تذکرہ مصنفین درسِ نظامی : مرتب جناب اختر راہی ایم اے لیکچرار گورنمنٹ کالج، مری

صفحات : 272

قیمت معہ خرچہ ڈاک : 2.90 روپے

پتہ : مسلم اکادمی 18/29 محمد نگر، لاہور

آج سے سولہ سترہ سال پیشتر، جامعہ چشتیہ ٹرسٹ لائل پور کے تحت ''مدارس عربیہ اسلامیہ مغربی پاکستان'' کی تاریخ مدون کی گئی تھی۔ ''مدارس عربیہ اسلامیہ مغربی پاکستان'' میں درس نظامی کے سلسلے کی دوسری اکثر تفصیلات دی گئی تھیں مگر درس نظامی کے مؤلفین کا تذکرہ پیش نہیں کیا جا سکا تھا۔ اور یہ کمی خاصی تھی، اللہ تعالیٰ جنابِ اختر راہی کو اجر جزیل عنایت فرمائے جنہوں نے مندرجہ بالا تذکرہ لکھ کر اس کمی کو پورا کر دیا ہے اور پھر اس کا حق ادا کر دیا ہے۔

فاضل مرتب ایک اہل علم اور باذوق نوجوان ہیں، جن کو ''سیرِ رجال'' سے بالخصوص طبعی مناسبت ہے، قلم میں اختصار کے ساتھ ساتھ بڑی جامعیت اور گہرائی ہوتی ہے اور جو لکھتے ہیں اس کے لئے خصوصی محنت اور مناسب اہتمام فرماتے ہیں، اس کا اندازہ اس لئے آسانی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے کہ فاضل مرتب نے زیرِ تبصرہ کتاب کی تدوین میں (۸۲) کتب خانوں کتب، مخطوطوں اور سات (۷) جرائد (کل ۸۹) ذرائع سے مدد لی ہے۔ اس مختصر سی کتاب میں مؤلف موصوف نے ۶۹ سے زیادہ مؤلّفین اور سینکڑوں تالیفات کا تعارف پیش کیا ہے۔ اس کے بعض مقامات تو انتہائی وجد آفرین اور بصیرت افروز ہیں۔

جو درس نظامی ملا نظام الدین سہالوی (ف ۱۱۶۱ھ/۱۷۴۸ء) رحمۃ اللہ علیہ نے ترتیب دیا تھا، زیر تبصرہ تذکرہ میں اس سے کہیں زیادہ مؤلفین اور مؤلفات کا ذکر آگیا ہے۔ بلکہ یوں تصور کیجئے کہ زمانۂ حال تک کم و بیش جو بھی کتاب داخلِ درس رہی ہے، ان سب کا ذکرِ خیر آگیا ہے۔ گو ابھی اس میں مزید گنجائش ہے، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ داخلِ درس جن بعض کتب اور مؤلفین کا تذکرہ رہ گیا ہے، ان کی حیثیت زیادہ تر مقامی رہی ہے، نظامی کی نہیں رہی تھی الاشاذ۔ مثلاً ملتان کے اضلاع میں صرف میں قانونچہ شاہ جمالی، صرف بھترالولی، نحو میں شرح مائۃ عامل گھوٹوی متنِ متین، عبد الرسول، مغنی ابنِ ہشام، عبد الغفور، تکملہ، تفسیر میں جامع البیان نحو میں الفیہ ابنِ مالک ہر جگہ داخلِ درس ہے، جس کا غالباً تذکرہ رہ گیا ہے، منطق میں غلام یحیٰ، بدیع المیزان فلسفہ میں اشارات، حدیث میں بلوغ المرام، مؤطا محمد، مؤطا مالک، منتقی لابن تیمیہ، اصول فقہ میں ارشاد الفحول للشوکانی اصولِ حدیث میں الضیہ عراقی وغیرہ پڑھائے جاتے رہے ہیں اور کچھ ابھی پڑھائے بھی جا رہے ہیں۔ اسی طرح عقائد میں واسطیہ، حمویۃ لابنِ تیمیہؒ اور کتاب التوحید لمحمد بن عبد الوہابؒ بھی داخلِ نصاب رہیں یا ہیں۔

بہرحال اس موضوع پر یہ تذکرہ بالکل نقش اول ہے اور ایک رہنما کی حیثیت رکھتا ہے، وہ طلبہ اور اساتذہ جو مدارسِ عربیہ اسلامیہ سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے لئے یہ ایک قیمتی سرمایہ اور بصیرت افروز آئینہ ہے جس کے لئے ہم مؤلّف کی خدمت میں ہدیۂ تبریک پیش کرتے ہیں۔

(۲)

جامِ طہور : جناب مولانا عبد الرحمٰن عاجز مالیر کوٹلوی

صفحات : تقریباً 448

قیمت : 24 روپے

پتہ : رحمانیہ دار الکتب، امین پور بازار، لائل پور

یہ کتاب دو حصوں میں منقسم ہے ایک حصہ نثر میں ہے دوسرا نظم میں۔

نثر:

اس میں موصوف کے خود نوشت سوانح، مقامات مقدسہ کا تذکار، عقائد، عبادات (ارکانِ اسلام) کچھ حقوق و اخلاقیات اور تقریظیں ترغیب و ترہیب پر مشتمل آیات و احادیث ہیں۔

نظم:

اسلامیات کے بعض اہم حصوں کو منظوم کیا گیا ہے۔ نعتیں ہیں، عشق و مستی اور حق پرستی کے زمزمے ہیں۔

مؤلّف موصوف کو ایک دو دفعہ دیکھنے کا موقعہ ملا ہے۔ ان کی ذات میں ہم نے عموماً ایک دارفتگی جیسی کیفیت محسوس کی ہے جو ''جامِ طہور'' میں بھی پوری پوری نمایاں ہے۔ اِس میں سوز و گداز ہے۔ تڑپیں ہیں، تبلیغ ہے، دعوت ہے، فکر آخرت ہے، احساس ذمہ داری ہے۔ غرض اِسے پڑھ کر ایمان تازہ ہو جاتا ہے، دِل میں احساس بیدار ہوتا ہے۔ خدا یاد آتا ہے اور سنتِ رسول کا عشق کروٹیں لینے لگ جاتا ہے۔ یہ کتاب ہر گھر میں رکھنے، بچوں کو اِس کی طرف توجہ دلانے اور خود پڑھنے اور مطالعہ کے قابل ہے۔ اللہ تعالیٰ مؤلف موصوف کو اجر جزیل عطا فرمائے۔ آمین۔ (عزیز زبیدی)

(۳)

قرآن مجید : انگریزی ترجمہ مع تشریحی حواشی (پارہ اول)

مترجم : پروفیسر عبد الحمید صدیقی

ناشر : اسلامک بک سنٹر۔ پوسٹ بکس نمبر ۱۶۲۵، لاہور

صفحات : 102

طباعت : عمدہ

قیمت : ساڑھے بارہ روپے صرف

آج پوری دنیا دو مخالف گروہوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ایک گروہ مادیت پرستی کی تاریکیوں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہے اور دوسرا گروہ اسلامی تصورِ حیات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کوشاں ہے۔ مادیت پرستوں نے اپنے خود تراشیدہ نظاموں، سرمایہ داری اور اشتراکیت کو آزما کر دیکھ لیا ہے کہ ان نظاموں سے انہیں روٹی تو مل رہی ہے مگر روحانی تسکین اور عدلِ اجتماعی کا نصب العین حاصل نہیں ہو سکا۔ آج اشتراکیت اور سرمایہ داری کی ہلاکتوں سے تنگ آئے ہوئے انسان ایک ایسے نظام کے لئے چشمِ براہ ہیں جو ان کی مادی اور روحانی پیاس بجھا سکے اور یہ نظام صرف اور صرف پیغامِ الٰہی (اسلام) ہو سکتا ہے۔ امتِ مسلمہ پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ مادیت کی چکی میں پسے ہوئے انسانوں کو اس پیغام سے روشناس کرائے۔ اس مقصد کے لئے قرآن مجید کے بیسوں تراجم دنیا کی مختلف زبانوں میں کئے گئے ہیں اور سلسلہ جاری ہے۔

انگریزی زبان میں ۱۷۳۴؁ء میں پہلی بار جارج سیل نے براہِ راست عربی سے قرآن کا ترجمہ کیا مگر قرآن مجید کے انقلابی اثرات کم کرنے کی خاطر گمراہ کن حواشی تحریر کئے۔ یکے بعد دیگرے کئی ایک تراجمِ قرآن منظرِ عام پر آئے۔ انگریزی تراجمِ قرآن میں برصغیر کے مسلمانوں نے اہم رول ادا کیا ہے۔ علامہ عبد اللہ یوسف علی، عبد الماجد دریا بادی اور بعض دوسرے حضرات کے نام خاصے نمایاں ہیں۔

نو مسلم مار میدیوک پکھتال نے بھی ترجمہ قرآن مجید نظام حیدر آباد کی سرپرستی میں کیا تھا مگر زیادہ تر تراجم ان انگریزی دان حضرات کی طرف سے ہوئے جو تجدد کی تحریک سے متاثر تھے اور بزعم خویش مغرب پر اسلام کی برتری ثابت کرنے کے لئے معجزات کا انکار کر رہے تھے۔ جہاد کے تصور پر معذرت آمیز رویہ اختیار کئے ہوئے تھے اور سنتِ رسول کی روشنی میں تشریحات لکھنے کے بجائے علم کلام کی بحثوں میں الجھے ہوئے تھے۔ گزشتہ پچاس سالوں میں یہ خامی کھل کر سامنے آگئی ہے اور اب اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ قرآن مجید کو سنتِ رسول کی روشنی میں پیش کیا جائے۔ پروفیسر عبد الحمید صدیقی صاحب اس امر کا احساس رکھتے ہیں اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پہلا پارہ اہل علم اور تبلیغ کا جذبہ رکھنے والوں کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ ان کے ترجمہ پر ایک نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے تشریحی حواشی میں حدیث کو بنیادی اہمیت دی ہے اور اگر کسی معاملے میں انہیں حدیثِ رسول نہیں مل سکی تو ان مفسرین کرام پر اعتماد کیا ہے جنہوں نے اسلامی علوم کی تحصیل اور تفہیم میں عمریں صرف کی ہیں۔

ترجمۂ قرآن میں انہوں نے کس قدر محنت کی ہے اس کا ایک ہلکا اندازہ فہرستِ ماخذ اور حواشی میں دیئے گئے حوالوں کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ ان کے پیش نظر سترہ عربی تفاسیر، ۱۲ اُردو اور فارسی ترام و تفاسیر، دس انگریزی تراجم اور ۹ اہم کتبِ حدیث رہی ہیں۔

پروفیسر عبد الحمید صدیقی صاحب علمی اور دینی حلقوں میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں انہوں نے ''صحیح مسلم'' کا انگریزی ترجمہ کیا جو اہلِ علم سے خراجِ تحسین حاصل کر چکا ہے اُمید ہے ان کی موجودہ کوشش بھی مقبولیت حاصل کرے گی۔

ناشر نے حسنِ ذوق کا ثبوت دیتے ہوئے اعلیٰ معیارِ طباعت پیش کی اہے۔ چار رنگوں میں خوبصورت ٹائٹل پیج جاذبِ نظر ہے۔ ترجمہ قرآن کو عام کرنے کے لئے ناشر نے ایک سیم پیش کی ہے کہ جو حضرات بیس روپے پیشگی بھیج کر ''رکنیت خریداری'' قبول کریں گے انہیں ہر پارہ دس روپے میں رجسٹرڈ ڈاک سے بھیجا جائے گا۔ اس طرح مکمل ترجمۂ قرآن کی خریداری پر ۷۵ روپے کی بچت ہو گی۔

(۴)

نام کتاب : معرکۂ اسلام اور جاہلیت

مؤلف : صدر الدین اصلاحی

قیمت : 4 روپے

صفحات : 124

ملنے کا پتہ : اسلامی اکیڈمی، ناشرانِ کتب اردو بازار لاہور

کارگاہ حیات میں حق اور باطل کی جنگ ہمیشہ سے چلی آرہی ہے۔ دنیا کی رونق اسی وجہ سے ہے اور زندگی کی ساری تگ دو اِسی کشمکش کا نتیجہ ہے اسی لئے دنیا کو ایک آزمائش گاہ قرار دیا گیا ہے۔

تاریخ اور صحائف سماوی کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ باطل کا مزاج ہمیشہ یکساں رہا ہے اور حق کی فطرت بھی ہمیشہ غیر متبدل رہی ہے۔ اس لئے جب دونوں طاقتوں میں تصادم ہوا تو تصادم کی نوعیت بھی سدا ایک جیسی رہی۔ یہ ٹکراؤ اور تصادم آج بھی جاری ہے۔ اس سلسلے میں فاضل مولّف نے نبی اکرم ﷺ کی مندرجہ ذیل حدیث پیش کی ہے۔

بَدَءَ الْاِسْلَامُ غَرِیْبًا وَسَیَعُوْدُ کَمَا بَدَءَ فَطُوْبٰی لِلْغُرَبَاء

تشریح میں لکھتے ہیں۔ ''اسلام جب آیا تو وہ اپنی خالص عقلیت، اپنے بے آمیز فطرت، اپنے تصورات کی رفعت اور اپنے اصولوں کی پاکیزگی کے اعتبار سے اس دنیا کے لئے بالکل نرالا، بالکل اجنبی اور بے گانہ تھا جو نسل پرستوں اور رسمیات کے بندوں سے بھری ہوئی تھی۔ پھر ایک ایسا دور آنے والا ہے جب دنیا اسی طرح جاہلیت میں مبتلا ہو گی اور اسلام اس میں ویسا ہی اجنبی اور بے گانہ ہو جائے گا۔ اس کا نظامِ تہذیبِ، اس کے قوانینِ معاشرت، اس کے اصولِ سیاست، سب کے سب دنیا کے لئے نا مانوس اور ناقابلِ گرفت ہو جائیں گے۔ لوگوں کے تنگ دماغ میں اس وسیع اور بلند نظامِ زندگی کا تخیل سما ہی نہیں سکے گا جسے اسلام پیش کرتا ہے۔ (ص ۲۵۔۲۶)

مؤلّف نے موجودہ حالات کے تجزیہ سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اسلام اور جاہلیتِ جدیدہ میں یہ کشمکش آج بھی جاری ہے۔

اندازِ بیان دلنشین اور عمدہ ہے۔ ناشرین نے اس کتاب کا نیا ایڈیشن شائع کر کے اہم خدمت انجام دی ہے۔ گاہے گاہے کتابت کی غلطیاں ملتی ہیں۔ا مید ہے آئندہ اس طرف توجہ دی جائے گی۔