﴿وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ (35) فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ﴾

اور ہم نے (آدم سے) کہا: اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو سہو اور اس میں جہاں کہیں سے جی چاہے با فراغت کھاؤ (پیؤ) مگر اس درخت کے پاس مت پھٹکنا (ایسا کرو گے) تو تم (آپ اپنا) نقصان کر لو گے۔ پس شیطان نے ان کو وہاں سے (بہلا پھسلا کر) اکھاڑ دیا اور (آخر کار) بس (مزے) میں تھے اس سے ان کو نکلوا دیا اور ہم نے حکم دیا کہ تم (سب) اتر جاؤ، تم میں سے بعضے بعض کے دشمن رہیں گے اور تم کو زمین پر چندے ٹھہرنا اور مقررہ میعاد تک کام چلانا ہے۔

اُسْكُنْ (سکونت کر، آرام کر، رہائش کر، قیام کر) بعض ائمہ کا کہنا ہے کہ اس سے مراد عارضی قیام ہے، لیکن: یہ معنی عرفی تو ہو سکتے ہیں، لغوی یا شرعی نہیں (فتح القدیر) ہو سکتا ہے یہاں عرفی معنی مراد ہوں، کیونکہ کہ اِنِّي جَاعِلٌ فِي الْاَرْضِ خَلِيفَة سے بھی یہی مترشح ہوتا ہے کہ انہیں بالآر زمین پر ہی فروکش ہونا تھا۔ ''س، ک، ن'' کے مرکب میں، آرام و سکون کا پہلو بھی مضمر ہے، عدم سے وجود میں آنے کے بعد اب تک جو مراحل ان کو درپیش رہے، اپنی حیثیت کے تعین اور تشخص کے لئے کافی حد تک ان کے لئے یہ سفر، پر خطر اور ہنگامی نوعیت کا رہا تھا، اس لئے ان سے فرمایا کہ: اب آپ یہاں آرام فرمائیں۔ اس اسلوبِ بیان اور فحوائے کلام سے بھی یہی بات قرینِ قیاس معلوم ہوتی ہے کہ یہ جنت ان کے لئے عارضی اقامت گاہ تھی۔ کچھ عرصہ بعد تفسیر کبیر دکھی تو الحمد للہ بات موافق نکلی:

فههنا لم یقل الله تعالٰی وهبت لك الجنةبل قال أسکنتك وإنما لم یقل ذلك لأنه خلقه لخلافة الأرض فکان إسکان الجنة کالتقدمة عَلٰی ذلك (تفسیر کبیر ص ۲۲۹، ج۱)

اس خطاب سے معلوم ہوتا ہے کہ:

اس منزل میں حضرت حوا بھی حضرت آدم علیہ السلام کے شریکِ سفر اور شریک حٰات ہو گئی تھیں، باقی رہی یہ بات کہ سجدۂ آدم سے پہلے اس کی تخلیق ہوئی تھی یا بعد میں؟ سیاق آیات اور واقعۂ سجدہ سے یہی مترشح ہوتا ہے کہ اس کی تخلیق بعد میں ہوئی تھی، بعض مفسرین نے حضرت ابنِ مسعود اور ابنِ عباس کا قول بھی یہی نقل کیا ہے (ابن کثیر و تفسیر کبیر للرازی وغیرہ)

سجدہ آدم کو ہوا، حوا کو نہیں، کیونکہ عورت مرد کے تابع ہوتی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ مرد کے مقابلے میں عورت کی حیثیت ثانوی ہے۔ اس کے علاوہ اس سے غرض ایک یہ بھی ہے کہ: صنف نازک ابنِ آدم کے لئے ایک ''وجہ قرار'' بھی ہے، مردوں پر ذمہ داریوں کا جو بوجھ ہے ان کی وجہ سے ان پر جو اضمحلال اور ملال جیسی کیفیتیں طاری ہوتی ہیں، ضروری تھا کہ ان کے لئے تسکین اور قرار کی کوئی صورت پیدا کی جائے، چنانچہ عورت کی تخلیق کی گئی۔ یہ ٹھیک ہے کہ عورت کا بذاتِ خود ایک مقام ہے اس لئے وہ بھی خدا کے ہاں جواب دہ ہے لیکن نظامِ دنیا کی حد تک اس کی حیثیت ایک معاون کی ہے پیشرو کی نہیں ہے۔ باقی رہی خدا کی عبادت اور رسول کی اطاعت کی بات؟ سو وہ اس معاملے میں مرد کی طرح بالاصالۃ اور ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔

رغدًا (وافر وار بے کدو کاوش) مفسرین نے اس کے معنی، ایسی روزی کے کیے ہیں جو خوشگوار بھی ہو اور بلا کو کاوش اور محنت بھی۔

الرغد: العیش الھنیٔ الذي لإعناء فیه (فتح القدیر)

اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ اصلی بہشت اور جنت تھی، کیونکہ یہ وہاں کی زندگی کا خاصہ ہے، دنیا میں لوازماتِ حیات کے لئے تگ و دو اور محنت ہی کرنا پڑتی ہے، اس کے بغیر مشکل ہے إلا أن یشاء اللہ! وھو فعال لما یرید وعَلٰی کل شيءٍ قدیر۔

حيث شئتما (جہاں سے چاہو) سے بھی یہی اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں پوری آزادی تھی، صرف ایک درخت کی بات تھی کہ اسے چھوڑ دو، اور جو چاہو اور جہاں سے چاہو، کھاؤ پیو اور مزے لو! ظاہر ہے یہ مقام ہقامِ بہشت ہی ہو سکتا ہے۔

لَا تَقْرَبَا (قریب بھی نہ جاؤ) ممنوع دراصل ایک شے ہوتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ بسا اوقات وہ امور بھی ممنوع قرار دے دیئے جاتے ہیں جو ممنوع چیز کے ارتکاب کا سبب بن جاتے ہیں، یا ان سے کم از کم ممنوع چیز کے سلسلے میں مطلوب اجنبیت، پرہیز اور انقباض کے رنگ کے پھیکے پڑ جانے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔ فقہاء کی زبان میں اسے ''سدِّ ذریعہ'' کہا جاتا ہے۔

یہاں پر بھی یہی بات ہے کہ: منع درخت کا کھانا اور چکھنا تھا، مگر فرمایا: اس کے پاس بھی نہ پھٹکو۔ یعنی اتنے فاصلے پر جا پہنچنا کہ اس کے بعد بس اگلا قدم وہاں ہی جا پڑے۔ تم پر بالکل حرام ہے:

اس کے متعلق حضرت امام ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ (ف ۷۵۱ھ) حضرت امام ابن تیمیہؒ (ف ھ) اور حضرت امام شاطبیؒ (ف ۷۹۰؁ھ) نے تفصیل سے بحث کی ہے، خاص کر حضرت امام ابن القیمؒ نے جس جامعیت کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔ وہ بہت معیاری ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے۔

مقاصد کے حصول کے لئے کچھ وسائل، اسباب اور طریقے ہوتے ہیں، اور وہ ان کے تابع ہوتے ہیں، مقاصد اور مطالب حرام ہوتے ہیں، تو اس سلسلے کے جتنے ذرائع اور وسائل ہوتے ہیں وہ بھی حرام ٹھہرتے ہیں، اگر حلال اور جائز ہوتے تو وہ بھی جائز تصور کیے جاتے ہیں۔

لما کانت المقاصد لا یتوصل إلیھا إلا بأسباب وطرق تفضي إلیھا کانت طرقھا وأسبابھا تابعة لما معتبرة بھا....... فوسیلة المقصود تابعة للمقصود وکلاھما مقصود لکنه مقصود قصد الغایات (اعلام الموقعین ص ۶۲،۲ طبع ھند)

جو فعل یا قول کسی مفسدہ پر منتج ہوتا ہے، اس کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جو براہِ راست حرام تک پہنچاتی ہے، جیسے شراب کا پینا کہ وہ نشہ جیسے مفسدہ ت پہنچا دیتا ہے۔ دوسری وہ جو پہلے تو جائز اور مستحب تک پہنچاتی ہے پھر ارادۃً یا بے ارادہ اسے حرام کے ارتکاب کے لئے ذریعہ بنا دیا جاتا ہے۔ قصد کی مثال جیسے ایک شخص نکاح کرتا ہے مگر بہ غرض حلالہ۔ ظاہر ہے نکاح تو حلال ہے مگر حلالے کے لئے نہیں۔

 الفعل أوالقول المفضي إلی المفسدة قسمان أحدھما أن یکون وضعه للإفضاء إلیھا کشرب المسکر المفضي إلی مفسدة السکر...... والثاني أن تکون موضوعة للإفضاء إلی أمر جائز أو مستحب فیتخذ وسیلة إلی المحرم إما بقصدہ أو بغیر قصد منه فالأول کمن یعقد النکاح قاصدا به التحلیل (ص ۶۳،۲ طبع ہند)

پھر فرمایا کہ اس قسم کے ذرائع دو نوع کے ہیں۔ ایک یہ کہ مصلحت فعل، اس کے مفسدہ سے ارجح ہو، دوسرا یہ کہ مفسدہ، مصلحت سے ارجح ہو۔

أحدھما أن تکون مصلحة الفعل أرجح من مفسدة والثاني أن تکون مفسدته راجحة علی مصلحته (ص ۶۳،۲)

اب اس کے چار اقسام بن گئے ہیں (۱) یہ ذریعہ، مفسدہ تک پہنچائے (۲) یا یہ کہ مباح تک پہنچائے، آگے وہ مفسدہ کا ذریعہ بن جائے (۳) تیسرا یہ کہ امر مستحب تک پہنچائے، آگے وہ مفسدہ تک پہنچا دے (۴) چوتھا یہ کہ: مباح تک کا ذریعہ، کبھی ایسے مفسدہ کے لئے ذریعہ بن جاتا ہے۔ جس سے مصلحت فعل ارجح ہوتی ہے۔

الأول وسیلة موضوعة للإفضاء إلی المفسدة الثاني وسیلةموضوعة للمباح قصد بھا التوسل إلی مفسدة مفضیة إلیھا غالباً ومفسدته أرجح من مصلحتھا (الثالث وھو وسیلة موصلة إلی المستحب ولکنھا موصلة إلی المفسدةکذابھا مشه) الرابع وسیلة موضوعةللمباح وقد تفضي إلی المفسدة ومصلحتھا أرجح من مفسدتھا ومثال الرابع النظر إلی المخطوبة (ص ۶۳،۲)

پھر فرمایا: یہ چوتھی قسم مباح یا مستحب یا واجب ہو سکتی ہے، باقی رہی پہلی؟ وہ مکروہ یا حرام ہے حسب درجات، ہاں درمیانی دو کی بات رہ جاتی ہے، فرمایا: وہ بھی صحیح یہ ہے کہ ممنوع ہیں۔ پھر اس تقریباً 99 مثالیں پیش کر کے اس کی ممنوعیت کو ثابت کیا ہے۔

فالشریعة جاءت بإباحة ھذا القسم أو استحبابه أو إیجابه بحسب درجاته في المصلحة وجاءت بالمنع من القسم الأول کراھة أو تحریما بحسب درجاته في المفسدة بقي النظر في القسمین الوسط ھل ھما مما جاءت الشریعة بإباحتھما أو المنع منھما فنقول الدلالة علی المنع من وجوہ (ص ۶۳،۲)

اس مبحث کے آخر میں فرماتے ہیں کہ: تکلیف کا 4/1 سد ذرائع کا باب ہے کیونکہ وہ امر ہے یا نہی، امر دو قسم ہے، بنفسہ مقصود ہے یا وسیلةإلی المقصود، اسی طرح نہی کا حال ہے، مفسدہ فی نفسه کی وجہ سے ممنوع ہے یا وسیلة إلی المفسدة کی بناء پر، بہرحال ذرائع کا مسئلہ دین کا 4/1 ہوا۔

وباب سد ذرائع أحد أرباع التکلیف فإنه أمر ونھي والأمر نوعات أحدھما مقصود بنفسه الثاني وسیلة إلی المقصود۔ والنھي نوعان أحدھما ما یکون المنھي عنه مفسدة في نفسه والثاني ما یکون وسیلة إلی المفسدة فصار سد الذرائع المقضیة إلی الحرام أحد أرباع الدین (اعلام الموقعین طبع ھند ص ۷۱،۲)

حضرت امام ابن القیمؒ نے ''إغاثة اللہفان'' میں بھی اس پر خاص روشنی ڈالی ہے۔ جو دیدنی ہے بلکہ بعض لحاظ سے اعلام الموقعین سے بھی زیادہ طمانیت بخش ہے۔

وبالجملة فالمحرمات قسمان: مفاسد وذرائع موصلة إلیھا مطلوبة الإعدام کما أن المفاسد مطلوبةالإعدام۔ والقربات نوعان: مصالح للعباد وذرائع موصلة إلیھا، ففتح باب الذرائع في النوع الأول کسد باب الذرائع في النوع الثاني وکلاھما مناقص لما جاءت به الشریعة(اغاثۃ اللھفان ص ۳۷۰،۱)

امام ابن تیمیہؒ حرانی نے اس موضوع پر جس رسالے میں سب سے زیادہ روشنی ڈالی ہے اس کا نام إقامة الدلیل علٰی إبطال التحلیل ہے۔ تقریباً ۲۲۶ صفحات پر مشتمل ہے اور خوب ہے تاہم اکثر مسائل وہی ہیں جو ابن القیمؒ نے بتا دیئے ہیں۔ آپ نے ایک مقام پر ''سد ذرائع'' کے سلسلے میں جو چند سطریں لکھی ہیں، وہ نہایت بصیرت افروز ہیں فرماتے ہیں۔

الغرض ذرائع اور مادہ شر کے رخنے بند کرنے میں شریعت کے بہت سے ایسے ہی اسرار ہیں جن کا علم انسان کی جبلی کمزوریوں سے واقف شارع کو ہی ہو سکتا ہے۔ اب اگر کوئی شخص شارع سے زیادہ عقلمند بنتا ہے، پہلے کسی شے میں علّتِ تحریم فرض کرتا ہے، پھر اس میں تاویل کر کے محظور کو مباح ٹھہراتا ہے تو ایسا شخص

''امرِ رب سے جاہل ہے، اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے، وہ نہیں سمجھتا کہ اگر وہ کفر سے بچ بھی جائے تاہم بدعت، فسق قلتِ فہم اور دین میں بے بصیرتی سے نجات نہیں پاسکتا (ابن تیمیہؒ ص ۷۳۳ بحوالہ اقامت الدلیل ص۱۴۰)

حضرت امام احمد کے نزدیک ایسے دکاندار سے سودا لینا جائز نہیں ہے جو اپنے ہمسایہ دکاندار کو نقصان پہنچانے کے لئے چیزوں کی قیمتیں گھٹا کر بیچتا ہے، کیونکہ ان کی غرض عامۂ خلائق کو نفع پہنچانا نہیں ہے بلکہ ضرر پہنچانا ہے۔

اسی طرح فتنہ و فساد کے عہد میں اسلحہ کی فروخت بھی جائز نہیں، کیونکہ اس سے فتنہ و فساد کی آگ اور تیز ہونے کا امکان ہے۔

ایک شخص کے پاس کھانے پینے کی چیزیں موجود ہیں مگر لگوں کو دیتا نہیں بلکہ بھوک پیاس سے کوئی مر جاتا ہے تو امام احمدؒ کے نزدیک اس سے خونبہا وصول کیا جائے گا کیونکہ اس کی سنگ دلی کی وجہ سے وہ مرا ہے۔

الغرض وہ راستے اور کیفیات جو کسی ناجائز بات کے ارتکاب کا ذریعہ بن سکتی ہیں، وہ راستے اور واسطے یا کیفیتیں بھی حرام، مکروہ اور ناجائز ہو جاتی ہیں اور جو امور جائز اور مبارک بات تک پہنچانے کا وسیلہ اور ذریعہ بنتے ہیں، وہ بھی مبارک، جائز اور محمود بن جاتے ہیں، اس بات کو یاد رکھنے سے انسان بہت سے امور کے بارے میں خود فیصلہ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے کہ: ان کا بالآخر انجام کیا ہو گا اور ان کی تان کہاں جا کر ٹوٹے گی۔ اس لئے اب ان کا کیا حکم ہونا چاہئے، جائز یا ناجائز؟ بہرحال قرآن حکیم نے 'وَلَا تَقْرَبَا' کہہ کر اس بہت بڑی حکمت کی طرف اشارہ کر دیا ہے، اگر آپ چاہیں تو اس اصول کے ذریعے اپنے اور اپنے گرد و پیش کی تمام تحریکات سکنات اور تعامل پر علی وجہ البصیرت تبصرہ اور محاکمہ کر سکتے ہیں۔

شجرۃ وہ شجرۃ (درخت) کیا شے ہے، جس سے حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو روک دیا گیا تھا۔ کہتے ہیں اس سے مراد گندم، انجیر، انگور وغیرہ وغیرہ ہے مگر اس کی دلیل کوئی نہیں بعض مجددین کا خیال ہے کہ: اس سے مراد ''بدی'' ہے، دلیل میں مثل کلمۃ خبیثۃ کشجرۃ خبیثۃ (سورۃ ابراہیم) پیش کرتے ہیں، مگر یہ بھی ایک تکلف ہے۔ کیونکہ شیطان نے ورغلاتے ہوئے آدم سے کہا تھا کہ اس سے آپ کو روک دینے کی وجہ یہ ہے کہ کہیں اس کی وجہ سے آپ کو دوام حاصل نہ ہو جائے یا آپ فرشتے نہ بن جائیں۔ مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ إِلَّا أَنْ تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ الْخَالِدِينَ۔ ظاہر ہے کہ حضرت آدم کو اتنا تو بہرحال معلوم تھا کہ بدی اس کا ذریعہ نہیں بن سکتی جس کی طرف شیطان نے دعوت دی تھی اس کے علاوہ جس طرح شجرۃ خبیثةکا ذکر آیا ہے اسی طرح شجرۃ ملعونۃ کا بھی آیا ہے (اسرائیل ع ۶) ایک درخت کو طعام الاثیم (دخان ع۳) شجرة تخرج في أصل الجحیم (صافات ع۲) اسی طرح شجرۃ مبارکۃ (نور ع۵) شجرة تخرج من طور سینا (مومنون ع۱) بھی کہا گیا ہے۔ بہرحال ان آیات سے معلوم ہوا کہ درختوں کی یہ ساری اقسام، مجاز نہیں۔ حقیقت بھی ہیں۔ جب حقیقت ممکن ہے تو پھر مجاز کی طرف جانے کی کیا ضرورت ہے؟

صحیح یہ ہے کہ یہ بہرحال کوئی درخت تھا، وہ کون سا تھا؟ حدیث میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ ہاں اتنا پتہ چلتا ہے کہ: اسے حضرت آدم علیہ السلام کے لئے ایک آزمائش کا نشان مقرر کیا گیا تھا۔ غرض یہ تھی کہ حضرت آدم پر واضح ہو جائے کہ: ابن آدم کو کچھ پابندیاں بھی درپیش ہیں۔ اگر ان کے سلسلے میں اختلال ممکن ہے تو پھر ان کی جگہ جنگ نہیں دنیا ہے۔ جنت دار الجزاء ہے۔ دار العمل نہیں ہے۔ گو اس خروج کا محرک معصومانہ لغزش ہو یا مجرمانہ سازش اس کا سبب ہو، بھول ہو یا جذبۂ نیک نیتی کی لپک اس کا باعث ہو، بہرحال اس سے ثابت ہو گیا کہ جنت میں انسان کا احکامِ الٰہی اور پابندیوں پر کما حقہ پور اترنا بالکل مشکل ہے۔ اس لئے ان کو حکم ہوا کہ اب آپ یہاں سے تشریف لے جائیں۔

فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِينَ (اور ظالموں میں سے ہو جانا، کہیں ان میں سے نہ ہو جانا جنہوں نے ظلم کیا یا اپنے آپ سے بے انصافی کی) بریکٹ میں ہم نے اس جملے کے سب محتمل معنی ذکر کر دیئے ہیں، جو یہاں سب ممکن ہو سکتے ہیں۔ ایک معنی یہ ہوئے کہ: جو ظالم ہیں، ان میں سے آپ نہ ہوں، یعنی آپ بھی بے انصاف نہ بنیں، دوسرا یہ کہ اپنے آپ سے بے انصافی نہ کریں۔ غلط راہ اختیار کر کے اپنا انجام خراب نہ کریں۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ: انسان اگر اپنے ساتھ بھی بے انصافی کرنا چاہے تو عند اللہ وہ اس کا بھی مجاز نہیں ہے، کیونکہ وہ اپنا مالک نہیں ہے۔ بلکہ یہ زندگی اس کے پاس خدا کی طرف سے امانت ہے۔ امانت میں خیانت کرنا سب کے نزدیک برا ہے۔

ظلم محل اور موقعہ کے اعتبار سے اس لفظ کے معنی میں بڑا تنوع ہے۔ مگر سب سے ''قدر مشترک'' بے محل اور بے موقع کسی چیز کا استعمال ہے (وضع الشیءِ فی غیر موضعہ۔ مختار الصحاح ومفردات) وہ بصورت زیادتی ہو یا کمی (مفردات راغب) روشنی کا جاتے رہنا، جہالت، شرک، فسق و فجور، زیادتی کرنا، اندھا پن، کمی کرنا، شرارت، راستہ سے ہٹ جانا، رات کے پہلے حصے کی تاریکی، قمری ماہ کی آخری تین راتیں، غصہ، ترچھی نگاہ، غصے کی نظر کٹھن، داد خواہی، عذاب، بہت اندھیرا، نافرمانی۔ ''ظ ل م'' کے مادہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ (مفردات، مختار الصحاح، منجد، منتہی الإرب في لغات العرب وغیرہ)

اس لفظ کے مختلف معانی آپ کے سامنے رکھنے سے غرض یہ ہے کہ، آپ غور فرمائیں کہ ؎

اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی، کے مصداق اس میں خیر و خوبی کی کوئی رمق بھی کہیں نظر آتی ہے؟ حاشا وکلا!

امام راغب اصفہانی (ف ۵۰۲؁ھ) فرماتے ہیں کہ:

ظلم کی تین قسمیں ہیں (۱) خدا کے ساتھ بے انصافی (۲) ایک دوسرے کے ساتھ بے انصافی (۳) اور اپنی ذات کے ساتھ بے انصافی۔

ظلم بین الإنسان وبین اللہ تعالٰی وأعظمه الکفر والشرك والنفاق، ظلم بینه وبین الناس، وظلم بینه وبین نفسه(مفردات)

امام موصوف اس موقع پر ایک عجیب اور معنی خیز بات کہتے ہیں، فرماتے ہیں یہ تینوں قسم کا ظلم در حقیقت ظلم علی النفس ہی ہے ....... فرماتے ہیں اس بنا پر کہہ سکتے ہیں کہ ظالم اپنے ظلم کی ابتداء ہمیشہ اپنی ذات سے کرتا ہے (مفردات مترجم)

ظلم اور قراٰن:

قرآن حمید میں اس موضوع پر جو کچھ آیا ہے اس کا سلسلہ کافی طویل ہے۔ یہاں پر ہم اس کا صرف اتنا حصہ پیش کریں گے جتنا باقی ماندہ کا بھی کفیل ہو سکے۔

شرک:

شرک سب سے بڑا ظلم اور بے انصافی ہے: (کیونکہ اس سے بڑھ کر بے محل اور بے موقع بات اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ: کسی کو اس کی خدائی میں شریک مان لیا جائے۔

اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (پ۲۱۔ لقمان۔ ع۲)

تکذیبِ آیات:

اللہ کی آیات کو جھٹلانا، اندھا پن اور اندھیرے کی بات ہے۔

وَالَّذِينَ كَذَّبُوْا بِاٰياتِنَا صُمٌّ بُكمٌ فِي الظُّلُمَاتِ (پ۷۔ الانعام۔ ع۴)

ھویٰ ونفس کے بندے: نفس اور ہویٰ کے بندے ظالم لوگ ہیں۔

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوْا اَهوَآءَهُمْ بِغَيرِ عِلْمٍ (پ۲۱۔ روم ع۴)

خدا کے بجائے نفس و طاغوت کی غلامی پر قناعت، رجوع الی الحق کی توفیق سے محرومی کا نتیجہ ہے۔

فَمَنْ يهدِي مَنْ اَضَلَّ اللهُ (ایضا)

حق کے خلاف سرگوشیاں:

یہ انہی ظالم اور بے انصاف لوگوں کا کام ہے کہ خفیہ میٹنگیں کر کے حق کی راہ روکنے کی تدبیریں کرتے ہیں۔

وَاَسَرُّوْا النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوْا هَلْ هذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ (پ۸۔ اعراف۔ ع۱)

عیش و عشرت میں مگن:

وہ بھی ظالم ہی تھے جو دادِ عیش دیتے رہے۔

وَاتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوْا مَا اُتْرِفُوْا فِيه (پ۲۱۔ ھود ع۱۰)

قیامت میں خسارے:

قیامت میں خسارے میں بھی یہی ظالم لوگ ہوں گے جنہوں نے آیاتِ الٰہی سے بے انصافی کی۔

وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُه فَاُوْلٰٓئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوْا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا باٰيتِنَا يَظْلِمُوْا (پ۸۔ اعراف۔ ع۱)

ظالموں کے لئے معذرت:

قیامت میں ان ظالموں کے لئے معذرت کی کوئی گنجائش نہیں رہے گی جو آخرت کی جواب دہی کے سلسلے میں بے یقینی میں مبتلا تھے۔

فَيَوْمَئِذٍ لَّا يَنْفَعُ الَّذِينَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُوْنَ (پ۲۱۔ روم۔ ع۶)

یتیموں کا ناحق مال کھانا:

یتیموں کا ناحق مال کھانا، بھی ظلم ہے۔

اِنَّ الَّذِينَ يَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْيَتِيمَ ظُلْمًا اِنَّمَا يَاْكُلُوْنَ فِي نُطُوْنِهِمْ نَارًا (پ۴۔ النساء ع۱)

خدا کی بات بدل دیتے ہیں:

ظالم اور بے انصاف لوگ خدا کی بات کی بجائے اپنی ہانکتے ہیں۔

فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَيرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ (پ۱۔ بقرہ۔ ع۴)

سب سے بڑے ظالم:

جو خدا کے نام پر فراڈ کرتے ہیں۔

فَمَنْ اَظْلَمَ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلى اللهِ كَذِبًا (انعام۔ ع۱۷)

جو حق کی شہادت چھپاتے ہیں۔

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَة عِنْدَهُ مِنَ اللهِ (بقرہ۔ ع۱۶)

جو آیات الٰہی سن کر منہ موڑ لیتے ہیں اور قیامت کی فکر نہیں کرتے۔

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِرَ بِاٰياتِ رَبِّه فَاَعْرَضْ وَنَسِيَ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ (پ۱۵۔ الکھف۔ ع۸)

عاد اولٰی، قوم ثمود اور قوم نوح بڑے ظالم تھے۔

اِنَّهُمْ كَانُوْا هُمْ اَظْلَمُ وَاَطْغٰى (پ۲۷۔ النجم۔ ع۳)

مسجدوں میں یاد الٰہی سے روکتے ہیں:

وہ بھی بڑے ظالم ہیں جو خدا کے گھر میں یادِ الٰہی سے روکتے ہیں۔

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللهِ اَنْ يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُه وَسَعٰى فِي خَرَابِهَا (پ۱۔ بقرہ۔ ع۱۱)

واضح آیات و نشانات کا انکار:

جو واضح آیات اور نشاناتِ حق کا انکار کرتے ہیں، ظالم ہیں۔

وَلَقَدْ اَهلَكنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَجَاءَتْهُمْ رُسُلهُمْ بِالْبَينٰتِ وَمَا كَانُوْا لِيُؤمِنُوْا (پ۱۱۔ یونس۔ ع۲)

دیس نکال:

حق کے داعیوں کو دیس بدر کرنا اور الٹا ان کو مجبور کرنا کہ وہ ان کے انکار پر لبیک کہیں ظلم ہے۔

وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوْا لَرُسُلِهِمْ لِنُخْرِجَنَّكُمْ مِنْ اَرْضِنَآ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِي مِلَّتِنَاط فَاَوْحٰى اِلَيهِمْ رَبُّهُمْ لِتُهلِكَنَّ الظّٰلِمِينَ (پ۱۳۔ ابراھیم ع۳)

اعراض اور عمل کی سنگینی سے غفلت:

اللہ کی آیات پڑھ کر اس کو سمجھایا جائے تو وہ منہ موڑ کر چل دے اور جو کرتوت کر چکا ہے اس کی سنگینی سے غافل ہوا ہے تو وہ بھی بڑے ظالم ہیں۔

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكرَ بِاٰياتِ رَبِّه فَاَعْرَضْ عَنْهَا وَنَسِيَ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ (پ۱۵۔ الکھف۔ ع۸)

ہم بے بس تھے:

احکامِ الٰہی کی تعمیل میں کوتاہی کرنے کے بعض لوگ یہ بہانے بناتے ہیں کہ ہم فلاں لوگوں کے مقابلے میں بے بس تھے۔ اس لئے ان کی ہاں میں ہاں ملانا پڑی۔ یہ بھی ظالم ہیں۔

اِنَّ الَّذِينَ تَوَفّٰهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمي اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِيمَ كُنْتُمْ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْاَرْضِ (پ۵۔ النساء ع۱۴)

دیکھ بھال کر منکرین کا ساتھ دے:

اس کو یہ معلوم ہو کہ اللہ اور اس کے رسول پاک کی مرضی یہ ہے، لیکن اس کے باوجود وہ ساتھ ان کا دے جو اس کے خلاف چلتے ہیں وہ بھی ظالم ہیں۔

وَلَئِنْ اتَّبَعْتَ اَهوَآئَهُمْ مِنْ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِينَ (پ۲۔ بقرہ۔ ع۱۷)

حاملین حق کو پاگل کہتے ہیں:

داعیانِ حق کے خلاف لوگوں میں یہ چرچا کرتے ہیں کہ یہ دیوانے ہیں، ان کو زمانے کا کچھ پتہ نہیں، یہ ہے وہ ہے۔ یہ سب ظالم ہیں۔

وَقَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا (پ۱۸۔ فرقان۔ ع۱)

وقار کا مسئلہ بنا لیتے ہیں:

جب حق ان کی ڈینگوں کے علی الرغم آموجود ہوتا ہے تو وہ حق کی صداقت کا یقین رکھتے ہوئے بھی اس کی تعمیل سے گریز کرتے ہیں اور اڑ جاتے ہیں۔

وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيقَنَتْهَآ اَنْفُسَهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا (پ۱۹۔ النحل۔ ع۱)

الغرض ظلم ایک ایسی تلوار ہے جس کا کھیت کبھی ہرا نہیں دیکھا گیا، گو ان آیات کا زیادہ تعلق منکرین سے ہے تاہم دیکھنے کی بات یہ ہے کہ: یہ کرتوت مسلم کے نہیں، کفار کے ہو سکتے ہیں۔ اس کے باوجود اگر مسلم بھی اسی کوڑھ میں مبتلا ہو جس کا الزام خدا کافروں کو دے رہا ہے تو پھر مسلم اس الزام سے کیوں بری الذمہ قرار دیا جائے۔

اُلٹے جانا:

قرآن کسی طرف بلائے اور وہ دوسری طرف کو اٹھ دوڑیں، حکم کچھ ہو، وہ کچھ اور کریں، یہ کرتوت بھی ظالموں کے ہوتے ہیں:

وَإِذْ قِيلَ لَهُمُ اسْكُنُوا هَٰذِهِ الْقَرْيَةَ وَكُلُوا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ وَقُولُوا حِطَّةٌ وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَغْفِرْ لَكُمْ خَطِيئَاتِكُمْ ۚ سَنَزِيدُ الْمُحْسِنِينَ فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ (پ۹۔ اعراف۔ ع۲)

احادیث اور ظلم: اندھیرے ہی اندھیرے:

فرمایا ظلم قیامت میں اندھیرے اندھیرے ثابت ہو گا۔

الظلم ظلمات يوم القیامة (صحیحین عن ابن عمر)

آپس کی بے انصافیاں:

بندوں نے ایک دوسرے کے ساتھ جو بے انصافیاں اور زیادتیاں کی ہوں گی جب تک مظلوم معاف نہیں کرے گا خدا نہیں معاف کرے گا۔ باقی رہی وہ بے انصافیاں جو خدا کے ساتھ کی جاتی ہیں، وہ خدا کی مرضی ہے، معاف کرے یا نہ۔

ودیوان لا یترکه اللہ ظلم العباد فیما بینھم حتی یقتصی بعضھم من بعض ودیوان لا یعبأ اللہ فیما بینھم وبین اللہ فذاك إلی اللہ إن شاء عذبه وإن شاء تجاوز عنه (شعب الایمان)

ظالم کا حامی:

جو شخص جان بوجھ کر ظالم کا ساتھ دیتا ہے، اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔

من مشی مع ظالم لیقویه وھو یعلم أنه ظالم فقد خرج من الإسلام (ایضاً)

اپنے ساتھ بے انصافی:

جو شخص کسی کی دنیا کے لئے اپنی آخرت ضائع کرتا ہے۔ قیامت میں وہ سب سے برا ہو گا۔

من شر الناس منزلة یوم القیامةعبد أذھب اٰخرته بدنیا غیره (ابن ماجہ)

قیامت میں:

قیامت میں ظلم کا حساب دیئے بغیر بہشت میں جانا مشکل ہے۔

من کانت له مظلمةلأخیه من عرضه أو شيءِ فلیتحلل منه قبل أن لا یکون دينار ودرهم إن کان له عمل صالح أخذ منه بقدر مظلمته وإن لم يكن له حسنات أخذ من سیئات صاحبه فحمل علیه(بخاری)

ان کے گاؤں سے روتے ہوئے گزرو:

جن لوگوں نے اپنی ذات سے بے انصافیاں کی ہیں خدا کے نافرمانوں کے گاؤں سے گزر ہو تو جلدی سے نکل جاؤ!

لا تدخلوا مساکن الذین ظلموا أنفسھم إلا أن تکونوا باکین أن یصیبکم ما أصابھم ثم قنع رأسه وأسرع السیر حتی اجتاز الوادي (صحیحین عن ابن عمر)

مظلوم کی بدد عا:

مظلوم کی بد دعا سے بچیے۔

إیاک ودعوة المظلوم فإنما یسأل الله حقه وإن اللہ لا یمنع ذا حق حقه (شعب الایمان)

ظلم کرنا حرام ہے:

فرمایا: میرے بندو! میں نے اپنے آپ پر ظلم اور بے انصافی کو حرام کیا ہے، تم پر بھی حرام کرتا ہوں کہ ایک دوسرے پر ظلم نہ کرنا۔

یا عبادي إنی حرمت الظلم علی نفسي وجعلته بینکم محرما فلا تظالموا (الحدیث قدسی۔ مسلم عن ابی ذر)

حاصل آیت:

جب ملائکہ پر حضرت آدم کی برتری واضح ہو گئی تو انہیں پورے شاہی اعزاز کے ساتھ بہشت میں ٹھہرنے کو کہا گیا، صرف اتنی احتیاط ملحوظ رکھنے کی تاکید کی گئی ہے کہ فلاں درخت کے پاس نہ جانا، ورنہ کام خراب ہو جائے گا۔

فَاَزَلَّهُمَا (تو انہیں پھسلا دیا) وہ کیسے؟ بعض بزرگوں نے کہا ہے کہ دخولِ آدم کے وقت تک بہشت دار الجزا یا دار خلد نہ تھی جیسا کہ آب ہے۔ بلکہ اس وقت وہاں تکلیفات شرعی تھیں۔ احکام تھے، نواہی تھے اور جب جنت کی ماہیت یہ تھی تو کوئی اشکال نہیں رہتا وہاں وسوسۂ شیطانی کے پہنچ جانے پر کسی متنفس کے وہاں سے نکالے جانے پر انتہی۔

گو یہ توجیہ بظاہر وزنی محسوس ہوتی ہے مگر بات بے دلیل ہے کیونکہ قرآن و حدیث میں اِس توجیہ کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ آخر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی تو وہاں تشریف لے گئے تھے پھر وہاں سے واپس بھی تشریف لے آئے تھے، وہاں جانا یا وہاں سے واپس آنا بھی تو خدا کے حکم ہی سے تھا، کیا یہ حکم شرعی نہیں ہے، بہرحال ہمارے نزدیک صحیح وہی ہے جو اس سے پہلے ہم بیان کر چکے ہیں۔

جب یہ صورتِ حال پیدا ہو گئی تو حکم ہوا کہ اب آپ 'زمین' پر تشریف لے جائیں، آپ کو ایک مقرر وقت تک وہاں رہنا ہو گا، لیکن بہشت کا یہ خاصہ ہے کہ وہاں باہم کدورتیں نہیں ہو گی، اس لئے وہاں پر اس کا اندیشہ ہی نہیں تھا، باقی رہی یہ زمین؟ تو یہاں اس کا التزام نہیں کیا گیا، بلکہ اس کے فطری خمیر میں باہمی آویزش کا بھی ایک پہلو مضمر اور پوشیدہ ہے۔ اس لئے فرمایا کہ یہاں سے آپ تشریف لے جائیں، اور جا کر زمین پر اپنے ڈیرے ڈالیں۔ زمین ایک محدود کائنات ہے اس لئے اس امر کا امکان موجود ہے کہ کچھ باہم الجھیں اور الجھا کریں۔

''بعض کا دشمن بعض'' کہا ہے کیونکہ کل ابنائے جنس سے یہ معاملہ نہیں ہو گا، ایک سے اگر الجھے گا تو دوسرے کی طرف لپکے گا بھی۔ اس لئے جن مترجمین نے اس ٹکڑے کے معنی ''ایک دوسرے کے دشمن ہو کر'' کیے ہیں، وہواقعات کے بھی خلاف ہیں اور بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ کے جملہ کی روح کے بھی منافی ہیں۔

اِلٰى حِينٍ (وقت مقرر تک) فرمایا ہے، کیونکہ یہاں سدا نہیں رہنا، بس ایک مسافر کی طرح آئے، سفر کی منزلیں طے کر کے پھر اسے ادھر ہی و پلٹ جانا ہے، جہاں سے تشریف لائے تھے۔ اب یہاں سے تشریح کا وہ سلسلہ شروع ہونے کو ہے، جو اس کی تخلیق کا باعث تھا۔

نکتۂ صوفیاء:

حضرت آدم علیہ السلام کا خلد سے نکلنا، ایک عظیم المیہ اور حادثہ تصور کیا جاتا ہے۔ مختلف لوگوں نے اس کے مختلف اسباب بیان کیے ہیں، حضرت احمد بن محمد بن سہل بن عطا، رومی متوفی ۳۰۹؁ھ جو حضرت جنید بغدادی اور ابو سعید فراز، جیسے عظیم بزرگوں کے مصاحبوں میں سے تھے وہ فرماتے ہیں کہ:

حضرت آدم نے کہا کہ الٰہی: تو نے مجھے کیوں سزا دی، میں نے تو درخت محض تیرے جوار میں سدا رہنے کے لئے کھایا تھا؟ فرمایا: تو نے خلود درخت سے طلب کیا ہے۔ حالانکہ وہ شے میرے قبضے میں ہے (مختصر الواقع الانوار شعرانیؒ)

نامِ خدا کی شرم نے مارا:

جب خدا کا حکم تھا کہ اس درخت کے نزدیک بھی نہ جانا تو حضرت آدم علیہ السلام اس کے بھرے میں کیسے آگئے؟ حضرت امام ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ (ف ۷۵۱؁ھ) اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ جب نامِ خدا کا واسطہ دیا جاتا ہے تو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ''نامِ خدا کی'' عظمت کے پیشِ نظر اسے باور کر لیتے ہیں ، جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے چور کو چوری کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: تو نے چوری کی ہے؟ کہنے لگا: نہیں! اس اللہ پاک کی قسم جس کے سوا اور کوئی خدا نہیں! تو سن کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بولے، میں اللہ پر ایمان لایا اور اپنی آنکھوں کو جھٹلایا۔

وفي الصحیح أن عیسی ابن مریم علیه السلام رأی رجلا یسرق فقال سرقت؟ فقال: لا! والله الذي لا إله إلا ھو! فقال المسیح: اٰمنت باللہ وکذبت بصري۔ اغاثۃ اللھفان ص ۱۱۵، ج۱)

جس ذات پاک کی طرف سے وہ مبعوث ہوتے ہیں اگر وہ اس کے نام کا اعتبار نہ کریں تو اور کون کرے گا؟ کیونکہ جلالِ الٰہی اور جمالِ خداوندی کی ہیبت اور محبت سے ان کے دل لبریز ہوتے ہیں، اس لئے نام سنتے ہی فلسفہ و حکمت کے سارے ہتھیار ڈال دیتے ہیں، اور یہی کچھ یہاں ہوا۔