(قسط 3)

24۔ فضالہ بن عبید

نسب: ابومحمد فضالہ بن عبید بن نافذ بن قیس الانصاری الاوسی۔

شرکائے جنگ اُحد میں سے تھے اور اس کے بعد کی تمام جنگوں میں شریک ہوئے۔ آپؓ بیعت رضوان میں بھی شریک تھے۔ حضرت امیرمعاویہ نے حضرت ابودرداء کے بعد آپ کو دمشق کاقاضی مقرر کیا اوررومیوں سے جنگ کے لیے ایک لشکر کا قائد بنایا۔ آپ حضرت امیرمعاویہ کی خلافت 53ھ میں فوت ہوئے (الاصابہ :ج3 ص201،اسدالغابہ:ج4 ص183) آپ کو الاتقان:ج1ص74 میں ابوعبید کے حوالے سے حافظ لکھا ہے۔

25۔ مسلمہ بن مخلد

نسب: ابوسعید مسلمہ بن مخلد بن صامت بن نیار بن لوذان الانصاری الخزرجی۔

آپ اپنی ولادت کے بارے میں۔ ولدت حین قدم النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و قبض النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وانا ابن عشر سنین اور ایک روایت میں ہے کہ جب حضور علیہ السلام مدینہ میں تشریف لائے تو میں چار سال کا تھا او رجب آپؐ فوت ہوئے تو میں چودہ سال کا تھا۔ آپ امیرمعاویہ کی خلافت میں مصر کے والی مقرر ہوئے اور یزید بن معاویہ کی خلافت میں 62ھ میں فوت ہوئے (الاصابہ:ج3 ص398، اسد الغابہ:ج4ص364)آپ حافظ قرآن تھے۔ (الاتقان:ج1ص74)

26۔ تمیم داری

نسب: ابو رقیہ تمیم بن اوس بن خارجہ بن سود بن خزیمہ الداری۔

آپ9 ھ میں اسلام لائے۔ آپ پہلے عیساوی تھے۔ پھر مسلمان ہوئے۔ آپ بہت شب بیدار اور تہجد گزار تھے۔ (الاصابہ:ج1ص186)آپ کو ابن ابی داؤد نے حافظ قرآن لکھا ہے۔ (الاتقان: ج1 ص74) آپ کو قرآن بہت ازبر تھا۔ (تلقیح فہوم اہل الاثر،ص225)

27۔ ابوالدرداء

نسب: ابوالدرداء عویمر بن زید بن قیس بن امیہ بن عامر الاصمعی (وفی روایۃ الکریمی)

آپ جنگ بدر کے بعد اسلام لائے او رجنگ اُحد میں شریک ہوئے۔ آپ کے متعلق حضورﷺ نے فرمایا تھا: نعم الفارس العویمر اور فرمایا ھو حکیم۔ آپ حضرت عمرؓ کے زمانے میں دمشق کے قاضی رہے۔ جب آپ کی موت کاوقت قریب آیا تو آپ رونے لگے۔ بیوی نے پوچھا: آپ کیوں روتے ہیں حالانکہ آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھی ہیں؟ آپ نے فرمایا: بے شک! لیکن مجھے گناہوں کی زیادتی سے ڈر لگتا ہے۔ آپ اس بیماری میں حضرت عثمانؓ سے دو روز قبل اس دارفانی کو چھوڑ گئے۔ (الاصابہ:ج3 ص46، اسد الغابہ:ج1 ص159) قرأ القرآن فی عھد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یعنی آپ نے آنحضرتﷺ کے زمانہ میں ہی قرآن مجید یاد کرلیا تھا (معرفة القراء الکبار للذہبي: ج1 ص38) أحد الذین جمعوا القرآن حفظاعلی عهد النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلا خلاف (طبقات القراء جزری: ج1 ص606) کان حافظا (تلقیح فھوم الاثر ابن جوزی ص225)

28۔سعد بن عبید

نسب: ابوزید سعد بن عبید بن نعمان بن قیس بن عمرو بن زیدالانصاری الاوسی۔

آپ حضورﷺ کے زمانہ میں مسجد قبا میں امام تھے۔ آپ جنگ قادسیہ میں شریک تھے ۔ فرمایا :انا مستشھدون غدا فلا نکفن الا فی ثیابنا التی اصبنافیھا۔ یعنی ہم کل شہید ہوجائیں گے۔ ہمیں ہمارے کپڑوں میں ہی دفن دینا۔ اللہ نے دعا قبول کرلی اور آپ جنگ قادسیہ میں شہید ہوگئے۔ (الاصابہ: ج2 ص28، اسد الغابہ:ج2ص285) آپ ان چار انصاریوں میں سے تھے جنہوں نے حضورﷺکے زمانہ میں قرآن مجید یاد کیا تھا۔ اسی لیے آپ قاری کے نام سے مشہور تھے۔ (اسد الغابہ:ج2 ص286) کان حافظا (الاتقان:ج1ص74)

29۔ قیس بن ابی صعصعہ

نسب: قیس بن ابی صعصعہ عمرو بن زیدبن عوف الانصاری۔

آپ بیعت عقبہ میں حاضر ہوئے۔ بدر میں آپ کو حضورﷺ نے ساقہ پر متعین کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے آپ کو قرآن مجید ایک جمعہ میں پڑھنے کی اجازت دی تھی۔ (الاصابہ: ج3 ص241، اسد الغابہ:ج4 ص218)کان حافظا (الاتقان:ج1ص74)

30۔ ابوایوب انصاری

نسب: ابوایوب خالد بن زید بن کلیب بن ثعلبہ بن عبد بن عوف بن عم بن مالک الانصاری الخزرجی۔

آپ کبار صحابہ میں سے ہیں۔ بیعت عقبہ میں شامل تھے۔ بدر اور بعد کی تمام جنگوں میں شریک ہوئے۔ جب حضورﷺ مدینہ تشریف لائے تو حضرت ابوایوبؓ کے ہاں قیام فرمایا تھا۔ حضرت علی ؓ جب کوفہ کی طرف گئے تو آپ کو نائب بنایا۔ حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں۔ حضرت ابوایوبؓ نے حضورﷺ کی ریش مبارک سے تنکا وغیرہ نکالا تو حضورﷺ نے فرمایا: لا یصیبك السوء یا أبا أیوب۔ یزید بن معاویہ کی فوج میں آپ جب قسطنطنیہ پہنچے تو بیمار ہوگئے۔ یزید آپ کے پاس آئے ۔کہا کوئی خواہش ہے ، فرمایا میری یہ خواہش ہے کہ جب میں مرجاؤں تو میری لاش دشمن کی زمین میں جتنی دور لے جاسکو لے جاؤ پھر مجھے دفن کردینا۔ چنانچہ آپ کو قسطنطنیہ کی دیوار کے پاس دفن کیا گیا۔ 52 ھ میں فوت ہوئے۔ کان حافظا (الاتقان:ج1 ص74، تقیح:ص225، اصابہ ص404، اسدالغابہ:ج2 ص80)

31۔ ابوزید قیس بن سکن

نسب: ابوزید قیس بن سکن بن عوزاء بن حرام بن جندب انصاری۔

آپ بدر میں شریک ہوئے ۔خیبر میں بھی شریک ہوئے۔ آپ 70ھ میں فوت ہوئے۔ آپ نے کوئی اولاد نرینہ نہیں چھوڑی۔ (الاصابہ: ج3 ص240، اسدالغابہ:ج4 ص216)کان حافظا (الاتقان:ج1ص74) قد جمع القرآن (معرفۃ القراء الکبار ذہبی:ج1 ص39) احد الذین جمعوا القرآن حفظاً علی عہد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (طبقات القراء جزری: ج2 ص28) کان حافظاً (تلقیح ص 225) وھو الذي جمع القرآن علی عهد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (جمهرۃ أنساب العرب ابن حزم ص107 (قلمی نسخہ)

32۔زید بن ثابت

نسب: ابوسعید زید بن ثابت بن ضحاک بن زید بن لوذان الانصاری الخزرجی ثم البخاری۔

آپ بدر و اُحد میں شریک نہ ہوسکے کیونکہ عمر کم ہونے کی وجہ سے حضورﷺ نے اجازت نہ دی۔ خندق اور بعد کی سب جنگوں میں شریک ہوئے۔ آپ خندق کی مٹی اٹھا کر لے جارہے تھے تو حضورﷺ نے فرمایا: نعم الغلام جنگ تبوک میں بنی نجار کا جھنڈا حضورﷺ نے عمارہ بن حزم سے لے کر حضرت زید ؓ کو دیا اور فرمایا کہ قرآن مقدم ہے۔ کیونکہ حضرت زید زیادہ قرآن جانتے تھے۔ آپ کاتب وحی بھی تھے۔ آپ سریانی زبان بھی جانتے تھے۔ وکان من اعلم الصحابۃ۔ حضرت عثمان کہیں جاتے تو آپ نائب ہوتے۔ آپ 45ھ میں فوت ہوئے۔ حضرت ابوبکرؓ نے آپ کو حکم دیا تھا کہ قرآن مجید جمع کریں۔ حضرت عمرؓ کے بعد حضرت زید مدینہ کے امام تھے۔ (الاصابہ:ج1ص543، اسد الغابہ:ج2ص221، الاستیعاب :ج1ص188) آپ نے حافظ ہونے میں کوئی کلام نہیں ہے۔ جمع القرآن علی عهد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ آپ نے حضورﷺ کے زمانہ میں قرآن مجید حفظ کرلیا تھا۔ (معرفۃ القراء الکبائر ذہبی:ج1 ص36) أحد الذین جمعوا القرآن علی عهدہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و عرض القرآن علی النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یعنی آپ نے قرآن مجید یاد کرکے حضورﷺ کوسنایا ۔ (طبقات القراء جزری:ج1ص296)کان حافظا (الاتقان:ج1ص74)

33۔ عبداللہ بن عیاش

نسب: ابوالحارث عبداللہ بن عیاش بن ربیعۃ المخزومی المکی والمدنی۔

آپ حبشہ میں پیدا ہوئے۔ حضرت علی ؓ نے آپ کو نحو مرتب کرنے کا حکم دیا تھا۔ جب آپ نے نحو کےمسائل مرتب کرکے حضرت علیؓ کودکھائے تو حضرت علیؓ نے فرمایا: ما احسن ھذا النحو الذی نحوت فمن ثم سمی النحو نحواً۔ یعنی آپ نے کتنے اچھے مسائل بنائے ہیں تو اس سے علم نحو کا نام نحو پڑگیا۔ آپ نے قرآن مجید یاد کرکے حضرت ابی بن کعب کو سنایا۔ الفاظ یہ ہیں، قرأ القرآن علی ابی بن کعب۔ (معرفۃ القراء الکبار:ج1ص49) آپ حافظ قرآن تھے۔(طبقات جزری:ج1 ص429)

34۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

نسب: اُم عبداللہ عائشہ بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہا۔

حضورﷺ کو خواب میں حضرت عائشہؓ دکھائی گئیں۔ جب حضرت خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیہا فوت ہوگئیں توآپ نے مکہ میں ہی حضرت عائشہ سےنکاح کرلیا۔ مدینہ میں جاکر اپنے گھر لائے۔ آپ ہجرت سے 8 سال قبل مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں۔ کبیرۃ محدثات عصرھاء نابغةفي الزکاء والفصاحة والبلاغة فکان علمھا کبیراإذاتأ ثیر عمیق في نشر تعالیم الرسول۔ حضرت عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے : انہ اتی النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فقال أی الناس أحب إلیك یارسول اللہ! قال عائشة۔ قال من الرجال؟ قال أبوھا قال ثم من؟ قال :عمر۔ یہ وہی ہستی ہیں جن کے بارے میں خدا تعالیٰ نے آیات نازل کیں (اعلام النساء:ج1 ص9) ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یا عائشۃ ھذا جبرائیل یقوئک السلام۔ قلت وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ، حضرت عائشہؓ کو حضورﷺ نے نکاح سے قبل خواب میں دیکھا ۔کہا گیا۔ ہذہ زوجتک فی الدنیا والاخرۃ۔ حضرت مسروق جب بھی حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ، فرماتے: حدثنی الصادقة بنت الصدیق حبیة حبیب اللہ۔ امام زہری فرماتے ہیں: اگر حضورﷺ کی تمام بیویوں کاعلم ایک طرف ہو اور حضرت عائشہؓ کا علم ایک طرف ، تو حضرت عائشہؓ کا علم زیادہ ہوگا۔ آپ نے جنگ جمل میں حصہ لیا تھا۔ 58ھ میں فوت ہوئیں (الاصابہ:ج4 ص348، اسد الغابہ:ج5 ص501، استیعاب:ج1ص743) قد ذکر أبوعبید في کتاب قراء ات القرآن القراء من الصحابةأن عائشة کانت حافظة۔ حضرت عائشہؓ حافظ قرآن تھیں۔ (الاتقان:ج1 ص74)

35۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا

نسب: حفصہؓ بنت عمرؓ بن الخطاب۔

آپ پہلے حضرت حصن بن حذافہ کے نکاح میں تھیں۔ جب وہ فوت ہوگئے تو حضورﷺ سے نکاح کرلیا۔ حضرت حفصہؓ کے بارے میں یہ الفاظ مرقوم ہیں:کانت حفصة کاتبة ذات فصاحةو بلاغة(اعلام النساء:ج1ص275) جب حضرت حصن فوت ہوئے تو حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو حضرت حفصہؓ سے نکاح کے متعلق کہا تو وہ خاموش ہوگئے۔ اس کے بعد حضرت عثمان ؓ کو کہا تو انہوں نےکہا: ما أرید أن أتزوج الیوم۔ یہ بات سن کر حضرت عمر ؓحضورﷺ کے پاس شکایت لے گئے تو حضورﷺ نے فرمایا: حفصہؓ سے اس شخص نے نکاح کا ارادہ کیا ہے جو عثمان سےافضل ہے۔ پھرآپؐ نے حفصہؓ سے نکاح کرلیا۔نکاح ہوجانے کے بعد حضرت صدیق نے فرمایا میں نے اس وقت اس لیےخاموشی اختیار کی تھی کہ حضورﷺ نے حفصہ ؓکا نام لیا تھا۔اگر حضورﷺ نکاح نہ کرتے تو میں ضرور کرلیتا۔ آپ41ھ میں فوت ہوئیں۔ (الاصابہ:ج4ص264، اسدالغابہ:ج5 ص425) آپ کو بھی ابوعبید کے حوالے سےلکھا گیا ہے کہ کانت حافظة(الاتقان:ج1 ص74)

36۔ حضرت اُم سلمۃ رضی اللہ عنہا

نسب: اُم سلمہؓ بنت ابی امیہ بن مغیرہ بن عبداللہ القرشیہ المخزومیہ۔

آپ کانام ہند تھا۔ پہلے آپ ابوسلمہ بن عبدالاسد المخزومی کے نکاح میں تھیں۔ ان کی وفات کے بعد آپ سے حضورﷺ نے نکاح فرمالیا۔ آپ کی وفات 62 ھ میں ہوئی۔ (الاصابہ:ص439، اسدالغابہ:ج5 ص588)کانت حافظۃ (الاتقان:ج1 ص74)

37۔ حضرت اُم ورقہ بنت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہا

رسول اللہ ﷺ رو زانہ آپ کی زیارت کرتے اور آپ کو الشھیدہ کے نام سے یاد کرتے تھے۔ آپ نے حضورﷺ سے درخواست کی کہ مجھے جانے دیجئے تاکہ میں مریضوں کی مرہم پٹی کروں۔ شاید اللہ تعالیٰ مجھے شہادت نصیب فرما دے تو حضورﷺ نے فرمایا: تو شہیدہ ہے۔ آپؐ نے انہیں حکم دیا کہ اپنے گھر میں جماعت کرائیں۔ حضرت عمر ؓکے زمانے میں واقعی وہ شہید کردی گئیں تو حضرت عمرؓ نے فرمایا :صدق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کان یقول: انطلقوا بنانزور الشھیدۃ۔ أحد من جمعت القرآن (الاصابہ:ج4 ص481، اسدالغابہ:ج1 ص74)