شکی دن کا روزہ :
چاند نظر نہ آنے کی وجہ سے یہ فیصلہ نہیں کیاجاسکتا کہ شعبان کی تیسویں تاریخ ہے یانہیں؟ بعض لوگ احتیاط کے طور پر شکی روزہ رکھتے ہیں۔جس کی شریعت اجازت نہیں دیتی۔ حضرت عمارؓ نے فرمایا:
''من صام الیوم شك فيه فقد عصٰی أبا القاسم''
کہ '' جس شخص نے شکی دن کا روزہ رکھا، اس نے ابوالقاسم ؐ کی نافرمانی کی ہے۔''

شہراعید لاینقصان:
یہ حدیث کے الفاظ ہیں۔بروایت ابوبکرؓ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
''شھر اعید لا ینقصان رمضان و ذوالحجة'' 1
''یعنی عید کے دو مہینے کم نہیں ہوتے ایک رمضان اور دوسرا ذوالحج''

امام احمد کےنزدیک اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ ایک سال میں رمضان اور ذوالحج کا مہینہ دونوں ایک ساتھ کم نہیں ہوتے۔ اگر ایک انتیس دن کا ہے ، تو دوسرا تیس دن کا ہوگا۔

امام اسحاق  نے اس حدیث کا یہ مطلب بیان کیا ہےکہ اگر مہینہ انتیس دن کا ہوا تو اس پرلفظ تمام کا اطلاق ہوگا، اسے نقص کی طرف منسوب نہیں کیاجائے گا یعنی امام اسحاق کے قول کے مطابق دونوں مہینے ایک ساتھ کم ہوسکتے ہیں۔اس کمی کی وجہ سے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔

ابن حبان نے اس حدیث کا یہ معنیٰ بیان کیا ہے کہ فضیلت میں دونوں مہینے برابر ہیں۔ خواہ ایک مہینہ انتیس دن کا ہو دوسرا مہینہ تیس دن کا۔

امام نووی کے نزدیک راجح معنی یہ ہے کہ ان کے اجر میں کمی واقع نہیں ہوتی۔ حدیث میں ہے، جو شخص رمضان کے روز ے ایمان اور ثواب طلب کرنے کی غرض سے رکھتا ہے، اس کے اگلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں یہ حدیث اپنے عموم کے اتبار سے اس مہینہ کو بھی شامل ہے جو تیس دن کا ہے اور اس کوبھی شامل ہے جو انتیس دن کا ہو۔ فضیلت ہر دو ماہ کی یکساں ہے۔

ٹیلیفون، ریڈیو، تار :
ٹیلیفون، ریڈیو، تار یہ سب خبررسانی کے جدید ذرائع ہیں۔ ان کے بارہ میں ہماری تحقیق یہ ہے کہ جو خبر ٹیلیفون، ریڈیو کے ذریعہ موصول ہو ، اور یہ معلوم ہوجائےکہ خبردہندہ مسلمان ہے اور عادل یعنی متدین، تو ایسی ملنے والی خبر کا اعتبار ہوگا۔ اگر یہ پتہ نہ لگ سکے تو پھر ایسی خبر کا اعتبار نہ ہوگا۔ اس لیے کہ شریعت نے شاہد کے لیے اسلام اور اس کے عادل ہونے کی شرط لگائی ہے، جیسا کہ احادیث میں بیان ہوچکا ہے۔

تار برقی :
تار کے ذریعہ آنے والی خبر کا اعتبار اس لیے نہیں کہ ایک تو اس میں آواز کو کوئی دخل نہیں کہ اس سے خبر دہندہ کی پہچان ہوسکے۔ دوسری بات یہ ہے کہ درمیان میں کئی واسطے پڑتے ہیں۔ جن کے متعلق یہ علم نہیں ہوتا کہ وہ مسلمان ہیں یاغیر مسلم، عادل ہیں یا غیر عادل، البتہ اگر مختلف مقامات سے متعدد تاروں کے ذریعہ خبر آئے جو تواتر کی حد کو پہنچ جائے تو اس وقت واسطہ کیسا ہی ہو، خبر معتبر ہوگی۔ تواتر کے لیے کوئی عدد معین نہیں، بلکہ جتنے عدد سے علم یقین حاصل ہوجائے وہی تواتر ہے۔

مطالع کا اختلاف
مطالع کا اختلاف ایک فطری اور طبعی شے ہے، اس لیے کہ سورج اور چاند کے طلوع کا محل آسمان ہے جو گول ہے، امام ابن تیمیہ  لکھتے ہیں:
''والشمس والقمر بحسبان'' (سورہ الرحمٰن) ''فقد قیل ھو من الحساب و قیل بحسبان کحسبان الرحٰی وھو دوران الفلك فإن ھٰذا لاخلاف فيه بل قددل الکتٰب والسنة و أجمع علمآء الأمة علیٰ مثل ما عليه أھل المعرفة من أھل الحساب من أن الأفلاك مستدیرة لا مسطحة'' 2
یعنی ''والشمس والقمر بحسبان'' آیت کی تفسیر کرتے ہوئے ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ ''حسبان'' حساب سے ہے۔ بعض کا قول ہے، چکی کے گھومنے کو حسبان کہتے ہیں۔ حسبان دوران فلک کا نام ہے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں۔کتاب و سنت اور اُمت کےعلماء کا اجماع یہ سب کے سب اس بات پر دلالت کرتے ہیں جو حساب جاننے والوں نے کہی ہے، کہ افلاک گیند کی طرح گول ہیں، ان کی سطح برابر نہیں ہے۔''

نواب صدیق حسن کان مرحوم اسی مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
''والأرض جسم کالکرة وقیل لیست بکریة الشکل وھي واقفة في الھواء بجمیع جبالھا و بحارھا و عامرھا و غامرھا والھواء محیط بھا من جمیع جھاتھا کالمخ في البیضة وبعدھا من السماء متساو من جمیع الجھات۔'' 3
یعنی ''زمین جسم ہے جو گیند کی طرح گول ہے۔ یہ بھی کہا ہے کہ وہ گیند کی شکل پر نہیں، اور وہ اپنے تمام پہاڑوں، سمندروں ، آباد اور خراب زمینوں سمیت ہوا میں ٹھہری ہوئی ہے اور اس کی تمام جہتوں کی طرف سے ہوا اس کو محیط ہے، جیسے انڈہ میں زردی ہوتی ہے اور آسمان سے ا س کی تمام جہتیں یکساں دوری پر ہیں۔ اس حالت میں سورج اور چاند کی روشنی بیک وقت زمین کو منور نہیں کرسکتی بلکہ زمین کا جو قطعہ سورج اور چاند کے سامنے ہوگا وہ پہلے روشن ہوگا۔اس لیے یہ حقیقت ہے کہ سورج اور چاند کے مطالع میں اختلاف فطری اور طبعی ہے۔

ایک علاقہ کی رؤیت دوسرے علاقہ کے لیے: رؤیت ہلال کے متعلق جتنے پیش آمدہ مسائل ہیں، ان میں یہ مسئلہ بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ ایک علاقہ یا ایک ملک کی رؤیت دوسرے علاقہ یا ملک کے لیے معتبر ہے یا نہیں؟ اس مسئلہ کے حل کے لیے حسب ذیل امو پر غور کرنا ضروری ہے:
1۔ ملک ایک ہے، اس کے کسی ایک شہر میں دیکھا ہوا چاند تمام ملک کے لیے کافی ہے؟
2۔ ایک ملک کی رؤیت دوسرے ملک کے لیے قابل قبول ہے؟
3۔ مطالع ا اختلاف، رؤیت اور عدم رؤیت میں کس حد تک موثر ہے؟

پہلی صورت:
پہلی صورت میں عکرمہ، قاسم، سالم، اسحٰق کا قول ہے کہ ملک کے ایک شہر میں دیکھا ہوا چاند اس ملک کے دوسرے شہرے کےلیے کافی نہیں۔ امام ترمذی نے بعض اہل علم کا یہ مذہب نقل کیا ہے کہ:
''إن لکل بلد رؤیتھم''
یعنی ''ہر شہر کے لیے ان کے اہالیان کی رؤیت کارآمد ہے۔''

امام ترمذی نے انہی الفاظ سے باب باندھا ہے ۔ ان ائمہ نے جس حدیث سے اپنے اس نظریہ کا استدلا ل کیا ہے، وہ کریب تابعی سے مروی حدیث ہے، جس کوبخاری اور مسلم کے سوا ائمہ کی ایک جماعت نے تکریج کیا ہے۔ حدیث کے الفاظ حسب ذیل ہیں:
''عن کریب أن أم الفضل بعثه إلیٰ معاویة بالشام فقال فقد مت الشام فقضیت حاجتھا و استھل علی رمضان و أنا بالشام فرأیت الھلال لیلة الجمعة ثم قد مت المدینة في آخر الشھر فسألني عبداللہ بن عباس ثم ذکر الھلال فقال متٰی رأیت الھلال فقلت رأیناہ لیلة الجمعة فقال أنت رأیته فقلت نعم ورآہ الناس وصاموا و صام معاویة فقال لٰکنا رأیناہ لیلة السبت فلا نزال نصوم حتیٰ نکمل ثلاثین أو نرا فقلت ألاتکتفي برؤیة معاویة و صیامه فقال لا ھٰکذا أمرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔'' 4
یعنی ''کریب تابعی سے روایت ہےکہ اُم الفضلؓ نے مجھے معاویہ کی طرف ملک شام میں (کسی کام کے لیے )بھیجا ، میں نے یہ کام سرانجام دیا تو رمضان کا چاند مجھے شام ہی میں چڑھ آیا۔ جمعرات کو میں نے خود چاند دیکھا، پھر مہینہ کے آخر میں مدینہ واپس آیا۔ ابن عباسؓ نے مجھ سے (وہاں کا حال) پوچھا۔ اس کے بعد انہوں نے چاند کاذکر کیا۔ میں نےکہا کہ ''ہم نے جمعرات کو چاند دیکھا ہے۔'' پوچھا کہ ''توُ نے خود دیکھا ہے؟'' میں نے کہا، ''ہاں میں نے خود دیکھا ہے، دوسرے لوگوں نے بھی دیکھا ہے اور انہوں نے روزہ رکھا ہے۔ معاویة نے بھی روزہ رکھا ہے۔'' ابن عباسؓ نے کہا کہ ''ہم نے تو ہفتہ کی رات چاند دیکھا ہے، لہٰذا ہم تو روزہ رکھیں گے۔ حتٰی کہ تیس روزہ پورے ہوجائیں یا اس سے پہلے چاند دیکھ لیں۔ ''میں نے کہا کہ 'ّآپ، معاویہ کی رؤیت اور ان کے روزوں پر اکتفاء نہیں کرتے؟'' انہوں نے جواب دیا کہ ''نہیں، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اسی طرح حکم دیا ہے۔''

علامہ مبارکپوری نے لکھا ہے:
''ھٰذا بظاھرہ یدل علیٰ أن لکل بلد رؤیتھم ولا تکفي رؤیة أھل بلد لأھل بلد آخر'' 5
یعنی ''یہ حدیث بظاہر دلالت کرتی ہے کہ ہر بلد کے لیے ان کے باشندگان کی رؤیت ہے۔ ایک اہل بلد کی رؤیت دوسرے اہل بلد کے لیے کفایت نہیں کرتی۔''

بعض ائمہ نے کریب کی اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ رؤیت کے بارہ میں ایک شہادت معتبر نہیں، اس لیے ابن عباسؓ نے کریب کی شہادت پر عمل نہیں کیا مگران کا یہ استدلال اس لیےد رست نہیں کہ حدیث سے جو بات مترشح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ رؤیت کا حکم بعید کے حق میں ثابت نہیں ہوتا۔ اس بناء پر ابن عباسؓ نے کریب کی شہادت کو قبول نہیں کیا۔

حدیث کریب اور مختلف مذاہب:
ایک شہر کی رؤیت دوسرے شہر کے لیے معتبر نہیں۔ (نووی)

اس بارہ میں حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں لکھا ہے کہ اس میں علماء کے مختلف مذاہب ہیں:
(1) ہر بلد کی رؤیت انہی کے لیے ہے جو وہاں کے باشندے ہیں، دوسرے بلد کے لیے نہیں ہے۔
(2) جب ایک بلدمیں چاند نظر آجائے تو اس کی رؤیت تمام بلاد کے لیے لازم ہوتی ہے، مالکیہ کے نزدیک یہ مشہور مذہب ہے۔
(3) ابن ماجشون کا قول ہے کہ اہل بلد کی رؤیت دوسرے بلد کے لیے کفایت نہیں کرتی۔البتہ اگر وقت کا حاکم کسی ثبوت کی بناء پر رعایا میں رؤیت ہلال کا اعلان کردے، اس لیے کہ اس کے حق میں جملہ بلاد ایک ہی بلد کے حکم میں ہیں اور اس کا حکم تمام ملک میں نافذ ہے، تو ایسی رؤیت جملہ بلاد پر مؤثر ہوگی۔
(4) ملک مختلف ہیں تو ایک ملک کی رؤیت دوسرے ملک کے لیے کافی نہیں۔
(5) جن شہروں میں چاند کے طلوع ہونے کا امکان ہے، صرف بادل یا غبار چاند کے خفاء کا باعث ہیں، ایسے تمام شہروں میں سے ایک شہر میں دیکھا ہوا چاند سب شہروں میں معتبر ہے۔ ان کے ماسوا شہروں میں طلوع چاند کا حکم نافذ نہیں ہوگا۔ یہ قول سرخسی کا ہے۔
(6) اگر علاقہ کی ایک جہت پہاڑی ہے اور دوسری میدانی، تو اس صورت میں ایک جہت کی رؤیت دوسری جہت کے لیےکافی نہیں۔

تبصرہ :
کریب کی اس حدیث سے یہ استدلال کرنا درست نہیں کہ ایک شہر کی رؤیت اسی شہر کے باشندگان کے لیے ہے، دوسرے شہروں کے لیے نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ کہا جاسکتا ہےکہ جن شہروں کے درمیان اتنی مسافت ہو، جس قد رمدینہ اور شام کے درمیان ہے، تو ان میں سے ایک شہر کی رؤیت دوسرے شہر کے لیے کافی نہیں۔ اگر اس سے کم مسافت ہوتو اس حدیث کی رُو سے ایسے شہروں میں ایک شہر کی رؤیت دوسرے شہر کیلئے کافی ہونے میں ممانعت کی کوئی دلیل نہیں۔ اسکی بناء صرف ابن عباسؓ کے اجتہاد پر ہے۔ یہ معنی بھی اس وقت قابل اعتماد ہوسکتا ہے جب اجتہاد کو حجت تسلیم کرلیا جائے۔ یہ ڈھکی چھپی بات نہیں کہ امتی کا اجتہاد حجت نہیں ہوتا۔ اس لیے جہاں اس میں صواب کا امکان ہے وہاں خطاء کا بھی احتمال ہے۔

حدیث کریب اور امام شوکانی :
امام شوکانی  ان تمام اقوال کا ذکر کرکے لکھتے ہیں کہ مذکورہ اصحاب اقوال کی دلیل کریب کی مذکورہ بالا حدیث ہے۔ جس میں ہے کہ ابن عباسؓ نے اہل شام کی رؤیت پر عمل نہیں کیا اور انہوں نے فرمایا:
''ھٰکذا أمرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم''
یعنی ''رسالتماب ﷺ نے ہم کو اسی طرح حکم دیا ہے۔''

اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابن عباسؓ نے یہ بات رسول اللہ ﷺ کے حکم کے بغیر نہیں کہی۔ یعنی یہ امر لازم نہیں آتا کہ اہل بلد دوسرے اہل بلد کی رؤیت پرعمل کریں۔ لیکن کریب کی حدیث میں ایک ابن عباس کا اجتہاد ہے، جس سے لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ایک بلد کی رؤیت دوسرے بلد کے لیے معتبر نہین۔ یہ ابن عباسؓ کا اپنا اجتہاد ہے جسے حجت قرار نہیں دیا جاسکتا۔حجت تو مرفوع حدیث ہے، جو ان الفاظ سے مروی ہے:
''ھٰکذا أمرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم''
''ھٰکذا ''کا''مشار إلیه'' ابن عباسؓ کا وہ قول ہے جس میں انہوں نے بیان کیا:
''فلا نزال نصوم حتیٰ نکمل ثلاثین'' ''ہم روزے رکھتے ہیں رہیں گے حتٰی کہ تیس پورے کریں۔'' ابن عباسؓ کا یہ قول رسول اللہ ﷺ کے اس حکم کی روشنی میں ہے، جس کو بخاری اور مسلم نے ان الفاظ سے روایت کیاہے:
''لا تصوموا حتیٰ تروا الھلال ولا تفطروہ حتیٰ تروہ فإن غم علیکم فأکملوا العدة ثلاثین''
یعنی ''چاند دیکھے بغیر نہ روزے رکھو اور نہ دیکھے بغیر افطار کرو۔ اگر بادل یا غبار کی وجہ سے چاند پوشیدہ ہو تو پھر تیس روزے پورے کرو۔''

امام شوکانی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ حکم کسی ایک علاقہ کے لیے مخصوص نہیں، بلکہ اس حکم کا مخاطب ہر وہ مسلمان ہے، جو اس کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لیے اس حدیث سے یہ استدلال کرنا زیادہ واضح ہے کہ ایک اہل بلد کی رؤیت دوسرے اہل بلد کے لیے معتبر ہے۔بہ نسبت اس استدلال کے کہ ایک اہل بلد کی رؤیت دوسرے اہل بلد کے لیے قابل قول نہیں۔ کیونکہ جب کسی اہل بلد نے چاند دیکھا ہے، تو گویا مسلمانوں نے چاند دیکھا ہے۔ جو بات چاند دیکھنے والے مسلمانوں پر لازم آتی ہے، وہی دوسرے مسلمانوں پر لازم آتی ہے۔

اگر ابن عباسؓ کے کلام میں اشارہ کو اس طرف متوجہ کرلیا جائے کہ ایک اہل بلد کی رؤیت دوسرے اہل بلد کے لیے قابل عمل نہیں، تو پھر اس مفہوم کو عقلی دلیل کے ساتھ مقید کرنا پڑے گا یعنی اگر ہر دو شہروں کے درمیان اتنی لمبی مسافت ہے کہ اس سے ہر دوشہروں کا مطلع اتنا مختلف ہوجاتا ہے کہ اس سے تاریخ بدل جانے کا احتمال ہے، تو اس صورت میں ایک بلد کی رؤیت دوسرے بلد کے لیے کافی نہیں۔

اہل شام کی رؤیت:
ابن عباسؓ نے اہل شام کی رؤیت پر عمل نہیں کیا جبکہ شام اور مدینہ کے درمیان اتنا بُعد نہیں کہ اس کی وجہ سے ان کے درمیان مطلع کا کوئی زیادہ اختلاف ہو۔اس بارہ میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ حضرت ابن عباسؓ کا حضرت معاویہ کی رؤیت اور ان کے روزوں پر اکتفاء نہ کرنا، یہ ان کا اجتہادی عمل ہے۔ جو مرفوع حدیث کے مقابلہ میں حجت نہیں ہے۔

نیز اس حقیقت سے انکار نہیں ہوسکتا کہ جمیع احکام شرعیہ میں قرب و بعد کے لحاظ کے باوجود لوگ ایک دوسرے کی شہادت کو قبول کرتے ہیں۔ رؤیت ہلال کا مسئلہ بھی احکام شرعیہ میں داخل ہے۔ اس کے قابل اعتماد ہونے میں کون سی رکاوٹ ہے؟

امام شوکانی بحث کرتے ہوئے آخر میں فرماتے ہیں۔ اگر ھٰکذا کا مشار الیہ ابن عباسؓ کے اس اجتہاد کو قرار دیا جائے تو زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ جن شہروں کے درمیان اتنی مسافت ہے، جتنی مسافت شام اور مدینہ کے درمیان ہے کہ ان میں سے ایک شہر کی رؤیت دوسرے شہر کے لیے کافی نہ ہو، مگر جن شہروں کی مسافت اس سے کم ہے، ان پر اس حکم کا اطلاق نہیں ہوگا۔آخر میں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ حضرت ابن عباسؓ نے حضرت معاویہ کی رؤیت پر جو عمل نہیں کیا، اس میں کوئی اور حکمت ہوگی جس کا ہمیں علم نہیں۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ:
رؤیت ہلال کی بحث کے وقت ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے شیخ الاسلام نے فرمایا کہ جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایک بلد کی رؤیت جمیع بلاد کے لیے نہیں ہے، جیسا کہ اکثر اصحاب شافعی کا قول ہے کہ مسافت قصر کی حد تک جو بلاد ہیں، ایک بلد کی رؤیت دوسرے بلاد کے لیے کافی ہے، جو بلاد مسافت قصر کی حد سے باہر ہیں ان کے لیے کافی نہیں۔ ان میں سے بعض نے یہ کہا ہے کہ ایک ملک کی رؤیت دوسرے ملک کے لیے کافی نہیں۔ انہوں نے ان ہر دو نظریوں کو ضعیف قرار دیا ہے، وجہ یہ بیان کی ہے کہ طلوع ہلال کا مسافت قصر سے کوئی تعلق نہیں۔ اور دو ملکوں کا الگ الگ ہونا بھی ایک دوسرے کے لیے رؤیت کے ناکافی ہونے کا باعث نہیں۔

دوسری وجہ :
ان ہر دو نظریہ کے غلط ہونے کی جو دوسری وجہ بیان کی گئی ہے وہ یہ ہےکہ اگر رؤیت ہلال کے لیے مسافت قصر کو یا ملک مختلف ہونے کو حد تصورکرلیا جاوے تو جو شخص مسافت قصر کی حد کے اندر یا ملک کے آخری کنارہ پر ہوگا وہ روزہ رکھنے اور عید کرنے کا پابند ہوگا اور وہ شخص جو مسافت کی حد تک تھوڑی دور پر ہے یا دوسرے ملک کے آخری کنارے پر ، جو اس ملک کے متصل ہے، روزہ رکھنے اور عید کرنے کاپابند نہیں ہوگا۔

شیخ الاسلام فرماتے ہیں: ''ھٰذا لیس من دین المسلمین'' یعنی''یہ صورت حال مسلمانوں کے دین میں شمار نہیں ہوتی۔'' 6

درست بات:
اس بارہ میں درست بات وہ ہے جس کا پتہ یہ حدیث بتاتی ہے:
''صومکم یوم تصومون و فطر کم یوم تفطرون و أضحاکم یوم تضحون''
یعنی ''تمہارا روزہ اسی دن ہے جب تم سب روزہ رکھتے ہو، افطار تمہارا اسی دن ہے جب تم سب افطار کرتے ہو اور قربانی تمہاری اس دن ہے جب تم سب قربانی کرتے ہو۔''

پس جب کوئی شخص شعبان کو تیسویں رات کو رؤیت ہلال کی شہادت کسی جگہ سے دے دے، وہ جگہ قریب ہو یا بعید، سب پر واجب ہوجاتا ہے۔ خلاصہ کلام بیان کرتے ہوئے شیخ الاسلام نے لکھا ہے کہ جس شخص کو رؤیت ہلال کی خبر ایسے وقت میں ملے کہ اس میں روزہ یا عید یا قربانی ادا کی جاتی ہو۔ تو بلا شبہ اس شہادت پر اعتبار کرنا واجب ہے، آثار سلف سے یہ بات ثابت ہے۔

عقل اور شرح کی مخالفت:
جو شخص رؤیت ہلال کے بارہ میں قصر کی مسافت یا ملک مختلف ہونے کی قید لگاتا ہے، اس کا یہ قول عقل کے بھی خلاف ہے اور شرع کے بھی۔

بروایت ابوہریرہؓ، رسول خدا ﷺ نے فرمایا:
''الصوم یوم تصومون والفطر یوم تفطرون والأضحٰی یوم تضحون'' 7
کہ''جس دن تم روزہ رکھتے ہو (اللہ تعالیٰ کے نزدیک) وہی روزہ ہے، جس دن افطار کرتے ہو وہی افطار ہے اور جس دن قربانی کرتے ہوئے وہی قربانی ہے۔''

اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے اور اس کو غریب حسن کہا ہے۔ بعض اہل علم نے اس حدیث کا یہ معنی بیان کیا ہے کہ شہادت کی بناء پر اگر تمام مسلمان یا ان کی اکثریت رؤیت ہلال کا فیصلہ کردے اور متفق ہوجائیں تو باقی لوگوں کو ان کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے ان کے ساتھ ہی روزہ رکھیں اور نمازعید ادا کریں۔

محمد بن الحسن شیبانی نے بھی اس حدیث کا یہی معنی بیان کیا ہے کہ رؤیت ہلال کے بارہ میں منفرد آدمی جماعت کے تابع ہے۔ 8

شیخ الاسلام سے مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک شخص اکیلا چاند دیکھتا ہے ، کیا وہ اپنی رؤیت کی بناء پر روزہ رکھے اور افطار کرے یا لوگوں کے ساتھ روزہ اورعید ادا کرے، انہوں نے فرمایا کہ اس بارہ میں تین قول ہیں:
ایک قول یہ ہے کہ وہ روزہ رکھے اور افطار کرے مگر پوشیدہ کرے، یہ امام شافعی کا مذہب ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ روزہ رکھے اور نماز عید ادا نہ کرے، یہ مذہب امام احمد، مالک اور امام ابوحنیفہ کا ہے۔

تیسرا قول یہ ہے کہ روزہ بھی لوگوں کے ساتھ رکھے اور نماز عید بھی لوگوں کے ساتھ پڑھے۔ شیخ الاسلام نے تیسرے قول کو ''الصوم یوم تصومون'' حدیث کی روشنی میں ترجیح دی ہے کہ روزہ وہی ہے جس دن تم روزہ رکھتے ہو، افطار اور اضحیٰ بھی وہی ہے جس دن تم افطار کرتے اور قربانی کرتے ہو۔ شیخ الاسلام نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے کہ شہادت ملنے پر تمام مسلمانوں کو روزہ اور نماز عید ادا کرنی چاہیے۔ 9

شوافع:
شوافع میں سے بعض ائمہ کا یہ قول ہے کہ جو بلاد ایک دوسرے کے قریب ہیں، ان میں سے ایک اہل بلد کی رؤیت دوسرے بلد کے لیے کفایت کرتی ہے اگر ان میں بُعد ہے، تو اس صورت میں دو قول ہیں:

ایک قول:
یہ ہے کہ ایسے بلاد میں سے ایک اہل بلد کی رؤیت دوسرے بلد کے لیے لازم نہیں۔

دوسراقول :
وہ ہے جو ابوطیب اور ائمہ کی ایک جماعت کا ہے کہ جو بلاد ایک دوسرے سے دور ہیں، ان میں سے ایک اہل بلد کی رؤیت دوسرے بلد کے لیے کافی ہے یہ قول امام شافعی کی طرف منسوب ہے۔

بُعد کی تعریف: بُعد کی تعریف کیاہے، اس میں ائمہ کے کئی قول ہیں۔

بعض نے مطالع کے اختلاف کو بُعد کی بنیاد قرار دیاہے یعنی جن بلاد کے مطالع میں اختلاف ہے وہ ایک دوسرے سے دور ہیں۔ عراقی علما کے نزدیک بُعد کی یہ تعریف ہی قابل اعتماد ہے۔ امام نووی نے بھی روضہ میں اس تعریف کی صحت کا اعتراف کیا ہے۔

بُعد کی تعریف میں دوسرا قول یہ ہے کہ مسافت قصر تک جتنے بلاد ہیں وہ ایک دوسرے کے قریب ہیں اور جو اس حد مسافت سے باہر ہیں ان پر بُعد کا اطلاق ہوتا ہے یعنی وہ ایک دوسرے سے دور شمار ہوں گے۔ یہ قول امام بغوی کا ہے۔ رافعینے صغیر میں اس کو صحیح کہا ہے۔ 10

چاند کا چھوٹا بڑا ہونا لوگوں کے لیے اوقات اور حج کاوقت معلوم کرنے کی علامت ہے۔
رمضان کی ابتداء اور اس کی انتہاء رؤیت ہلال یا شہادت پر مبنی ہے۔
مطالع کا اختلاف ایک بدیہی اور فطری امر ہے۔
ہلال رمضان کے لیے ایک مسلمان کی شہادت اور ہلال شوال (عید) کے لیے کم از کم دو مسلمانوں کی شہادت کی ضرورت ہے۔
رمضان کی خاطر ہلال شعبان کا تحفظ ایک لا بدی امر ہے۔

ریڈیو، ٹیلیفون، تار وغیرہ خبررسانی کے دوسرے ذرائع سے ملنے والی خبر قابل اعتبار ہے جبکہ یہ معلوم ہوکہ خبر دہندہ مسلمان ہے اور تار کے ذریعہ پہنچنے والی خبر حد تواتر کو پہنچ چکی ہے۔

علامہ شوکانی اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا مؤقف رؤیت ہلال کے بارہ میں یہ ہےکہ ایک اہل بلد کی رؤیت دوسرے بلد کے لیےمطلقاً معتبر ہے۔مسافت قصر اور ممالک کے مختلف ہونےکی قید ان کےنزدیک عقلاً و شرعاً جائز نہیں۔

ہمارےنزدیک علامہ شوکانی اور شیخ الاسلام کا نظریہ صحیح معلوم ہوتا ہے، کہ ایک اہل بلد کی رؤیت دوسرے بلدکے لیے معتبر ہے اور ان پر روزہ لازم ہوجاتا ہے، جبکہ ہر دو بلاد کامطلع ایک ہو یا اتنا فرق ہو کہ اگرایک بلد میں چاند طلوع ہوا ہے تو دوسرےبلد میں بھی اس کا طلوع ممکن ہو، اگر ہر دو بلد کے مطالع میں اتنا فرق ہے کہ جب دونوں میں سے ایک بلد میں چاند طلوع ہو اور دوسرے میں طلوع نہ ہو، بلکہ اس فرق سے تاریخ بدل جائے تو ایسے ہردو بلاد میں سے ایک بلد میں دیکھا ہوا چاند دوسرے بلد کے لیے قطعاً کافی نہیں ہوگا۔ روزہ اور عید ادا کرنے میں وہ ایک دوسرے کے پابند نہیں ہوں گے۔ مغنی ابن قدامہ سے بھی ہمارے اس مؤقف کی تائید ہوتی ہے ، انہوں نے لکھا ہے کہ:
''اہل بلد کی رؤیت سے تمام اہل بلاد کے لیےروزہ لازم آتا ہے اور بعض نے یہ قید بھی لگائی ہے کہ بلا دایک دوسرے کے اتنے قریب ہوں کہ ان کے مطالع میں اختلاف واقع نہ ہو، مثلاً بغداد اور بصرہ کے درمیان مطالع میں کوئی بڑا اختلاف نہیں، ان میں سے ایک کی رؤیت دوسرے کے لیےکافی ہے اور جن بلاد میں زیادہ بُعد ہے، جس سے ان کے مطالع میں اختلاف ہوتا ہے، ان میں سے ایک کی رؤیت باقی بلاد کے لیے کافی نہیں۔مثلاً عراق، حجاز، شام ان میں ہرایک بلد کی رؤیت انہی کے لیے ہے، دوسروں کے لیے نہیں ہے۔ عکرمہ کے اس قول ''لکل بلد رؤیتھم'' کا یہی مطلب ہے کہ ایسے بلاد کی رؤیت اپنی اپنی ہے۔'' 11

غلط نظریہ :
آخر میں اس غلط نظریہ کا ازالہ کردینا بھی ضروری ہے:
کہ سعودی عرب، جو اسلامی ممالک کے لیے ایک مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، اس کے ساتھ ہی تمام اسلامی ملکوں میں روزہ اور عید کو ادا کرنا چاہیے۔ یہ نظریہ اسلامی تعلیم کے سراسر خلاف ہے۔ اس لیے کہ روزہ اور عید کا انحصار رؤیت ہلال پر ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے:''صوموا لرؤیته و أفطروا الرؤیته'' کہ''چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو۔'' نیز مطالع کا اختلاف بھی ایسی حقیقت ہےکہ اس کا انکار ناممکن ہے۔ اس لیے یہ نظریہ سرے ہی سے غلط ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ دیگر اسلامی ممالک روزہ رکھیں اور عید اور دیگر مناسک ادا کریں۔

جغرافیائی اور علم ہیئت کا نظریہ
رؤیت ہلال کا جغرافیائی لحاظ سے زمین کی حد بندی سے کوئی تعلق نہیں جس بناء پر یہ فیصلہ کیا جاسکے کہ ایک ملک کی رؤیت دوسرے ملک کے لیے یا ایک بلد کی رؤیت دوسرے بلاد کے لیےمعتبر ہے یا نہیں؟ البتہ یہ حقیقت ہے کہ زمین کا جو حصہ طلوع کےوقت ہلال کے سامنے ہوگا، اس تمام حصہ میں رؤیت ہلال کاتصور ہوگا۔اس علاقہ میں ایک ملک شامل ہو یا زیادہ ایک بلد ہو یا زیادہ بلاد ہوں، ان سب کا مطلع ایک شمار ہوگا۔ممالک کے مختلف ہونے یا مسافت قصر وغیرہ کی حد بندی کرنا شریعت اور عقل رُو سے درست نہیں۔علم ہيئت اور جغرافیہ دان اصحاب نے اپنے تجربہ کی بنا پرکہا ہے کہ غروب آفتاب کے وقت چاند اگر کسی بلد میں آٹھ درجے بلند ہے تو غروب آفتاب کے بعد بتیس منٹ تک رہےگا۔تو ایسا چاند مشرقی علاقہ میں پانسو ساٹھ میل تک ضرور موجود ہوگا۔ یہ بھی ان کاقول ہے کہ جس بلدمیں چاند آٹھ درجے پرہے، اس بلد سے جو بلد ستر میل مشرق میں ہے، وہ سات درجے پر ہوگا، اور جوبلد اس بلدسے مغرب میں ہے، وہاں چاند نو درجے پر ہوگا۔ جب ایک بلد میں چاند نظر آجائے تو اس کے قریب جتنے بلاد ہیں، ان میں چاند طلوع ہوچکا ہے۔ یہ بات علم ہیئت کی مسلمات میں سے ہے اور اس بلد کے مشرق کی جانب پانسو ساٹھ میل تک طلوع ہلال کا اعتبار ہوگا؟ لیکن مغربی بلاد میں رؤیت کا مطلق اعتبار ہوگا۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ مشرق میں چاند نظر آجائے تو مغرب میں اس کا طلاع ضروری ہے، لیکن مغرب میں دیکھنے سے مشرق میں دیکھا جانا ضروری نہیں۔

چھ ماہ یا کم و بیش دن :
بعض ایسے علاقے ہیں وہاں چھ ماہ کا دن اور چھ ماہ کی رات ہوتی ہے۔بلکہ بعض ایسے علاقے بھی ہیں، جہاں غروب آفتاب کے تھوڑی دیر بعد فجر طلوع ہوجاتی ہے۔ ایسی صورت میں جو ان علاقوں کے ہمسایہ ملک یا علاقے ہیں، ان کے اوقات کے مطابق اندازہ کرکے نماز پڑھی جائے اور روزے رکھے جائیں۔چنانچہ ترمذی میں تو اس بن سمعان سے روایت ہے کہ دجال زمین میں چالیس دن قیام کرے گا ایک دن سال بقدر، دوسرادن مہینہ بقدر، تیسرا دن جمعہ بقدر ہوگا، باقی دن عام دنوں کے برابر ہوں گے۔صحابہؓ نے دریافت کیا کہ ''اے اللہ کے رسولﷺ، جب دن سال بقدر ہوگا، تو اس میں صرف ایک دن کی نمازیں کفایت کریں گی؟'' آپؐ نے فرمایا ''نہیں اندازہ کرکے سال بھر کی نمازیں پڑھی جائیں'' رؤیت ہلال کےبارہ میں اور مسائل بھی ہیں، اس مقالہ میں بخوف طوالت صرف نظر کیے گئے ہیں۔

واٰخرد عوانا أن الحمد للہ رب العٰلمین!

حوالہ جات
1. ترمذی
2. فتاویٰ ابن تیمیہ ج25 ص142
3. ذکر صورة الارض ، ص67
4. منتقیٰ ج4 ص194
5. تحفة الاحوذی، ج2 ص35
6. فتاویٰ ابن تیمیہ  ج25 ص105
7. ترمذی
8. تحفة الاحوذی
9. فتاویٰ ابن تیمیہ ج25 ص114
10. تحفة الاحوذی ج2 ص136
11. مغنی ابن قدامہ ج3 ص88