میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

اس بل کو منظوری کے نفاد شریعت ایک مجریہ 1986ء کہا جائے گا۔
○............ یہ سارے پاکستان پر فی الفور لاگو ہوگا۔
شریعت بل کی تعریف: شریعت سے مراد اسلام کے وہ تمام اصول ہیں جیسا کہ قرآن وسنت میں درج ہیں۔
شریعت کی بالادستی: کسی عدالت کے سامنے کسی معاملے کی سماعت کے دوران کوئی بھی فریق یہ سوال اٹھا سکتا ہے کہ قانون یا قانون کی کوئی شق، جس کا سماعت سے تعلق ہے، شریعت کے منافی ہے اس لیے اسے وفاقی شرعی عدالت کے سپرد کیا جائے۔
(وضاحت) اگر کوئی آدمی کسی معاملے کی سماعت کےدوران متعلقہ قانون یا اس کی شق کو خلاف اسلام قرار دیتا ہے او راس قانون یاشق کو وفاقی شرعی عدالت کے سپرد کردیا جاتا ہے تو بھی متعلقہ عدالت میں کیس کی سماعت جاری رہے گی لیکن اگر اس دوران وفاقی شرعی عدالت کوئی فیصلہ کرتی ہے تو وہ متعلقہ عدالت پر لاگو ہوتا ہے۔اس وضاحت کا مقصد صرف یہ ہے کہ لوگ عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کو طول دینے کی خاطر یوں ہی اٹھ کر وفاقی شرعی عدالت سے رجوع نہ کرنےلگیں۔
وفاقی شرعی عدالت کا دائرہ اختیار : وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے ہائی کورٹ اور تمام ماتحت عدالتوں پر لاگو ہوں گے۔
○۔ وفاقی شرعی عدالت کے کسی بھی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کے شرعی اپیلٹ بنچ اپیل کی جاسکے گی۔
○۔ وفاقی شرعی عدالت وقتاً فوقتاً رائج الوقت تمام قوانین کا جائزہ لے گی۔ جو قوانین اسلام کے منافی ہوں گے ان کی حد جو اسلام کے مطابق ہوں گی ان کی فہرست گزٹ نوٹیفیکیشن میں شائع ہوں گی۔ہر فقہ کے پیرو کاروں کے لیے شریعت ان کی فقہ کے مطابق ہوگی۔

دستور کی نویں ترمیم
چونکہ یہ قرین مصلحت ہے کہ بعد ازیں ظاہر ہونے والی اغراض کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور میں مزید ترمیم کی جائے۔ لہٰذا حسب ذیل قانون وضع کیا جاتا ہے۔
مختصر عنوان اور آغاز نفاذ: (1) یہ ایکٹ دستور (ترمیم نہم)ایکٹ 1985ء کے نام سے موسوم ہوگا۔ (2) یہ فی الفور نافذ العمل ہوگا۔
دستور کے آرٹیکل 3 کی ترمیم: اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور میں، جس کا حوالہ بعد ازیں دستور کے طور پر دیا گیاہے، آرٹیکل 3 میں آخر میں لفظ ''پاکستان'' کے بعد الفاظ '' اور اسلام کے احکام، جیسا کہ وہ قرآن و سنت سے ماخوذ ہوں، اعلیٰ ترین قانون او رراہنمائی کامنبع ہوں گے تاکہ وہ احکام پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے وضع کردہ قوانین کے ذریعے نافذ العمل ہون او ران کی روشنی میں حکومت کی پالیسی طے ہو'' کا اضافہ کردیا جائے۔

دستور کے آرٹیکل3، 2 ب کی ترمیم: دستور میں آرٹیکل3، 2ب میں پیرا (ج) میں ......... (الف)لفظ ''دستور'' کے بعد سکتے کی بجائے وقف کامل تبدیل کردیا جائے گا۔ (ب) الفاظ ''سکتے اور وقف ناقص'' مسلم شخصی قانون کسی عدالت یا ٹربیونل کے ضابطہ کار سے متعلق کوئی قانون یا اس باب کے آغاز نفاذ سے دس سال ختم ہونے تک، کوئی مالی قانون یامحصولات اور فیس عائد کرنےاو رجمع کرنے یابینکاری یا بیمہ کے عمل اور طریقہ کار سے متعلق کوئی قانون''اور'' حذف کردیئے جائیں گے۔


دستور کے آرٹیکل3، 2 د کی ترمیم: دستور میں آرٹیکل3، 2 میں شق (3) کے بعد حسب ذیل نئی شقاق کا اضافہ کردیا جائے گا، یعنی:
(3۔الف) اس باب میں شامل کسی امر کے باوجود کسی مالی قانون یا محصولات اور فیس عائد کرنے او رجمع کرنے یا بینکاری یا بیمہ کے عمل اور طریقہ کار سے متعلق کسی قانون کی نسبت عدالت کسی ایسے قانون کی صورت میں، جسے اس نے اسلام کے احکام کے منافی قرار دیا ہو، ایسے اشخاص کے ساتھ مشورے سے، جو اس موضوع میں خاص مہارت رکھتے ہوں، حکومت سے مخصوص اقدام اور ایسی مناسب مدّت کی سفارش کرے گی جس کے اندر معقول اقدام کئے جائیں اور مذکورہ قانون میں ترمیم کی جائے تاکہ اسے اسلام کے احکام کے مطابق بنایا جائے۔

مگر شرط یہ ہے کہ عدالت کے فیصلے موثر باماضی نہیں ہوں گے او ران پر بجنسہ بلاواسطہ یا بالواسطہ کوئی حق یا مطالبہ مبنی نہیں ہوگا۔

(3۔ب) دستور میں شامل کسی امر بشمول اس باب یا (3۔ الف)کے یااس کے بموجب کئے گئے کسی امر یااس کے برعکس کسی قانون یا کسی عدالت کے کسی فیصلے کے باوجود محصولات اور فیس عائد کرنےاور جمع کرنے یا بینکاری یا بیمہ کے عمل اور طریقہ کار سے متعلق تمام موجودہ قوانین، جو شق نمبر (3۔الف) میں متعلقہ عدالت کے فیصلے کا موضوع ہوں، اس وقت تک نافذ العمل رہیں گے جب تک کہ عدالت کے قطعی فیصلے کے، جس کا شق نمبر (3۔ الف) میں ذکر کیا گیا ہے، نتیجہ کے طور پر مقنّنہ کی طرف سے موجود قوانین کی جگہ متعلقہ قوانین وضع نہ کردیئے جائیں اورجب تک کہ مذکورہ قوانین نافذ العمل نہ ہوجائیں۔

مگر شرط یہ ہے کہ شقاق (3الف) اور (3ب) میں شامل کسی امر کا، کی گئی تشخیصات، صادر کردہ احکامات، زیرسماعت کارروائیوں او رواجب الادا اور وصول شدہ رقسم پر، شق (3 الف) کے بموجب وضع کردہ قوانین کے نفاذ سے پہلے ، اطلاق نہیں ہوگا۔

ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس کی دستوری سفارشات
برائے نویں آئینی ترمیم
قرآن و سنت کو پاکستان کا بالاتر (سپریم) قانون بنانا مقصود ہے اور موجودہ نواں آئینی ترمیمی بل چونکہ شریعت کے مطابق قانون سازی کے تقاضے پورے نہیں کرتا اس لیےورلڈ ایسو سی ایشن آف مسلم جیورسٹس (پاکستان زون) نے آئین میں ترمیم کے لیے حسب ذیل سفارشات مرتب کی ہیں تاکہ نویں آئینی ترمیمی بل کو اس کے مطابق بنایاجائے یا پھر اس کو پرائیویٹ بل کی صورت میں قومی اسمبلی میں پیش کیاجائے۔تنظیم کے ماہرین آئین و قانون نے دستور میں ترمیم کے لیے جو سفارشات مرتب کی ہیں، وہ حسب ذیل ہیں:
1۔ آئین کی شق نمبر 2 میں مندرجہ ذیل ترمیم کی جائے۔
(الف) قرآن و سنّت کو ملک کابالاتر (سپریم) قانون قرار دیا جائے گا۔
(ب) حکومت کے تمام ادارے، جس میں مقنّنہ، عدلیہ اور انتظامیہ او راس کے مسلم عمّال حکومت، جن میں صدر، گورنر، وفاقی اور صوبائی وزراء شامل ہیں، شریعت کے احکام کے پابندہوں گے۔
(ج)کسی دیگر قانون، رواج ، تعامل یابعض فریقوں کے مابین شامل کسی بھی امر کے لیے اس سے مختلف ہونے کے باوجود شریعت پاکستان کے بالاتر قانون ہونےکی حیثیت سےمؤثر ہوگی۔تاہم اگر یہ سوال پیدا ہو کہ آیا کوئی قانون اسلامی ہے یا غیر اسلامی، تو اس کا فیصلہ باب 3الف کے تحت کیا جائے گا۔

توضیح:
(الف) شریعت سے مراد قرآن اور سنّت ہے۔
(ب) قرآن و سنّت کے احکام کی تعبیر کے لیے مندرجہ ذیل مآخذ سے رہنمائی حاصل کی جائے گی:
1۔ تعامل اہل بیت عظام و صحابہ کرامؓ
2۔ سنت خلفائے راشدینؓ
3۔ اجماع اُمت
4۔ مسلّمہ فقہاء و مجتہدین کی تشریحات

(ج) قرآن و سنّت کی تعبیرکا وہی طریقہ کار معتبر ہوگا، جو مسلّمہ مجتہدین کے علم اصول تفسیر او رعلم اصول حدیث و فقہ اور اجتہاد کے مسلّمہ قواعد و ضوابط کے مطابق ہوگا۔
اسی شق نمبر 2 میں ذیلی شق 2 (ب)کا اضافہ کیا جائے جو حسب ذیل ہے:
(2ب) کوئی قانون، یا قانون کی کوئی شق، جو قرار داد مقاصد میں دیئے گئے حقوق سے متصادم ہو، اسے کالعدم اور منسوخ قرار دیا جائے گا۔

3۔ آئین کے آرٹیکل 31 کی ذیلی شق (ج) کے بعد (د)، (ہ)، (و) اور (ز) کا اضافہ کیا جائے۔ جو حسب ذیل ہے:
(د) انتظامیہ، عدلیہ اور مقنّنہ کے ہر فرد کے لیے فرائض شریعت کی پابندی او رمحّرمات سے اجتناب لازم ہوگا او رجو شخص اس کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا وہ مستوجب سزا ہوگا (بشرطیکہ کسی دوسرے قانون کے تحت یہ جرم مستوجب سزا قرار نہ دیا گیا ہو)
(ہ) خلاف شریعت کاروبار، حرام طریقوں سے دولت کمانا ممنوع ہوگا اور جو شخص اس کی خلاف ورزی کرے گا، وہ مستوجب سزا ہوگا (بشرطیکہ کسی دوسرے قانون کے تحت یہ جرم مستوجب سزا نہ ہو)
(و) شریعت کے اصولوں کے مطابق تعلیم کا انتظام۔
(ز) عدلیہ اور دوسرے محکموں کے لیے موزوں اشخاص کا انتخاب اور تقرر۔

(4) آئین کے آرٹیکل177 میں علماء کے عدلیہ اور دیگر اداروں میں تقرر کے بارے میں ترمیم کیجائے۔

(5) آئین کے آرٹیکل 203۔بی، جو شق وفاقی شرعی عدالت سے متعلق ہے، کو حذف کیا جائے۔

(6) ''دستور'' اور ایسا ''رواج'' اور ''عرف'' جس نے قانون کی حیثیت اختیار کرلی ہے، قانون کی تعریف میں شامل کیا جائے۔

(7) آرٹیکل 203۔ڈی، (جو وفاقی شرعی عدالت سے متعلق ہے) اس میں 3۔اے ک حسب ذیل اضافہ کیا جائے۔

3۔اے۔ ''ان تمام قوانین کے باوجود، جو آئین کے اس باب میں شامل ہیں، وہ قانون جو مالیات سے متعلق ہے، یا اُن کا تعلق کسی ٹیکس، فیس کی وصولی، بنکنگ، انشورنس او ران کےمتعلقہ ضابطوں سے ہے، کے بارے میں ان علماء سے جو شریعت میں دسترس رکھتے ہوں ، مشورہ کرکے گورنمنٹ کو پابند کیا جائے گا کہ وہ 90 دن کے اندر قانون میں ترمیم کرکے اسے قرآن و سنّت سے ہم آہنگ کرے۔

آرٹیکل(2) 203۔ڈی کی کلاز (اے) میں ''صدر '' اور ''گورنر'' کا لفظ آیا ہے۔ ان کی بجائے ''قومی اسمبلی'' اور''صوبائی اسمبلی'' کے الفاظ شامل کئے جائیں۔

(9) آرٹیکل230(جو اسلامی کونسل سے متعلق ہے) میں حسب ذیل ترامیم کی جائیں: اس کی کلاز (بی) میں مشاورت کی رپورٹ ریفرنس سے 60 دن کے اندر اندر بھجوانے کے لیے اسلامی کونسل کو پابند کیا جائے گا۔ ذیلی دفعہ (2) حذف کی جائے۔ ذیلی دفعہ (4) میں''7سال'' کی مدت کی بجائے ''3 سال'' اور ''2سال'' کی بجائے ''6 ماہ'' کی مدّت کے الفاظ شامل کیے جائیں اور وفاقی یا صوبائی اسمبلیوں کو پابند کیا جائے کہ وہ اسلامی کونسل کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد اس کے مطابق ، یا اس میں ترمیم و اضافہ کے بعد، جیسی بھی صورت ہو، متعلقہ قانون کو قرآن و سنت کے مطابق بنائیں۔

(10) آئین کے آرٹیکل 233 (جو ہنگامی حالات سے متعلق ہے) میں ترمیم کی جائے۔ او رہنگامی حالات میں بھی ان حقوق کو، جوقرآن و سنت نےکسی شخص یا فریق کو عطا کئے ہیں اور جو قرار داد مقاصد میںدرج ہیں، معطل کرنےکا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔

(11) آئین کے آرٹیکل 248 (جس کے تحت صدر، گورنر اور وزراء کوقانونی تحفظات دیئے گئے ہیں)کو حذف کردیاجائے۔ البتہ صدر اور گورنر کے خلاف دیوانی یا فوجداری کارروائی سے قبل 60 دن کا نوٹس دینا ہوگا اور اس سلسلہ میں ان کے خلاف سماعت کا اختیار سپریم کورٹ کو ہوگا۔ ان کے خلاف الزام یا دعویٰ غلط یا جھوٹا ثابت ہونے کی صورت میں فریق کارروائی کوشرعی قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔ البتہ ان کے خلاف کسی عدالت سے گرفتاری کے وارنت جاری نہیں کئے جائیں گے۔دعویٰ یا الزام ثابت ہونےکی صورت میں ان کو ملک کے قانون کےمطابق سزا دینے کا اختیار سپریم کورٹ کو حاصل ہوگا۔

(12) آئین کے جدول نمبر 3 میں''حلف'' کے الفاظ میں ترمیم کرکے آئین کے ساتھ ''قرآن اور سنت کے تقدس اور تحفظ'' کے الفاظ کا اضافہ کیا جائے۔

(13) آئین کے جدول نمبر 4 کے حصہ دوم، آئٹم نمبر 48 کا اضافہ کیا جائے جو حسب ذیل ہے:
''(48) شریعت میں وہ تمام امور شامل ہوں گے جو اس سے متعلق ہیں۔''

تاکہ اس سے وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں کو قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی کے اختیارات حاصل ہوں۔