(قسط 2)

بادشاہ نبی نہیں، عبد رسول:

7. عَنْ عَائِشَة رضی اللّٰہ تعالٰی عنھا قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ الله ﷺ:

یَا عَائِشَةُ لَوْ شِئْتُ لَسَارَتْ مَعِيَ جِبَالُ الذَّھَبِ، جَاءَنِي مَلَکٌ ...... فَقَالَ اِنَّ رَبَّکَ یَقْرَأُ عَلَیْکَ السَّلَام وَیَقُوْلُ اِنْ شِئْتَ نَبِیًّا عَبْدًا وَاِنْ شِئْتَ نَبِیًّا  مَلِکًا؟ فَنَظَرْتَ إِلٰی جِبْرَئِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَأَشَارَ اِلَیَّ أَنْ ضَعْ نَفْسَكَ۔

وَفِیْ رَوَایَةِ ابنِ عَبّاسٍ فَالْتَفَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إِلٰی جِبْرَئِیْلَ کَالْمُسْتَشِیْرِ لَهُ، فَاَشَارَ جِبْرَئِیْلُ بِیَدِہٖ اَنْ تَوَاضَعْ، فَقُلْتُ نَبِیًّا عَبْدًا، قَالَتْ فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بَعْدَ ذٰلِکَ لَا یَاْکُلُ مُتَّکِئًا، یَقُوْلُ:

اٰکُلُ کَمَا یأْکُلُ الْعَبْدُ وَاَجْلِسُ کَمَا یَجْلِسُ الْعَبْدُ (رواہ في شرح السنة ورواہ ابن حبان عن أبي ھریرة)

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ اگر میں چاہتا تو سونے کے پہاڑ میرے ساتھ ساتھ چلا کرتے، میرے پاس ایک فرشتہ آیا ........ اور کہا کہ آپ کا رب آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ (کیا پسند کرتے ہو؟) عبد نبی (نبوت کے ہمراہ بندگی) یا بادشاہ نبی؟ میں نے جبرئیل کی طرف دیکھا تو انہوں نے اشارہ کیا کہ ''تواضع'' اختیار کیجیے!

ابن عباس کی روایت میں یوں ہے کہ:

رسول اللہ ﷺ نے جبرئیل امین کی طرف یوں دیکھا جیسے مشورہ لینے والا دیکھتا ہے۔ انہوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے کہا کہ:

تواضع اختیار کیجیے!

(چنانچہ) میں نے جواب دیا کہ ''عبد نبی'' (نبوت کے ساتھ عبدیت) چاہتا ہوں اس کے بعد (آپ کی کیفیت یہ ہو گئی تھی کہ) کھانا بھی تکیہ لگا کر نہیں کھاتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ

''میں اس طرح کھاتا ہوں جیسے ایک غلام کھاتا ہے اور اس طرح بیٹھتا ہوں جس طرح ایک 'بندۂ بے دام' بیٹھا کرتا ہے۔'' (شرح السنۃ وابن حبان)

اقتدار گو برا نہیں، تاہم مقام نازک ہے۔ یہ ایک عظیم ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ''مسئولیت'' کا باب بہت بڑا باب ہے اور بہت ہی کٹھن ہے۔ دانا بینا انسان اسے آسانی سے قبول نہیں کر سکتا۔ کیونکہ یہ پھولوں کا تاج نہیں ہے، کانٹوں کا بچھونا ہے۔ جس کو نیند عزیز نہیں وہی اسے اپنے لئے پسند کر سکتا ہے۔

اس کے علاوہ: اصلی بادشاہ ''أحکم الحاکمین'' ہے، اور نبی کا تعلّق اسی ذاتِ کبریا سے ہوتا ہے، اس لئے یہاں ''نسبت عبدیت'' کی بہتر ہوتی ہے بادشاہت کی نہیں۔

بہرحال ''بادشاہت'' اپنی گوناگوں ذمہ داریوں اور نزاکتوں کی وجہ سے ''نبی بردوش'' بھی ہو تو خطرے سے خالی نہیں ہے، جو لوگ اسے جاہ طلبی اور عیشِ فراواں کے جذبہ سے اس کے پیچھے دوڑ رہے ہیں، وہ شاید اس کے حوصلہ شکن نتائج سے بے خبر ہیں یا نفس و طاغوت کی غلامی کی وجہ سے وہ اپنے اخروی لا زوال مستقبل کو اپنے فانی اور سطحی حال پر قربان کیے جا رہے ہیں۔ اِنَّا للّٰہ

گو اللہ کے نبی اپنے دائرۂ کار میں، لوگوں کے لئے ''فرمانروا'' ہوتے ہیں لیکن چونکہ وہ احکم الحاکمین کی مرضی اور مشیت کے تابع ہوتے ہیں، اس لئے وہاں بادشاہتکا نہیں بلکہ ''عبدیت'' کا احساس پسِ پردہ کار فرما ہوتا ہے۔ اس لئے وہاں شاہزادگی کے بجائے ''بندگی'' کا رنگ چھایا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رحمۃٌ للعالمین ﷺ نے اپنے لیے ایسے لفظ اور خطاب کو بھی پسند نہیں فرمایا جو ''بادشاہت'' کی راہ میں آتا ہے، جیسے ''سید'' کا نام ہے۔ آپ ﷺ نے اس کے کہنے والے کو روک دیا تھا کہ ''سید'' صرف اللہ ہے (ابو داؤد) یعنی میرے لیے یہ لفظ استعمال نہ کرو۔

اَدُّو الأمانات إلى أهلها:

8. عن عبادة بن الصابت قال بایعنا رسول اللّٰہ ﷺ علی السمع والطاعة ....... علی أن لّا ننازعَ الأمر أھله (الصحیحین)

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ:

ہم نے ''سمع اور طاعت'' کے معاہدہ پر رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تھی۔ اور اس شرط پر کہ، جو لوگ ''امامت'' کے اہل ہیں، ان سے اسے چھیننے کی کوشش نہیں کریں گے۔

اہلیت ''دینداری اور مفوضہ ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کی صلاحیت'' کا نام ہے۔ ایسے لوگوں کو منصب سے اتارنے کی کوشش کرنا، مسلمانی نہیں، ننگ مسلمانی ہے، باقی رہے ہما شما؟ تو پارلیمانی طریقہ سے ان کو بدلنا ہی بہت ضروری ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کا اقتدار بالاخر عذاب کا سبب بن جاتا ہے اور ان ناہنجاروں کی بدولت ملک و ملت اور دین کا جتنا حرج اور نقصان ہو گا، ان سب کا پوری قوم سے محاسبہ ہو گا۔

9. عن أبي ھریرة أن النبيﷺ قال بینما النبي ﷺ في المجلس یحدث القوم جاءہ أعرابي فقال متی الساعة؟..... قال فإذا ضیعت الأمانة فانتظر الساعة، فقال:

کیف إضاعتھا؟ قال إذاأوسد الأمر إلی غیر أھله فانتظر الساعة (الصحیح للبخاری)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ:

ایک دفعہ جب رسول کریم ﷺ مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگوں سے باتیں کر رہے تھے تو آپ ﷺ کے پاس ایک دیہاتی شخص آگیا، اور کہا: حضور! قیامت کب ہے؟

فرمایا:

جب امانت ضائع ہو جائے تو قیامت کا انتظار کیجیے:

اس پر اس نے پوچھا: (حضور!)

اس کا ضائع ہونا کس طرح ہے؟

فرمایا:

جب حکومت نا اہلوں کے سپرد کر دی جائے تو قیامت کا انتظار کیجیے: (بس اب وہ آنے والی ہے)

حضرت امام ابن تیمیہؒ کے نزدیک امانت سے مراد حکومت ہے اور اھلھا سے ''حکمران'' اور اولی الامر (آیت واولی الامر منکم) سے جیوش اور دوسرے شعبوں کے حکام مراد ہیں۔

پھر فرماتے ہیں:

اس لئے ضروری ہے کہ ہر حکمران، مسلمانوں پر ایسے حکام مقرر کرے جو سب سے زیادہ اس کے لئے فِٹ ہوں (ایسا ستہ الشرعیہ ص ۳۰۲) اگر اہل تر انسان کے بجائے مسلمانوں کی تقدیر کا وارث نا اہل شخص بنے گا تو ظاہر ہے وہ ان کی تقدیروں سے کھیلے گا، بنائے گا نہیں۔ جیسا کہ آج کل ہو رہا ہے۔

10. قال النبي ﷺ من ولي من أمر المسلمین شیئاً فولّی رجلا وھو یجد من ھو أصلح للمسلمین منه فقد خان اللّٰہ ورسوله وفي روایة من قلَّد رجلا عملا علی عصابة وھو یجد في تلك العصابة أرضی منه فقد خان اللّٰہ ورسوله وخان المؤمنین (رواہ الحاکم فی صحیحه)

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ:

''جو شخص مسلمانوں کو کسی بھی شے کا والی ہوا، پھر والی ہو کر اس نے ایک ایسے شخص کی موجودگی میں دوسرے کمتر شخص کی تقرر کی، جو اس سے زیادہ اہل اور فِٹ تھا، تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی خیانت کی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ:

جس نے ایک جماعت پر ایک ایسے شخص کو حاکم مقرر کیا: جس سے زیادہ پسندیدہ اور اہل تر شخص اس جماعت میں موجود تھا تو اس نے اللہ، اس کے رسول اور مسلمانوں کی خیانت کی۔''

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشاد ہے کہ جو شخص مسلمانوں کا والی بنا پھر اس نے محض دوستی یا قرابت کی وجہ سے کسی کو حاکم مقرر کیا تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی خیانت کی۔

قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: مَنْ وَّلِیَ مِنْ اَمْرِ الْمُسْلِمِیْنَ شَیْئًا فَوَلّٰی رَجُلًا لِمُوَدَّة اَوْ قَرَابَة بَیْنَھُمَا فَقَدْ خَانَ اللّٰہُ وَرَسُوْلَه(السیاسیۃ الشرعیۃ لابن تیمیہؒ ملخصًا)

گمراہ حکمران:

11. عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إِنَّمَا أَخَافُ عَلٰی أُمَّتِیْ الْاَتَّمةَ الْمُضِلِّیْنَ (ابو داؤد)

حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ:

''مجھے اپنی امت کے سلسلے میں صرف گمراہ حکمرانوں (کے تسلط) کا خطرہ ہے۔'' (ابو داؤد)

حکمران، ملک و ملّت کے اصلی امام اور رہنما ہوتے ہیں، لوگ وہی رنگ پکڑتے ہیں جو اِن کا رنگ ہوتا ہے۔ صحیح ہوتا ہے تو صحیح، غلط ہوتا ہے تو غلط۔ اور اِسی بنیاد پر ہی قوموں کا مستقبل بنتا اور بگڑتا ہے۔

ملت اسلامیہ کے جتنے اہم مسائل ہیں، امامتِ قوم کا مسئلہ ان سب سے سرِ فہرست ہے: ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں، اُمّتِ مسلمہ اگر یہ مسئلہ اپنی روایات کے شایانِ شان حل کر لیتی ہے تو پھر اس کے بد اس کا اور کوئی بھی مسئلہ لا ینحل نہیں رہتا، ورنہ پوری قوم لا ینحل مسائل کے لحاظ سے ''مسائلستان'' بن کر رہ جاتی ہے۔

اس سلسلے میں آپ نے اپنی پیغمبرانہ بصیرت کی بنا پر جس اندیشے کا اظہار فرمایا تھا، وہ آج حرف بحرف ثابت ہو گیا ہے۔ مدتِ مدید سے غلط کار، برخود غلط، بے دین، بدعمل، کج بین، کجرو اور ملّی مزاج کے لحاظ سے ''ناہل'' سیاسی کھلنڈرے اور حکمران پورے عالم اسلام پر مسلط ہیں، اور اس پر طرّہ یہ کہ ان سے خلاصی پانے کے لئے ملتِ اسلامیہ کے سواد اعظم کے دل میں ابھی تک کوئی تحریک بھی پیدا نہیں ہوئی اور نہ وہ اس سلسلے کی سنجیدہ کوششوں سے کوئی مناسب دلچسپی لے رہا ہے۔ اس لئے اس کا مستقبل بھی موہوم سا ہو کر رہ گیا ہے۔

قبیلہ حمس کی زینب نامی ایک خاتون نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ:

ہم اس صالح نظام پر، جس کو جاہلیت کے بعد اللہ نے ہمیں نصیب کیا ہے، کب تک قائم رہیں گے؟

فرمایا: جب تک تمہارے امام (سیاسی رہنما، حکمران) سیدھے رہیں گے، اس وقت تک تم بھی اس پر قائم رہو گے۔

پھر عرض کی: امام کسے کہتے ہیں؟

فرمایا: کیا تمہاری قوم کے سردار اور معزز لوگ نہیں ہیں؟ وہ جو حکم دیتے ہیں، لوگ ان کی اطاعت کرتے ہیں؟

کہنے لگی: ہاں!

فرمایا: یہی لوگوں کے حاکم ہیں۔

مَا بَقَاءُنَا عَلٰی ھٰذَا الْاَمْرِ الصَّالِحِ جَآءَ اللّٰہُ بَعْدَ الْجَاھِلِیَّة؟ قَالَ: بَقَاءُکُمْ عَلَیْهِ مَا اسْتَقَامَتْ بِکُمْ أَئِمَّتُکُمْ قَالَتْ وَمَا الْأئِمَّةُ؟ قَالَ أَوَ مَا کَانَ لِقَوْمِكَ رَؤُسٌ وَأَشْرَافٌ یَّاْمُرُوْنَھُمْ فَیُطِیْعُوْنَھُمْ قَالَتْ بَلٰی! قَال فَھُمْ اُوْلٰئِكَ عَلَی النَّاسِ (بخاري باب أیام الجاھلیة)

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سیاسی حکمرانوں، اشراف اور ذمہ دار لوگوں کے بارے میں بڑے پتے کی بات کہی ہے:

اے عربیو! جماعتی نظم کے بغیر اسلام کچھ نہیں، اور امیر کے بغیر تنظیم کچھ نہیں، اگر تنظیم میں جذبۂ اطاعت نہیں تو امیر بے فائدہ ہے۔ سو جس قوم نے ''صالح سوجھ بوجھ'' کی بنا پر کسی کو اپنا حکمران بنا لیا تو وہ تو اس کے لئے ''سراپا زندگی'' ثابت ہو گا لیکن جس قوم نے ''صالح سوجھ بوجھ'' کے سوا کسی اور معیار کی بنیاد پر اسے یہ ''ملّی سرداری'' عطا کی تو وہ اس کے لئے اور ان کے لئے تباہی کا موجب ہو گا۔

یا معشر العرب: ...... لَا إسْلَامَ إلَّا بِجَمَاعَةوَلَا جَمَاعَةاِلَّا بِإمَارَة وَلَا اِمَارَة اِلَّا بِطَاعَة سَوَّدَہٗ قَوْمُهُ عَلَی الْفِقَهِ کَانَ حَیٰوۃً لَّه وَمَنْ سَوَّدَہٗ قَوْمُهُ عَلٰی غَیْرِ فِقْه کَانَ ھَلَاکًا لَّهُ وَلَھُمْ (دارمی)

عروج و زوال کی ترازو:

12. أن نَافِعَ بْنَ الْحَارِثِ لَقِیَ عُمْرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِعَسْفَانَ وَکَانَ عُمَرُ اسْتَعْمَلَہٗ عَلٰی اَھْلِ مَکَّة فَسَلَّمَ عَلٰی عُمَرُ فَقَالَ لَہٗ عُمْرُ مِنَ اسْتَخْلَفْتَ عَلٰی اَھْلِ الْوَادی؟ فَقَالَ نَافِع۔ اِسْتَخْلَفْت عَلَیْھِمْ ابْنَ اَبْزَی فَقَالَ عُمَرُ: وَمَنِ ابْنَ اَبْزِیْ فَقَالَ مَوْلَیَ مِّنْ مَّوَالِیْنَا فَقَالَ عُمَرُ اسْتَخْلَفْتَ عَلَیْھِمْ مَوْلیً؟ فَقَالَ۔

یَا اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنَّہٗ لَقَارِیُٔ لِکِتَابِ اللّٰہِ عَالِمٌ بِالْفَرَائِضِ، فَقَالَ عُمَرُ:

اَمَا اَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَدْ قَالَ اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِھَذَا الْکِتَابِ اَقْوَامًا وَیَضَعُ بِه اٰخَرِیْنَ (رواہ الدارمی ص 443/2)

حضرت نافع بن الحارث، عسفان (کے مقام) میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے (جا) ملے، انہیں حضرت عمرؓ نے مکہ کا گورنر تعینات کیا تھا۔ حضرت عمر کو السلام علیکم کہی تو انہوں نے ان سے فرمایا: اہل وادی (سرزمین مکہ) پر کس کو اپنا جانشین مقرر کیا ہے، حضرت نافع بولے: ابن ابزی کو، حضرت عمرؓ نے پوچھا، ابن ابزی کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا۔ وہ ہمارے آزاد کردہ غلاموں میں سے ہے۔ اس پر حضرت عمرؓ نے کہا کہ کیا تو نے ان پر ایک آزاد کردہ غلام کو اپنا خلیفہ بنایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا۔

اے امیر المؤمنین! وہ کتاب اللہ کا عالم ہے، احکامِ دین، ذمہ داریوں اور مالی مسائل کا رازداں ہے اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ (جھوم کر) بولے۔

رسول کریم ﷺ نے سچ فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ اس کتاب (پاک) کے ذریعے بہت سی قوموں کو رفعت بخشتا ہے اور بہت سی دوسری اقوام کو پست کرتا ہے۔''

یہ صرف ملّتِ اسلامیہ کی بات نہیں بلکہ پورے نوعِ انسانی کے مستقبل کی بات کی جا رہی ہے کہ: جو قومیں کتاب اللہ کا دامن تھام کر رکھیں گی وہ یقیناً بامِ اوج پر فائز ہو کر رہیں گی اور جو قومیں قرآن حکیم کے بجائے کسی دوسرے فکر و عمل کو اپنا دستور العمل بنائیں گی، وہ انسانیت کے مقامِ کبریٰ پر فائز نہیں رہیں گی، گو وہ بظاہر انسان نظر آئیں گے مگر وہ حیوان ہوں گے بلکہ ان سے بھی فروتر۔

جس معیارِ زندگی کو دنیا ترقی کے نام سے یاد کرتی ہے، وہ دراصل حیوانی درجہ ہے، انسانی نہیں ہے، اسلام کے نزدیک صحیح ترقی یہ ہے کہ: انسان، انسان رہ کر، دونوں جہان کے مکارمِ حیات میں ترقی کرے۔ اور جو لوگ اخروی مقاصد سے بے نیاز ہو کر صرف دنیا کی ٹھاٹھ باٹھ اور مادی وسائل کی حد تک تاثر یا پہنچ رہے ہیں، اسلام کی نگاہ میں، وہ ترقی نہیں ہے بلکہ یہ سمجھئے! کہ کسی سب سے بڑے سرکش حیوان کو اپنے اوپر مسلط کرنے کے لئے زمین کو ہموار کیا جا رہا ہے۔ اس لئے فرمایا: کہ پھر ان پر برے لوگ مسلّط ہو جائیں گے۔

بد مسلّط ہو جائیں گے:

13. عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ اِذَا مَشَتْ اُمَّتِیْ الْمُطَیْطِیَاءَ وَخَدَمَتْھُمْ اَبْنَاءُ الْمُلُوْکِ ابْنَاءُ فَارِسَ وَالرُّوْمِ سَلَّطَ اللّٰہُ شِرَادُھَا عَلٰی خِیَارِھَا (ترمذی)

حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

''جب میری اُمّت ناز و نخرے کے ساتھ مٹک مٹک کر چلے گی، اور فارس و روم کے بادشاہوں کی آل و اولاد ان کی خدمت گار بنیں گی، اس وقت اللہ تعالیٰ بروں کو نیک لوگوں پر مسلط کر دے گا۔''

کیونکہ جب نفس و طاغوت کی خدمت، عیش و آرام اور ناز نخرے کی زندگی ہی معراج ٹھہری تو پھر اس باب میں جو سب سے بڑا شاطر ہو گا، وہی ان پر مسلّط بھی ہو گا، جو ان کی خدمت نہیں کرے گا بلکہ انہیں اپنی ذات کے لئے استعمال بھی کرے گا، پالے گا بھی تو یں جیسے قصاب بکرے اور چھترے کو پالتا ہے۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ ہم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت مصعب بن عمیر تشریف لے آئے: ایسی چادر اوڑھے ہوے تھے جس پر چمڑے کے ٹکڑے کا پیوند لگا ہوا تھا، جب حضور ﷺ نے ان کو دیکھا تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور آپ کو ان کے ناز و نعمت والا دور یاد آگیا۔ پھر آپ نے فرمایا: کہ اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا، جب صبح و شام تم ایک نیا جوڑا پہنو گے، کھانے کو ایک دستر خوان جائے گا تو دوسرا لگ جائے گا، اور اپنے گھروں کی دیواروں کو یوں چادروں سے ڈھانکو گے جیسے کعبے کی دیواروں کو ڈھانکا جاتا ہے تو صحابہ بولے: حضور اس وقت ہماری حالت آج سے بہتر ہو گی، محنت مشقت سے بچ جائیں گے اور عبادت کے لئے فراغت ملِ جائے گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں! (نہیں) تم اس دن سے آج بہتر ہو۔ (ترمذی)

مقصد یہ ہے کہ مال و دولت کی فراوانی پا کر انسان خدا کی عبادت کے لئے فرصت نہیں پاتا بلکہ نفس و طاغوت کی غلامی میں اور الجھ کر رہ جاتا ہے۔ حالات آپ کے سامنے ہیں۔

میرا ہو جا، سب تیرا، ورنہ۔۔۔۔۔

14. ہاں یہ ضرور فرمایا کہ اگر تم میری عبادت کے لئے یکسو ہو رہو گے تو ہم تمہیں سیر کر دیں گے۔ تنگدستی دور کر دیں گے ورنہ رات دن کی محنت مشقت میں مبتلا کر دوں گا، مگر تمہارا پیٹ پھر بھی نہیں بھرے گا۔

إن اللّٰہ تعالٰی یقول: اِبْنَ اٰدَمَ تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِیْ اَمْلَأُ صَدْرَکَ غَنًی واَسُدَّ فقرک وَاِلَّا تَفْعَلْ مَلَأْتُ یَدَکَ شُغْلًا وَلَمْ اَسُدَّکَ فَقْركَ (ابن ماجہ)

خود سوچیے! تمہیں کیا پسند ہے؟

15. عن أبي ھریرةقال قال رسول اللّٰہ ﷺ۔

اِذَا کَانَ أُمَرَاءُکُمْ خِیَارَکُمْ وَاَغْنِیَاءُکُمْ سَحَاءَکُمْ وَاُمُرْرُکُمْ شُوْرَی بَیْنَکُمْ فَظَھَرَ الْاَرْضِ خَیْرٌ لَّکُمْ مِنْ بَطْنِھَا۔

وَاِذَا کَانَ اُمَرَاءُکُمْ شِرَارَکُمْ وَاَغْنِیَاءُکُمْ بُخَلَاءَکُمْ وَاُمُوْرُکُمْ اِلٰی نِسَاءِکُمْ فَبَطَنَ الْاَرْضِ خَیْرٌ لَّکُمْ مِنْ ظَھْرِھَا (رواہ الترمذی)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ: رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

جب تمہارے حکمران بھلے لوگ، مالدار، سخی اور تمہارے امور باہم مشورے سے طے کیے جائیں گے تو تمہارے لئے زمین کی پشت اس کے پیٹ سے زیادہ بہتر ہو گی۔

جب تمہارے امیر المؤمنین، برے لوگ، مال دار کنجوس اور تمہارے امور عورتوں کے رحم و کرم پر ہوں گے تو اس وقت تمہارے لیے زمین کا پیٹ اس کے ظاہر سے بہتر ہو گا۔''

مقصد یہ ہے کہ: جینا ہو تو ایسا کہ: حکمران بھلے لوگ ہوں، مالدار لوگ سخی اور معاملات باہمی مشورے سے طے ہوں، کیونکہ یہ باوقار زندگی ہوتی ہے، ورنہ اس جینے سے موت بھلی۔ اب یہ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ کو کن لوگوں سے پالا پڑا ہے!