جاں ہے کہ بنی جاتی ہے عنوان محدث
دل ہے کہ ہوا جاتا ہے قربان محدث

ابھرا افق علم سے اک اور مجلّہ
دامن میں لیے سرو چراغاں محدث

تنویر ہی تنویر، تبسم ہی تبسم
جنت ہے نظر میں گلستان محدث

اس شان کتابت پہ یہ انداز طباعت
اللہ رہے یہ حسن فراوان محدث

چندہ بھی مناسب ہے ضخامت بھی مناسب
ہر چیز سے، ہر شے سے عیاں شان محدث

کمیابی و نایابی کے اس دور گراں میں
کاغذ بھی محدث کا ہے شایان محدث

قرآن کی آیات ہیں یا دُر احادیث
مملو اسی دولت سے ہے دامان محدث

امیدوں کی تکمیل ہے ارمانوں کا حاصل
پھر کیوں نہ زمانہ ہو ثنا خوان محدث

چھٹ جائے گا ہر جہل و تغافل کا اندھیرا
روشن ہے چراغ رخ تاباں محدث

سیراب ہمیشہ رہے کشت دل و ایمان
جاری رہے یہ چشمہ فیضان حدیث

ہوتی ہے سحر بطن شب تار سے پیدا
مایوس نہ ہوں حوصلہ مندان محدث

لحاد کے اس دور میں عاجز کی دعا ہے
وہ ذات مقدس ہو نگہبان محدث