کتاب : جواہر الفقہ، جلد اوّل

مؤلف : مولانا مفتی محمد شفیع صاحب

ضخامت : 520 صفحات (مجلد رنگین سرورق)

کاغذ سفید، کتابت طباعت عمدہ

قیمت : پچیس روپے

ناشر : مکتبہ دارالعلوم کراچی۔14

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب مدظلہ کا شمار دیوبندی مکتبہ فکر کے چوٹی کے علماء میں ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف ایک متبحر عدالم دین ہیں بلکہ ایک منجھے ہوئے ادیب اور خوشگوار شاعر بھی ہیں۔ تاریخ، حدیث، فقہ، تصوف، تاریخ ، ادب اور لغت وغیرہ پر وہ گہری نظر رکھتے ہیں او راب تک ان موضوعات پر دو سو کے قریب بلند پایہ کتابیں ان کے قلم سے نکل چکی ہیں۔ مفتی صاحب مدظلہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کے مرید خاص اور خلیفہ مجاز بھی ہیں اور دیوبندی مسلک کے بہت سے اصحاب ان کے حلقہ ارادت میں شامل ہیں۔ مفتی صاحب مدظلہ کی سیاسی زندگی کا قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ انہوں نے مولانا شبیراحمد عثمانی کی طرح تحریک پاکستان کی پرجوش حمایت کی تھی۔ ذاتی طور پر وہ ایک نہایت شفیق، مرنجان مرنج، وسیع المنظر او رکشادہ دل بزرگ ہیں۔ زیر نظر کتاب ان کے چوالیس فقہی رسائل و مقالات کا مجموعہ ہے۔ اسے مفتی صاحب مدظلہ کے لائق فرزند مولانا محمد رفیع عثمانی صاحب نائب مفتی دارالعلوم کراچی نے مرتب فرمایا ہے اور اس کے آغاز میں نہایت عمدہ انداز میں''تعارف'' قلمبند کیا ہے۔ کتاب کے خاص خاص عنوانات یہ ہیں۔ تکفیر کے اصول، قرآن کریم کا رسم الخط اور اس کے احکام، مسئلہ تقلید شخصی، سمت قبلہ،حرف ضاد کا صحیح مخرج، رؤیت ہلال کے شرعی احکام، احکام رمضان المبارک و مسائل زکوٰۃ، احکام عیدالاضحیٰ و قربانی مواقیت احرام او ران کے مسائل۔

مفتی صاحب مدظلہ حنفی (دیوبندی) مسلک سے وابستہ ہیں او راپنے مسلک کو خلوص نیت سے حق سمجھتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے تمام مسائل کا شرعی حل اسی مسلک کے مطابق پیش کیا ہے مختلف مسائل میں دوسرے دینی مکاتب فکر سے اپنے اختلاف کو انہوں نے ایک خاص حد کے اندر رکھنے کی کوشش کی ہے۔پھر بھی دو تین مقامات پر طنز و تعریض کا رنگ پیدا ہوگیا ہے۔بہرصورت ان کی رائے اور نقطہ نظر میں وسعت کے آثار بھی ملتے ہیں۔

کتاب کی زبان شستہ و رفتہ ہے او رپیرایہ بیان بڑاشگفتہ اور جاندار۔ تاہم بعض ابواب کا پایہ علمی اتنا بلند ہے کہ ان کومتبحر علمائے دین ہی سمجھ سکتے ہیں او رغالباً یہ اونچے درجے کے علماء ہی کے لیے لکھے گئ ہیں بحیثیت مجموعی یہ کتاب ہمارے علمی اور دینی سرمائیے میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔

(2)

نام : مطالعہ اسلامیات

مؤلف : جناب امیر الہدیٰ ایم۔ اے (اسلامیات، اسلامی تاریخ، معاشیات) ایم ایڈ

ناشر : اختر بک ڈپو، اردو بازار کراچی

ضخامت : 320 صفحات

قیمت : ...... روپے

جناب امیر الہدیٰ نے یہ کتاب کراچی یونیورسٹی کے بی ایڈ کے طلبہ و طالبات کے استفادہ کے لیے لکھی ہے او راس کی ترتیب و تدوین میں عربی اور اُردو کی انتالیس بلند پایہ کتابوں او ربعض رسائل کے خاص نمبروں سے مدد لی ہے۔ کتاب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب مؤلف ایک دردمند اور مخلص مسلمان ہیں او راسلامی علوم و تاریخ و گہری نظر رکھتے ہیں۔ انہوں نے اسلام او راسلامی تعلیمات کے مختلف پہلوؤں پر نہایت حسن و خوبی کے ساتھ روشنی ڈالی ہے اور ثابت کیا ہے کہ اسلام ہی وہ دین ہے جو بنی نوع انسان کی فلاح و بہبو دکا ضامن ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے قرآن کریم، حدیث، اجماع اور قیاس پر بھی عمدہ انداز میں بحث کی ہے اور اسلام کی اخلاقی تعلیم کابھی رسول اللہ ﷺ کے اسوہ حسنہ کی روشنی میں جائزہ لیا کتاب کے چند عنوانات ملاحظہ ہوں۔

دین اور سائنس، دین او رفلسفہ، اقتصادیات کا مطالعہ دین اسلام کی روشنی میں، اسلام حرکی اور زندہ قوت کی حیثیت سے، اسلام میں عدل کاتصور، اسلام کا نظریہ اخلاق او راس کی بنیادی خصوصیات ، قرآن اور حدیث کی روشنی میں مرد مومن کی خصوصیات، نبی کریمﷺ بحیثیت مصلح اعظم، کتاب میں اکثر جگہ زبان ، کتابت او راملا کی غلطیاں دیکھ کر کھٹک پیدا ہوئی ۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں ۔ متعدد آیات پراعراب صحیح نہیں لگائے گئے یا ان میں سے کسی کسی جگہ 'الف' یا 'و' ترک ہوگیا ہے۔

مآخذوں (صفحہ 6)کے بجائے مآخذ لکھنا چاہیے تھا۔

انتقاع (صفحہ 52) انتفاع کی جگہ لکھا گیا ہے لیکن ایکسپلائے ٹیشن کا صحیح ترجمہ استحصال ہے۔ ''نہ ہی'' جگہ جگہ دیکھنے میں آیا ہے ، نہ کے معاً بعد ہی لکھنا غلط العوام ہے۔

قابل جرم (صفحہ68) صرف جرم لکھنا چاہیے تھا۔

(صفحہ 72) پر ربیع بنت نضر کی جگہ ربیع بنت النفر لکھا گیا ہے، اسی طرح حضرت انسؓ بن نضر کو انس بن نفر لکھا گیا ہے۔

جبلہ بن الہمم (صفحہ 72) یہاں جبلہ بن الایہم ہونا چاہیے۔

قیصر و کسریٰ اور روم جیسی عظیم سلطنتوں کو اُلٹ کر رکھ دیا (صفحہ 79) قیصر و کسریٰ تو روم او رایران کے فرمانروا تھے۔

بہمیت (صفحہ 81،84) کی جگہ بہمییت ہونا چاہیے۔

عمار بن یاثر (صفحہ 88) یہاں یاسرؓ کی جگہ یاثر کتابت ہوگیا ہے۔

کرہ زمین (صفحہ 90) کی جگہ گرہ زمین ہونا چاہیے۔

(صفحہ 27) پرتپسیا کی جگہ بپتسیا لکھا گیا ہے۔

راجہ کنشک اشوک (صفحہ 131) کنشک اور اشوک دو مختلف حکمران تھے۔

انحتاط (صفحہ 137) یہاں انحطاط ہونا چاہیے۔

عزیز علیہ السلام (صفحہ137) صحیح نام عزیر (ع ز ے ر) ہے۔

کے ران میں چوٹ لگ گئی (صفحہ 137) ران مؤنث ہے۔

بیت اللحم (صفحہ 142) صحیح لفظ بیت الحم ہے۔

ہدف ملامت (صفحہ 142) کی جگہ ہدف ملامت ہونا چاہیے تھا۔

قیس (صفحہ 144) صحیح لفظ قسِیس ہے۔

مرتب کی (صفحہ 154) یہاں مرتب کیا ہونا چاہیے۔

اس کو ایک اعلیٰ مقام رہا چنانچہ قدیم رومانیوں (صفحہ 156) یہاں مقام کے بعد ''حاصل'' کا لفظ ترک ہوگیا ہے۔رومانیوں کی جگہ رومیوں ہونا چاہیے۔

بعث کا مقصد (صفحہ 179) یہان ''بعثت کا مقصد'' لکھنا چاہیے تھا۔

دجیہ کلبی (صفحہ 189) صحی نام دحیہ کلبیؓ ہے۔

قرآن کو جگہ جگہ قران کیا گیا ہے۔

استفادہ حاصل کرنا چاہیے (صفحہ 217) یہاں حاصل زائد ہے۔

اعزاء و اقارب (صفحہ 231) اعزہّ و اقارب لکھنا چاہیے تھا۔

ان تسامحات کےعلاوہ کسی کسی جگہ زبان میں جھول بھی پایا جاتا ہے۔ انگریزی الفاظ بدخط بھی ہیں او ران کے ہجے بھی کئی جگہ غلط ہیں۔ بہتر یہ تھا کہ ان کے ٹائپ شدہ چربے لگائے جاتے۔

امید ہے کہ آئندہ ایڈیشن میں یہ تمام خامیاں دور کردی جائیں گی۔ ان خامیوں سےقطع نظر یہ کتاب نہ صرف طلبا و طالبات بلکہ علوم اسلامی سےدلچسپی رکھنے والے عام لوگوں کے لیے بھی ایک بیش بہا تحفہ ہے۔ اس کے مطالعہ سے معلومات میں اضافہ او رایمان میں تازگی پیدا ہوتی ہے۔