اعلیٰ انسانی اخلاق کیا ہیں اور زندگی میں ان کی اہمیت کیا ہے، اس مسئلے پر مختلف علمائے عمرانیات اور دوسرے اہلِ فکر نے بہت کچھ لکھا اور کہا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ زندگی کے بنیادی مسائل میں سے ہے۔ اخلاق کی حیثیت اور اہمیت کو مختصر ترین لفظوں میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ اخلاق دراصل زندگی کے طریقے، سلیقے اور قرینے کا نام ہے، اور اس طریقے کا تعین اور اس سلیقے اور قرینے کا حصول ہی دراصل اخلاقیات کا حقیقی موضوع ہے۔

یہ بات بھی اپنی جگہ پر واضح ہے کہ اخلاق اور فلسفۂ اخلاق کا گہرا تعلق خود انسان کے تصور زندگی کے ساتھ ہے۔ زندگی کا مادی تصور ایک مختلف فلسفۂ اخلاق اور جداگانہ نظامِ اخلاق تجویز کرتا ہے جب کہ زندگی کا روحانی تصور اپنے ایک مخصوص فلسفۂ اخلاق کے تحت ایک بالکل مختلف نظام کی تشکیل کو لازم کرتا ہے۔

انسان کا اخلاقی مسئلہ: اسلام کے نقطۂ نظر سے:

اسلام کے نزدیک اس کائنات کی اور انسان کی تخلیق اللہ تعالیٰ نے کی ہے اور اس تخلیق کا مقصد اس امر میں انسان کی آزمائش ہے کہ وہ اس عارضی مہلتِ حیات میں حسنِ عمل کا مظاہرہ کرتا ہے یا بدعملی کا۔ حسنِ عمل کا صلہ موت کے بعد ایک دوسری او ابدی زندگی کی ابدی نعمتیں ہیں اور بدعملی کی سزا ایک ہمیشہ رہنے والی حیاتِ عذاب ہے۔ اسلام کے عطا کردہ اس تصوّرِ حیات کی رُو سے انسان کا اصل اخلاقی مسئلہ یہ ہے کہ وہ سیرت و کردار کا کونسا ایسا اسلوب اختیار کرے جو اس کے مقصدِ زندگی کے تکمیل میں ممد و معاون ہو سکے، اور کردار و عمل کے وہ کون سے پہلو ہیں جو اس مقصد کی تکمیل میں مانع ہوتے ہیں اور ان سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔

اگر غور سے دیکھا جائے تو انسان دراصل اپنے پورے کارخانۂ حیات کے ذریعے سے اپنی ایک شخصیت کی تعمیر کرتا ہے۔ اس کا ہر اندازِ فکر اور ہر طریق عمل دراصل ایک اخلاقی سامانِ تعمیر ہے۔ جس سے وہ اپنی شخصیت کی عمارت تیار کرتا ہے۔ اس کی اس شخصیت کے حسن و قبح کو دیکھ کر یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس کی تعمیر میں مسالہ (Material) حسنِ عمل کا استعمال ہوا ہے یا بد عملی کا۔ اس کی بنیاد صالح افکار اور پاکیزہ اعمال پر قائم ہوئی ہے یا فاسد افکار اور برے اعمال پر رکھی گئی ہے۔ اگر یہ دیکھنا ہو کہ حیاتِ اخروی میں کسی انسان کو کیا مقام حاصل ہونے والا ہے تو اس کی اس شخصیت کا بغور مطالعہ کرنا چاہئے جو اس نے خود اپنے ہاتھوں سے تعمیر کی ہے۔ یہ شخصیت بول کر کہے گی کہ آخرت میں اس کی جائے اقامت کہاں ہونی چاہئے۔ آیا اس کو کوئی پاکیزہ اور شاندار مسکن میسر آنا چاہئے یا کوئی مقامِ بد اس کا ٹھکانہ بننا چاہئے۔ قرآن پاک کی بعض آیات اس مفہوم کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ قیامت کے روز ہر شخص اس شخصیت کے ساتھ اُٹھے گا جس کے ساتھ وہ اس دنیا سے رخصت ہوا۔ ظاہر ہے کہ اس شخصیت سے مراد کسی شخص کا وہ دنیاوی مقام و مرتبہ یا کم مائگی و بے حیثیتی نہیں ہے جو اس مادی دنیا میں اسے میسر آئی، بلکہ اس سے مراد وہ اخلاقی حیثیت ہے جس پر قائم رہ کر اس نے دنیا میں زندگی گزاری اور اپنی اسی حیثیت کے ساتھ اس کا دفترِ عمل تمام ہوا۔ اس لئے ہم میں سے ہر شخص کو خوب اچھی طرح یہ سوچ کر اندازہ کر لینا چاہئے کہ ہم اس دنیا میں اپنے افکار و اعمال کے مسالے سے اپنی شخصیت کی کس قسم کی عمارت تعمیر کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لئے ضروری ہے کہ ہم اخلاقِ فاضلہ کا فہم و شعور کا حاصل کریں اور اپنی شخصیت میں ان کو اجاگر کرنے کی پیہم سعی و جہد کرتے رہیں، اور اسی طرح اخلاق سیئہ سے آگاہ ہو کر ان سے ہر ممکن اجتناب کریں۔

دین اور اخلاق:

جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، اخلاق دراصل زندگی کے طریقے، سلیقے اور قرینے کا نام ہے اور اسی کی تعلیم و تربیت در حقیقت دین حقیقی کا مقصود ہے، یعنی انسان کو اس کے مقصدِ حیات سے آگاہ کر کے اس کے تقاضوں سے روشناس کرانا، اور ان کی تکمیل کے قابل بنانا۔ چنانچہ ہمارے نزدیک حقیقی اخلاق وہی ہیں جن کی تعلیم و ہدایت ہمیں دین کے واسطے سے حاصل ہوئی ہے۔ ہمیں زندگی کا وہی سلیقہ اور قرینہ مطلوب ہے جو خدا نے اپنے رسول ﷺ کے ذریعے سے ہمیں سکھایا ہے۔ نبی ﷺ نے اپنی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ:

بُعِثْتُ لِأتَمِّمَ مَکَارِمَ الْأخْلَاق۔ یعنی ''میں مکارمِ اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں۔''

دوسری روایت میں حُسْنَ الْاَخْلَاق کے الفاظ آئے ہیں۔

حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَحْسَنَ النَّاسِ خُلْقًا رسول اللہ ﷺ تمام انسانوں سے اعلیٰ اخلاق رکھتے تھے۔ (متفق علیہ)

حضور ﷺ کے اخلاقِ حسنہ کے بارے میں قرآن مجید کی شہادت یہ ہے کہ:

اِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ

''بے شک آپ اخلاق کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں۔''

آئندہ سطور میں ہم یہ دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ حضور ﷺ نے ہمیں کن اخلاقِ حسنہ کی تعلیم فرمائی ہے۔ اور کن برے اخلاق سے آگاہ کر کے ان پر اجتناب کی تاکید کی ہے تاکہ انسان کی اخلاقی اصلاح و تہذیب کے ربانی اصول و معیار ہمارے سامنے واضح ہو کر آسکیں۔

حسنِ خلق کیا ہے؟

حضرت نواس بن سمعانؓ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

اَلْبِرُّ حُسْنُ الْخُلْقِ وَالْإثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ وَکَرِھْتً أنْ یطلع علیه النَّاسُ (مسلم)

یعنی ''نیکی اخلاق و کردار کی اچھائی کا نام ہے، اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں خلش پیدا کرے اور تو اس بات کو ناپسند کرے کہ لوگ اس سے آگاہ ہوں۔''

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ وہ کیا چیز ہے جو کثرت سے لوگوں کے جنت میں داخلے کا ذریعہ بنے گی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تَقوَی اللهِ وَحُسْنُ الْخُلْقِ یعنی خدا خوفی اور حسن خلق۔ پھر عرض کیا گیا کہ وہ کیا چیز ہے جو لوگوں کو کثرت سے جہنم میں لے جانے کا سبب بنے گی۔ فرمایا: اَلْفَمُ وَالْفَرْجُ یعنی منہ اور شرمگاہ (ترمذی)

حضرت ابو ہریرہؓ ہی نے حضور کا یہ ارشاد نقل فرمایا ہے کہ:

أَکْمَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ إِیْمَانًا أِحْسَنُھُمْ خُلُقًا (ترمذی)

یعنی ''مومنوں میں سے زیادہ کامل ایمان والے وہ ہیں جو ان میں سے اخلاق کے اعتبار سے زیادہ بہتر ہیں۔''

مندرجہ بالا ارشادات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اخلاق کی پاکیزگی اور کردار کیا اچھائی دراصل ایمان کی پختگی اور خدا خوفی کا ثمر ہے اور دراصل دونوں ایک دوسرے کو مستلزم ہیں۔ ایمان کے بغیر اخلاق پاکیزگی کا اور کردار کی اچھائی کے بغیر خدا ترسی اور خدا خوفی کا تصور بے معنی ہے۔ اسی حسنِ خلق کی بدولت مومن کو اطمینانِ قلب کی عظیم نعمت حاصل ہوتی ہے، اور اس کا یہی اطمینانِ قلب اس کو سیرت و کردار کی وہ عظمت عطا کرتا ہے کہ اس کے بعد نفس کی کوئی ترغیب ، شیطان کی کوئی تحریک، دنیا کی کوئی تحریص اور اقتدارِ باطل کی کوئی تخویف اس کو راہِ راست سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔

مومن کا حسنِ خلق جلالی پہلو بھی رکھتا ہے اور جمالی پہلو بھی۔ جلالی پہلو کی طرف اوپر اشارہ کیا جا چکا ہے کہ مومن مصارفِ زندگی میں کردار کی عظمت و صلابت کا مظاہرہ کرتا ہے اور جمالی پہلو یہ ہے کہ مومن اہل ایمان کے درمیان محبت و رافت کا ایک پیکر ہوتا ہے۔ اس کی گفتگو، اس کی نشست و برخاست، اس کی چال ڈھال اور اس کا باہمی میل جول ایک خاص قسم کے حسن و لطافت اور نفاست و ملائمت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں اصحابِ رسول اللہ ﷺ کی شان ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔

اَشِدَّاءُ عَلى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَينَهمْ (الفتح۔ ۲۹)

''وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں۔''

مندرجہ بالا توضیحات اس امر کے اثبات کے لئے کافی ہیں کہ ہر قسم کی نیکی اور اخلاقی عظمت دراصل حسنِ خلق ہی کی تعریف میں آتی ہے۔

حضور ﷺ کے تعلیم کردہ اخلاقِ فاضلہ

1. خندہ پیشانی سے ملنا اور سلام سے گفتگو کا آغاز کرنا:

اسلام کی اخلاقی تعلیمات میں یہ چیز ایک اصولی اہمیت رکھیت ہے کہ نیکی کا کوئی کام حقیر نہیں ہے، خواہ بظاہر وہ کیسا ہی معمولی کیوں نہ ہو، اور بدی کا کوئی کام معمولی نہیں ہے، خواہ بظاہر ہو کتنی ہی چھوٹی سی کیوں نہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

لَا تَحْتَقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ شَیْئًا وَلَو اَنْ تَلْقٰی اَخَاكَ بِوَجْه طَلِیْقٍ (مسلم)

یعنی ''کسی نیکی کے کام کو حقیر مت سمجھو، خواہ وہ یہی کیوں نہ ہو کہ تم اپنے بھائی کو ہنستے ہوئے چہرے کے ساتھ ملو۔''

اسی طرح سلام سے آغازِ ملاقات و گفتگو کا حکم دیا گیا اور فرمایا گیا کہ:

أَفْشُوا السَّلَامَ بَیْنَکُمْ ''اپنے درمیان سلام کو عام کرو۔'' (مسلمؒ)

مراد یہ ہے کہ اہلِ ایمان جب بھی آپس میں ملیں باہمی سلامتی اور ایک دوسرے کے حق میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کی دعا کرتے ہوئے ملیں۔

یہ خوش اخلاقی حسنِ معاشرت کا نقطۂ آغاز ہے۔ بہت سے تعلقات اس وجہ سے کشیدہ یا ختم ہو جاتے ہیں کہ افراد کے اندر خوش خلقی کا جوہر کم ہوتا ہے یا اس کا مظاہرہ کرنے میں بخل سے کام لیا جاتا ہے۔ چونکہ اہلِ ایمان ایک ایسی جماعت ہیں جس کی باہمی تنظیم و استواری اور استحکام غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اس لئے عام ملاقاتوں اور روز مرہ کی بے تکلف گفتگوؤں کو بھی ایک خاص سلیقے اور شائستگی کے قالب میں ڈھال دینا ضروری سمجھا گیا، اور جہاں خوشگوار تعلقات کی استواری کے لئے بعض بڑی بڑی ہدایات دی گئیں وہاں اس بظاہر چھوٹی سی بات کی تعلیم کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا کہ اہلِ ایمان کا رسمی میل جول بھی کس کیفیت اور کس شان کا حامل ہونا چاہئے۔

2. نرم خوئی، متحمل مزاجی، بردباری، عفو و درگزر اور ایثار و قربانی:

یہ ساری صفحات دراصلعایل ظرفی اور بالغ نظری سے پیدا ہوتی ہیں اور عالی ظرفی اور بالغ نظری مومن کے خمیر میں شامل ہوتی ہے۔ خدائے واحد و قہار پر ایمان انسان کے اندر جس قسم کی بالغ نظری کی افزائش چاہتا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ ایسی تمام مذموم صفات، جو ان گھڑ شخصیت کا لازمہ ہوتی ہیں، محمود صفات کے لئے جگہ خالی کر دیں۔ اسی لئے قرآن مجید اور احادیثِ نبوی میں بے شمار مقامات پر مندرجہ بالا صفات کی تحسین کی گئی ہے اور اپنی شخصیتوں میں ان کو پروان چڑھانے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ یہ صفات، مشتعل مزاجی، منتقم طبیعت، بد خوئی درشتیٔ طبع، جلد بازی، عدم تدبر اور بخل و تنگدلی کی ضد ہیں اور ان سے اسلامی معاشرے کے انفرادی اور اجتماعی مزاج کا آب و رنگ معین ہوتا ہے۔

ارشاد ہوا: إِنَّ فِیْكَ خَصْلَتَیْنِ یُحِبُّھُمَا اللّٰہُ: اَلْحِلْمُ وَالْاَنَاۃُ (مسلم)

یعنی ''تیرے اندر دو خصلتیں ایسی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے: بردباری اور وقار و سنجیدگی۔''

حدیث قدسی ہے کہ:

مَنْ یُّحْرَمِ الرِّفْقُ یُحْرَمِ الْخَیْرُ کُلُّه (مسلم)

''جو نرمی سے محروم ہوتا ہے وہ ہر طرح کی بھلائی سے محروم ہو جاتا ہے۔''

ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے نصیحت کی درخواست کی تو حضور ﷺ نے فرمایا: لَا تَغْضَبْ (غصے میں نہ آؤ) اس شخص نے متعدد مرتبہ یہی درخواست کی تو حضور ﷺ نے ہر مرتبہ اسے یہی نصیحت فرمائی۔ (بخاری)

قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے کہ:

وَالْيَعْفُوْا وَلْيَصْفَحُوْا اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ (النور: 22)

''اور انہیں معاف کر دینا چاہئے اور درگزر کرنا چاہئے۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کرے؟''

مسلم، مسند احمد اور بخاری میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد گرامی نقل ہوا ہے، فرمایا کہ بخل و تنگدلی (الشُحُ) سے بچو کیونکہ بخل و تنگدلی ہی نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا، اُس نے ان کو ایک دوسرے کے خون بہانے اور دوسروں کی حرمتوں کو اپنے لیے حلال کر لینے پر اُکسایا۔

شُحُّ نَفس (بخل و تنگدلی) کو محدود معنوں میں نہیں لینا چاہئے۔ یہ چیز دراصل فیاضی و فراخدلی اور ایثار و قربانی کی ضد ہے اور مختلف معاملات میں مریضانہ طرزِ فکر اور غیر صحت مند طرزِ عمل کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ رواداری، وسعتِ نظر اور ایک دوسرے کے جذبات کی پاسداری کی صفات، جو معاشرتی زندگی کی خواشگواری اور ہمواری کی ضمانت ہوتی ہیں، اس شُح نفس کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔ اس لئے اس سے سخت اجتناب کی تاکید فرمائی گئی ہے اور اس کے برعکس عالی ظرفی اور فراخدلی کی تعلیم دی گئی ہے کیونکہ ان صفات کے بغیر اسلامی طرزِ معاشرت کی امتیازی شان اجاگر نہیں ہو سکتی۔

3. اُخوت اور باہمی خیر خواہی:

رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ:

''مسلمان، مسلمان کے لئے عمارت کی طرح ہوتا ہے جس کا ایک حصہ دوسرے کو قوت پہنچاتا ہے۔'' پھر آپ ﷺ نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں پیوست کر کے بتایا (متفق علیہ)

فرمایا: ''قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، کوئی شخص ایمان دار نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہی کچھ پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔'' (متفق علیہ)

حضرت تمیم داری کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَةُ (دین خیر خواہی ہے)

ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ، کس کے لئے؟ فرمایا: ''اللہ کے لئے اور اس کی کتاب کے لئے اور اس کے رسول کے لئے اور مسلمانوں کے قائدین کے لئے اور عام مسلمانوں کے لئے۔'' (مسلم)

اخوت اور نصیحت (خیر خواہی) دو ایسی بنیادیں ہیں جن پر اسلامی معاشرے کے اندر افراد کے باہمی تعلّق کی عمارت استوار کی گئی ہے۔ حقیقی بھائی چارے اور باہمی ہمدردی و خیر خو کا جو مفہوم بھی کسی معاشرے کے اندر ممکن ہو سکتا ہے وہ سب اسلامی معاشرے کے اندر مطلوب ہے، لیکن اس امتیاز کے ساتھ کہ اسلامی معاشرے میں یہ رشتۂ اخوت اللہ، اس کی کتاب اور اس کے رسول پر ایمان کے ساتھ وابستہ اور انہی آداب و مقاصد کا پابند ہے جو اس کے لئے متعین فرما دیئے گئے ہیں۔ اس رشتۂ اُخوّت کو مضبوط و مستحکم بنانے والی ہر چیز پسندیدہ اور مستحسن ہے اور اس کو نقصان پہنچانے والی ہر چیز قابلِ نفرت اور لائق باز پرس ہے۔

اسلامی معاشرے کے افراد کے درمیان اخوت کی رُوح وہ نصیحت و خیر خواہی ہے جس کی تاکید الدِّیْن النَّصِیْحَۃُ کے ارشاد سے فرمائی گئی اور جسے دوسرے لفظوں میں حسن اخلاص اور حسن نیت سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ یہ اس کیفیت کا نام ہے جس میں ایک مومن کی سوچ کا ہر رُخ اور عمل کا ہر انداز ملّت اسلامیہ کی انفرادی و اجتماعی فلاح اور دینِ خداوندی کی سرفرازی و کامرانی کے لئے وقف ہو جاتا ہے۔

صداقت شعاری، دیانت و امانت اور پاسِ عہد:

نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:

إِنَّ الصِّدْقِ یَھْدِي إِلَی الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ یَھْدِي إِلَی الْجَنةِ (متفق علیہ)

''بے شک سچائی نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔''

مزید ارشاد ہوا:

دَعْ مَا یُرِیْبُكَ إِلٰی مَا لَا یُرِیْبُكَ فَإِنَّ الصَّدْقَ طُمَانِیْنَة وَالْکَذِبَ رِیْبَة(ترمذی)

''جو چیز تجھے شک میں ڈالتی ہے اسے چھوڑ کر اس کو اختیار کر جو شک میں ڈالنے والی نہیں ہے، کیونکہ سچ قلبی طمانیت (کا نام) ہے۔ اور جھوٹ شک و اضطراب (پیدا کرنے والی چیز) ہے۔''

قرآن و حدیث میں صداقت شعاری کی تاکید بے شمار مقامات پر آئی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ صفت اسلام کی تعلیم کردہ صفات میں ایک بڑا اونچا مقام رکھتی ہے۔ اس صفت کو محدود معنوں میں نہیں لینا چاہئے۔ دین میں سچائی دراصل قول و فعل میں مقصود ہے۔ صداقت شعاری کا تعلق صرف زبان کے ساتھ سچ بولنے سے نہیں ہے بلکہ پوری عملی زندگی سے ہے۔ ایک چیز پر ایمان لانا اور پھر اس کے عملی تقاضوں کو نظر انداز کر دینا یا اس کے برعکس طرزِ عمل اختیار کرنا راست بازی اور صداقت شعاری کے خلاف ہے۔ اسی لئے روزے جیسی اہم عبادت کے مقصودِ حقیقی کو ذہن نشین کرنے کے لئے ارشاد فرمایاکہ اللہ کو اس شخص کے روزے کی کوئی حاجت نہیں ہے جس نے جھوٹ اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا۔

سورہ الصفّ میں فرمایا گیا:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ (2) كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ

''اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟ اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم وہ بات کہو جو کرت نہیں۔''

صداقت ہی کا ایک شعبہ دیانت و امانت اور پاسِ عہد ہے اور ان صفات کو اپنے اندر پیدا کرنا لازمۂ ایمان ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

اٰیَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: (زَادَ مُسْلِمٌ: وَإِنْ صَامَ وَصَلّٰی وزَعَمَ أَنَّه مُسْلِمٌ إِذَا حَدَّثَ کَذَب وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وإِذا اؤْتُمِنَ خَانَ (مُتَّفَقٌ علَیہ)

منافق کی تین نشانیاں ہیں، اگرچہ وہ نماز پڑھتا ہو اور روزہ رکھتا ہو اور مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہو، یہ کہ جب بولے تو جھوٹ بولے، اور جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے اور جب کوئی امانت اس کے سپرد کی جائے تو اس میں خیانت کر گزرے۔''

صبر و استقامت:

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً خَیْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ (متفق علیہ)

''اور کسی شخص کو صبر سے بڑھ کر اچھا اور ہمہ گیر عطیہ نہیں دیا گیا۔''

ایک طویل حدیث کا ٹکڑا ہے:

اَلصَّبْرُ ضِیَاءٌ۔ ''صبر روشنی ہے۔'' (مسلم)

اسی طرح ارشاد فرمایا:

اَلصَّبْرُ نِصْفُ الْإِیْمَانِ ''صبر نصف ایمان ہے۔'' (بیہقی)

طبرانی میں منقول ہے کہ:

''صبر کرنا اور اللہ کے اجر کی امید پر کام کرنا غلاموں کو آزاد کرنے سے افضل ہے اور ان صفات کے حامل کو اللہ تعالیٰ بغیر حساب کے جنت میں داخل کرے گا۔''

ان ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ صبر ایک ایسی صفت ہے جو ظلمت کدۂ حیات میں انسان کے لئے روشنی کا کام دیتی ہے اور ایک مومن کے لئے دنیا اور آخرت کا سرمایہ ہے۔ صبر کی یہ اہمیت اور فضیلت کیوں ہے؟ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

ہم جس دنیا میں سانس لے رہے ہیں وہاں انسان کو دو حالتوں سے لازماً سابقہ پیش آتا ہے ایک تو یہ ہے کہ یہاں ہر چیز ہماری مرضی اور پسند کے مطابق نہیں ہے، بلکہ ان گنت حالات اور معاملات ہماری مرضی اور پسند کے خلاف ظہور میں آتے ہیں، اور ان کو بدل ڈالنا ہمارے بس میں نہیں ہوتا۔ مثلاً بیماری، رنج و غم، مصائب و مشکلات اور پریشانیاں۔

دوسرے یہ کہ انسان اس زندگی میں جو عقیدہ و مسلک اور طرزِ زندگی اختیار کرتا ہے، اور اپنا جو نصب العین مقرر کرتا ہے اس کی پابندی اور اس کے حصول میں ایک طرف تو اسے باہر کے ماحول سے مزاحمت، تصادم اور کشمکش سے سابقہ پیش آتا ہے، کیونکہ اس کے اس عقیدہ و مسلک اور طرزِ زندگی اور نصب العین کے اثرات اس سے مختلف عقیدہ اور نصب العین رکھنے والوں پر بھی مترتب ہوتے ہیں اور وہ اس پر اپنا ردِ عمل ظاہر کرتے ہیں اور دوسری طرف انسان کو اپنی ذات کے اندر سے بھی بعض مشکلات اور مزاحمتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ خود اس کا اپنا نفس بھی بسا اوقات اس کے انتخاب کردہ طرزِ زندگی اور نصب العین کے ناگزیر تقاضوں کو قبول کرنے سے پہلو تہی کرتا ہے۔

ان دونوں صورتوں میں انسان کی جو اخلاقی صفت اس کی دستگیری اور دست دمسازی کرتی ہے۔ وہ صبر ہے یعنی ایک صبر تو وہ ہے جو انسان بعض غیر اختیاری حالات و مصائب اور پریشانیوں کے مقابلے میں اختیار کرتا ہے اور اس صبر کا مظاہرہ اس طرح ہوتا ہے کہ وہ گھبراہٹ، مایوسی، اضطراب تنگ دلی اور تُنک ظرفی کا شکار نہیں ہوتا۔ اور ایک صبر وہ ہے جس کا مظاہرہ اس کی طرف سے اپنے عقیدہ و مسلک اور نصب العین کے معاملے میں مستقل مزاجی، ثابت قدمی، جرأت و حوصلہ، عالی ظرفی اور ضبطِ نفس کی شکل میں ہوتا ہے؟ اور ان دونوں کے نتیجے میں انسان کے اندر ایک طرح کی اخلاقی بلندی، وسعتِ نظر، بلند حوصلگی، سیرت و کردار کی پختگی، خود اعتمادی اور روشن ضمیری کی صفات جنم لیتی ہیں۔ اس طرح یہ صبر انسان کی شخصیت کی تعمیر اور اخلاقی ارتقاء کا ایک زبردست وسیلہ ثابت ہوتا ہے۔

پھر صبر کی صفت اگرچہ ہر انسان کے لئے قوتِ حیات کے بمنزلہ ہے، لیکن ایک مومن تو اس سے ایک لمحے کے لئے بھی بے نیاز نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کی پوری زندگی ہی دراصل ایک مسلسل پیکار ہے، اولاً اس دنیا میں سرگرمِ کار طاغوتی طاقتوں کے خلاف، اور ثانیاً اس نفس کے خلاف جو ہر لحظہ اس گھات میں لگا رہتا ہے کہ کہاں اس کے ارادے کی باگیں ڈھیلی پڑیں اور وہ اپنے سوار کو زیر کر لے۔

صاحب ''تفہیم القرآن'' نے صبر کی اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔

''صبر کے لغوی معنی روکنے اور باندھنے کے ہیں، اور اس سے مراد ارادے کی وہ مضبوطی، عزم کی وہ پختگی اور خواہشاتِ نفس کا وہ انضباط ہے جس سے ایک شخص نفسانی ترغیبات اور بیرونی مشکلات کے مقابلے میں میان اپنے قلب و ضمیر کے پسند کیے ہوئے راستے پر لگاتار بڑھتا جائے۔''

(تفہیم القرآن ''جلد ص ۷۳)

اسی مفہوم کو نہایت سادگی اور جامعیت کے ساتھ ایک حدیث شریف میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے۔

''صبر تین طرح کا ہے: مصیبت پر صبر، اطاعت پر صبر (یعنی اس پر ثابت قدمی) اور نافرمانی سے صبر (یعنی اس سے اجتناب) رواہُ اَبوُ الشیخ فِی الثوابِ عن عَلّیٍ۔

نیک اعمال پر مُداومتِ، پیش قدمی اور معاونت:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

وَکَانَ أَحَبَّ الدِّیْنِ إِلَیْهِ مَا دَاوَمَ صَاحِبَهُ عَلَیْه (متفق علیہ)

''اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہترین وہ ہے جس پر اس کا اختیار کرنے والا ہمیشگی اختیار کرے۔''

ایک موقع پر ارشاد فرمایا: بِادِرُوْا بِالْأَعْمَالِ الصَّالِحَةِ ''یعنی نیک اعمال سر انجام دینے میں جلدی کرو۔'' (مسلم)

اسی طرح فرمایا: مَنْ دَلَّ عَلٰی خَیْرٍ فَلَهُ أَجْرُ فَاعِلِهِ''جس نے کسی نیک کام کی ترغیب دی، اس کے لئے اس نیکی کو انجام دینے والے کے برابر اجر ہے۔'' (مسلمؒ)

جس طرح مستقل مزاجی عام دنیاوی معاملات میں کامیابی کی شرط ہے اسی طرح دین کے معاملے میں بھی اسے اختیار کرنے بے حد ضروری ہے کیونکہ نیکو کاری، خدا خوفی اور پرہیزگاری ایسی چیزیں نہیں ہیں جن کو بس وقتی جوش کے تحت آدمی اپنا کر پھر غفلت کی نیند سو جائے۔ تقویٰ اور پرہیز گاری تو انسان کی پوری زندگی میں مطلوب ہیں اور مستقل مزاجی اور ثابت قدمی کے ساتھ مطلوب ہیں۔ مقصود یہ نہیں ہے کہ آدمی وقتاً فوقتاً نیکیوں کے کچھ کام انجام دے، بلکہ مقصود یہ ہے کہ اس کی پوری زندگی نیکی، پرہیزگاری اور صلاح و فلاح کی مظہر ہو۔ اس لئے یہ نصیحت فرمائی گئی کہ جو نیکی بھی اختیار کرو اس کو ثابت قدمی سے نبھاؤ، اس میں اعتدال و توازن کو ملحوظ رکھو اور ایسی انتہا پسندی کا مظاہرہ نہ کرو کہ کچھ وقت تو خوب جوش و جذبہ دکھاؤ اور پھر سست اور مضمحل ہوکر بیٹھ جاؤ۔ کیونکہ نیکی کے معاملے میں حد استطاعت و اعتدال سے بڑھ کر پیش قدمی کرنا اس خطرے سے خالی نہیں کہ بعد میں ایسی پسپائی کی نوبت آجائے جو کم از کم معیارِ مطلوب سے بھی تمہیں پیچھے لے جائے۔ اس لئے بہترین طرزِ عمل اعتدال و توازن کو ملحوظ رکھنا اور مستقل مزاجی اور ثابت قدمی کے ساتھ نیکیوں پر کار بند رہنا ہے۔

اس اعتدال و توازن اور ثبات و استقلال کے ساتھ ایک مومن کی حقیقی شان یہ ہے کہ وہ نیکیوں کے معاملے میں حریص ہو، بھلائی کے ہر موقع سے فائدہ اُٹھائے اور جن اعمالِ صالحہ کی اس کو تعلیم دی گئی ہے ان کی توفیق و استطاعت رکھتے ہوئے ان کی انجام دہی میں کبھی کوتاہی نہ کرے۔ نیکیوں کے ساتھ یہ غیر معمولی محبت اور ان کی طرف پیش قدمی میں جلدی کرنے کی صفت ایک بندۂ مومن کے اندر اسی وقت نشوونما پا سکتی ہے جبکہ وہ کامل شعور کے ساتھ اُخروی زندگی کی کامیابی کو اپنا مطمحِ نظر بنائے اور دنیوی زندگی پر آخرت کی زندگی ترجیح کو اپنا شعار بنا لے۔ ''نیک اعمال کی انجام دہی میں جلدی کرو'' کی نصیحت سے مقصود غفلت کی روش پر تنبیہ کرنا اور ترجیحِ آخرت کی محبت کو دلوں میں راسخ کرنا ہی ہے۔

نیک اعمال پر مداومت اور ان میں پیش قدمی کے ساتھ نیکیوں کی طرف رغبت دلانا اور ان میں ایک دوسرے سے تعاون کرنا بھی محمود و مقصود ہے، اور یہ بجائے خود ایک بہت بڑی نیکی ہے۔ جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے۔ وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْویٰ نیکی کی ترغیب اور اس میں تعاون خود آدمی کے اپنے جذبۂ خیر کے لئے باعثِ تقویت اور تعمیرِ سیرت میں ممد و معاون ہوتا ہے۔ اس سے اسلامی معاشرے میں نیکیوں کے نشوونما پانے اور برائیوں کے دبنے اور سکڑنے سمٹنے کی فضا پیدا ہوتی ہے اور افرادِ معاشرہ کی بہت سی انفرادی کوتاہیوں اور خامیوں کا ازالہ ہوتا ہے۔ باہمی تعاون و ترغیب سے شخصی سیرت و کردار میں وہ استواری پیدا ہوتی ہے جس کا پیدا کرنا عام حالات میں انفرادی کوششوں سے ممکن نہیں ہوتا۔

امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور جہاد:

اعمال صالحہ کی طرف پیش قدمی اور نیکی کے لئے ترغیب و تعاون سے اگلا درجہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ہے جس کا ایک مرحلہ جہاد بھی ہے۔ ارشادِ ربّانی ہے:

وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (اٰل عمران: 104)

''تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہی رہنے چاہئیں جو نیکی کی طرف بلائیں، بھلائی کا حکم دیں، اور برائیوں سے روکتے رہیں۔ جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے۔''

اس ضمن میں ارشادِ نبوی ہے کہ:

''تم میں سے جو شخص برائی کو (ہوتا) دیکھے اسے چاہئے کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے روک دے اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اپنی زبان سے منع کرے۔ اگر اس کی استطاعت بھی نہ رکھتا ہو تو دل میں اس کو برا جانے، اور یہ کمزور ترین ایمان ہے۔'' (مسلم۔ روایت حضرت ابو سعید خدریؓ)

حضرت طارق بن شہابؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے دریافت کیا کہ کون سا جہاد افضل ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا:

کَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جائرٍ (نسائی)

یعنی ''ظالم حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہنا۔''

جیسا کہ معلوم ہے، امتِ مسلمہ کا حقیقی مقام اور کردار خَیْرُ أُمَّة اور أُمَّة وَسَط کا ہے۔ یعنی اسلام کوئی ایسا عقیدہ اور طرزِ زندگی نہیں ہے جس کو انفرادی طور پر اختیار کر لینا کافی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنا نہ صرف یہ کہ کافی نہیں ہے بلکہ ممکن بھی نہیں ہے۔ یہ دنیا ایک رزمگاہ ہے جس میں شر کی قوتیں بھی اپنا کام کر رہی ہیں اور خیر کی قوتیں بھی برسرِ کار ہیں۔ یہاں حِزْبُ اللّٰہ بھی موجود ہے اور حِزْبُ الشَیْطٰن بھی۔ یہاں خدا اور اس کے دین پر ایمان لانے والے بھی پائے جاتے ہیں اور ان کا انکار کرنے والے بھی۔ ان دونوں گروہوں کے مابین ایک ازلی تصادم اور کشمکش برپا ہے۔ ایک آدمی اگر چاہے بھی تو اس کشمکش سے دامن بچا کر نہیں گزر سکتا۔ اور اگر کوئی ایسا کرنا چاہے تو اس کا میدانِ عمل یہ دنیا نہیں ہو سکتی بلکہ اس کی جائے پناہ کوئی جنگل یا ویرانہ یا کسی پہاڑ کی کھوہ ہی ہو ستی ہے۔ مگر یہ یاد رہے کہ یہ راہِ فرار اختیار کر کے ایک شخص ایک طرف تو زندگی کا میدان برائی کی قوتوں کے لئے خالی کرتا اور بھلائی کی قوتوں سے اپنا رشتہ توڑ کر ان کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اور دوسری طرف زندگی کی امتحان گاہ کے بہت سے پرچے چھوڑ کر اپنی سیرت و کردار کی مثبت اور صالح تعمیر کے مواقع ضائع کرتا اور خالق کائنات کے مقرر کردہ مقصدِ تخلیق سے روگردانی کرتا ہے۔ اس لئے ایک مسلمان کا کردار اس رزمگاہِ خیر و شر میں بالکل متعین ہے۔ اس کو اپنی ذاتی سیرت و کردار کی تعمیر اسی مقصدِ تخلیق کے پیش نظر کرنی ہے اور اسی کے تقاضوں کی تکمیل کے ذریعے سے کرنی ہے۔ پھر مقصود صرف ذاتی اصلاح و تہذیب اور تعمیرِ کردار ہی نہیں بلکہ ایک ایسی جماعت کا قیام بھی ہے جو نیکیوں کا حکم دینے والی اور برائیوں سے روکنے والی ہو تاکہ دنیا کی زمامِ کار خدا کے باغیوں کے ہاتھ سے نکل کر خدا کے وفاداروں کے ہاتھ میں آئے اور انسانِ نیابتِ الٰہی کے اعزاز اور خلافت ارضی کے منصب کا صحیح اہل اور مصداق ثابت ہو سکے۔

مومن کا یہ مقام جس قسم کی اخلاقی عظمت اور صلابت کردار کا طالب ہے وہ محض وعظ و نصیحت یا نیک خواہشات سے پیدا نہیں ہو سکتے بلکہ ان کے لئے مہم ریاضت، مسلسل سعی و جہد اور مستقبل محاسبۂ نفس کی ضرورت ہے۔ بندۂ مومن کو صرف اپنے نفس کے غلط داعیات و رجحانات ہی کے خلاف جنگ نہیں کرنی ہے بلکہ خارج میں پھیلی ہوئی برابرئی اور بغاوت و سرکشی کے خلاف بھی نبرد آزما ہونا ہے، چنانچہ مسلسل مشق و تمرین، پیہم سعی و جہد اور مستقل حرکت و عمل ہی اس کو اس قابل بنا سکتے ہیں کہ وہ کردار کی اس عظمت کو پہنچے جو ایک مجاہد کا حصہ ہوتی ہے۔ اسلام در حقیقت ایسے مجاہدین فی سبیل اللہ کی ایک جماعت تیار کرنا چاہتا ہے جو نیکیوں کے فروغ اور غلبے اور برائیوں کی بیخ کنی اور خاتمے کے لئے اپنی اجتماعی جدوجہد کو بروئے کار لائیں اور اقامتِ دین کی منزل کی طرف مسلسل پیش قدمی کرتے ہوئے توفیقِ ربّانی سے اس کو حاصل کر لیں۔

پس یہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کردار دراصل ایک مجاہدانہ کردار ہے اور انفرادی اصلاح اور تعمیرِ سیرت کی کوئی کوشش صحیح معنوں میں نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس کردار کو اختیار نہ کیا جائے۔ وہ ساری صفات جن کا گزشتہ سطور میں ذکر کیا گیا ہے (دوسری بہت سی ایسی صفات سمیت جن کا ذکر ازراہ اختصار نہیں کیا گیا) دراصل ایک بندۂ مومن کو اسی مجاہدانہ کردار کے لئے تیار کرتی ہیں، اور اس کو ان تمام اخلاقی ہتھیاروں سے مسلح کرتی ہیں جو اس رزمگاہِ خیر و شر اور مصافِ حق و باطل میں اس کے لئے انتہائی ضروری ہیں۔ در حقیقت سیرت و کردار کا یہی وہ بلند ترین مقام ہے جس پر پہنچنا رضائے الٰہی کے حصول کا ذریعہ اور وسیلہ ہے اور اسی سیرت و کردار کے ساتھ زندگی گزارنا دنیوی فلاح اور اُخروی نجات کی ضمانت ہے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے تعلیم کردہ اخلاقِ حسنہ کا مقصد اسی سیرت و کردار کو پیدا کرنا اور پروان چڑھانا ہے۔ قرآن و حدیث کے تعلیم کردہ اخلاقِ حسنہ کا مقصد اسی سیرت و کردار کو پروان چڑھانا ہے۔ قرآن و حدیث میں جن منفی صفات و اخلاق (مثلاً تکبّر، ظلم، سنگدلی، جھوٹ، غصہ، فحش گوئی اور بد زبانی، غیبت، چغلخوری، حسد، عیب چنی، بخل، خیانت، نفاق، فریب، بزدلی، کینہ پروری اور بدخواہی وغیرہ) سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ ان کا مقصود بھی دراصل مومن کے اندر اخلاقِ فاضلہ ہی کی تکمیل اور افزائش ہے اور ان سے بچنا اسی لئے ضروری ہے کہ ایک مومن کے حقیقی کردار اور اخلاقی مرتبہ و مقام کے ساتھ ان رذائل کی کوئی مناسبت ہی نہیں ہے!