مدرسہ رحیمیہ دھلی برصغیر کے ان مدارس میں شامل ہے جو اگرچہ کسی حکومت کی سرپرستی کے بغیر قائم ہوا لیکن علوم قرآن و سنت کی ترویج میں دنیا بھر کے ممتاز مدارس میں شمار ہوا۔ آج دنیائے اسلام کا شاید ہی کوئی عالم ایسا ہو جو کسی نہ کسی واسطے سے اس مدرسہ کاخوشہ چین نہ ہو۔ حضرت شاہ عبدالرحیم ، حضرت شاہ ولی اللہ ، حضر ت شاہ عبدالعزیز، حضرت شاہ رفیع الدین، حضرت شاہ عبدالقادر، حضرت شاہ عبدالغنی، حضرت شاہ اسماعیل شہید، حضرت شاہ محمد اسحاق اور شیخ الکل سید محمد نذیر حسین محدث اس مدرسہ میں مسند درس و افتاء کی زینت بنے۔اتنے نامور علماء کا یکے بعد دیگرے یہاں مصروف درس رہنا اوردنیائے اسلام کے گوشے گوشے سے طلبا کا کھنچتے چلے آتا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ معنوی لحاظ سے اتنا بڑا مدرسہ برصغیر میں اج تک دیکھنے میں نہیں آیا۔

پچھلے دنوں جناب مولانامفتی محمود صاحب مدظلہم العالی کاایک مضمون نوائے وقت لاہورمیں شائع ہوا جس میں انہوں نے اس مدرسہ کا بانی جناب شاہ ولی اللہ کو قرار دیا تھا۔مجھے حیرت ہوئی کہ اتنی بڑی شخصیت سے کیونکر ایسی بات ادا ہوگئی جو ایک عامی کے نزدیک بھی قابل گرفت ہے کیونکہ مدرسہ رحیمیہ شاہ ولی اللہ نے نہیں بلکہ شاہ عبدالرحیم نے قائم کیا تھا۔ حیات ولی میں مولوی رحیم بخش لکھتے ہیں:

مدرسہ شاہ عبدالرحیم ، شاہ عبدالرحیم نے اپنے مکان مہندیوں میں عہد عالمگیر میں قائم کیا تھا (ص262) او رایک دوسرے مقام پر لےھتے ہیں ''شیخ (عبدالرحیم'' نے پرانی دہلی میں اس مقام پر ایک مدرسہ قائم کیا تھا جو اب مہندیوں کے نام سے مشہور ہے او راس کا نام مدرسہ رحیمیہ رکھا۔

گویا شاہ عبدالرحیم کے زمانے میں یہ مدرسہ مہندیوں میں قائم ہوا اور شاہ ولی اللہ کے سفر حج سے واپس آنے کے بعد بھی وہیں رہا۔ پھر شاہجہان آباد منتقل ہوگیا۔مولوی سید احمد لکھتے ہیں: ''روشن اختر شاہ بادشاہ کازمانہ تھا اس نے چاہا کہ شاہ صاحب کے دم سے شاہجہان آباد کی عزت ہوئی کیا کہنا ہے۔لہٰذا مولانا (شاہ ولی اللہ) کو بلایا او رایک عالی شان مکان رہنے کو دیا (خاتمہ تاویل الاحادیث ص88)

یہ مکان اس محلے میں تھا جو کلاں محل کہلاتا تھا۔ اس مکان کا وہ حصہ جو شاہ صاحب کے خاندان کی سکونت کے لیےمخصوص تھا۔ زنانہ کہلاتا تھا اور بیرونی حصہ جس میں درس گاہ تھی مدرسہ کہلاتا تھا۔

حضرت شاہ عبدالعزیز کے دور میں بھی مدرسہ اسی جگہ (کلاں محل) میں قائم رہا۔ البتہ اس مدرس یعنی شاہ عبدالقادر نے اکبر آبادی مسجد کے حجرے میں اقامت اختیارکرلی۔ اس لیے طلبا ان سے متعلق اسباق کے لیے اکبر آبادی مسجد میں حاضری دیاکرتے تھے۔ شاہ اسحاق کے دور میں ایک اور تغیر ہوا کہ مقامات درس مزید تقسیم ہوئے۔ اصل او رقدیم مدرسجہ واقع کلاں محل جو اس زمانے میں جیسا کہ مولوی بشیر الدین وغیرہ نے لکھا ہے۔ مدرسہ شاہ عبدالعزیز کہلاتا تھا۔ایک بڑی حویلی کا ایک حصہ تھا او ردوسرا حصہ زنانہ کہلاتا تھا جو ورثاء شاہ ولی اللہ و شاہ عبدالعزیز کی قیام گاہ تھا۔ شاہ عبدالعزیز کے نواسے شاہ اسحاق و شاہ یعقوب بھی اپنی والدہ کی حیات میں یہیں سکونت پذیر تھے۔ شاہ اسحاق کی والدہ کا انتقال چونکہ اپنے والد (شاہ عبدالعزیز) کی زندگی میں ہوگیا تھا اس لیے شاہ عبدالعزیز نے ان دونوں نواسوں کی سکونت کے لیے ایک الگ قطعہ زمین خرید کر اس پر عمارت تعمیر کروا دی۔ جہاں یہ دونوں بھائی رہتے اور درس دیتے۔ اس لیے یہ عمارت مدرسہ شاہ اسحاق کہلانے لگی او رشاہ اسحاق ہی مدرسہ شاہ عبدالعزیز کے صدر مدرس اور نگران تھے۔ اس واقعہ کی تعبیر یوں بھی کی جاسکتی ہے کہ مدرسہ قسیم کامقام تبدیل ہوگیا اور یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ مقامات درس تقسیم ہوگئے کیونکہ باقی اساتذہ (شاہ مخصوص اللہ اورشاہ محمد موسیٰ) قدیم مدرسجہ ہی میں پڑھاتے تھے جسے مدرسہ شاہ اسحاق کی تعمیر کے بعد مدرسہ کہنہ بھی کہنے لگے تھے۔

اس کے بعد ذیعقد 1258ھ میں شاہ اسحاق حجاز چلے گئے۔ شاہ مخصوص اللہ تدریس سے دست کش ہوگئے اور گوشہ نشینی کی زندگی گزارنے لگے اورشاہ محمد موسیٰ شاہ اسحاق کی ہجرت کے 9اہ بعد رجب 1259ھ میں فوت ہوگئے۔

بظاہر یہ علمی بسا ط الٹ گئی ۔ خاندان ولی اللہٰی میں کوئی فرد اس مدرسہ میں پڑھانے والا باقی نہ رہا۔ لیکن قدرت کو ابھی اس مدرسہ کا انجام منظور نہ تھا۔ اس لیے اس خاندان کے ایک روحانی بیٹے (تلمیذ) سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی اورنگ آبادی مسجد میں قال اللہ وقال الرسول کے نغمے الاپنے لگے۔ مدرسہ رحیمیہ کی وراثت ادھر منتقل ہوگئی ۔ عوام الناس نے وہ لقب جو صرف خاندان ولی اللہ کے افراد کے لیے مخصوص تھا (یعنی میاں صاحب) وہ سید نذیر حسین کو دے دیا اور آپ نے اپنے اساتذہ کی مسند پر بیٹھ کر اس دلجمعی سےکام کیا کہ نہ صرف اہل دہلی بلکہ سارا برصغیر آپ کو میاں صاحب کے لقب سے یاد کرنے لگا۔

ہمارے دیوبندی احباب کا کہنا ہے کہ (1) مدرسہ نذیریہ مدرسہ رحیمیہ سے الگ کوئی ادارہ تھا (2) شاہ اسحاق کے جانشین میاں صاحب کی بجائے شاہ عبدالغنی مجددی ہوئے (3) دیو بندکا مدرسہ مدرسہ رحیمیہ کا نشاۃ ثانیہ تھا۔ لیکن یہ تینوں باتویں واقعہ کے خلاف ہیں۔مدرسہ نذیریہ اسی طرح مدرسہ رحیمیہ جس طرح مدرسہ عزیزیہ مدرسہ کہنہ، اکبر آبادی مسجد کا مدرسہ، کلاں محل کا مدرسہ شاہ اسحاق ، دراصل مدرسہ رحیمیہ کی مختلف شکلیں تھیں۔ اس زمانے میں نام کی بجائے کام چلتا تھا۔ ان بزرگوں نے صرف کا م کیامدرسوں کے نام رکھنے کی جانب توجہ نہیں دی، مدرسہ رحیمیہ کانام بھی نہ شاہ عبدالرحیم نے رکھا نہ شاہ ولی اللہ نے نہ ان کے صاحبزادوں یا خلفاء نے بلکہ بہت بعد میں جاکر محض اس مناسبت سے کہ اس نادر علمی کا آغاز شاہ عبدالرحیم نے کیا تھا اسے مدرسہ رحیمیہ کہا جانے لگا جو شاہ ولی اللہ کی وفات سے بھی بعد کی بات ہے۔ دہلی میں جس جس جگہ اس خاندان کے افراد بیٹھ کر پڑھاتے رہے وہ جگہیں ان کے ناموں سےموسوم ہوگئیں او ربنیادی طور پر شاہ عبدالرحیم کے قائم کردہ مدرسہ کی مختلف شکلیں تھیں۔ اس وجہ سے مدرسہ نذیریہ یہ بھی اس طرح مدرسہ رحیمیہ ہے جس طرح مدرسہ عزیزیہ، مدرسہ رحیمیہ تھا ۔ جس طرح شاہ اسحاق والا کلاں محل میں واقعہ مدرسہ ، مدرسہ رحیمیہ تھا اور جس طرح اکبر آبادی مسجد میں شاہ عبدالقادر کی درس گاہ مدرسہ رحیمیہ تھی۔ اس لیے جگہ یا نام کی تبدیلی اصل پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ دوسری بات کہ شاہ عبدالغنی مجددی جناب شاہ اقحاق کے جانشین تھے۔ واقعتاً غلط ہے۔ کیونکہ شاہ صاحب کی ہجرت کے بعد 9 ماہ تک تو ان کے بھائی شاہ محمد موسیٰ ہی درس دیتے رہے لیکن چونکہ ان کا آزادانہ کام کرنے کا عرصہ بہت مختصر ثابت ہوا اس لیے تاریخ میں انہیں نمایاں مقام نہ مل سکا۔ شاہ عبدالغنی مجددی کی عمر اس وقت 25 سال تھی او رمیاں صاحب کی عمر اس وقت 40 سال کے لگ بھگ تھی۔ جس میں سے تیرہ سال کا عرصہ وہ شاہ اسحاق کے زیرتربیت گزار چکے تھے۔ 40 سالہ نامور عالم دین کے مد مقابل 25 سالہ نو آموز کو ترجیح دینا کچھ عمدہ بات دکھائی نہیں دیتی۔ پھر لقب میاں صاحب کا سید نذیر حسین پر چسپاں ہوجانا اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ اس دور کےہر خاص و عام نے آپ ہی کو خاندان ولی اللہ کا جانشین سمجھا تھا۔ مزید برآں 1857ء کی جنگ آزادی کے معاً بعد اسی سال شاہ عبدالغنی ہند سے جانب حجاز ہجرت کرگئے۔ گویا ان کی مسند خالی ہوگئی۔ اگر دیو بند کو مدرسہ رحیمیہ کی نشاۃ ثانیہ سمجھا جائے تو شاہ عبدالغنی کی ہجرت اور دارالعلوم کے قیام کادرمیانی عرصہ (دس سال تک) یہ مسند خالی رہی او رپر بساط بچھی تووہ بھی دہلی میں نہیں بلکہ دیوبند میں۔

اس قسم کی صورت حال سے ہم بخوبی عہد برآ ہوجاتے ہیں جب ہم حقیقت کو تسلیم کرلیں او رحقیقت یہ ہے کہ مسند اسحاق جناب سید نذیرحسین کو ملی ۔ وہ نہ صرف 1857ء تک دوران جنگ بھی جبکہ کسی کو گردوپیش کا ہوش بھی نہ تھا مسند پر بیٹھے عارف باللہ مولاناغلام رسول اور سید عبداللہ غزنوی کو پڑھاتے نظر آرہے ہیں او رپھر جنگ کے بعد بھی (سوائے ان چند ماہ کے جب انگریزوں نے دہلی کو اہل دہلی سے مکمل طور پر خالی کرالیا تھا اورچندماہ بعد واپسی کی اجازت دی) 1902ء تک تبدیلی مقام (کیونکہ جنگ کے بعد اورنگ ابادی مسجد مسمار کردی گئی تھی اور میاں صاحب پھاٹک حبش خان میں چلے گئے تھے) اس مسند پراس شان سے براجمان رہے کہ عالم اسلام کے گوشے گوشے سے طلبا کسب فیض کے لیے آتے رہے۔