ائمۂ تلبیس حصہ اول : مولانا ابو القاسم رفیق دلاوری

صفحات : 504

قیمت : 24 روپے

پتہ : مکتبہ تعمیر انسانیت۔ گوجر گلی، موچی دروازہ، لاہور

شاخ : 40۔ اردو بازار۔ لاہور

حضرت مولانا ابو القاسم رفیق دلاوری رحمۃ اللہ علیہ ایک مشہور اہلِ قلم اور کثیر التصنیف فاضل ہیں۔ انہوں نے بالخصوص دشمنانِ دین اور گمراہ فرقوں پر جو کچھ تحریر فرمایا ہے وہ کافی وزنی ہے۔

أئمہ تلبیس بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جس میں مصنف نے چودہ صدیوں کے جعلی بزرگوں، بناسپتی نبیوںِ خانہ ساز مسیحیوں، جھوٹے مہدیوں اور مراقی خداؤں کا اس انداز سے تعارف کرایا ہے کہ اسے پڑھ کر انسان کی زبان سے بے ساختہ نکل جاتا ہے کہ:

لَعْنَة اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَعَلٰی أنْصَارِکُمْ

حصہ اول میں ۴۱ شاطروں اور مالیخولیا کے مارے جعلسازوں کی ہسٹری بیان کی گئی ہے اور وہ اس قدر پر لطف ہے جیسے جنۃ الحمقاء کی سیر ہو رہی ہو۔

ان کے تذکار سے جو بات مترشح ہوتی ہے یہ ہے کہ ان جھوٹے مدعیوں کے جھوٹے دعووں اور جعلسازیوں کی محرک صرف دو باتیں تھیں۔

1. سیاسی: سیاسی اور جاہ پرستی کی خواہش تھی کہ شاطر لوگوں نے حصولِ اقتدار کے لئے مسیحیت مہدویت اور نبوت کے زینے تلاش کیے۔

2. مراق: یا اس کا دوسرا محرک، جنون، مالیخولیا اور مراق تھا کہ سوداء نے ترقی کی تو یار لوگ لگے بڑبڑانے، کسی نے کہا میں مہدی ہوں، کوئی بولا میں نبی ہوں، تیسرا اُٹھا اور کہا کہ میں مسیح ہوں، ابن مریم ہوں۔ وغیرہ وغیرہ۔

آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ جب جوتے پڑے تو بعض بول اُٹھے، کہ ہم جھوٹے تھے، ہم توبہ کرتے ہیں۔

چونکہ یہ دونوں خواہشیں اور داعیے ہمیشہ موجود رہے ہیں، اس لئے بہتر ہے کہ اس قماش کے لوگوں کی نفسیات، ہتھکنڈوں اور شرارتوں کے پیچ و خم سے ہر مسلمان کو باخبر رہنا چاہئے تاکہ جب یہ فتنہ سر اُٹھائے تو موقع پر ہی اس کی سرکوبی کی جا سکے۔ (عزیز زبیدی)

(۲)

تالیف : کشف الاسرار

مؤلف : مولانا محمد صدیق صاحب شیخ الحدیث جامعہ سلفیہ، لائل پور

مرتب : محمد سلیمان اظہرؔ (ایم۔اے)

ناشر : عمیر اکیڈمی۔ گلی نمبر ۴، محلہ رحمت آباد، پوسٹ بکس نشاط آباد لائل پور

طباعت : عمدہ

قیمت : 6 روپے

زیرِ نظر تالیف، ایک شیعہ عالم مولوی غلام یٰسین صاحب کی طرف سے اہل سنت و جماعت پر کیے گئے 24 اعتراضات کا مدلل جواب ہے اور در حقیقت یہی اعتراضات الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ اہل تشیع اکثر اُٹھاتے رہتے ہیں۔ اس کتاب میں صحابہ کرامؓ کے ایثار، خاندانِ رسالت سے ان کی رشتہ داریاں، ان کے فضائل اور مشاجرات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اسی طرح واقعۂ قرطاس، طائفہ منصورہ، اذان میں ''الصلوٰۃ خیر من النوم'' کا ثبوت اور تصوّر امامت جیسے مسائل پر اظہار خیال کیا گیا ہے۔ بعض روایات جو خوش عقیدہ سنی حضرات بھی پیش کر دیتے ہیں ان کی حقیقت واضح کی گئی ہے۔ ''أنا مدینةالعلم وعلي بابھا'' اسی قبیل کی روایت ہے۔

کتاب پر ایک نظر ڈالنے سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ مولانا محمد صدیق صاحب کی شیعہ لٹریچر پر گہری نظر ہے اور وہ اپنے موضوع سے بطورِ احسن عہدہ بر آ ہوئے ہیں۔ پروفیسر سلیمان اظہر صاحب بھی مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے کتاب کی نوک پلک سنوایر ہے۔ کتابت کی اغلاط ذوق پر گراں گزرتی ہیں۔