ہزاروں غم ہیں جان ناتواں ہے
میرے سینے سے اٹھتا اک دھواں ہے

نہ جادہ ہے نہ میر کارواں ہے
خدا جانے میری منزل کہاں ہے

عجب صیاد سے پالا پڑا ہے
سدا خطرے میں میرا آشیاں ہے

سمجھتا ہوں رموز بندگی میں
میرا سر اور تیرا آستاں ہے

بھلے لوگوں کا ہے اللہ والی
برے لوگوں کا حامی سب جہاں ہے