ملک و ملّت کو درپیش جغرافیائی، سیاسی، اخلاقی اور معاشرتی مسائل روز بروز سنگین صورت اختیارکرتے جارہے ہیں، اور اصلاح احوال کی کوئی بھی صورت نظر نہیں آتی۔ الّا یہ کہ اللہ رب العزّت کے حضور گڑ گڑا کر توبہ کی جائے اور ا س کے سچے پیامبر، رسول رحمت، محسن انسانیت، سرور عالم ﷺپر نازل ہونے ان آسمانی تعلیمات کو حرز جان بنا لیا جائے کہ جن کے باعث آج سے چودہ سو برس قبل سرزمین عرب کی خزاؤں کوبہاروں کا پیغام ملا، اور جن کی روشنی میں سسکتی ، تڑپتی، دُکھی انسانیت نے اپنے نجات کی راہیں تلاش کی تھیں۔ یہ نزول رحمت کچھ اس دور یاعلاقہ کے لیے مخصوص نہ تھا۔ بلکہ اس کی ضیاء پاشیوں نے تھوڑے ہی عرصہ میں جہاں جملہ عالم انسانی کو منور کیا، وہاں اس نبی رحمتﷺ نے دنیا سے رخصت ہوتے وقت قیامت تک کے لیے یہ اصول بھی بیان فرما دیا کہ:
''ترکت فیکم أمرین لن تضلوا ما تمسکتم بهما کتاب اللہ و سنة رسوله'' 1
''میں تم میں دو چیزیں چھوڑ چلا ہوں، جنہیں اگر تم مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے، ان میں سے ایک چیز کتاب اللہ اور دوسرے اس کے رسولؐ کی سنت۔''

اس فرمان رسول اللہﷺ کی روشنی میں ہمیں یہ یقین ہےکہ ملت اسلامیہ نے کتاب و سنت سے مسلسل اعراض برتتے ہوئے اگر اپنی اجتماعی خود کشی کا فیصلہ نہیں کرلیا، تو اپنی دنیاوی فلاح و بہبود کے علاوہ اخروی سلامتی کی راہیں ہموار کرنے کے لیے بھی اسے کتاب و سنت ہی کے شفیق دامنوں میں پناہ لینا ہوگی اور زندگی کے ہرہر گوشہ میں یہی اس کی راہنماوی کا فریضہ سرانجام دیں گے۔

اندریں حالات، یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ دعوت و اصلاح کی تمام تر ذمہ داریاں تنہا حاملین کتاب و سنت کو سنبھالنا ہیں۔ کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں کہ جو اپنے عقیدہ و عمل کے لیے براہ راست کتاب و سنت سے سند لاتے اور ﴿وَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّ‌سُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمْ عَنْهُ فَٱنتَهُوا'' پر عمل پیرا ہوتےہوئے ہر اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ جس کی شہادت رسول اللہ ﷺ کی زبان رسالت ترجمان سے انہیں مل جائے اور ہر اس بات کو ٹھکرا دیتے ہیں کہ جس سے آپؐ نے منع فرما دیا ہو یا کتاب وسنت سے جس کی تائید نہ ہوتی ہو۔ یہی ان کی دعوت ہے، اور اسی نہج پر انہوں نے ہمیشہ علمی و عملی، تحریری اور تقریری، ہر لحاظ سے ''أمر بالمعروف'' اور ''نهي عن المنکر'' کا فریضہ انجام دیا ہے۔ یہی وہ حق پرست جماعت ہے کہ جس نے کفر و شرک کی ہولناک آندھیوں میں ایمان و توحید کی شمعیں روشن رکھیں، کتاب و سنت کے ذریعے فسق و فجور کی تاریکیوں کو رشد و ہدایت کے اجالوں میں بدلنے کی بھرپور کوششیں کیں، اور بدعت کے گھناؤنے، مکروہ، مگر بظاہر حسین اور خوشنما چہرے سے فریب کے پردوں کو چاک چاک کرکے امت رسولؐ کو سنت رسولؐ کی دلآویز حقیقتوں سے روشناس کرایا ہے۔ لیکن آج ہمارے پیش نظر سوال یہ ہےکہ:
اے حاملین کتاب و سنت، علمائے اہل حدیث، ملت اسلامیہ کی زبوں حال کے اس دور میں بھی کیا آپ اس کی راہنمائی کا فریضہ سرانجام دینے کے لیے مستعد اور وقت کے اس چیلنج کو قبول کرنے کے لیے بھی اپ تیار ہیں یا نہیں؟ افسوس کہ بعض تلخ حقائق کی موجودگی میں اس سوال کا جواب چنداں اطمینان بخش نہین ہے۔ اس میں شک نہیں کہ آپکی دعوت آج بھی اتنی پاکیزہ اور دل نشین، اتنی ٹھوس اور واضح، اتنی سچی اور کھری، اتنی مرصع و پُرکشش، اتنی پُرمغز و پُر اثر، اتنی سادہ مگر پُرکار، اور قلب سلیم کو اس قدر اپیل کرنے والی ہے کہ دل بے اختیار اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔ لیکن المیہ تو یہی ہے کہ دعوت اور داعی میں باہمی مماثلت نہ رہی، قول و فعل میں سلفی مطابقت نہ رہی، علم و عمل میں وہ پہلی سی یگانگت نہ رہی۔ حالات کی رَو میں آپ بھی بہہ گئے، جدید دور کے تقاضے آپ کو بھی لے ڈوبے، نئی روشنی نے آپ کی آنکھوں کو بھی خیرہ کردیا۔ چنانچہ جمہوریت آپ کو بھی گھائل کرگئی اور بدی کے اس سیلاب کی قوتوں کے سامنے بند باندھنے والے، مسند دعوت و ارشاد کو کمتر خیال کرتے ہوئے، وراثت انبیاء علیہم السلام کے اعزاز کو بھول کر، بے وفا لیلائے اقتدار کے شوق میں، آج خود بھی خاک و خون کی اس دیوی جمہوریت(i) کے ہمدوش فخر کرتے دکھائی دینے لگے۔

اپنوں سے بیَر اور غیروں سے محبت کی پینگیں، آہ! یہ جماعتی انتشار و خلفشار ہی کیا کم تھا کہاب آپ اپنے امتیازی مسائل کے بھی درپے آزار ہوگئے، اور جو دعوت آپ اب تک دوسروں کو دیتے رہے، آج خود ہی اس سے بے نیاز ہوچکے۔ الا ماشاء اللہ۔ ورنہ بتلایا جائے کہ یہ دھڑے بندیاں کس آیہ قرآنی کا مصداق ہیں؟ کیا قرآن مجید نے اسے مشرکین کا شیوہ نہیں بتلایا۔
﴿وَلَا تَكُونُوامِنَ ٱلْمُشْرِ‌كِينَ ﴿٣١﴾ مِنَ ٱلَّذِينَ فَرَّ‌قُوادِينَهُمْ وَكَانُواشِيَعًا ۖ...﴿٣٢﴾...سورۃ الروم
کہ ''مشرکین مین سے نہ ہوجانا، یعنی ان لوگوں میں سے کہ جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا اور گروہوں میں بٹ گئے۔''

دوسروں کو توحید کی دعوت دینے والوں سے ''لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ'' کا یہ قرآنی انتباہ کیونکر نظر انداز ہوگیا؟ اور ''چراغ تلے اندھیرا'' والی مثال کس پر صادق آتی ہے؟

اسی طرح ''صحیح حدیث رسولؐ کا مذاق اڑانے والا اگر کافر ہے'' تو داڑھی منڈوانا یا ا س قدر کٹوانا کہ منڈوانے کے قریب تر معلوم ہو، کس فرمان رسولؐ کی رُو سے جائز ہے۔ نیز تصویر اور فوٹو کی شرعی حیثیت کیا ہے۔ اور صحیحین کی اس حدیث کا کون سا راوی کمزور ہے:
''ومن أظلم ممن ذھب یخلق کخلقي فلیخلقوا ذرة أو لیخلقوا حبة أو شعیرة'' 2
''(حدیث قدسی ہے، اللہ رب العزت نے فرمایا:) اس شخص سے بڑھ کر کون زیادہ ظالم ہے، جو میرے ایک وصف ''خلق'' کی نقل اتارتا ہے؟ (اگر وہ تصویر بنا کر اس وصف کے حامل ہونے کا مدعی ہے)تو اسے چاہیے کہ (کم از کم)ایک چیونٹی ہی پیدا کردکھلائے یا گیہوں اور جو کا ایک دانہ ہی بنا ڈالے؟''

نیز صحیح مسلم کی اس حدیث پر آپ کو کیا اعتراض ہے:
حضرت ابو الھیاج اسدی بیان کرتے ہیں، مجھ سے حضرت علیؓ نے ایک مرتبہ فرمایا: ''میں تیرے ذمے ایسا کام لگا رہا ہوں جس پر مجھے نبی اکرمﷺ نے مامور فرمایا تھا۔ آپ نے حکم دیا تھا:
''لاتدع صورة إلا طمستھا ولا قبرا مشرفا إلا سویته''3
کہ ''ہر تصویر مٹا دو اور جو قبر بھی اونچی ہو، اسے زمین کے برابر کردو۔''

ان فرامین رسول ﷺ کی روشنی میں فوٹو گرافی کا یہ مسئلہ، کیا توحید و شرک کا مسئلہ بھی ہے یا نہیں؟ لیکن غیراللہ کی نفی کرنے والے، قبروں کی پوجا سے دوسروں کو روکنے والے، سٹیجوں پر، منبروں پر، تقریروں میں ﴿إِنَّ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ ٱجْتَمَعُوا لَهُۥ''(ii) اور ''وَٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ مَا يَمْلِكُونَ مِن قِطْمِيرٍ‌ '' (iii) کی تلاوت کرنے والے، اگر اللہ تعالیٰ کی وصف ''خلق'' کی نقل اتارنے والے (فوٹو گرافروں) کو نہ صرف اس کی اجازت مرحمت فرمائیں، بلکہ اپنی اسی تقریر، جس میں انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی ہے، کی کیسٹ پررنگین مکھڑے کے ساتھ مسکراتے دکھائی دیں، تو للہ بتلائیے کہ مبتدعین کے گھروں میں کانواں والی سرکار'' کی تصویر سجائی جانا کیوں جائز نہیں اور آپ اس کی نکیر کیونکر فرمائیں گے؟بتلائیے کیا آپ نے اسی ایک مسئلہ میں فرمان رسولؐ کی مخالفت کرکے اپنی دعوت توحید و سنت کی پوری عمارت زمین بوس نہیں کردی؟ آپ نے ملاحظہ فرمایاکہ یہ جھوٹی شہرت آپ کو کس قدر مہنگی پڑی اور آپ نے کیا کھویا اور کیا پایاہے؟

عزت و ذلت دینے والی واحد ویکتا ذات کون ہے؟ کیا آپ کو اس پر اب اعتماد باقی نہیں رہا؟ جدید دور کے اس حقیر تقاضے اور محض ایک حقیر سی خواہش کی تکمیل کے لیے کتاب و سنت سے یہ اعراض ''ارءیت من اتخذ الٰھہ ھواہ'' کی سچی تفسیر و تعبیر نہیں؟ پھر اس جدید دور کے ملحدین اور گمراہ و گمراہ کن مفکرین کو کتاب و سنت کے احکام سے کھیلنے اور آیات الٰہی سے تمسخر کا حق کیوں نہیں پہنچتا؟ او رکیا یہی آپ کی دعوت کا طرہ امتیاز ہے؟ ورنہ اپنے اس طرز عمل کے ساتھ تو اپ اپنی دعوت کو لے کر ایک قدم بھی نہیں چل سکتے۔ الایہ کہ ہٹ دھرمی سے کام لیاجائے، اور جو اہل حدیث کے شایان شان نہیں۔ چنانچہ آپ کا کوئی مخالف اگر آپ سے سے یہ پوچھ بیٹھے کہ تصویر کی حرمت سے متعلق جماعت اہل حدیث کا متفقہ مؤقف پہلے غلط تھا یا اب غلط ہے؟ تو آپ کے پاس اس سوال کا جواب کیا ہوگا؟ اور اگر وہ آپ کے موجودہ طرز عمل کو غلط ثابت کرنےکے لیے صحیح بخاری کی اس حدیث سے استدلال کرے کہ:
''قدم النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم من سفر و علقت درنوکا فيه تماثیل فأمرني أن أنزعه فزعته'' 4
''حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں، رسول اللہ ﷺ سفر سے واپس تشریف لائے، دریں حالیکہ میں نے دروازے پر ایک تصویر دار پردہ لٹکا رکھا تھا، تو آپؐ نےمجھے اس کے اتارنے کا حکم دیا، چنانچہ میں نے اسے اتار دیا؟''

لیکن آپ اس اسورہ رسولؐ کی پرواہ نہ کریں، تو خود اس کے عقیدہ و عمل کی اصلاح کے لیے آپ اس کے سامنے ، اسی صحیح بخاری کی کوئی دیگر حدیث کیسے پیش کریں گے اور وہ اس کا پابند کس اصول کی رُو سے ہوگا؟ پھر کیا یہ کتاب و سنت سے گریز کی راہ سجھانے والی بات نہ ہوگی؟ او ریہ راہ کون ہموار کرے گا؟ اندریں حالات ،آج کے اس دور میں انکار حدیث کے سیلاب پر قابو پانا کیسے ممکن ہوگا؟ جبکہ ملت اسلامیہ کے تمام تر مصائب کی جڑ یہی کتاب و سنت سے دوری ہے۔

تصویر کے اس مسئلہ پر ایک او رپہلو سے غور کرنا بھی ضروری ہے۔ صحیحین کی یہ حدیث ملاحظہ ہو:
''أشد الناس عذابا یوم القیامة الذین یضاھون بخلق اللہ'' 5
''قیامت کےدن وہ لوگ سب لوگوں سے زیادہ سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے جو (تصویر بناکر) اللہ تعالیٰ کی (صفت) خلق کی نقل اتارتے ہیں۔''

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے اپنی الماری کو ایک ایسے پردے سےڈھانپ رکھا تھا، جس پر (جانداروں کی) تصویریں تھیں، رسول اللہ ﷺ گھر تشریف لائے تو انہیں دیکھ کر غصے سے آپؐ کا چہرہ مبارک متغیر ہوگیا، آپؐ نے پردے کوپھاڑ ڈالا اور مذکورہ بالا ارشاد فرمایا:
بتلائیے، آپ کی دعوت ،تصویر بنانے والوں کو شدید عذاب جہنم کی وعید سنا کہ ان ک واس عمل سے روکنا تھا، یا اپنی ہی تصویر ان کو دھونے دھلانے، ایکسپوز کرنے اور اخبارات میں، کیسٹوں پرشائع کرنےکے لیے انہیں دینا اس دعوت کا مدعا ہے۔ تاکہ اہل حدیث عوام بھی انہیں عقیدت سے اپنے ڈرائنگ رومز یا الماریوں کی زینت بنائیں اور صحیح بخاری کی اس حدیث کی رُو سےوہ نزول رحمت خداوندی سے محروم رہیں:
''إن البیت الذي فيه الصور لا تدخله الملائکة'' 6
''جن گھروں میں تصویریں موجود ہوں ان میں ملائکہ رحمت داخل نہیں ہوتے۔''

چنانچہ اہل حدیث عوام سے ایک طرف آپ کا یہ سلوک او ران سے اس قدر عداوت کہ ملکہ ترنم کی تصویر نہ سہی، آپ ضرور وہاںمسکراتے دکھائی دیں تاکہ رحمت خداوندی بہرحال ان کے قریب نہ پھٹکے۔ لیکن دوسری طرف آپ کو ان سے یہ توقعات کہ وہ آپ کے لیے ''زندہ باد'' کے نعرے لگائیں اور ''جیوے جیوے'' کا آسمان سر پر اٹھا لیں، کیا یہی تقاضائے عدل و انصاف اور خلق و مروّت ہے؟

پھر یہ نعرے بھی کیا خوب ہیں:


آگئے آگئے وہابی وہابی .......... چھا گئے چھاگئے وہابی وہابی
آگے پیچھے وہابی وہابی .......... نیچے اوپر وہابی وہابی
اج تے ہوگئی وہابی وہابی

کیا یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ یہ نعرے صحاح ستہ کی کون سی کتاب سے منقول ہیں؟ علاوہ ازیں مساجد میں، منابر پر، تبلیغی اجتماعات میں جونعرے لگائے جاتے ہیں، ذرا ان کی بھی سند حدیث رسولؐ سے عطا فرمائیے، کہ کیا واقعی رسول اللہ ﷺ کے خطابات سنتے وقت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی یوں ہی نعرے لگائے تھے؟

اور اگر نہیں، نیز اذان سے قبل درود و سلام پڑھنا بدعت ہے، تو ذرا ان نعروں کے سنت ہونے کی بھی ترجمانی فرمائیے۔ مزید فرمائیے کہ خطابت جمعہ میں ''بولو، بولو، جواب دو'' کہہ کر آدھا خطبہ جمعہ خود ارشاد فرمانا اور بقیہ تقریر سامعین سے کروانا۔ پھر تبلیغی اجتماعات میں بھنگڑے ڈالنا، پٹاخے چھوڑنا، کیا یہی سنت رسولؐ ہے؟ ''أمر بالمعروف'' اور ''نهي عن المنکر'' کے کیا یہی تقاضے ہیں؟ ﴿وَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّ‌سُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمْ عَنْهُ فَٱنتَهُوا'' کا یہی ترجمہ و تفسیر ہے؟ آپ نے تو اہل حدیث کی ساری دعوت ہی داؤ پرلگا دی ہے۔ان کا وقار، ان کی متانت، ان کی سنجیدگی، ان سے رخصت کرکے دوسروں کی دیکھا دیکھی اہل حدیث عوام کو بھی ناچے بنا کر رکھ دیا ہے اور اس پر آپ کو یہ زعم ہے کہ ''قائد اہلحدیث، فخر اہلحدیث، شیخ التفسیر، شیخ الحدیث، شیخ العرب والعجم'' آپ ہی ہیں۔ جماعت کی مُردہ رگوں میں زندگی کی لہر آپ ہی نے دوڑائی ہے، اس کی نشاة ثانیہ بس آپ ہی کی رہین منت ہے اور ''اک ولولہ تازہ دیا جس نے دلوں کو'' وہ آپ ہی کی ذات والا صفات ہے؟ ذرا سوچئے کہ بدعات کو آپ نے راہ دی، تو پھر ان کا قلع قمع کون کرے گا؟ اگر آپ نے بھی خبیث جمہوری روایات اپنا لیں تو اس بت ستمگر سے ملت اسلامیہ کو کون نجات دلائے گا؟ اگر آپ کی فوٹو جائز ہے، تو اخبارات میں آئے دن ، بہانے بہانے سے ، عورتوں کی نیم عریاں گندی اور ننگی تصویریں کون ناجائز بتلائے گا؟ اور اگر ان تصویروں سے فحاشی کی اشاعت ہوتی ہے، چنانچہ ملک میں اسی بناء پر ہر طرف عفت و عصمت کے ڈاکو، جنسی جنونی اور خونی بھیڑیئے دندنا رہے ہیں کہ قبروں میں مدفون بہو بیٹیوں کی عزت بھی ان محفوظ نہیں رہی، تو چادر و چار دیواری کا تحفظ کون کرے گا او رملک و ملت کے روحانی ، اخلاقی اور معاشرتی مسائل سے کون او رکیونکر عہد برآ ہوگا؟ کیا یہ دانشور جو عورت کو اپنے ہاتھوں کا کھلونا بنا لینا چاہتے ہیں؟ کیا یہ صحافی کہ جن کا یہ کاروبار ہے؟ کیا یہ امراء و وزراء کہ جن کے نزدیک مسلمان عورت کی عصمت وعفت اس کے ووٹ سے بھی زیادہ ستی ہے، کہ اگر انہیں پردہ کا حکم سنا کر گھروں میں بٹھا دیا گیا تو وہ ان کی سپورٹ سے محروم رہ جائیں گے؟ او رکیا یہ سیاستدان کہ جنہیں اقتدار سے زیادہ کسی چیز کی فکر نہیں؟ جی نہیں، یہ آپ کا کام ہے، اے حاملین کتاب و سنت، او ریہ چرکے ہم نے اسی لیے لگائے ہیں ، کتاب و سنت کی روشنی میں یہ نشتر اسی لئے چلائے ہیں کہ جماعت اہلحدیث کی رگوں میں جمع ہوجانے والا یہ فاسد مادہ زائل ہوجائے او ریہ پھوڑے پھنسیاں کہیں رستے ہوئے ناسور نہ بن جائیں۔ چنانچہ یہ صحت یاب و تر و تازہ ہوکر،اک نئے عزم صمیم کے ساتھ اپنے شاندار ماضی کو پیش نظر رکھتے ہوئے، اپنی تابندہ روایات کی ترجمانی کرتے ہوئے، پھر سے چمن اسلام کی آبیاری کرے او ر''قال اللہ وقال الرسول'' کے سدا بہار پھولوں سے اسے لہلہاڈالے۔

دیکھئے لوگ تو آپ کی طرف دوڑے چلے آتے ہیں، کیونکہ آپ کی دعوت ہی قلوب کو مسخر کرنےوالی ہے لیکن اپنے موجودہ طرز عمل سے، آپ نے بھی اگر انہیں مایوس کردیا تو یہ کہاں جائیں گے اور خود آپ بھی کہاں ہوں گے؟ پھر یہ مسند دعوت و ارشاد کون سنبھالے گا؟''العلماء ورثة الانبیاء'' کا مصداق بن کر سنت انبیاء علیہم السلام پر عمل کرتے ہوئے سسکتی، ترپتی، دم توڑتی انسانیت کی راہنمائی کا فریضہ کون سرانجام دے گا؟ جی ہاں ، سوچئے سوچئے، کیا آپ اپنے طرز عمل پرنظرثانی کی زحمت گوارا فرمائیں گے؟
''وما علینا إلا البلاغ''

معذرت کے ساتھ
ایک بندہ گنہگار
(اکرام اللہ ساجد)


حوالہ جات
1. مشکوٰة:1؍66
2. متفق علیہ بحوالہ مشکوٰة ، ج2ص505
3. صحیح مسلم ، صفحہ 37
4. صحیح بخاری ج7 ص216
5. متفق علیہ بحوالہ مشکوٰۃ ج2 ص505
6. صحیح بخاری ج7 ص217

i. ملک کے موجودہ حالات اس پر شاہد عدل ہیں۔
ii.  iii. (ترجمہ بالترتیب)
''جنہیں تم اللہ کے علاوہ پکارتے ہو، وہ سب مل کر ایک مکھّی بنانے پر بھی قادر نہیں (الحج:73) ''اور جنہیں تم اس (اللہ) کو چھوڑ کر پکارتے ہو، کھجور کی گٹھلی پر ایک تاگے کے بھی مالک نہیں۔'' (فاطر :13)