عزیز گرامی قدر ڈاکٹر حافظ حسن مدنی سلّمك الله تعالىٰ وعافاك
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ !
ماہنامہ 'محدث' شمارہ مئی 2012ء میں آپ کا تحریر کردہ گرامی قدر اداریہ بعنوان ''مسئلہ تکفیر و خروج اور علما کی ذمے داری'' نظر نواز ہوا۔ ماشاء اللہ پڑھ کر بڑی خوشی ہوئی!
؏ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
بین الاقوامی استعمار اور اس کے اتحادیوں کی افغانستان و عراق، پاکستان اور صومالیہ وغیرہ اسلامی ممالک میں کھلی جارحیت اور چیرہ دستیوں اور ان ممالک میں مسلط امریکی غلام اور پٹھوؤں کی طرف سے اس ظلم و جبر کی حمایت کی وجہ سے مسلمان نوجوانوں میں اسلام دشمن طاقتوں کے ساتھ ان حکمرانوں کے خلاف بھی غیظ و غضب کے جو شدید جذبات پیدا ہورہے ہیں جو اُن کے ایک گروہ کو تکفیر و خروج تک پہنچانے کا باعث بن رہے ہیں۔ اس پر آپ نے بڑے اعتدال و توازن کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔اس میں ایک طرف نوجوانوں کے جذبات کو سمجھنے کی تلقین کی گئی ہے اور دوسری طرف علما کو اس انتہائی اہم مسئلے میں اپنی ذمے داریاں ادا کرنے کی اہمیت اجاگر کی گئی ہے۔
اسی طرح سرحدی محاذ اور قبائلی علاقوں میں باطل سے برسرپیکار افراد اور تنظیموں کو جو دہشت گرد قرار دے کر اپنے او ربیگانے سب ان کو ظلم و ستم کا نشانہ بنا رہے ہیں، اس پر تمام اسلامی جماعتوں اور تنظیموں کی خاموشی یا نیم خاموشی کو بھی بجا طو رپر ایک بڑے المیے سے تعبیر کیاگیا ہے۔یہ تمام باتیں بلا شبہ مسلمانوں کی خاموش اکثریت کے دلی جذبات کی ترجمانی ہے، ان کی دھڑکنوں سے ہم آہنگ ہیں اوراِن حالات سے نمٹنے کے لیے صحیح راہ عمل کی نشاندہی ہے۔
راقم دل کی اتھاہ گہرائیوں سے عزیز محترم کو اس اداریے پر مبارک باد پیش کرتا ہے کہ اُنہوں نے وقت کے ایک نہایت اہم مسئلے پر نہایت سلامت فکری کے ساتھ روشنی ڈالی اور اس کے تمام پہلوؤں کو پوری وضاحت سے اجاگر کیا ہے۔جزاک اللہ احسن الجزاء
مرحبا مؤذن بروقت بولا تری آواز مکّے اور مدینے
حافظ صلاح الدین یوسف، لاہور
28 مئی 2012ء
--------*-------- * --------
محترم جناب ڈاکٹر حافظ حسن مدنی صاحب مدیرماہنامہ 'محدث' لاہور
السلام علیکم !
'محدث' کا ماہ مئی2012ء کا شمارہ ہاتھوں میں ہے۔ سچی بات ہے کہ اس پُر فتن دور میں یہ مجلّہ ایک چراغ کی حیثیت رکھتا ہے۔ بالخصوص اس دور میں فتنہ تکفیر اور اس کے داعیان کی سرکوبی او راس کے شر سے عامۃ الناس کو بچانے کے لیے اس کی خدمات قابل تحسین ہیں۔
اسی شمارہ میں اپنے برادرِ عزیز حافظ عبدالرشید اظہر ﷫ کے بارے میں مضامین بالخصوص جامعہ لاہور اسلامیہ کے ساتھ اُن کے دلی تعلق کو جان کر خوشی ہوئی۔ علم تو تھا ہی کہ جامعہ کے ساتھ اُن کی لگن انتہا کی تھی جس کا ذکر وہ خود کیا کرتے تھے مگر معلومات میں اضافہ ہوا۔
میں آپ کا شکرگزار بھی ہوں ۔ سچی بات ہے کہ یہ صدمہ صرف میرے لئے یا ہمارے خاندان کے لئے نہیں بلکہ عالم اسلام کے سب علم دوست لوگ اِس سے رنج و اَلم کا شکار ہیں۔ یادگاروں اور یادداشتوں کا ایک وسیع و عریض سلسلہ میرے ذہن میں گردش کررہا ہے،مگر علالت کے سبب ان کو احاطہ تحریر میں لانا ممکن نظر نہیں آرہا۔ میں نے 'الاعتصام' کے لیے ایک تحریر لکھی تھی، لیکن فوٹو کاپی بھی نہیں کروا سکا۔ علالت کے سبب دوبارہ بھی نہ لکھ سکا۔ آپ سے گزارش ہے کہ ان سے وہ تحریر حاصل کرکے 'محدث' میں ضرور شائع کردیجئے۔
1955ء میں مولانا علی محمد سعیدی﷫ نے مجھے جامعہ سعیدیہ میں تدریس کے لیے نامزد فرمایا۔ 1962ء کے قریب مولانا نے شعبہ کتب خانیوال منتقل کرلیا اور شعبہ حفظ کی ذمہ داری میرے حوالے کرگئے۔ میں اسی وقت سے اس جگہ خطابت، امامت اور حسبِ توفیق دین کی نشرواشاعت میں مصروف ہوں اور اب تو الحمدللہ طالبات کی تعلیم و تربیت کے لیے طیبہ ایجوکیشن کمپلیکس کے نام سے بھی مستقل اِدارہ مصروف عمل ہے۔
جامعہ سعیدیہ کی خانیوال منتقلی کے بعد سے شعبہ حفظ اسی گاؤں میں موجود ہے۔ جس میں الحمدللہ پاکستان کی نامی گرامی شخصیات مثلاً مفتی حافظ عبدالستار الحماد، حافظ عبدالرزاق مسعود (برطانیہ)، ڈاکٹر حافظ محمد انور (اسلام آباد)اور سینکڑوں کی تعداد میں اہل علم شامل ہیں جنہوں نے میرے پاس قرآن کریم حفظ کیا۔
بھائی عبدالرشید اظہر نے ہمارے آبائی گاؤں حفظ کیا اور منزل مجھے سنائی۔ اس کے بعد بھائی کے تمام تعلیمی مراحل کی ذمہ داری، نگرانی میرے سپرد تھی اور میں نے ہمیشہ اُنہیں اپنے پر ترجیح دی۔ بھائی نے ہمیشہ میرا بہت احترام کیا۔ بھائی کی تینوں بیٹیاں بھی میرے بیٹوں:عزیزم عبداللطیف ساجد، عبدالوکیل، عبدالجلیل (جو جامعہ لاہور الاسلامیہ میں زیر تعلیم بھی رہے) اُن کے حبالہ عقد میں ہیں۔ غرض یادیں ہی رہ جاتی ہیں۔ میں آپ کا نہایت مشکور ہوں کہ آپ نے بھائی کی خدمات کو سراہا۔ تمام قارئین سے بھی بھائی کے لیے دعائے مغفرت کی درخواست ہے۔
ویسے تو مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ضرور بھائی کو شہدا کے مقام و مرتبہ پر فائز کرے گا اور بھائی کی نگرانی میں چلنے والا ادارہ بھی ان کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔ بہت خوشی ہوئی حالیہ دنوں میں جامعہ سعیدیہ جاکر کہ برخوردار مسعود اظہر ادارے کے انتظام و انصرام میں مصروفِ عمل ہیں اور خاص کر جامعہ کے طلبا کی تعداد اور نظم و ضبط اطمینان بخش ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس طرح اس ادارے سے دین کے داعی پیدا کرے جس طرح اسی جامعہ کے فاضلین ڈاکٹر عبدالرشید اظہر ﷫، حافظ عبدالستار الحماد اور سینکڑوں اصحابِ علم تیار کئے۔اللہ تعالیٰ آپ کو بھی استقامت عطا فرمائے ۔میری طرف سے برادرِ مکرم حافظ عبدالرحمٰن مدنی ﷾ کی خدمت میں سلام عرض کیجئے گا۔والسلام
حافظ عبدالستار1 بن عبدالعزیز
برادرِ اکبر ڈاکٹر عبدالرشید اظہر

حوالہ جات
1. حکیم حافظ عبدالستار، خطیب مرکزی جامع مسجد طیبہ اہلحدیث، ٹبہ،تحصیل میاں چنوں ضلع خانیوال