1۔ (الف) قرآن مجید اور سنت کی روشنی میں ربا کا صحیح مفہوم کیا ہے او رقبل از اسلام اس سے کیا مراد لی جاتی تھی؟

تخصیصاً کیا ربا سے مراد ایساسُود ہے جو اصل زر کو دوگنا اور سہ گنا (أضعافا مضاعفة) کردیتا ہے یا اس میں قرض خواہ کی

طرف سے وصول کیاجانے والا رائج الوقف سُود مفرد اور سُود مرکب بھی شامل ہے؟

(ب) کیا ظہو راسلام کے بعد ہونے والی ترقی اور تبدیلیوں کے پیش نظر ربا کی نئی تشریح کی جاسکتی ہے؟

2۔ کیا اسلامی تعلیمات اور احکام مطابق

(1) دو مسلم ریاست کے درمیان یا

(2) ایک مسلم اور دوسری غیرمسلم ریاست کے مابین سود کی بنیاد پر کاروبار جائز ہے؟

3۔ حکومت قومی ضروریات کے لیے جوقرضے جاری کرتی ہے کیا ان پر لاگو ہونے والا سُود ربا کی ذیل میں آتا ہے۔؟

4۔ کیا آپ کےخیال میں غیر سودی بنکاری نظام ممکن ہے؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو اس کاجواز کن مفروضات پر مبنی ہے؟

5۔ کیا اسلامی احکام کی روشنی میں بنکوں کی فراہم کردہ سہولتوں یا خدمات کے عوض سود کی وصولی کےسلسلہ میں نجی اور سرکاری بنکاری میں کوئی امتیاز کیاجاسکتا ہے۔

6۔ کیا حکومت کے مملوکہ یا اس کے زیر نگرانی چلنے والے بنکاری کے کسی ادارہ کو نامعلوم یاغیر تشریح شدہ مالک کی ملکیت (مال مجہول المالک) قرار دیا جاسکتا ہے؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو اسلام کی رو سے ایسے ادارہ کی حیثیت کیا ہوگی؟

7۔ (الف) آیا اسلامی تعلیمات کے بموجب سرمایہ کو عامل پیداوار (Agent of Production) قرار دیا جاسکتا ہے او راس کے استعمال کے عوض کوئی معاوضہ دیا جاسکتا ہے؟

(ب) اگر مذکورہ بالا سوال کاجواب اثبات میں ہے تو آیا اسلام منافع کی تقسیم میں سرمایہ کا کوئی حصہ مقرر کرتا ہے۔

8۔ (الف) کیا آپ کے خیال میں موجودہ اقتصادی حالات میں بنکاری کی سہوتوں سے استفادہ کیےبغیر یا ایسی سہولتوں کے عوض سود یا بنکاری کے اخراجات ادا کیے بغیر ملکی اور غیرملکی تجارت کو مؤثر طریقے سے چلانا ممکن ہے؟

(ب) اگر مندرجہ بالا سوال کاجواب نفی میں ہے تو کیا اسلامی احکام سے ہم آہنگ کوئی متبادل حل تجویز کرسکتے ہیں؟

9۔ کیا بیمہ کا کاروبار سُو دکے بغیرچلایا جاسکتا ہے؟

10۔ کیا اسلام کے اقتصادی نظام میں قومی سرمایہ کی تشکیل کے لیے بچت کی حوصلہ افزائی کرنے والی کوئی جائز ترغیبات موجود ہیں؟

11۔ (الف) ایک ملازم کو اپنے پراویڈنٹ فنڈ سے قرض لینے پرجورقم بطور سود اداکرنی پڑتی ہے اور جو بعد میں اس کے فنڈ میں جمع کردی جاتی ہے، کیا آپ اسے ربا کہیں گے؟

(ب) اگر آجر بھی پراویڈنٹ فنڈ میں اپنی جانب سے کچھ رقم کااضافہ کرے تو صورت حال کیا ہوگی؟

12۔ پراویڈنٹ فنڈ اور سیونگز بنک اکاؤنٹ پر جونفع دیاجاتا ہے کیا وہ ربا کی تعریف میں آتا ہے؟

13۔ کیا انعامی بانڈوں پر یا سیونگ بنک اکاؤنٹ پر بطور انعام دی جانے والی رقم ربا کی تعریف میں داخل ہے؟

14۔ کیا اسلامی قانون کے تحت تجارتی اور غیرتجارتی قرصوں میں امتیاز کرنا درست ہوگا جب کہ تجارتی قرضوں پر سُود لیا جائے اور غیر تجارتی قرضے بلا سُود ہوں؟

15۔ اگر سُود کو قطعی طور پرختم کردیاجائے تو اسلامی نظام معیشت میں لوگوں کو بچت پر ابھارنے او رسرمایہ کے استعمال میں کفایت شعاری کی ترغیب دینےکے لیے کون سےمحرکات استعمال کئے جائیں گے۔

16۔ جدیدمعاشی نظریہ کے طور پر سود کےمعنے اس شرح سود سے مختلف ہوگئے ہیں جوقرض پر واقعی ادا کیا جاتا ہے۔مثلاً ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں ماہرین معاشیات ''فرضی شرح سود'' (Shadow Interest Rate) سے کام لیتے ہیں جس سے سرمایہ کی کمیابی کی قیمت (Scarcity Yalue of Capital) ظاہر ہوتی ہے۔ کیا اس قسم کانظریہ اقتصادی حکمت عملی کےطورپر استعمال کیاجاسکتا ہے خواہ واقعی سود ادا کیا جائے یا نہ ادا کیا جائے؟

جوابات بالترتیب حسب ذیل ہیں:

تعریف ربا : قرآن حکیم نے ''ربوا'' کالفظ استعمال کرکے ''ربا'' کی نوعیت متعین کردی ہے یعنی ''زیادتی'' باقی رہی یہ کہ وہ کون سی زیادتی ؟ سو اس سےمراد وہ زیادہ ہے جو ''قرض'' کے عوض ملتی ہے: قرینہ یہ آیت ہے۔

وإن كان ذوعسرة فنظرة إلى ميسرة (بقرہ۔ ع38)

اور اگر وہ تنگ دست ہے تو آسودہ حالی تک اس کے لیے مہلت ہے۔

یہ آیت ''ربا'' کے سلسلے میں ذکر کی گئی ہے۔ یعنی زیادتی کی نہ سوچیں ، اگرتنگ دست ہے تو مقروض کو مہلت دیں تاکہ وہ ادائیگی کے قابل ہوسکے۔

سورہ مدثر میں ہے:

لاتمنن تستكثره ولربك فاصبر (مدثر ۔ ع1)

زیادہ معاوضہ کی نیت سے مت دیجئے !

اس میں دوسرے صدقات اورنیک تعاون کے ساتھ قرض بھی آجاتا ہے۔

وإن تبتم فلكم رؤوس أموالكم (بقرہ۔ ع38)

اور اگر تم توبہ کرلو گے تو تمہارے راس المال تمہارے ہی ہیں۔

راس المال کے ماسوا جو مزید ہے، وہ وہی ''زیادتی '' ہے جو ربا کی جان ہے۔

حدیث نے اسے یوں بیان کیا ہے:

وما کان لھم في الناس من دین فلیس علیھم إلا رأسه (کتاب الأموال لأبي عبید)

لغت میں بھی اس کے معنی ''الزیادۃ'' بیان کیے گئے ہیں۔

الربا في اللغة عبارة عن الزیادة یقال ربا الشيء یربو (تفسیر کبیر: 2؍351)

صرف قرض پر زیادتی کے معنی''اجل اور مہلت'' کے عوض کے ہیں۔ کیونکہ اس کادوسرا او رکوئی محرک ہی نہیں ہے۔ اس لیے قرآن و حدیث کی ان تصریحات کی بنا پر ائمہ نے اس کی یہ تعریف کی ہے۔

وفي الشرع: زیادة یأ خذھا المقرض من المستقرض مقابل الأجل (تفسیر آیات الاحکام للصابونی :1؍383)

فکانت الزیادة بد لامن الجال (جصاص:1؍553)

وھو زیادة في الأجل (بیضاوی:1؍125)

خلاصہ یہ کہ :

قرض پر مشروط اور متعین جو زیادتی اجل (مہلت او رمدت) کے عوض ملتی ہے، اسے ''ربا'' کہتے ہیں۔

اہل جاہلیت میں بھی ربا کی یہ شکل موجود تھی اس کے ساتھ مزید یہ بھی رواح تھا کہ اگر متعین مدت کے مطابق مقروض یہ قرض مع اضافہ واپس نہ کرسکتا تو شرح اضافہ بڑھا کر مزیدمہلت حاصل کرلیتے۔ اس کو قرآن نے اضعافا مضعفۃ سے تعبیر کیا ہے۔ لیکن یہ قید احترازی نہیں ہے بلکہ قرآن نے ان کی مزید ایک سنگدلی اور استحصالی ذہنیت کا واقعہ بیان کیا ہے۔ تیسری شکل ''تجارتی سود'' کی تھی، جیسا کہ غزوہ بدر کے سلسلہ حضرت ابوسفیان کے تجارتی قافلہ کے ذکر میں آتا ہے کہ اس میں سارے قریش نے پیشہ دیا تھا۔ زرقانی شرح مواہب)

اس کے علاوہ بنو عمرو بن عامر، بنو مغیرہ سے سودی قرض لیتے تھے (ابن جریرعن ابن جریح) ظاہر ہے ان کی یہ شکل تجارتی کمپنیوں جیسی ہوگی۔ کیونکہ قبیلے کا دوسرے قبیلے سے سودی قرض لینے کا ذکر ہے اور یہ تجارتی ہوسکتا ہے۔

حدیث میں آیا ہےکہ سونے کو سونے کے بدلے اور چاندی کو چاندی کے بدلے میں نہ بیچا کرو مگر برابر سرابر الخ۔

لا تبیعوا الذھب بالذھب إلامثلا بمثل ..... ولاتبیعوا الورق بالورق إلامثلا بمثل الحدیث (صحیحین عن ابی

سعید)

یہ دراصل ایک بین الاقوامی معاملہ ہے،کیونکہ مختلف سکّے حاصل کرنے کے لیے ''بٹاون'' کا نظام رائج ہے۔ ایک تو یہ ویسے ہی ناحق کی زیادتی ہے، دوسرا یہ کہ اس سے دوسری قوم کی تذلیل اور تحقیرکا پہلو بھی نکلتا ہے۔

سُود مفرد و مرکب: جیسا کہ ہم نے اوپر کی سطور میں ذکر کیا ہے۔ ''أضعافا مضاعفة'' قید احترازی نہیں ہے اس لیے سُود مفرد ہو یا مرکب دونوں ربا ہیں۔ سود مفرد تو بالکل ظاہر ہے، سودمرکب بھی اس کی لونڈی ہے، اجیر ہو یا اور کوئی اس سے متعلق شعبہ، سب اس کے خدام ہیں، اس لیے سود مفرد کی طرح سود مرکب بھی ربا ہے۔

لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آکل الربو و موکله و شاھدہ و کاتبه وھم سواء (رواہ الترمذی و مسلم عن ابن مسعود)

اس کے بعد بعض ان صورتوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جو حقیقتاً ربا تو نہیں ہیں لیکن اس کی روح سے مماثلت ضرور رکھتی ہے یا اس کے لیے ساز گارفضا پیدا کردیت ہے جیسا کہ آئندہ معلوم ہوگا۔

اُردو اور فارسی میں ''ربا'' کامترادف ''سود'' کا لفظ اختیارکیا گیاہے، جو ربا کے شرعی مفہوم سے صحیح مماثلت کم رکھتا ہے بلکہ نیت خراب ہو تو ربا کو کسی حد تک گوارا کرنے کاموجب بن سکتا ہے یا بنایا جاسکتا ہے کیونکہ اس کے معنی نفع اور فائدہ کے ہیں۔ بہرحال ربا کو مخصوص زیادت سے تو تعبیر کیاجاسکتا ہے ، نفع اور فائدہ سے نہیں کیونکہ اسلام اس کو نفع تصور ہی نہیں کرتا۔

نمبر1 ربا کی جدید تشریح: اگر جام کہن او رجام نو والی بات ہو یعنی معروف زبان او رمحاوروں میں سمجھانا منظور ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں،اگر جدید تشریح سے غرض، شرعی ربا کے مفہوم میں تصرف کرنا یا شرع کو لقمے دینا ہو، جیسا کہ عموماً اس کےلیے کوششیں کی جارہی ہیں تو غلط ہے بلکہ یہ تحریف ہے۔

سوالات کی تکنیک سے محسوس ہوتا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل متداول تجارتی سود او رنظام بنکاری میں مروج ربا کے جواز کے لیے کسی چور دروازے کی تلاش کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہےمگر محتاط ہوکر اور اسلام کےنام پر..... خدا کرے یہ بات نہ ہو۔

نمبر2 دو ریاستوں کے مابین ربا کی گنجائش : دونوں ریاستیں مسلم ہوں یا ایک مسلم اور دوسری غیر مسلم، ربا کی بنیاد پر دونوں کے مابین کاروبار جائز نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن و حدیث میں کوئی تفریق نہیں کی گئی، انسانی خون بہرحال حرام ہے، وہ خون ،خون مسلم ہو یا کافر۔

أحل الله البيع و حرم الربوا (بقرہ۔ ع38)

حضورﷺ کا ارشاد ہے : سونا سونے کے ساتھ اور چاندی چاندی کے ساتھ برابر سرابر دست بدستی دینا چاہیے، جس نے زیادہ کیا یازیادہ کا مطالبہ کیا، اس نے ربا کھایا، لینے او ردینے والے دونوں برابر ہیں۔

الذھب بالذھب والفضة بالفضة.... مثلا بمثل یدا بید فمن زادأو استزاد فقد أربی،الاخذ والمعطي فیه سواء (مسلم ۔ عن ابی سعید الخدری)

یہ بین الاقوامی کاروباری صورت ہے، جس میں مسلم اور غیر مسلم سب ریاستیں آجاتی ہیں، دونوں ملکوں کے مابین بٹاون کی بنیاد پر سونے چاندی کے سکوں کا تبادلہ ہوتا ہے۔حضورﷺ نے اسے بھی ''ربا'' ہی فرمایا ہے اور دونوں کو مجرم گردانا ہے اور وہ کسے باشد، دونوں ریاستیں مسلم ہوں یاغیرمسلم یا ایک مسلم اور دوسری غیرمسلم۔ بہرحال دونوں کے مابین ''سودی لین دین اور کاروبار'' جائز نہیں۔

ہاں غیر ملکی قرضہ یا ملک میں غیر ملکی سرمایہ لگانا ''ربا'' (معروف معنوں میں''سود'') کے بغیر دشوار ضرور ہے، لیکن اس وقت جب تک ایک اسلامی ریاست خود ''ربا'' سے بچنے کے لیے سنجیدہ ہو۔ ورنہ ظاہر ہےکہ ہر غیر ملکی قرض کچھ شرائط رکھتا ہے، اگر اسلامی ریاست غیر سودی قرض کے بجائے قرض کی دوسری متبادل اسلامی تجویز پیش کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ قبول نہ کی جائیں وہ سب ''ربا'' سے کہیں زیادہ جامع او ربے ضرر ہیں۔

اگر اسلامی ریاست اپنی پوری کوشش کے باوجود غیر سودی قرض یا سرمایہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتی او رنہ اس کے بغیر ملکی تعمیر اور ترقی ممکن رہتی ہے تو پھر :

فمن اضطر غيرباغ ولا عاد فلا إثم عليه پر عمل کرسکتی ہے۔ لیکن بہ حالات موجودہ جبکہ عموماً مسلمان ریاستیں اندرون ملک بھی خود ''ربا'' سے پرہیز نہیں کرتیں۔ اس کے علاوہ ملکی تعمیر و ترقی کے بہانے اسراف بھی کرتی ہیں، ان کے لیے یہ کیسے جائز ہوسکتا ہے کہ کہا جائے وہ دوسرے غیر مسلم ملک سے سودی کاروبار کرنے کا حق بھی رکھتی ہیں؟ جن فقہاء نے غیر مسلم ملک سے سودی کاروبار کی اجازت دی ہے یا بعض صورتوں میں ''جوابی کارروائی'' کی ہے، تو عموماً ان کا تعلق ''دارالحرب'' سے ہے یا اضطرار ہے، لیکن اب یہ دونوں موجود نہیں ہیں، تکلف کی بات الگ ہے۔

نمبر3 : قومی ضروریات کے لیے قرضے : یقینا۔‎.... بلکہ پوری قوم مجرم بنتی ہے کیونکہ حکومت اور اس کی پوری قوم کافریضہ اس ''منکر'' کومٹانا تھا۔اصل بات یہ ہے کہ موجودہ مسلمانوں نے اسلامی نظام قرض کا مزہ چکھا ہی نہیں، ورنہ یقیناً وہ اس پر جان چھڑ کتی، اسلامی نقطہ نظر سے ''قرض دینا'' اگر وہ غیر کاروباری ہے تو وہ فیاضی اور اخروی فلاح کاموجب ہے اگر تجارتی ہے تو بیع مضاربت اور شراکت کے اصول پر مبنی ہے جو متداول سودسے کہیں زیادہ نفع بخش ہے۔ اس کے علاوہ اسلامی نظام قرض ''قانونی سرمایہ داری'' کی بیخ کنی کاموجب بھی ہے۔ اس کے برعکس ربوی نظام ''سرمایہ داری'' کو جنم دیتا ہے۔

نمبر4: غیرسودی بنکاری: ہمارے نزدیک یہ بات نہ صرف ممکن ہے بلکہ مفید بھی ہے ، مثلاً اسلامی نظام شراکت اور مضاربت کچھ ایسے نفس بخش کاروبار ہیں، جن میں فریقین کی عزت اور وقار بھی بحال رہتا ہے اور ان امکانات کاخاتمہ بھی ہوجاتا ہے جن کےذریعے غیرمتوازن معیشت جنم لیتی ہے کہ ایک نان شبینہ کو ترستا ہے اور دوسراملک کا قارون بنتا ہے ، لیکن !

ع ذوق ایں بادہ مذانی بخدا تا نچشی

نمبر5 : نجی اور سرکاری کا امتیاز : بالکل نہیں.... بلکہ سرکاری حیثیت میں''سودی'' خونخواری زیادہ فتنہ پرور ثابت ہوتی ہے اس لیے نجی سے پہلے سرکاری بنکاری سود کے خاتمہ کی ضرورت ہے کیونکہ ملکی معیشت کانظام اس سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ الغرض:اسلامی احکام کی رُو سے دونوں میں کوئی امتیاز ، تفریق اور استثناء نہیں۔کیونکہ قرآن و حدیث نے ''مطلق سود'' کو حرام کیا ہے، وہ کتنا ہو، کون کرے، کہیں اختیارکیا جائے سب حرام ہیں۔

حرم الربوا (بقرہ۔ ع38)

''الربوا'' پر لام تعریف جنس کا ہے۔

لاتمنن تستكثر ۔(سورہ مدثر۔ ع1)

زیدہ معاوضہ کی نیت سے مت احسان کیجئے

قرض ، احسان اور تعاون کی بہترین شکل ہے، بعض روایات میں اسے''صدقہ خیرات'' سے بھی افضل کہا گیا ہے۔

الصدقة بعشراأمثالھا والقرض ثمانیة عشر (ابن ماجہ)

بعض صحابہ سےمروی ہے:

لإن أقرض دینارین ثم یروان ثم أقرضھما أحب إلي أن أتصدق بھما۔(مغنی ابن قدامۃ)

اس لیےقرض جو بھی دے،اسے اس سے ''زیادہ'' کا لالچ نہیں کرنا چاہیے الا یہ کہ شراکت او رمضاربت کی بنیاد پر مل کر کاروبار کرنےکی نیت ہو۔ کیونکہ یہ اب معروف معنوں میں قرض نہیں رہا بلکہ مل کر کام کرنے کی یہ ایک سبیل ہے۔

نمبر6: مجہول المالک کی ملکیت: سوال غیر واضح ہے ، مجہول المالک کی ملکیت میں دینے کے تو یہ معنی ہیں کہ : اسے اٹھا کر چوراہے پر ڈال دیاجائے۔ ہمارے خیال میں یہ کام اس وقت تک تو کوئی نہیں کرسکتا جب تک اس کے پاس عقل سلیم کی دولت محفوظ ہوتی ہے۔

اور اس سے مراد شامات ہے، تو وہ علی الانفراد نہ سہی متعلقہ گاؤں یا محلہ سے متعلق تو وہ ہوتی ہی ہے۔ اگر ایسی صورت ہےتو اسے ''رفاہی'' شے اور شاملات یا عام پبلک پراپرٹی سے ملحقہ وغیرہ ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسا مشترک سرمایہ ہوتا ہے کہ اس کا کرایہ یا بیع دونوںممنوع ہوتے ہیں کیونکہ مفاد عامہ اس سے متاثر ہوتا ہے۔

ملك أحد بالاحتجار ملك منعه فضاق علی الناس فإن أخذ العوض عنه أغلاہ فخرج عن الموضع الذي وضعه من تعمیم ذوي الحوائج عن غیر کلفة (مغنی :6؍150)

اس تعمیم (مجہول الملک) کی صورت میں بھی، یہ ریاست کی ملکیت ہوتی ہے۔ اس لیے اسے ''مجہول الملک' صرف عوام کے اعتبار سےکہا جاسکتا ہے کہ : ان میں سے علی الانفراد کسی کابھی مالکانہ قبضہ نہیں ہے۔ جتنا ہے سب کا ہے۔

نمبر7 : سرمایہ اور اس کی تخلیقات کا معاوضہ: سرمایہ انسان کے صرف اس سازو سامان کانام ہے جو دولت کے پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے یا حصول آمدنی کاذریعہ بنتا ہے ، وہ سازوسامان بالواسطہ یا بلاواسطہ پیدائش دولت کے لیے معاون ثابت ہوں، جو پیدائش میں مدد نہیں دیتا اقتصادیات میں اسے''سرمایہ'' نہیں کہتے۔ ہاں اسے دولت کہہ سکتے ہیں یعنی پیدا آواری کا ذریعہ نہ ہو تو وہ سرمایہ نہیں کہلاتا۔

پیدائش دولت کے لیے جن کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، ان کے بارے میں اختلاف ہے۔ ایک طبقہ کے نزدیک عاملین پیدائش ، زمین،محنت، سرمایہ اور تنظیم ہے ، لیکن آج کل زیادہ تر زمین اورمحنت کو اوّلین حیثیت اور مؤخر الذکر دو کو ثانوی عاملین قرار دیتے ہیں۔

بہرحال جو بھی ہو، اسلام ''سرمایہ'' کو عامل پیدائش تصور کرتا ہے۔مثلاً

وترى الفلك فيه مواخر لتبتغوا من فضله (فاطر۔ ع1)

اور آپ دیکھتے ہیں کہ کشتیاں دریا میں (پانی کو)پھاڑتی چلی جارہی ہیں تاکہ تم خدا کافضل ڈھونڈو۔

فادع لنا ربك يخرج لنا مما تنبت الأرض (۔بقرہ: ع7)

سورہ قصص میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکر میں فرمایا:

يآبت استأجره إن خيرمن استأجرت القوي الأمين (20۔ القصص ع3)

اے ابا جان! ان کو نوکر رکھ لیجئے کیونکہ بہتر سے بہتر آدمی جوآپ نوکر رکھنا چاہیں، مضبوط (اور) امانت دار ہوناچاہیے۔

الغرض: عاملین پیدائش او ران کے استعمال کے معاوضے کاذکرقرآن و حدیث نے کیا ہے۔ لیکن یہ معاوضہ بہ شکل ''ربا'' نہیں ہےبلکہ مناسب کرایہ یا شرک کاروبار کے طور پر ، کل آمدنی میں حصہ دار کی حیثیت ہے۔ یہاں پر اختلافی نقطہ صرف یہ ہےکہ سود خوار، سود کو سرمایہ کے استعمال کا عوض گردانتا ہے ہم اسے سرمایہ دار کااستحصال تصور کرتے ہیں اور صحیح''شریک کاروبار ''کو سمجھتے ہیں جوبقدر آمدنی، آمدنی میں ایک حصہ دار کی طرح حصہ دار ہوگا۔ایک بھکاری کی طرح ''سود'' پر اسے ٹرخایانہیں جایا جائے گا۔

نمبر8: سود اداکیے بغیر ملکی تجارت: (الف۔ ب) بالکل ممکن ہے ۔ ہاں اخراجات کے لیے اجرت بھی لی جاسکتی ہے مگر شراکت اور مضاربت کی بنیاد پر۔

نمبر9: بیمہ : ہمارےنزدیک مروج بیمہ ناجائز ہے، کیونکہ یہ''ربا اور قمار'' جیسی دو قباحتوں پر مشتمل ہے مقررہ معیاد کے اختتام سے پہلےموت واقع ہونے کے امکان کے پیش نظر یہ بیمہ ''قمار'' بھی ہے اقساط کے اختتام پر مع سود بیمہ شدہ رقم وصول کرنے کے اصول کے حساب سے یہ ''ربوا'' بھی ہے۔ اس کےعلاوہ اس سے اسلام کانظام میراث بھی بہت غلط متاثر ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ رقم بیمہ دار کے نامزد کردہ آدمی کوملتی ہے۔ہاں مضاربت وغیرہ شرعی نظام شراکت کی بنیاد پر اسے اختیار کیا جاسکتاہے۔

نمبر10: قومی سرمایہ کی تشکیل کے لیے بچت: اس کے لیےدوسرے متبادل طریقےکا بالکل موجود ہیں، مثلاً اس کو امدادباہمی کے اصول پر ترتیب دیاجائے اور ان کے منافع کا ایک مخصوص حصہ باہمی رضا مندی سے اس لیےوقف قرار دیا جائے جس سے حسب ضرورت استفادہ کیاجاسکے۔ باقی رہیں قسطیں؟ سو اس سلسلے میںشرکاء کو اسی طرح پابند کرد یا جائے کہ وہ استحصالی ہتھکنڈے استعمال نہ کرسکیں یا بے وقت ان کے ہاتھ کھینچ لینے سے نقصان نہ ہو۔ تعاونوا علی البر والتقویٰ

اصل مسئلہ ذہنیت کی تبدیلی کا ہے، لیکن مرو جہ بیمے یا سودی امور میں تحریص و ترغیب کے لیےجو طریق کار اختیار کیے جاتے ہیں، ان کی وجہ سے انسان مزید خونخوار بن جاتا ہے اور دردمند معاون ثابت ہونے کے لیے راستے بند ہوجاتے ہیں۔ اگر آپ پہلے یہ مسئلہ حل کرلیں تو پھر کوئی مشکل، مشکل نہیں رہے گی، لیکن یہ گُر کتاب و سنت کے آستاں کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا مگر سرمایہ داروں کو یہ راہ پسند نہیں۔

نمبر11 پراویڈنٹ فنڈ سے سودی قرض (الف) : جی ہاں لیکن اس تفصیل کے ساتھ کہ بعض بزرگوں کاکہنا ہےکہ : یہ پراویڈنٹ فنڈ ابھی ملازم کی ملک میں نہیں آیا، اس لیےجو کچھ ہے وہ ابھی گورنمنٹ کی ملک ہے۔ اس صورت میں جو سودی قرض لیا جاتا ہے ظاہر ہے وہ سود ہی شمار ہوگا۔ اب پراویڈنٹ فنڈ جتنا اور جیسا کہ ملے گا جائز رہے گا۔ جیساکہ باقی تنخواہوں کی کیفیت ہے کہ سودی خزانہ سے تنخواہ وصول کی جاتی ہے۔ہاں سودی قرض پر اسے گناہ ضرور ہوگا ۔اس لیے احتیاط اسی میں ہے کہ کم از کم وہ اس سودی رقم کے لینے سے پرہیز کرے جو اس کی طرف منسوب ہے۔

اگر یہ پراویڈنٹ فنڈ ملازم کی ملکیت ہے جیسا کہ وقتاً فو قتاً اس کی تفصیل سے حکومت اسے آگاہ رکھنے کی کوشش کرتی ہے، ویسے بھی وہ کٹوتی اس کی تنخواہ کا لازمی حصہ ہوتی ہے مگر ملازم کے مفاد کے لیے حکومت اسے پس انداز کرکےمحفوظ کرلیتی ہے او ر ریٹائرمنٹ پر اس کو یکمشت واپس کردیتی ہے ۔یہ بھی ملحوظ رہے کہ اس سلسلے میں ملازم کو قانونی تحفظ بھی حاصل ہوتا ہے ۔اس لیے یوں کہاجاسکتا ہے کہ یہ فنڈ ملازم کی ملکیت ہے مگر حکومت کے پاس امانت ہے اس لیے اس سے سودی قرض لےکرمع سود جو رقم ملازم واپس کرتا ہے وہ اس کے ہی کھاتے میں جاتی ہے۔ لیکن جب یہ امانت اسے واپس ملتی ہے تو اس اضافہ سمیت ملتی ہے جو اس نے بطور سودی قرض کے ادا کیا تھا۔

اگر ''ید'' کی تبدیلی سے چیز کی نوعیت بدل جاتی ہے تو اب اس کے معنی ہوں گے کہ ملازم کاجو پیسہ حکومت کی تحویل میں ہے وہ اپنے اس قبضہ کی بنا پر اسے سودی قرض کے طور پر استعمال کرکے ان کا استحصال کرتی ہے۔ تو وہ اس کی مجرم ہے، ملازم نہیں ۔ تاہم اس پر اس نےجو سود ادا کیاہے، وہ ''سودی قرض'' کے اعتراف کے ساتھ کیا ہے۔ اس لیے مقام عزیمت یہ ہے کہ وہ اس سے بھی پرہیز کرے۔ چونکہ دینے والا بھی ربا کے تصور کے ساتھ دیتا ہے اور لینے والا بھی اسی احساس کے ساتھ لیتا ہے، تو آپ کو کیا حق پہنچتا ہے کہ آپ اسے ''ربا'' نہ کہیں۔ اس کےعلاوہ ''سداللذریعۃ '' کے اصول کے مطابق اسے ربا ہی کہا جائے تو بہتر رہے گا کیونکہ اگر یہ اصطلاح ربا نہیں ہے تو کم از کم ، ربا کو گوارا بنانے والا ایک مفسدہ اور فتنہ تو ضرور ہے، اس لیے ایسی بات نہ کی جائے جس وجہ سے یہ ربا ان کے لیے اجنبی شے نہ رہے۔

کالراعي یرعي حول الحمی یوشك أن یدتع فیه (بخاری)

ہاں اگر اپنے ملازم سے حکومت کو ہمدردی ہے تو شراکت او رمضاربت کی بنا پر اس کی رقم کو استعمال کرکے اس کا نفع اس کے حوالے کرے۔ تمام مخصموں سے نکلنے کی یہ ایک بے ضرر سبیل ہے۔

(ب) اس کی حیثیت امانت کی ہوگی، جیسے بنک میں ہوتی ہے۔

نمبر12: پراویڈنٹ فنڈ اور سیونگ کے منافع:یقیناً یہ بھی ربا ہیں۔ کیونکہ یہ سبھی کچھ سودی قرضوں کا اندوختہ ہوتا ہے جو اس میں تقسیم کیاجاتا ہے۔

نمبر13: سیونگ بنک اکاؤنٹ کانفع: انعامی بانڈوں والی رقم بھی سودی منافع کا حاصل ہوتا ہے۔ سود کے علاوہ قمار بھی پایاجاتا ہے، کیونکہ اصل انعام کے لیے قرعہ ڈالاجاتا ہے۔ رہا سیونگ بنک اکاؤنٹ کامنافع سود وہ بھی ربا ہی ہے۔کہتے ہیں کہ ایک بنک میں سیونگ انعام کاترجمہ بھی کیا گیا ہے ۔ گویا کہ اب اس کے ساتھ قمار کی صورت بھی پیدا ہوگئی ہے اس لیے یہ بھی ''ربا و قمار'' کی ایک شکل بن گئی ہے۔

نمبر14: تجارتی اور غیر تجارتی قرضوں میں امتیاز: ہمارے نزدیک ان میں کوئی امتیاز نہیں ،جیسے غیرتجارتی قرضوں پرسود حرام ہے ویسے ہی تجارتی قرضوں پر بھی حرام ہے۔ کما مرانفا۔

نمبر15: بچت پر ابھارنے والے محرکات: اس کے لیے جواب نمبر 10 ملاحظہ فرمالیں۔

اصل بات یہ ہے کہ :لوگوں کو اسلامی نظام معیشت میں بحث پر ابھارنے او رسرمایہ کے استعمال میں کفایت شعاری کی ترعیب دینے کے لیے ''وجہ کشش'' معقول آمدنی کی توقع ہے: شراکت اور مضاربت کی بنیاد پر جو سرمایہ مہیا کیا جائے گا اس کا نفع اس شرح سود سے کہیں زیادہ ہوگا جو سودی نظام کے داعی مہیا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ سرمایہ مہیا کرنے والوں کے لیے یہ باوقار سلسلہ بھی ہے کہ وہ اس عظیم کاروبار میں شریک بھی ہیں۔ یہ وہ نفسیاتی اقدار ہیں جو اپنے اندر بجائے خود بڑی کشش رکھتی ہیں۔ ایک دفعہ اس کا تجربہ تو کردیکھئے۔

نمبر16: سود کے معنی شرح سود سے مختلف ہوگئے ہیں: یہ سوال انتہائی مبہم ہے۔ تاہم اتنی بات واضح ہے کہ:

''فرضی شرح سود'' سے کام لینا، واقعتہ سود ادا کیا جائے یا نہ ، حکمت عملی کے طور پر اسے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ کیونکہ اس میں''سود'' کے امکان کی نفی نہیں کی گئی۔ ہمارے نزدیک یہ حکمت عملی نہیں بلکہ اس کے منافی بات ہے، اس لیے شریعت نے ان صورتوں کی بھی ممانعت کردی ہے، جن میں ''ربا'' کا احتمال ہوسکتا ہے۔ واللہ اعلم۔

مسئلہ کا اصولی حل:

یہ جواب خالص معاشی سان پر رکھ کر حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو اس موضوع کا ایک فنی پہلو ہے۔ اس کا ایک معنوی پہلو بھی ہے اور اس باب میں اس کوبنیادی حیثیت حاصل ہے۔ وہ یہ کہ:

1۔ پہلے اپنی منزل ، مقصد اور جہت کا تعین کرلیا جائے کیونکہ اس کے بعد اس سلسلے کی دشواریوں کا دور کرنا آسان ہوجاتاہے۔ ہماری حیفیت عہد مسلم کی ہے، دنیا ایک عبوری منزل یا سفر ہے یہاں ڈیرہ ڈالنا نہیں، سفر جاری رکھنا ہے اس لیے اپنی اس معاشی اور اقتصادی دنیا کو یوں ترتیب دیا جائے کہ اس مسافر کا سفر بوجھل نہ ہوجائے اور اس میں وہ یوں کھو کر نہ رہ جائے۔ کہ خدا کابھی ہوش نہ رہے یا بندگان خدا کے سلسلسے میں ''سنگدل'' کروٹ لینے لگ جائے بلکہ چاہیے کہ وہ کم از کم استحصال کے خوابوں میں چور رہنے سے تو محفوظ ہوجائے۔

اکل حلال اور فکر مآل دونوں کو سامنے رکھ کر اگر کوئی شخص چلنے کی کوشش کرے گا تو بہرحال وہ حصول دنیا کے لیے اندھا ہونے سے بچ جائے گا او راس میں مستغرق رہنے کے بجائے خدا کے حضور پیش کرنے کے لیے روحانی سرمایہ اور زاد راہ کی بھی ضرور فکر کرپائے گا۔ إن شاء اللہ۔

دوم یہ کہ: قرآنی لفظ نظریہ ہے کہ: دولت گردش میں رہے، کسی ایک کے پاس سمٹ کر نہ رہ جائے۔ سودی کاروبار دراصل اس روح کے منافی ایک یہودی سازش ہے۔ اگر شراکت اور مضاربت کو ملحوظ رکھا جاوے تو ملکی معیشت غیرمتوازن بالکل نبہ ہونے پائے کہ ایک کروڑ پتی ہوجائے، دوسرا نان جویں کو بھی ترستا رہے۔ کیونکہ شراکت او رمضاربت کی وجہ سے یہ تو ہوسکتا ہے کہ کوئی امیر سے امیر تر بھی ہوجائے لیکن یہ ناممکن ہے کہ ملک میں کوئی بھوکا اور اقتصادی طور پر ناتواں بھی نظر آئے۔