Ttiel Page

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

1۔ یہ روزہ کا مہینہ ہے:
﴿فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهرَ‌ فَليَصُمهُ -- ١٨٥ ﴾.... سورة البقرة
'' تم میں سے جوکوئی رمضان کا مہینہ پائے تو وہ روزے رکھے۔''
سیدنا ابو ہریرہ سے مروی حدیث ِ نبوی ؐ میں ہے:
«مَن صَام رمضان إیمانًا واحتسابًا غُفرله ما تقدم من ذنبه»1
''جس نے رمضان کے روزے ایمان او راحتساب کے نیت سے رکھے، اس کے گزشتہ گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ ''
سیدنا ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«کل عمل ابن آدم إلا الصیام فإنّه لي وأنا أجزي به»2
''ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے، سوائے روزہ کے۔ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔''
2۔  رمضان کی راتوں کا قیام اور عبادت بھی سنت سے ثابت ہے:
سیدنا ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:
«من قام رمضان إیمانًا واحتسابًا غُفر له ما تقدم من ذنبه»3
''جس نے رمضان کا قیام ایمان اور ثواب کی نیت سے کیا، اس کے پہلے تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔''
﴿إِنَّ ناشِئَةَ الَّيلِ هِىَ أَشَدُّ وَطـًٔا وَأَقوَمُ قيلًا ٦ ﴾.... سورة المزمل
''رات کا اُٹھنا نفس کو یقیناً زیر کرنیوالا ہے او ربات کوزیادہ درست بنانے والا ہے۔''
3۔  رمضان مبارک تلاوتِ قرآن کے لیے موزوں ترین وقت ہے:
«عن أبي ذر رضي الله عنه قال صُمنا رسول الله ﷺ فلم یُصلّ بنا حتى بقي سبع من الشهر فقام بنا حتى ذهب ثلث اللیل ثم لم یقم بنا في السادسة وقام بنا في الخامسة حتى ذهب شطر اللیل وقلنا له یارسول الله! لو نفلتنا بقیة لیلتنا هٰذا؟ فقال: «إنه من قام مع الإمام حتى ینصرف، کُتب له قیام لیلة» ثم لم یصل بنا حتی بقي ثلاث من الشهر وصلىٰ بنا في الثالثة ودعا أهله ونساءه فقام بنا حتى تخوّفنا الفلاح. قلت له: وما الفلاح؟ قال: السّحور»4
''سیدنا ابوذرّ فرماتے ہیں كہ ہم نے رسول اکرمﷺ کے ساتھ روزے رکھے۔ آپ نے تیئسویں رات تک ہمیں رات کو نماز نہیں پڑھائی۔ جب رمضان کی سات راتیں رہ گئیں یعنی تیئسویں رات کو ہمیں قیام کروایا حتیٰ کہ تہائی رات گزر گئی پھر اس سے اگلی رات نماز نہ پڑھائی، لیکن پچیسویں رات کو آدھی رات تک نماز پڑھائی۔ ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ ﷺ ہماری آرزو تھی کہ آپ باقی رات بھی ہمیں نماز پڑھاتے۔آپﷺ نے فرمایا کہ جوشخص امام کے ساتھ اس کے فارغ ہونے تک نماز میں شریک رہا،اُس کے لیے پوری رات کا قیام لکھ دیا گیا۔ پھر آپ ؐ نے ستائیسویں رات تک قیام نہ کروایا،پھر ستائیسویں رات کو کھڑے ہوئے اور ہمارے ساتھ اپنے گھر والوں اور ازواجِ مطہرات کو بلایا۔ پھر آپﷺ نے ہمیں قیام کروایا حتیٰ کہ ہمیں خوف ہوا کہ فلاح نکل جائے گی ۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نےکہا : 'الفلاح' کیا ہے ؟ اُنہوں نے کہا: سحری۔''
4۔  یہ ذاتی اصلاح کا مہینہ ہے: فرمانِ نبویﷺ ہے:
«من لم یَدع قول الزور والعمل به والجهل فلیس لله حاجة أن یدع طعامه وشرابه»5
''جس نے جھوٹی بات ، غلط حرکتیں او رجہالت کی باتیں نہ چھوڑیں تو اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرورت نہیں ہے کہ وہ اپنا کھانا او رپینا چھوڑے۔''
سیدنا ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:
«لیس الصیام من الأکل والشرب إنما الصیام من اللّغو والرَّفث فإن سابك أحد أو جهل علیك فلتقُل: إني صَائم، إني صَائم»6
''روزہ محض کھانا پینا چھوڑنانہیں ہے بلکہ روزہ تو ہر بے فائدہ او ربے ہودہ کام اور جنسی حرکات و کلام سے بچنے کا نام ہے۔ لہٰذا اگر کوئی تمہیں گالی دے یا جہالت کی باتیں کرے تو کہو: میں روزے دار ہوں میں روزے دار ہوں۔''
5۔  یہ اپنے اندر صبر پیدا کرنے کا مہینہ ہے:
﴿إِنّى جَزَيتُهُمُ اليَومَ بِما صَبَر‌وا أَنَّهُم هُمُ الفائِزونَ ١١١﴾.... سورة المؤمنون
''‏‏بے شک میں آج کے دن ان کو ان کے صبر کی جزا دوں گا اور وہ کامیاب ہونے والے ہیں۔''
سیدنا ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
«الصیام جُنّة وإذا کان یوم صوم أحدکم فلا یرفث ولا یصخب فإن سابه أحد أو قاتله فلیقُل إني امرؤ صائم»7
''روزہ ڈھال ہے اور جس دن تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو نہ وہ جنسی حرکات کرے اور نہ وہ شور مچائے ۔اگر اسے کوئی گالی دے یا اس سے لڑے تو وہ کہے: میں روزہ دار ہوں۔''
سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«لِكُلِّ شَيْءٍ زَكَاةٌ وَزَكَاةُ الْجَسَدِ الصَّوْمُ». زَادَ مُحْرِزٌ فِى حَدِيثِهِ وَقَالَ رَسُولُ الله ﷺ: «الصِّيَامُ نِصْفُ الصَّبْرِ»8
'' ہر شے کی زکوٰۃ ہے اورجسم کی زکوٰۃ صوم ہے، اور فرمايا :روزہ نصف صبر ہے۔''
6۔  رمضان ماہِ عبادت ہے!
ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ احکم الحاکمین نےاس کائنات کو بنانے کے بعد اس کی نشوونما اور حیات کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ ذرا زمین پیاسی ہوئی، پتے زرد ہوئے، نباتات و جمادات بارانِ رحمت کے طلبگار ہوئے، انسان و حیوان پانی کو ترسےتو اللہ کی رحمت کو جوش آگیا۔ ہوائیں چلیں، بدلیاںسمٹ سمٹا کر آئیں، اکٹھی ہوئیں، بجلیاں چمکیں اور اللہ کے حکم سے زمین سیراب ہونے لگی۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَهُوَ الَّذى يُنَزِّلُ الغَيثَ مِن بَعدِ ما قَنَطوا وَيَنشُرُ‌ رَ‌حمَتَهُ وَهُوَ الوَلِىُّ الحَميدُ ٢٨﴾.... سورة الشورىٰ
''وہی تو ہے جو بارش برساتا ہے، لوگوں کے مایوس ہوجانے کے بعد اور اپنی رحمتیں پھیلاتا ہے اور وہ ولی ہے، حمید ہے۔''
وہ اللہ رب العزّت جو مادی حیات کا انتظام کرنے والے ہیں، وہ انسان کی روحانی حیات کا بھی بندوبست فرماتے ہیں۔ انسانیت جب اپنی ہی کوتاہیوں غلطیوں او رناعاقبت اندیشیوں کی بنا پر سسکنے لگتی ہے تو اللہ رحمٰن و رحیم کی رحمت جوش میں آتی ہے۔ گیارہ ماہ انسان دنیا داریاں کرکے اللہ سے دور بہت دورنکل جاتا ہے۔ گناہوں کی دلدل میں پھنس کر گویا روحانی طور پر قریب المرگ ہوجاتا ہے۔ فسق و فجور کی تپتی لو ایمان کے چمنستان کو خزاں رسیدہ کردیتی ہے۔ تو باری تعالیٰ رمضان المبارک کی صورت میں حیاتِ روحانی کا بندوبست کرتے ہیں۔
آپﷺ نے فرمایا:
«إذا دخل رمضانُ فتحت أبواب الجنّة وغلّقت أبواب جهنم وسُلسلت الشیاطین» وفي روایة «أبواب الرحمة»9
''جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں او رجہنم کےدروازے بند کردیے جاتے ہیں۔ شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں اور ایک روایت کے مطابق رحمتوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔''
انسان مادہ و روح دو چیزوں سےمرکب ہے۔ یہ بھی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا عجب نظام ہے۔ اگر اس کا جسم مٹی سےبنا ہے تو اس کی خوراک تمام تر اسی مٹی سے پیدا ہوتی ہے او راس کی روح آسمانوں سے آئی ہے تو اس روح کی خوراک و حیات کا بندوبست بھی آسمانوں سے ہوتا ہے۔ وحی الٰہی اُترتی ہےجو انسان کی ہدایت کاباعث ہے۔ لاکھوں انبیا کی بعثت کے بعد اب جب کہ قیامت تک کوئی نبی نہیں آنا، اسی وحی اور نزولِ قرآن کی یاد کو اللہ تعالیٰ رمضان کی صورت زندہ کرتے رہتے ہیں: ﴿شَهرُ‌ رَ‌مَضانَ الَّذى أُنزِلَ فيهِ القُر‌ءانُ .... ١٨٥﴾.... سورة البقرة
تو ماہِ رمضان ارواح کے لیے حیات کا پیغام لے کرآتا ہے۔ نیکی کی فضا بیک وقت تمام دنیا پر چھا جاتی ہے۔ یہ ماہ جونہی آتا ہے ،مشرق سے مغرب تک اور شمال سے جنوب تک ساری دنیا کےمسلمان ایک نشاط انگیز کیفیت محسوس کرتے ہیں۔ خوابِ غفلت سے بیدار ہوتے ہیں۔ اُنہیں یاد آتا ہے کہ ہدایتِ الٰہی کے سرچشمے اسی ماہِ حرا سے پھوٹے تھے ۔ سو تلاوت ، ذکر و فکر ، عبادتِ الٰہی، شب بیداری، تراویح اور قیام کی رونقیں ہر سو نظر آنے لگتی ہیں۔
یقیناً اللہ ذو الجلال والاکرام نے ہر ماہ مسلمانوں کے لیے ایک انتہائی قیمتی سرمایہ بنایا ہے کہ جس میں وہ رات ہے جس کے بارے حق تعالیٰ اپنے پیارے نبی ﷺسے فرماتے ہیں:
﴿إِنّا أَنزَلنـٰهُ فى لَيلَةِ القَدرِ‌ ١ وَما أَدرىٰكَ ما لَيلَةُ القَدرِ ٢﴾.... سورة القدر
اس ماہ سے کماحقہ فائدہ اُٹھانے کے لیے ہمیں دیکھنا چاہیےکہ نبی اکرم ﷺ نے یہ ماہ کیسے گزارا اور کیا کیا اعمال بجا لائے؟ یقیناً ہمارے لئے تمام کی تمام خیر آپ کی اتباع میں ہے۔ ہر گندگی کو دور کرنے والی کوئی نہ کوئی چیز اللہ نے بنائی ہے او رجسم کو پاک کرنے والی چیز روزہ ہے او رروزہ آدھا صبرہے۔
7۔  کثرت سے دعا کرنا : آپﷺ نے فرمایا:
«إن للصائم عند فطره لدعوةً ما تردّ»10
''یقیناً روزہ دار کےلیے افطاری کے وقت کی دعا ردّ نہیں کی جاتی۔''
مزید فرمایا:
«ثلاث دعوات لا تردّ: دعوة الوالد ودعوة الصائم ودعوة المسافر»11
''تین دعائیں ردّ نہیں کی جاتیں:1۔ والد کی دعا،2۔ روزہ دار کی ،3۔مسافر کی دعا۔''
«إن لله تبارك وتعالىٰ عتقاء في کل یوم و لیلة یعني في رمضان وإن لکل مسلم في کل یوم ولیلة دعوة مستجابة»12
''اللہ تبارک و تعالیٰ ہر دن اور ہر رات آزاد کرتے ہیں (جہنم سے)۔ یعنی رمضان میں اور ہر مسلمان کے لیے ہر دن اور ہر رات میں دعا قبول کی جاتی ہے۔''
8۔  صدقہ و خیرات کثرت سے کرنا :
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے:
«کان النبي ﷺ أجود الناس بالخیر وکان أجود مایکون في رمضان حین یلقاه جبریل یلقاه کل لیلة في رمضان حتى ینسلخ یعرض علیه النبي ﷺ القرآن فـإذا لقیه جبریل کان أجود بالخیر من الریح المرسلة»13
''آپﷺ بھلائیاں کرنے میں سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں اور بھی سخی ہوجاتے؛ جس وقت جبریل آپﷺ سے ملتے۔ جبریل رمضان کی ہر رات آپﷺ سے ملتے۔ یہاں تک کہ رمضان گزر جاتا۔ آپﷺ جبریل پر قرآن پیش کرتے تو جب جبریل آپﷺ سے ملتے تو مال خرچ کرنے میں اس قدر سخی ہوجاتے جیسے تیز چھوڑی ہوئی ہوا ہو۔''
ارشاد نبویﷺ ہے:
«من فطر صائمًا کان له مثل أجره غیر أنه لا ینقص من أجر الصائم شیئًا»14
''جس کسی نے روزہ افطار کروایا تو اس کا اجر روزہ دار کے اجر کی مثل ہے، روزہ دار کے اجر میں کچھ بھی کمی کئے بغیر۔''
9۔  عمرہ کرنا: سیدنا انس بن مالک نبی کریمﷺ کا یہ فرمان روایت کرتے ہیں:
«عمرة في رمضان کحجة معي»15
''رمضان میں عمرہ کرنا میرے ساتھ حج کرنے کی طرح ہے۔''
ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ جب نبی اکرمﷺ حجۃ الوداع سے واپس آئے تو آپﷺ نے اُم ّسنان انصاریہ سے پوچھا :
«ما منعك من الحج؟» قالت: أبو فلان تعني زوجها کان له ناضحان، حجّ عليٰ أحدهما والآخر یسقِي أرض لنا. قال: «فإن عمرة في رمضان تقضي حجة أوحجة معي»16
''تو حج کرنے نہیں گئی؟ اُنہوں نے کہا: فلاں کے باپ یعنی اُس کے شوہر کے پاس دو اونٹ تھے۔ ایک پر وہ خود حج پر چلے گئے اور دوسرا ہماری زمین سیراب کرتا ہے۔ آپؐ نےفرمایا: رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے یا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔''
10۔  سحری و افطاری:آپﷺ نے فرمایا:
«إن الله وملائکته یصلون على المتسحرین»17
''بے شک اللہ تعالیٰ او راس کے فرشتے سحری کرنے والوں پر درود بھیجتے ہیں۔''
ارشادِ نبویﷺ ہے:
«تسحروا فإن في السحور برکة»18
''تم سحری کیا کرو ،یقیناً سحری میں برکت ہے۔''
سیدنا انس بن مالک سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
«کان رسول الله ﷺ یفطر علىٰ رطبات قبل أن یصلي فإن لم یکن رطبات فعلىٰ تمرات فإن لم یکن حسا حسوات من ماء»19
''رسول اللہﷺ کھجوروں کے ساتھ نماز پڑھنے سے پہلے روزہ افطار کرتے۔ اگر کھجوریں تازہ نہ ہوتیں تو خشک کھجوروں کے ساتھ اور اگر وہ بھی نہ ہوتیں تو پانی کے گھونٹ کے ساتھ۔''
11۔  اعتکاف:
حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں:
«کان النبي ﷺ یعتکف في كل رمضان عشرة أیام. فلمّا کان العام الذي قبض فیه، اعتکف عشرین یومًا»20
''نبیﷺ ہر رمضان میں دس دن اعتکاف کرتے تو جب وہ سال آیا جس میں آپ فوت ہوئے تو آپﷺ نے بیس دن اعتکاف کیا۔''
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
«أن النبي کان یعتکف العشر الأواخر من رمضان حتى توفاه الله ثم اعتکف أزواجه من بعده»21
''رسول اللہﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے یہاں تک کہ اللہ نے آپﷺ کو فوت کرلیا۔ پھر آپﷺ کے بعد آپ ﷺ کی بیویاں اعتکاف بیٹھا کرتیں۔''
12۔  آخری دس راتوں میں ان تمام عبادات میں مزید محنت و کوشش کرنا:
حضرت عائشہؓ سے مروی ہے:
«إذا دخل العشر شد مئزره وأحیا لیله وأیقظ أهله»22
''جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو کمر ہمت کس لیتے۔ اس کی راتوں کو خود بھی جاگتے اور اپنے اہل خانہ کو بھی جگاتے۔''
حضرت عائشہؓ سے مروی ہے:
«کان رسول الله ﷺ یجتهد في العشر الأواخر مالایجتهد في غیره»23
''رسو ل ﷺ باقی دنوں کی نسبت آخری عشرے میں خوب محنت و کوشش کرتے۔''
نبی کریمﷺ نے فرمایا:
«أیقظوا صواحب الحجر»24
''حجرے والیوں کو جگاؤ۔''
حضرت عائشہؓ سے مروی ہے:
«کا ن لا یدخل البیت إلا لحاجة إذا کان معتکف»25
''سوائے انتہائی ضرورت کے آپﷺ گھر میں داخل نہ ہوتے، جب آپ ﷺ آخری عشرے میں اعتکاف میں ہوتے تھے۔''
13۔  لیلۃ القدر کی تلاش میں محنت:
﴿إِنّا أَنزَلنـٰهُ فى لَيلَةِ القَدرِ‌ ١ وَما أَدر‌ىٰكَ ما لَيلَةُ القَدرِ‌ ٢ لَيلَةُ القَدرِ‌ خَيرٌ‌ مِن أَلفِ شَهرٍ‌ ٣ تَنَزَّلُ المَلـٰئِكَةُ وَالرّ‌وحُ فيها بِإِذنِ رَ‌بِّهِم مِن كُلِّ أَمرٍ‌ ٤ سَلـٰمٌ هِىَ حَتّىٰ مَطلَعِ الفَجرِ‌ ٥﴾.... سورة القدر
''لیلۃ القدر ہزارمہینوں سے بہتر ہے۔فرشتے اور جبریل اس میں اُترتے ہیں، اپنے ربّ کے حکم سے ہرمعاملہ لیکر اور یہ رات طلوعِ فجر تک سراسر سلامتی ہے۔''
سيدنا انس بن مالك روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:
«إن هٰذا الشهر قد حضرکم وفیه لیلة خیر من ألف شهر من حرمها فقد حرم الخیر کل ولا یُحرَم خیره إلا محروم»26
''یہ مہینہ جو تم پر آیاہے۔ اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار رات سے بہتر ہے۔ جو شخص اس سے محروم رہا۔ وہ تمام بھلائیوں سے محروم رہا اور اس رات کی بھلائیوں سے بدنصیب ہی محروم رہتا ہے۔''
دوسری جگہ فرمایا:
«من قام لیلة القدر إیمانًا واحتسابا غُفِرله ما تقدم من ذنبه»27
''جو لیلۃ القدر کو ایمان و احتساب سے قیام کرتا رہا، اُس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے گئے۔''
سیدنا ابن عباس سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
«التمسوها في العشر الأواخر من رمضان»28
''اسے رمضان کے پچھلے دس دنوں میں تلاش کرو۔''
''سیدہ عائشہ ؓسے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:
«تحروا الیلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من رمضان»29
''لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کی محنت کرو۔''
آپﷺ نے سیدہ عائشہؓ کولیلۃ القدر میں پڑھنے کے لیے یہ دعا سکھلائی:
«اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني»30
''اے اللہ! آپ معاف کرنے والے ہیں۔ معافیوں کو پسند کرتے ہیں۔ مجھے بھی معاف فرمائیں۔''
لیلۃ القدر کو جو فضیلت حاصل ہے،اس کا اصل سبب یہ ہے کہ اس رات میں قرآنِ مجید نازل ہوا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے:
﴿حم ١ وَالكِتـٰبِ المُبينِ ٢ إِنّا أَنزَلنـٰهُ فى لَيلَةٍ مُبـٰرَ‌كَةٍ إِنّا كُنّا مُنذِر‌ينَ ٣﴾.... سورة الدخان
''حم.. قسم ہے کتاب ِمبین کی ۔ یقیناً ہم نے اس کو نازل کیا لیلہ مبارکہ میں۔ یقیناً ہم ہی ڈرانے والے ہیں۔''
14۔  قرآن کریم کی کثرتِ تلاوت
رمضان میں کرنے والی تمام نیکیوں میں ایک اہم ترین مقام قرآنِ مجید کا ہے، کیونکہ رمضان اور لیلۃ القدر کی تمام فضیلتیں اسی کے نزول کے گرد گھومتی ہیں۔ یہی قرآن اس تمام خیر کا سرچشمہ ہے۔ اس لیے رمضان المبارک میں آپﷺ کا قرآنِ مجید سے تعلق پہلے کی نسبت بہت بڑھ جاتا۔
آپ کثرت سے قرآن مجیدکی تلاوت فرماتے۔ جیسا کہ حدیثِ نبوی میں آتا ہے:
«وکان جبریل یلقاه کل لیلة في رمضان حتى ینسلِخ، یَعرِضُ علیه النبيُّ القرآنَ»31
''اور جبریل رمضان میں ہررات آپﷺ سے ملاقات کرتے یہاں تک کہ رمضان ختم ہوجاتا۔ نبیﷺ آپ پر قرآن پڑھتے۔''
جبریل آپ کو قرآنِ مجید سناتے، جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ کی روایت ہے:
«کان یعرض علىٰ النبي القرآن کل عام مرة فعرض علیه مرتین في العام الذي قبض فیه وکان یعتکف في کل عام عشرًا فاعتکف عشرین في العام الذي قبض فیه»32
''ہر سال آپﷺ کو قرآن مجید سنایا جاتا اور جس سال آپ فوت ہوئے اس سال آپﷺ کو دو مرتبہ سنایا گیا او رآپﷺ ہر سال دس دن اعتکاف کرتے اور جس سال آپﷺ فوت ہوئے، آپﷺ نے 20 دن کا اعتکاف کیا۔''
سیدنا عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:
«الصیام والقرآن يشفعان للعبد یوم القیامة. یقول الصیام: أي رب منعته الطعام والشهوات بالنهار فشَفِّعْني فیه ويقول القرآن منعته النوم باللّیل فشفعني فیه قال فیشفعان»33
''روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے لیے سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا اے میرے ربّ! میں نے اسے کھانے پینے اور دن بھر کی شہوات سے روکے رکھا۔ تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما اور قرآن کہے گا: میں نے اس کو رات کی نیند سے روکے رکھا تو میری سفارش اِس کے حق میں قبول فرما۔ آپﷺ نے اطلاع دی کہ دونوں کی سفارش قبول کی جائے گی۔''
یعنی رمضان میں دن کا سفارشی روزہ اور رات کا سفارشی قرآن ہے۔
نبی کریمﷺ نے فرمایا:
«ما أذن الله لشيء ما أذن لنبي بأن یتغنی بالقرآن»34
''اللہ ربّ العزّت نے کوئی چیز اتنے اہتمام سے نہیں سنی، جتنے اہتمام سے نبی کو بہترین آواز سے قرآن پڑھتے سنا ہے۔''
یتغنی کا معنیٰ عبدالحمید بن عبدالرحمٰن کے مطابق اونچی خوبصورت آواز میں پڑھنا ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:
«لا حسد إلا في اثنتین رجل علمه الله القرآن فهو یتلوه آناء الیل وآناء النهار فسمعه جار له فقال لیتني أوتیت مثل ما أوتي فلان فعملت مثل ما یعمل»35
''دو آدمیوں کے سوا کسی پر رشک جائز نہیں۔ ایک وہ آدمی جس کو اللہ نے قرآن سکھایا تووہ اُسے دن رات تلاوت کرتا ہے۔ اس کا پڑوسی اسے سنتا ہے تو کہتا ہے ، کاش! مجھے بھی اس جیسا قرآن کا علم ہوتا تومیں بھی اس کی طرح عمل کرتا۔''
سیدنا ابوسعید خدری سے مروی ہےکہ آپﷺ نے فرمایا:
«یقول الرّب تبارك و تعالىٰ من شغله القرآن عن ذکري ومسألتي أعطیته أفضل ما أعطی السائلین. وفضل کلام الله علىٰ سائر الکلام کفضل الله على خلقه»36
''اللہ رب العزّت فرماتے ہیں: جسے قرآن نے میرے ذکر او رمجھ سے مانگنے سے مصروف رکھا تو میں اُسے مانگنے والوں سے زیادہ عطا کردوں گااور اللہ کے کلام کی فضیلت دوسرے تمام کلاموں پر ایسے ہے جیسے اللہ کو اپنی مخلوقات پر فضیلت۔''
حضرت جبریل جو نبی اکرمﷺ کے ساتھ قرآن مجید کا معارضہ فرماتے ( جسے آج کل حفاظ 'دور' کہتے ہیں) وہ بھی رات کو ہوتا تھا۔ قیام اللیل بھی رات کا تھا، جس میں قرآن پڑھا جاتا تھا۔اور یہ سب یعنی قرآن مجید کا پڑھنا اور اس سے نصیحت حاصل کرنا، اس سے ذاتی طور پر تقربِ الٰہی مقصود تھا۔ ذاتی تربیت و تزکیہ مراد تھا۔ اصلاً یہ پڑھنا تعلیم و تبلیغ کے لیے نہ تھا۔ اگر اصلاً یہ تبلیغ و تعلیم کے لیے ہوتا تو نبی اکرمﷺ کا قرآنِ مجید جبرائیل امین کوسنانے کی بجائے صحابہ کرام کے ساتھ دور پر مبنی ہوتا کیونکہ ان کو تعلیم و تبلیغ کی اصل ضرورت تھی۔یوں بھی رات کی عبادت تنہائی کی عبادت ہے۔ خلوت کی عبادت یا محض بارگاہِ الٰہی میں حضوری کی عبادت او ریہ عبادت وہ ہے جس کے بارے میں فرمایا:
﴿إِنّا أَنزَلنـٰهُ فى لَيلَةٍ مُبـٰرَ‌كَةٍ إِنّا كُنّا مُنذِر‌ينَ ٣﴾.... سورة الدخان
اور تربیت و تزکیہ تو محض اللہ کی بارگاہ میں حضوری سے ہی ممکن ہے۔ تبھی تو اللہ رب العزّت اپنے اُس نبی اکرم ﷺ کو جن کی زندگی کا لمحہ لمحہ اللہ کی رضا کے لیے ، تبلیغ رسالت کا حق ادا کرنے میں گزرتا۔ اُمت کی خیر خواہی، ادائے امانت کا احساس آپؐ کو ہلکان کئے دیتا۔حتیٰ کہ اللہ رب العزت خود فرماتے:
﴿فَلَعَلَّكَ بـٰخِعٌ نَفسَكَ عَلىٰ ءاثـٰرِ‌هِم إِن لَم يُؤمِنوا بِهـٰذَا الحَديثِ أَسَفًا ٦﴾.... سورة الكهف
''شاید اس قرآن پر لوگوں کے نہ ایمان لانے پر افسوس کے مارے آپ اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں گے۔''
سورۃ طہٰ میں ارشاد ِباری ہے :﴿طه ١ ما أَنزَلنا عَلَيكَ القُر‌ءانَ لِتَشقىٰ ٢﴾.... سورة طه
''طہٰ... ہم نے یہ قرآن آپ کو مصیبتوں میں ڈالنے کے لیے نازل نہیں کیا۔''
یعنی آپ اپنی اُمت کوقرآن سنا سنا کر ہلکان ہوتے، اس کی طرف دعوت کی اذیتیں برداشت کرتے، مخالفوں کے طعن و تشنیع سنتے۔آپ کو برا بھلا کہا جاتا حتیٰ کہ آپ پر نادان وظالم دست درازی بھی کرتے، ان کے استخفاف و استحقار کا آپ سامنا کرتے۔ پھر انہی کے غم میں گھلتے اور دعائیں کرتے او رکبھی کبھار یہ جذبات حد سے بڑھ جاتے تو عجیب عجیب خیال آتے کہ شاید میں صحیح تبلیغ نہیں کرپارہا۔ شاید اللہ فلاں معجزہ دکھلا دیں تو لوگ ایمان لے آئیں۔ شاید لوگوں کا یہ مطالبہ تسلیم کرلیا تو... شاید...شاید!! یہ وہ مشقت تھی جس پر اللہ فرماتے:إن عليك إلا البلاغ!
رمضان المبارک تعلیم وتعلّم سے بڑھ کر ذاتی اصلاح وتربیت کا مہینہ ہے!
اس ساری تگ و تاز کا مقصد کیا تھا، ماسوا اللہ کی رضا کے؟ آیا یہ عبادت تھی کہ نہیں۔ لیکن اللہ ربّ العزّت کیا فرماتے ہیں:
﴿إِنَّ ناشِئَةَ الَّيلِ هِىَ أَشَدُّ وَطـًٔا وَأَقوَمُ قيلًا ٦ إِنَّ لَكَ فِى النَّهارِ‌ سَبحًا طَويلًا ٧ وَاذكُرِ‌ اسمَ رَ‌بِّكَ وَتَبَتَّل إِلَيهِ تَبتيلًا ٨﴾.... سورة المزمل
''دن میں تو آپ کوبڑے کام ہوتے ہیں۔اپنے ربّ کے نام کا ذکر کیجئے او رہر طرف سے منقطع ہوکر صرف اُسی کی طرف متوجہ ہوجائیے''
اور یہ رات کو جاگنے کا حکم دینے کے بعد فرمایا کے آپ کو رات کا جاگنا اس لیےضروری ہے۔ نیز سورۃ الشرح میں اللہ نے فرمایا:  ﴿فَإِذا فَرَ‌غتَ فَانصَب ٧ وَإِلىٰ رَ‌بِّكَ فَار‌غَب ٨﴾.... سورة الانشراح
''تو اے محمدﷺ! جب آپ (دن کے کاموں سے) فارغ ہوجائیں تو محنت کریں اور اپنے ربّ کی طرف (عبادت کے ذریعے) رغبت کریں۔''
سو رمضان اسی تبتّل اور رغبت کا مہینہ ہے۔اسی تبتل اور رغبت کے حصول کے لیے آخری عشرے میں اعتکاف مشروع فرمایا۔ جس کا معنیٰ ہی یہ ہے: بند رہنا، رُکے رہنا،اور کسی چیز کو لازم پکڑ لینا۔ شرعی اصطلاحی میں کسی مسلمان کا عبادت کی نیت سے اپنے آپ کو مسجد میں روکےرکھنا۔اس اعتکاف میں ایک مسلمان کا عبادت میں اس قدر انہماک ہوتا ہے کہ اگر کوئی مُسلم فوت ہوجائے تو وہ اس کے جنازے میں شرکت بھی نہیں کرتا۔ اگر کوئی مریض ہو تو اس کی عیادت کونہیں جاسکتا۔ اللہ کے ساتھ تعلق اس قدر غالب ہے کہ وہ دوسرے تمام تعلقات پر غالب آجاتاہے۔
آپﷺ کی ہستی معلّم و اُستاد کی تھی۔ آپؐ کا طرز ِعمل بتاتا ہے کہ رمضان تو وہ مہینہ ہے جس میں دین کے معلّم و استاد کو بلکہ تمام ہی علما و مشائخ کو اپنی ذات کے لیے وعظ و نصیحت کا اہتمام کرنا چاہیے۔جیسا کہ مندرجہ بالا تمام احادیث سے اساتذہ کے لیے یہی پیغام نکلتا ہے کہ وہ رمضان میں قرآن سے نصیحت اور عبادت سے تعلق الٰہی مضبوط بنائیں تاکہ پورا سال تازہ دم ہوکر دین کی خدمت کریں۔رمضان اپنی ذات کے لئے نصیحت بالقرآن حاصل کرنے کا مہینہ ہے۔گویا یہ مہینہ اللہ سے لولگانے اور شمع ایمان کو پختہ کرنے، اور عوامی الفاظ میں اپنی بیٹری چارج کرنے کےلیے ہے۔
جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے کہ آپﷺ جبرئیل کے ساتھ مل کر دورہ کرتے تو سنت یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ علما کو چاہیے کہ وہ بھی باہم مل کر اپنے لیے قرآن کی مجالس کا اہتمام کریں اور ایک دوسرے کوقرآن سنا کر نصیحت کریں۔
ان عبادات و اعمال سے یہ سمجھ آتا ہے کہ رمضان اصلاً عبادت اور ذاتی تربیت کا مہینہ ہے،تعلیم و تبلیغ پر ہی اکتفا کرلینا رمضان المبارک کے عظیم ووسیع مقاصد کو پورا نہیں کرتا۔ جیسا کہ ہمارے ہاں کچھ سالوں سے یہ معمول ہی بن گیا کہ رمضان کو دورۃ القرآن یا دورۃ النحو، دورۃ اللغۃ العربیہ یا مزید ایسے ہی تعلیمی دوروں کے لیے مختص کرلیا گیاہے،گویا رمضان تعلیم و تعلّم کا مہینہ ہی بن کر رہ گیا ہے۔
نیز یہ بھی معلوم ہوتا ہےکہ قرآنِ مجید بہ نسبت دن کے، رات کو پڑھنا زیادہ افضل ہے، کیونکہ آپﷺ ہر رات جبرئیل کوقرآن سناتے۔ ادھر سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر رمضان ذاتی عبادت و تزکیے کی بجائے محض تعلیم و تبلیغ کامہینہ ہوتا تو آپﷺ قرآن مجید کا یہ دورہ جبرئیل کے سامنے نہیں بلکہ صحابہ ﷺ کے سامنے کیا کرتے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک سےکماحقہ استفادہ کرنے، زیادہ سے زیادہ عبادات بجا لانے اور اپنی اصلاح وتربیت کی توفیق مرحمت فرمائیں۔ واللہ الموفق والمستعان !

حوالہ جات
1. صحیح بخاری :38

2. ايضاً:1904

3. ايضاً :37

 4. سنن ترمذی:806

5. صحیح بخاری:6057

6. صحیح ابن خزیمہ: 1996

7. صحیح بخاری:1904، سنن نسائی : رقم 2217

8. سنن ابن ماجہ: 1817

9. صحیح بخاری: 3035

10. سنن ابن ماجہ: 1743، مستدرک حاکم :1422

11. السنن الکبری از بیہقی: 6484

12. صحیح الترغیب والترہیب :1002

13. صحیح بخاری:1902

14. سنن ترمذی:807

15. المعجم الکبیر ازطبرانی: 1؍722

16. صحیح بخاری:1863

17. السلسلۃ الصحیحۃ:3409

18. صحیح بخاری :1923

19. سنن ابو داود:2356

20. صحیح بخاری :2044

21. ایضاً:2026

22. صحیح بخاری:2024

23. صحیح مسلم :2788

24. صحیح بخاری:2029

25. ایضاً:115

26. سنن ابن ماجہ:1644

27. صحیح بخاری:2014

28. ایضاً: 1881

29. ایضاً: 1878

30. سنن ترمذی:3513، سنن ابن ماجہ:3850

31. صحیح بخاری:1902

32. ایضاً:9998

33. مسنداحمد : ج11؍ص6626

34. صحیح بخاری 5023

35. صحیح بخاری:5026

36. سنن ترمذی:2926 (حسن غریب)