(قسط 16)

﴿فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (38) وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴾

''پھر آدم نے اپنے رب سے (معذرت کے چند)کلمے سیکھ لیے اور خدانے ان کی توبہ (معذرت) قبول کرلی، بیشک وہ بڑا درگزر کرنے والا مہربانی ہے۔ (جب) ہم نے حکم دیا کہ سب (کے سب)یہاں سے اتر جاؤ تو (ساتھ ہی یہ بھی سمجھا دیا تھا کہ) اگر ہماری طرف سے تمہارے پاس کوئی ہدایت پہنچےتو (اس پرچلنا کیونکہ) جو ہماری ہدایت کی پیروی کریں گے ان پر نہ تو (کسی قسم کا) خوف (طاری) ہوگا اور نہ وہ (کسی طرح پر) آزردہ خاطر ہوں گے اور جو لوگ نافرمانی کریں گے او رہماری آیتوں کوجھٹلائیں گے وہی دوزخی ہوں گے اور وہ ہمیشہ (ہمیشہ) دوزخ میں رہیں گے۔

(1)فتلقیٰ (پھر ملا۔ منہ پھر اس سے سیکھ لیا) الفاظ دعا او ران کےطرز ادا کے ربانی الہام او رالقا کو سیکھنے سے تعبیر کیاگیاہے۔ اس انداز سے خدا کی اپنے بندے سے دلچسپی کے معنی ہیں کہ خدا کو آدم کی اس لغزش پر غصہ نہیں آیا، ترس آیاہے، کیونکہ ان کی یہ لغزش خدا سے غفلت کا نتیجہ نہیں تھی رب کے حضور میں سدا حاضر رہنے کی تڑپ کا نتیجہ تھی۔ ہاں گو یہ ایک لغزش تھی تاہم ہزار نیک نیتی کے باوجود اس کے جوقدرتی مادی نتائج تھے، وہ بہرحال ظاہرہوکر رہے۔جیسے سہواً مکان کی بلندی سے پھسل کر نیچے گرنے کے ہوسکتے ہیں، ویسے ہی یہاں بھی ہوئے، سہواً جو لغزش ہوتی ہے وہ گناہ کے الزام سے تو بری ہوتی ہے لیکن اس سلسلے کے جو قدرتی مادی نتائج ہوتے ہیں ان سے تحفظ کی کوئی گارنٹی اسے حاصل نہیں ہوتی۔

الہامی تلقین اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایات کانتیجہ ہوتی ہے جس سے غرض صرف یہ ہوتی ہے کہ بندے کی دعا جلد سے جلد اجابت سے ہمکنار ہوجائے ، کیونکہ خدا کے ہاں قبولیت دعا کے کچھ خاص آداب اور اسرار و رموز ہیں، ظاہر ہے حتمی طور پر ان کی نشاندہی وہ ذات کریم خود ہی کرسکتی ہے یا اس کا فرستادہ،دوسروں کی باتیں تو تیر تکے والی باتیں ہوتی ہیں، اس لیے ماثور دعاؤں کو اپنانے پر زیادہ زور دیا گیاہے، جو لوگ اپنی ہانکتے ہیں یا ماثورہ دعاؤں میں خود ساختہ الفاظ کے ٹانکے لگاتے ہیں وہ نشانے پربیٹھنے والے یقینی تیر نہیں کہلاتے۔

(2)کلمٰت (کلمے، بول) الکلو: یہ اصل میں اس تاثیر کوکہتے ہیں جس کا ادراک دو حاسوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ہوسکے، مثلاً کلام کا ادراک قوت سامعہ سے او رالکلم (زخم) کا ادراک قوت باصرہ سے۔ عربی میں کلام کااطلاق منظم اور مرتب الفاظ او ران کے معانی کے مجموعہ پر ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں یہ مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے۔مثلاً امانت (33۔72) فیض، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، کلمہ توحید، بشارت (3۔39) قضیہ (6۔115) معجزہ(10۔33) میعاد (20۔129) حکم ازلی (42۔14) مسلمہ دلائل (8۔7) پیش گوئی (48۔5) (مفردات القرآن للراغب ملخصاً) یہاں پر اس سے مراد ''مخصوص دعا '' ہے جس کو سورہ اعراف میں ذکر کیاگیا ہے۔

یعنی رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ  (پ8 اعراف ع2)

''اے ہمارے رب!ہم نے اپنے تئیں آپ تباہ کیا او راگر تو ہم کو معاف نہیں فرمائے گا او رہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم بالکل برباد ہوجائیں گے۔''

تفاسیر میں کچھ اورکلمات بھی منقول ہیں جن کے ساتھ عجیب قسم کی حکایات بھی بیان کی گئی ہیں۔ مثلاً اللھم أسئلك بجاہ محمد عبدك و کرامته علیك أن تغفرلي خطیئتي (تفسیر عزیزی وغیرہ بروایت ابن المنذر) لیکن عموماً یہ غیرتسلی بخش روایات ہیں۔ اکثر کے راوی کمزور ہیں، کچھ کاتعلق اسرائیلیات سے ہے او رکچھ موضوعات میں سے ہیں، بہرحال قرآن حکیم نے ان کی دعا کے جو کلمات بیان فرمائے ہیں، ہمارے نزدیک صرف وہی صحیح ہیں، ان میں سے ان کی بے چینیوں اور تڑپوں کابھی خوب اندازہ ہوتا ہے اور الفاظ میں جو جامعیت او رگہرائی ہے وہ بھی حق تعالیٰ کی سکھائی ہوئی دعا کے شایان شان محسوس ہوتی ہے دوسروں میں یہ سب باتیں یک جانہیں ملتیں۔

(3) فتاب عليه(تو اس کی توبہ اور معذرت قبول کرلی) معصیت کامرتکب گویا کہ حق تعالیٰ سے منہ پھیر کر بھاگ کھڑا ہوتا ہے، اور توبہ کی صورت میں گویا وہ احساس ندامت کے ساتھ سرجھکائے، اپنے رب کی طرف رُخ کیے او راس کے حضور حاضر ہوکر الحاح و زاری کے ساتھ اس سے معافی مانگتا ہے یوں سمجھیے کہ توبہ بندے کا اپنے رب کے ساتھ تجدید تعلق کی ایک سنجیدہ کوشش اور تہیا کا نام ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ : تجدیدتعلق کے بعد، رب کی طرف انسان کی لپک دو آتشہ ہوجاتی ہے، جیسا کہ کچھ عرصہ بچھڑے رہنے کے بعد دوست جب اپنے دوست سے ملتا ہے تو وہ پیاس اور وصال میں ایک خاص کیف اور لطف محسوس کرتا ہے۔ اس لیےجہاں گناہ ایک گھناؤنا جرم ہے، وہاں معنی خیز احساس گناہ بھی ایک نیکی بن جاتاہے اور تعلق باللہ کی استواری کی یہ ایک نشانی بھی، اگر گناہ پر احساس اور ذوق کی یوں ارزانی ہوجائے تو سمجھ لیجئے کہ یہ گناہ نہیں رہا بلکہ ایک ایسی مغتنم افتاد بن گئی ہے، جس سے شیطان کی جان پر بن جاتی ہے۔ ملاء اعلیٰ سے روحانی مناسبت کی تحدید ہوجاتی ہے اور قرب الہٰی کی قدروقیمت کاذوق بڑھ جاتا ہے۔

جب تک جبین پہ خاک تیرے آستاں کی تھی

میری فتادگی پہ نظر دو جہاں کی تھیں

سانس کا تار حیات ٹوٹنے تک خدا کی طرف سے ''ہرچہ ہستی باز آ'' کی صدائے بندہ نواز کا سلسلہ خطا کار بندوں کو تھامنے کی ایک تدبیر اور مایوس کن تک دور جانے سے بچانے کی ایک قرآنی حکمت عملی ہے۔ ھل من مدکر۔

قرآن اور تو بہ :قرآن حکیم نے بعض پہلوؤں میں توبہ کے مفہوم میں ''مغفرت ، استفغار اور انابت کا بھی ذکر کیا ہے۔ کتاب و سنت کے مجموعی مطالعہ سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ توبہ میں بالخصوص معصیت کا پہلو متعین ہوتا ہے۔ (پوری زندگی کا تصور ہو تو بھی تعیین کی صورت نکل آتی ہے) بخلاف دوسرے الفاظ کے کہ ، ان میں تعیین ضروری نہیں ہے۔ تقصیر کے خوف سے بھی استغفار ہوتا ہے۔(مثلاً)

معناہ أنھم یلتمسون من قبله الغفران فیھا یخافون من تقصیر ھم فیما یأتون و یذرون (تفسیر کبیر ص376؍2۔ العمران ع14)

اس کے علاوہ استغفار تو کوئی بھی کسی کے لیےکرسکتا ہے مگر توبہ کوئی کسی کے لیے نہیں کرسکتا، خود کرنا پڑتی ہے۔ یہی کیفیت انابت کی ہے۔بہرحال انابت اور استغفار کا ذکر اپنے مقام پر آگیا ہے۔ وہ خود بہانہ چاہتا ہے۔ حق تعالیٰ چاہتے ہیں کہ بندہ اس کی طرف کرے اور وہ اس کی خطاؤں کو معاف کرکے ان کی توبہ قبول فرمائے۔ واللہ یرید ان یتوب علیکم (پ5۔النساء ع5)

توبہ ان کی جو اس کو مانتے ہیں۔ حق تعالیٰ توبہ ان کی قبول کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ہستی اور وحدانیت کا اقرار کرتے ہیں۔

وَيَتُوبَ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ(پ22۔ سباع9)

حضور!غلطی ہوئی۔ بس آپ دل سے خدا کے حضور حاضر ہوکر اتنا سا کہہ دیں!حضور!غلطی ہوئی!معاف کردیجئے۔

وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللَّهُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (پ11۔ التوبہ ع13)

غلطیاں معاف کرنا اس کا کام ہے۔ اس کا کام ہی یہ ہے کہ غلط کاروں کی غلطیاں معاف کرے۔ جو حق تعالیٰ کی اس '' خوئے درگزر'' سے بے خبر ہیں وہ بہت بھول میں ہیں۔

أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ (ایضاً) وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ(پ25۔ الشوریٰ ع3)

وہ ذات کبریا یہ جانتی ہے کہ کیا کیا تم سے سرزد ہوا ہے مگر وہ یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ کیا تمہیں بھی اپنی اس ناکردنی کا احساس ہے یا نہیں؟

ويعلم ما تفعلون (پ25۔ الشوریٰ ع3)

وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا (پ5۔ النساء ع16)

توبہ صرف قبول ہی نہیں کرتا، مزید نوازتا بھی ہے۔

وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ(پ25۔ الشوریٰ ع3)

حق تعالیٰ ہاتھ پھیلائے اپنے گناہ گار بندے کے انتظارمیں رہتے ہیں کہ رات کابھولا ہوا دن کو اور دن کابھولا ہوا رات کو واپس آجائے۔

إن اللہ یبسط یدہ باللیل لیتوب مسيء النھارو یبسط یدہ بالنھار لیتوب مسيء اللیل ( رواہ مسلم)

تاکہ آپ کو اس کی لت پڑ جائے۔ اس کے کرم کی انتہا دیکھیےکہ ان کی توبہ قبول فرما کر ان کو یہ بھی سجھاتا ہے کہ :غلطی کے سرزد ہوجانے پر حق تعالیٰ ان پراپنی رحمت کے دروازے بند نہیں کردیتا بلکہ اب بھی کھلے رکھتا ہے، ہرچہ ہستی باز آ!

ثم تاب عليهم ليتوبوا (پ11۔ التوبۃ ع14)

شرط یہ ہے۔بشرطیکہ وہ بھی یہ سمجھتے ہوں کہ:اس کے سوا اور کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔

وظنوا أن لاملجأمن الله إلا إليه (ایضاً)

اور وہ اصلاح حال کی کوشش بھی شروع کردیں۔

فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ (پ6۔ المائدہ ع6)

إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَيَّنُوا فَأُولَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ(پ2۔ بقرہ ع19)

اب بھی غلطی اور خطا ممکن ہے لیکن توبہ کے وقت کے لیے اس کی گنجائش نہ چھوڑے، اس کے باوجود اگر بشری کمزوری کی بنا پر گناہ سرزد ہوجائے تو پھر بھی توبہ کی جاسکتی ہے اور اس قبولیت کے یہ معنی نہیں کہ خدا کو اس پر غیرت نہیں آتی بلکہ یہ اس کے فضل و کرم کا تقاضا ہے کہ خطا کار بندے نے اگر اپنی غلطی کا احساس کرلیا ہے تو جانے دو۔

وَإِذَا جَاءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِنَا فَقُلْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ أَنَّهُ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوءًا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ (پ7 ۔ الانعام ع6، پ14۔ النحل ع15)

اور راہ راست پر چلنے کی سعی کی۔

وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى (پ60۔ طہٰ ع4)

ان کی توبہ یوں قبول کی جاتی ہے کہ ہر غلطی بھی نیکی بن جاتی ہے او ریہ ساری کرامت احساس ندامت کی ہے، کیونکہ گیا وقت ہاتھ نہیں آتا مگر ان کے احساسات یہ ہیں کہ اگر بس چلے تو پھر اس بدی کے بجائے نیکی ہی کریں، اس لیے وہ ذات کریم ان کے احساسات کو عمل تصور کرلیتی ہے۔

وَمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَإِنَّهُ يَتُوبُ إِلَى اللَّهِ مَتَابًا(پ19۔ الفرقان ع6)

توبۃ نصوحا: قرآن کی زبان میں ایسی توبہ، توبۃ النصوح کہلاتی ہے : اس لیے فرمایاکہ توبہ کرو تو ایسی کرو۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا  (پ28۔ التحریم ع2)

اللہ کے فرشتے بھی ایسے توبہ کرنے والوں کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں جو توبہ کے اتباع وحی کا التزام کرتے ہیں۔

فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ (پ24۔ المومن ع1)

نجات انہی لوگوں کامقدر ہے۔

 فَعَسَى أَنْ يَكُونَ مِنَ الْمُفْلِحِينَ(پ20۔ القصص ع7)

وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (پ18۔ النور ع4)

یہی لوگ بہشت میں جائیں گے۔

فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ شَيْئًا (پ16۔ مریم ع4)

شرط یہ ہے کہ گناہ کے بعد فوراً تڑپ کر اللہ کے حضور توبہ کریں۔

وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا(پ5۔ النساء ع9)

اصل توبہ یہی ہے کہ ، نادانی سے غلطی سرزد ہوتے ہی، اپنی غلطی کا احساس کریں۔

إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللَّهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِنْ قَرِيبٍ فَأُولَئِكَ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ

(پ4۔النساء ع3)

اب توبہ قبول نہیں۔ موت سر پر آجائے یا توبہ کے ساتھ کفر و شرک کا سلسلہ بھی قائم رہے تو اب ان کی توبہ قبول نہیں ہے۔

وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الْآنَ وَلَا الَّذِينَ يَمُوتُونَ وَهُمْ كُفَّارٌ(ایضاً)

یہ سراپاقوت و طاقت ہے۔ توبہ دلشکنی، ناتوانی اور احساس کمتری کی صورت نہیں بلکہ سامان جمعیت او رقوت کا سرچشمہ بھی ہے کیونکہ اب مرکز توجہ ایک ذات ہوگئی ہے۔

وَيَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَى قُوَّتِكُمْ(پ12۔ہود ع4)

شرط یہ ہے کہ :توبہ کے بعد پھر انحراف کا ارتکاب نہ کیا جائے۔

ولا تتولوا مجرمين (ایضاً)

اس کے علاوہ زندگی کے باقی سارے دنیوی مکارم حیات سے بھی وہ تمہیں سرفراز کردے گا۔

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا (11) وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهَارًا(پ29۔نوح ع1)

بہترین سامان زیست : بہترزندگی اور بہتر سامان زیست ، انسان کی معراج تمنا ہے۔ قرآن کہتا ہے: رب کےحضور سچی توبہ تم کرو اور سبھی کچھ لو۔

وَأَنِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُمْ مَتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ(پ12۔ ھود ع12)

کفارہ بھی توبہ ہے : توبہ صرف زبانی کلامی بات نہیں بلکہ عمل کی ضمانت بھی دینا پڑتی ہے، اس لیےتوبہ کے ذکر کے بعد امن و عمل صلحا ثم اھتدیٰ بھی آیا ہے،چنانچہ خون ناحق کا کفارہ ''خوں بہا ادا کرنا، غلام آزاد کرنا یا دو ماہ کے روزے رکھنا بھی''توبہ'' قرار دیا گیا ہے۔

فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِنَ اللَّهِ(پ5۔ النساء ع13)

نشہ دولت کے بدمستوں کے لیے توبہ بہتر ہے۔جو لوگ نشہ دولت میں بدمست ہیں او راسلام او راہل اسلام پرنکتہ چینی کرتے رہتے ہیں، ان کے متعلق فرمایا، ان کے لیے بہتر یہ ہے کہ اس سے باز آجائیں اور توبہ کریں۔

وَمَا نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ فَإِنْ يَتُوبُوا يَكُ خَيْرًا لَهُمْ (پ10۔توبہ ع10)

مشرک توبہ کیوں نہیں کرتے۔ جن لوگوں نے تین خدا بنا لیے ہیں جیسے عیسائی: وہ بڑا جرم کرتے ہیں، انہیں بھی توبہ کرنا چاہیے تھی۔

أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ(پ6۔مائدہ ع10)

افسوس! توبہ نہیں کرتے۔ اپنی شامت اعمال کی وجہ سے مصیبتیں دیکھتے ہیں مگر توبہ کی توفیق نہیں پاتے اور نہ ہی کوئی نصیحت پکڑتے ہیں، کتنے افسوس کی بات ہے۔

أَوَلَا يَرَوْنَ أَنَّهُمْ يُفْتَنُونَ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لَا يَتُوبُونَ وَلَا هُمْ يَذَّكَّرُونَ (پ12۔توبہ ع16)

خدا کے نزدیک بندوں کی یہ صورت حال ان کی قساوت قلبی کی نشانی ہے ، جس کے بعد آسمانوں میں ان کی مکمل تباہی کے احکام جاری کردیئے جاتے ہیں۔

فَأَخَذْنَاهُمْ بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ (42) فَلَوْلَا إِذْ جَاءَهُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلَكِنْ قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (43) فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ (پ7۔ الانعام ع5)

تو ہم نے ان کو سختی اور تکلیف میں گرفتار کیا تاکہ وہ (ہمارے حضور میں) گڑ گڑائیں۔ تو جب ان پرہمارا عذاب آیا تھا تو وہ کیوں نہ گڑگڑائے مگر (اصل بات یہ ہے کہ) ان کے دل سخت ہوگئے تھے او رجو اعمال کیا کرتے تھے، شیطان نے وہ ان کو آراستہ کر دکھائے تھے۔ جب وہ ان تمام باتوں کوبھول بسر بیٹھے تو ہم نے بھی ان پر ہر طرح کی نعمتوں کےدروازے کھول دیئے، یہاں تک کہ جب وہ ان نعمتوں کی وجہ سے اترانے لگے تو ہم نے یکایک ان کو دھرلیا اور وہ بے آس (ہکے بکے) ہوکر رہ گئے۔

جو توبہ نہیں کرتے: جو لوگ توبہ نہیں کرتے وہ دراصل اپنا ہی نقصان کرتے ہیں۔

وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (پ26۔ الحجرات ع2)

کیونکہ اگر وہ راہ راست اختیار نہیں کریں گے تو منزل سے دور بھی وہی رہیں گے، دوسرے کا کیا بگڑے گا۔

توبہ او راحادیث: توبہ اپنے خلاف بکنے یا اپنے کو احساس کمتری میں مبتلا کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ رب سے بچھڑنے کے احساس کے بعد اس کے قرب و وصال کے لیے تڑپنے او رمنتوں سے اس کو منانے کو توبہ کہتے ہیں او رایک لحاظ سے تو یہ ایک''سنت پیغمبری'' بھی ہے اس لیے ارشاد ہے کہ : لوگو! رب کے حضور میں توبہ کرو! خود میں (بھی) دن بھر میں سو بار توبہ کرتا ہوں۔ گویا کہ رجوع الی اللہ کا نام بھی توبہ ہے۔

یأیھا الناس ! توبوا إلی اللہ فإنی أتوب إلیه في الیوم مائة مرة (رواہ مسلم عن الاغر المزني وفي الأدب عن ابن عمرو في البخاري عن أبي ھریرة: وأتوب إلیه في الیوم أکثر من سبعین مرة)

اظہار ندامت پر اللہ تعالیٰ اسے مزید کوستے نہیں بلکہ اسے خصوصی توبہ سے نوازتے اور اس پرناز کرتے ہیں۔

إن العبد إذا اعترف ثم تاب اللہ علیه (رواہ البخاری عن عائشة)للہ أشد فرحا بتوبة عبدہ حین یتوب إلیه من أحدکم الحدیث (رواہ مسلم عن انس)

موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لئے

قطرے جو تھے میرے عرق انفعال کے

ہر انسان خطا کار ہے، مگر ان میں بہتر وہ ہیں جو بار بار توبہ کرتے ہیں۔

کل بني آدم خطاء و خير الخطائین التوابون (دارمی عن انس، الترمذی)

اللہ تعالیٰ کو ایسے گنہگار پیارے لگتے ہیں جو خطا پر چونک پڑتے ہیں او ررب سے معافیاں مانگتے ہیں۔

إن اللہ یحب العبد المؤمن المفتن التواب (مشکوٰۃ بحوالہ احمد)

دراصل توبہ میں یہ احساس اور رب سے یہ عہد ضروری ہے کہ:یہ گناہ پھر نہیں کروں گا۔

التوبةمن الذنب أن لا تعود إلیه أبدا (جامع بحوالہ ابن مردویہ عن ابن مسعودؓ)

ایسی توبہ، توبۃ النصوح کہلاتی ہے:کیونکہ اس میں احساس ندامت کی روح کارفرما ہوتی ہے۔

التوبة النصوح الندم علی الذنب حین یفرظ منك فتستغفراللہ تعالیٰ ثم لا تعود إلیه أبدا

(ایصاً عن ابن ۔من)

یہ احساس او ریہ بے چینی حق تعالیٰ کی نظر عنایت کے لیے اپنے اندر بلاء کی کشش رکھتی ہے اس لیے ارشاد ہوتا ہے کہاگر تم گناہ نہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اور گناہ گار لے آئیں گے جوگناہ کرکے توبہ کریں گے تاکہ وہ اسے بخشا کریں کیونکہ اس سے ان کی شان رحیمی اور بندہ نوازی کااظہار ہوتا ہے۔

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: والذي نفسي بیدہ لولم تذنبوا لذھب اللہ بکم ولجاء بقوم یذنبون فیستغفرون اللہ فیغفرلھم (رواہ مسلم عن ابی ہریرۃ)

اس کے یہ معنی نہیں کہ :خدا خود مجرموں کے انتظار میں ہے بلکہ مجرموں اور گناہ گاروں کو مایوسی اور قنوطیت سے نجات دلانا مقصور ہے کہ: گھبراؤ نہیں، اگر تم نے اپنی غلطی کا احساس کرلیا ہے تو ہم آپ سے نفرت نہیں کرتے، آپ کی معذرت قبول کرتے ہیں۔ آئیے ! جی بسم اللہ۔

اس کے علاوہ درد بھری پکار اور فریاد اپنے اندر بلاکی کشش رکھتی ہے، اور یہ دولت ایک گنہ گار کے دل شکستہ کے سوا اور کہیں نہیں ملتی۔

مدام گوش بہ دل رہ یہ ساز ہے ایسا

جو ہو شکستہ تو پیدا نوائے راز کرے

اس لیے خدا کو ایسے گنہ گاروں کی تلاش رہتی ہے لیکن اس کا صحیح اندازہ وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کو روٹھے ہوئے دوست بچھڑ کر پھر آملنے کا کبھی تجربہ ہوا ہے۔

نناوے کا قاتل، اب اپنے رب کو منانے کے لیے گھر سے اُٹھ دوڑا ہے او رمایوسی کے عالم میں ایک اور بھی قتل کرڈالا اور اسی تلاش توبہ میں راستہ میں موت نے آلیا تو حق تعالیٰ نے منزل کو قریب کردیا تاکہ رحمت کے ملائکہ کے لیے بہانہ بن جائے۔

فأوحی اللہ إلی ھذا أن تباعدي وإلی ھذہ أن تقاربي (جمع الفوائد بحوالہ شیخین)

حق تعالیٰ اپنے گناہ گار بندے کے انتظار میں رہتا ہے، تاوقتیکہ وہ موت کے نرغے میں آجائے یا یہ کہ: دنیائے دارالعمل کی بساط الٹ جائے۔

من تاب قبل طلوع الشمس من مغربھا تاب اللہ علیه(مسلم عن ابی ہریرہ)

گناہوں کا زنگ دل پر چڑھتا رہتا ہے، یہ تب دھلتا ہے ، جب وہ توبہ کرتا ہے۔

إن المؤمن إذا أذنب کانت نکتة سوداء في قلبه فإن تاب واستغفر صقل قلبه(ترمذي وغیره عن أبي هریرة)

جھوٹی توبہ: زبان سے توبہ توبہ کرے او رکام بھی وہی بُرے جاری رکھے، اس کو توبۃ الکذابین کہتے ہیں، اس لیے جو زبان سے ''وأتوب إليه''  کا ورد کرتے ہیں، امام طحاوی او ردوسرے خفیوں کا یہ مذہب ہے کہ : ''أتوب إلیه'' کہنا مکروہ ہے اور عنداللہ یہ توبہ، توبہ شمار نہیں ہوتی۔ امام ابن رجب فرماتے ہیں کہ یہی فیصلہ حق ہے۔

وھذأ حق فإن التوبة لا تکون مع الإصرار (شرح اربعین) واختلف الناس في جواز قوله وأتوب إلیه تکرھه طائفة من السلف وھو قول أصحاب أبي حنیفة حكاہ عنهم الطحاوي فقال الربیع بن خیثم، یکون قوله وأتوب ألیه کذبة وذنبا(شرح اربعین) قال بعض العارفین من لم یکن ثمرة استغفار تصحیح توبته فھو کاذب في استغفارہ (ایضاً)

حدود اللہ کا نفاذ قبول کرنا بھی توبہ ہے۔

لقد تاب توبة لو قسمت بین أمة لو سعثھم ..... فوالذي نفسيبیدہ لقد قابت توبة لوتا بھا صاحب مکس لغفرله(رواہ مسلم عن بریدۃؓ)

امام بلخی نے عین العلم میں اس موضوع پر خصوصی روشنی ڈالی ہے ، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ :

توبہ کا طریق کار: توبہ ایک لفاظی شے نہیں ہے بلکہ یہ اپنے ساتھ کچھ تقاضے رکھتی ہے ، جن کےبغیرتوبہ کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔مثلاً یہ کہ گناہ پر پشیمان ہو۔

2۔ اس کی تلافی کی صورت ہو تو وہ مثلاً اللہ کے سلسلے میں کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو اس کی قضا یا کفارہ دے۔اگر کسی بندے کاکچھ مارا ہے تو اسے واپس کرے، اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر اسے صدقہ کردے، رفاہ عامہ کے معاملات میں خرچ کرے یا عدالت کے حوالے کردے، اگر قصاص کی بات ہو تو بھی اس کے لیے اپنے کو پیش کرے،بدلے میں وہ خوں بہا لیں یا قتل کریں، بہرحال قبول کرے۔ اگر یہ ممکن نہ رہے تو پھر اتنی نیکیاں کرے کہ ان حق تلفیوں کی مکافات ہوسکے، اگر کسی کو گالیاں دیں یا گلہ کیا تو کمال عاجزی اور شفقت سے ان سے معاف کرائے او رمافی مانگے۔

3۔ بدی کے بعد اب نیکی کی بھرمار کردے۔ گانے باجے کی بجائے اب اتنی مدت قرآن سنے جتنا عرصہ جم کرمعصیت کی ہے، اب اتنی مدت کے لیے اعتکاف کو شعار بنائے، شراب کے بدلے حلال مشروبات صدقہ کرے، گلہ کے عوض اس کاذکر خیر کرے، لوٹ مار کے بدلے صدقہ خیرات کرے۔

4۔ یہ عزم بھی کرے کہ یہ گناہ پھر نہیں کروں گا اور

5۔ پورے خلوص کے ساتھ کرے؟ ہاں اگر اس لیے توبہ کرتا ہے کہ اب وہ گناہ اس کے مقدور میں نہیں رہا تو یہ توبہ ، توبہ نہیں رہے گی۔

6۔ پھر نہادھو کر تنہائی میں چار رکعت نفل پڑھے او رمٹی پر پیشانی رکھ کر ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ روئے، گڑگڑائے ،اونچی اواز سے رب کو پکارے او رایک ایک کرکے گناہ یاد کرے او راس پر اپنے کو مامت کرے،ہاتھ اُٹھا کر رب کی حمد و ثنا کرے، درود شریف پڑھے، اپنی ذات، والدین اور تمام مسلمانوں کے لیے دعائیں کرے۔

ایک اور روایت میں آیا ہے کہ:

پختہ عزم او رامید و بیم کے عالم میں توبہ کرے ، مسجد میں جاکر دوگانہ پڑھے، ستر بار استغفار کرے، سبحان اللہ،الحمدللہ سو دفعہ کہے او ر ہر طرح صدقہ خیرات کرے او رایک دن کا روزہ رکھے، امید قوی ہے کہ اللہ معاف کردے گا۔

توبہ کے لیے آمادگی کے اسباب: اس درجہ کی توبہ کی توفیق حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ :

1۔ توبہ کے فضائل اور فوائد یاد کرے۔

2۔ گناہ کی قباحتوں کا تصور کرے۔

3۔ اس کی سخت سزا کاخیال دل میں لائے اور یہ سوچے کہ یہ ناتواں بندہ اس سزا کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

4۔ آخرت کے انعام و اکرام پرنگاہ رکھے۔

5۔ بے وفا دنیا کی کم مائیگی کو سامنے لائے۔

6۔ موت کے آنے کاتصور کرے کہ بس قریب ہے۔

7۔ رب کی معرفت میں جو لذت ہے اس کو ذہن میں لائے۔

8۔ جو مہلت ملی ہے اس کی گرفت کا خوف کرے۔

9۔ اور استدراج سے ڈرے۔

10۔ او ران اسباب کو خیرباد کہے جو معصیت کا سبب بنتے ہیں۔مثلاً دنیا کا غرور، اس سے محبت او رلمبی امیدیں۔

گناہ کی بھرمار، دلوں کی تاریکی کا موجب بنتی ہے، اس سے دل زنگ آلود او رمہر شدہ ہوجاتا ہے او ریہ لازوال مرض ہے(عین العلم ملخصاً للامام محمد بن عثمان للبلخی)

توبہ کرنے کے لیے پہلے دوگانہ او رکچھ وظیفے پڑھنا گو مفیدبات ہے، تاہم ضروری نہیں ہے اگر خطا اور گناہ سرزد ہونے پر انسان پوری تڑپ، سچی ندامت اور اخلاص سے زبان اور سچے تہیا کے ساتھ رب کے حضور توبہ کرتا اور معافی مانگتا ہے تو وہ توبہ بھی توبہ ہوگی۔عین العلم کے اہل دل مصنف نےتوبہ کی جو شکل بتائی ہے، اگر وہ اختیار کرلی جائے تو وہ بھی نور علی نور والی بات ہوگی۔ ہاں دوگانہ اور تسبیح و تہلیل کے علاوہ دورے جن امور کا ذکر ہے۔ وہ واقعی سچی توبہ کی جان ہیں۔

معصیت کی مضرت: اس سلسلے میں غفلت کی نوعیت او راسباب سے امام ابن القیم  نے اپنی مشہور کتاب ''الجواب الکافي لمن سأل عن الدواء الشافي'' میں جو بحث کی ہے، وہ نہایت ہی بصیرت افروز ہے۔ بہتر ہے کہ کوئی بندہ خدا اس کا ترجمہ اُردو میں شائع کرکے اسے عام کردے۔ اللہ تعالیٰ اسے اجز جزیل عنایت کرے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

(4) التواب الرحیم (بڑا ہی درگزر کرنے والامہربان ہے) اگر بندہ کی خوئے توبہ اس کے گناہوں پربھاری ہے تو بندہ کو بھی تواب کہہ سکتے ہیں، رب کو تو اس لیے تواب کہتے ہیں کہ معذرت قبول کرنے اور درگزر کرنے کی اس کی کوئی حد نہیں ہے،او رپھر کمال مہر و محبت او رکرم کے ساتھ قبول فرماتا ہے۔اس مرحلہ کے بعد حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو '' خلعت نبوت'' سے سرفراز کیا گیا۔ (تفسیر کبیر للرازی)

(5) اهبطوا منها (یہاں سے اتر جاؤ!) اس سے آدم و حوا اور ابلیس مراد ہیں، بعض جگہ اھبطا منھا دونوں اتر جاؤ! آیا ہے۔ حضرت امام ابن القیم کی تحقیق یہ ہے کہ: جہاں جمع کا صیغہ ہے،وہا ں تینوں (آدم،حوا اور ابلیس)مراد ہیں او رجہاں تثنیہ (دو) کا صیغہ (لفظ) ہے، وہاں صرف آدم او رابلیس مراد ہیں، حوا تبعاً آگئی ہے۔ان کا کہنا ہے ، آدم او رابلیس ثقلین (جن و انس) کےباپ ہیں، او رانہی دونوں کے مابین عداوت کی داغ بیل پڑی تھی،او ریہی سلسلہ ان کا آگے بھی چلا۔ جنہوں (مثلاً زمخشری)نے ان سے مراد کچھ او رلیا ہے، انہوں نے اس کی تردید کی ہے۔ تفصیل کے لیے تفسیر ابن القیم ملاحظہ ہو!

(6) فإما ياتينكم مني هدى (اگر ہماری طرف سے تمہارے پاس کوئی ہدایت پہنچے) اس سے ''سلسلہ انبیاء'' وارثان علوم انبیاء (علماء) اور صحف سماوی مراد ہیں۔

انبیاء: ایک روایت کے مطابق انبیاء کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار ہے۔

قال أبوذر:قلت یارسول اللہ! کم الأنبیاء؟ قال مائة ألف و عشرون ألفا (موارد الظمان الی زوائد ابن حبان ص53)

امام ابن مردویہ کی روایت کی رُو سے ان کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے۔

قال مائة ألف و أربعة عشرون ألفا (تفسیر ابن کثیر :ج1 ص585)

امام ابن حجر نے بھی ابن حبان سے یہی روایت نقل کی ہے۔ (فتح :361؍6)

ان میں سے رسولوں کی تعداد تین سو تیرہ ہے۔

یارسول اللہ! کم الرسل من ذلك (وفي روایة ابن مردویة: منهم) قال ثلث مائة ثلثة عشر جما غفیرا (زوائد ابن حبان ص54؍1)

مسنداحمد میں ان کی تعداد تین سو پندرہ ہے۔

الرسل من ذلك ثلث مائة و خمسة عشرجماغفیرا (مسنداحمد، مسند ابی امامۃ)

انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تعداد کے سلسلے میں متعدد روایات آئی ہیں، حضرت ابوذر، حضرت ابوامامہ اور حضرت انس ان کے راوی ہیں مگرکلام سے خالی ایک بھی روایت نہیں ہے، ہاں ابن حبان نے حضرت ابوذر کی روایت کی تصحیح کی ہے۔

وقد روي هذا الحدیث بطوله الحافظ أبو حاتم بن حبان البستي في کتاب الأنواع والتقاسیم وقدوسمه بالصحة (ابن کثیر:ص586؍1)لیکن امام ابن کثیرفرماتے ہیں کہ امام ابن جوزی نے ابراہیم بن ہشام کی وجہ سے اس کو موضوع قرار دیا ہے اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ غیر واحد ائمہ نے اس راوی میں کلام کیا ہے: ولا شك أنه قدر تكلم فيه غیرواحد من أئمة الجرح والتعدیل من أجل ھذا الحدیث والله أعلم (ایضاً) گویا کہ موصوف بھی اس روایت کے سلسلے میں مطمئن نہیں ہیں۔ ہاں حافظ ابن حجر عسقلانی کے کلام سے مترشح ہوتا ہے کہ وہ اس قابل احتجاج تصور کرتے ہیں یعنی اس کی کثرت طرق کی وجہ ہے۔

ووقع في ذکر عدد الأنبیاء حدیث أبي ذر مرفوعا أنهم مائة ألف وأربعة و عشرون ألفا الرسل منهم ثلث مائة و ثلثة عشر صححه ابن حبان (فتح الباری:ص161؍6)

نبی کا تعارف: نبوت ایک رفیع منصب ہے، جو اپنی مشیت او رمرضی کے تحت اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے، اس مقام اور منصب تک رسائی ،علم و کشف کےذریعے ہوتی ہے نہ کسی ذاتی استعداد کی بدولت، اس کا تعلق جسم نبی سے ہے نہ اس کے عوارض سے، بلکہ اس کا تعلق اس سے بھی نہیں کہ وہ اپنے نبی ہونے کو جانتے ہیں،اصل اس کا مرجع صرف یہ بات ہوتی ہے کہ اللہ نے ان کو اس کی اطلاع بخشی ہے کہ میں نے آپ کونبی بنا لیا ہے، اس لیےاس کی وفات سے بھی اس کا سلسلہ نہیں ٹوٹتا۔ قال ابن حجر:

وهي الرفعة:والنبوبة نعمه یحسن بها علی من یشاء ولا یبلغا أحدبعلمه ولاکشفه ولایستحقا باستعداد ولایته و معنا ھا الحقیقي شرعا من حصلت له النبوة، ولیست راجعة إلی جم النبي ولا إلی عرض من أعراضه، بل ولا یعلمه بکونه نبیابل المرجع إلی إعلام الله له بأني نبأتك أوجعلتك بنیادعلی ھذا فلا تبطل بالموت کما لا تبطل بالنوم والغفلة (فتح :ص361؍6)

حضور ﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے :کہ حضرت آدم، حضرت شیث، حضرت نوح اور حضرت ادریس علیہم السلام سریانی نبی ہیں او رحضرت ہود، حضرت صالح، حضرت شعیب او رحضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین وسلم عربی نبی ہیں (موارد الظمان ص53 و ابن کثیر:ص585؍1 بحوالہ ابن مردویہ)

قرآن مجید میں جن انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے اسماء گرامی مذکور ہیں، ان کےنام یہ ہیں:

حضرت آدم، حضرت ادریس، حضرت نوح، حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت ابراہیم، حضرت لوط، حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت یوسف، حضرت ایوب، حضرت شعیب، حضرت موسیٰ، حضرت ہارون، حضرت یونس، حضرت داؤد، حضرت سلیمان ، حضرت الیاس، حضرت یسع، حضرت زکریا، حضرت یحییٰ، حضرت عیسیٰ، ذوالکفل او رحضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین وسلم (تفسیر ابن کثیر: ص585؍1)

حضرت خضر کےمتعلق مختلف روایات ہیں، جمہو رکے نزدیک وہ بھی نبی ہیں اور آیت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔

وقال القرطبي:وھو نبي عند الجمهور والآیة تشھد بذلك لأن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لا یتعلم ممن ھودونه (فتح:ص434؍6) اسی طرح اس میں بھی اختلاف ہے کہ وہ ابھی تک زندہ ہیں یا نہیں؟ حضرت امام بخاری، امام حربی، امام ابوجعفر بن المناوی، امام ابویعلیٰ الفراء، امام ابوطاہرعبادی اورامام ابوبکر بن العربی او رایک جماعت کےنزدیک وہ اب صفحہ ہستی پرموجود نہیں ہیں، ہاں جمہور کے نزدیک صحیح یہ ہے کہ وہ اب بھی زندہ ہیں۔

قال ابن الصلاح: ھو حي عندجمهور العلماء والعامة معهم في ذلك (فتح الباری:ص434؍6)

خاص کر صوفیائے کرام کااس امر پر اصرار ہے کہ وہ ابھی تک زندہ ہیں او ران سے ان کی ملاقاتیں ہوتی ہیں، ایک واقعہ حافظ ابن حجر عسقلانی نے بھی بیان کیا ہے او رفرمایا ہے کہ اس کے راوی گوارا ہیں۔

روی یعقوب بن سفیان في تاریخه و أبوعروبة من طریق ریاح .... ابن عبیدة : قال رأیت رجلا یماشي عمر بن عبدالعزیز معتمد اعلیٰ یدیه فلما انصرف قلت له: من الرجل؟ قال رأیته؟ قلت نعم، قال أحبك رجلا صالحاً ذاك أخي الخضر لابأس برجاله(فتح الباری :ص435؍6)

وروی ابن عساکر في ترجمة أبي زرعة الرازي بسند صحیح أنه رأی وھو شاب رجلا نھاہ من غشیان أبواب الأمراء ثم رأىہ بعد أن صاد شیخا کبیر اعلیٰ حالة الأولیٰ فناه عن ذلك أیضا قال فالتفت لا کلمه فلم أره فوقع في نفسي أنه الخضر (أیضا)

روی البیهقي من طریق الحجاج بن قرانصة أن رجلین کان یتبایعان عنه ابن عمر فقام عليهم رجلا فنھاھما عن الحلف بالله ووعظھم بموعظة فقال ابن عمر لأحدھما: اکتبا منه فاستعادہ حتی حفظھا ثم تطلبه فلم یرہ: وکانو یرون أنه الخضر (ایضاًذ، ص436؍6)

بہرحال جو اکابران کی ملاقاتوں اور مشاہدہ کاذکر کرتے ہیں، ان کو آسانی سےنظر انداز کرنامشکل ہے۔ واللہ اعلم۔

حضرت دانیال علیہ السلام کےمتعلق بھی آتا ہے کہ وہ اللہ کے نبی تھے۔ (ملاحظہ ہو تصریحات ابن تیمیہ)

آسمانی کتابیں: حضرت ابوذر والی روایت میں یہ بھی ہے کہ آسمانی صحیفوں او رکتابوں کی تعداد ایک سو چار ہے۔ (50) حضرت شیث (30) حضرت ادریس (10) حضرت ابراہیم اور تورات کے سوا (10) صحیفے حضرت موسیٰ علیہم السلام پرنازل ہوئے۔ تورات، انجیل، زبور اور قرآن پاک ان کے علاوہ ہیں۔

قلت یارسول اللہ کم کتبا:نزله؟ قال مائة کتاب و أربعة کتب، أنزل علی شیث خمسون صحیفة و أنسل علی أخنون (إلی ادریس) ثلثون صحیفة و أنسل علی إبراهیم عشر صحائف وأنزل علی موسیٰ قبل التوراة عشر صحائف وأنزل التوراة والإنجیل والزبور والقرآن (موارد الظمان: ص53)

لیکن اب قرآن حمید کے سوا اور کوئی آسمانی کتاب اپنی اصل شکل میں موجود نہیں رہی، اس لیے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں ان کی تصدیق اورتکذیب سےروک دیا ہے کیونکہ صورت حالی کافی مشتبہ ہوگئی ہے۔

إذا حدثكم أهل الکتاب فلا تصدقوھم ولا تکذبوھم (موارد الطمان وغیرہ :ص58)

(7) والذين كفروا وكذبوا بآيتنا (اور جو لوگ انکار کریں گے او رہماری آیتوں کوجھٹلائیں گے ) اوپر کی سطور میں ہم نے بتایا ہے کہ ھُدیً سے مراد انبیاء اور آسمانی کتابیں ہیں، اس آیت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔غرض یہ کہ : انکار اور تکذیب آیات، عذاب الہٰی کو دعوت دینے والی بات ہے۔

ایک انسان ایک بات کو صحیح مانتا ہے لیکن اسے اختیار کرنے سے انکار کرتا ہے، دوسرا یہ کہ انکار کے ساتھ اس بات کی حقانیت اور افادیت کی بھی تکذیب کرتا ہے۔ یہ دوہرا سنگین جرم ہے۔ اس لیے فرمایا کہ یہ دوزخی لوگ ہیں۔ کیونکہ جو ٹیڑھے چلتے ہیں، ان کے بل آگ کی اسی بھٹی میں نکل سکتے ہیں۔ ان کا اور کوئی علاج نہیں ہے۔باقی رہی اصحاب النار (دوزخیوں) کی پوری تفصیل؟ سو وہ کسی اور موقع پر پیش کی جائے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔

ان آیات کا حاصل یہ ہے کہ:

خطاء کے سرزد ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو خود ہی''آداب معذرت'' سکھائے، جب انہوں نے اس زبان میں اللہ کے حضور میں اپنی معذرت پیش کی تو وہ فوراً قبول کرلی گئی، کیونکہ اللہ اسے کبھی نہیں ٹھکراتا جو چل کراس کے ''در'' پر حاضر ہوتا ہے اور گڑگڑا کر معافی مانگتا ہے او ریہ محض اس کے رحم کا تقاضا ہے۔ کسی کاقرض نہیں دینا۔ تاہم ان سے کہا گیا کہ آپ اب یہاں سے تشریف لے جائیں، ہاں اگرمیری طرف سے نبی او رکتاب کبھی تمہارے پاس پہنچ جایاکرے تو جو اس کی اطاعت کرے گااس کے لیے اسے وہی جنت گم گشتہ پھر مل جائے گی۔ لیکن جو لوگ انکار و حجود اور تکذیب کی راہ اختیار کریں گے انہیں دوزخی سمجھیے اور وہ آخر کار آگ کا ہی ایندھن بنیں گے۔

فقہ القرآن: اس رکوع 4 سےمندرجہ ذیل احکام مستنبط ہوسکتے ہیں۔

1۔ خلق خدا کےرُشد و ہدایت او رفلاح و صلاح کے لیے کارجہاں بانی ''نری اللہ ہو'' کہنے سے کہیں بہتر ہے۔ یہ اس صورت میں ہے، جب خلیفہ سے اسلامی ریاست کی سربراہی مراد لی جائے۔ (قال إني أعلم مالا تعلمون)

2۔ باقی رہیں انسان کی غلط کاریاں؟ گو وہ بُری او رمضر ہیں تاہم انسان کو ان سےمنزہ او رپاک پیدا نہیں کیا گیا او رنہ وہ غیر متوقع ہیں (اتجعل فيها من یفسد فیھا ویسفک الدماء۔ الایۃ) لیکن اس کے باوجود اس کی افادیت کاپہلو غالب ہے، اور کارگاہ حیات کی اس کشمکش میں اس کی صلاحیتوں سے جومتوقع ہے، اس نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ ساری مخلوق میں انسان خدا کا ایک عظیم شاہکار ہے اورجو تخریبی عنصر اس کے خمیر میں پوشیدہ ہے، وہی دراصل اس کی عظمتوں کا امین بھی ہے اور متناقض الخواص کایہ عظیم پتلہ اپنے انہی متناقض خواص کے باہمی تزاحم او رکشاکش کی وجہ سے زندہ اور روز افزوں تابند ہے، اس لیےاسلام میں ترک دنیا کوئی نیکی نہیں، نیکی یہ ہے کہ بحر حیات کے مگرمچھوں میں رہ کر اپنی کشتی حیات کو سلامتی سے پار لے جائے۔ اگر آپ غور کریں گے تو آپ کو محسوس ہوگا کہ یہ صرف انسان کی بات نہیں بلکہ پوری کائنات اسی تزاحم او رکشاکش کا ہی نام ہے۔ او روہ ایک ایسا سٹیج ہے جس پر متناقض الخواص کے حامل یہی پتلے ہر وقت ایکٹ کررہے ہیں۔ چونکہ ملائکہ کا استعجاب انسان بلکہ خدا تعالیٰ اب جودنیابسانا چاہتے تھے، اس ساری کائنات کے اسی نکتہ اور خاصہ سے بے خبری کانتیجہ تھا۔ اس لیے اس پر ان سے کہا گیا کہ جو میں جانتا ہوں، اس کا آپ کو ہوش نہیں: إني أعلم مالا تعلمون

3۔ انسان کی عظمت کا دوسرا راز اس کی''آگہی'' ہے کہ اسے دانائے راز بنایا گیا ہے، ان کی حقیقت بین نگاہ او رمزاج شناس قلب و دماغ صرف کیمرے نہیں بلکہ تسخیر اور تخلیق کی قوتوں سے آراستہ بھی ہیں، اس دنیائے بیکراں میں اس چھوٹے سے پتلے کی صلاحیتیں اس سے بھی وسیع تر اور بیکراں ہیں اسی لیے آپ دیکھ رہے ہیں کہ انسان کے دائرہ عمل کی وسعتوں نے زمین و آسمان کی حدود فراموش وسعتوں پر کمندیں ڈال کر انہیں روند ڈالا ہے۔ اس کے برعکس نورانی فرشتوں کی نورانی مشعلیں، مفوضہ امور سے پرے تھکی ماندی ، بجھی بجھی سی اور درماندہ سی دکھائی دیتی ہیں۔ملاحظہ ہو آیت علم آدم الاسماء كلها او رلا علم لنا إلا ما علمتنا۔

4۔ آسمان و زمین کے سارے غیوب پر نگاہ صرف رب دانائے راز کی ہے، اس میں دوسرا اور کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے۔ (اني اعلم غيب )

5۔ انسان ملائکہ سے افضل ہے۔ فسجدوا لیکن اس کے باوجود اس کی رہنمائی اور وحی سے بے نیاز نہیں ہوسکتا (فاما ياتينكم مني هدى) ورنہ آزاردہ انجام سے دوچار ہوگا ( اولئك اصحاب النار)

6۔ غالب اکثریت جس کی مخاطب ہوتی ہے، اس میں شامل اقلیت خود بخود آجاتی ہے الا یہ کہ استثناء کی اس میں کوئی دفعہ رکھ دی جائے۔ (الاابليس)

7۔ خدا کے حضور، اس کے احکام کے سامنے ''فلسفے چھانٹنا'' ابلیس او راس کی ذریت کا شیوہ ہے۔ خدا کے بندوں کا نہیں۔ (أبى واستكبر)

8۔ جنت ، مرنے سے پہلے بندوں پر حرام نہیں ہے (اسكن انت و زوجك الجنة) لیکن اس کے باوجود اب اس کا مکین تشریعی احکام سے اونچا نہیں چلا جاتا (ولا تقربا هذه الشجرة) اسی طرح مرنے سے پہلے بہشت میں داخلہ،ابدی داخلہ نہیں بن جاتا۔ (قلنا اهبطوا)

9۔ دنیا او راس کا قیام عارضی ہے، او ریہ ایک خاص نقطہ فنا کی طرف بڑھ رہی ہے۔ (متاع الى حين)

10۔ جو بھی نافرمانی ہوتی ہے اس سے خدا کا کچھ نہیں بگڑتا ، انسان کا اپنا ہی بگڑتا ہے۔ (فتكونا من الظلمين) اس پر اسے تھامنے اور سنبھلنے کے مواقع مہیا فرماتا ہے (فتلقى آدم) بالکل اسی طرح جس طرح ماں باپ اپنے بچے سے معاملہ کرتے ہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر (التواب الرحيم)

11۔ جو دعائیں یااعمال خود خدا نے ہمارے لیے تجویز فرمائے ہیں، شرف قبولیت کا حتمی او ر یقینی ذریعہ بھی صرف وہی ہیں، باقی سب تیر اور تکے ہیں، اس لیے ان میں طبع زاد ٹانکوں سے پرہیز کیا جائے ورنہ آپ کا مستقبل آپ کے لیے آپ کے حسب منشاء یقینی نہیں رہے گا۔

12۔ میخا نہ ہو یا مسجد ، مکہ مدینہ ہو یا پیکنک او رلینن گراڈ شیطان ہر جگہ مارکرسکتا ہے ، اس لیے کسی بھی وقت اور جگہ اس سے بے فکر نہیں ہونا چاہیے۔ دیکھئے ! اس نے بہشت جیسی عصمت مآب جگہ پر بھی مار کی ، نماز میں آکر خراب کرنا اس کا معمول ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ہم اس سے پناہ چاہتے ہیں۔