیما یدور علی ألسنة الناس من الحدیث للشیباني حدیث نمبر 235 صفحہ141 طبع دارالکتب العلمیۃ بیروت 1981ء
5.المقاصد الحسنة للسخاوي حدیث نمبر 189 صفحہ 97
6.حاشیہ بر فوائد المجموعة في الأحادیث الموضوعة صفحہ 349
7.الفوائد المجموعة للشوکاني باب مناقب الخلفاء الأربعة و أهل البیت حدیث نمبر 52 صفحہ 349
8. کتاب فتح الملك العلي بصحة حدیث باب مدینة العلم علي للحافظ ابوالفیض
9.المقاصد الحسنة للسخاوي صفحہ 97۔98
10.موضوعات کبیر لملّا علی قاری مترجم حبیب الرحمٰن صدیقی کاندھلوی حدیث نمبر 70 صفحہ 135