اندرونِ ملک۔ فَاعْتَبِرُوْا یَا اُوْلِی الْاَبْصَار


استفتاء:

بدین، سندھ سے ایک صاحب لکھتے ہیں کہ:

1. بکرا ذبح کر کے یا کھانا پکا کر کھلانا اور مردوں کو اس کا ثواب بخشنا یا پیر جیلانی کی ارواح دینا جائز ہے یا نہیں؟

2. بغیر تعیین دن و ماہ ایک شخص خیرات کرتا رہتا ہے۔ ربیع الاول میں ''میلاد'' کا نام لیے بغیر اگر ایک شخص اس ماہ میں بھی حسبِ معمول خیرات کر کے اس کا ثواب حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی روح کو بخشتا ہے تو کیا جائز ہے؟

3. پیر جیلانی کا عرس کرنا جائز ہے یا نہیں یا عرس کا نام نہیں رکھتا لیکن خیرات کر کے اس کا ثواب ان کی روح کو بخشا ہے تو کیا جائز ہے یا نہیں؟

4. مزاروں پر جو عرس ہوتے ہیں ان میں شرکت جائز ہے یا نہیں؟

الجواب واللہ أعلم بالصواب

1. ایصال ثواب اور دو کام: اس سلسلے میں دو باتوں پر تو سب کا اتفاق ہے کہ مردہ کو نفع دیتی ہے۔

مردے کا ایک وہ نیک کام جس کا اس کے مرنے کے بعد بھی سلسلہ جاری رہے۔

دوسری دعا اور استفار۔

قال ابن القیم: أنھا تنتفع من سعي الأحیاء بأمرین مجمع علیھما بین أھل السنة من الفقھاء وأھل الحدیث والتفسیر: أحدھما ما تسبب إلیه المیت في حیاته والثاني دعاء المسلمین له واستغفارھم (کتاب الروح)

علماء کے نزدیک یہ دونوں مردوں کے لئے نافع تو ضرور ہیں لیکن یہ خدا کے حضور ان کے لئے بخشش اور مغفرت کی درخواستیں ہیں، ایصال ثواب اور اھداء نہیں ہیں۔ حضرت امام نواب سید محمد صدیق حسن خاں رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں۔

ولا یخفی أن الدعاء لیس من باب إھداء ثواب القربةبل سوال و التماس من اللہ أن یعطي المسئول له ما طلبه السائل شفاعة منه وتوسل إلی اللہ بدعائه أن یھب للمسئول له ما طلبه ولیس ھنا ثواب عمل یھبه له ویھدیه إلیه وثواب ھذا العاء والاستغفار والسؤال والشفاعة باق للسائل فھذا لیس من أدلة إھداء الثواب (ثمار التنکیت فی شرح أبیات التثبیت للنواب ص ۱۰۳)

تیسری چیز جو متفق علیہ ہے وہ نیک اولاد ہے جو والدین کو اپنی نیک دعاؤں میں یاد کرتے ہیں: حدیث میں ہے:

إذا مات ابن اٰدم انقطع عمله إلا من ثلث، صدقة جاریة أو علم ینتفع به أو ولد صالح یدعوله (بخاری و مسلم عن ابی ھریرۃ)

ہمارے نزدیک یہ بھی ''ایصالِ ثواب'' کی قسم کی چیز نہیں ہے، بلکہ یہ بھی ایک ذریعۂ سفارش ہے جیسا کہ الفاظِ حدیث سے ثابت ہوتا ہے یعنی دعا میں داخل ہے یا عمل جاری میں کیونکہ الولد من سعیہ ہے۔

دعا، استغفار اور جاری کردہ سلسلہ جاری کے علاوہ دوسرے جتنے نیک کام ہیں ان کے بارے میں متعدد اختلافات ہیں۔ مثلاً

ایک طبقہ تو سرے سے ایصال ثواب کا قائل ہی نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ:

یہ اس آیت کے خلاف ہے:ليس للإنسان إلا ما سعى انسان کے لئے وہی کچھ ہے جو اس کی سعی و کوشش کا نتیجہ ہے۔

1. آیت لا تجزون إلا ما كنتم تعملون اور آیت لها ما كسبت وعليها ما اكتسبت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ وہی ملے گا جو کرو گے۔

2. دوسری دلیل یہ ہے کہ: ایصالِ ثواب کا تصور اس حدیث کی منشاء کے خلاف ہے جس میں ہے کہ صدقہ جاریہ، علم جاری اور ولد دعاگو کے سوا اور کوئی سلسلۂ عمل باقی نہیں رہتا (بخاری و مسلم)

3. کہتے ہیں کہ: یہ حوالہ (قرضہ کسی دوسرے کے حوالے کرنا کہ وہ دے گا) ہے، اور خدا اس سے پاک ہے کہ وہ کسی کا مقروض بنے، وہ تو جو بھی دیتا ہے، اپنے فضل سے دیتا ہے۔

والإھداء حوالة والحوالة إنما تکون بحق لازم والأعمال لا توجب الثواب وإنما به مجرد تفضل اللہ وإحسانه(کتاب الروح ص ۱۹۶)

4. اسباب ثواب کا ایثار مکروہ ہے یعنی اسباب قرب مثلاً صف اول کا ایثار کرنا کہ اس کی جگہ فلاں کھڑا ہو مثلاً باپ۔

فالإیثار بأسباب الثواب مکروہ وھو الإیثار ابالقرب فکیف الإیثار بنفس الثواب الذي ھو غایة الخ (کتاب الروح ص ۱۹۶-۱۹۷)

5. اگر یہ مردہ کے لئے جائز ہے تو زندوں کے لئے بھی یہ ہدیہ جائز ہونا چاہئے، اسی طرح کچھ ثواب اس کو اور کچھ فلاں کو مثلاً

لو ساغ الإھداء إلی المیت لساغ نقل الثواب والإھداء إلی الحي(ایضا ص ۱۹۷) لوساغ ذلك ساغ لھذا النصف الثواب وربعه وقیراط منه(ایضا)

6. تکلیفِ عمل امتحان ہے اور اس سے مطلوب یہ ہے کہ وہ پرچہ خود کرے، دوسرے کا کیا ہوا دوسرے کے کھاتے میں نہیں جاتا۔

إن التکالیف امتحان وابتلاء لا تقبل البدل فإن المقصود منھا عین المکلف العامل المأمور المنھي فلا یبدل المکلف المستحسن بغیرہ ولا ینوب غیرہ عنه في ذلك (ایضا)

7. یہی حال بیمار، ننگے، بھوکے اور پیاسے کا ہے کہ اپنے ہی کھائے پئے اور پہنے کچھ بنتا ہے۔ دوسرے کے کچھ کام نہیں آتا۔

فإن المریض لا ینوب عنه غیرہ في شرب الدواء والجائع والظمان والعاري لا ینوب عنه غیرہ في الأکل والشرب واللباس (۱۹۷-۱۹۸)

8. اگر یہ بات مفید اورجائز ہوتی تو زندہ کی تو بہ بھی مردے کی توبہ ہو سکتی۔

لو نفعه عمل غیرہ لنفعه توبته عنه (ایضا ۱۹۸)

9. اسی طرح اسلام قبول کرنا، بھی مردے کے لئے قبول ہوتا (ص ۱۹۸)

امام ابن القیم نے ان سب کا جواب دیا ہے ملاحظہ ہو کتاب الروح۔

اور جو لوگ ایصالِ ثواب کے قائل ہیں: ان میں اس کی نوعیت میں اختلاف ہے مثلاً۔

عبادت بدنی کا ثواب دیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ حنفی کہتے ہیں۔ ان میں نیابت تو جائز نہیں ثواب دیا جا سکتا ہے۔

العبادات أنواع مالیة محضة کالزکوٰة وبدنیة محضةکالصلوٰة ومرکبة منھما کالحج والنیابة تجري في النوع الأول في حالتی الاختیار والضرورة لحصول المقصودة بفعل النائب ولا تجري في النوع الثاني بحال أن المقصود وھو أتاب النفس لا یحصل به وتجري في النوع الثالث عند العجز (ھدایہ کتاب الحج ص ۲۹۶،۱)

واختلفوا في العبادة البدنية کالصوم والصلوٰة وقراءة القراٰن الذکر فمذھب الإمام أحمد وجمهور السلف وصولھا وهو قول لبعض أصحاب أبي حنیفة (کتاب الروح ص ۱۸۸)

پھر اس میں اختلاف ہے کہ نفلی عبادات یا فرضی کا ثواب بھی؟ اگر فرضی کا ہے تو کیا فرض اس کا ساقط بھی ہو سکتا ہے یا نہیں۔ پھر یہ صرف مردوں کے لئے ہے یا زندہ کے لئے بھی؟

ثم قيل یجوز الإثابة في الفریضة أیضا أي يصل الثواب ولا تسقط الفریضة عن ذمة من أصابه الثواب وقيل من المثابة منحصرة في النافلة ثم قيل إن الإثابة أن تکون للمیت فقط وقیل للمیت والحي کليهما (العرف الشذی ص ۲۷۹)

یہی حال روزے کا ہے۔

فيقال في حديث الباب إنه صوم الإثابة لا النيابة ص ۲۷۹ / ایضا

لیکن امام احمد اور امام اسحاق فرماتے ہیں، نذری روزہ ہو ٹھیک ہے ورنہ روزہ کی بجائے فدیہ کے طور پر کھانا کھلایا جائے۔

قالا إذا كان علی المیت نذر صیام یصام عنه وإذا کان عليه قضاء رمضان أطعم عنه (ترمذی مع تحفۃ الاحوذی ص ۳/۲)

امام مالک، امام سفیان ثوری اور امام شافعی فرماتے ہیں روزہ میں نیابت جائز ہی نہیں ہے۔

وقال مالك وسفیان والشافعي لا يصوم أحد عن أحد (ایضا)

امام شافعی کا دعویٰ ہے کہ:

ایصال ثواب صرف دعا اور صدقہ کا ہے اور نہیں۔

كان یقول الشافعي لا یصح الإثابة إلا إثابة الدعاء  والصدقة ولا یمکن إیصال ثواب تلاوة القراٰن (العرف الذی ص ۲۸۰)

ایک اور اختلاف یہ ہے کہ حج اور صدقہ کا ثواب ان کے خرچ کا ثواب ہے یا ان کے عمل کرنے کا؟

والصدقة والحج علی نزاع ما الذي یصل من ثوابه ھل ھو ثواب الإنفاق أو ثواب العمل: فعند الجمهور یصل ثواب العمل نفسه وعند بعض الحنفیة إنما یصل ثواب الإنفاق (کتاب الروح ص ۱۸۸)

ایک یہ اختلاف ہے کہ:

اس کے لئے لفظوں میں نیت کرنا ضروری ہے یا صرف دل کی نیت کافی ہے۔

فهل تشترطون في وصول الثواب أن يهدیه بلفظه أم یکفي في وصوله مجرد نیة العامل أن يهديها إلی الغیر (کتاب الروح لابن القیمؒ ص ۲۲۵)

الغرض ایصالِ ثواب کے سلسلے میں بہت زیادہ اختلاف ہے، امام ابن القیم تمام نیک اعمال کے ایصال ثواب کے قائل ہیں (کتاب الروح) علامہ مبارک پوری کا کہنا ہے کہ جو مرفوع حدیثیں اس بات میں نقل کی جاتی ہیں۔ وہ سب ضعیف ہیں (کتاب الجنائز ص ۱۰۳)

علامہ ابنِ تیمیہؒ نے اس کے لئے ''میت کے انتتفاع'' کی اصطلاح استعمال ی ہے۔ ایصالِ ثواب کی نہیں، وہ فرماتے ہیں کہ دوسرے کے عمل سے مردے کو فائدہ پہنچتا ہے: قال شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ:

"من اعتقد أن الإنسان لا ينتفع إلا بعمله فقد خرق الإجماع، وذلك باطل من وجوه كثيرة:
- أحدها: أن الإنسان ينتفع بدعاء غيره، وهو انتفاع بعمل الغير.
- ثانيها: أن النبي صلى الله عليه وسلم يشفع لأهل الموقف في الحساب؛ ثم لأهل الجنةفي دخولها.
- ثالثها: أنه صلى الله عليه وسلم يشفع لأهل الكبائر في الخروج من النار ، وهذا انتفاع بسعي الغير.
- رابعها: أن الملائكةيستغفرون ويدعون لمن في الأرض، وذلك منفعة بعمل الغير.
- خامسها: أن الله تعالى يخرج من النار من لم يعمل خيراً قط -أي من المؤمنين- بمحض رحمته، وهذا انتفاع بغير عملهم.
- سادسها: أن أولاد المؤمنين يدخلون الجنة بعمل آبائهم، وذلك انتفاع بمحض عمل الغير.
- سابعها: قال الله تعالى في قصة الغلامين اليتيمين: {وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحاً} فانتفعا بصلاح أبيهما، وليس من سعيهما.
- ثامنها: أن الميت ينتفع بالصدقة عنه، وبالعتق، بنص السنة والإجماع، وهو من عمل الغير.
- تاسعها: أنالحج المفروض يسقط عن الميت، بحج وليه بنص السنة، وهو انتفاع بعمل الغير.
- حادي عشر: المدين قد امتنع صلى الله عليه وسلم من الصلاة عليه حتى قضى دينه أبو قتادة، وقضى دين الآخر على بن أبى طالب، وانتفع بصلاة النبي صلى الله عليه وسلم وهو من عمل الغير.
- ثاني عشر: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لمن صلى وحده: "ألا رجل يتصدق على هذا فيصلى معه"، فقد حصل له فضل الجماعة بفعل الغير.
- ثالث عشر: أن الإنسان تبرأ ذمته من ديون الغير، إذا قضاها عنه قاض، وذلك انتفاع بعمل الغير.
- رابع عشر: أن من عليه تبعات ومظالم، إذا حلل منها سقطت عنه، وهذا انتفاع بعمل الغير.
- خامس عشر: أن الجار الصالح ينفع في المحيا وفى الممات -كما جاء في الأثر- وهذا انتفاع بعمل الغير.
- سادس عشر: أن جليس أهل الذكريُرحم بهم، وهو لم يكن معهم، ولم يجلس لذلك بل لحاجة عرضت له، والأعمال بالنيات، فقد انتفع بعمل غيره.
- سابع عشر: الصلاة على الميت، والدعاء له في الصلاة، انتفاع للميت بصلاة الحي عليه وهو عمل غيره.
- ثامن عشر: أنالجمعةتحصل باجتماع العدد، وكذا الجماعة بكثرة العدد وهو انتفاع للبعض بالبعض.
- تاسع عشر: أن الله تعالى قال لنبيه: {وَمَا كَانَ الله لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ}، وقال تعالى: {وَلَوْلاَ رِجَالٌ مُّؤْمِنُونَ وَنِسَآءٌ مُّؤْمِنَاتٌ..}، فقد رفع الله تعالى العذاب عن بعض الناس بسبب بعض، وذلك انتفاع بعمل الغير.
- تمام العشرين: أن صدقة الفطر تجب على الصغير وغيره ممن يمونه الرجل، فإنه ينتفع بذلك من يُخرِج عنه، ولا سعى له فيها".

(جمل علی الجلالین ص ۲۳۶/۴)

ہمارے نزدیک حضرت امام ابن تیمیہؒ کی یہ اصطلاح یعنی ''انتفاع میت'' ایصال ثواب کی بہ نسبت احوط ہے۔ کیونکہ متداول اصطلاح ''ایصال ثواب'' ایک تو بدنام ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ ایک رسومات بدعیہ کا نام بن گئی ہے۔

اس کے علاوہ جن احادیث سے ''ایصالِ ثواب'' اخذ کیا گیا ہے، معروف معنوں میں 'ایصالِ ثواب' ان سے اخذ نہیں ہوتا، بلکہ انتفاع اخذ ہوتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ اسے ''وصول فائدہ'' یا وصول نفع کہہ سکتے ہیں۔ دیکھیے! دعا استغفار، اور صدقہ جاریہ وغیرہ کی صورتیں ہیں کہ ان سے ''ایصالِ ثواب'' نہیں، صرف سفارش ثابت ہوتی ہے کیونکہ ان سے میت کو نفع تو ہوتا ہے مگر یہ ایصالِ ثواب والی بات نہیں ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ:

بعض احادیث سے نیابت ثابت ہوتی ہے کہ میت کی طرف سے ادا کیا جائے۔ یعنی اس کا نائب اور قائم مقام ہو کر تو ادا ہو جاتا ہے، جیسے قرضہ:

مثلاً روزے یا حج کی حدیثیں ہیں کہ حکم ہوا کہ میت کی طرف سے آپ ادا کریں۔

صُوْمِیْ عَںْ اُمِّك (بخاری)

حُجِّي عَنْھَا

فَھَلْ یَنْفَعُھَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا (بخاری)

فَلَوْ اَقَرَّ بِالتَّوْحِیْدِ فَصُمْتَ وَتَصَدَّقْتَ عَنْهُ نَفْعَه ذٰلِك (احمد)

ان باتوں کو معروف ایصال ثواب پر محمول کرنا محاورات عرب کا خون کرنا ہے۔

مندرجہ بالا تمام صورتوں میں ''نیابت'' تو ہے ''اثابت'' (ایصالِ ثواب) نہیں ہے، لیکن افسوس بعض فقہاء اور علماء ان سے برعکس اخذ کرتے ہیں، یعنی اثابت تو مانتے ہیں نیابت نہیں مانتے۔ کما مر

ہاں ایصال ثواب کی قسم کی کچھ باتیں بعض رہنماؤں سے ضرور منقول ہیں لیکن قرآن و حدیث میں ان کا کوئی ثبوت اور سراغ نہیں ملتا۔ ؎

دَعْ عَنْکَ آرَاء الرِّجَالِ وَقَوْلھم

قَوْلُ رَسُوْلِ اللهِ أَزْکٰی وَأطْھَر

ایصال ثواب کے نظریہ اور خصوصی تعامل نے کچھ اس قسم کا گھپلا کر دیا ہے کہ اب اس اصطلاح سے وحشت ہونے لگی ہے۔ ویسے بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ: کسی کارِ خیر سے کسی میت و نفع پہنچنا اور بات ہے اور ''ایصالِ ثواب'' کی خصوصی بلیٹوں کا تصور بالکل دوسری چیز ہے۔

جن ائمہ نے معتزلیوں کی تردید کی ہے، وہ دراصل معتزلیوں کے اس نظریہ کی بناء پر ہے کہ زندوں کی طرف سے مردوں کو کوئی بھی فائدہ نہیں ہوتا۔ اور بس۔ ظاہر ہے اس باطل نظریہ کی تردید ضروری تھی۔

مثلاً دیکھیے! آپ میت کے لئے مغفرت کی دعا کرتے ہیں یا استغفار کرتے ہیں، اس کو ''ایصالِ ثواب'' پر محمول کرنے کی کیا تُک ہے؟

یا یہ کہ کسی نے علم کو عام کیا، صدقہ جاریہ چھوڑا، قرآن حکیم لے کے لوگوں میں عام کیا، مسجد بنائی، سرائے تعمیر کی، نہر یا کنواں لگوایا، اب ظاہر ہے کہ وفات کے بعد ان کا ثواب خود بخود ان کو ملتا رہتا ہے۔ اس کو اس ایصالِ ثواب سے کیا تعلق جو رائج اور متداول ہے۔

مثلاً صدقہ و خیرات کی بات ہے: صحابی پوچھتا ہے کہ میری والدہ اچانک فوت ہو گئی ہے ، اگر وہ بول سکتی تو ضرور خیرات کرتی، کیا میں اس کی طرف سے ایسا کروں؟ تو کیا اس کو فائدہ پہنچ پائیگا؟ فرمایا ہاں؟

إن أمي توفيت وأنا غائب عنها فهل ينفعها إن تصدقت عنها قال نعم (بخاری) وفي رواية أن أمي اقتلتت نفسها ولم تفوص وأظنها لو تکلمت تصدقت (بخاری)

مثلاً حضرت ابن عمر پوچھتے ہیں کہ حجور ﷺ! عمرو بن عاص نے سو اونٹوں کی قربانی کی نذر مانی تھی اور ہشام نے ۵۵ کی (تو کیا) ان کی طرف سے دیا جا سکتا ہے) فرمایا: اگر اسلام پر ہوتا تو پھر یہ ان کو نفع دیتا۔ فلو أقرّبا لتوحید الخ (احمد)

بعض صحابہ نے پوچھا کہ حضور میری ماں کے ذمے روزے تھے تو کیا میں اس کی طرف سے قضا دوں؟ فرمایا: اگر ان کو قرضہ دینا ہوتا تو ادا کرتے؟ میں نے کہا ہاں! فرمایا: تو اللہ کا قرضہ تو زیادہ حق دار ہے کہ ادا کیا جائے۔

أنا أ قضيها عنها قال فدین الله أحق أن یقضی (صحیحین)

بالکل اسی قسم کی بات حج کے بارے میں ہوئی تو آپ نے بھی وہی جواب دیا (ملاحظہ ہو بخاری عن ابن عباس)

غور فرمائیے! ان میں سے کون سی ایسی روایت ہے جس سے رائج الوقت ایصالِ ثواب نکل سکتا ہے؟ یہاں تو نیابت کی بات ہو رہی ہے کہ ان کی جگہ ہم کر دیں، اثابت کی نہیں کہ اس کو ثواب بھیج دیں۔

معلوم ہوتا ہے کہ میت کو دوسرے کے عمل سے نفع پہنچنے کی صحت کا اسلاف نے جو اعتراف کیا ہے بعد کے بزرگوں نے اس کو ''ایصالِ ثواب'' پر محمول کیا ہے، بہرحال اخذ نتیجہ میں مسامحت کی یہ بات ہے، واقعہ نہیں ہے۔

روزہ، حج اور زکوٰۃ اگر میت کی طرف سے ادا کیا جائے تو وہ ان کی طرف سے ''ادا'' تصور کیا جائے گا کیونکہ یہ نیابت کی صورتیں ہیں اثابت (ایصالِ ثواب' کی نہیں ہیں، حج میت کی طرف سے ادا کیا گیا ہے کہ اب ان کے ذمے سے ساقط ہو گیا، اسی طرح روزہ اور زکوٰۃ اور صدقات کی بات ہے، یہ نہیں کہ اس کا ثواب ان کو ارسال کیا جاتا ہے۔ جیسے مرنے والے کے قرض کی بات ہے کہ میت کی طرف سے اگر کوئی قرضہ چکا دیتا ہے تو وہ قرضہ میت کی طرف سے تو ساقط ہو جاتا ہے لیکن اس کو کوئی شخص ''ایصالِ ثواب'' سے تعبیر نہیں کرتا۔

بہرحال ہم اسے ''ایصالِ ثواب'' نہیں تصور کرتے۔ یہ خانہ ساز بلٹیاں کہاں سے درآمد کی گئی ہیں، ہمیں کچھ پتہ نہیں۔

تلاوت قرآن کے بارے میں جو روایتیں منقول ہیں،ان کے بارے میں ائمہ نے تصریح فرمائی ہے کہ ایک بھی صحیح یا حسن نہیں ہے۔

حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے شیخ اور استاذ امام علی متقی (ف ۹۷۵؁ھ) ''ردِّ بدعات التعزیہ'' میں لکھتے ہیں کہ مسجد، قبرستان یا گھر میں میت کے لئے قرآن خوانی بدعت مذمومہ ہے۔

الاجتماع للقراءة للمیت بالتخصیص في المقبرة أو المسجد أو البیت بدعة مزمومة (رد بدعات التعزیۃ)

خود عبد الحق محدث دہلوی (ف ۱۰۵۲؁ھ) یہی لکھتے ہیں کہ اسلاف میں اس قرآن خوانی کا کوئی دستور نہ تھا۔

عادت نبود کہ برائے میت جمع شوندو قرآن خوانند و ختمات خوانند نہ برسرِ گورو نہ غیر آں وایں مجموع بدعت است (مدارج النبوت)

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (ف ۱۱۷۶؁ھ) بھی یہی فرماتے ہیں:

در عرب اول وجود نہ نبود (وصیت نامہ)

امام ابن القیمؒ لکھتے ہیں کہ حضور کا اس طرح کا کوئی دستور نہ تھا۔

ولم یکن من ھديه أن یجتمع للعزاء والقراءة القرآن لا عند القبر ولا عند غیره (زاد المعاد)

خاص کر حافظوں کو پیسے دے کر قرآن خوانی کی سخت مذمت کی گئی ہے، امام اوزاعی دمشقی حنفی (ف ۷۴۶؁ھ) لکھتے ہیں کہ: یہ کام کسی امام نے نہیں کیا اور اس کے ناجائز ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

وأما استیجار قوم یقرؤون القرآن ویهدوه للمیت فھدا لم لفعله أحد من السلف ولا أمر به أحد من أئمة الدین ولا رخص فيه والاستیجار عن نفس التلاوة غیر جائز بلا خلاف (شرح عقیدہ طحاویہ ص ۳۸۶)

حنفیوں کے مشہور فتاویٰ بزازیہ میں ہے کہ قرآن خوانی کے لئے فقراء اور صلحاء کو جمع کرنا اور ختم کرنا مکروہ ہے۔

ویکره....... اتخاذ الدعوة بقراءة القراٰن وجمع الصلحاء والفقراء للختم أو القراءة سورة الأنعام والإخلاص (فتاویٰ بزازیہ)

اس کے علاوہ ان ختمی دوستوں کے تعامل سے محسوس ہونے لگا ہے کہ قرآن زندوں کے لئے لائحہ عمل نہیں ہے ہمارے جیسے گنہگار مردوں کے لئے ایک تعویذ یا چورن ہے۔ حالانکہ بات یہ ہے قرآن مرنے کے بعد کے لئے ایک انکشاف بھی ہے اور پروانہ راہداری بھی، لیکن اس کے لئے بنیاد زندگی میں زندوں کو مہیا کرتا ہے۔ جو لوگ اسے اسقاط یا مردے کے ہمراہ قبر میں رکھنے یا ان کی قبروں پر تلاوت کرنے یا جمعرات، ساتے اور چالیسویں یا سالانہ عرسوں کا مصرف بنا چکے ہیں، یقین کیجئے انہوں نے قرآن کی کوئی خدمت نہیں کی، جو لوگ زندگی میں قرآن کو ناراض رکھتے رہے ہیں، مرنے کے بعد قرآن ان کے خلاف مقدمہ دائر کرے گا بخشش کے سامان نہیں کرے گا۔ يَا رَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا هذَا الْقُرْاٰنَ مَهجُوْرًا (قراٰن)

بزرگوں کی ارواح:

باقی رہا بزرگوں کی ارواح دینے کا سلسلہ؟ سو ہمارے نزدیک یہ فتنہ سے خالی نہیں ہے، اس کی کچھ وجو ہیں:

1. جو لوگ ان کی ارواح دیتے ہیں، ان کے پس پردہ ''بزرگوں کی خدماتِ دینیہ'' کا احساس کار فرما کم ہوتا ہے، نذرانۂ عقیدت پیش کرنے کی نفسیات زیادہ ہوتی ہیں۔

2. یہ لوگ عموماً ان کو غلطیوں سے پاک مانتے ہیں،ا س لئے ان کی بخشش یا ترقی درجات ان کے پیشِ نظر نہیں ہوتی، بلکہ شخصیت پرستانہ ذہنیت غیر شعوری طور پر کام کر رہی ہوتی ہے۔

3. دراصل اس قوسم کے تعاون کے حق دار اپنے وہ اقربا ہوتے ہیں جو فوت ہو چکے ہوتے ہیں مگر ان کے سلسلے میں یہ لوگ اتنے چاک و چوبند نہیں ہوتے جتنے ''پیرانِ عظام رحمہم اللہ تعالیٰ کے سلسلے میں ہوتے ہیں۔ غور فرما لیں کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے۔

4. قرآن و سنت ہمارے سامنے ہیں اور تاریخی شہادتیں الگ موجود ہیں، کہ اسلاف کے حق میں دعا و استغفار کی مثالیں تو ملتی ہیں لیکن ان کی ارواح دینے کے لئے کھانے والے تقسیم کرنے یا بلا کر کھانے کا کوئی دستور نہیں تھا۔ اس لئے ہم بزرگوں کے سلسلے میں ''ایصالِ ثواب'' کی باتیں فریب نفس تصور کرتے ہیں۔

حضور ﷺ کی روح کو ثواب:

(ب) حضور نے اپنی امت کی طرف سے تو قربانی دی ہے لیکن صحابہ اور ائمہ دین نے کبھی بھی حضور کی ارواح دینے کا حوصلہ نہیں کیا۔ ہاں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے قربانی دیا کرتے تھے کیونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آپ کو اس کی وصیت فرمائی تھی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اگر تعلق خاطر ہے تو آپ کی سنت کے اتباع اور درود پڑھنے پر اپنا سارا زور صرف کر ڈالیے، اس سے بڑھ کر کوئی عبادت اور ہدیۂ عقیدت نہیں ہے۔

اگر حسبِ عادت ماہ اور دن کی تعیین کے بغیر کوئی شخص ربیع الاوّل میں بھی ویسے صدقہ خیرات کرتا ہے جس طرح دوسرے مہینوں کرتا رہا ہے، تو پھر اس ماہ میں بھی صدقہ خیرات کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص محض اس مہینہ کے لئے باقی مہینوں میں بھی خیرات کا سلسلہ شروع کرتا ہے تو خدا بہرحال اس حیلے سے باخبر ہے اس کو فریب دینے کی جسارت سے پرہیز کیا جائے۔

پیر جیلانی کا عرس:

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود اپنا عرس کرنے سے جب منع فرمایا ہے تو اور دوسرا کون ایسا مائی کا لعل ہے کہ اس کے لئے اسے جائز کیا جائے۔ ارشاد ہے۔

لا تجعلوا قبري عیدا! (ابو داؤد و نسائی)

میری قبر کو عید نہ بناؤ۔

عید بنانے کے معنی، عرس کرنا، میلا لگانا اور خصوصی ایام مقرر کر کے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مزار پر حاضری دینا یا آپ کے مزار مبارک کی نیت سے دور دراز سے سفر کا اہتمام کرنا ہیں۔

شاہ ولی اللہؒ (ف ۱۱۷۶؁ھ) لکھتے ہیں۔

هذا إشارة إلی سد مدخل التحریف کما فعل اليهود والنصاری بقبور أنبیاءهم وجعلوها عیداوموسما بمنزلة الحج (حجۃ اللہ)

صاحب المنہج المستقیم نے عرس کرنا بدعت لکھا ہے۔

ومنهم من دارت عليهم المشیخة اتخذوا عند قبور مشائخهم سوقافي کل عام ومیمونة يوم العرس (المنھج المستقیم فی تمییز الصحیح والسقیم)

یعنی جو بزرگ بن کر بیٹھے عرس وغیرہ کرتے ہیں اہلِ بدعت میں سے ہیں۔

میرزا مظہر جانجاناں (ف ۱۱۹۵؁ھ) کا ارشاد ہے کہ: عرس وغیرہ کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔

وعرس و چراغاں منزلتے ندارد (معلومات مظہریہ از بہرائچی)

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس سے اس لئے منع فرمایا تھا کہ انبیاء اور صلحاء کی پرستش کا جب سلسلہ شروع ہوا تھا تو وہ محض انہیں نیک جذبات اور تعامل کے ذریعے ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے صرف ہمیں نہیں منع فرمایا بلکہ خدا سے بھی استدعا کی تھی کہ الٰہی میرے مزار کو بت بننے سے بچائیو!

اللهم لا تجعل قبري وثنا یعبد (مؤطا مالک)

بت بننے کے لئے یہی معنی ہیں کہ شخصیت پرستی کے جذبات سے بھرپور ہو کر آپ کے مزار مبارک سے معاملہ کیا جائے، جہاں تک حضور سے عقیدت کی بات ہے وہ سرتاپا دین ہے مگر اس کی نشانی یہ ہے کہ انسان آپ کے رنگ میں رنگا جائے، ورنہ اسے شخصیت پرستی کے سوا اور کیا نام دیا جا سکتا ہے۔

حضور مولانا ثناء اللہ پانی پتی (ف ۱۲۲۵؁ھ) لکھتے ہیں کہ عرس وغیرہ بدعت ہیں۔

قبور اولیاء بلند کردن و گنبد ساختن وعرس و امثال آں و چراغاں کردن ہمہ بعت است (ارشاد الطالبین)

مولانا شاہ محمد اسحاقؒ (ف ۱۲۶۲؁ھ) لکھتے ہیں کہ: عرس جائز نہیں۔

مقرر کردن روز عرس جائز نیست (اربعین مسائل)

شرکت عرس:

امام ابن تیمیہؒ (ف ۷۲۸؁ھ) فرماتے ہیں کہ: مسلمان ریاستوں میں یہود و نصاریٰ اور مجوس عید (عرس) میلے وغیرہ) منایا کرتے تھے جن کو شعانین اور باعوث کہا کرتے تھے۔ لیکن ان میں مسلمانوں نے کبھی بھی شرکت نہیں کی تھی۔

ثم لم یکن علی عهد السلف من المسلمین من یشركهم في شيءِ من ذلك۔ (اقتضاء صراط مستقیم ص ۹۴)

حضرت عمر ان میں شرکت کرنے سے منع کیا کرتے تھے۔

قال عمرإیاكم ورطانة الأعاجم وأن تدخلوا علی المشرکین یوم عیدھم (ایضاً) بعض روایات میں ہے کہ: دشمنانِ خدا کے میلوں میں شرکت سے پرہیز کیجئے۔

اجتنبوا أعداء الله في عیدهم (بیھقی ایضا ص ۹۵)

فرماتے ہیں کہ جب مشرکوں کے میلوں ٹھیلوں میں شرکت کرنا منع ہے تو خود ویسی عیدیں منانا کیونکر جائز ہو سکتا ہے۔

فکره موافقتهم في اسم يوم العيد الذي ینفردون به فکیف بموافقتھم في العمل (ایضا ص ۹۵)

الغرض:

مردوں کو دنیا سے نفع پہنچ سکتا ہے لیکن ایصالِ ثواب کی متداول شکل کے لئے قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔ اسی طرح اسلاف کے حق میں دعائیں تو کی گئی ہیںِ لیکن ان کے نام کے ایصالِ ثواب کی وہ شکل ہیں جو بکرے یا کھانے کی شکل میں ملتی ہیں، ان کا بھی کوئی سراغ نہیں مل سکا، ہاں اہل جاہلیت (اسلام سے پہلے کے دور میں) کے ہاں ان کا رواج ضرور رہا ہے۔ لیکن ہمیں ان سے کیا واسطہ؟

اسی طرح عرس ممنوع ہے، کیونکہ حضور نے خود اپنا عرس منانے سے روک دیا تھا، اس لئے صحابہ اور ائمہ دین نے کبھی بھی ان کا ''عرس'' نہیں منایا۔ اگر امام الانبیاء کا یہ حال ہے تو دوسرے کے لئے اس کی گنجائشیں کہاں؟ جو نکالتے ہیں، عشق رسول کے ان مدعیوں کی غیرت بھی معلوم ہو گئی۔

اس قسم کے عرسوں میں شرکت شرعاً جائز نہیں، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان سے روکا کرتے تھے۔