(قسط 19)

روایات

ان کے تاریخی حقائق کی تفصیل بڑی طویل ہے ، جس کا یہ مقام متحمل نہیں ہے بہرحال وہ جتنی بھی ہے انہی حقائق کی ذیلی سرخیاں ہیں جوقرآن حکیم نے بیان فرمائی ہیں جن کاخاکہ اوپر کی سطور میں ہم نے سامنےرکھا ہے۔کتاب اللہ کی طرح ''سنت رسول اللہﷺ'' نے بھی بعض مقامات پر ان کاذکر کیا ہے ،گو ان سب کا استقصا یہاں مشکل ہے، تاہم وہ چند امور جو ضروری ہے، حاضر ہیں:

محمد بن اسحاق کی روایات ابن ہشام او رابن کثیر سےماخوذ ہیں۔

غیراللہ کی پوجا: غیراللہ کی پوجا کیاکرتے تھے۔ یہودی حضرت عزیر کی او رعیسائی حضرت عیسیٰ علیہم السلام کی۔

عن أبي سعید : و غبرات أھل الکتب فتدعي الیهود فیقال لھم من کنتم تعبدون، قالوا: کنا نعبد عزیر بن اللہ.... ثم تدعي النصاریٰ فیقال لھم من کنتم تعبدون قالوا: کنا نعبد المسیح ابن اللہ ! فیقال لھم کذبتم ما اتخذ اللہ من صاحبة ولا ولدا(بخاری)

خدا کو گالیاں : یہود اور مشرکین عرب نے اللہ کی لڑکیاں او رلڑکے، بیٹے او ربیٹیاں بنا رکھی تھیں۔ حضورﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ کاارشاد ہے کہ ابن آدم نے مجھے گالیاں دی ہیں، حالانکہ ان کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ، یعنی کہتے ہیں کہ خدا کی اولاد ہے۔

وأما شتمه إیاي؟ فقوله : اتخذاللہ ولدا وأنا اللہ الأحد الصمد (ابن مردویۃ عن ابی ہریرہ)

انبیاء پر تہمتیں : یہود اور نصاریٰ دونوں اس امر پرمصر تھے کہ وہ یہودی تھے۔ عیسائی کہتے ہیں کہ وہ نصرانی تھے۔

عن ابن عباس : قال اجتمعت نصاریٰ نجران و أحبار یهود ، عند رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتنازعوا عندہ فقالت الأحبار:ماکان إبراہیم إلا یهود یا وقالت النصاریٰ:ماکان إبراهیم إلا نصرانیا فأنزل اللہ تعالیٰ یا أھل الکتب لم تحاجون في إبراهیم (رواہ محمد بن اسحاق)

اے رسول! ہمارے پیچھے لگ: یہودی اور عیسائی رسول اللہ ﷺ کا اتباع کرنے کے بجائے آپ سے کہتے کہ اگر ہدایت چاہتے ہو تو ہمارے پیچھے چلو وا رہماری اتباع کرو، کیونکہ ہدایت صرف ہمارے پاس ہے۔

عن ابن عباس قال: قال عبداللہ بن صوریا الأعور لرسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ماالھدی إلا ما نحن علیه فاتبعنا یا محمد تھتدو قالت النصاری مثل ذلك فأنزل اللہ عزوجل (وقالوا كونوا هودا أو نصارى تهتدوا )وقوله (قل بل  ملة إبراهيم حنيفا) ( رواہ محمد بن اسحاق)

اپنی حالت: دعوی یہ کہ ہدایت صرف ہمارے پاس ہے اس لیے رسول کریمﷺ کو بھی ان کے پیچھے چلنا چاہیے، مگر اپنی حالت یہ کہ: انبیاء کے بجائے اتباع اپنے آباؤ اجداد کی کرتے تھے۔

عن ابن عباس: إنھا ( بل نتبع ما ألفینا)نزلت في طائفة من الیهود دعاھم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم إلی الإسلام فقالوا:بل نتبع ما ألفینا علیه آباء نا (ابن کثیر)

دس کے سوا باقی سب نبی ان میں آئے: یہ بات نہیں کہ ان کے پاس نبی نہیں پہنچے او ران کو باپ دادوں کی راہ اختیار کرنا پڑی ، بلکہ معاملہ برعکس ہے، اللہ کے نبی ان کے پاس پہنچے او رکافی پہنچے، دس کے سوا باقی سب نبی ان کے ہاں پہنچے۔

کل الأنبیاء من بني إسرائیل إلاعشرة:نوح و ھود و صالح و شعیب و إبراهیم و إسحاق و یعقوب و إسماعیل و محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (رواہ محمدبن جعفر الانباری ( ابن کثیر)

جبرائیل ہمارا دشمن ہے: انبیاء کے پاس جو وحی آئی ہے وہ حضرت جبرائیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعے آئی ہے مگران کا کہنا ہے کہ وہ تو ہمارا دشمن ہے۔

ولو کان ولیك سواہ تابعناك و صدقناك قال فما یمنعکم أن تصدقوہ؟ قالوا انه عدونا (ابن جریر طبری)

رب ہمارا محتاج ہے: دماغ کی خرابی کی بھی حد ہوتی ہے مگر ان کا باواآدم ہی نرالا ہے: کہتے ہیں کہ خدا کی تو ہمیں حاجت نہیں، وہ ہمارا محتاج ہے۔

دخل أبوبکر الصدیق بیت المدراس فوجد من یهود ناساکثیرة اجتمعوا علی رجل منھم یقال له فنحاص وکان من علمائھم و أحبارھم....... فقال فنحاص: واللہ! یا أبابکر ما بنا إلی اللہ من حاجة من فقروإنه إلینا الفقیر ......الخ ( رواہ محمد بن اسحاق)

مشائخ اور علماء بھی نہیں ٹوکتے تھے: بدنصیبی یہ تھی کہ ان کے مشائخ او رعلماء بھی ان کو اس قسم کی حماقتوں سے نہیں روکتے تھے۔ اگر آج روکتے تو کل ان کے ساتھ شیروشکر بھی ہورہتے۔

خطب علي ابن أبي طالب۔ فحمد اللہ و أثنیٰ علیه ثم قال، أیھا الناس إنما ملك من کان قبلکم برکوبھم المعاصي ولم ینھھم الربانیون والأحبار (رواہ ابن ابی حاتم۔ ابن کثیر)

انبیاء کرام کوقتل کیا: مانناتو کجا انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے قتل سے بھی دریغ نہ کیا، ایک نہیں، دس بیس نہیں ، سو نہیں تین سو نبی قتل کرڈالے۔

قال ابن مسعود:قتلت بنو اسرائیل ثلث مائة نبي من أوّل النهار و أقاموا أسوق بقلھم من آخرہ(ابن جریر طبری و ابن ابی حاتم)

مکی مدنی کے قتل کی سازش کی: رسول اللہ ﷺ کے قتل کی بھی سازش کی۔ بکری کے گوشت میں زہر ملا کر دیا۔

عن أبي هریرة قال: لما فتحت خیبرأ ھدیت لرسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم شاة فیھا سم .... قال ھل جعلتم في ھذہ الشاة سما فقالوا:نعم! قال فما حملکم علی ذلك ؟ فقالوا: أردنا إن کنت کاذباً أن نستریح منك وإن کنت نبیاً لم یضرك (رواہ ابوداد احمد و البخاری والنسائی)

بنو نضیر نے سازش کی کہ مکان پرچڑھ کر رسول اللہ ﷺ پر پتھر لڑھکا دیا جائے تاکہ جھنجھٹ ختم ہو۔

فخلا بعضھم ببعض قالوا لن تجدوا محمد ا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أقرب منه الآن فمن رجل یظھر علی ھذا البیت فیطرح علیه صخرة فیریحنا منه؟ فقال عمرو بن جحاش ابن کعب: أنا ، فأتی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم علیه الخبر فانصرف عنه (ابن ہشام)

آخرت میں ان پر جھوٹ بولیں گے: جب انبیاء او ران کی امتوں کو بلا کر پوچھا جائے گا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سےبھی پوچھا جائے گاکہ کیا آپ نے ان سے کہا تھا کہ مجھے او رمیری والدہ کو خدا بنا لینا، تو آپ انکار کریں گے، پھر عیسائیوں سے پوچھا جائے گا تو یہ کمبخت ذرہ حیا نہیں کریں گے اور کہیں گے کہ ہاں انہوں نے ہم سے کہا تھا۔

عن أبي موسیٰ الأشعري: قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم : إذا کان یوم القیمة دعي بالأنبیاء داعھم ثم یدعی بعیسیٰ.... ثم (أ أنت قلت للناس اتخذوني وأمي الهين من دون الله) فینکرأن یکون قال ذلك فیؤتی بالنصاری فیسئلون فیقولون :نعم ھوأمر نا بذالك (رواہ ابن عساکر و ابن کثیر)

بیت المقدس کی تباہی: ان ظالموں نے باہممی بغض و عناد کی وجہ سے بیت المقدس کو تباہ کرایا۔

عن قتادۃ: قوله(وسعی فی خرابھا) قال ھو بخت نصر و أصحابه خرب بیت المقدس و أعانه علی ذلك النصاری وقال سعید عن قتادۃ قال أولئك أعداء اللہ النصاری حملھم بغض الیهود علی أن أعانوا بخت نصر البابلي المجوسي علی تخریب بیت المقدس (رواہ عبدالرزاق۔ ابن کثیر) وروي في تفسیر عن ابن عباس:ھم النصاریٰ:کانوا یطرحون في بیت المقدس و یمنعون الناس أن یصلوا فیه (ابن کثیر)

حیلے باز اور مکار: یہ بہت بڑے مکار او رحیلے باز بھی ہیں: حضور نے فرمایا: تم بھی ان کی طرح حیلےباز نہ بنو۔

عن أبي هریرة: أن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم قال: لا ترتکبوا ما ارتکبت الیهود فتستحلوا محارم اللہ بأدنی الحیل (رواہ ابن بطۃ ۔ابن کثیر)

آپ نے فرمایا: یہودیوں کا ناس ہو: اللہ نے ان پر چربی کھانا حرام کی تو انہوں نے اسے بیچ کر اس کے منافع کھائے۔

قاتل اللہ الیهود حرمت علیهم الشحوم فباعوھاأکلوا ثمنھا (رواہ البخاری عن ابی ہریرۃ)

ان کے ہاں کتاب الحیل کا سلسلہ کافی طویل ہے۔

انہوں نے مچھلی پکڑنے کے لیے حیلہ کیا کہ اس دن بندلگا کر روک لیتے،اگلے دن پکڑ لیتے، کیونکہ اس دن مچھلیاں آتی نہیں تھیں۔ (ابن کثیر)

بہت بڑے فرقہ باس بھی تھے: اختلاف رائے الگ بات ہے کہ فروع کو اصولوں کے درجے میں رکھ کر ایک دوسرے کی تکفیر، تضلیل یا تضحیک اور تحقیر کے سامان کرنا بجائے خود بے دینی ہے، جس میں یہ بنی اسرائیل بُری طرح مبتلا تھے:یہودی کہتے عیسائی کچھ نہیں وہ کہتے یہودی کچھ نہیں۔

عن ابن عباس:قال لماقدم أهل  نجران من النصاریٰ علی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم أتتھم أحبار یهود فتنازعوا عند رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم فقال رافع بن حرملة ما أنتم علی شيء  و کفر بعیسیٰ و بالإنجیل و قال رجل من أھل نجران من النصاریٰ للیهود: ما أنتم علی شيء  وجحد نبوة موسی و کفر بالتوراة (رواہ محمد بن اسحاق)

حضور فرماتے ہیں: یہ لوگ بہتر فرقوں میں تتر بتر ہوگئے یعنی بےشمارفرقے بن گئے تھے۔

عن معاویة بن أبي سفیان:فلماقدمنا مکة حین صلي الظهر فقال: إن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم قال:إن أھل الکتابین افترقوا في دینھم علی ثنتین و سبعین ملة الحدیث (رواہ احمد عن ابی عامر) وفي روایة: تفرقت أمة موسیٰ علی إحدی و سبعین ملة سبعون منھا في النار وواحدة في الجنة و تفرقت أمة عیسیٰ علی ثنتین و سبعین ملة، واحدة منھا في الجنة وإحدی و سبعون منھا في النار و تعلوا أمتي علی الفرقتین جمیعاً واحدة في الجنة و ثنتان و سبعون في النار (رواہ ابوبکر بن مردویہ۔ ابن کثیر)

بہت بے اعتبارے: اپنی کج روی اوربے دینی کی بنا پر ان پر سے لوگوں کا اعتماد اُٹھ گیا تھا:ایک مسلم کا ایک اسرائیلی سے زمین کا جھگڑا تھا۔ مقدمہ حضورﷺ کے پاس گیا آپؐ نے مسلم سے کہا کہ : کوئی گواہ؟ کہا: نہیں ہے، یہودی سےکہا کہ:قسم دے! مسلمان نے کہا۔ ان کی قسموں کاکیا ہے، یہ تو قسم کھالے گا۔

کان بین و بین رجل من الیهود أرض فجحد في الأرض فقدمته إلی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم فقال لي رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم:ألك بینة؟ قلت لا! فقال للیهودي احلف ! فقلت یارسول اللہ إذا یحلف فیذھب مالي (رواہ احمد)

قالو: إنما ھم یهود وقد یجترئون علی أعظم من ھذا(ابوداؤد)

قالوا: یارسول اللہ قوم کفار( ابوداؤد)

آپ نے ایک اور موقع پر فرمایا کہ اہل کتاب سے مت پوچھا کرو، وہ خود گمراہ ہیں تمہیں کیسے راہ دکھائیں گے۔

لا تسئالواأهل الکتب عن شيء  فإنھم لن یھدوکم وقد ضلوا(رواہ ابویعلی ابن کثیر)

حضور سےکہتے ہیں کہ :پانچ چیزوں کے بارے میں اگر آپ صحیح جواب دے دیں تو ہم مسلمان ہوجائیں گے، جب آپ نے سب کچھ بتا دیاتو کہنےلگے کہ آپ کادوست اور وحی لانے والا جبریل نہ ہوتا تو ہم آپ کومان لیتے۔

قالوا أفعند ذلك نفارقك ولو کان ولیك غیرہ متابعتك (رواہ احمد عن ابن عباس)

یہود کا حضور سے جومعاہدہ ہوا تھا، اس کے سب سے اہم قبیلہ بنو قینقاع نے سب سے پہلے دھجیاں بکھیری تھیں۔

إن بنی قینقاع کانوا أوّل یهود نقضوا ما بینھم و بین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و حاربوا فیما بین بدر وأحد (رواہ محمد بن اسحاق) فلما کانت وقعة بدر أ ظهروا البغي والحسد و نبذوا العھد (ابن سعد)

اوّ ل درجے کے بدزبان: حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو گالیاں تک دینے سے پرہیز نہیں کرتے تھے۔

حضورﷺ سے ''سلام علیکم'' کرتے تو ''اسام علیک'' (تجھ کوموت آئے)بولتے تھے (بخاری)

بنو قریضہ کے قلعوں کے پاس جب حضرت علی ؓ پہنچے تو سنا کہ وہ حضورﷺ کی شان میں بدزبانی کررہے ہیں اور گالیاں دے رہے ہیں۔

إذا  دنا من الحصون سمع منھا مقالة قبیحة لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منھم (طبری)

کبھی ''راعنا'' کہہ کر اپنے دل کی بھڑاس نکالتے تھے (تفسیر ابن جریر)

حق کو چھپانا: صحیح مسلک حق کی اشاعت او رحق کی تعمیل ہے،جو لوگ اسے چھپاتے ہیں وہ اہل حق نہیں ہوسکتے، ان کو کتمان حق کا مرض بھی لگ گیا تھا۔

زانی کو سنگسار کرنےکے متعلق آپؐ نے ان سے پوچھا تو صاف مُکر گئے کہ تورات میں اس کا حکم نہیں،او ررجم کرنے کی جو آیت تورات میں درج تھی اس پر ہاتھ دے رکھا تھا کہ نظر نہ آئے، حضرت عبداللہ بن سلام نے ان کا ہاتھ اوپر اٹھایا تو رجم کاصاف حکم موجود تھا۔

أَنَّ اليَهُودَ جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ مِنْهُمْ وَامْرَأَةٍ قَدْ زَنَيَا، فَقَالَ لَهُمْ: «كَيْفَ تَفْعَلُونَ بِمَنْ زَنَى مِنْكُمْ؟» قَالُوا: نُحَمِّمُهُمَا وَنَضْرِبُهُمَا، فَقَالَ: «لاَ تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ الرَّجْمَ؟» فَقَالُوا: لاَ نَجِدُ فِيهَا شَيْئًا، فَقَالَ لَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ: كَذَبْتُمْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ، فَوَضَعَ مِدْرَاسُهَا الَّذِي يُدَرِّسُهَا مِنْهُمْ كَفَّهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ فَطَفِقَ يَقْرَأُ مَا دُونَ يَدِهِ، وَمَا وَرَاءَهَا وَلاَ يَقْرَأُ آيَةَ الرَّجْمِ، فَنَزَعَ يَدَهُ عَنْ آيَةِ الرَّجْمِ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ؟ فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ قَالُوا: هِيَ آيَةُ الرَّجْمِ، فَأَمَرَ بِهِمَا فَرُجِمَا(بخاری)

یہودیوں نے کہا کہ ہم مسلمان ہیں، رسول کریمؐ نے فرمایا تو پھر حج کرو ، کہنے لگے کہ ہم پر حج فرض نہیں کیا گیا۔

قالت الیهود:فنحن مسلمون.... فقال لھم النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: إن اللہ فرض الناس حج البیت من استطاع إلیه سبیلا فقالوا لم یکتب علینا و أبوا أن یحجوا (رواہ سعید بن منصور ۔ ابن کثیر)

پرایا مال اپنا: ان کا نظریہ یہ تھا کہ جو غیر یہودی ہیں، ان کا مال بٹور لینا رواہ ہے،ایک شخص نے حضرت ابن عباس سے پوچھا، جنگ میں چھوٹی موٹی چیزیں مثلاً مرغی وغیرہ مل جائے تو کیا کیا جائے؟ آپ نے کہا کہ تم کیا کہتے ہو، کہنے لگے تم نے تو وہی بات کی جو اہل کتاب کہتے تھے۔

إنا نصیب في الغزو من أھل الذمة الدجاجةوالشاة، قال ابن عباس: فتقولون ماذا؟ قال: نقول لیس علینا بذلك بأس، قال: ھذا کما قال أھل الکتاب:لیس في الأمیین سبیل(آل عمران ع8) (رواہ عبدالرزاق)

رب کنجوس ہے: ایک یہودی نے حضورﷺ سے کہا کہ آپ کا رب کنجوس ہے، خرچ کرتا ہی نہیں۔

قال ابن عباس قال رجل من الیهود یقال له شاس بن قیس إن ربك بخیل لا ینفق (رواہ محمد بن اسحاق)

تورات انجیل سے استفادہ نہیں کرتے: تورات او رانجیل ان کے سامنے ہے مگر فائدہ نہیں اٹھاتے۔ صرف طوطے کی طرح ان کو پڑھ لیتے ہیں۔

أو لیس ھذا الیهود والنصاریٰ یقرؤن التوراة والإنجیل ولا ینفعون بما فیھما بشيء (رواہ ابن ماجۃ)

اپنے وقت کے دانشور ہیں: وہ اپنے وقت کے دانشور ہیں کہ جھوٹ موٹ بیان کرکے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں ان کو ''بُہت'' کہتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن سلام جو پہلے خود بھی یہودی تھے، انہوں نے ان پر تبصرہ کرتے ہوئےفرمایا:

إن الیهود قوم بُھت (بخاری) قال ابن حجر:ھو الذي  یبھت السامع بما یفتریه علیه من الکذب (فتح)

ان کے سردار رسّہ گیر:لوٹ کا مال آتا تھا تو چوتھا حصہ ان کا ہوتا تھا۔

عن عدي بن حاتم فقال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم یا عدي أسلم تسلم فقلت أنا من أھل دین، قال أنا أعلم بد ینك منك فقلت أنت أعلم بدیني مني؟ قال: نعم، ألست من الرکوسیة وأنت تأکل مرباع قومك قلت بل! قال فإن ھذا لا یحل لك في دینك الحدیث( رواہ احمد)

آمد سے پہلے انتظار پھر انکار: حضورﷺ کی بعثت سے پہلے آپ کاانتظار کرتے تھے۔ جب آگئے توانکار کیا۔

عن ابن عباس: إن یهود کانوا یستفتحون علی الأوس والخزرج برسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبل مبعثه فلما بعثه اللہ من العرب کفرو ابه (رواہ محمد بن اسحاق)

الہٰی! مضر کوتباہ کر: یہودی قبیلہ مضر کےخلاف دعا کرتے ہوئے کہا! الہٰی! مضر کو پامال کردے او ران کو شدید قحط میں مبتلافرما۔

اللھم اشددوطأتک علی مضروا جعلھا علیھم سنین کسني یوسف۔ لیجھر بذلك (بخاری)

...... درگز فرماتے: انتہائی اور سنگین صورت حال کے سوا عموماً آپ نے ان کی زیادتیوں کو معاف ہی کیا ہے۔

قال أسامة بن زید: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و أصحابه یعفون عن المشرکین و أھل کتاب کما أمرھم اللہ و یصبر علی الأذی: قال اللہ (فاعفوا و اصفحوا ) (رواہ ابن ابی حاتم۔ ابن کثیر)

اکثر ان کے ساتھ موافقت کرتے: جب تک آپ کواللہ کی طرف سے منع نہ آتی آپ عموماً اہل کتاب کے ساتھ موافقت رکھنے کی کوشش فرماتے۔

قالوا ھذا یوم صالح، یوم نجی اللہ عزوجل فیه بني إسرائیل من عدوھم فصامه موسیٰ علیہ السلام فقال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم: أنا أحق بموسیٰ منکم فصامه وأمربصومه (رواہ احمد و بخاری) کان یحب موافقة أھل الکتاب فیما لم یؤمر فیه بشيء (بخاری)

اہل کتاب سے نکاح: جمہور کا مذہب یہی ہے کہ اہل کتاب، یہود و نصاریٰ کی عورتوں سےنکاح جائز ہے لیکن حضرت عمرؓ کا نظریہ ہے کہ موجودہ حالات میں اس سے پرہیز ہی کیا جائے۔

تزوج حذیفة یهودیة فکتب إلیه عمر: خل سبيلھا: فکتب إلیه أتزعم أنھا حرام فأخل سبیلھا؟ فقال لا أزعم أنھا حرام ولکني أخاف أن تعاطوا المؤمنات منھن (تفسیر ابن جریر طبری)

ان ابن عمر کرہ نکاح أھل الکتب وتأول (ولا تنكحوا المشركات حتى يؤمن ) وقال البخاري: وقال ابن عمر لا أعلم شرکا أعظم من أن تقول: ربھا عیسیٰ (رواہ ابن ابی حاتم۔ ابن کثیر)لیکن یہ قیاس ہے جو نص کے مخالف ہے۔

سنگدلی: یہ اس قدر سنگ دل تھے کہ ایک یہودی نے دو پتھروں کے درمیان ایک لونڈی کا سر رکھ کر اسے کچل دیا تھا۔ چنانچہ اسی طرح اس کاسر بھی دیا گیا تھا۔

إن یهود یاقتل جاریة علی أوضاح لھا فرضخ رأسھا بین حجرین.... فأخذ الیهودی فلم یزل به حتی اعترف فأمر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم أن یرض رأسه بین حجرین (بخاری و ابوداؤد وغیرہ عن انس)

او بندر و خنزیرو! قریظہ کے قلعوں کے زیر سایہ کھڑے ہوکر آپ نے ان کو یوں مخاطب فرمایا۔بندروں اور خنزیروں کے بھائیو! اور طاغوت کے بچاریو۔

قام النبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم یوم قریظة تحت حصونھم، فقال یا أخوان القردة والخنازیرو یا عبد الطاغوت الخ (ابن کثیر)

دراصل اس میں عبرت آموز تلمیح ہے کہ :غور کرو کہ جن آباء پرتم فخر کررہے ہو وہ کیا تھے اور تم خود ان کے نقش قدم پرچل کر، کس طرف بڑھ رہے ہو؟

اوباش: ان کا بااثر طبقہ اوباش قسم کےلوگوں پرمشتمل تھا۔

زمانہ جاہلیت میں فطیون نامی ایک بااثر یہودی تھا، جس کا یہ حکم تھا کہ جس لڑکی کی شادی ہو، پہلے اسے اس کے پاس بھیجناچاہیے،اس کے بعد وہ اپنے اصلی گھر جاسکتی ہے ، جس کو آخر ایک غیور شخص نے قتل کر ڈالا تھا۔ وفاء الوفاء)

ایک انصاری لڑکی ان کی دکان پر پہنچی تو انہوں نے بازاری انداز میں اسے چھیڑا۔ (ابوداؤد وغیرہ)

غیرعادلانہ نظام: بنو نضیر کے اگر کسی فرد کو بنو قریظہ کا آدمی قتل کردیتا تو بدلے میں اسے قتل کردیا جاتا، اگر بنونضیر کا آدمی بنوقریظہ کے کسی شخص کو قتل کردیتا تو قاتل قتل نہ کیا جاتا، اس سے صرف تاوان وصول کرلیاجاتا۔

إذاقتل رجل من قریظة رجلا من النضیر قتل به وإذا قتل رجل من النضیر رجلا من قریظة فعودل بمائة وسق من تمر (ابوداود)لیکن جب اسلام آیا تو پھر قصاص کا اصول جاری ہوا۔ النفس بالنفس (ابوداؤد)

ان کو سلام میں پہل نہ کرو: یہود و نصاریٰ کو پہلے سلام نہ کرو۔

لاتبدؤو الیهود و النصاریٰ إذا لقیتم (مسلم۔ ابوہریرۃ)

وعلیک یاعلیکم کہو: یہود جب سلام کرتے ہیں تو ''السام علیکم'' (تم کو موت آئے)کہتے ہیں تم بھی جواباً صرف ''وعلیکم'' اور ''علیک'' کہا کرو۔

إذا سلم علیکم الیهود فإنما یقول أحدھم ''السام علیك'' نقل و علیك (صحیحین ۔ ابن عمر )إذا سلم علیکم أھل الکتاب فقولوا و علیکم (صحیحین ۔ انسؓ)

ایک دفعہ یہودیوں کے ایک گروہ نے ایسا کیا تو حضرت عائشہؓ بولیں۔ علیکم السام و لعنۃ بعض روایات میں ہے۔ السام علیکم ولعنکم اللہ و غضب علیکم مگرآپ نے فرمایا: اے عائشہ نرمی کرو۔

استأذن رھط من الیهود علی النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فقالوا السام علیکم فقلت بل علیکم السام واللعنة (صحیحین ۔ عائشہؓ) وفي روایة للبخاری: السام علیکم و لعنکم اللہ وغضب علیکم فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مھلا یا عائشة علیك بالرفق (بخاری)

یہ لوگ قابل اعتبار نہیں ہیں: حضرت زید فرماتے ہیں ، آپ نے مجھے سریانی زبان سیکھنے کا حکم دیا اور فرمایا، مجھے مکاتیب کے سلسلے میں ان سےڈر لگتا ہے۔

أمرني رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وقال إني ما اٰمن یهود علی کتاب (ترمذی۔زید بن ثابت)

ان پر راستہ تنگ کردو۔ جب پاس سے یہود گزریں تو ان پر راستہ رنگ کردو (تاہ وہ احساس کمتری میں مبتلا رہیں)

وإذا لقیتم أحدھم في طریق فاضطررہ إلی أضیقه (مسلم ۔ ابوہریرہ)

چھینک کاجواب: یہود عمداً حضور کے پاس بیٹھ کر چھینکیں لیتے تاکہ آپ ان کو یرحکم اللہ کہیں مگر آپ اس کے بجائے یھدیکم اللہ و یصلح بالکم کہتے۔

کان الیهود یتعاطسون عند النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یرجون أن یقول لھم یرحمکم اللہ فیقول یھدیکم اللہ و یصلح بالکم (ترمذی۔ ابوموسیٰ)

ایمان نہ لائے تو دوزخی: یہودی او رنصرانی رسول اکرم ﷺ پر ایمان نہ لائے تو دوزخی ہوں گے۔

والذي نفس محمد بیدہ لا یسمع بي أحد من ھذہ الأمة یهودي ولانصراني ثم یموت ولم یؤمن بالذي أرسلت به إلا کان من أصحاب النار (بخاری و مسلم)

نماز میں آنکھیں بند کرنا: حضرت مجاہد کا کہنا ہے کہ نماز میں آنکھیں نہیں بند کرنا چاہیے کیونکہ یہ یہود کا طریقہ ہے۔

یکرہ أن یغمض الرجل عینیه في الصلوٰة کما یغمض الیهود (مصنف عبدالرزاق: 2؍271)

امام ابن سیرین فرماتے ہیں کہ: اگر ادھر ادھر کا دھیان اور التفات نماز میں زیادہ ہوجائے اور آنکھ بند رکھنے سے فائدہ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں۔

کان یؤمر إذا کان یکثر الالتفات في الصلوٰة فلیغمض عینیه (ایضاً)

عبادت اور ساز: سرور اور ساز غیرمسلم اقوام کی عبادت کا جزو ہیں، یہی حال قوم یہود اور نصاریٰ کا ہے، جو ان کے گرجوں میں اب بھی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ جب عبادت کے لیےبلاتے تو ساز سے ہی مدد لیتے۔

فقال بعضھم اتخذوا مثل ناقوس نصاری وقال بعضھم قرناً مثل قرن الیهود (صحیحین عن ابن عمر)

ساز نفسانی تحریک کے لیے کھاد کا کام دیتے ہیں، عبادت کا تقاضا ہے کہ : نفسانی تحریکات کو رام کیاجائے، ان حالات میں ان سازوں سے انہوں نےجوکچھ پایا ہے۔ ہم سب کے سامنے ہے، اب مسلمانوں میں بھی ایک طبقہ '' سماع اور غنا'' کو دینی تقریبات اور شعائر کاجزو بنا کر ان کی راہوں پردوڑنے کی سعی کرنے لگا ہے۔ اللہ تعالیٰ کرم فرمائے! امام ابن القیم فرماتے ہیں جب نصاریٰ کے راہبوں اور رہنماؤں نے دیکھا کہ عوام دین سے بیزار ہورہے ہیں تو انہوں نے ''موسیقی'' تصاویر اور خانہ ساز تقریبات کو اپنی عبادت کاجزو بنایا تاکہ لوگ جمع ہوجایاکریں۔

ولما علمت الرھبان والمطارنة والأسقفة:أن مثل ھذا الدین تنفر عنه العقول أعظم نفرة، شدوہ بالحیل والصور في الحیطان بالذھب والازوردوالزنجفرو بالأرغل وبالأعیاد المحدثة(اغاثۃ: 2؍298)

معلوم ہوا کہ :مساجد کومزین اور آراستہ پیراستہ کرنا بنی اسرائیل کی نقالی ہے اور روح عبادت کے لیے مضر۔ یہی حال بدعی تقریبات او رگا گار کر ''عبادت'' کی رسومات ادا کرنے کا ہے۔