حضرت جابرؓ کی روایت ، جس کے آخر میں ''فمن أراد الدار فلیأت الباب'' کے الفاظ مروی ہیں، کا طریق اس طرح ہے:
''أنبأنا إسمٰعیل بن أحمد السمرقندي قال أنبأنا إسمٰعیل بن مسعدة قال أنبأنا حمزة بن یوسف قال أنبأنا ابوأحمد بن عدي قال حدثنا العنمان ابن بکر ون البلدي و محمد بن أحمد بن المؤمل و عبدالملك بن محمد قال سمعت جابر بن عبداللہ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوم الحدیبیة وھو آخذ بصبغ علي.......................... أنا مدینة العلم..................... الخ''1

امام ابن الجوزی فرماتے ہیں کہ ''اس حدیث کے راوی بھی مہتم ہیں۔''2
علامہ شوکانی فرماتے ہیں کہ:
''لوگ بیان کرتے ہیں، یہ حدیث صحیح نہیں ہے او را س کی کوئی اصل نہیں ہے۔''3

حضرت جابرؓ بن عبداللہ کی وہ حدیث ، جو ''احمد بن طاہر بن حرملہ بن یحییٰ المصری'' نے عبدالرزاق سے ''عن'' کے ساتھ روایت کی ہے، اس کے آخر میں ''فمن أراد الحکم فلیأت الباب'' کے الفاظ موجود ہیں۔4

اس طریق اسناد میں ''احمد بن طاہر بن حرملہ'' راوی کذاب5 ہے۔

ابن عدیکا قول ہے: ''کان أکذب الناس''6

ابن حبان7، ذہبی8، ابن حجرعسقلانی9، دارقطنی 10اور عبدالعزیز سیروان11وغیرہ نے بھی ''احمد بن طاہربن حرملہ'' کو ''کذاب '' لکھا ہے۔

حضرت ابن عباسؓ کی روایت کا ایک اور طریق اسناد اس طرح بیان کیا جاتا ہے:
''رواہ أبوبکر بن مردویه من حدیث الحسن بن عثمان عن محمود بن خراش عن أبي معاویة''12

اس طریق میں''حسن بن عثمان''راوی متہم ہے۔ امام ابن الجوزی فرماتے ہیں کہ: ابن عدی کا قول ہے، وہ حدیث وضع کیا کرتا تھا۔13 '' علامہ ذہبی نے اس کے''کذب'' کو بیان کیا14 ہے۔

شیخ برہان الدین حلبی فرماتے ہیں کہ ''محمود بن خراش سے ''عن'' کےساتھ ''حسن بن عثمان'' نے ''أنا مدینة العلم و علي بابھا'' والی حدیث بیان کی ہے۔ عبدان کا قول ہے کہ حسن کذاب ہے۔''15

اب حضرت علیؓ کی ان روایات کے طُرق پیش ہیں، جن میں ''أنا دار الحکمة و علي بابھا'' مروی ہے:
أنبأنا محمد بن عبدالباقي بن أحمد قال أنبأنا أحمد الحداد قال حدثنا أبو نعیم أحمد بن عبداللہ الحافظ قال أنبأنا أبوأحمد محمد بن أحمد الجرجاني قال حدثنا الحسن بن سفیان قال حدثنا عبدالحمید بن بحر حدثنا شریك عن سلمة بن کھیل عن الصنابحي عن علي بن أبي طالب رضی اللہ عنه قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ''أنا دار الحکمة............. الخ''16

امام ابن الجوزی فرماتے ہیں کہ ''اس طریق میں'عبدالحمید بن بحر' موجود ہے، جس کے متعلق ابن حبان کا قول ہے کہ وہ حدیث چرایا کرتا تھا اور ثقات کی طرف منسوب کرکے ایسی چیزیں بیان کرتا تھا جو ان کی احادیث میں نہیں ہوتی تھیں، اس سے احتجاج جائز نہیں ہے۔''17

أنبأنا علي بن عبید اللہ الزاغوني قال أنبأنا علي بن أحمد البسري قال أنبأنا أبوعبداللہ ابن بطة العکبري قال حدثنا أبو علي محمد ابن أحمد بن الصواف قال حدثنا أبو مسلم إبراھیم بن عبداللہ البصري قال حدثنا محمد بن عمران الرومي قال حدثنا شریك عن سلمة بن کھیل عن الصنابحي عن علي قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم: ''أنا دارالحکمة........... الخ ''18

امام ابن الجوزی اس طریق کے متعلق فرماتے ہیں کہ''اس میں ' محمد بن عمران الرومی' ہے۔جس کے متعلق ابن حبان کا قول ہے کہ وہ ایسی احادیث ثقات کی طرف منسوب کرکے لاتا ہے جو فی الحقیقت ان کی احادیث میں موجود نہیں ہوتیں۔ چنانچہ اس کےساتھ بھی احتجاج جائز نہیں ہے19۔'' ابن الرومی کے متعلق مزید جرح ان شاء اللہ آگے پیش کی جائے۔ (ملاحظہ ہو حواشی صفحہ 88 تا صفحہ 90 و صفحہ 132 کی تفاصیل)

3۔ ''رواہ أبوبکر ابن مردویه من حدیث الحسن ابن محمد عن جریر عن محمد بن قیس عن الشعبي عن علي قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم''أنا دارالحکمة.......... الخ''20

امام ابن الجوزی فرماتے ہیں کہ اس طریق میں''محمد بن قیس'' راوی مجہول ہے۔''21

4۔ ''ابن رومی'' کے طریق سے آنے والی حضرت علیؓ کی ایک اور حدیث کے اسناد کی روایت اس طرح ہے:
''عن شریك عن سلمة بن کھیل عن سوید بن غفلة عن الصنابحي عن علي''22

یہ روایت ''ابن الرومی'' کے طریق سے وارد ہوئی ہے جو کہ امام ابن الجوزی او رابن حبان کے نزدیک مجروح اور ''ساقط الاحتجاج''23 ہے۔ ابوزرعہ اور ابوداؤد نے اسے ''ضعیف'' اورابن حجر عسقلانی نے اسے ''لین الحدیث'24'لکھا ہے۔امام ترمذی نے اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد اس پر ''غریب منکر'' ہونےکا حکم لگایا ہے۔25

حضرت علیؓ کا وہ طریق روایت ، جس میں ''أنا مدینة الفقه و علي بابھا'' بیا ن کیا گیا ہے، اس طرح ہے:
''أنبأنا علي بن عبیداللہ قال أنبأنا علي بن أحمد البسري قال أنبأنا عبیداللہ بن محمد العکبري قال حدثنا أبوبکر محمد بن القاسم النحوي قال حدثنا عبداللہ بن ناجیة قال حدثنا أبومنصور شجاع بن شجاع قال حدثنا عبدالحمید بن بحر البصري قال حدثنا شریك قال حدثنا سلمة بن کھیل عن أبي عبدالرحمٰن عن علي قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ''أنا مدینة الفقه........... الخ۔''26

اس طریق میں بھی راوی ''عبدالحمید بن بحر'' موجود ہے، جو امام ابن الجوزی کے نزدیک ''متہم'' ہے27۔ اس راوی پر بحث و جرح اوپر پیش کی جاچکی ہے۔ (ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 82 کی تفصیل)

حضرت ابن عباس کا وہ طریق ، جس میں حضرت علیؓ کو رسول اللہ ﷺ کے علم (شریعت) کا صند وق ہونا بیان کیا گیاہے، حسب ذیل ہے:
''أنا أبومنصور ابن خیرون قال نا ابن مسعدة قال أخبرنا حمزة قال أخبرنا أبوأحمد ابن عدي قال نا أحمد بن حمدون النیسا بوري قال ناجعفر بن الھذیل قال نا ضرار بن صرد قال نا یحیی بن عیسی الرملي عن الأعمش عن عبایة 28 عن ابن عباس عن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال:''علي عیبة علمي'' 29

اس طریق میں ''یحییٰ بن عیسیٰ الرملی''، ضرار بن صرد''، او ر''احمد بن حمدون نیشاپوری'' تین رواة مجروح ہیں۔

یحییٰ بن عیسیٰ الرملی کے متعلق شیخ عبدالعزیز سیروان کا قول ہے کہ ''قوی نہیں ہے، صدوق ہے لیکن خطاء کرتا ہے۔ ''یہ تشیع'' سےمتہم بھی ہے30۔'' اس کے ترجمہ میں امام بخاری31، عقیلی32، ابن ابی حاتم33، ابن عدی34، ذہبی35، ابن حجر عسقلانی36، اور امام نسائی37نے ''تشیع''، ''ضعف'' اور ''خطاء کرنے'' کاذکر کیا ہے۔

ضرار بن صرد ابونعیم الطحان کے متعلق مشہور ہے کہ ''وہ صدوق تو تھے لیکن اوہام کاشکار رہتے او راکثر خطاء کرتے تھے۔ یہ ''تشیع سے متہم بھی ہیں38۔'' ضرار بن صرد کے متعلق مشہور اصحاب حدیث مثلاً امام بخاری39، عقیلی40، ابن ابی حاتم41، ابن حبان42، ابن عدی43، دارقطنی44، ذہبی45، ابن حجر عسقلانی46اور نسائی47نے بھی تقریباً یہی اقوال درج کیے ہیں۔ امام ابن الجوزی کا قول ہے کہ : ''یہ حدیث صحیح نہیں ہے، امام بخاری و نسائی کا قول ہے کہ ''ضرار'' متروک الحدیث ہے اور یحییٰ  نے اس کے کذب کو بیان کیا ہے48۔ '' علامہ برہان الدین حلبی لکھتے ہیں کہ ''ذہبی نے حضرت انسؓ سے مروی ابن حبان کی ایک روایت، جس کی سند میں ''ضرار بن صرد'' موجود ہے، اس طرح بیان کی ہے:
''قال صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لعلي: أنت تبین لأمتي ما اختلفوا فيه من بعدي''49او رپھر لکھا ہے کہ ''اس خبر کو ''ضرار'' نے وضع کیا ہے۔''50

اس طریق کے تیسرے راوی ''احمدبن حمدون ابوحامد الاعمش الحافظ النیسابوری'' ہیں۔ جن کی شخصیت بہت مختلف فیہ ہے۔ذہبی نے ابوعلی حافظ کا قول برو ایت حاکم اس طرح بیان کیاہے:
''حدیث أحمد بن حمدون إن حلت الروایة عنه و أنکر عليه أحادیث''51

ابن حمدون کے متعلق امام بخاری کا قول ہے:
''أنا أتھم فیھا أحمد بن حمدون القاضي راویھا''

شیخ العراقی نے بھی ''ابن حمدون''کو''متہم '' قرار دیا ہے۔ لیکن بعض دوسرے اصحاب حدیث ''ابن حمدون'' کوکبار ثقہ حفاظ میں سے بتاتے ہیں52۔ واللہ اعلم۔

اس مضمون سے متعلق باقی چند او رروایات کا حال بھی پیش خدمت ہے:
1۔ ''علي باب علمي و مبین لأمتي ما أرسلت به من بعدي حبه إیمان و بغضه نفاق و النظر إليه رأفة''53
2۔ '' أنا میزان العلم و علي کفتاہ والحسن والحسین خیوطه''54
3۔ ''أنا مدینة العلم و أبوبکر أساسھا و عمر حیطانھا و عثمان سقفھا و علي بابھا''55
4۔ ''أنا مدینة العلم و علي بابھا و معاویة حلقتھا''56

ان میں سے اوّل الذکر خبر کو ابوذرؓ نے مرفوعاً، ثانی الذکر کو ابن عباسؓ نے مرفوعاً، ثالث الذکر کو ابن مسعودؓ نے مرفوعاً اور ابع الذکر کو انسؓ نے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ ان چاروں روایات کا حافظ شمس الدین السخاوی نےبطلان درج کیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ:
''یہ تمام روایات ضعیف ہیں بلکہ اکثر کے الفاظ بھی رکیک ہیں۔'' 57

ذیل میں اس مضمون کی تمام روایات کے ''ساقط الاعتبار'' ہونے کی تائید میں کبار علماء و محدثین عظام کا عمومی تبصرہ پیش خدمت ہے:
علامہ برہان الدین حلبی (م841ھ) نے اس حدیث کو ''فهرس الأحادیث الموضوعة والضعیفة والباطلة والمتکلم فیھا'' کے زیرعنوان بیان کیا ہے۔58

حافظ نور الدین علی بن ابی بکر الہیثمی (م807ھ) نے اس حدیث کو طبرانی کے حوالہ سے نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ:
''اس کی سند میں ''عبدالسلام بن صالح الہروی'' موجود ہے جو ''ضعیف'' ہے۔''59

علامہ محمد بن علی الشوکانی (م1250ھ) فرماتے ہیں کہ ''خطیب کی اسناد مین''جعفر بن محمد البغدادی'' ہے، جومتہم ہے۔ طبرانی کی اسناد میں''ابوالصلت الہروی عبدالسلام بن صالح'' ہے، لوگ بیان کرتے ہیں کہ اس نے اس حدیث کو وضع کیا ہے۔ابن عدی کی اسناد میں''احمد بن سلمہ الجرجانی'' ہے، جو ثقات سے منسوب کرکے اباطیل روایت کرتا ہے۔ عقیلی کی اسناد مین ''عمر بن اسماعیل بن مجالد'' کذاب ہے۔ ابن حبان کی اسناد میں ''اسماعیل بن محمد بن یوسف ہے، جو حجت نہیں ہے۔ابن مردویہ کی اسناد میں ایسے رواة موجود ہیں، جن سے احتجاج درست اور جائز نہیں ہے۔ابن عدی کی حضرت جابرؓ والی روایت کےمتعلق لوگ بیان کرتے ہیں کہ ''یہ خبر صحیح نہیں ہے او راس کی کوئی اصل نہیں ہے۔'' امام ابن الجوزی نے اس حدیث کو اپنی کتاب الموضوعات میں بہت سے طرُق اسناد کے ساتھ نقل کرکے اس کے ہر طریق کا بطلان کیا ہے۔ امام ابن الجوزی کی متابعت علامہ ذہبی وغیرہ نے بھی کی ہے۔''60

امام ابن الجوزی فرماتے ہیں کہ:
''دارقطنی کا قول ہےکہ ''حضرت علیؓ کی حدیث کو ''سوید بن غفلہ'' نے ''صنابحی'' سے روایت کیا ہے، جس سے اس کی سند صحیح نہیں ہے۔ یہ حدیث مضطرب اور غیرثابت ہے۔ اسی طرح سلمہ کا''صنابحی'' سے سماع نہیں ہے61۔'' اور یحییٰ بن معین کا قول ہے : ''یہ حدیث کذب ہے او راس کی کوئی اصل نہیں'' ابن عدی کا قول ہے: '' یہ حدیث موضوع ہے اور ''ابی الصلت'' کےنام سے پہچانی جاتی ہے، اس کو ایک جماعت نے ابی الصلت سے چرا کر روایت کیا ہے۔'' ابوحاتم بن حبان کا قول ہے: ''اس خبر کی رسول اللہ ﷺ سے روایت کرنے کی کوئی اصل نہیں ہے اور نہ ہی ابن عباسؓ کی حدیث کی او رنہ ہی مجاہد و اعمش کی احادیث کی۔ ابومعاویہ سےمروی جو کچھ بیان کیاجاتا ہے اس کی بھی کوئی اصل نہیں ہے۔ خلاصہ یہ کہ اس متن کی جتنی بھی چیزیں بیان کی جاتی ہیں وہ ابی الصلت سے سرقہ کی ہوئی ہیں، او ران کی اسناد وضع کرلی گئی ہیں۔ جب امام احمد بن حنبل سے اس حدیث کے متعلق دریافت کیا گیاتو آپ نے فرمایا: ''قبح اللہ أبا الصلت'' دارقطنی نے ایک کثیر جماعت کا شمار کیا ہے، جس نے اس حدیث کو ''ابی الصلت'' سے چرایا ہے۔ ان میں عمر بن اسماعیل بن مجالد، محمد بن جعفر العبدی، محمد بن یوسف، جو اہل الری کا شیخ ہے او راپنے مجہول شیخ سے ''عن ابی عبید'' کے طریق سے روایت کرتا ہے۔ شیخ شامی، جو ہشام بن عمار عن ابی معاویہ سے ''عن'' کے ساتھ روایت کرتا ہے۔ ابن حبان نے ''عثمان بن خالد العثمان'' کا نام بھی ایسے لوگوں میں شامل کیا ہے۔ یہ شخص ''عیسیٰ بن یونس عن الاعمش عن مجاہد عن ابن عباسؓ '' سے روایت کرتا ہے، لیکن اس کے ساتھ احتجاج درست نہیں ہے۔ دارقطنی کا قول ہے: ''عیسیٰ بن یونس عثمان بن عبداللہ الاموی اگر روایت کرے تو درست نہیں ہے۔'' ابن حبان کاقول ہے: ''وہ ثقات کی طرف سے حدیث وضع کیاکرتا ہے۔ ابن عدی نے اس کا ذکر طبقہ سادسہ میں کیا ہے اور کہا ہے: ''اس نے ''أحمد بن سلمة عن أبي الصلت'' سے اس خبر کو چرایا اور ''عن ابی معاویة'' بیان کردیا۔ وہ ثقات کی طرف منسوب کرکے بواطیل بیان کرتا ہے۔'' ان کے علاوہ رجاء بن سلمہ، جعفر ابن محمد البغدادی، ابوسعید العدوی، ابن عقبہ نے بھی اس کو بیان کیا ہے۔ حالانکہ اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے۔62

علامہ شوکانی او رابن الجوزی کے بیان کردہ تقریباً تمام مجروح رواة کے احوال سابقہ بحث میں گزر چکے ہیں۔ امام ابن الجوزی کے دو راویوں (''عثمان بن خالد العثمان'' او ر''ہشام بن عمار'' ) پرجرح ذیل میں پیش ہے:
''عثمان بن خالد العثمان'' کے متعلق علامہ حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ ''وہ متروک الحدیث'' ہے63اور ''ہشام بن عمار'' اگرچہ ''صدوق ہے او راس کی قدیم حدیثیں صحیح ہیں، لیکن اس کا سماع معروف الخیاط سے ہے، جو ثقہ نہیں ہے۔''64
(جاری ہے)

حوالہ جات
1.الموضوعات لابن الجوزی ج1 ص353
2.ایضاً ج1 ص 354
3.الفوائد المجموعہ للشوکانی ص349
4.الموضوعات لابن الجوزی ج1 ص353
5.مجمع الزوائد و منبع الفوائد للهیثمي ج10 ص276 و سلسلة الأحادیث الضعیفة والموضوعة للشیخ محمد ناصر الدین الألباني ج1 ص171
6.کامل لابن عدی ج1
7.المجروحین ج1 ص151
8. میزان الاعتدال ج1 ص105 والمغنی ج1 ص42
9. لسان المیزان ج1 ص189
10.الضعفاء والمتروکین للدارقطني ترجمہ نمبر 54
11.المجموع الضعفاء والمتروکین ص276
12.کتاب الموضوعات لابن الجوزی ج1 ص352
13.ایضاً ج1 ص354 والکامل ج1 ق264
14.میزان الاعتدال ج1 ص502
15.الکشف الحثیث صفحہ 135 ۔136
16.کتاب الموضوعات لابن الجوزی ج1 ص349۔ 350
17.ایضاً ج1 ص353
18.ایضاً ج1 ص349
19.ایضاً ج1 ص353
20.کتاب الموضوعات لابن الجوزی ج1 ص350
21.ایضاً ج1 ص353
22.جامع الترمذیمع تحفة الاحوذی ج4
23.الموضوعات لابن الجوزی ج1 ص353
24.تقریب التہذیب ج2 ص193
25.جامع الترمذی مع تحفة الاحوذی ج4 کتا ب المناقب
26.الموضوعات لابن الجوزی ج1 ص350
27.ایضاً ج1 ص353
28.میزان الاعتدال ج2 ص327
29.العلل المتناهية في الأحادیث الواهية لابن الجوزی ج1 ص222
30.المجموع في الضعفاء والمتروکین ص241
31.تاریخ الکبیر ج8 ص296
32.الضعفاء الکبیر ترجمہ نمبر 2047
33.الجرح و التعدیل ج9 ص178
34.الکامل لابن عدی ج7 ترجمہ 2673
35.میزان الاعتدال ج4 ص401
36.تقریب التہذیب ج2 ص355
37.الضعفاء والمتروکین لنسائی ترجمہ نمبر630
38.المجموع في الضعفاء والمتروکین ص135 و تقریب التہذیب ج1 ص374
39.التاریخ الکبیر ج4 ص340
40.الضعفاء الکبیر ترجمہ نمبر 766
41.الجرح و التعدیل ج2 ص465
42.المجروحین ج1 ص380
43.الکامل ج4 ترجمہ نمبر1421
44.الضعفاء المتروکین ترجمہ نمبر 301
45.میزان الاعتدال ج2 ص328
46.تہذیب التہذیب ج4 ص456 و تقریب التہذیب ج1 ص374
47.الضعفاء والمتروکین للنسائی ترجمہ نمبر 310
48.العلل المنتاهية في الأحادیث الواهية ج1 ص222
49.الکامل ج2 ص108 و میزان الاعتدال ج2 ص327
50.تلخیص المستدرک ج3 ص122 والکشف الحثیث ص213
51.میزان الاعتدال ج1 ص94 و شرح الألفیة للشیخ العراقی و الفتح المغیث ج1 ص107 والتقیید والإیضاح في النکت علی ابن الصلاح ص118 والعلوم الحدیث للحاکم ص113
52.الکشف الحثیث ص53 تا 55
53.المقاصد الحسنة ص97
54.ایضاً ص 97
55.ذکرہ ابن صاحب الفردوس و کذا في المقاصد الحسنة ص97
56.المقاصد الحسنة ص97
57.ایضاً ص98
58.الکشف الحثیث ص539
59.مجموع الزوائد و منبع الفوائد ج9 ص114
60.الفوائد المجموعة في الأحادیث الموضوعة للشوکاني باب مناقب الخلفاء الأربعة و أهل البیت حدیث نمبر 52 ص348۔ 349
61.الموضوعات لابن الجوزی ج1 ص353
62.الموضوعات لابن الجوزی ج1 ص354۔ 355
63.تقریب التہذیب ج2 ص8
64.ایضاً ج2 ص320