بھاگل سے عبدالرشید صاحب لکھتے ہیں:
''نماز جنازہ میں بعد اس تکبیر اوّل ''سبحانك اللھم...... الخ'' سورۃ الفاتحہ۔ قراء ت اور بعد از تکبیر ثانی درود ابراہیمی کوئی اہلحدیث عالم ثابت کردے تو میں اہلحدیث ہوجاؤں گا۔''

الجواب بعون اللہ الوھاب:
معلوم ہوتا ہے کسی متعصب ، اہلحدیث کے بُرا چاہنے والے نے ہمارے محترم سائل کو مسلک حقہ اہلحدیث سے بدظن اور متنفر کرنے کے لیے یہ بات ان کے ذہن میں ڈال دی ہے کہ اہلحدیث حضرات کی نماز جنازہ کا طریقہ سنت سے ثابت نہیں۔ حالانکہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے موجودہ اور سابقہ تمام گروہوں اور فرقوں میں سے صرف او رصرف جماعت اہلحدیث کو یہ شرف حاصل ہے کہ یہ لوگ اپنے عقیدہ و عمل میں براہ راست کتاب وسنت سے راہنمائی لیتے ہیں، جبکہ دیگر حضرات ، ہدایت کے اس چشمہ صافی کے ہوتے ہوئے ادھر ادھر ٹامک ٹوئیاں مارتے پھرتے ہیں۔

ذیل میں ہم سائل کی تسلی و تشفی کی خاطر نماز جنازہ کا طریقہ احادیث نبویہؐ کی روشنی میں بالاختصار مع دلائل ذکر کرتے ہیں۔ دعا ہے ، اللہ تعالیٰ سائل کو حق کی طرف رہنمائی فرمائیں او رجملہ مسلمانوں کو کتاب و سنت کا پابند بنائیں۔ آمین۔

نماز جنازہ کا طریقہ :
یاد رہے کہ وضو، طہارت، استقبال قبلہ، نماز میں خشوع و خضوع اور قراء ت وغیرہ کے احکام تمام نمازوں کے لیے برابر ہیں، صرف جن نمازوں کے لیےکوئی خاص وضع یاطریقہ بیان ہوا ہے، ان میں وہ مستثنیٰ ہیں۔مثلاً عیدین کی نمازوں کے بعد خطبہ ، کسوف و خسوف کی نمازوں میں ایک سے زائد رکوع، نماز جنازہ میں رکوع و سجود کا نہ ہونا وغیرہ۔ اس قسم کے استثناؤں کو چھوڑ کر باقی چیزوں میں تمام نمازوں کے عمومی احکام سے استدلال ہوگا۔ مثلاً :

1۔ استقبال قبہ، تکبیر اور رفع الیدین:
آنحضرت ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو قبلہ کی طرف منہ کرکے ہاتھ اٹھا کر ''اللہ أکبر'' کہتے:
''حدثنا محمد بن عمر بن عطاء قال سمعت أبا حمید الساعدي یقول کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إذا قام إلی الصلوٰة استقبل القبلة و رفع یديه وقال اللہ أکبر'' 1
''حضرت ابوحمید ساعدیؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو قبلہ کی طرف منہ کرکے ہاتھ اٹھاتے اور ''اللہ أکبر'' کہتے۔''

اسی طرح صحیح بخاری 1؍102 اور صحیح مسلم 4؍94 پر حضرت عبداللہ بن عمرؓ او رحضرت مالک بن حویرثؓ کی احادیث ہیں کہ آنحضرتﷺ نماز (شروع) کرتے وقت ''اللہ أکبر'' کہتے او ررفع الیدین کرتے تھے۔

2۔ ہاتھ باندھنا:
نماز میں دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنا مسنون ہے۔ صحیح بخاری ج1 ص102 پر ہے:
(الف) ''عن سھل بن سعد قال کان ناس یؤمرون أن یضع الرجل الید الیمنی علی ذراعه الیسری في الصلوٰة''
''حضرت سہل بن سعد ؓ کا بیان ہے ، لوگوں کو حکم تھا کہ آدمی نماز میں دایاں ہاتھ بائیں کلائی پر رکھے۔''

(ب) سنن ابی داؤد میں ہے، حضرت زرعہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں:
''سمعت ابن الزبیر یقول صف القدمین ووضع الید علی الید من السنة'' (باب وضع الیمنی علی الیسری في الصلوٰة)
کہ ''میں نے حضرت ابن زبیرؓ کو یہ کہتے سنا، ''قدموں کو ملانا اور ہاتھ کا ہاتھ پر رکھنا سنت ہے۔''

(ج) ''عن قبیصة بن ھلب عن أبيه قال کان النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یؤمنا فیأخذشماله بیمینه'' 2
''قبیصہ بن ھلب اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ ہماری امامت کراتے تو بائیں ہاتھ کو دائیں سے تھام لیتے تھے۔''

(د) ''عن وائل بن حجر قال رأیت النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یصلي فأخذ شماله بیمینه''3
''وائل بن حجرؓ سے روایت ہےکہ میں نےنبی ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا، آپؐ بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ سے پکڑے ہوئے تھے۔''

3۔ دعائے استفتاح :
(الف) ''حدثنا أبوھریرة قال:کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یسکت بین التکبیر و بین القراء ة إسکاتة قال أحسبه قال ھنية ، فقلت: بأبي أنت و أمي یارسول اللہ إسکاتك بین التکبیر و بین القراء ة ما تقول قال أقول اللھم باعد بیني و بین خطایاي کما باعدت بین المشرق والمغرب اللھم نقني من الخطایا کما بنقی الثوب الأ بیض من الدنس اللھم اغسل خطایاي بالماء والثلج والبرد''4
''حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ تکبیر اور قراء ت کے درمیان کچھ دیر خاموش رہتے تھے۔میں نے پوچھا: ''یارسول اللہﷺ! میرے ماں باپ آپؐ پر فدا ہوں، آپؐ تکبیر اور قراء ت کے درمیان کیا پڑھتے ہیں؟'' تو آپؐ نے فرمایا''یہ دعاء پڑھتا ہوں:
''اللٰھم باعدبیني و بین خطایاي۔۔۔۔۔۔۔ الخ''

اس حدیث سے نماز کی ابتداء میں تکبیر کہنے اور اس کے بعد دعائے استفتاح پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے۔

(ب) ''عن أبي سعید الخدري قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یستفتح صلوٰته یقول: ''سبحانك اللھم وبحمدك و تبارك اسمك و تعالیٰ جدك ولا إله غیرك'' 5
''حضرت ابوسعید خدریؓ (او رحضرت عائشہؓ) سے روایت ہے ، اللہ کے نبیﷺ جب نماز شروع کرتے تو دعاء ''سبحنك اللٰھم وبحمدك'' پڑھاکرتے تھے۔''

(ج) ''عن ابن جبیر بن مطعم عن أبیه قال رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حین دخل في الصلوٰة قال: اللہ أکبر کبیرا اللہ أکبر کبیرا ثلاثا الحمد للہ کثیرا ثلثا سبحان اللہ بکرة و أصیلا ثلث مرات''6
'' حضرت جبیر بن مطعمؓ فرماتے ہیں، اللہ کے نبی ﷺ کو میں نے دیکھا، جب آپؐ نماز میں داخل ہوئے تو آپؐ نے دعاء :''اللہ أکبر کبیرا الحمد للہ کثیرا سبحان اللہ بکرة و أصیلا'' تین بار پڑھی۔''

جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں کہ اس قسم کے عمومی احکام تمام نمازوں کے لیے برابر ہیں۔ مندرجہ بالا ذکر کردہ احادیث سے ثابت ہوا کہ تمام نمازوں (بشمول نماز جنازہ)میں تکبیر تحریمہ کے بعد مندرجہ بالا تمام ، یا ان میں سے بعض دعائیں پڑھنی چاہئیں۔اسی طرح جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، مستدرک حاکم اور صحیح ابن حبان میں حضرت فضالہ بن عبید ؓ سے روایت ہے کہ ''آنحضرت ﷺ نے ایک شخص کو سنا، جو نماز میں اللہ کی حمد و ثنا اور آنحضرتﷺ پر درود پڑھے بغیر دعاء کررہا تھا، آپؐ نے فرمایا: ''اس نے جلدی کی'' پھر اسےبلا کر فرمایا: ''تم میں سے جب نماز پڑھے تو اللہ کی تمجید (بزرگی و تعریف) کرے، پھر مجھ پر درود بھیجے، اس کے بعد جو چاہے دعاء کرے'' تو چونکہ نماز جنازہ بھی نمازوں کی سی ایک نماز ہے، لہٰذا اس میں بھی استقبال قبلہ، تکبیر ، ہاتھ باندھنا اور دعائے استفتاح پڑھنا شامل ہیں۔ تاہم اگر کوئی صاحب اس عموم سے استدلال درست نہ سمجھیں تو ان کے لیے نماز جنازہ کی خاطر وضو اور طہارت کا ثابت کرنا بھی مشکل ہوجائے گا۔

4۔ سورۃ الفاتحہ :
دیگر نمازوں کی مانند نماز جنازہ میں بھی سورہ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے۔ چنانچہ،

(الف) حضرت عبادۃ بن صامت ؓ کی مشہور حدیث:
''لا صلوٰة لمن لم یقرأ بفاتحة الکتاب'' 7
کہ ''جس نماز میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ نماز نہیں ہوتی'' کا عموم اسی امر کا متقاضی ہے ۔ تبھی تو امام بخاری نے اس حدیث پر ''باب وجوب القراءة للإمام والمأموم في الصلوٰة کلھا'' (امام اور مقتدی پر ہر نماز میں قراءت کرنا واجب ہے) کا عنوان قائم کیا ہے۔

(ب) ''عن طلحة بن عبداللہ بن عوف قال صلیت خلف ابن عباس علیٰ جنازة فقرأ بفاتحة الکتاب وقال لتعلموا أنھا سنة''8
''حضرت طلحہ بن عبداللہ بن عوف فرماتے ہیں، میں نے حضرت عباسؓ کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی، انہوں نے سورۃ فاتحہ کی قراء ت کی۔ اور فرمایا : (میں نے یہ پڑھی ہے) تاکہ تم جان لو کہ یہ سنت ہے۔''

واضح رہے، حضرت ابن عباسؓ کا فرمان''لتعلموا أنھا سنة'' اس حدیث کے مرفوع ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ کی قراءت کا بیان بروایت حضرت ابن عباسؓ ، صحیح بخاری کے علاوہ سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، صحیح ابن حبان، مستدرک حاکم، سنن ابن ماجہ، مسند ابی یعلیٰ اور المنتقیٰ لابن الجارود میں بھی ہے۔9

(ج) احادیث میں خود آنحضرتﷺ سےبھی نماز جنازہ میں سورت فاتحہ پڑھنا ثابت ہے۔چنانچہ :
مسند شافعی میں حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہےکہ ''نبی اکرمﷺ نے ایک میّت پر چار تکبیریں کہیں او رپہلی تکبیر کے بعد سورتحہ پڑھی۔''

مستدرک حاکم میں ہے کہ ''آنحضرت ﷺ جنازہ کی نماز میں چار تکبیریں کہا کرتے تھے، پہلے تکبیر کےبعد فاتحۃ الکتاب پڑھا کرتے تھے۔''

5۔ سورت کا ملانا:
سورت فاتحہ کی قراء ت کے ساتھ سورت کا ملانا اور پڑھنا بھی مشروع ہے۔ چنانچہ سنن نسائی ج1 ص228۔اور المنتقیٰ لابن الجارود میں زید بن طلحہ تیمی او رطلحہ بن عبداللہ کی روایتوں سے اور مسند ابی یعلیٰ میں بھی حضرت ابن عباسؓ سے فاتحہ کے بعد دوسری سورت کا پڑھنا او رلانا ثابت ہے۔

ابویعلیٰ کی سند کو امام نووی نے صحیح کہا ہے (اختصار کے پیش نظر عربی عبارات نہیں لکھی گئیں)

اسی طرح حضرت ابوسعید ؓنے حضرت ابوہریرہؓ سے پوچھا، ''آپ نماز جنازہ کیسے پڑھاتے (پڑھتے ) ہیں؟'' انہوں نے جواب دیا:'' میں جنازہ کے ساتھ جاتا ہوں، جب اسے رکھ دیا جاتا ہے تو تکبیر کہہ کر اللہ کی حمد کرتا(سورت فاتحہ پڑھتا) ہوں، پھر (تکبیرکہہ کر) درود پڑھتا ہوں، پھر (تکبیر کہہ کر) دُعا کرتا ہوں-'' 10

درود شریف اور میّت کے لیے دعا:
''عن الزھري قال سمعة أبا أمامة بن سهیل بن حنیف یحدث ابن المسيب قال : السنة في الصلوة علی الجنائز أن یکبر ثم یقرأ بأم القران ثم یصلي علی النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثم یخلص الدعاء للمیت ، ولا یقرأ إلا في التکبیرة الأولی ثم یسلم في نفسه عن یمینه'' 11
اسی طرح ا المنتقیٰ لابن الجارود ص189 حدیث 540 السنن الکبریٰ للبیہقی ج4 ص39 میں بھی ہے کہ ''حضرت ابوامامہ ؓ سے روایت ہے، نماز میں سنت طریقہ یہ ہ ےکہ تکبیر کہہ کر سورت فاتحہ پڑھے، پھر (تکبیر کہہ کر) آنحضرتﷺ پر درود بھیجے، پھر (تکبیر کہہ کر) میت کے لیے خلوص دل سے دعاء کرے ، قراءت صرف پہلی تکبیر میں کرے، پھر دائیں جانب آہستہ سے سلام کہے۔''

نیز حضرت شعبی  فرماتے ہیں کہ ''میت پر نماز جنازہ میں پہلی تکبیر کے بعد اللہ کی تعریف (یعنی ثناء و سورت فاتحہ) دوسری تکبیر کے بعد درود شریف اور تیسری تکبیر کے بعد میت کے لیے دعاء اور چوتھی تکبیر کے بعد سلام ہے۔''12

دعاء :
''عن عوف بن مالك الأشجعي قال سمعت النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علی جنازة یقول : اللٰھم اغفرله وارحمه واعف عنه عافه أکرم نزله و وسع مدخله واغسله بماء و ثلج و برد ونقه من الخطایا کما ینقی الثوب الأبیض من الدنس و أبدله دارا خیرا من دارہ وأھلا خیرا من أھله و زوجا خیرا من زوجه وقه فتنة القبر و عذاب النار''
''قال عوف  فتمنیت أن لو کنت أنا المیت لدعاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علیٰ ذٰلك المیت'' 13
''حضرت عوف بن مالک اشجعی ؓ فرماتے ہیں، آنحضرتﷺ نے ایک جنازہ پر نماز پڑھائی، تو یہ دعاء پڑھی: ''اللٰھم اغفرله وارحمه......... الخ'' اس پر میں نے تمنا کی کہ کاش یہ میرا جنازہ ہوتا۔''

7۔ نماز جنازہ جہراً پڑھنا:
نماز جنازہ جہراً پڑھنا بھی جائز اور مسنون ہے جیسا کہ اوپر حضرت ابن عباسؓ، جابر بن عبداللہ او رعوف بن مالک کی روایات میں گزرا۔

نماز جنازہ سے متعلق بعض دیگر مسائل:
تکبیرات نماز جنازہ میں بھی رفع الیدین کرنا مسنون اور معمول بہ ہے۔

(الف) چنانچہ صحیح بخاری ج1 ص176 پر حضرت ابن عمرؓ کے بارے میں ہے:
''ویرفع یدیه''
کہ ''آپ رفع الیدین کیا کرتے تھے۔'' 14

اس کی وضاحت میں امام قسطلانی لکھتے ہیں کہ اس سے مراد تکبیرات کے موقع پر رفع الیدین کرنا ہے۔

(ب) امام دارقطنی نے اپنی کتاب العلل میں بروایت ابن عمرؓ آنحضرتﷺ کا رفع الیدین کرنا بھی ذکر کیا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن باز (متعنا اللہ بطول حیاته) مفتی اعظم سعودی عرب نے اس حدیث کو قابل عمل قرار دیا ہے۔15

(ج) تکبیرات جنازہ میں رفع الیدین کاذکر کرتے ہوئے امام ترمذی نے لکھا ہے کہ اکثر صحابہؓ، ابن مبارک، امام شافعی، امام احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے۔بعض اہل علم
اس کے مخالف بھی ہیں۔16

امام شافعی نے انس بن مالکؓ، عروہ اور سعید بن مسیب سے نماز جنازہ میں ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرنا بیان کیا ہے۔

نیز امام شافعی فرماتے ہیں کہ ''ہم نے اپنے شہر کے اہل علم کو ایسا کرتے پایا ہے۔''

ابن المنذر کہتے ہیں کہ ''حضرت ابن عمرؓ، عمر بن عبدالعزیز، عطاء، سالم بن عبداللہ، قیس بن ابی حازم، امام زہری، امام اوزاعی، امام احمد اور اسحاق (رحمہم اللہ) نماز جنازہ کی تکبیرات میں رفع الیدین کیا کرتے تھے۔'' 17

ایسے ہی امام بخاری نے اپنی مشہور کتاب ''جزء رفع الیدین'' میں حضرت ابن عمرؓ،قیس بن ابی حازم، ابان بن عثمان، نافع بن جبیر، عمر بن عبدالعزیز، مکحول، وہب بن منبہ، زہری اور حسن بصری (رحمہم اللہ) سے نماز جنازہ میں ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرنے کا ذکر کیا ہے۔

تین تین بار دعاء کرنا:
یہ بھی جائز اور ثابت ہے ۔ آپؐ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جب دعاء کرتے تو تین تین بار دعاء کیا کرتے تھے۔ حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں، آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا: ''جو شخص تین مرتبہ جنت کا سوال کرے تو جنت کہتی ہے، '' یا اللہ! اسے جنت میں داخل کر ہی دے۔'' اور ''جو شخص جہنم سے تین مرتبہ پناہ مانگے تو جہنم کہتی ہے، ''یا اللہ! اسے جہنم سے محفوظ رکھ'' 18

چونکہ نماز جنازہ میں بھی میت کے لیے خصوصاً او رعام مسلمانوں کے لیے عموماً دعاء کی جاتی ہے، اس لیے دعاؤں کے تین تین بار پڑھنے یا کثرت سے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔

البتہ بعض ائمہ کرام کو نماز جنازہ کے اندر سورت فاتحہ مکمل یا اس کی بعض آیات تکرار کے ساتھ پڑھتے سنا گیا ہے، یہ ثابت نہیں۔ اس سے احتراز کرنا چاہیے۔

مذکورہ بالا تفصیل سے معلوم ہوا کہ نماز جنازہ میں پہلی تکبیر کے بعد دعائے استفتاح اور سورت فاتحہ مع دیگر سورت پڑھنا، دوسری تکبیر کے بعد درود شریف ، تیسری تکبیر کے بعد دعاء اور چوتھی تکبیر کے بعد سلام کہنا مسنون ہے۔ احادیث میں آنحضرتﷺ سے نماز جنازہ میں چار سے نو تک تکبیریں کہنا ثابت ہے۔ البتہ آپؐ کا اور صحابہؓ کا اکثر عمل چار تکبیروں پر تھا۔

الحمدللہ، اہل حدیث حضرات کا نماز جنازہ کا طریقہ سنت کے مطابق ہے اور دلائل سے ثابت ۔ہاں غیراہلحدیث حضرات جس طریقہ سے نماز جناسہ پڑھتے اور پڑھاتے ہیں وہ سراسر خلاف سنت ہے۔ دعا ہے، اللہ ہم سب کو حق سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق ارزانی فرمائیں۔ آمین۔

حوالہ جات
1. سنن ابی ماجہ ص58
2. سنن ابن ماجہ ص59
3. حوالہ مذکور
4. صحیح البخاری 1؍102 سنن ابن ماجہ صفحہ 58۔59
5. سنن ابن ماجہ ص 58 و عن عائشہ ؓ کذٰلک، ص 59
6. سنن ابن ماجہ صفحہ 59
7. صحیح بخاری، ج1 ص104
8. صحیح بخاری، ج1 ص178
9. ملاحظہ ہو عون المعبود ج3 ص190۔191
10. موطا امام مالک، مصنف عبدالرزاق ج3 ص488 حدیث نمبر 6425
11. مصنف عبدالرزاق ج3 ص489، حدیث نمبر 6428
12. مصنف عبدالرزاق حدیث نمبر 6434، السنن الکبریٰ للبیہقی ج4 ص40
13. صحیح مسلم ج7؍13، جامع ترمذی المنتقی لابن الجارود ص189
14. بخاری باب سنۃ الصلوٰۃ علی الجنائز
15. حاشیہ فتح الباری :3؍190
16. جامع ترمذی
17. تفصیل کے لیے دیکھیے عون المعبود ج3 ص190 تا 196
18. سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 4340 مسند احمد ج3 ص117